Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie NovelR50785 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode24
Rate this Novel
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode01 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode02 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode03 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode04 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode05/06 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode07 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode08 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode09 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode10 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode11 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode12 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode13 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode14 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode15 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode16 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode17 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode18 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode19 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode20 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode21 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode22 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode23 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode24 (Watching)Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode25 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode26 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Last Episode
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode24
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode24
ساڈھے دس بج رہے تھے گراس اناٹمی کی کلاس تھی جو پروفیسر چمن کی جگہ مہک نے لینی تھی۔ مہک دائس کے پاس کھڑی لیکچر ڈلیور کرنے میں لگی تھی ساتھ ہی وائٹ بورڈ بھی زیر استعمال لا رہی تھی۔
“اوکے سٹوڈنٹس آپ لوگ ایک بار ریڈ آوٹ کر لیں پھر ہم آگے بڑھتے ہیں”۔ بولتے ہی اسنے سامنے رکھی کتاب کے صفحات پلٹنا شروع کیئے تھے۔
“یار جوہم میں بور ہو گئی ہوں”۔ اپنے برابر بیٹھی جوہم کی جانب ہلکا سا جھکتے ہی اسنے سرگوشی کی۔
“بیٹا میں تو کچھ نہیں کر سکتی ابھی تو آدھا گھنٹہ صرف ہوا ہے ابھی ڈیڑھ گھنٹہ باقی ہے۔ اس لیئے بوریت کو دل کے کسی کونے میں دفنا کر اس پہ گراس اناٹمی کی مٹی ڈال دو”۔ چیئر کے ہینڈل پہ رکھی کتاب پہ نظر گاڑھے وہ شریر ہوئی۔
رباب کو دیکھتے ہی عماد نے اپنے برابر بیٹھے علی کو کہنی ماری پھر رباب کی جانب اشارہ کیا۔ تھوڑا آگے کو ہوتے علی نے رباب کو دیکھا جو کتاب کو دیکھ کر منہ کے زاویے بگاڑنے میں لگی تھی۔ رباب کو دیکھتے علی بے ساختہ ہنس دیا تھا۔
اسی اثنا میں مہک کے فون پہ رنگ ٹون نے خلل پیدا کیا،،،خاموشی ٹوٹی۔
“ہیلو اسلام و علیکم”۔ کال اٹینڈ کرتے ہی اسنے فون کان کے ساتھ لگایا پھر کلاس سے باہر نکل گئی۔
موقع کا فائدہ اٹھاتے فرحان جو کہ پہلی قطار میں بیٹھا تھا فورا سے دروازے کی اور بڑھا اور دروازہ بند کر کے لاک کر دیا تھا۔
“اوئے فرحان یہ کیا کیا ہے؟۔ دروازہ کھول میم مہ۔۔۔۔۔۔”۔ جونہی علی دروازے کی جانب بڑھا عون نے اسے دبوچ کر اسکے منہ پہ ہاتھ رکھ لیا تھا۔
“انسان بن چھلی مہندی اچھا ہے میم باہر ہیں۔ بور ہو رہے تھے اچھا ہے نا پڑھائے گی ہی نہیں”۔
پوری کلاس میں چیخوں کا طوفان برپا ہو گیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“سٹوڈنٹس آپ کو اس بات کا علم تو ہو ہی گیا ہو گا کہ آپ سب کو یہاں کیوں بلوایا گیا ہے؟”۔ وائس پرنسپل دانش محمود سٹیج پہ کھڑا اپنے سامنے موجود پچاس سٹوڈنٹس سے ہم کلام ہوا۔
“آپ نے جو آج حرکت کی ہے وہ بالکل سراہے جانے کے قابل ہے۔ دل تو کر رہا ہے کہ آپ سب کو ایک نوبل پرائز سے نوازا جائے”۔ اسنے مطمئن اور نہایت ہی سنجیدہ لہجے میں طنز کیا تھا۔
“تو منع کس نے کیا ہے سر دے دیجیئے”۔ زین جو کہ پشت پہ ہاتھ باندھے کھڑا تھا، نے ہلکا سا عماد کی اور ہوتے سرگوشی کی جس پہ عماد کی ہنسی چھوٹی تھی۔
“اگر آپ لوگوں کو پڑھائی نہیں کرنی تو آپ لوگ اپنے والدین کو مشکل میں ڈال کر کالج کیوں آتے ہیں۔ ان کی محنت کو رائیگاں کیوں جانے دے رہے ہیں آپ لوگ؟؟ ان سے کہہ دیں کہ آپ کو بیاہ دیں کم از کم وہ اس فرض سے تو آزاد ہوں”۔ تا ہنوز وہ الفاظ کو پرو رہا تھا۔
“بس کر پگلے رلائے گا کیا”۔ عون نے سرگوشی کی پھر ہنس دیا جبکہ اسکے قریب سبھی اسکی بات پہ ہنس دیئے تھے۔
“آپکی کلاس کا سی-آر کون ہے؟؟”۔ بولتے ہی اسنے سوالیہ نظر ہر سٹوڈنٹ پہ ڈالی۔
علی جو کہ آخری قطار میں کھڑا تھا اب سٹیج کی اور بڑھنے لگا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ وائس پرنسپل کے مقابل جا کھڑا ہوا تھا جبکہ سر احساس ندامت سے جھکا ہوا تھا۔
“وٹس یور نیم؟؟”۔ علی کی جانب منہ کا رخ کیئے اسنے کہا۔
“علی مہدی”۔ ہاتھوں کو پہلو میں کرتے اسنے مختصر جواب دیا۔
“ڈو یو نو سی-آر سٹینڈز فار وٹ؟؟”۔ اب کی بار اسکے لہجے میں تلخی تھی۔
“یس سر کلاس ریپریزنٹیٹو”۔
“کلاس کو ایسے ریپریزنٹ کیا جاتا ہے؟؟ انکو سمجھانے کی بجائے آپ انکے ساتھ مل گئے۔ جب کوئی پروفیسر کلاس سے باہر جاتا ہے تو آپکا کام بنتا ہے کہ اسکی عدم موجودگی میں آپ کلاس کو سنبھالیں مگر آپ تو خود ارسپونسبل ہیں۔ شیم آن یو”۔ اسنے علی پہ اپنی مکمل بھڑاس نکالی تھی۔
علی کا دل کیا کہ وہ زمین میں گڑھ جائے کیونکہ آج سے پہلے کسی پروفیسر نے اسکی سب کے سامنے یوں انسلٹ نہیں کی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
“راحم بیٹا میں نے کھانا لگا دیا ہے آپ آ جاو”۔ رافعہ جونہی اسکے روم میں داخل ہوئی اسنے راحم کو وارڈ روب کے پاس موجود پایا۔
“جی ٹھیک ہے ماما آپ جائیں میں بس ڈریس چینج کر کے آتا ہوں”۔ ڈریس نکالتے ہی اسنے وارڈ روب کا دروازہ بند کیا تھا۔
رافعہ روم سے نکل گئی تھی اور راحم واش روم میں چلا گیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“ہاں ٹھیک ہے تم دیکھ لینا مجھے ذرا کام ہے میں آتا ہوں۔۔۔ تم لوگ؟؟”۔ اپنے پیچھے ملازم کو آگاہ کرتے وہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوا ہی تھا کہ اسکی نظر علی، زوحان، عون اور زین پہ جا ٹھہری جو ڈرائنگ روم میں بیٹھے اسی کے منتظر تھے۔
“سلام ملک صاحب”۔ ملک شبیر کو دہلیز پہ کھڑا دیکھ علی نے کہا۔
“کیوں آئے ہو تم لوگ یہاں؟؟”۔ علی کی بات کو اگنور کرتے وہ علی کی بائیں جانب رکھی چیئر پہ جا بیٹھا تھا۔
“ملک صاحب نا تو آپ خود سکون سے رہ سکتے ہیں نا ہی دوسروں کو چین سے رہنے دیتے ہیں”۔ ملک شبیر کو دیکھتے اسنے تمسکن آمیز انداز میں کہا۔
“کیا مطلب ہے تمھارا؟؟”۔ وہ چونکا۔ گرچہ اسے علی کی بات بخوبی سمجھ آ گئی تھی مگر پھر بھی وہ انجان بنا رہا۔
“مطلب یہ کہ میں نے آپکو منع کیا تھا کہ عماد کو آپکی جانب سے کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہئے مگر آپ نہیں مانے تو آپ کو منانے کیلئے مجھے یہاں آنا پڑا۔ آپ نے عماد کی شادی اسکی مرضی کے بغیر فکس کی ہے اس بات سے وہ نا خوش ہے بہتر ہے آپ یہ رشتہ توڑ دیں”۔ وہ جو ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھا تھا اب ٹانگ دوسری کے برابر کرتے ہی سیدھا ہو بیٹھا تھا۔
“تم ہوتے کون ہو اس معاملے میں دخل اندازی کرنے والے یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے مجھے بالکل پسند نہیں کہ کوئی باہر والا ہمارے گھر کے معاملات میں بے جا مداخلت کرے”۔ ملک شبیر کے ماتھے پہ ناگواری کی شکنیں ابھریں تھیں۔
“دیکھیں ملک صاحب میں فضول جرہ کے حق میں نہیں ہوں آپ سے آرام سے بول رہا ہوں کہ یہ رشتہ ختم کر دیں”۔ ملک کے بیہیویئر کو نظر انداز کرتے اسنے کہا۔
“تمھیں اگر ایسا لگتا ہے کہ تمھارے کہنے پہ میں اس رشتے کو ختم کر کے اس سے دست بردار ہو جاوں گا تو یہ تمھاری بہت بڑی بھول ہے”۔ بولتے ہی وہ طنزیہ ہنسا تھا۔
“عمر میں فرق کی بدولت میرا فرض تھا کہ آپکو پیار سے قائل کر لوں چلو خیر جیسے آپکو مناسب لگے”۔ تھوڑا آگے ہوتے اسنے ہاتھ بڑھایا اور سامنے ٹیبل پہ رکھی چھمک اٹھائی۔
“ملک صاحب آپ جانتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟؟”۔ دائیں ہاتھ میں چھمک پکڑے اسنے بائیں ہاتھ اس پہ پھیرتے کہا۔
“اس سٹک سے تم میرا کیا بگاڑ لو گے؟؟”۔ ملک شبیر قہقہ لگا کر ہنس دیا تھا۔
“یہ سٹک نہیں ہے ملک صاحب۔۔۔ چھمک ہے چھمک”۔ غصے میں چھمک کو ایک بار ٹیبل پہ مارتے وہ اٹھ کر ملک شبیر کے قریب ہوا جس سے وہ بوکھلا گیا تھا اور اس پہ سنسنی کی کیفیت طاری ہو گئی تھی۔
“کیا ہے یہ؟؟”۔ ملک شبیر پہ جھکتے اسنے چھمک کی اور دیکھا تھا۔
“چ۔چ۔۔۔ چھمک ہے”۔ اسنے ہکلاتے کہا۔
@@@@@@@@@@@@
“بھئی ماننا پڑے گا علی تو نے ملک کو ایسے قابو کیا جیسے قربانی والے دن سانڈ کو قابو کیا جاتا ہے”۔ وہ سب اب ملک ہاوس سے دور سڑک کے کنارے کھڑے تھے جبی زین نے علی کو مخاطب کیا تھا۔
“ہاں تو اور کیا؟؟۔ جیسے ہی علی نے چھمک اٹھائی مجھے لگا تھا کہ ملک شبیر بس اب کام سے گیا مگر علی نے تو کمال کر دیا”۔ زوحان نے اسکی تائید کی۔
“کیا خاک اچھا کیا ہے؟۔ میرا اتنا دل تھا شدت کے ساتھ میرا دل کیا تھا کہ اس ملک شبیر کو پٹتے دیکھوں ان گنہگار آنکھوں کی اکلوتی حسرت تھی جو برسوں بعد ان آنکھوں نے سجائی تھی مگر سب اسکے الٹ ہوا اور میرے دل کے ننگے میرا مطلب ہے ننھے ننھے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے”۔ سڑک کے کنارے بیٹھتے اسنے مصنوعی احتجاج کیا۔
“ہاں اگر ایسا ہوتا تو پھر ملک شبیر کے پالتو کتے ہمارے ننھے ننھے ٹکڑے کر کے چیل کوں کو کھلا دیتے”۔ زین نے خفگی ظاہر کی۔
“باقی چھوڑو یار مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ ملک شبیر کا رویہ اب عماد کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گا اور عماد بھی تو کتنا خوش تھا”۔ وہ مسکراہٹ جو اسکے چہرے پہ مسلسل رواں تھی پل بھر کو غائب ہوئی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
رات کے دو بج رہے تھے وہ اپنے روم میں بیڈ پہ نیند کی آغوش میں جہاں فانی سے بے خبر خوابوں کی دنیا میں تھا یکایک پسینے کے ننھے ننھے قطرے اسکے چہرے پہ نمایاں ہونے لگے۔ اسکے جسم میں کپکپی طاری ہو گئی تھی۔
اسی اثنا میں اسنے آنکھیں کھول دیں اور بے چین ہو گیا تھا۔ اسکا پورا بدن ٹوٹ رہا تھا جیسے رات بھر کسی نے اسکے پورے وجود پہ ہتھوڑا چلایا ہو۔
“یہ مجھے کیا ہو رہا ہے؟؟”۔ اپنی حالت کا بغور جائزہ لیتے وہ بوکھلا اٹھا تھا۔
خود کو سہارا دیتے وہ بمشکل اٹھ کر بیٹھا اور بیڈ کے تاج کے ساتھ پشت ٹکا لی۔ ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل پہ رکھا پانی سے بھرا گلاس اٹھانے کی کوشش کی جو ہاتھوں کی کپکپاہٹ کے باعث زمین بوس ہو گیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے
