Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode20

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode20

صبح کے آٹھ بج رہے تھے آسمان کو بادلوں نے اپنی زد میں لے رکھا تھا۔ کلاس شروع ہونے میں ابھی ایک گھنٹہ باقی تھا۔ وہ سب کیفے میں بیٹھے تھے۔
علی فون اٹھائے تا ہنوز عماد سے رابطہ کرنے کی کوشش میں تھا، جو آج غیر حاضر تھا۔ باقی سب علی کو دیکھ رہے تھے اور اسی انتظار میں تھے کہ کب عماد فون اٹھائے گا۔
“کیا ہوا علی؟ عماد فون نہیں اٹھا رہا؟”۔ جونہی علی نے فون کان سے جدا کیا جوہم جو اسکے دائیں جانب بیٹھی تھی، نے اسے مخاطب کیا۔
جوابا علی نے نفی میں سر ہلا دیا پھر فون کو ٹیبل پہ رکھتے دائیاں بازو ٹیبل پہ جما کر ہتھیلی پہ چہرہ ٹکا لیا تھا۔
“علی تم پریشان کیوں ہو گئے ہو؟ ہو سکتا ہے کہ عماد کہیں بزی ہو یا پھر باہر گیا ہو تبھی وہ کال ریسیو نہیں کر رہا”۔ رباب جو کہ اسکے سامنے بیٹھی تھی، نے اسے تسلی دینا چاہی۔
“آج واپسی پہ میں عماد کے گھر جاوں گا اگر کوئی اور بھی میرے ساتھ چلنا چاہتا ہے تو چل سکتا ہے مجھے چھٹی ٹائم تک بتا دینا”۔ بولتے ہی اسنے چیئر کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
“ویسے آج کلاسز کا شیڈول کیا ہے؟”۔ زوحان جو کہ علی کے برابر میں بیٹھا تھا، نے پوچھا۔
“گیارہ تک”۔ زین نے جواب دیا۔
@@@@@@@@@@@@
“کیا ہوا ہے شجاع؟؟ میں آپکو کافی دنوں سے اوبزرو کر رہی ہوں آپ کچھ کھوئے کھوئے سے ہیں۔ کوئی پرابلم ہے؟؟”۔ شجاع اپنے روم میں بیٹھا ہاتھ میں فائل پکڑے اسکا مطالعہ کرنے میں لگا تھا جبی رافعہ ہاتھ میں چائے کی ٹرے پکڑے اسکے برابر آ بیٹھی تھی اور ٹرے کو سامنے ٹیبل پہ رکھ دیا تھا۔
“رافعہ میری را حم سے بات ہوئی تھی اسنے مجھے بتایا ہے کہ وہ کسی لڑکی میں انوالو ہے”۔ بولتے ہی اسنے فائل سائیڈ پہ رکھی۔
“مگر شجاع آپ نے تو اپنے دوست سے اسکے لیئے پہلے ہی بات کر لی ہے”۔ شجاع کی جانب چائے کا کپ بڑھاتے اسنے کہا۔
“بس یہی تو جلد بازی کر دی تھی رافعہ۔ ہمارا دور اور تھا اب وقت اور حالات دونوں نے اپنا لباس بدل لیا ہے۔ اگر راحم کسی اور کو پسند کرتا ہے تو ہم زبردستی اسکو کسی اور کے ساتھ نہیں باندھ سکتے ویسے بھی ایسے رشتے کو انسان بمشکل نبھاتا ہے جس سے وہ دلی طور پہ وابستہ نا ہو”۔ وضاحت کرتے اسنے چائے کا سپ لیا۔
“بات تو آپکی بالکل ٹھیک ہے۔ چلیں جیسا اللہ کو منظور ہوا”۔ اس نے تائید کی۔
@@@@@@@@@@@@
واش روم سے نکلتے وہ آہستگی سے چلتا بیڈ پہ آ بیٹھا تھا۔ اسکے بال بکھرے ہوئے تھے اور ٹراؤزر پہن رکھا تھا جبکہ شرٹ بیڈ پہ بے آسرا پڑی تھی۔ تھکان کے آثار اسکے چہرے سے امڈ رہے تھے۔
اپنے جسم پہ انگلیوں کی حرکت کو محسوس کرتے وہ ہڑبڑاتے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
“ارے تم لوگ؟، تم لوگ کب آئے؟؟”۔ زین، علی، زوحان اور عون اب اسکے مقابل کھڑے تھے۔ علی سب سے آگے تھا جبکہ باقی سب اسکے عقب میں۔
“عماد یہ تیرے جسم پہ نشان کیسے ہیں؟؟”۔ اسکے قریب جاتے علی نے اسکے جسم پہ جابجا پڑے نشانات کی جانب اشارہ کرتے کہا۔
6″کچھ نہیں۔ بس الرجی ہو گئی ہے”۔ وہ سرعت سے بیڈ کی جانب لپکا اور شرٹ پہن لی۔
“کونسی الرجی ہے جو تمھیں اچانک سے لاحق ہو گئی ہے؟؟۔ ڈسٹ، سن، پولن یا پھر ملک شبیرز الرجی ڈاٹ کام”۔ عماد کی اس تیزی پہ وہ تپ کر اسکے قریب ہوا۔
مزید کچھ کہے اسنے دروازے کی جانب اپنے قدم موڑ لیئے تھے۔
“علی میری بات سنو”۔ عماد بھی اسکے تعاقب میں دوڑا تھا۔
زوحان، زین اور عون بھی روم سے باہر نکل آئے تھے۔
قدموں کی رفتار کو مزید بڑھاتا وہ صحن میں جا کھڑا ہوا تھا جہاں ملک شبیر کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھا بحث و مباحثے میں لگا تھا۔ علی اسکے سامنے اس پہ اپنی قہر آلود نظریں گاڑھے ہوئے تھا۔
“علی یار تو چل یہاں سے”۔ عماد بھی دھیرے سے چلتا اسکے قریب جا پہنچا تھا اور اسے بازو سے پکڑا تھا۔
“تو ہٹ جا عماد آج میں ان سے بات کر کے ہی دم لوں گا”۔ بولتے ہی اسنے عماد کا بازو جھٹکا تھا۔
“زوحان، زین، عون خدا کا واسطہ ہے تم لوگ اسے سمجھاو”۔ مڑتے ہی اسنے اپنے تعاقب میں آتے فرینڈز کو کہا۔
کچھ ہی دیر میں ملک شبیر بھی فارغ ہو گیا تھا۔
“آپ نے کس حق سے میرے دوست کو مارا ہے؟؟”۔ اسکے قریب جاتے اسنے کہا۔
“تم کون ہوتے ہو مجھے یہ بتانے والے کہ میرا کس پہ کیا اور کونسا حق ہے”۔ علی کی بات سنتے ملک شبیر غصے میں نشست چھوڑتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
“میں عماد کا دوست ہوں۔ آپ کو شرم نہیں آتی جوان خون کو اتنی بے رحمی سے مارا ہے آپ نے۔ خدا ترسی بھی ہے آپ کے اندر؟؟۔ انسانیت نام کی کوئی چیز ہوتی ہے”۔ بغیر کسی سوچ بچار کے اسنے سامنے کھڑے انسان پر وار کیا تھا۔
“اب تم مجھے سکھاو گے کہ کیا کرنا ہے مجھے کیا نہیں؟؟ اور انسانیت کسے کہتے ہیں؟”۔ ملک شبیر قدم اٹھاتا اسکے قریب ہوا تھا جبی عماد آگے بڑھا جس کے عقب میں زین، زوحان اور عون بھی آگے کو ہوئے۔
“اگر یہی دو چار ڈنڈے آپکو پڑے ہوتے نا تو آج آپ کی جرات نا تھی میرے دوست پہ ہاتھ اٹھانے کی بلکہ آپ سیدھا تیر ہوتے۔ اب اگر آپ نے میرے دوست پہ ہاتھ اٹھایا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔ یاد رکھئے گا”۔ انگلی کے اشارے سے وارن کرتے وہ گیٹ کی جانب بڑھا تھا۔
علی کی بات پہ کچن کی دہلیز پہ کھڑی راحیلہ ہنس دی تھی، جو ایک روز پہلے عماد کی حالت دیکھ خون کے آنسو رو رہی تھی۔
زوحان، عون اور زین بھی گیٹ کی جانب لپکے تھے۔
@@@@@@@@@@@@
روم میں داخل ہوتے اسنے پشت پہ ڈالا بیگ صوفے پہ پھینکا اور خود بیڈ کی پائینتی پہ جا بیٹھا تھا۔
پینٹ کی پاکٹ سے سیل نکال کر سائیڈ پہ رکھا پھر خود کو پیچھے کی اور بیڈ پہ گراتے لیٹ گیا تھا۔ آج اسنے ریکارڈ توڑا تھا ،،اسنے ایسا پہلے کبھی نا کیا تھا یا شاید اسے کبھی اسکی ضرورت پیش نا آئی تھی۔ جو دل ایک گھنٹے سے لگاتار ملامت کر رہا تھا اسی دل کے کسی کونے میں اطمینان اور سکون بھی آ ٹھہرا تھا۔
ملال سے کہیں زیادہ اسکے چہرے پہ تسکین کے آثار عیاں تھے۔
خود کو پرسکون کرتے وہ اٹھ کر وارڈ روب کی جانب بڑھا اور ایک سوٹ نکال کر واش روم چلا گیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
اسنے بائیک کو ہوٹل کے سائیڈ پہ روکا، سٹینڈ پہ لگا کر بائیک سے اتر گیا تھا۔ یہ ایک ایسا ہوٹل تھا جو خصوصی ٹرک ڈرائیورز کیلئے بنایا گیا تھا۔ اردگرد ماحول کا جائزہ لیتے وہ ہوٹل کی جانب بڑھنے لگا تھا۔
“ارے وقاص ڈرا ہی دیا تم نے”۔ اپنے بائیں شانے پہ ہاتھ کو محسوس کرتے وہ سرعت سے پلٹا تھا۔
“سنا بھائی لوگ۔ عون مجھ سے ڈر گیا ہے”۔ اپنی پشت پہ کھڑے دوستوں کو مخاطب کرتے اسنے کہا پھر قہقہ لگا کر ہنس دیا تھا۔
“نہیں وہ بس ایسے ہی۔ اچھا بتاو تم نے مجھے یہاں کیوں بلایا ہے؟؟”۔ سر جھٹکتے اسنے مزید کہا۔
“چلو نا وہاں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔ اتنی بھی کیا جلدی ہے؟؟”۔ عون کے کندھے کے گرد بازو حائل کرتے اسنے اپنے مقابل میں لگے چیئر ٹیبل کی جانب اشارہ کرتے کہا۔
“نہیں وقاص ابھی زیادہ ٹائم نہیں ہے۔ کالج سے ابھی تک گھر نہیں گیا امی ابو پریشان ہو رہے ہوں گے اور تو اور موسم بھی خراب ہو رہا ہے”۔ نفی کرتے اسنے چہرہ آسمان کی جانب اٹھایا جہاں کالے بادلوں کا بسیرا تھا جو ایک بھیانک طوفان کے آنے کا انکشاف کر رہے تھے۔
“تو کیا ہوا عون تم امی کو کال کر کے بتا دو۔ رہی بات موسم کی تو اگر موسم زیادہ خراب ہوتا بھی ہے تو ہم عامر کے گھر رہ لیں گے جب تک موسم ٹھیک نا ہو جائے ہم وہیں رہیں گے۔ کیوں عامر؟؟”۔ عون کو مطمئن کرنے کی کوشش میں اسنے عامر کو دیکھا جو اسکے مقابل کھڑا اسی کو دیکھ رہا تھا۔
“ہ۔ہ۔ ہاں عون وقاص بالکل ٹھیک بول رہا ہے۔ تم لوگ میرے گھر ٹھہر سکتے ہو ویسے بھی ابھی گھر پہ کوئی نہیں ہے”۔ وقاص کے اشارہ کرتے اسنے حامی بھر لی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
رات کے نو بج رہے تھے موسلادھار بارش اور بجلی کی کڑک اور بادلوں کی خوفناک اور ڈراونی آواز سے رات اور بھی بھیانک اور تاریک ہو گئی تھی۔
دروازے پہ دستک ہوئی تو وہ چارپائی پہ رکھی چھتری اٹھائے دروازے کی جانب دوڑی تھی۔ اسکا وجود مکمل بھیگ چکا تھا گھر کی دہلیز پہ پہنچتے اسنے جیسے سکون کا سانس لیا تھا۔ بارش کی رفتار کے باعث ان دونوں نے بھی اپنے قدموں کی رفتار کو تیز کر لیا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ برآمدے میں آ پہنچے تھے۔
“عون بیٹا تم کہاں تھے؟؟ تم جانتے ہو میں کتنا پریشان تھی”۔ چھتری کو فرش پہ رکھتے اسنے عون کو مخاطب کرتے پوچھا جو چارپائی پہ بیٹھا جھک کر جوتے اتارنے میں لگا تھا۔
“امی میں ایک دوست کے گھر تھا باتیں کرتے کرتے پتہ ہی نہیں چلا کب آنکھ لگ گئی”۔ جوتے سائیڈ پہ رکھتے وہ اٹھ کر اپنے روم میں چلا گیا تھا۔
جونہی گھڑی اتارنے کی غرض سے اسنے اپنی دائیں کلائی چہرے کے سامنے کی یکایک اسکی نظر ہاتھ کی پشت پہ بنے نشان پہ پڑی۔
“ارے یہ نشان؟، یہ نشان کیسا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ مچھر نے کاٹا ہو؟”۔ بولتے ہی اسنے سر جھٹکا پھر واش روم میں چلا گیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
گرمی کا زور ٹوٹا تھا۔ پوری رات بارش کی وجہ سے موسم خاصا ٹھنڈا ہو گیا تھا۔ تکیے کو چہرے کے نیچے رکھے وہ بیڈ پہ اوندھا لیٹا تھا۔
طلسم ٹوٹا، اسی دوران الارم کی آواز اسکے کانوں سے ٹکڑائی تھی۔ پرسکون نیند میں ناگوار خلل پیدا ہوا تھا نا چاہتے ہوئے بھی اسنے کمبل سائیڈ پہ کیا پھر آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *