Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode12

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode12

جمعے کا با برکت دن تھا آسمان پہ بادلوں کا بسیرا تھا۔ سورج بادلوں کے پیچھے سے جھانک کر آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔
کار کو کالج پارکنگ ایریا میں پارک کرتے وہ ذرا تیز قدم اٹھانے لگا تھا کیونکہ آج ساڈھے دس بجے اسکا بلاک اے کا پیپر تھا۔
جمعے کے دن کی تعظیم و تکریم کے باعث اسنے سفید لباس پہن رکھا تھا۔ کاٹن کا کرتا جسکا گلا بین والا تھا، بائیں جانب ہلکی ہلکی اور نفیس سفید دھاگے سے کڑھائی ہوئی تھی۔ اسی کپڑے کی سادہ سفید شلوار،عادتا بازووں کو کہنیوں تک موڑا تھا اور پیروں میں بلیک سینڈلز۔
“اسلام و علیکم”۔ وہ اب کلاس کے باہر پہنچ چکا تھا جہاں عماد، زین، جوہم، رباب اور عون کلاس کے باہر بنی زینوں پر بیٹھے تھے جو شمار میں تین تھیں۔
زوحان زینوں کے ساتھ بنے ستون کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا۔
“وعلیکم اسلام اتنا جوش لگتا ہے جناب پوری تیاری کے ساتھ آئے ہیں؟”۔ عماد جو کہ دوسری نمبر والی سیڑھی پہ بیٹھا تھا، نے رجسٹر سے نظر ہٹا کر علی کو دیکھا تھا۔
“ہاں کیوں نہیں۔ ان فیکٹ، میں تو پورے اسلحے کے ساتھ آیا ہوں”۔ بیگ کو نچلی سیڑھی پہ رکھتے اسنے جھک کر اس سے نوٹس نکالے تھے۔
“اچھا تو جناب آپکو یہ آگاہی بھی ہو گی کہ جب مسلح افواج کی مخبری ہوتی ہے تو فوجیوں کو شہادت ہی نصیب ہوتی ہے”۔ زین نے ہنس کر کہا۔
“نہیں جوان کئی بار انہی مسلح افواج کے سپاہی غازی بن کر لوٹ آیا کرتے ہیں۔ تم نے عاطف کا وہ ملی سونگ نہیں سنا؟
کبھی پرچم میں لپٹے ہیں کبھی ہم غازی ہوتے ہیں”۔ نوٹس اٹھائے وہ انہیں ایک نظر دیکھنے لگا تھا۔
“بس یار بہت ہو گیا”۔ عون جو کہ پہلی سیڑھی پہ رباب اور جوہم سے تھوڑا فاصلے پہ بیٹھا تھا، نے نوٹس سے نگاہ ہٹا کر کوفت اور بے زاری کا اظہار کیا۔
“کیا بہت ہو گیا ہے عون؟؟”۔ رباب نے حیرت سے پوچھا۔
“لگتا ہے سب رٹ لیا ہے اس نے”۔ زوحان جو کہ اسکی پشت پہ ستون کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا، نے لاف زنی کی۔
“نہیں یار، اب ان نوٹس کو دیکھ کر مجھے الٹی آ رہی ہے”۔ عون نے منہ بنایا۔
“ویسے آپس کی بات ہے عون۔ یہ نوٹس بھی تو تیری شکل کب سے برداشت کر رہے ہیں۔ ان کا بھی تیرے بارے میں یہی خیال ہوگا”۔ بولتے ہی رباب قہقہ لگا کر ہنس دی جسکے تعاقب میں سب کا یکطرفہ قہقہ گونجا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“خالد آپکو اور کچھ چاہیئے؟؟”۔ وہ سنگھار میز کی طرف آئی تھی جہاں خالد کھڑا ٹائی باندھنے میں محو تھا۔
“میری واچ اور والٹ نکال دیا ہے؟؟”۔
“جی نکال دیئے ہیں بیڈ پہ رکھے ہیں”۔ جواب دیتے وہ مزید اسکے قریب آئی تھی۔
“خالد میں چاہتی ہوں کہ ہم زین کیلئے ابراہیم بھائی کی بیٹی بریرہ کا ہاتھ مانگ لیں”۔ وہ ہچکچائی۔
“کیا؟؟۔ یہ اچانک تمھیں بریرہ کا خیال کہاں سے آگیا؟؟۔ مصباح تم جانتی ہو کہ زین ابھی زیر تعلیم ہے۔ اگر پڑھائی کے دوران اسکی منگنی کر دی تو وہ پڑھائی سے ہٹ جائے گا”۔ وہ حیرت سے مصباح کی جانب پلٹا تھا اور سرد مہری سے اسے باخبر کر رہا تھا۔
“جی میں جانتی ہوں کہ زین ابھی پڑھ رہا ہے لیکن ہمیں آج نہیں تو کل زین کی شادی کرنی ہی ہے نا پھر، اس سے اچھی بات اور کیا ہوگی کہ بریرہ زین کی دلہن بنے۔ دیکھی بھالی لڑکی ہے”۔ زین کی خوشی کی خاطر اسنے خالد کے غصے کے پیش نظر ذمہ داری خود لے لی تھی۔
“مصباح بچوں جیسی باتیں نا کرو۔ ابھی زین کی پڑھائی مکمل ہونے میں بہت عرصہ ہے اور جہاں نصیب ہوا وہاں شادی بھی ہو جائے گی”۔ ہنوز سرد لہجہ اور ماتھے پہ پڑتے بل۔ اسنے بیڈ پہ پڑا والٹ اٹھا کر پینٹ کی پاکٹ میں رکھ کر دائیں ہاتھ میں گھڑی باندھی۔
“اس بات کا خیال رکھنا کہ کہیں تم یہ بات زین کے سامنے نا کر دو۔ مجھے آفس سے دیر ہر رہی ہے واپسی پہ بات ہوگی”۔ بولتے ہی اسنے بیگ لیا اور روم سے نکل گیا تھا۔
‘اب میں آپکو کیسے سمجھاوں کہ میں زین کے کہے الفاظ اور دلی خواہش کو آپ تک اپنے الفاظ کے ذریعے پہنچانے کی کوشش کر رہی تھی”۔ وہ افسردہ ہو کر خود سے ہم کلام ہوئی۔
“اللہ سب خیر کرے”۔ وہ سر جھٹک کر روم سے نکل گئی۔
@@@@@@@@@@@@
وہ ایگزیمینیشن ہال میں تیسری قطار کی چوتھی نشست پہ بیٹھا ماحول سے بے خبر سر جھکائے لکھنے میں منہمک تھا۔
“فائیو منٹس آر لیفٹ”۔ ممتحن نے فون پہ سرسری نگاہ ڈالتے ان گنے چنے بچوں کو آگاہ کیا تھا جو ابھی بھی لکھنے میں لگے تھے۔
چند لمحوں بعد اسکا پیپر پہ چلتا ہاتھ رک گیا تھا۔ پین کو بند کرتے اسنے ایک نظر پیپر کو دیکھا پھر نشست سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“میم آئی ہیو ڈن”۔ پیپر کو ممتحن کے ہینڈ اوور کرتے وہ ایگزیمینیشن ہال سے نکل گیا تھا۔
پیپر دینے کے بعد اسکے چہرے کے تاثرات بدل گئے تھے۔ وہ اب پرسکون اور ہلکا محسوس کر رہا تھا۔
وہ اس راہداری سے گزر رہا تھا جو کالج لان کی طرف جاتی تھی۔
“وہ دیکھو آخر موصوف ایگزیمینیسشن ہال سے باہر تشریف لے ہی آئے”۔ عماد نے علی کی جانب اشارہ کرتے کہا جو ادھر ہی آ رہا تھا۔
“ہاں بھئی جوان بول، مسلح افواج کے سپاہی شہید ہوئے زخمی یا پھر غازی لوٹے؟؟”۔ زین نے جو کہ عون کے کندھے پہ بازو رکھے کھڑا تھا، علی کو با آواز بلند مخاطب کیا تھا۔
“گھائل اور شہادت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ غازی لوٹے ہیں غازی”۔ علی نے تمسکن آمیز انداز اپنایا۔
“دیکھا بولا تھا نا یہ سالا ہمیشہ ایسے ہی کرتا ہے۔ پڑھتا ہے نہیں اتنا، ہمیں جیلس کراتا رہتا ہے اور آخر میں پرائز بانڈ اسی کے نام کا نکلتا ہے”۔ عون نے چڑ کر کہا۔
“کیا کروں یار؟ ٹرسٹ می جب بھی پیپر سامنے آتا ہے مجھے سب یاد آنے لگتا ہے اور بغیر وقت کا ضیاع کیئے میں لکھ دیتا ہوں”۔ اسنے معصومیت کی چادر اوڑھ لی تھی۔ ” کیا ہوا تم لوگوں کا اچھا نہیں ہوا کیا؟؟؟”۔ ان سب کے چہرے کے افسردہ تاثرات بھانپتے اسنے پوچھا۔
“ٹھیک ہو گیا ہے یار بس تھک گئے ہیں”۔ زین نے بے زارگی سے کہا۔ اسکے چہرے پہ تھکن کے تاثرات نمایاں تھے۔
@@@@@@@@@@@@
کالج سے واپسی پہ اسنے مسجد میں جمعہ ادا کیا پھر گھر لوٹ آیا تھا۔
“اسلام و علیکم”۔ بیگ کو ہال میں صوفے پہ رکھتے وہ ڈائننگ ہال کی جانب بڑھا تھا۔
“وعلیکم السلام زین بیٹھو کھانا کھا لو”۔ مصباح جو کہ ڈائننگ ٹیبل پہ اکیلے بیٹھی تھی، نے کہا۔
“ماما آپ اکیلی بیٹھی ہیں؟ پاپا کدھر ہیں؟؟ آئے نہیں کیا؟؟”۔ چیئر گھسیٹتے اسنے تعجب سے پوچھا۔
“نہیں بیٹا انکا فون آیا تھا کہ وہ دیر سے آئیں گے”۔ بریانی کی ٹرے اسکی جانب بڑھاتے اس نے جوابا کہا۔
“ماما ایک گلاس پانی ڈال دیں”۔ بریانی پلیٹ میں انڈیلتے اسنے کہا۔
“زین بیٹا آپ سے ایک بات کہوں؟؟اگر آپ غلط نا سمجھو مجھے”۔ مصباح نے پانی کا گلاس اسکی جانب بڑھایا۔
“جی ماما کہیں میں بھلا آپکی بات کا برا کیوں مناوں گا؟”۔ گلاس پکڑے اسنے ایک گھونٹ حلق سے اتارا پھر مصباح کو دیکھنے لگا تھا۔
“بیٹا بریرہ کیلئے آپکے دل میں جو فیلنگز ہیں آپ اسکو زیادہ طول مت دینا کہ وہ آپکے راتوں کی نیند اور دن کا سکون چھین لیں”۔ اسنے سمجھانے کے سے انداز میں کہا۔
“ماما یہ آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں؟؟”۔ گلاس سائیڈ پہ رکھتے اسنے چونک کر پوچھا۔ حیرت کے دلدل نے اسے اپنی جانب کھینچا تھا۔
“آپ مجھے یہ کہنا چاہ رہی ہیں کہ میں بریرہ کا نام اپنے دل و دماغ سے تا حیات کیلئے نکال دوں؟؟” وہ متحیر سا اسے دیکھ رہا تھا۔
“نہیں بیٹا میں نے ایسا نہیں کہا”۔ اسنے نفی کی۔
پھر؟؟؟”۔
“بیٹا مان لیا آپ بریرہ کو پسند کرتے ہو اس سے شادی کے خواہاں ہو۔ لیکن بیٹا اگر کچھ وجوہات کی بنا پہ آپکی شادی اس سے نہیں ہو پاتی پھر آپ کیا کرو گے؟؟”۔ خالد سے ہوئے مباحثے کے پیش نظر اسنے اس سے سوال کیا۔
“ماما آپ ایسا کیوں سوچ رہی ہیں؟؟ آپکو کسی نے کچھ کہا ہے؟؟ آپ مجھے بتائیں۔ دیکھیں ماما اگر ہم برا سوچیں گے نا تو ہمارے ساتھ برا ہی ہونا ہے”۔ اسنے خفگی کا اظہار کرتے کہا۔
“اللہ نا کرے بیٹا کہ کبھی کچھ برا ہو”۔ مصباح کے دل میں خوف بڑھ گیا تھا۔
“ماما آپ یہ بات ذہن سے نکال دیں پلیز۔ میں شادی کروں گا تو صرف اور صرف بریرہ سےورنہ آپکو میرے لیئے لڑکی تلاش کر کے زحمت کرنے کی ضرورت نہیں”۔ زین نے دو ٹوک اپنا فیصلہ سنا دیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
پیپر کی آدھی تیاری مکمل کرنے کے بعد وہ برآمدے میں چارپائی پہ آ کر لیٹ گیا تھا۔
“عون جا کر بازار سے یہ سودا تو لے آو”۔ اسکے قریب آتے بیا نے عجلت میں کہا۔
“خیر تو ہے نا؟؟ ابھی ابھی آ کے لیٹا ہوں اور تمھیں سودے کی پڑ گئی ہے”۔ فون نکالے وہ اس میں گیم کھیلنے لگ گیا تھا۔
“تو کونسا پہاڑ توڑ کر آئے ہو؟؟ اگر تم نہیں جاو گے تو کون جائے گا؟؟ کس کو کہوں؟ بولو”۔ دائیں ہاتھ میں لسٹ اور بائیاں ہاتھ کمر پہ رکھے وہ اسے گھور رہی تھی۔
“اچھا بتاو کیا لانا ہے؟؟”۔ فون سے نگاہ ہٹائے اسنے بیا کو دیکھا تھا۔
“یہ لسٹ ہے بریانی، کھیر مکس، میدہ، بریانی مصالحہ۔۔۔۔۔”۔ عون کی جانب لسٹ کرتے اسنے زبانی کہا۔
“او ہو خیر ہو۔ تمھارا ولیمہ ہے یا تمھاری بارات کی روٹی ہے جو اتنا کچھ منگوا رہی ہو۔ جو منہ میں آ رہا ہے انھے واہ پھینکی جا رہی ہو”۔ عون نے چڑ کر کہا۔ ” کیوں لانا ہے یہ سب؟؟”۔ بیا کی آگ برساتی نظروں پہ وہ دھیما ہوا۔
“وہ شمون اور پھپھو آ”۔
“وہ کام چور، نکما، ویلا شمون۔ تم اس کیلئے یہ سب منگوا رہی ہو؟۔ خود تو کچھ کرتا نہیں ہے بس ہفتے کے ہفتے آجاتا ہے تم پہ رعب جھاڑنے اور مفت کا کھانا ٹھونسنے۔ میں نہیں جا رہا، سمجھی۔ جس نے کھانا ہے نا اسے ہی کہو لا دے”۔ نفی کرتے اسنے دوبارہ سے فون پہ نظریں جمالیں تھیں۔
@@@@@@@@@@@@
“عائشہ مجھے کباب کی پلیٹ پاس کرنا پلیز”۔ ڈائننگ ٹیبل پہ اپنے سامنے بیٹھی عائشہ کو اسنے مخاطب کیا۔
“عائشہ بیٹا آپکے باس کی شادی کب ہے؟؟”۔ حسنین جو کہ ڈائننگ کی صدارتی چیئر پہ بیٹھا تھا، نے پوچھا۔
“پھوپھا کل مہندی ہے اور پر سو بارات اور ولیمے کا کمبائن فنکشن ہے”۔ بولتے ہی اسنے لقمہ لیا۔
“اچھا تو کیا آپ اپنے فرینڈز کیساتھ جاو گے؟؟”۔ اسنے مزید پوچھا۔
“نہیں پھوپھا فرینڈ تو کوئی نہیں ہے۔ میں اکیلے ہی جاوں گی”۔
“لیکن عائشہ بیٹا تم کیسے جاو گی؟؟”۔ عفت جو کہ علی کے برابر میں بیٹھی تھی، نے متحیر اسے دیکھا۔
“کیا مطلب ہے آپکا ماما؟؟؟ کیسے جاو گی ٹانگوں سے جائے گی اور کیسے جائے گی۔ کیوں عائش؟؟”۔ لاف زنی کرتے اسنے بھنووں کو جنبش دیتے عائشہ کو دیکھا تھا جو اسکی بات پہ مسکرا دی تھی۔
“پاگل”۔ عائشہ منمنائی۔
“علی ہر بات کو مذاق میں نہیں اڑاتے بیٹا”۔ حسنین نے سختی سے کہا۔
“اچھا نا پاپا، ریلیکس۔ اب بندہ چوبیس گھنٹے منہ بنا کر بھی تو نہیں رہ سکتا۔ ایسے لگتا ہے بندہ قومے میں پہنچ گیا ہے”۔ بولتے ہی وہ ہنس دیا تھا۔
“خدانخواستہ علی ایسی باتیں کیوں کرتے ہو؟”۔ عفت نے بے زارگی سے کہا۔
“عائشہ بیٹا آپ علی کیساتھ چلے جانا اور علی تم عائشہ کو چھوڑ کر آو گے”۔ عائشہ کو بولتے اسنے علی کی طرف دیکھا تھا۔
“اوکے پاپا”۔ عائشہ کو دیکھتے اسنے شکل بگاڑی جس پہ عائشہ کے چہرے پہ بے اختیار مسکراہٹ رینگ گئی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
گھڑی دوپہر کے بارہ بجا رہی تھی۔ وہ سب خوشی کے براق پہ سوار ایگزیمینیسشن ہال سے نکل کر کالج کیفے کی جانب لپکے تھے۔
“شکر ہے کہ صرف دو ہی پیپر تھے۔ اللہ اللہ کر کے جان چھوٹی”۔ رباب نے خوشی کا اظہار کرتے کہا۔
“تو اور کیا؟ جب امتحانات آتے ہیں تو اکیلے تھوڑی نا آتے ہیں بلکہ بے عزتی، ڈنڈوں، مار پٹائی اور گالیوں کا سیلابی نا بہنے والا ڑیلا بھی اپنے ساتھ لاتے ہیں”۔ عماد نے مزید کہا۔
“ویسے تیری بات میں دم ہے بھئی۔ کیا بات کر دی”۔ زین نے گردن کو جنبش دیتے اپنے پیچھے آتے عماد کو دیکھا۔
“ہاں بھئی آخر ایکسپیریئنس بولتا ہے”۔ زوحان نے طنز کسا تھا۔
“ایکسپیریئینس بولتا ہی تو نہیں ہے بیٹا، چیختا ہے”۔ بولتے ہی اسنے اپنے برابر میں چلتے علی کے ہاتھ پہ ہاتھ مارا تھا۔
“چھوڑو بھی پیپرز کو چلے گئے نا؟۔ اب جلدی قدم اٹھاو مجھے بہت زور کی بھوک لگی ہے”۔ رباب نے بے چارگی سے کہا۔
کیفے کے باہر سائے تلے لگے چیئر ٹیبلز میں سے ایک پہ وہ قابض ہو گئے تھے۔
“ہاں بھئ کہو کیا منگوانا ہے؟؟؟”۔ عماد نے سب کی جانب دیکھتے کہا۔
“داماد یوسف جو بھی لانا ہے اپنی مرضی کا لے آو”۔ عون جو کہ اسکے برابرمیں بیٹھا تھا، نے عماد کے دیکھا۔
“واہ کیا نوابی ہے تم لوگوں نے جو منگوانا ہے منگواو۔ اپنی جیب کے پیش نظر اپنے پاوں پھیلاو”۔ عماد نے مصنوعی بے زارگی سے کہا۔
“کتنا کنجوس ہے تو، داماد یوسف۔ دوستی کے نام پہ کلنک ہے۔ لعنت ہے تجھ پہ”۔ بولتے ہی اسنے اپنا بائیاں ہاتھ اسے دکھایا۔
“اچھا تو ایک کام کر۔ آج سب کی طرف سے تو اپنی جیب ڈھیلی کر کے دوستی کا جھنڈا گاڑھ دے”۔ عماد نے مطمئن اسے دیکھ کر اپنا ہاتھ آگے کیا تھا جبکہ باقی سب خاموشی سے ان کے مابین ہونے والا ڈرامہ دیکھ کر لطف اندوز ہو رہے تھے۔
“پیسے؟؟ پیسے تو میرے پاس ہیں ہی نہیں۔ دیکھ داماد یوسف صرف دس روپے ہی ہیں۔ لینے ہیں تو بتا”۔ عون نے معصومیت سے اپنا والٹ عماد کی طرف بڑھایا تھا۔
“میری طرف سے دہری لعنت، قبول کر”۔ عماد نے اپنے دونوں ہاتھ عون کو دکھاتے کہا۔
“اب تم لوگوں کا اگر یہ لعنت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہو تو جا کے کچھ لے آو۔ میری صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے”۔ رباب نے خفگی سے کہا۔
“ہاں اور یہ لو پیسے مجھ سے لے جاو”۔ علی نے پینٹ کی پاکٹ سے والٹ نکالتے کہا۔
@@@@@@@@@@@@
گھر داخل ہوتے وہ سیدھا کچن میں گیا تھا انعم کو سلام کرنے کے بعد پیروں کا رخ اپنے روم کی جانب موڑا تھا۔
“ارے اتنی بھی کیا جلدی ہے میرے دوست؟؟ روم بھی ادھر ہی ہے اور تم بھی۔ چلے جانا آرام سے”۔ برسوں بعد مانوس آواز کانوں میں گونجتے وہ سرعت سے پلٹا تھا۔
“ارے ثاقب تم؟؟تم کب آئے؟؟”۔ اس پہ حیرت انگیز خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ وہ دوڑتا اسکی جانب لپکا تھا۔
“بس آدھا گھنٹہ ہوا ہے۔ تم سناو کیسے ہو؟؟”۔ اسکے گلے لگتے اسنے گرم جوشی سے کہا۔
“فٹ فاٹ تمھارے سامنے ہوں۔ یوں اچانک بن بتائے ہمارے غریب خانے میں۔ سب خیریت ہے؟؟”۔ ثاقب کے ہمراہ اسنے اپنے روم کی جانب قدم اٹھانا شروع کیئے تھے۔
“بس یار ایک دوست کی شادی تھی۔ بہت قریبی تھا تو آنا پڑا۔ اگر دور کا ہوتا تو ٹال دیتا جیسے کہ تم”۔ بولتے ہی اسنے مصنوعی سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
“آہاں، تو میں تمھارے لیئے اہم نہیں ہوں؟ کوئی بات نہیں بیٹا اپنا بھی ٹائم آئے گا”۔ بیگ کو صوفے پہ رکھتے وہ بیڈ پہ جا بیٹھا تھا۔
او زوحان مائی ڈارلنگ میں تو مذاق کر رہا تھا”۔ اسکے تعاقب میں بیڈ پہ بیٹھتے اسنے تمسخرانہ مسکراہٹ چہرے پہ سجا لی۔ ” اوکے تم بھی تیار رہنا مل کے چلیں گے”۔ بولتے ہی وہ پیچھے کو ہوتے بیڈ پہ لیٹ گیا تھا۔
اچھا تم ریسٹ کرو میں ذرا فریش ہو لوں”۔ وہ بیڈ سے اٹھتے وارڈ روب کی جانب بڑھا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
اسنے پورے بیڈ پہ کپڑے بکھیر رکھے تھے جن کو بار بار ٹرائی کر رہی تھی۔
“ارے عائشہ تم نے یہ لنڈا بازار کیوں لگایا ہے؟؟؟”۔ وہ متعجب سا اسکے روم میں داخل ہوا تھا۔
“مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی”۔ گردن کو جنبش دیتے اسنے علی کو دیکھا۔
“کیا سمجھ نہیں آ رہی؟ کونسا سوٹ رکھوں کونسا نہیں؟؟”۔ وہ متوازن چال چلتا اسکے سامنے سنگھار میز پہ آ بیٹھا تھا۔
“ارے نہیں”۔ اسنے نفی کی۔ ” وہ ایکچوئلی کل شادی میں جانا ہے نا تو وہ سمجھ نہیں آرہی کہ کونسا سوٹ پہن کر جاوں۔ میرے لیئے یہ ڈیسائیڈ کرنا مشکل ہو رہا ہے”۔ اسنے افسردگی سے کہا۔
“اس میں اتنا پریشان ہونے والی کونسی بات ہے؟؟ جو تمھارے دل کو اچھا لگے وہ پہن لینا”۔ مسکراتے ہی اسنے اپنے سینے پہ ہاتھ باندھے تھے۔
“وہی تو سمجھ نہیں آرہی دیکھو سب ٹرائی کر لیئے ہیں لیکن ایسے لگتا ہے جیسے میں برمودہ میں پھنس کر رہ گئی ہوں”۔ وہ منہ بناتی علی کے سامنے بیڈ کی پائنتی پہ جا بیٹھی تھی۔
اوہو اس میں منہ بنانے والی کونسی بات ہے؟؟؟ اچھا ادھر آو میں تمھاری ہیلپ کرتا ہوں”۔ سنگھار میز سے اٹھتے وہ اسکی جانب بڑھا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *