Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode03

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode03

“اسلام و علیکم”۔ گھر داخل ہوتے اسنے با آواز بلند حفصہ پہ سلامتی بھیجی جو کچن سے نکل کر اپنے روم کی جانب بڑھ رہی تھی۔
“و علیکم اسلام ۔۔۔۔ کیسی ہے میری بچی؟؟”۔ اسنے جوہم کو پیار کرتے کہا جو کہ اب اسکے قریب آ گئی تھی۔
“میں بالکل ٹھیک ماما آپ سنائیں؟ کیسا گزرا آپکا آج کا دن؟؟ میرے بن”۔ چہرے پہ مسکراہٹ لاتے اسنے لاف زنی کی۔
“بس گزر گیا میری جان۔۔۔ کچھ کام کرتے کرتے تو کچھ علیزہ کو سنبھالتے سنبھالتے، عورت کی زندگی تو ایسے ہی بسر ہوتی ہے”۔ اسنے وضاحت کی۔
“یہ تو ہے ماما اچھا علیزہ اب کدھر ہے؟؟ سو گئی کیا؟؟ اور یہ عبید کہیں نظر نہیں آ رہا۔۔۔ کالج سے آیا نہیں کیا ابھی تک؟؟”۔ علیزہ کے متعلق سوال کرتے اسنے ادھر ادھر دیکھتے سناٹے کو بھانپا۔
“جی بیٹا علیزہ بھی بس تھوڑی دیر ہی ہوئی ہے سلا کے باہر آئی ہوں۔۔۔ اسے سلا کر سوچا کھانا بنا دوں تمھارے آنے کا وقت ہو گیا تھا اور عبید کے کالج والوں نے ٹائمنگ چینج کی ہے وہ بھی آنے والا ہی ہوگا”۔ حفصہ نے تفصیل دی۔
“اچھا”۔
“جوہم بیٹا تم فریش ہو جاو میں کھانا لگاتی ہوں ورنہ علیزہ اٹھ جائے گی اور کوئی کام آگے نہیں لگنا”۔ علیزہ کی عادت اور معمول کے مطابق اسنے آگاہی دی۔
@@@@@@@@@@@@
“ارے عائشہ آو نا تمھیں کب سے ناک کر کے آنے کی ضرورت پڑ گئی؟”۔ بیڈ پہ اوندھا لیٹے اسنے اپنے سامنے تکیہ رکھا تھا تکیے پہ بازو جمائے ہاتھوں میں فون لیئے وہ گیم کھیلنے میں مگن تھا کہ دروازے پہ ناک سے اسنے ایک نظر سامنے دروازے پہ ڈالی۔
“کچھ نہیں بس ایسے ہی ۔۔۔۔۔ ویسے بھی یہ مینرز کے خلاف ہوتا ہے نا کسی کے روم میں بلا اجازت چلے جانا”۔ ہاتھوں میں کھانے کی ٹرے لیئے وہ دھیمے قدم اٹھاتی اسکے قریب آئی۔
“یہ تو بات تمھاری بالکل ٹھیک ہے مگر ایک رشتہ ہوتا ہے جس میں مروت، لحاظ،شرم اور ہچکچاہٹ سب بے معنی ہوتے ہیں اور اس انمول رشتے کو دوستی کا نام دیا جاتا ہے”۔ تکیہ سائیڈ پہ کرتے وہ سیدھا ہو بیٹھا تھا اور فون کی کم چارجنگ کے پیش نظر اسے سائیڈ پہ رکھ دیا۔
“باقی باتیں چھوڑو یہ لو کھانا کھا لو”۔ ٹرے بیڈ پہ رکھتے وہ اسکے سامنے صوفے پہ بیٹھ گئی جو کہ بیڈ سے تھوڑا فاصلے پہ رکھا تھا۔
“عائشہ ایک بات کہوں تم میری جتنی کیئر کرتی ہو میرے کھانے پینے کی، میری ڈرسنگ کی مجھے ڈر ہے کہ کہیں مجھے تمھاری عادت نا ہو جائے”۔ ایک لقمہ لیتے اسنے عائشہ کو دیکھا اور بے اختیار ہنس دیا۔
“تو کیا ہوا؟ میں کونسا کہیں جا رہی ہوں؟جو تمھارا کام نہیں کر سکتی ۔۔۔ تمھیں جب بھی کوئی کام ہو مجھے بول دیا کرو میں کر دیا کروں گی”۔ ہاتھ کی انگلیوں کے ساتھ اٹکیلیاں کرتے اسنے حامی بھر لی کیونکہ وہ اس سے دور جانے کا تصور ہی نہیں کر سکتی تھی۔
“اچھا عائشہ میرا اک اور کام کر دو پلیز”۔ کھانے میں وقفہ لاتے اسنے سر اٹھاتے التجا کی، گرچہ اسے معلوم تھا کہ اسکا کام ہو جائے گا مگر پھر بھی اسنے “پلیز” دانستہ لگایا تھا۔
“پہلے کبھی نا کہا ہے؟؟ اور یہ پلیز کیوں لگایا ۔۔۔۔ تمھی نے ابھی کہا کہ ایک رشتہ ہوتا ہے جس میں مروت اور لحاظ معنی نہیں رکھتے۔۔۔۔۔ اب تو تمھارا یہ کام میں تبھی کروں گی جب تم پلیز نا لگاو”۔ اسنے بطور
شرط کہا۔
“عائشہ میرا کام کر دو”۔ اسنے بچگانہ انداز میں دوبارہ کہا۔
“پاگل۔۔۔۔۔ کہو کیا کام ہے؟؟؟”۔ اسکی اس حرکت پہ عائشہ ہنس دی۔
“میرا ایک اچھا سا سوٹ تیار کردو کیونکہ آج شام مجھے باہر جانا ہے”۔ کھانے کیساتھ انصاف کرتے اسنے ٹرے عائشہ کی جانب بڑھائی۔
@@@@@@@@@@@@
“عون کے بچے تو نے میری حجاب کیپ گندی کی ہے؟؟”۔ پورے گھر کو سر پہ اٹھائے وہ عون کے کمرے میں ہاتھ میں سفید حجاب کیپ لیئے داخل ہوئی جو جگہ جگہ سے کالی تھی۔
“کونسی حجاب کیپ؟؟ بیا مجھے کیا پتہ کہ حجاب کیپ کونسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”۔ غیر دانستہ وہ سنگھار میز سے فون اٹھائے اسکی طرف مڑا ہی تھا کہ اسکی نظر اسکے ہاتھ میں رکھی حجاب کیپ پہ جا ٹکی۔
“اچھا تو حجاب کیپ اس قسم کی ہوتی ہے کیا؟”۔ اپنی صبح کی غلطی یاد کرتے وہ بھیگی بلی بن گیا۔
“ہاں تو یہی حجاب کیپ ہوتی ہے تم تو ایسے بول رہے ہو جیسے کسی بات کا علم ہی نا ہو”۔ کمر پہ ہاتھ رکھے وہ مسلسل اسے تباہ کر دینے والی نظروں سے تک رہی تھی۔
“یار سچ میں بیا مجھے نہیں پتہ تھا میں سمجھا کہ کوئی پرانی جراب ہے کوئی اور چیز مل نہیں رہی تھی اس لیئے جوتوں کو اس سے رگڑ کر صاف کر لیا تھا اور اگر اتنی ہی عزیز تھی تو سنبھال کر رکھنا چاہیے تھا نا اسے یوں زمین پہ کیوں پھینکا تھا اب مجھے الہام تو ہونا نہیں تھا”۔ بات کو سر سے اتارتے وہ بیڈ پہ جا بیٹھا اور پشت بیڈ کے تاج کیساتھ لگا لی۔
“تو نے میری حجاب کیپ سے اپنے جوتے صاف کیئے؟؟؟؟ اب دیکھ میں تیری شکل سے اپنے جوتے صاف کروں گی وہ بھی تیری اس دو سو گز لمبی زبان سے”۔ اپنی نئی اور مہنگی حجاب کیپ کو بری حالت میں دیکھتے اسے یہ علم ہی نا تھا کہ وہ کیا بول رہی ہے۔
“او ہیلو اتنے کی تو حجاب کیپ نہیں ہے اور میری بات سنو تمھاری شکل اتنی بڑی ہے بالکل جنگلی بیل کی طرح اس پہ حجاب کیپ کیسے فٹ آنی ہے؟؟؟ کچھ تو خیال کر لیا کرو۔ ایسا کرو ایک تمبو باندھ لو”۔ شکل والی بات کو پیتے اسنے اسے دوبارہ سے بھڑکاتے اسکی جسامت پہ وار کیا۔
@@@@@@@@@@@@
“انعم زوحان کہاں ہے؟؟؟اسنے ڈنر نہیں کرنا کیا؟”۔ اپنے سامنے دائیں جانب کرسی کو خالی پاتے اسنے ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگاتی انعم کو مخاطب کرتے پوچھا۔
“زوحان آج اپنے فرینڈز کے ساتھ باہر گیا ہے۔ بول کے گیا ہے کہ آج پارٹی ہے تو سب فرینڈز باہر ہی ڈنر کریں گے”۔ اسکے بائیں جانب پہلی کرسی کو گھسیٹتے وہ اس پہ بیٹھ گئی۔
“کب گیا ہے؟ اور کب تک آئے گا؟ کچھ بتا کر گیا بھی ہے آپکو کہ اپنی مرضی کا مالک ہے”۔ پلیٹ میں بریانی انڈیلتے اسنے سرد مہری سے کہا۔
“گھر سے نکلے اسے تھوڑی ہی دیر ہوئی ہے واپسی کا کچھ بتا کر نہیں گیا آ جائے گا دو تین گھنٹوں میں”۔ کباب کی پلیٹ اسکی طرف بڑھاتے اسنے اندازہ لگایا۔
“اچھا۔۔۔۔ ویسے آپ اس پہ نظر رکھئے گا آجکل ماحول ٹھیک نہیں ہے ۔ بری صحبت انسان کو برا بناتی ہے”۔ انعم کو آگاہ کرتے اسنے چمچ کو منہ تک رسائی دی۔
@@@@@@@@@@@@
معاہدے کے تحت وہ سب ساڈھے سات بجے سٹون اوو پہنچ گئے تھے۔ چھ کرسیوں پہ مشتمل ایک میز بک کیا اور سب نے اپنی اپنی جگہ سنبھال لی۔
“جی سر بتائیے؟؟”۔ چند منٹوں میں ایک ویٹر علی کے قریب آیا۔
“ہاں بھئی بولو کیا آرڈر کرنا ہے؟”۔ علی نے سب کی طرف دیکھتے کہا جو کہ تمام مینیو کارڈ پکڑے اسے ایک تسلی سے دیکھ رہے تھے۔
“میرے لیئے بریانی اور سیخ کباب”۔ مینیو کارڈ کو رباب کی طرف کرتے جو کہ اسکے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھی تھی، اسنے کہا۔
“میرے لیئے بھی یہی کر دو ساتھ آئس کریم “۔ اک نظر کارڈ کو دیکھتے اسنے عماد سے اتفاق کیا۔
“عون اور زوحان؟؟؟ تم لوگ بتاو”۔ رباب اور عماد سے پوچھتے اسنے دائیں جانب منہ کا رخ کیا۔
“میرے لیئے ایک رشیان سیلڈ بھی منگوانا اور۔۔۔ کوک تو ملے گی نا؟؟”۔ بولتے ہی وہ علی کی جانب ہلکا سا جھکا جس پہ علی کے چہرے پہ بے ساختہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
“ہاں بھئی کیوں نہیں ملے گی۔ پہلے کھانے کا آرڈر دے لو کولڈ ڈرنک بعد میں ضرور منگوا لیں گے”۔ علی نے اسے تسلی دی۔
“بس یہی منگوا لو علی میرے خیال سے ٹھیک ہے اگر تم نے ساتھ کچھ منگوانا ہے تو منگوا لو ہمارے لیئے یہ ٹھیک ہے کیوں زین؟؟”۔ علی کو مخاطب کرتے اسنے زین سے کنفرم کیا۔
“ہاں ٹھیک ہے مجھے تو کوئی اشو نہیں”۔ کرسی کی ٹیک چھوڑتے وہ سیدھا ہو بیٹھا تھا۔
ہر ایک کی خواہش کے پیش نظر علی نے کھانے کا آرڈر دے دیا تھا۔
“کاش کہ جوہم بھی ہمارے ساتھ آ جاتی کتنا مزہ آتا نا؟”۔ سبھی گپ شپ میں مصروف تھے جبی رباب نے افسردگی سے کہا۔
“مزہ تو آتا لیکن اب جوہم کی مرضی نہیں تھی۔ وہ ہمارے ساتھ نہیں آنا چاہتی تھی تو نہیں آئی کسی کے ساتھ زور زبردستی بھی تو نہیں کی جا سکتی نا”۔ زین جو کہ رباب کے بائیں جانب علی کے سامنے بیٹھا تھا، نے کہا۔
پتہ نہیں وہ ایسا کیوں کرتی ہے جب بھی کہیں جانا ہو انکار کر دیتی ہے”۔ عون نے غیر دانستہ کہا جبکہ اسکی بات پہ علی اور رباب یکجا متوجہ ہوئے۔
@@@@@@@@@@@@
“ارے میری جان”۔ وہ وارڈروب کے پاس کھڑی صبح کیلئے لباس نکالنے میں منہمک تھی کہ اسے محسوس ہوا کسی نے اسکے دوپٹے کو پکڑا ہے۔ وہ مڑی تو ایک خوشگوار مسکراہٹ اسکے چہرے پہ چھا گئی۔
“لیزہ میری جان یہاں کیا کر رہی ہے؟؟”۔ وارڈ روب بند کرتی وہ گھٹنوں کے بل زمین پہ بیٹھ گئی۔
“جوم چپ کھانی ہے”۔ معصوم پری نما چہرے پہ نیلی آنکھیں اس سے جیسے التجا کر رہی تھیں۔
“لیزہ نے چپس کھانے ہیں؟؟؟”۔ اسنے دہرا کر پوچھا تو سامنے کھڑے فرشتے نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
“جوہم آپکو ابھی چپس بنا کر دے گی”۔ اسکے دائیں رخسار پہ بوسہ دیتے اسنے اسے اپنی بانہوں میں لیا اور کچن کی راہ لی۔
“جوم بید کدھر ہے؟؟”۔ کچن کی طرف بڑھتی جوہم کے دائیں رخسار پہ ہاتھ رکھتے اسنے معصومانہ سوال کیا۔
“جوہم کی جان عبید اپنے کمرے میں ہے”۔ اسکے انداز پہ جوہم مسکرا دی۔
علیزہ ابھی دو سال کی تھی جوہم اور عبید سے چھوٹی۔ خاندان میں اس کے علاوہ کوئی کمسن بچہ نہیں تھا جو علیزہ کی قدر اور پیار کو اور بھی بڑھاتا تھا۔
“علیزہ آپ یہاں بیٹھو۔۔۔ میں آپکے لیئے چپس بناتی ہوں”۔ علیزہ کو کچن کے وسط میں رکھے میز پر بٹھایا خود سائیڈ پہ رکھی مخصوص ٹوکری سے آلو نکالے اور علیزہ کے پاس کرسی پہ آ کے بیٹھ گئی۔
@@@@@@@@@@@@
میری زندگی کی کتاب کے ہر صفحے کو دیکھ لو
میرے خوابوں کی رسائی بس تم ہی تک ہے
بڑے پیار سے لکھا ہے اس میں اک اک حرف میں نے
آنکھوں میں موجود حد بینائی بس تم ہی تک ہے”
سینے پہ ہاتھ باندھے،خوابوں کی وادی میں گم وہ لان میں ٹہل رہی تھی کہ کھانسنے کی آواز پہ حقیقی دنیا میں واپس آتے ہی ایڑیوں پہ مڑی تھی۔
“تم ابھی تک جاگ رہی ہو سوئی نہیں سب خیریت ہے؟؟”۔ سینے سے ہاتھ لپیٹتے وہ شریر ہوا۔
“نیند نہیں آ رہی تھی سوچا یہاں آ کر ٹہل لوں۔ تم سناو کیسی رہی پارٹی؟؟ دیر سے آئے ہو لگتا ہے بہت اینجوائے کیا ہے؟”۔ فورا سے جواب دیتے اسنے اسکا دھیان بھٹکاتے اندازہ لگایا۔
“ہاں پارٹی بہت اچھی رہی ہم تو جلدی فارغ ہو گئے تھے بس تھوڑی دیر عماد کیساتھ پارک گیا تھا تبھی دیر ہو گئی”۔ اپنے ہمراہ ٹہلنے کا اشارہ کرتے اسنے تفصیل دی۔
“چائے یا کافی؟؟”۔ چلتے چلتے اچانک سے اسکے قدم زمین پہ جبکہ نظریں اسکے چہرے پہ منجمد ہو گئیں تھیں۔
“کافی”۔ عائشہ کے قدموں کی حرکت کے برعکس اسنے بھی اپنے قدموں کو روک دیا تھا۔
“ابھی بنا کر لاتی ہوں”۔ بولتے ہی اسنے گھر کی اندرونی جانب قدم اٹھانا شروع کیئے جبکہ علی نے چہل قدمی کا سلسلہ برقرار رکھا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *