Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie NovelR50785 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode13
Rate this Novel
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode01 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode02 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode03 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode04 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode05/06 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode07 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode08 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode09 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode10 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode11 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode12 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode13 (Watching)Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode14 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode15 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode16 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode17 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode18 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode19 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode20 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode21 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode22 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode23 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode24 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode25 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode26 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Last Episode
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode13
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode13
وہ شادی کیلئے مکمل تیار تھی اور روم سے نکل کر زینے اترنے لگی تھی۔
“عائشہ بیٹا تم جا رہی ہو؟؟؟”۔ عفت جو کہ ابھی ابھی اپنے روم سے باہر آئی تھی، نے عائشہ کا جائزہ لیا تھا۔
“جی پھپھو علی نے کار نکال لی ہے۔ میں بھی بس تیار ہوں تو جارہی ہوں”۔ عائشہ نے جوابا کہا۔
“ماشااللہ بہت پیاری لگ رہی ہو”۔ بولتے ہی عفت نے عائشہ کو پیار کیا۔
ہلکے جامنی پاجامے پہ ہلکے جامنی رنگ کا فراق جسکی پیٹی چمکیلے گولڈن رنگ کی تھی، دامن پہ سنہری موتیوں کی کڑھائی نفاست سے کی گئی تھی اور پورے فراق پہ وقفے وقفے سے سنہری چھوٹے سائز کر نگ لگے تھے۔ بالوں کا جوڑا بنا تھا جس میں جوڑے والی پن لگی تھی۔ گلے میں نفیس نیکلیس، کانوں میں وزنی جھمکےاور پیروں میں گولڈن ہائی ہیل۔
“شکریہ پھپھو۔ اوکے اب میں چلتی ہوں علی انتظار کر رہا ہوگا”۔ بولتے ہی وہ انٹرنس کی جانب بڑھی تھی۔
ہیل کی وجہ سے وہ ہلکے قدم اٹھا رہی تھی۔ جب وہ گیٹ سے نکلی تو علی کار کے پاس کھڑا سر جھکائے فون کے ساتھ لگا تھا۔
بلیک جینز پہ ہلکے گلابی اور کالے امتزاج کی شرٹ جسکے کف ، بٹنز اور کارلر کالے رنگ کے تھے۔ آج اسنے اپنے کف بند کیئے تھے۔ بالوں کو وہی خاص انداز میں جیل لگا کر سیٹ کیا گیا تھا۔ آنکھوں کو بلیک چکور شیشے والی سن گلاسز سے کور کیا تھا اور پیروں میں کالے جوتے جو کسی خاص برینڈ کے معلوم ہو رہے تھے۔
“علی چلیں؟؟؟”۔ اسکے قریب آتے عائشہ نے ہولے سے کہا۔
عائشہ کی آواز پہ علی نے فون سے نگاہ ہٹا کر عائشہ کو دیکھا تھا جو پہلے سے تھوڑا الگ اور منفرد لگ رہی تھی شاید پیاری بھی۔
@@@@@@@@@@@@
وہ دونوں آدھے گھنٹے میں مقررہ جگہ پہ پہنچ گئے تھے۔ کار کو سائیڈ پہ پارک کرتے وہ دونوں یکجا کار سے نکلے اور گھر کی اندرونی جانب بڑھنے لگے جسکا گیٹ پہلےہی کھلا تھا۔
گیٹ کے دائیں جانب ہی وسیع اور کھلا لان تھا جہاں فنکشن کا اہتمام کیا گیا تھا۔
‘عائشہ ایسا کرو تم اندر جاو میں کال اٹینڈ کر لوں پھر آتا ہوں”۔ علی کے فون پہ بیل کے ساتھ ساتھ وائبریشن ہوئی تو اسنے عائشہ کو مخاطب کرتے کہا کیونکہ لان کی سرزمین اس وقت سپیکر پہ لگے گانوں کی دھمک سے لرز رہی تھی اور کال سننا محال تھا۔
ہاتھ میں گفٹ اور لفافہ پکڑے وہ سٹیج کی اور بڑھنے لگی تھی جہاں دلہن اپنے رشتہ داروں اور کزنز کے ہمراہ بیٹھی تھی۔
اس دوران وہ متلاشی نظروں سے ہر طرف دیکھ رہی تھی اور مانوس چہرہ تلاش کر رہی تھی۔
“ہیلو مس عائشہ”۔ پشت سے ایک بھاری آواز اس کے کانوں سے ٹکڑائی
تھی۔
“شادی مبارک ہو سر”۔ بولتے ہی اسنے ہاتھ میں پکڑا گفٹ اور لفافہ غفران کی جانب بڑھائے تھے۔
“تھینکس ویل آپکو یہاں دیکھ کر بہت مسرت ہو رہی ہے”۔ گفٹ پکڑتے ہی وہ گویا ہوا۔
“ارسلان”۔ چہرے کو دائیں جانب موڑے اسنے ایک لڑکے کو آواز دی تھی۔ “یہ لے جا کر میرے روم میں رکھ آو”۔ اسکے قریب آتے ہی اسنے کہا۔
“ون منٹ”۔ عائشہ کو بولتے ہی وہ سٹیج کی بائیں جانب بڑھنے لگا تھا جہاں ایک ادھیڑ عمر آدمی ایک عورت کے ہمراہ کھڑا بات چیت میں منہمک تھا۔
غفران چند لمحوں بعد ان دونوں کے ہمراہ عائشہ کی جانب آیا تھا۔
“مس عائشہ میٹ مائی موم اینڈ مائی ڈیڈ”۔ بولتے ہی وہ عائشہ کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
“ہیلو عائشہ بیٹا۔ کیسے ہو؟؟؟”۔ پینٹ کوٹ میں ملبوس وہ آدمی اپنی عمر سے کم معلوم ہو رہا تھا۔
“میں ٹھیک ہوں انکل آپ سنائیں؟”۔ وہ خوش اسلوبی سے مخاطب ہوئی۔
“میں بھی بس آپکے سامنے۔ فرزند کی شادی کی اتنی ایکسائیٹمنٹ تھی کہ سب پریشانیاں اور دکھ بھول بیٹھا ہوں”۔ بولتے ہی اسنے غفران کے کندھے کے گرد بازو حائل کیا اور قہقہ لگا کر ہنس دیا۔
“آنٹی آپ سنائیں آپ کیسی ہیں؟؟؟”۔ اس شخص سے نظر ہٹاتے اسنے اس خاتون کو دیکھا جسکے چہرے سے بیٹے کی شادی کی خوشی چھلک رہی تھی مگر آنکھوں میں دکھ ہنوز رقصاں تھا۔
بغیر کچھ کہے وہ بے ساختہ عائشہ کے گلے لگ گئی تھی اور جو نمی اسنے چھپا رکھی تھی اب اسکی آنکھوں سے عیاں ہو گئی تھی۔
“موم پلیز”۔ غفران نے اسکے شانوں پہ ہاتھ رکھا تھا۔
“سوری بیٹا ایک بے بس ماں اپنی کیفیت کو نا چھپا سکی”۔ عائشہ سے الگ ہوتے ہی اسنے معذرت کی۔
“کوئی بات نہیں آنٹی میں سمجھ سکتی ہوں”۔
“اچھا بیٹا آپ دونوں باتیں کرو میں ذرا مہمانوں کو ٹائم دے لوں۔ یو گائز مسٹ کیری آن”۔ بولتے ہی وہ دونوں وہاں سے مہمانوں کے رش کی طرف چلے گئے تھے۔
“مس عائشہ آپ یقینا نوین سے نہیں ملیں ہوں گی؟؟”۔ اس نے اندازہ لگایا۔
“نوین؟؟”۔ اسنے سوالیہ نظریں اس پہ ٹھہرا لیں۔
“مائی وائف۔ آئیے میں آپکو ملواتا ہوں”۔ اسکے ہمراہ اسنے سٹیج کی جانب قدم اٹھانا شروع کیئے تھے۔
@@@@@@@@@@@@
“تو دیکھ کے نہیں چل سکتا؟؟”۔ سامنے سے آتا انسان تیز رفتاری کے باعث اس سے گیٹ کی طرف سے آتی لان کی راہداری پہ آ ٹکرایا تھا جس سے وہ برہم ہو گیا تھا۔
“نہیں۔ نہیں دیکھ سکتا”۔ گلاسز اتارتے وہ قدرے سنجیدہ ہوا۔
“کیوں خدا نے آنکھیں نہیں دیں یا انکا صحیح استعمال نہیں بتایا؟”۔
“میرے پاس آنکھیں ہیں ہی نہیں۔ خدا نے تجھے بھی تو دیں تھیں تو دیکھ لیتا۔ اتنا جو اکڑ رہا ہے”۔ اسنے سپاٹ انداز اپنایا۔
“ایک چوری اوپر سے سینہ زوری۔ مفت خورے شادی دیکھی نہیں چلے آئے منہ اٹھائے مفت کا ٹھونسنے”۔
“تو کیا ،تو منہ رکھ کے آتا جاتا ہے؟؟؟ تیرے باپ کی شادی ہے؟؟ یا تیرے باپ نے پیسہ لگایا ہے؟؟جو تجھے اتنی مرچیں لگ رہی ہیں”۔ ان دونوں کے مابین تا ہنوز جرہ جاری تھی۔
“ہاں ہے میرے باپ کا کیونکہ میرا باپ اس ملک کا پرائم منسٹر ہے”۔ چہرے پہ ہنوز سنجیدگی رواں تھی اور ماتھے پہ امڈتی شکنیں۔ مقابل کھڑے انسان کو اسنے دھکا دیا تھا۔
“دھکا کیوں دے رہا ہے سالے؟؟؟”۔ وہ جھٹکے سے پیچھے کو ہوا۔
“دیکھنا چاہتا ہوں کہ کتنی جان ہے تجھ میں۔ چشمہ لگا کر بڑا بابو بنا تھا اب بتا ہو گئی سٹی وٹی گل؟؟”۔ بولتے ہی وہ آگے کو ہوا اور ایک بار پھر اسے دھکا دیا تھا۔
“جان چیک کرنی ہے؟ اچھا تو پھر۔۔ یہ لے”۔ جوابا اسنے آگے بڑھ کر مقابل کھڑے انسان کے منہ پہ ایک زناٹے دار تھپڑ مارا تھا۔
تھپڑ کی وجہ سے اسکا گال لال ہو گیا تھا۔ وہ اسکی حرارت محسوس کر سکتا تھا۔
“سالے تیرا ہاتھ تو بہت بھاری ہے”۔ بائیں رخسار پہ ہاتھ رکھے اسنے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔
“سو ۔ سوری تو نے خود ہی بولا تھا کہ جان چیک کرنی ہے”۔ ان دونوں کے درمیان ہوئی مصنوعی تکرار دھواں بن کر اب ہوا میں تحلیل ہو گئی تھی۔
دونوں کے چہرے کی تا ہنوز سنجیدگی ایک دوسرے کو دیکھتے اب بذریعہ قہقوں کے رخصت ہو گئی تھی۔
“سنا زوحان، تو یہاں کیسے؟؟”۔ بولتے ہی وہ اسکے گلے لگا۔
“بس یار ایک کزن کم دوست کے ساتھ آیا تھا۔ تم سناو؟؟”۔ وہ ابھی بھی رخسار پہ ہاتھ رکھے اسے دھیرے سے مسلنے لگا تھا۔
“عائشہ کے ساتھ آیا تھا۔ بہت درد ہو رہا ہے کیا؟؟؟”۔ بولتے ہی وہ فکر مندی سے اسکی جانب بڑھا تھا۔
“نہیں کوئی نہیں میں کونسا انسان ہوں جو درد ہوتا ہے مجھے”۔ اسنے بے چارگی سے علی کے چہرے کی طرف دیکھا جس کے چہرے پہ مسلسل مسکراہٹ رواں تھی۔
“ہنس لے ہنس لے سالے، وقت آنے دے میں بھی بدلہ لے لوں گا”۔ زوحان نے مصنوعی غصہ ظاہر کیا۔
@@@@@@@@@@@@
“دیکھیں عارفہ بہن اب آپ بیا کی فکر کرنا چھوڑ دیں انشاءاللہ بیا اب ہمارے گھر کی بیٹی ہے جو آپکے گھر امانت ہے”۔ مہمان خانے میں بیٹھے وہ سب الفاظ کے تبادلے میں محو تھے جبی سکینہ نے عارفہ کو مخاطب کیا تھا۔
“میں چاہتی ہوں کہ میری بیٹی زیبا آپ کے گھر کی بہو بنے اور عون کی بیوی”۔ اس نے خواہش ظاہر کرتے مدعہ بیان کیا تھا۔
“اوہو کیا بات ہے بھئی۔ گھر والے گھر نہیں ہمیں کسی کا ڈر نہیں۔ میں کسی زیبا نا زیبا سے شادی نہیں کرنے والا۔ سن لیں آپ لوگ وہ بھی کان کھول کر”۔ عون دھک سے دروازہ کھولتے اندر آیا تھا۔
“ارے عون تم مجھے تو تنگ کرتے ہو آج پھپھو کو بھی کرنے لگ گئے”۔ بیا نے ٹال مٹول سے کام لیا۔
“یہ میں کیا سن رہا ہوں عون؟ تم میری بیا کو تنگ کرتے ہو؟”۔ شمون جو کہ بیا کے برابر والی چیئر پہ بیٹھا تھا، نے عون کو گھورتےکہا۔
“آہاں۔ میری بیا۔۔۔ اگر اتنی ہی پیاری ہے تو بیاہ کر لے کیوں نہیں جاتے؟”۔ عون نے تپ کر شمون کو دیکھا تھا۔
“کتنے بدتمیز ہو تم”۔ شمون نے چڑ کر کہا۔
“پوچھ رہے ہو یا بتا رہے ہو؟؟”۔ بولتے ہی وہ ہنس دیا تھا اور وسط میں پڑے میز پہ رکھی پلیٹ سے بسکٹ اٹھائے تھے۔
“عون میرا نہیں تو کم از کم اپنے ہونے والے بہنوئی کا ہی خیال کر لو۔ ان سے تو تمیز سے بات کر لو”۔ بیا نے آگ برسانے والی آنکھوں سے اسے دیکھا تھا۔
“ہونے والا ہے بیا ہوا نہیں ہے اور ویسے بھی یہ کوئی اس ملک کا پرائم منسٹر یا پریزیڈنٹ نہیں ہے جو میں اسکی عزت کروں۔ میری طرح ویلا ہی تو ہے”۔ عون نے اطمینان سے جواب دیا۔
“عون تم اپنی حد کراس کر رہے ہو۔ میں چپ ہوں تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ تمھارے منہ میں جو آئے تم بولتے چلے جاو”۔ شہادت کی انگلی اٹھاتے اسنے عون کو باور کرایا۔
“میں جانتا ہوں میری حد کیا ہے اور میں اپنی حد میں ہی ہوں۔ تمھیں ضرورت نہیں مجھے بتانے کی”۔ بولتے ہی وہ ایڑیوں کے بل دروازے کی جانب مڑا ہی تھا کہ سکینہ کو دیکھتے اسکی جانب پلٹا۔ “پھپھو آپکو کیا ہوا؟؟ سانپ سونگھ گیا کیا؟؟”۔ اسکی جانب ہلکا سا جھکتے عون نے منہ کا زاویہ بگاڑا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
پیر کا دن تھا مشرق سے ابھرتا سورج اس بات کی دلیل تھا کہ زندگی میں اندھیرا ہمیشہ کے لیئے نہیں رہتا۔ اندھیرے کے بعد کا اجالا بھی دنیا بنانے والے کاریگر کی ایک مہارت ہے، خوبصورتی ہے۔ جب سورج کی کرنیں کائنات کی ہر شے پہ پڑتی ہیں تو اس میں جینے کی نئی لگن اور امید کا پہلو بدل دیتی ہیں۔ سب میں ایک نئی اور الگ امنگ جگاتی ہیں۔
ساڈھے نو بج رہے تھے اور کلاس کا وقت ہو گیا تھا جسکے باعث وہ سب کلاس میں موجود تھے سوائے ایک کے؛ جو ابھی تک لیٹ تھی۔
“اسلام و علیکم کلاس۔ آئی ایم یور پروفیسر آف کلینیکل ماڈیول”۔
ستائیس سالہ ایک جوان ان کے سامنے ڈائس پہ آ کھڑا ہوا تھا۔
“ایکس کیوز می سر۔ کلینیکل ماڈیول پڑھانے والے اس پروفیسر کا کوئی نام بھی تو ہوگا نا؟؟”۔ ڈائس کے سامنے والی قطار میں پہلی چیئر پہ بیٹھی لڑکی نے اسے با آواز بلند مخاطب کیا تھا۔
“یس، مائی نیم از راحم شجاع میر۔ اینی تھنگ ایلس؟؟”۔ بولتے ہی اسنے دوبارہ سوال کیا۔
“نو سر، تھینکس”۔ شرمندہ ہوتے ہی اسنے نظریں جھکا لیں تھیں۔
“تو سٹوڈنٹس میں آپکو بتاتا چلوں کہ میں باقی پروفیسرز کی طرح بالکل نہیں کروں گا۔ میرا ماننا ہے کہ پروفیسر کو ایک فرینڈ کی طرح ہونا چاہیئے۔ ان سٹوڈنٹس کے ساتھ جو نرمی کے قابل ہیں۔ جی ہاں اور جو دوسری کیٹیگری ہے میرا مطلب ہے وہ جو”۔
وہ پوری کلاس میں ایک جگہ سے دوسری جگہ چہل قدمی کرنے لگا تھا۔
“لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے”۔ اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی عون نے اسے ٹوک کر کہا۔
“جی بالکل کہیں آپ بھی تو اس کیٹیگری میں شامل تو نہیں”۔ عون کی جانب دیکھتے اسنے لاف زنی کی جس پہ پوری کلاس کا یکطرفہ قہقہ گونجا تھا۔
“سر کئے آئی کم ان”۔ اس آواز نے خلل پیدا کیا تھا۔
وہ دوبارہ سے ڈائس کے پاس آ کر رکا ہی تھا کہ بائیں جانب سے آواز اسکے کانوں سے ٹکڑائی تھی۔
“یس۔ ارے رباب آپ؟؟”۔ دروازے کی جانب دیکھتے ہی وہ چونکا تھا۔
“رباب آپ”۔ منہ کا اینگل بدلتے عماد نے علی کو دیکھا جو اسکی بائیں جانب چیئر پہ بیٹھا تھا۔
“راحم شجاع میر”۔ غیر دانستہ رباب نے اسکا نام واشگاف پکارا تھا۔
“راحم”۔ زین جو کہ علی کی دائیں جانب بیٹھا تھا نے کہا۔
“شجاع”۔ علی نے عماد کی جانب دیکھا۔
“میر”۔ عماد کے منہ کے تیورپھر بدلے تھے۔
“یہ رباب سر کو کیسے جانتی ہے”۔ جوہم جو کہ پہلی قطار میں عماد سے تھوڑا فاصلے پہ بیٹھی تھی ، نے عماد کو دیکھا۔
رباب کی اس حرکت پہ وہ سب سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کو تو کبھی رباب کو دیکھ رہے تھے۔
@@@@@@@@@@@@
“رباب تم سر کو کیسے جانتی ہو؟؟؟”۔ کلاسز سے فری ہونے کے بعد وہ سب لان میں بیٹھے رباب کو چھیڑ رہے تھے جبیجوہم نے اس سے سوال کیا۔
“یار جوہم میں سچ میں نہیں جانتی سر کو”۔ رباب نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
“آہا نہیں جانتی۔ آئی بڑی۔ سر کو دیکھ کے کیسے بولی تھی”۔ عماد نے اسے گھوری سے نوازا۔
“راحم شجاع میر”۔ زوحان نے اسکا ساتھ دیتے منہ کا زاویہ بگاڑا۔
“یار گائز تم لوگ میرا یقین کرو میں سچ میں سر کو نہیں جانتی”۔ رباب نے سب کی جانب دیکھتے کہا جو مشکوک نظریں رباب پہ گاڑھے بیٹھے تھے۔
“ابھی بول رہی ہے ، ہم آپ کے ہیں کون؟؟۔ تھوڑے دن گزرے تو کہے گی عاشقی میں تیری، جا، جا، جائے گی جاں میری”۔ زین نے جو رباب کے سامنے بیٹھا تھا نے تپ کر کہا۔
“تو اور، پھر اسکے تھوڑے عرصے بعد کباب اورنج سیب بولے گی۔ ساجن ساجن تیری دلہن تجھ کو پکارے آ جا”۔ لڑکیوں کی طرح منہ بناتے عون نے زین کا ساتھ دیا۔
“او ہو کیا بول رہے ہو تم لوگ؟؟ میری راحم سے”۔
“راحم سے”۔ جوہم نے مشکوک نظروں سے رباب کو دیکھا تھا۔
“میری بات تو سن لو یار۔ صرف ایک دن ملاقات ہوئی تھی وہ بھی سرسری سی۔ تبھی نام بتایا تھا یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ یہاں پڑھانے والے ہیں”۔ رباب نے تفصیل دی۔
او تو مطلب تم سے اجازت لیئے بغیر جان کر رہے ہیں”۔ جوہم نے جو اسکے برابر میں بیٹھی تھی، نے اسے کہنی ماری تھی۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے
