Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode16

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode16

دو پروفیسرز کی غیر حاضری کے باعث وہ سب کیفے کے باہر سایہ دار جگہ پہ ڈیرہ جمائے بیٹھے تھے۔
صبح کے دس بج رہے تھے اور شیڈول کے مطابق آج کلاس گیارہ بجے شروع ہونی تھی۔
جوہم کوئی انگریزی ناول میں سر دیئے بیٹھی تھی، رباب اسکے دائیں ہاتھ پہ تھی۔ عون رباب کے عین سامنے اسکے ساتھ زوحان اور زین۔ عماد رباب کے برابر میں تھا جبکہ علی کسی کام سے لائبریری گیا تھا۔
“یار میں بور ہو رہا ہوں”۔ عون جو کہ ٹیبل پہ دائیاں بازو ٹکائے بیٹھا تھا، نے بے زارگی سے زین کو دیکھا۔
“تو کیا تیری بوریت دور کرنے کی غرض سے ناچنا شروع کر دوں؟؟”۔ زین نے تپ کر کہا۔
“ویسے آئیڈیا برا نہیں ہے زینب گلاب دین۔ چل شروع ہو جا ۔۔۔۔ ناچوں میں آج چھم چھم چھم”۔ زین کو دیکھتے اسنے لاف زنی کرتے اشاروں سے بات کی۔
“میرا کوئی کوٹھا نہیں ہے جہاں پارٹ ٹائم رقص دکھا کر میں رئیس اور امرا کے دل رجھاتی ہوں”۔ زین کا لہجہ قطعی تھا۔ زین کی بات پہ سب ہنس دیئے تھے۔
“کیا زین یار؟ فضول بات کرنا لازمی ہے؟؟؟ دیکھ تیرے بھائی کی شادی ہے اور تو اپنے پاپا کا غصہ عون پہ کیوں نکال رہا ہے؟؟”۔ عماد نے زین کو مخاطب کیا۔
“عون تم کوئی گانا گاو”۔ چیئر کی پشت چھوڑتے رباب سیدھی ہوئی۔ جوہم نے بھی ناول ٹیبل پہ رکھ دیا تھا۔
“کباب اورنج سیب مجھے گانے نہیں آتے پھر بھی کوشش کرتا ہوں”۔ عون نے نفی کی۔
“کوئی شادی والا گانا گانا عون”۔ زین نے اسکے بائیں شانے پہ ہاتھ رکھا تھا۔
“تو مجھ سے بات نا کر سمجھا”۔ اسکا ہاتھ جھٹکتے عون نے منہ پھیرا۔
“اچھا سوری عون معافی دے دے پلیز”۔ بولتے ہی زین نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔
“جس دن یہ عون نا رہا نا اس دن قدر بھی کرے گا میری”۔ زین کی جانب دیکھتے اسنے افسردگی سے کہا۔
“ایسا نا بولو عون۔ یہ کیا پاگل ہے تم اس سے زیادہ پاگل ہو”۔ جوہم نے تاسف سے کہا۔
“اچھا گائز تم لوگ فکس سات بجے پہنچ جانا کوئی لیٹ نا ہو نا ہی مجھے کال کرنی پڑے”۔ زین نے سب کو باور کرایا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“فرخ بیٹا آپ فری ہو؟؟”۔ مصباح عجلت میں انٹرنس کی جانب آئی تھی جہاں فرخ کھڑا سر جھکائے فون پہ لگا تھا۔
“جی ماما کیوں خیریت؟؟”۔ فون سے نظر ہٹائے اسنے گردن کو جنبش دیتے مصباح کو دیکھا تھا۔
“جی بیٹا خیریت ہی ہے۔ وہ دراصل ماہین کی طرف مہندی کا سامان بھجوانا تھا مجھے اسی بات کا ڈر ہے کہ کہیں دیر نا ہو جائے۔ عفان کو ابھی سڑکوں کا پتہ نہیں ہے اس وجہ سے میں اسے کہنا نہیں چاہ رہی اور زین ابھی تک کالج سے آیا نہیں ہے اسکے آتے بہت دیر ہو جائے گی اور۔۔”۔ بغیر کسی وقفے کے مصباح نے لفظوں کو لڑی میں پرویا تھا۔ مصباح کے چہرے پہ پریشانی اور فکر کے تاثرات عیاں تھے جسکو بھانپتے فرخ اسکے قریب ہوا اور اسکے شانوں پہ ہاتھ رکھے تھے۔
“ماما ریلیکس کچھ نہیں ہوتا۔ میں ہوں نا آپ فکر کیوں کر رہی ہیں ہر بات میں آپکا ٹینشن لینا ضروری ہے؟؟ آپ جا کر سامان لے آئیں میں خود دے آتا ہوں۔ ہم”۔ تمسکن آمیز انداز اپناتے اسنے مصباح کو پرسکون کیا تھا۔
“ٹھیک ہے بیٹا میں تمھیں سامان لا دیتی ہوں اور ہاں یہ کام کرنے کے بعد ہی تم کوئی اور کام کرنا”۔ جاتے جاتے اسنے تنبیہ کی جس کے جواب میں فرخ نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“جھلک دکھلا جا، جھلک دکھلا جا
ایک بار آ جا آ جا آ جا آ جا آ آ جا”۔
بولتے ہی عون نے سامنے رکھا ٹیبل پیٹنا شروع کیا تھا۔
“یہ کیا بکواس گا رہے ہو عون؟؟ کوئی اچھا سا گانا گاو”۔ اپنے سامنے پڑا انگریزی ناول رباب نے آگے ہوتے اسکے ہاتھوں پہ دے مارا تھا۔
“او ایم جی، کباب اورنج سیب کتنی لڑاکا ہو تم۔ ایف سولہ کی چھوٹی بہن۔ ایک تو تمھارے کہنے پہ گا رہا ہوں اور تم ہی مجھے مار رہی ہو دوسرا میرے گانے میں نقص نکال رہی ہو”۔ عون نے ہاتھ مسلتے کہا۔
“اسے گانا کہتے ہیں؟؟”۔ رباب ہلکا سا اسکی اور جھکی۔
“ہاں تو؟ اور کیا کہتے ہیں؟”۔ عون بھی ہلکا سا آگے کو ہوا تھا۔
“گانے کی مدر سسٹر کرنا کہتے ہیں جو تو اس وقت کر رہا ہے۔ ہیمیش رشامیہ کے گانے کی”۔ بولتے ہی عماد نے زوحان کے ہاتھ پہ ہاتھ مارا تھا۔
“جلنے والوں جلتے رہو۔ میں تو گاوں گا ہونہہ”۔ عون نے سر جھٹکا تھا۔
“مت کر اتنا غرور صورت پہ اے سکینہ
مت کر اتنا غرور صورت پہ اے سکینہ
تیری صورت پہ نہیں ہم تو تیری سادگی پہ مرتے ہیں”۔
عون نے دوبارہ سے ٹیبل بجانا شروع کیا تھا جس پہ سب کا قہقہ گونجا تھا۔ پاس سے گزرنے والا ہر سٹوڈنٹ اسکا مذاق بنا رہا تھا مگر وہ سب سے بے نیاز تھا۔
“صبح سے لے کر دن تک
دن سے پھر شام تک
شام سے پھر رات تک
رات سے پھر سحری تک
سحری سے پھر صبح تک
صبح سے پھر دن تک
دن سے پھر شام تک”۔
اپنی دھن میں آنکھیں مینچے وہ گانوں کی ستیاناسی کرنے میں لگا تھا اسکو یوں گاتا دیکھ رباب نے ہنستے ہوئے، زین کی جانب دیکھا تھا جو عون کے پاس بیٹھا کانوں میں انگلیاں دئیے ہوئے تھا۔
“طبلہ نواز آگے بھی تو بول”۔ عماد نے چڑ کر اسکی جانب بوتل اچھالی تھی۔
“سبق یاد کرو، سبق یاد کرو
اوووووووو
سبق یاد کرو، سبق یاد کرو”۔
بوتل کے ساتھ عماد کی آواز کانوں سے ٹکڑاتے اسنے مزید کہا۔
سب کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا تھا۔ یہاں تک کہ جوہم نے پیٹ پکڑ لیا تھا اور عون کو چپ رہنے کا اشارہ بھی کیا تھا مگر وہ بھی کہاں سننے والا تھا۔
“ابے او انٹر نیشنل میراثی، یہ کالج ہے کوئی سرکس یا میریج ہال نہیں جہاں تو ڈھول بجا بجا کر اپنا گلا پھاڑ رہا ہے”۔ قریب آتے ہی اسنے جوہم کے مقابل میں چیئر گھسیٹی اور اس پہ براجمان ہو گیا تھا۔
علی کی بات پہ عون کے ہاتھ اور منہ وہیں منجمد ہو گئے تھے اور زہر آلود آنکھیں علی پہ فکس تھیں۔
“اب منہ تو بند کر لے ورنہ مکھی چلی جائے گی”۔ چیئر کی پشت سے ٹیک لگاتے اسنے ٹانگ پہ ٹانگ رکھ لی تھی۔
” چھلی مہندی، آئی ہیٹ یو”۔ علی کی جانب انگلی سے اشارہ کرتے اسنے کہ کر سر جھٹکا۔
“یو ٹو میری جان”۔ بولتے ہی اسنے عماد کے ہاتھ پہ ہاتھ مارا تھا۔
سب کا تا ہنوز قہقہ ہوا میں گونج رہا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
دن کے دو بج رہے تھے تمام تیاریاں مکمل تھیں صرف لان میں مہندی کے لحاظ سے تھوڑی بہت سجاوٹ بقیہ تھی۔
وہ اپنے روم میں کھڑی کی جانب منہ کیئے کال سننے میں منہمک تھا۔
“ماموں ماموں ہمیں مامی سے ملنا ہے”۔ وہ دونوں آوازیں لگاتے اسکے قریب آئے تھے۔
“ٹھیک ہے آپکو جیسا مناسب لگے آپ کر لیجیئے گا مگر اتنا ضرور یاد رکھئے گا آج شام میری مہندی ہے اس لیئے یہ سارا کام آج شام تک ہو جانا چاہئیے، بائے”۔ باور کراتے ہی اسنے دھک سے فون رکھ دیا تھا۔
“بیٹا آپ لوگوں کو آج شام مامی سے ملواوں گا”۔ مڑتے ہی اسنے انہیں تسلی دی۔
“نہیں ماموں ہمیں ابھی ہی مامی سے ملنا ہے”۔ آہل منہ لٹکائے بیڈ پہ جا بیٹھا تھا۔
“ہاں ماموں ہم کل سے آئے ہیں اور آپ نے ہمیں ابھی تک مامی سے نہیں ملوایا”۔ برہان بھی اسکی تائید کرتا بیڈ پہ اسکے برابر جا بیٹھا تھا۔
“میرے بچوں ماموں کی بات مان لو پلیز۔ میں پکا آج شام آپکو مامی سے ملواوں گا۔ اپنے ماموں کی بات نہیں مانو گے کیا؟؟”۔ انکے سامنے زمین پہ گھٹنوں کے بل بیٹھتے اسنے التجا کی جس پہ دونوں نے سینے سے ہاتھ باندھ کر رخ موڑ لیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
وہ وارڈ روب کے پاس کھڑی ہاتھوں میں والٹ پکڑے تھی شاید اس میں سے کچھ تلاش کرنے کی خواہاں تھی۔
“عائش میں کیسا لگ رہا ہوں؟؟”۔ دروازے کی جانب سے آتی آواز نے اسے اپنی اور کھینچا تھا۔
والٹ کو فورا سے وارڈ روب میں رکھ کر دروازہ بند کیا اور اپنے وجود کو علی کی جانب موڑا۔
“ماشاءاللہ بہت پیارے لگ رہے ہو۔ علی یہ تو وہی سوٹ ہے نا جو۔۔۔”۔
“ہاں عائش یہ وہی سوٹ ہے جو دادو نے مجھے پچھلی سالگرہ پہ دیا تھا مگر میں نے آج زیب تن کیا ہے اور دیکھو کیسا فٹ ہے”۔ عائشہ کو ٹوکتے اسنے وضاحت کرتے ہی اپنا بغور معائینہ کیا تھا۔
کالے رنگ کا کاٹن کا کرتا جسکا گلا بین والا اور فرنٹ مکمل کالے دھاگے کی کڑھائی سے آراستہ تھا، شلوار بھی اسی کپڑے کی سادہ طرز کی تھی، بالوں کو برابر سنوار رکھا تھا اور پیروں میں کالی کالزہ کی چپل۔
“علی تم نے اس کے نیچے چپل کیوں پہنی ہے کھیڑی پہن لیتے نا”۔ پیروں کی جانب دیکھتے عائشہ نے مشورہ دیا۔
“نہیں عائش تم جانتی ہو میں نے آج تک کھیڑی نا لی ہے نا پہنی ہے، جوتے پہننا مناسب نہیں لگا تو سوچا یہ چپل ہی پہن لیتا ہوں۔ کل ہی لایا ہوں اچھی نہیں لگ رہی کیا؟؟”۔ پیروں کی جانب دیکھتے اسنے خفگی کا اظہار کیا تھا۔
“نہیں نہیں اچھی لگ رہی ہے میں تو بس ایسے ہی کہہ رہی تھی۔ چلو جس میں تم کمفرٹیبل فیل کرو”۔ بولتے ہی وہ مسکرا دی۔
اس اثنا میں علی کے فون پہ رنگ ٹون کے ساتھ ہی عماد کا نمبر سکرین پہ چکما تھا جسکے بعد ہی وہ عائشہ کے روم سے نکل گیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
وہ سٹیج کے سامنے دائیں جانب نظر فون پہ منجمد کیئے میسیجز پڑھنے میں محو تھا۔ اسکو اکیلا کھڑا دیکھ زین اسکے قریب آیا تھا۔
“ارے علی تم اکیلے کیوں کھڑے ہو؟؟باقی سب کدھر ہیں؟؟”۔ وہ متحیر سا ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
“ابھی پاس ہی تھے پتہ نہیں کہاں گئے؟ زوحان، عون، عماد، رباب”۔ جواب دیتے اسنے ارد گرد ماحول کا جائزہ لیا۔
زین کی نظر علی کے فون پہ پڑی جہاں جگرز گروپ کے میسیجز آب و تاب سے چمک رہے تھے۔
“بے قرار دھڑکن، بے تاب آنکھیں، بے چین روح، پژمردہ مسکراہٹ
عشق باقی ہے اوزار تو سب مکمل ہیں”۔
زین نے واشگاف شعر پڑھا تھا جس پہ علی نے فورا زین کے چہرے کی اور دیکھا جہاں اب حیرت در آئی تھی۔
“ک۔ ک۔ کیا بول رہا ہے تو؟؟ خیریت ہے؟؟”۔ ہکلاتے ہی اسنے نظریں چرا لیں تھیں۔
“علی بہت ہی بڑا کمینہ ہے تو سچ میں۔ میسنا، گھنا”۔ بولتے ہی اسنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *