Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode01

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode01

“عائشہ جلدی کرو یار مجھے دیر ہو رہی ہے”۔ کار پورچ میں کھڑے گھر کے اندرونی جانب منہ کا رخ کیئے اسنے گھر سر پہ اٹھا رکھا تھا۔
“بس آ گئی ۔۔۔۔ سوری”۔ جلدی میں پرس اٹھاتے وہ برق رفتاری سے اسکے قریب آئی۔
“شکر ہے کہ تم آگئی ۔۔۔ میں یونی سے لیٹ ہو رہا ہوں ٹائم دیکھا ہے تم نے؟؟ ساڈھے نو بج رہے ہیں”۔ دائیں کلائی میں بندھی گھڑی کو اسنے اسکے سامنے کیا۔
“تم کونسا یونی جاتے ہو علی جو یونی سے دیر ہو رہی ہے”۔ لاپرواہی میں بولتے وہ کار کے دوسری جانب جا کھڑی ہوئی۔
“میرے پاس ابھی ٹائم نہیں ہے ورنہ بتاتا ضرور کہ یونی جاتا ہوں یا کہیں اور۔۔۔۔۔۔ اب کار میں بیٹھو”۔ ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولتے اسنے کار کی چھت پہ بازو ٹکاتے کہا۔
“تم تو مائنڈ ہی کر گئے ۔۔۔ میں تو مذاق کر رہی تھی”۔ لٹوں کو سنوارتے وہ تاسف سے بولی۔
@@@@@@@@@@@@
کلاس کی بائیں جانب، وسیع لان میں،درخت کے سائے تلے،بینچ پر بیٹھی وہ کتاب کا مطالعہ کرنے میں محو تھی۔
“مس پڑھا کو آپ یہاں بیٹھی ہیں اور میں نے پتہ نہیں آپکو کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا”۔ اسکے قریب آتے ہی جیسے وہ پرسکون ہوئی۔
“اچھا تو۔۔۔ کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا تم نے مجھے؟؟”۔ ہنوز کتاب میں سر دیئے اسنے بے فکری میں کہا۔
“ارے میں تم سے بات کر رہی ہوں اور تم ہوکہ اس بورنگ کتاب میں سر دیئے بیٹھی ہو”۔ اسکے ہاتھوں سے کتاب کھینچتے وہ اسکے ہمراہ جا بیٹھی۔
” یہ کیا بد تمیزی ہے رباب؟ میری بک واپس کرو”۔ چشمہ اتارتے اسنے اسکی آنکھوں میں گھوری ڈالی۔
“کیا ہو گیا ہے جوہی؟؟ ہم ایک سال سے ساتھ ہیں مگر مجال ہے جو تمھاری صحت پہ ہماری صحبت کا رتی برابر بھی اثر ہوا ہو”۔ انکے قریب آتے عماد نے گپ شپ میں حصہ لیا۔
“تمھاری بات سولہ آنے درست ہے ۔۔ دوسرے سال کا پہلا دن ہے اور یہ ہے کہ کتابی کیڑا بنی ہوئی ہے”۔ رباب نے منہ بسورتے عماد کی ہاں میں ہاں ملائی۔
“اچھا تو کیا چاہتے ہو تم لوگ ؟؟یہی بتا دو”۔ پینچ کی پشت سے ٹیک لگاتے اسنے تمسکن آمیز انداز اپنایا۔
“یار جوہی تمھیں یاد نہیں ہے کہ کیسے ہماری ریگنگ ہوئی تھی؟ اب ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ ہم اپنی دلجوئی کیلئے اپنے جونیئرز کی ریگنگ کریں”۔ ایک پیر بینچ پہ رکھتے اسنے اپنا دائیاں بازو اس پہ ٹکا کر اپنی بھنووں کو جنبش دی۔
” تو تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ اپنی دلی تسکین کیلئے ان بیچاروں کو ذلیل کریں؟ ۔۔۔ ہہمم”۔
“کیا مطلب ہے تمھارا؟ ۔۔ ہم بیچارے نہیں تھے؟۔۔۔ کیا ہمارے سینے میں دل نہیں تھا؟۔۔۔ یا پھر ہم بچے نہیں تھے”۔ رباب نے مصنوعی بے چارگی ظاہر کی۔
“باقی باتیں چھوڑو ۔۔ سب سے پہلے تو یہ بتاو کہ ہمارے باقی گروپ ممبرز کدھر ہیں؟؟ کیا آج انکا کالج آنے کا ارادہ نہیں ہے؟؟”۔ دوبارہ سے پیر کو زمین پہ رکھتے اسنے ارد گرد ماحول کا جائزہ لیا۔
” باقیوں کا تو مجھے پتہ نہیں ۔۔۔۔ میرے خیال سے عون کیفے گیا ہے”۔ رباب نے لاعلمی میں کہا۔
@@@@@@@@@@@@
معمول کے مطابق اسنے کیفے میں اپنا ڈیرہ جما لیا تھا اور نئی شکلوں کا انتخاب کرتے انہیں اپنے پاس بلا رہا تھا۔
“Excuse me you… come here”
اسکی نظر کیفے میں داخل ہوتیں دو حسیناوں پر پڑی تو اسنے آواز بلند کی۔
“کون؟ میں؟”۔ ایک نے گھبراتے اپنی طرف اشارہ کیا۔
“ہاں ہاں تم ۔۔۔۔ ادھر آو”۔ سر پہ الٹی پی کیپ اور آنکھوں پہ کالا چشمہ لگائے وہ ایک قد آور سٹول پہ بیٹھا تھا۔
“ج۔ج۔ جی”۔ اسکے قریب آتے اسنے ہکلاتے پوچھا۔
“ت۔ت۔ تمھارا نام کیا ہے؟؟؟”۔ اسنے اسی کا انداز اپنایا تو کیفے میں شور گونجا۔
“اوکے گائز”۔ ہوا میں ہاتھ بلند کرتے اسنے سب کو خاموش رہنے کی ہدایت کی۔
“تمھارا نام کیا ہے؟؟؟”۔ گلاسز اتارتے اسنے قدرے سنجیدگی سے کہا۔
“موضمہ بتول”۔ اسنے مختصرا کہا۔
“کیا؟؟؟؟ موزے فضول”۔ قہقہ لگاتے اسنے پہلو میں کھڑے دوست کے ہاتھ پہ ہاتھ مارا۔
کیفے کی عمارت اس وقت شور و غل کی زد میں تھی۔
“اچھا موزے فضول ایک کام کرو میرے لیئے ایک کولڈ ڈرنک تو لے آو ۔۔۔۔ کب سے بول رہا ہوں اب تو گلہ بھی خشک ہو گیا ہے”۔ اسکی طرف ہلکا سا جھکتے اسنے کہا جبکہ اسکے چہرے پہ تمسخرانہ مسکراہٹ چھا گئی۔
@@@@@@@@@@@@
کالج کے پارکنگ ایریا میں کار پارک کرتے اسنے اپنی تسلی کی، کار سے نکل کر پچھلا دروازہ کھولا اور بیگ نکال کے کار لاک کی۔
بیگ کو اپنی پشت پہ ڈالا اور کالج کی اندرونی جانب بڑھنے لگا۔
“کمال ہے ہم سب کو جلدی آنے کا بول کر خود نواب صاحب ایک گھنٹہ لیٹ ہیں”۔ زین نے اسکا راستہ روک کر چھوٹتے ہی گلا کیا۔
“کیا کروں یار؟ آج عائشہ کی آنکھ دیر سے کھلی ہے اور تم تو جانتے ہو وہ صبح میرے ساتھ ہی آتی ہے۔۔۔ اسکو ڈراپ کیا تو اسی سلسلے میں دیر ہو گئی”۔
سکن جینز کی پینٹ پہ بلیک برینڈڈ شرٹ جسکے کف مڑے ہوئے تھے، سر پہ بلیک پی کیپ جس پہ نائیک کا سفید نشان بنا تھا اور پاوں میں بلیک سنیکرز؛ وہ ہر بار کی طرح پیارا اور منفرد لگ رہا تھا۔
“چل کوئی بات نہیں ابھی بھی بہت وقت ہے کونسا دن گزر گیا”۔ علی کے ہمراہ اسنے باقی گروپ کی جانب قدم اٹھانا شروع کیئے۔
“ہے گائز ۔۔۔ وٹس اپ؟؟”۔ جوہم،رباب اور عماد جو کہ اپنی گپ شپ میں مگن تھے، علی کی آواز پہ اسکی طرف متوجہ ہوئے۔
“بہت دیر کی مہرباں آتے آتے”۔ علی کی طرف مڑتے عماد نے ہلکا سا سر میں خم لاتے اپنے چوڑے سینے پہ ہاتھ رکھا۔
“کیوں جگر اتنا مس کر رہے تھے؟؟”۔ بیگ کو جوہم کے پاس بینچ پہ رکھتے وہ عماد کے گلے لگا جبکہ رباب اور جوہم کی طرف ہاتھ بڑھا کراسنے سلام کیا۔
“ہاں کیوں نہیں آپ تو میری نو بیاہی بیگم ہیں جسکے بغیر میرا ایک لمحہ بھی دشوار ہے”۔ وہ بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔
“یار تم لوگوں نے ایک دوسرے کی ریگنگ نہیں کرنی ۔۔۔ نیو قمرز کی کرنی ہے”۔ زین نے انکے قریب جا کر دونوں کے کندھوں پہ اپنا ایک ایک ہاتھ رکھا۔
“میں تو کب سے اسی کے انتظار میں تھا ۔۔۔ چلو چلتے ہیں پیاسا ہی کنویں کے پاس جاتا ہے اب کنواں تھوڑی نا پیاسے کے پاس آئے گا”۔ سن گلاسز دھیرے سے شرٹ کے ساتھ رگڑتے اسنے اپنے کارلر پہ گردن کے پچھلی جانب لٹکا لیں۔
“ہم تو سب چل رہے ہیں مگر یہ جوہی اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔۔۔ میں اور عماد اسکی کب سے منتیں کر رہے ہیں مگر یہ ہے کہ سنتی ہی نہیں”۔ رباب نے خفگی ظاہر کی۔
علی نے جوہم پہ نگاہ ڈالی تو اسکے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو گئیں۔
“تو کیا ہوا اسکے حصے کی ریگنگ بھی میں ہی کر لوں گا”۔ چہرے پہ قاتلانہ مسکراہٹ اور انداز میں بلا کا غرور جس کے جواب میں جوہم بمشکل سر ہی ہلا سکی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
“عفت عائشہ اور علی کہاں ہیں نظر ہی نہیں آ رہے”۔ بوڑھی ہڈیوں اور گھٹنوں کو دھیرے دھیرے حرکت میں لاتے اسنے لاونج میں صوفے پہ براجمان عفت کو مخاطب کیا۔
“اماں عائشہ جاب پہ گئی ہے اور علی کالج گیا ہے اسکا کالج آج شروع ہو گیا ہے نا”۔ اسنے اٹھ کر ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ وسط میں رکھے میز پہ رکھا اور دوبارہ سے نشست سنبھال لی۔
“اللہ میرے بچوں کو کامیاب کرے ۔۔۔ آمین ویسے عفت تم نے عائشہ کو بڑے ہی لاڈ پیار سے پالا ہے لگتا ہی نہیں کہ وہ تمھارے مرحوم بھائی اور مرحومہ بھابی کی اولاد ہے”۔ ہاتھ پھیلاتے اسنے دعا مانگ کر عفت کو سراہا۔
“اماں میں نے کبھی عائشہ اور علی میں فرق نہیں کیا اور عائشہ تو ہے ہی اتنی پیاری بچی لگتا ہی نہیں کہ میرے بھائی کی اولاد ہے۔۔۔ عاطف بھائی کو گزرے بھی تو سترہ برس بیت گئے ہیں عائشہ پانچ سال کی تھی ۔۔۔ میں نے اسے پرایا کبھی نہیں سمجھا۔۔۔ میرے ہاتھوں کی پلی بچی ہے”۔ سامنے وال پہ لگی عائشہ کی تصویر کو دیکھتے وہ مخاطب ہوئی۔
“بات تو تمھاری بالکل ٹھیک ہے عفت سچ میں عائشہ بہت ہی سمجھدار اور سلیقہ مند بچی ہے۔۔۔ اللہ اسکے نصیب اچھے کرے۔۔۔ تم دیکھنا جس گھر جائے گی نا اس گھر کو جنت بنا دے گی”۔
“ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ عائشہ جیسی بہو قسمت والوں کو ہی ملتی ہے”۔ آنکھوں میں حسرت لیئے اسنے آہ بھری۔
@@@@@@@@@@@@
“علی یار جلدی کچھ سوچ ایک تو تو دیر سے آیا ہے اوپر سے کوئی آئیڈیا بھی نہیں سوچا”۔ زوحان نے بے زارگی میں علی کو مخاطب کیا جو اسکی طرف پشت کیئے کھڑا تھا۔
“یہ عون کہاں ہے یار وہ ہوتا تو شاید کوئی مدد مل جاتی”۔ وہ جو کہ بینچ پہ آرام سے بیٹھا تھا اچانک سے ذہن میں خیال آتے اٹھ کھڑا ہوا۔
“کیا ہوا زینب گلاب دین؟؟ تم نے مجھے یاد فرمایا”۔
بلو جینز کی گھٹنوں تک نکر، آدھی سلیو والی سفید ٹی شرٹ، سر پہ الٹی رکھی گئی نیلی پی کیپ اور پاوں میں نیلے جوگرز؛ وہ کسی جوکر سے کم نہیں لگ رہا تھا۔
“میں نے تجھے کتنی بار منع کیا ہے کہ میرا نام بگاڑ کے نا لیا کر مگر تجھ پہ کسی بات کا جیسے اثر ہی نہیں ہوتا”۔ زین جو کہ اچھے موڈ میں تھا اب بھڑک اٹھا تھا۔
“زین العابدین کہنے میں اتنا مزہ نہیں آتا جتنا کہ زینب گلاب دین کہنے میں ۔۔۔ اگر یقین نہیں تو خود بول کے دیکھ لے”۔ عون نے جلی پہ تیل ڈالا۔
“تو باز نہیں آئے گا؟؟”۔ وہ غصے میں اسکی جانب بڑھا۔
“زین چھوڑو یار اسے یہ تو ہے ہی ایسا تم جانتے تو ہو”۔ ماحول میں بد مزگی دیکھ وہ فورا سے آگے بڑھی۔
“میری لاڈو کباب اورنج سیب”۔ زین کو چھوڑتے اسنے رباب کا رخ کیا۔
“عون”۔ رباب نے اسے آنکھیں نکالیں۔
“اچھا نا یار غصہ تو نا کرو اگر تم لوگوں سے ہنسی مذاق نہیں کروں گا تو کس سے کروں گا؟؟”۔ معصومیت کا لبادا اوڑھے وہ اسکے سامنے جا کھڑا ہوا۔
“گائز اگر تم لوگوں میں صلح صفائی ہو گئی ہو تو میری بات دھیان سے سنو
میرے پاس ایک دھماکے دار پلین ہے جس سے ہماری آج کی شام ہوگی سہانی اور رنگین”۔ انکے قریب آتے وہ واشگاف بولا۔
“اچھا ۔۔۔ ذرا ہم بھی تو سنیں ایسا کونسا پلین آپکے ذہن میں جنم لے چکا ہے”۔ عماد نے متجسانہ نگائیں علی پہ ٹکا لیں۔
“ابھی بتاتا ہوں”۔
“یہ ہیں اس پلین میں میرا پارٹنر”۔ اسنے سن گلاسز، جو کہ اسکی گردن کی پچھلی جانب کالر کے ساتھ ٹنگیں تھیں، سے آنکھوں کو چھپا لیا۔
“مطلب؟؟”۔ سب نے یکجا کہا۔
“مطلب یہ کہ میں بہت عرصے سے نابینا ہوں” اسنے شروعات کی۔
“اللہ نا کرے”۔ جوہم، جو کہ عماد کے قریب علی کے سامنے کھڑی توجہ سے اسکی بات سن رہی تھی، بے اختیار بول دی۔
“یار جوہم ہمیں صرف اور صرف ڈرامہ کرنا ہے۔۔۔۔ ریلیکس”۔ اسکی طرف دیکھتے عماد خفگی سے بولا تو جوہم ہچکچا گئی۔
“بالکل، میں نابینا ہونے کا ڈرامہ کروں گا اور تم لوگ اسی سلسلے میں پورے کالج سے میرے لیئے چندہ اکھٹا کرو گے۔۔۔۔۔۔ سمجھ گئے؟؟”۔ وہ تمام ایک دائرے کی شکل میں کھڑے تھے اور علی ہر ایک پہ نگاہ ڈالے تسلی کر رہا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“ٹھیک ہے اسماعیل صاحب جیسے آپکو مناسب لگے۔ آپ اپنی تسلی کر لیں پھر مجھے بتا دیجیئے گا۔۔۔۔ ہم ویسے ہی معاملہ سیٹ کر لیں گے”۔ گھر کے دائیں جانب خوبصورت اور عمدہ پتھروں اور مہنگے ماربل سے بنے کار پورچ کے چھت تلے کھڑا وہ کال پہ مصروف تھا۔
“ٹھیک ہے آپ پھر مجھے انفام کر دیجیئے گا۔۔۔۔ اللہ حافظ”۔ اسنے کال کاٹ کر نمبر ٹٹولا اس پر میسج کیا اور پھر گھر کی اندرونی جانب چل دیا۔
کار پورچ کے عین سامنے گیٹ لگا تھا جو کہ نئے طرز اور جدید پیمانے پہ بنایا گیا تھا۔ پورچ کے بائیں جانب ایک لان تھا جسکی راہداری پورچ سے نکلتی تھی۔ لان کے وسط میں چار کرسیاں اور ایک میز تھا، چار دیواری کے ساتھ گلابی،سفید اور سرخ رنگ کے گلاب لگائے گئے تھے جنکی خوشبو سے ماحول معطر اور خوشگوار رہتا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *