Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode04

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode04

فجر ادا کرنے کے بعد وہ واش روم گیا، ٹریک سوٹ بدل کر بائیں جانب بیڈ کے سائیڈ ٹیبل سے ہینڈ فری اور فون اٹھا کر روم سے نکل گیا۔ معمول کے مطابق ابھی سب سو رہے تھے۔ ہلکے پاوں رکھتے اسنے سیڑھیاں عبور کیں، انٹرنس کا دروازہ کھولتے باہر نکلا۔ گیٹ کے دائیں جانب مخصوص جگہ پہ سٹینڈ پہ لگی سائیکل کا چین سیٹ کیا سائیکل کو سٹینڈ سے ہٹا کر اس پر سوار ہوا اور سائیکل کا رخ گیٹ کے بیرونی جانب کر کے گھنٹی بجائی جسکی آواز سنتے واچ میں نے گیٹ کھول دیا۔ گھر سے نکل کر اسنے سائیکل بائیں جانب موڑ دی۔
فون پاکٹ میں اور کانوں میں وائر لیس ہینڈ فری،اپنی ہی دنیا میں کھوئے اسنے دیکھتے ہی دیکھتے پیڈل پہ زور سے پاوں مارنا شروع کیے جس سے رفتار میں دگنا اضافہ ہو گیا۔
تھوڑا دور اسکا گزر ایک ڈھلوان سے ہوا جسکی وجہ سے اسنے پیڈل کے ساتھ ہی پیروں کی حرکت بھی روک دی تھی۔ ڈھلوان پر اسے ایک ٹرک کا سامنا کرنا پڑا ٹرک کو سامنے پاتے اسنے ہینڈل دائیں جانب موڑ کر سائیکل کا رخ اس جانب کیا۔
زیادہ سپیڈ کے برعکس اسنے سائیکل کی بریک پہ ہاتھ رکھا جو کہ خرابی کے باعث نا لگ سکی۔
“او نو”۔ اسکی بے لگام سائیکل ڈھلوان ختم ہوتے ہی ایک دوشیزہ کے پیروں کے پاس جا ٹھہری جس سے وہ بوکھلا اٹھا تھا۔
“تمھیں نظر نہیں آتا؟؟”۔ چہرے پہ شکن، ماتھے پہ پڑتے بل وہ سفید اور گلابی امتزاج کے ٹریک سوٹ میں ملبوس تھی، بالوں کی اونچی پونی اور پیروں میں سفید جوگرز؛ سائیکل کے اچانک قریب آ جانے پہ وہ بدک کے ذرا پیچھے کو ہوئی۔
دوشیزہ کے ہلتے ہونٹوں کو دیکھتے اسنے فورا سے پہلے پاکٹ سے فون نکالا اور اس پہ چلتی قوالی روک دی۔
“اللہ تعالی نے یہ آنکھیں صرف سجاوٹ کے لیئے نہیں بخشیں۔ ان میں بینائی عطا کی ہے کہ ہم ان کی مدد سے دنیا کو دیکھ سکیں ہمارے آس پاس کیا ہو رہا ہے یہ دیکھ سکیں”۔ لہجے میں غصہ، ادائے بے نیازی گلابی رنگ میں اسکی دودھ مائل رنگت اور بھی نکھر آئی تھی۔ یہ طے کرنا مشکل تھا کہ گلابی رنگ اس پر کھل رہا ہے یا اسکی رنگت کے باعث گلابی رنگ اور بھی زیادہ خوبصورت۔
“سوری غلطی میری ہے مجھے احتیاط کرنی چاہیے تھی۔ آپکو کہیں لگی تو نہیں؟؟”۔ وہ ابھی بھی سائیکل پہ سوار تھا اور پیر زمین پہ جمے تھے۔
“آپکے ارادے تو کچھ اور تھے مگر شکر ہے کہ کچھ نہیں ہوا”۔ ہنوز تلخ لہجہ اور چہرے پہ بے زارگی کے تاثرات۔
“نگاہوں کی رسائی آپ تک آتے میرے ارادے سچ میں بدل گئے ہیں، محترمہ”۔ بڑ بڑا تے ہی اسنے بالوں کو سنوارا۔
“آپ نے کچھ کہا؟؟؟”۔ اسنے کنفرم کیا۔
“نہیں کچھ نہیں ویل ۔۔۔ مجھے زین کہتے ہیں”۔ تا ہنوز سائیکل پہ بیٹھے اسنے ہاتھ دوشیزہ کی جانب بڑھایا۔
“تمھیں کیا کہتے ہیں کیا نہیں آئی ڈیم کیئر”۔
بغیر ہاتھ ملائے اسنے سر جھٹکا اور وہاں سے چلی گئی۔
غرور بھی کیا عجب شے ہے
ملکہ حسن پہ بلا کا جچتا ہے”
دھیان جھٹکتے اسنے دوبارہ سے پیڈل پہ پاوں مارنا شروع کیے۔
@@@@@@@@@@@@
ساڈھے نو بج رہے تھے معمول کے مطابق لئیق صاحب کلاس میں آ چکے تھے۔ وائٹ بورڈ کو زیر استعمال میں لاتے سٹوڈنٹس کو اناٹمی پڑھانا شروع کیا۔
“یار میں بور ہو رہا ہوں کب سے کلاس میں بیٹھا ہوں اب تو بھوک بھی لگنے لگ گئی ہے”۔ وقاص جو کہ آخری لائن میں زین کے ساتھ بیٹھا تھا، ایک گھنٹے کی لگاتار کلاس کے بعد بے زار ہو گیا تھا۔
“بھائی ابھی تو ایک گھنٹہ ہوا ہے ایک گھنٹہ باقی ہے”۔ زین نے اسکی بے زارگی کو مزید بڑھاوا دیا۔
“یار کیا مصیبت ہے”۔ وہ منمنایا۔
لیکچر نوٹ کرتے کرتے وہ کب سامنے کھڑے انسان جو کہ مسلسل کھڑا کلاس میں موجود ہر سٹوڈنٹ کو سنجیدگی سے پڑھا رہا تھا، کا خاکہ بنانے لگا۔ خاکے پہ نظر پڑتے زین کے منہ پہ بے ساختہ مسکراہٹ امڈ آئی۔
“ہاں بھئی جوان ذرا کھڑے ہونا”۔ مسکراہٹ چھپانے کی غرض سے چہرے پہ ہاتھ رکھتے زین کو اسنے با آواز بلند مخاطب کیا۔
“جی سر؟”۔ سنجیدگی میں کھڑے ہوتے اسنے کہا۔
“آپکی اس بے ساختہ ہنسی کا سبب کیا ہے؟؟ ذرا میں بھی تو جانوں”۔ نوٹس کو ڈائس پہ رکھتے اسنے بورڈ مارکر کا ڈھکن بند کیا۔
“تم ہی ہو”۔ زین منمنایا۔
“جوان اپنے ذہن میں آنے والے ہر خرافاتی خیال سے کم از کم میری کلاس میں گریز کرو۔ آئیندہ میری کلاس میں کوئی غیر سنجیدہ نا ہو ورنہ وہ پورا سال میری کلاس میں نہیں بیٹھے گا۔۔۔۔ ناو سٹ ڈاون(اب بیٹھ جاو)”۔ زین کے ہمراہ پوری کلاس کو آگاہ کرتے اسنے زین کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور دوبارہ نوٹس اٹھاتے پڑھانے میں مصروف ہو گیا۔
“ہاں بھئی بول؟ مزہ آیا؟”۔ اسکے بیٹھتے ہی وقاص تضحیک اسے دیکھ رہا تھا۔
“تجھے تو میں بتاتا ہوں”۔ اس پہ قہر آلود نظریں گاڑھے وہ بڑ بڑ ایا۔
چند لمحوں پہلے سامنے کھڑے انسان کی باتوں سے اس نے کچھ اخذ نا کیا۔ اسنے اسی کاغذ کا ایک جہاز بنایا اور اپنی بائیں جانب پہلی لائن میں بیٹھے حمزہ کی جانب اچھالنے کی غرض سے ہاتھ ہوا میں بلند کیا۔
“سر یہ جو آپ نے سمجھایا ہے دوبارہ سمجھا دیں”۔ ہوا میں اسکا ہاتھ بلند دیکھتے حاضر دماغی سے کام لیتے اسنے لئیق صاحب جو کہ وائٹ بورڈ کی جانب منہ کیئے ہوئے تھے،کو مخاطب کرتے کہا۔
“شاباش جوان ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے لیکچر کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اب سیدھا اس جہاز کے ساتھ کلاس کے باہر لینڈ کرتے نظر آو”۔ وقاص کے ہاتھ میں کاغذی جہاز دیکھتے اسنے سرد مہری سے کلاس کے باہر اشارہ کرتے کہا جس پہ زین نے طنزیہ نگاہ وقاص پہ ڈالی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
“ویسے وقاص نہایت ہی بد تمیز اور بد لحاظ انسان ہے خواہ مخواہ بیچارے زین کو ڈانٹ پڑ وا دی”۔ کالج کے وسط میں بنی چھوٹی لان نما جگہ پہ گروپ کے ہمراہ بیٹھے اسنے افسردگی سے زین کی جانب دیکھا جو اسکے بائیں جانب تھوڑا فاصلے پہ گھاس پہ بیٹھا تھا۔
“یار اسکا تو کام ہی یہی ہے خود تو انسان بنتا نہیں ہے دوسروں کو بھی ساتھ بے عزت کرواتا ہے”۔ عماد جو کہ انکے سامنے بینچ پہ علی کے ہمراہ بیٹھا تھا، نے کہا۔
“سر لئیق سے میں بڑی خوش ہوں انہوں نے اسکا علاج ٹھیک کیا ہے وہ تھا ہی اسی لائق”۔ جوہم نے گفتگو میں حصہ لیا۔
“مگر مجھے اب بھی یقین ہے بلکہ میں سو فیصد گارنٹی کے ساتھ کہہ سکتا ہوں اثر اسکو رتی برابر بھی نہیں ہوا ہونا”۔ بینچ کی پشت سے ٹیک لگائے وہ ہو لے سے بولا۔
“تم لوگوں نے ایک بات نوٹ کی؟؟”۔ مسلسل زین پہ توجہ مرکوز کرتے جسکے دونوں بازو پیچھے کی اور گھاس پہ تھے، دائیں ٹانگ کھڑی جبکہ بائیں ٹانگ گھاس پہ سیدھی تھی، کہا جو کہ تا ہنوز کسی سوچ میں ڈوبا مسکرا رہا تھا۔
“کونسی بات؟؟؟ یار عماد اب بتا بھی دو زیادہ سین کرئیٹ نا کرو”۔ رباب نے خفگی سے کہا۔
“ہم جس کے لیئے اپنے الفاظ اور جملوں کے تبادلے کر رہے ہیں وہ موصوف تو کسی اور سوچ میں گم ہیں”۔ زین کی جانب سب کو متوجہ کرتے اسنے لاف زنی کی۔
سب کی یکجا نظریں زین کی جانب اٹھیں رباب نے اسکے سامنے ہاتھ لہرایا جسکا اس پہ کوئی اثر نا ہوا تھا۔
“زین”۔ اسکی طرف ہلکا سا جھکتے علی نے اسے پکارا۔
وہ اپنی دنیا میں مسلسل منہمک تھا۔
“زین۔ن۔ن۔ن۔ن۔۔۔۔۔”۔ عون نے اسے جھنجھوڑتے دو سو واٹ کا جھٹکا دیا تھا۔
“عون یار کیا ہو گیا ہے؟”۔ عون کی یہ حرکت اسے ناگوار گزری۔
“عون کو تو کچھ نہیں ہوا البتہ تجھے ضرور کچھ نا کچھ ہوا ہے کب سے آوازیں دے رہیں ہیں۔ کن خیالوں میں ہو بھئی؟؟؟”۔ پشت کو سیدھا کرتے اسنے بھنووں کو جنبش دی۔
میرے خیالوں پہ چھائی ہے اک صورت متوالی سی
نازک سی، شرمیلی سی، معصوم سی، بھولی بھالی سی
رہتی ہے وہ دور کہیں اتا پتا معلوم نہیں
کو کو کو رینا ۔۔۔ کو کو کو رینا”۔
علی کے سوال پہ اسنے گنگنانا شروع کیا جبکہ سب کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“مصباح آج شام تیار رہنا ایک بزنس پارٹنر کم دوست کے ہاں جانا ہے اور ہاں جب زین یونیورسٹی سے آ جائے تو اسے بھی بول دینا”۔ کمرے میں داخل ہوتے اسنے بیڈ پہ بیٹھی مصباح کو مخاطب کرتے کہا۔
“خیریت یوں اچانک سے؟؟”۔ اسکی بات پہ وہ متحیر اسے دیکھ رہی تھی۔
“اچانک تو نہیں خیر وہ کافی عرصے سے بول رہا ہے کہ میں تمھیں اور زین کو لے کر اسکے گھر جاوں مگر فرصت ہی نہیں ملتی۔ آج ایک میٹنگ کے بارے میں ڈسکس کرنا ہے تو سوچا یہی موقع ہے اسکے گھر چلے چلتے ہیں اسکا گلہ بھی دھل جائے گا”۔ اسکے قریب آتے اسنے وضاحت کرتے کہا۔
@@@@@@@@@@@@
“آج تو بہت سارا کام ہے پروفیسرز بھی حد کرتے ہیں کوئی خدا خوفی ہے ہی نہیں جسکا پیریڈ ہو وہ سمجھتا ہے کہ بس ایک اسی کے سبجیکٹ کا پڑھنا ہے اور تو کوئی سبجیکٹ ہے ہی نہیں ہمارا”۔ جوہم کے ہمراہ کلاس سے نکلتے رباب کو دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع ملا تھا۔
“کوئی بات نہیں رباب اب کالج پڑھنے ہی تو آتے ہیں نا ہم۔ شکر کرو کہ پروفیسرز حلال کماتے ہیں اور ہمیں اتنی محنت اور لگن سے پڑھاتے ہیں ورنہ آجکل کے پروفیسرز کا تو پڑھانے کا دل ہی نہیں کرتا”۔
وہ دونوں کالج گیٹ کی جانب بڑھ رہیں تھیں۔
“حلال کماتے کماتے ان سب نے ہمارا جینا حرام کر دینا ہے مجھے بس اتنا پتہ ہے”۔ اسنے بھڑکتے کہا۔
“ارے جے-ٹی، رباب تم لوگ گھر جا رہے ہو کیا؟؟”۔ وہ دونوں کیفے کے باہر پہنچے ہی تھے کہ عماد اور عون انکی جانب آئے۔
“نہیں میں ابھی نہیں جا رہی ہاں مگر جوہم ضرور جا رہی ہے”۔ رباب نے نفی کی۔
“اوکے میں اب چلتی ہوں”۔ متلاشی نظریں ہر جانب دوڑاتے اسنے سامنے کھڑے عماد،عون اور ساتھ کھڑی رباب کو کہا۔
“جے- ٹی تم کسی کو ڈھونڈ رہی ہو کیا؟؟”۔ اسکی نظروں کے عقب میں دیکھتے اسنے اسے مخاطب کیا۔
“ن۔ن نہیں تو بس ایسے ہی ۔۔۔۔ ویسے یہ زین کہیں نظر نہیں آ رہا۔ کہاں ہے؟؟”۔ بظاہر لبوں پہ زین کا نام مگر دل و دماغ میں کسی اور کا عکس۔ وہ پوچھے بنا رہ نا سکی۔
“وہ تو گھر چلا گیا میرا خیال ہے کہ ابھی تک گھر پہنچ بھی گیا ہو گا”۔ عون نے ہنستے کہا۔
“اچھا ٹھیک ہے میں بھی چلتی ہوں۔۔۔۔ بائے”۔
“جوہم سر شکیل کی اسائنمنٹ یاد سے بنا کر لانا ورنہ یاد ہے نا کہ کیا حالات کریں گے؟؟”۔ اپنی طرف پیٹھ کرتی جوہم کو اسنے آواز بلند کرتے کہا۔
“ہاں ہاں یاد ہے میں بنا لاوں گی”۔ ہنوز پیٹھ کرتے اسنے جواب دیا اور کالج گیٹ کی جانب بڑھ گئی۔
@@@@@@@@@@@@
“زین بیٹا تم ابھی تک تیار نہیں ہوئے؟؟”۔ وہ عجلت میں اسکے کمرے کا دروازہ کھولتے سنگھار میز کے سامنے کھڑے زین کو دیکھتے متعجب ہوئی جو سادہ سفید کاٹن کے لباس میں زیب تن تھا۔
“ماما میں تیار ہوں”۔ اسکی جانب منہ کا رخ کیئے وہ ہو لے سے بولا۔
“بیٹا تمھیں بتایا تھا کہ خالد کے دوست کے ہاں جانا ہے یہ تم نے کس قسم کا جوڑا پہنا ہے؟؟”۔ اس پہ حدت نظر کرتے اسنے خفگی کا اظہار کیا۔
“تو کیا ہوا ماما؟؟ ٹھیک ہی تو ہے۔ کیوں اچھا نہیں لگ رہا کیا؟؟”۔ اپنا بغور معائینہ کرتے اسنے پوچھا۔
“اچھا چلو اب خالد باہر انتظار کر رہے ہیں”۔ بولتے ہی وہ کمرے سے نکل کھڑی ہوئی جسکے عقب میں وہ بھی کمرے سے نکل گیا۔
@@@@@@@@@@@@
“آپکا بہت شکریہ بہن کہ آپ آئیں ورنہ خالد کو میں بول بول کے تھک گیا تھا مگر مجال ہے جو خالد پہ میری بات کا اثر ہوا ہو”۔ مہمان خانے میں اپنے سامنے بیٹھی مصباح کو اسنے خوش اسلوبی سے مخاطب کہا۔
“ارے بھائی صاحب اس میں شکریہ والی کیا بات ہے۔ مصروفیت ہی اتنی ہوتی ہے کہ کہیں جانے کا ٹائم ہی نہیں ملتا۔ زین کالج چلا جاتا ہے اور خالد آفس اور آپ تو جانتے ہیں کہ ہم عورتوں کی زندگی میں گھریلو کام کاج کے علاوہ کچھ نہیں بچتا”۔ ایک نظر خالد پہ ڈالتے اسنے مزید کہا۔
“بات تو آپکی بالکل بجا ہے بہن ؛ یہ زین کہاں ہے؟؟ نہیں آیا کیا؟؟”۔ اسکی بات سے سہمت ہوتے اسنے چونک کر سوال کیا۔
“نہیں نہیں بھائی صاحب زین ہمارے ساتھ ہی آیا ہے وہ دراصل ایک ضروری کال آگئی تھی تو وہی سن رہا ہے باہر ہی ہے”۔ بولتے ہی اسنے ہاتھ میں پکڑے جوس کے گلاس کا ایک سپ لیا تھا۔
♤♤♤♤♤♤♤♤♤♤♤
“ٹھیک ہے یار ابھی میں ماما پاپا کے ساتھ انکے فرینڈ کے ہاں آیا ہوں۔ گھر پہنچتے ہی میں میل کر دوں گا تو ٹینشن نا لے۔۔۔۔ ہاں ہاں نہیں بھولتا ۔۔۔۔ میں تجھ سے پھر بات کرتا ہوں بائے”۔ وہ لان کے سائیڈ پہ کھڑا کال سننے میں مصروف تھا کہ ایک زور آور چیز اسکے سر پہ آ گری۔ فورا سے کال کاٹتے اسنے زمین کی جانب دیکھا۔
“یہ جوتا کس نے؟؟؟؟؟”۔ زمین پہ نظر پڑتے وہ متحیر سا سوچ ہی رہا تھا کہ نگاہیں اوپر کی جانب اٹھیں اور برق رفتاری سے پیچھے کو ہوا کیونکہ اگر وہ ایسا نا کرتا تو دوسرا جوتا بھی اسکے سر پہ آ گرتا۔
یہ منظر اسکے لیئے کافی حیران کن اور قابل غور تھا۔ ایک دوشیزہ رسی کے ساتھ لٹکی تھی جو غالبا کسی کمرے سے منسلکہ تھی۔ کھڑکی پہ کھڑی دوشیزہ ایک پہرے دار کا کام سر انجام دے کر اردگرد ماحول کا جائزہ لیتے اسے آگاہ کر ہی رہی تھی کہ اسکی مشکوک نظریں لان میں کھڑے زین پہ پڑیں تو وہ گھبراہٹ کے عالم میں منظر عام سے غائب ہو گئی جسکے باعث بے جان رسی دوشیزہ سمیت لان میں اسکے قدموں میں آ گری تھی۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *