Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie NovelR50785 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode21
Rate this Novel
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode01 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode02 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode03 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode04 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode05/06 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode07 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode08 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode09 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode10 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode11 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode12 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode13 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode14 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode15 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode16 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode17 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode18 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode19 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode20 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode21 (Watching)Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode22 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode23 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode24 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode25 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode26 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Last Episode
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode21
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode21
حسب معمول وہ سب کالج لان میں بیٹھے الفاظ کا تبادلہ کر رہے تھے۔ اپنے گروپ کو لان میں بیٹھا دیکھ وہ بھی اس طرف آ گیا تھا۔
“ارے زین تجھے ایک بات پتہ ہے؟؟”۔ اب وہ اپنے گروپ کے قریب آیا گیا تھا۔ زین جو کہ گھاس پہ ٹانگیں پھیلائے اطمینان سے سب کی باتیں سن کر اسکے برعکس جواب دے رہا تھا، اب اسکی جانب پوری توجہ مبذول کیئے ہوئے تھا۔
“کونسی بات؟؟”۔ وہ متجسانہ اسے دیکھ رہا تھا۔
“بریرہ ہمارے ہمسائے کالج میں زیر تعلیم ہے”۔ اپنی پشت پہ ڈالے بیگ کو اسنے گھاس پہ رباب کے برابر میں تھوڑے فاصلے پہ رکھا پھر خود بھی وہیں بیٹھ گیا تھا۔
“مطلب؟؟”۔ وہ چونکا۔
“مطلب یہ کہ بریرہ وکالت کی سٹوڈنٹ ہے اور ہمارے ہمسائے لاء کالج میں زیر تعلیم ہے”۔ علی نے وضاحت دی۔
“نا کر علی یار مطلب۔۔۔ بریرہ ادھر۔۔۔۔ یہاں میرے اتنے پاس”۔ وہ حیرت انگیز حد تک خوش ہوا تھا۔
“سچی زین نا ہی میں تجھ سے مذاق کر رہا ہوں نا ہی کوئی جھوٹ بول رہا ہوں”۔ اسکے دائیں رخسار پہ تھپکی دیتی اس نے کہا۔
“زین ایسے کونسے سرخاب کے پر لگے ہیں اس بریرہ میں جو تو اتنا خوش ہورہا ہے؟۔ گھاس تو وہ تجھے ڈالنا پسند نہیں کرتی بھول گیا اس دن شادی میں کیا کہا تھا اسنے؟؟ ایک تو ہے جو مرا جا رہا ہے اسکے پیچھے”۔ زوحان جوکہ اسکے دائیں ہاتھ پہ بیٹھا تھا، نے رنگ میں بھنگ ڈالا تھا۔
“یار زوحان ہم زین کے فرینڈز ہیں ایٹ لیسٹ ہمیں اسکا دل دکھانے والی بات نہیں کرنی چاہیئے”۔ گپ شپ میں حصہ لیتے رباب نے زین کی سائیڈ لی۔
“بالکل اور بریرہ ابھی زین سے صحیح طریقے سے نہیں ملی۔ مجھے پکا یقین ہے اگر وہ زین کے ساتھ کچھ وقت گزار لے گی تو اسے بھی زین اچھا لگنے لگے گا”۔ جوہم نے اپنی رائے پیش کی۔
“اور زوحان اتنی اسکی جرات نہیں ہے کہ میرے دوست کو گھاس ڈالے۔ انشاءاللہ ایک دن اسکے نام کا سہرا سجے گا زینے کے سر پہ۔ تو دیکھنا”۔ زین کو افسردہ دیکھ علی نے بولتے ہی اسکی پشت پہ تھپکی دی تھی۔ علی کی جانب دیکھتے زین بھی مسکرا دیا تھا۔
“ویسے علی میں نے زین سے سنا ہے کہ تم نے عماد کے دادا جی کے چھکے چھڑا دیئے تھے کل۔ بہت اچھا کیا تم نے وہ اسی قابل تھے”۔ علی کی جانب دیکھتے اسنے کہا۔
“تو اور کیا؟ امید ہے اب وہ عماد کو ہاتھ بھی نہیں لگائیں گے”۔ جوہم نے کہا۔
“جس طرح علی نے انکی کلاس لی ہے نا مجھے تو لگتا ہے عماد کو انگلی لگاتے بھی دس بار سوچیں گے”۔ زوحان بولتے ہی ہنس دیا تھا۔
“ہاں بھئی واقعی وہ سین سچ میں قابل دید تھا کاش کہ میں اس وقت ویڈیو بنا لیتا”۔ زین نے آہ بھری۔
@@@@@@@@@@@@
“ہے یو کم ہیئر”۔ وہ کیفے میں مخصوص اونچے سٹول پہ بیٹھا تھا جبی اسکی نظر کیفے میں داخل ہوتے ایک سٹوڈنٹ پہ پڑی جو نروس لگ رہا تھا۔ انگلی کے اشارے سے اسنے اسے اپنی جانب بلایا تھا۔
“ج۔ج۔ جی”۔ عون کے قریب آتے ہی اسنے ہکلاتے کہا۔
“تمھارا نام کیا ہے؟؟”۔ ہر نئی صورت کو دیکھ کر عون اس سے جو پہلا سوال کرتا تھا عادتا اسنے وہی کیا تھا۔
“حفیظ ستی”۔ اسنے ہچکچاتے جواب دیا تھا۔
“کیا؟ قمیض پھٹی”۔ بولتے ہی وہ ہاتھ سے ہاتھ بجا کر ہنس دیا تھا جبکہ سامنے کھڑا سٹوڈنٹ فون کو عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“اچھا قمیض پھٹی میرے لیئے ایک برگر، ایک شوارما اور ایک کوک تو لے آو یار بہت بھوک لگی ہے”۔ پیٹ پہ ہاتھ رکھے اسنے معصومیت کا لبادا اوڑھا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
ساڈھے دس بجے گراس اناٹمی کی کلاس ہونی تھی۔ پرنسپل چمن کے سرد لہجے اور سختی کے باعث وہ سب کلاس میں پانچ منٹ پہلے ہی آ گئے تھے۔ ایگزیکٹ ساڈھے دس بجے ایک حسین دوشیزہ جو عمر میں تقریبا چھبیس سال کی معلوم ہوتی تھی کلاس میں داخل ہوتے ہی ڈائس کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
اسنے سفید جینز پہ آدھی سلیو والا کالے رنگ کا کرتا پہن رکھا تھا جسکا فرنٹ پرنٹڈ تھا، دائیں کلائی میں نفیس گھڑی تھی، سلکی براون بالوں جنکی پہنچ بمشکل کمر تک تھی، کو پونی میں مقید کیا ہوا تھا۔۔۔۔ دوپٹہ دونوں کندھوں پہ برابر سیٹ کیا ہوا اور پیروں میں کالے ناگرے۔
ڈائس پہ رجسٹر کھولے وہ کچھ تلاش کرنے میں محو تھی جبکہ کلاس میں موجود ہر سٹوڈنٹ اسے تجسس بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا اور ہر ایک کے ذہن میں سوال امڈ رہے تھے۔
“یار علی یہ کون ہیں؟؟ اور میم چمن کدھر ہیں؟”۔ عماد جو کہ علی کے برابر میں بیٹھا تھا، نے علی کی جانب ہوتے سرگوشی کی۔
“تمھاری طرح میں بھی ابھی ہی دیکھ رہا ہوں۔ کیا پتہ اب کون ہیں؟؟”۔ سرگوشی کرتے اسنے شانے اچکائے تھے۔
“جو بھی ہے بھئی۔ واللہ ہے بہت حسین”۔ عون جو کہ علی کی پشت پہ رکھی چیئر پہ بیٹھا تھا، ہلکا سا آگے کو ہوا۔ علی اور عماد اسکی بات سنتے ہی بے ساختہ ہنس دیئے تھے۔
“اسلام و علیکم سٹوڈنٹس۔ میں جانتی ہوں مجھے یہاں دیکھ کر آپ سب کے ذہنوں میں کئی طرح کے سوال جنم لے رہے ہیں کہ میں کون ہوں؟ یہاں کیا کر رہی ہوں؟ میم چمن کدھر ہیں؟۔ میں آپ کے ہر سوال کا جواب دوں گی”۔ رجسٹر بند کرتے اسنے چہرہ اوپر کو کیا تھا۔
“میرا نام مہک علی ہے۔ میم چمن گھریلو مسائل کی وجہ سے آپ کو کچھ روز گراس اناٹمی نہیں پڑھا سکتیں اس لیئے جب تک وہ نہیں آ جاتیں میں ہی آپکو گراس اناٹمی پڑھاوں گی۔ ایسا کریں آپ میں سے کوئی ایک مجھے بتا دے کہ میم چمن نے کیا اور کہاں تک کروایا ہے تاکہ میں اس حساب سے آپ کو پڑھاوں”۔ متلاشی نظروں سے وہ ہر ایک کو دیکھ رہی تھی۔
“ایسا کرو آپ آ جاو”۔ یکایک اسکی نظر علی پہ جا ٹھہری تھی جو اسکے بائیں جانب دوسری قطار میں بیٹھا تھا۔ اسکے کہتے ہی علی نشست چھوڑتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
“آپکا نام کیا ہے؟؟”۔
“جی میم۔ علی مہدی”۔ بولتے ہی اسنے شرٹ سیٹ کی پھر ڈائس کی جانب بڑھنے لگا تھا۔
جونہی علی نے با آواز بلند اپنا نام لیا پوری کلاس ہوٹنگ سے گونج اٹھی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
ملک شبیر صحن میں چارپائی پہ بیٹھا تھا اس دوران راحیلہ اور یوسف بھی اس طرف آئے تھے۔
“جی ابا جی کہیئے کیا بات ہے؟؟”۔ اسکے قریب آتے ہی یوسف نے کہا۔
“بتاتا ہوں۔ بیٹھو”۔ راحیلہ کو اپنے ہمراہ بیٹھنے کا اشارہ کرتے وہ ملک شبیر کے بائیں ہاتھ پہ رکھی چارپائی پہ بیٹھ گیا تھا۔
راحیلہ اور یوسف اسی کے منتظر تھے کہ کب ملک شبیر ان سے مدعہ بیان کرے گا۔
“یوسف بات یہ ہے کہ میرا ایک دوست ہے خدا داد۔ اسکی ایک ہی پوتی ہے زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہے مگر گھر داری اسے بخوبی آتی ہے۔ مجھے وہ بچی اچھی لگی ہے سلیقہ مند ہونے کے ساتھ ساتھ تمیز دار بھی ہے۔ خدا داد نے مجھ سے کہا ہے کہ میں عماد کیلئے اسکا رشتہ مانگوں۔ میں اسی حق میں ہوں کہ عماد کی شادی خدا داد کی پوتی کے ساتھ کر دی جائے۔ میں نے سوچا کہ تم لوگوں کو بتا دوں باقی عماد سے بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تم لوگ جب کہو گے میں اس کے گھر لے چلوں گا۔ ابھی مجھے ایک کام ہے باہمی مشورے سے تم لوگ مجھے کل جواب دے دینا”۔ ملک شبیر تحکم چارپائی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا پھر دائیں کندھے پہ چادر سیٹ کی پھر گیٹ کی جانب بڑھ گیا تھا۔
“یوسف ہم عماد کی زندگی کا اہم ترین فیصلہ اسکی مرضی کے بغیر تو نہیں کر سکتے۔ اگر عماد سے بات کی وہ اس رشتے کیلئے کبھی اپنی رضا مندی ظاہر نہیں کرے گا اور اگر آپ کے ابا کو پتہ چلا وہ تو عماد کو مار ہی ڈالیں گے”۔ راحیلہ کو تشویش ہوئی۔
راحیلہ تم فلحال اس کا عماد سے ذکر نا کرنا میں کوئی نا کوئی حل نکالتا ہوں”۔ راحیلہ کو تنبیہ کرتے وہ اٹھ کر روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“زینے گراس اناٹمی والی میم کا نام کیا ہے؟؟”۔ مصنوعی سنجیدگی کا نقاب اوڑھے اسنے اپنے سے آگے چلتے زین کو مخاطب کیا تھا۔
“مہک علی”۔ گردن کو جنبش دیتے اسنے چہرہ پیچھے کو موڑا۔
“اور آپکا کیا نام ہے؟؟”۔ اسنے دوبارہ کہا۔
“جی میم علی مہدی”۔ زوحان جو کہ عماد کے دائیں جانب ہم قدم تھا، نے منہ کا زاویہ بگاڑا تھا۔
“بے غیرتوں، کمینوں کچھ شرم کر جاو میم ہیں وہ اور مجھے ان کے ساتھ ملا رہے ہو”۔ سنجیدہ ہوتے ہی اسنے کہا۔
“لو بھئی ہم نے کچھ کہا؟؟ اسے کہتے ہیں چور کی داڑھی میں تنکا”۔ عماد نے بولتے ہی سب کا جائزہ لیا تھا۔
“بالکل صحیح بول رہے ہو عماد ورنہ پچاس کے قریب سٹوڈنٹس اور نظروں کو جو بھایا، لبوں پہ جسکا ہے نام آیا۔۔”۔ اپنے تعاقب میں چلتے علی مہدی کو دیکھتے اسنے الٹے قدم لینا شروع کیئے تھے۔
“وہ ہو تم”۔ علی کی جانب اشارہ کرتے زوحان نے اسکا ساتھ دیا۔
“نظر کے سامنے، جگر کے پاس
کوئی رہتا ہے”۔ عون نے واشگاف گنگنانا شروع کیا تھا۔
“وہ ہو تم، ام۔۔۔ام”۔ زوحان، زین اور عماد نے یکجا کہا۔
رباب اور جوہم جو ان سب کے ساتھ خاموشی سے قدم اٹھا رہیں تھیں، کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
چھٹی کے بعد کالج سے نکلتے ہی زین سڑک کی جانب اپنے قدم اٹھانے لگا تھا۔ سڑک پہ پہنچتے کالج بس کے انتظار میں وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا اسی اثنا میں اسی نظر بائیں جانب ایک لڑکی پر پڑی جو اسکی جانب پشت کیئے کھڑی تھی۔ جونہی لڑکی نے فون نکالنے کی غرض سے بیگ کھولا اسکا کارڈ زمین پہ آ گرا تھا جس سے وہ انجان تھی۔
زین یہ سب دیکھ رہا تھا کچھ ہی دیر میں وہ لڑکی اپنے قدم زین کے متضاد اٹھانے لگی تھی۔ اس دوران زین اسکی جانب دوڑا کارڈ کو زمین سے اٹھایا اور اس لڑکی کو آواز دی جو ابھی کار کا دروازہ کھولے کھڑی تھی۔
“ایکس کیوز می میم یہ آپکا کارڈ زمین پہ گرا۔۔۔”۔ زین کی آواز پہ وہ لڑکی زین کی جانب گھومی۔
“تم؟؟؟ تم یہاں بھی آ گئے۔ تمھیں آرام نہیں ہے؟؟”۔ بغیر کچھ دیکھے، سنے اسنے زین پہ چڑھائی کر دی تھی۔
“بریرہ میری بات تو سن۔۔۔”۔ زین نے اسے سمجھانے کی کوشش کی مگر بے سود۔
“کیا ہوا بریرہ تم غصہ کیوں کر رہی ہو؟؟”۔ بریرہ کو یوں غصہ کرتا دیکھ وہ بھی ڈرائیونگ سیٹ سے نکل کر اسکے برابر آ کھڑا ہوا تھا۔
“یہ پتہ نہیں کیا چاہتا ہے؟؟ کب سے مجھے فالو کر رہا ہے۔ جہاں جاتی ہوں وہاں آ جاتا ہے۔ اب یہاں بھی آ گیا ہے”۔ زین کو گھورتے اسنے تپ کر کہا۔
“کیوں بھئی کیا مسئلہ ہے تیرے ساتھ؟؟”۔ بولتے ہی وہ زین کی جانب بڑھا تھا۔
“وہ بریرہ کا کارڈ زمین پہ گرا تھا تو بس وہی۔۔۔۔”۔
“کیوں سالے بہت چربی چڑھی ہے۔ تو نے سوچا اکیلی لڑکی ہے تو چل کر چھیڑ لوں”۔ بولتے ہی اسنے زین کو دھکا دیا جسکی وجہ سے زین جھٹکے سے پیچھے کو ہوا تھا۔
“تم کیا لگتے ہو اسکے؟؟”۔ اسکو دیکھتے زین نے سوال کیا۔
“بوائے فرینڈ ہے میرا”۔ بریرہ زین کے مقابل آ کھڑی ہوئی تھی۔
“او، پھر تو یہ میرے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے”۔ زین نے مسکرا کر اسکی بات ٹال دی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے
