Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie NovelR50785 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode17
Rate this Novel
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode01 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode02 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode03 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode04 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode05/06 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode07 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode08 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode09 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode10 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode11 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode12 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode13 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode14 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode15 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode16 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode17 (Watching)Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode18 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode19 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode20 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode21 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode22 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode23 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode24 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode25 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode26 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Last Episode
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode17
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode17
“علی بہت ہی بڑا کمینہ ہے تو سچ میں۔ میسنا، گھنا”۔ بولتے ہی اسنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
“سوٹ تیرا کارا کارا، جان کڈدا مسکارا
جمی چو پا کے ٹردی، پٹیا تو دلی سارا”۔
عون کی گنگناتی آواز کانوں سے ٹکراتے ہی دونوں ایڑیوں کے بل مڑےتھے۔
“کسے دیکھ کے گانا گا رہا ہے؟؟”۔ زین نے متعجب اس سے سوال کیا۔
“جوہم کو۔ تم لوگوں نے دیکھا؟؟ بہت پیاری لگ رہی ہے”۔
عون کے ہاتھ کا تعاقب کرتے علی اور زین نے اپنے سامنے تھوڑے فاصلے پہ کھڑی جوہم کو دیکھا تھا۔
گولڈن لہنگا جسکا کپڑا کافی حد تک چک دار تھا اور بارڈر بھی اسی رنگ کے موتیوں سے بنا تھا، پہ کالی شرٹ جو نیٹ کی تھی اور ہلکا ہلکا کام ہوا تھا۔ لیئرز میں کٹے بالوں کو اسنے اپنے حال پہ چھوڑتے آزاد چھوڑ دیا تھا، کانوں میں وزنی جھمکے جو اسکے قہقہوں چہرے کی حرکت کے باعث ادھر ادھر ہوا میں لہرا رہے تھے اور دائیں جانب دوپٹہ سیٹ کیا تھا۔
“لیڈیز اینڈ جنٹلمین مئے آئی ہیو یور اٹینشن پلیز”۔ سٹیج پہ کھڑی اس لڑکی نے اناونسمنٹ کی تھی۔
“یہاں لڑکے اور لڑکی والوں کے مابین ایک مقابلہ ہو گا۔ لڑکی والوں کو پہلی باری دی جائے گی وہ اپنی پسند کا کوئی بھی ٹپے کا مصرعہ بولیں گے لڑکے والوں میں سے ایک اسکی جوابی کاروائی کرے گا۔ جو جیتا وہی سکندر۔ تو دونوں اطراف سے ٹیم سامنے آئے جو جو آنا چاہتا ہے”۔ لڑکی نے سٹیج کے دونوں اطراف لگے میٹرس کی جانب اشارہ کیا تھا جنکا منہ آمنے سامنے تھا۔
علی، زین، عماد، عون، رباب، زوحان اور جوہم دائیں جانب لڑکے والوں کو پریزینٹ کرنے کی غرض سے جا بیٹھے تھے۔
ٹھیک ویسے ہی سات لوگ لڑکی والوں کی طرف بائیں جانب جا بیٹھے تھے۔ دونوں اطراف ایک ایک مائک پہنچا دیا تھا۔
“یار ہماری جانب سے کون بولے گا”۔ ہاتھ میں مائک پڑے عون نے پریشانی میں کہا۔
“میں”۔ علی نے ہاتھ میں مائک لیتے مسئلہ حل کیا تھا۔
“نت جم جیا وڑدے او
نت جم جیا وڑدے او
اوتھے کج کردے وی او یا بس سیلفیاں کڈدے او
اوتھے کج کردے وی او یا بس سیلفیاں کڈدے او”۔ لڑکی والوں کی جانب سے ایک لڑکی نے مقابلے کا آغاز کرتے گنگنانا شروع کیا تھا۔ جس کے باعث بائیں جانب تالیوں کی آواز کے ہمراہ ہوا میں شور و غل بھی رقص کرنے پہ مجبور ہو گئا تھا۔
“روز تسی وی تا مال جاندے او
روز تسی وی تا مال جاندے او
زارا وچ لے کے سیلفی بس خالی ہتھ مڑ آندے او
زارا وچ لے کے سیلفی بس خالی ہتھ مڑ آندے او”۔ علی نے برابر جوابی حملہ کرتے لڑکے والوں کا پلڑا بھاری کر دیا تھا۔
فرخ اور ماہین جو سٹیج پہ بیٹھے تھے، کے ساتھ باقی سب بھی اسی کے منتظر تھے کہ جیت کس کا مقدر بنے گی۔
“پورے شہر اچ چرچے میرے
پورے شہر اچ چرچے میرے
تیرے جئے ویلے توں چک ہونہڑ نئیو خرچے میرے
تیرے جئے ویلے توں چک ہونہڑ نئیو خرچے میرے”۔
ہار نا مانتے ہوئے لڑکی والوں نے دوبارہ سر وار کیا تھا۔
“ایویں ویلا ویلا کہہ کے ساڑدی
ایویں ویلا ویلا کہہ کے ساڑدی
اسی چلو ویل منیا دس توں کیڑے چن چاڑدی
اسی چلو ویل منیا دس توں کیڑے چن چاڑدی”۔ بولتے ہی علی قہقہ لگا کر ہنس دیا تھا۔ علی کو یوں پہلی بار کھلکھلا کر ہنستا دیکھ جوہم کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو گئی تھی۔ یہ دھڑکن اس کے دل اور رضا مندی کے قابو میں نا تھی، اسی دھڑکن نے اپنے طور پہ پہلے سے ہی اس انسان کا خیر مقدم کر دیا تھا۔
لڑکی والوں کی جانب اب تالیوں کی آواز کے ساتھ شور و غل مدھم پر گیا تھا۔
“کم آن گرلز”۔ علی نے مائک پکڑتے دوبارہ سے لڑکی والوں کو مخاطب کیا تھا ساتھ ہی ہوٹنگ کرتے لڑکے والوں کو جیت کا احساس دلایا تھا۔
“دو کاراں بازار آئیاں
دو کاراں بازار آئیاں
چھڑک نا دل یہ سونہڑئیے اکھاں کڑنڑ دیدار آئیاں
ہوش و
چھڑک نا دل یہ سونہڑئیے اکھاں کڑنڑ دیدار آئیاں”۔
جواب نا ملنے پر علی نے دوبارہ گنگناتے لڑکے والوں کی جیت یقینی بنا دی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
چار گھنٹوں کی نیند سے افادیت اٹھانے کے بعد بھی اسکی آنکھیں مکمل طور پہ کھل نہیں پا رہیں تھیں۔ آج وہ کالج اکیلا آیا تھا گرچہ ان سب کا کوئی پلین نا تھا مگر وہ اس غرض سے آ گیا تھا کہ گھر بور ہو گا اور بیا اسے سوال ڈالے گی جس سے اسے بہت چڑ تھی۔
“یار ابھی تو ایک گھنٹہ گزرا ہے بہت بڑی غلطی کر دی ہے کالج آ کر۔ کوئی بھی نہیں آیا انہوں نے مجھے بولا بھی تھا پھر بھی منہ اٹھائے چلا آیا۔ مجھ سے تو یوں اکیلے پڑھا بھی نہیں جانا”۔ فون پہ نظر دوڑاتے وہ خود سے ہم کلام ہوا۔
کالج آ کر بھی اس کے پاس پچتاوے کے علاوہ کچھ نا بچا تھا بھوک نے اسے الگ اپنے شکنجے میں لے رکھا تھا کیونکہ جلد بازی میں وہ اپنا والٹ گھر ہی بھول آیا تھا اور دوسری طرف اسے کوئی نیو قمر بھی نظر نہیں آ رہا تھا کہ جسکی ریگنگ کرتے وہ کھانے کی اشیا بٹور سکے۔
“ارے عون تو اکیلا بیٹھا ہے؟؟ تیری بقیہ فیملی میرا مطلب ہے تیرے دوست کدھر ہیں؟؟”۔ اسکے قریب آتے ہی وقاص نے اسکے دائیں جانب چیئر گھسیٹی اور اس پہ بیٹھ گیا جبکہ وقاص کے تین ساتھی اسکی پشت پہ کھڑے تھے اور بقیہ عون کی پشت پہ لگے ٹیبل پہ بیٹھ گئے تھے جو شمار میں چھ تھے۔
“ہاں وہ آج نہیں آئے”۔ عون نے افسردگی سے کہا۔
“کیوں خیریت؟ سب کو اچانک سے بخار نے آ جکڑا ہے؟؟”۔ طنز کرتے ہی اسنے قہقہ لگایا جسکے ساتھ ہی اسکے دوستوں کا بھی قہقہ گونجا۔
“نہیں ایسی بات نہیں ہے دراصل کل زین کے بھائی کی مہندی تھی سب لیٹ نائٹ واپس گئے تو اس وجہ سے”۔ نفی کرتے ہی اسنے تفصیل دی۔
“اچھا تو، تو اکیلا بیٹھا یہاں کیا کر رہا ہے؟؟ بور نہیں ہو رہا؟؟”۔ اپنے بائیں جانب کھڑے دوست کو دیکھتے اسنے آنکھ ماری تھی۔
“بات تو تمھاری ٹھیک ہے میں بور ہو رہا ہوں کب سے اکیلا بیٹھا ہوں۔ میں اپنا والٹ بھی گھر بھول آیا ہوں اور بھوک بھی بہت لگی ہے”۔ پیٹ پہ ہاتھ رکھتے اسنے تاسف سے کہا۔
“تو اس میں شرمانے والی کونسی بات ہے عون۔ ہم بھی تو تمھارے دوست ہی ہیں تم نہیں سمجھتے وہ الگ بات ہے”۔ چہرہ جھکاتے ہی اسنے چور نگاہ عون پہ ڈالی تھی۔
“ارے نہیں وقاص ایسی بات نہیں ہے۔ وہ تو ہر کوئی اپنے گروپ کے ساتھ بزی ہوتا ہے ٹائم ہی نہیں ملتا”۔ اسنے نفی کی۔
“اچھا چھوڑو کیا باتیں لے کر بیٹھ گئے ہیں۔ چلو بھئی فورا سے جاو اور عون کیلئے کچھ کھانے کو لے آو”۔ بولتے ہی اسنے اپنی پشت پہ کھڑے دوستوں کو مخاطب کرتے کہا۔
@@@@@@@@@@@@
اپنی دنیا میں غرق، جہان فانی سے بے خبر وہ بیڈ پہ اوندھا لیٹا خوابوں کی دنیا میں کہیں دور نکل گیا تھا جبی فون پہ وائبریشن سے طلسم ٹوٹا، سائیڈ ٹیبل کی جانب ہاتھ بڑھاتے اسنے فون کو ہاتھ مارتے زمین پہ دے مارا تھا۔ گرنے کی آواز کانوں سے ٹکرائی تو وہ بوکھلا کر اٹھ بیٹھا تھا۔
جھکتے ہی زمین سے فون اٹھایا جسکی لیمینیشن پر سکریچز پڑ چکے تھے۔ سکرین کو ٹراؤزر سے رگڑ کر سائیڈ پہ رکھا اور بیڈ سے اٹھتے ہی شرٹ سیٹ کی۔ سلیپرز کو پیروں کی زینت بناتے سٹینڈ سے ٹاول اٹھایا اور واش روم چلا گیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
میز پہ سر جھکائے وہ سموسہ چنے کی پلیٹ کیساتھ انصاف کرتے وہ اپنی بھوک مٹا رہا تھا جو وقاص نے اپنے دوستوں سے کہہ کر منگوائی تھی۔
“عون یہ کافی ہے یا اور کچھ کھانا ہے؟؟”۔ اسکی پلیٹ کو دیکھتے اسنے سوال کیا۔
“نہیں وقاص یہ کافی ہے،تھینکس”۔ وقاص کے چہرے کو دیکھتے وہ مسکرا دیا تھا۔
وقاص چیئر کی پشت سے ٹیک لگائے ٹانگ پہ ٹانگ رکھتے بائیں جانب تھوڑا فاصلے پہ بیٹھے دوست کو دیکھ کر طنزیہ مسکرایا تھا جس پہ اسنے ہاتھ میں پکڑی گیند سے عون کے سر کا نشانہ باندھا تھا۔
“یہ بال کس نے ماری ہے؟؟”۔ چمچ کو پلیٹ میں پھینکتے وہ سرعت سے پلٹا تھا جبی وقاص نے عون کا ساتھ دیا۔
“ارے یار کیا کر رہے ہو؟؟ یہ کوئی کھیلنے کی جگہ ہے؟؟ دیکھو عون کو لگ گئی بال”۔ وقاص کے چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ مسلسل رواں تھی۔
عون وقاص کو اچھا سمجھ رہا تھا اس بات سے یکسر بے خبر کہ وہ اچھا ہونے کا صرف ڈرامہ رچا رہا ہے۔
“اچھا عون اب میں چلتا ہوں۔ اگر تمھیں کسی بھی چیز کی ضرورت ہوئی تو بلا جھجک مجھ سے کہہ دینا اور ہاں اپنے دوستوں کو مت بتانا کہ آج ہم نے ساتھ وقت گزارا ہے”۔ چیئر سے اٹھتے اسنے کہا۔
“مگر ایسا کیوں؟ وہ تو میرے دوست ہیں اور میں نے آج تک ان سے کچھ نہیں چھپایا”۔ وہ چونکا۔
“دیکھو عون”۔ اس پہ ہلکا سا جھکتے اسنے اسکے دائیں شانے پہ ہاتھ رکھا۔ “تمھارے دوستوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو مجھے پسند کرتا ہو۔ اگر تم انہیں بتاو گے کہ تم مجھ سے ملے تھے تو تمھارے دوست تم سے ناراض ہو جائیں گے تم سے بات کرنا چھوڑ دیں گے اور تم ایسا چاہو گے کہ تمھارے دوست تم سے بات کرنا چھوڑ دیں؟؟نہیں نا۔ تو بہتر ہے تم انہیں نا بتانا”۔ اسنے باور کراتے کہا۔
“بات تو تمھاری بالکل ٹھیک ہے۔ اوکے میں کسی کو کچھ نہیں بتاوں گا یہ راز تمھارے اور میرے درمیان رہے گا”۔ وقاص کا تیر سیدھا نشانے پہ لگا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“ارے جوہم تم آج کالج نہیں گئی؟؟”۔ اسکو کچن میں کام کرتا دیکھ وہ متحیر اسے قریب آکر پوچھنے لگا۔
“ہاں وہ رات کو فنکشن سے دیر سے واپسی ہوئی تھی تو اس وجہ سے نہیں گئی”۔ جواب دیتے اسنے کپ میں چائے انڈیلنا شروع کی۔
“اچھا ماما پاپا کدھر ہیں؟؟”۔ ڈائننگ کی چیئر گھسیٹتے اسنے خاموشی کو بھانپا۔
“وہ لوگ ذرا کلثوم پھپھو کے ہاں گئے ہیں”۔ ٹیبل پہ ناشتے کی اشیا رکھتے اسنے کہا۔
“جوہم میرے لیئے ایک گلاس ملک شیک تو بنا دو”۔ بولتے ہی اسنے پلیٹ سے ایک سلائس لیا اور اس پہ جام لگانا شروع کیا۔
“کس خوشی میں؟؟”۔ بولتے ہی اسنے عبید کے مقابل میں چیئر گھسیٹی اور اس پہ بیٹھ گی۔
“کیا مطلب کس خوشی میں؟؟ اگر گھر میں کوئی خوشی کا موقع آئے گا تبھی تم مجھے ملک شیک بنا کر دو گی کیا؟؟”۔ سلائس کا بائٹ لیتے اسنے حیرت سے پوچھا۔
“تمھیں کس نے کہا کہ میں تمھارے کام کرنے والی ہوں؟؟”۔ سلائس پہ بلیو بینڈ لگاتے اسنے لاپرواہی سے شانے اچکائے۔
“تم مجھے نہیں بنا کر دو گی؟؟”۔ ہلکا سا جوہم کی جانب جھکتے اسنے اسکے ہاتھ سے چھری کھینچ لی تھی۔
“یہ کیا بد تمیزی ہے عبید؟؟”۔ جوہم نے تپ کر کہا۔
” تمھیں ملک شیک ہی پینا ہے ن”؟ ایسا کرو دو کیلے کھاو، ایک سیب اور ایک چمچ چینی ساتھ ہی ایک گلاس دودھ پہ لینا۔ ملک شیک بن جائے گا”۔ عبید کے ہاتھ سے چھری کھینچتے اسنے کہا۔
مطلب میں انکار سمجھوں؟ تم مجھے نہیں بنا کر دو گی؟؟”۔ اسنے کنفرم کیا۔
جی بالکل ایسا ہی ہے”۔ عبید کو چڑھانے کے سے انداز میں وہ مسکرائی۔
@@@@@@@@@@@@
اپنے روم میں داخل ہوتے ہی اسنے لیپ ٹاپ والا بیگ صوفے پہ رکھا، ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کی اور بیڈ پہ جا بیٹھا تھا۔
پاکٹ سے فون نکال کر ایک نمبر پہ میسج چھوڑا پھر فون سائیڈ پہ رکھتے اپنے آپکو ڈھیلا چھوڑتے پیچھے کی اور ہوتے بیڈ پہ لیٹ گیا تھا۔
“ارے بابا آپ، آپ وہاں کیوں کھڑے ہیں؟؟ آئیے نا”۔ دروازے پہ ناک سے وہ متعجب اٹھ بیٹھا تھا۔
“ہاں وہ تمھارے روم کے باہر سے گزر رہا تھا تو سوچا کہ حال احوال پوچھ لوں۔ جب سے تم نے کالج جوائن کیا ہے آفس میں میری مصروفیت اتنی بڑھ گئی ہے کہ دو گھڑی ٹھیک سے بات ہی نہیں ہو سکی”۔ قدموں کو مزید حرکت دیتے وہ اسکے قریب آیا تھا۔
“یہ تو آپ نے اچھا کیا ویسے میں بھی آج آپ کے پاس آنے کا سوچ ہی رہا تھا”۔
“خیریت؟؟”۔ وہ چونکا پھر بیڈ کے سامنے رکھے دیوان پہ بیٹھ گیا تھا۔
“جی بابا خیریت ہے۔ میں فلوقت آپ سے یہ بات کرنے کا خواہاں نہیں تھا مگر پھر خیال آیا کہ مشورہ لینے میں کیا قباحت ہے”۔
“کہو راحم کیا بات ہے؟؟۔
“بابا بات یہ ہے کہ مجھے ایک لڑکی پسند ہے۔ میں چاہتا تھا کہ پہلے اس سے بات کر کے مرضی پوچھ لوں پھر آپ سے بات کروں مگر پھر سوچا کہ ایسا نا ہو کہ دیر ہو جائے۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا”۔ شجاع کو اعتماد میں لیتے اسنے بات کا آغاز کیا تھا۔
“راحم بیٹا بات یہ ہے کہ میں خود تم سے اسی سلسلے میں بات کرنا چاہ رہا تھا۔ پہلے تم سے اس وجہ سے نہیں کی کہ تم اپنا فیوچر بنا لو پھر موقع دیکھ کر تم سے کروں گا۔ اب اگر تم نے بات چھیڑ ہی دی ہے تو تمھیں بتا دیتا ہوں تمھیں اس بات کا علم ہونا چائیے”۔ برسوں سے دل میں دبی اس خواہش کو اسنے بیان کرنے کی ٹھانی تھی۔
“کہیئے بابا کیا بات ہے؟؟”۔ وہ متجسانہ اسے دیکھ رہا تھا۔ راحم کے دل میں ہزار سوال جنم لے چکے تھے شاید وہ شجاع کی بات کا اندازہ لگا چکا تھا مگر پھر بھی وہ اسکے منہ سے سن کر ایک بار تسلی کر لینا چاہتا تھا۔
“راحم طالب کو تو تم جانتے ہو۔ طالب اور میں نے یہ سوچا تھا کہ ہم اپنی اس دوستی کو رشتہ داری میں بدل دیں گے تمھاری اور طالب کی بیٹی کی شادی کرکے”۔ اسنے تفصیل دی۔ “راحم کیا وہ لڑکی بھی تمھیں پسند کرتی ہے”۔ اسنے مزید پوچھا۔
“نہیں بابا میری اس لڑکی سے ابھی اس موضوع پہ کوئی بات نہیں ہوئی”۔ اسنے نفی کی۔
@@@@@@@@@@@@
شام کے سات بج رہے تھے۔ عروسی لباس میں ملبوس وہ بیڈ پہ بیٹھی فرخ کی راہ میں آنکھیں بچھائے ہوئے تھی۔ سرخ گلاب کی پتیاں بیڈ پہ منتشر تھیں جنکی خوشبو ہوا سے مل کر اسے اپنے رنگ میں رنگ کر ماحول کو مزید خوشگوار اور معطر بنا رہی تھی۔
ماہین کی فرمائش کے احترام میں روم کو کم سجاوٹ سے آراستہ کیا گیا تھا۔ ماہین بغیر گھونگٹ کے بیٹھی سامنے دیوار پہ لگی فرخ کی تصویر کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔
دل میں تجسس اور ذہن میں امڈتے شیطانی خیالات کے باعث وہ فرخ کے روم کے باہر آن پہنچا تھا۔ ہلکا سا روم میں جھانکتے اسنے روم کا بغور جائزہ لیا اسی اثنا میں اسکا کان کسی نے آ پکڑا تھا۔ جس سے وہ بوکھلا کر سرعت سے پلٹا تھا۔
“کیا کر رہے ہو تم یہاں؟؟؟”۔ بولتے ہی اسنے بھنووں کو جنبش دی۔
“آ۔ آ ۔ آپی وہ بس میں یہ دیکھنے آیا تھا کہ بھابی کو کوئی تکلیف تو نہیں”۔ اسنے ٹال مٹول سے کام لیا۔
“اچھا جی۔ ماہین کی اتنی فکر ہو رہی ہے آپکو؟۔ اگر فرخ کو پتہ چلا نا تو تمھاری خیر نہیں ہونی”۔ فلزہ نے اسے باور کرایا۔
“لو جی۔ پتہ کیسے چلے گا؟؟ فرخ بھائی اپنے دوست کیساتھ بزی ہیں تبھی تو میں یہاں بھٹک رہا ہوں”۔ بولتے ہی وہ ہنس دیا۔
“زین تم کوئی الٹی سیدھی حرکت مت کر دینا اچھا”۔ انگلی دکھاتے اسنے زین کو آگاہ کیا تھا۔
“ڈونٹ وری یار فلزہ آپی۔ شک کیوں کر رہی ہیں؟؟ کچھ نہیں کر رہا”۔ اسنے منہ بنایا پھر روم کی جانب بڑھ گیا۔ فلزہ نے سر جھٹکا اور سیڑھیاں اترنے لگی تھی۔ سر کو جنبش دیتے اسنے فلزہ کو جاتے دیکھا اور فورا سے پہلے فرخ کے روم کی جانب برق رفتاری سے پلٹا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
ہاتھ میں فون پکڑے وہ خیالوں اور سوچوں کے سمندر میں غرق بالکونی میں ٹہل رہا تھا۔ یکایک پیروں کی حرکت کو تھامتے فون انلاک کر کے ایک نمبر ڈائل کیا۔
چند ہی منٹوں میں کال ریسیو ہو گئی تھی۔
“ہیلو کون؟؟”۔ دوسری جانب کمزور اور حیرت زدہ آواز مد مقابل تھی۔
“رباب میں راحم بات کر رہا ہوں”۔ ڈھارس باندھتے اسنے گلا صاف کیا تھا۔
“ارے راحم سر آپ؟؟”۔ وہ چونکی۔
“سوری آپ کو ڈسٹرب کر رہا ہوں۔ دراصل مجھے آپ سے ایک بات کرنی تھی”۔ معذرت کرتے اسنے کہا۔
“کوئی بات نہیں سر۔ کہیئے کیا بات ہے؟؟”۔
“رباب کیا ہم کل مل سکتے ہیں؟؟ جو بات آپ سے کرنی ہے میں چاہتا ہوں کہ آمنے سامنے ہو تو زیادہ بہتر ہے”۔ التجا کرتے اسنے مزید کہا۔
“ٹھیک ہے سر۔ میں آپ سے کل مل لوں گی”۔ رباب نے حامی بھری۔
“تھینکس۔ آپ کل جب بھی فری ہوں میرے آفس آ جائیے گا۔ ابھی میں فون رکھتا ہوں، بائے”۔ بولتے ہی اسنے فون کاٹ دیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے
