Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie NovelR50785 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode18
Rate this Novel
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode01 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode02 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode03 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode04 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode05/06 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode07 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode08 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode09 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode10 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode11 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode12 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode13 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode14 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode15 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode16 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode17 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode18 (Watching)Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode19 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode20 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode21 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode22 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode23 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode24 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode25 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode26 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Last Episode
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode18
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode18
“ارے زین تم ناشتہ کیئے بنا ہی کالج جا رہے ہو بیٹا، ناشتہ تو کرتے جاو”۔ عجلت میں انٹرنس کی جانب بڑھتے زین کو اسنے آواز دی۔
“نہیں ماما ٹائم نہیں ہے میں پہلے ہی لیٹ ہو چکا ہوں اگر مزید دیر کی تو کلاس مس کر دوں گا۔ آپ فکر نا کریں میں کیفے سے کچھ کھا لوں گا”۔ کچھ پل رکتے اسنے بات مکمل کی پھر انٹرنس سے نکل کر گیٹ کی جانب بڑھا تھا۔
“کیا آنٹی؟ آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں؟؟ پریشان بھی لگ رہی ہیں سب خیریت ہے؟؟”۔ مصباح کو انٹرنس کے پاس فکر مند کھڑا دیکھ ماہین اسکے قریب آئی تھی۔
“کچھ نہیں بیٹا بس زین کی وجہ سے فکر مند ہوں بغیر ناشتے کیئے ہی نکل گیا ہے”۔
“تو کیا ہوا ماما زین چھوٹا بچہ تھوڑی نا ہے جو آپ اسکے لیئے پریشان ہو رہی ہیں۔ کیفے سے کچھ نا کچھ کھا لے گا”۔ ماہین کے عقب میں آتے فرخ نے کہا۔ “اب ہمیں ناشتہ ملے گا یا ہم بھی کالج کے کیفے سے کرنے چلیں”۔ مصباح کے قریب آتے اسکے شانوں پہ ہاتھ رکھے وہ شریر ہوا۔
“کیوں نہیں ملے گا فرخ۔ میں تم لوگوں کا ہی انتظار کر رہی تھی کہ تم لوگ کب اٹھو گے۔ چلو میں نے ناشتہ لگواتی ہوں”۔ اسکے ہمراہ ماہین اور فرخ نے ڈائننگ کی جانب قدم اٹھانا شروع کیئے تھے۔
@@@@@@@@@@@@
یار آج زین نے نہیں آنا کیا؟؟”۔ وہ سب حسب معمول لان میں بیٹھے جملوں کے تبادلے کر رہے تھے جبی زوحان نے اسکی کمی محسوس کی۔
مجھے لگتا ہے کہ فرخ بھائی کی شادی کے ساتھ ہی وہ بھی مایوں بیٹھ گیا ہے”۔ علی نے لاف زنی کی۔
زینب گلاب دین کو چھوڑو یہ کباب اورنج سیب کہاں ہے؟؟ کہیں وہ بھی تو رخصت نہیں ہو گئی؟”۔ عون نے بھی بھرپور حصہ لیتے کہا۔
کیا ہوا؟ وہ بھی آج چھٹی پر ہے کیا؟”۔ علی نے کہا۔
آئی ہے میں نے خود دیکھی ہے۔ ان فیکٹ جب میں کلاس میں پہنچی تو وہ پہلے سے موجود تھی مگر پھر پتہ نہیں کہاں چلی گئی”۔ جوہم نے وضاحت کرتے سب کو آگاہ کیا تھا۔
وہ تو کبھی ایسے بنا بتائے کہیں نہیں جاتی۔ کیا تمھیں انفام کیا تھا جوہم؟؟”۔ جوہم کو جو اسکے عین سامنے بیٹھی تھی، اسنے مخاطب کیا۔
نہیں علی سلام دعا کے علاوہ میری اس سے کوئی بات نہیں ہوئی”۔ نفی کرتے وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی تھی۔
سوچ بچار کرتے اچانک علی نے اپنے برابر بیٹھے عماد کو دیکھا تھا۔
کیا؟؟”۔ وہ چونکا۔ ” دیکھ علی آج کچھ الٹا سیدھا مت کرنا ورنہ اللہ کی قسم ہماری دوستی کا لحاظ بھول جاوں گا”۔ علی کی اس دن کی حرکت یاد کرتے عماد نے بے زارگی ظاہر کی۔
میں جانتا ہوں کہ وہ کہاں ہے”۔ چہرے پہ سنجیدگی، لہجے میں غرور ۔ وہ پینٹ جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
کہاں گئی ہے؟؟”۔ سب نے یکجا سر اٹھا کر اسے تجسس سے دیکھا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“سر آپ نے مجھ سے کیا بات کرنی ہے؟؟”۔ اسکے آفس میں اسکے سامنے بیٹھے وہ عجیب کشمکش کا شکار تھی۔ ہزار سوچوں نے اسکو جکڑ رکھا تھا جنہیں جھٹک کر اسنے زبان کو حرکت دی تھی۔
“آج سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ دو متضاد خیال میرے ذہن پہ بیک وقت حملہ آور ہوں”۔ ہاتھوں کو میز پہ رکھے اسنے دھیرے سے کہا جبکہ نظریں جھکی ہوئیں تھیں۔
“جی؟؟”۔ اسکے زو معنی الفاظ اسکے سر کے اوپر سے جا رہے تھے۔
“رباب میں نہیں جانتا کہ مجھے یہ بات کرنے کیلئے کونسے الفاظ کا چناو کرنا چاہئے۔ اپنی ہمت کے موتیوں کو بڑی مشکل سے ایک دھاگے میں پرو کر یکجا کیا ہے۔ میں ٹال مٹول سے کام لے کر آپکا وقت برباد نہیں کروں گا”۔ خود پہ گڑھیں رباب کی مشکوک نظروں کو بھانپتے اسنے کہا۔
“رباب بات یہ ہے کہ میں آپ سے شادی کا خواہاں ہوں۔ میں آپکو ٹائم دیتا ہوں جتنا چاہیں لے لیں مگر میری عمر کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایسا نا ہو میری عمر ڈھل جائے”۔ بولتے ہی اسنے دھیما قہقہ لگایا۔ “سوری۔ میں آپکے جواب کا منتظر رہوں گا”۔ دوبارہ سے سنجیدہ ہوتے اسنے مزید کہا۔
@@@@@@@@@@@@
“اسلام و علیکم”۔ سفید قمیض شلوار میں ملبوس وہ ساٹھ سال کا آدمی تھا جو عمر سے تھوڑا کم معلوم ہو رہا تھا۔ بالوں اور مونچھوں کو نزاکت سے بنا رکھا تھا، ٹھاٹ سے چلتا اسکے قریب آیا جو عمر میں چالیس سال کی معلوم ہو رہی تھی۔
“وعلیکم السلام، بیٹھیں”۔ رجسٹر کو سائیڈ پہ رکھتے وہ اسکی جانب متوجہ ہوئی۔
“جی میں عماد یوسف کا دادا ہوں کافی دنوں سے چاہ رہا تھا کہ اسکی خبرگیری کر لوں مگر فرصت ہی نہیں مل رہی تھی”۔ اسکے لیئے آسانی پیدا کرتے اسنے مدعہ بیان کیا تھا۔
“عماد یوسف”۔ بولتے ہی وہ سوچنے لگی۔ ” عماد یوسف جو ابھی میڈیکل کے سیکنڈ ائیر کا سٹوڈنٹ ہے؟؟”۔ گرچہ وہ معاملے کی تہہ تک پہنچ گئی تھی پھر بھی اسنے کنفرم کرنا ضروری سمجھا۔
“جی جی بالکل وہی عماد یوسف لگتا ہے آپ اسکی کلاس کو پڑھاتی ہیں؟”۔ اسنے اندازہ لگاتے ٹانگ پہ ٹانگ رکھی تھی۔
“جی ایسا ہی ہے۔ میں اسکی کلاس کو پڑھاتی ہوں اور اس دن وہ میری کلاس لے گیا تھا”۔ بولتے ہی وہ منمنائی۔
@@@@@@@@@@@@
راحم کی بات کو ذہن پہ سوار کرتے وہ اسی بات کو سوچے کلاس کی اور بڑھ رہی تھی جبی اسکی نظر مخالف سمت سے آتے اپنے فرینڈز پہ پڑی۔
“کدھر تھی رباب تم؟؟؟”۔ اسکے قریب آتے ہی جوہم نے سوال کیا۔
“وہ میں راحم سر کے پاس گئی تھی”۔ وہ ہچکچائی۔
“راحم سر کے پاس؟”۔ وہ چونکا۔ “مگر رباب تم راحم سر کے پاس کیوں گئی تھی؟؟کوئی کام تھا؟”۔
“نہیں علی مجھے کوئی کام نہیں تھا ایکچوئلی سر نے مجھے بلایا تھا”۔ اسنے نفی کی۔
“کیا کام تھا سر راحم کو تم سے؟ کباب اورنج سیب”۔ علی کے کندھے پہ ہاتھ رکھے وہ تجسس بھرے انداز میں بولا۔
“وہ سر نے کہا ہے کہ۔۔۔”۔ رباب نے بتانا شروع ہی کیا تھا کہ پشت سے آتی آواز پہ بقیہ الفاظ منہ میں ہی دبا دیئے تھے۔
“عماد یوسف تمھیں پرنسپل میم بلا رہی ہیں”۔ اب وہ انکے قریب آ چکا تھا۔
“کیا؟ پرنسپل مجھے بلا رہی ہیں؟؟”۔ اپنی طرف اشارہ کرتے عماد نے اسکی بات دہرائی۔
“عماد یوسف تمھارا ہی نام ہے نا تو ظاہر ہے تمھیں ہی بلا رہی ہیں”۔ بولتے ہی وہ ہنس دیا۔
“میم چمن تمھیں کیوں بلا رہی ہیں؟؟”۔ زین نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔
“مجھے کیا پتہ یار؟ یہ تو وہاں چل کے ہی معلوم ہوگا۔ تم لوگ ایسا کرو کلاس میں چلو میں بات سن کر آرہا ہوں تم لوگ سر کو میرا بتا کر پروکسی لگوا دینا”۔ بولتے ہی وہ پرنسپل آفس کی جانب بڑھ گیا۔
“یا اللہ خیر کرنا۔ اب کونسی نئی آفت آن پڑی ہے جو میم کو بیٹھے بٹھائے میرا خیال آ گیا ہے”۔ قدموں کے ساتھ ساتھ اسکی زبان بھی ہنوز حرکت میں تھی۔
“مئے آئی کم ان میم؟؟”۔ دروازہ کھولتے ہی اسنے اجازت طلب کی۔
“یس کم ان”۔ رجسٹر میں سر دیئے اسنے کہا۔
“میم آپ نے مجھے بلایا؟؟”۔ ہلکے قدم اٹھاتا وہ اسکے سامنے جا کھڑا ہوا تھا۔
ہاتھوں کو پشت پہ باندھے وہ سر جھکائے احتراما کھڑا اس بات کا منتظر تھا کہ کب پرنسپل اس سے ہم کلام ہوں گی۔
“عماد کیا آپکو دوبارہ زندگی پہ یقین ہے؟؟”۔ سر اٹھائے اسنے عماد کو دیکھا۔
“نہیں میم مگر آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟؟”۔ وہ چونکا۔
“کیونکہ مجھے آ گیا ہے”۔ اسنے تمسکن آمیز انداز اپنایا۔
“یہ تو اچھی بات ہے”۔ وہ منمنایا۔ “مگر میم آپ نے مجھے یہاں کیوں بلوایا ہے؟؟”۔ وہ متجسانہ اسے دیکھ رہا تھا۔
“کیونکہ ایسا صرف اور صرف آپکی بدولت ممکن ہوا ہے”۔ چیئر سے اٹھتے وہ اسکے قریب آئی عماد جو کہ پیچھے کی اور ہاتھ باندھے کھڑا تھا بدک کر ذرا پیچھے کو ہوا۔
“میں کچھ سمجھا نہیں؟؟”۔ اسکے چہرے پہ واضح حیرت در آئی تھی۔
“آپکے دادا مرنے کے بعد آپکی خبر گیری کرنے آج کالج تشریف لائے تھے”۔ ہر لفظ پہ زور دیتے اس نے عماد کو دیکھا تھا جو پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“یار دو گھنٹے گزر گئے ہیں اور عماد کی کوئی خیر خبر نہیں ہے”۔ دو گھنٹے کی لگاتار کلاس لینے کے بعد علی اپنی چیزیں سمیٹنے میں لگا تھا جبی زین اسکے قریب آ کر کہنے لگا۔
“پتہ نہیں یار میم چمن نے ایسی کونسی بات کرنی تھی جو عماد ابھی تک نہیں آیا”۔ بیگ میں اشیا رکھتے اسنے حیرت سے کہا۔
“چلو نا چل کر دیکھتے ہیں”۔ جوہم جو ان کے مابین ہوئی گفتگو سن رہی تھی، ان کے قریب آ کر کہنے لگی۔
وہ سب کلاس سے نکل کر عماد کو ڈھونڈتے ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔
“یار ایک بار پرنسپل آفس دیکھ آتے ہیں شاید وہیں بیٹھا ہو”۔ رباب کے کہنے پہ سب نے پرنسپل آفس کی جانب قدم اٹھانا شروع کیئے جبی ایک کلاس کے باہر پہنچتے زین کے قدم تھم گئے تھے جہاں عماد تن تنہا چیئر پہ سر جھکائے بیٹھا تھا۔
زین جو کہ سب سے آگے تھا کلاس میں داخل ہو گیا جس کے عقب میں باقی سب بھی کلاس میں چلے گئے تھے۔
“عماد یار تو یہاں اکیلا کیوں بیٹھا ہے؟؟ کلاس میں کیوں نہیں آیا”۔ اسکے قریب آتے ہی زین نے حیرت سے سوال کیا جس کے جواب میں عماد خاموش رہا۔
“عماد بتاو میم نے ایسا کیا کہا ہے جو تم اتنے خاموش بیٹھے ہو؟؟”۔ زوحان نے اسکے قریب آتے اسکے بائیں شانے کو جھنجوڑا تھا۔
زوحان کی بات کا بھی اس پہ کوئی اثر نا ہوا تھا جس پہ علی نے اسکی جانب قدم بڑھائے تھے۔
“عماد یار کیا۔۔۔”۔ جونہی اسنے عماد کے دائیں شانے پہ ہاتھ رکھا اسنے علی کا ہاتھ پکڑ کر چہرہ اٹھا کر علی کو گھوری سے نوازا تھا۔
“تو دور رہ مجھ سے”۔ بولتے ہی اسنے علی کا ہاتھ جھٹکا۔
“کیا ہو گیا ہے عماد؟؟تم ایسے کیوں ری ایکٹ کر رہے ہو؟؟”۔ عماد کے اس رویے پہ وہ بوکھلا گیا تھا۔
“وہی ہوا ہے یار جو نہیں ہونا چاہئے تھا”۔ آواز کو بلند کرتے وہ چیخا تھا۔
“کیا نہیں ہونا چاہئے تھا؟؟”۔ زوحان نے حیرت سے کہا۔
“اس دن تم نے بنا پوچھے بنا سوچے میرے جیتے جاگتے دادا کو مار دیا تھا۔ آج وہ میری خبر گیری کرنے کالج آئے تھے۔ میں نے بولا تھا تم نے بہت برا کیا ہے مگر تم لوگ نہیں مانے”۔ بولتے ہی اسنے گھٹنوں پہ بازو ٹکائے اور ہاتھوں کی اوک میں چہرہ لیئے رونا شروع کیا تھا۔
“عماد یار تو نا رو میں کچھ کرتا”۔ عماد کو روتا دیکھ وہ تڑپ اٹھا تھا وہ جان چکا تھا جو کچھ اسنے کیا تھا وہ صحیح نہیں تھا۔
عماد کے دادا کوئی عام انسان نہیں تھے بظاہر تو وہ انسان تھے مگر ان کے سینے میں دل کی جگہ پتھر تھا۔ ان میں نام کی بھی انسانیت نہیں تھی نا ہی انہیں رشتوں کا پاس تھا نا ہی رشتوں کا مان۔
“چپ رہو تم، تم نے جو کرنا تھا کر لیا اب جو کریں گے میرے دادا کریں گے”۔ اپنے دادا کے وحشی طریقوں کو جانتے اور یاد کرتے وہ اور بھی خوف زدہ ہو گیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“فلزہ کل شام کی فلائٹ ہے تم اپنا سامان پیک کر لینا کہیں کچھ رہ نا جائے”۔ روم میں داخل ہوتے اسنے فلزہ کو مخاطب کیا جو وارڈ روب کے پاس کھڑی تھی۔
“ٹھیک ہے مگر عفان آج آپ میرے ساتھ شاپنگ پہ چلنا مجھے کچھ خریداری کرنی ہے”۔ بیڈ پہ بیٹھتے عفان کو اس نے کہا۔
“ماما جب آپ جائیں گی تو مجھے بھی لے جانا میں نے بھی کچھ چیزیں لینی ہیں”۔ بیڈ سے اترتے آہل اسکے قریب آیا تھا جس پہ فلزہ عفان کی جانب دیکھ کر مسکرا دی تھی۔
“آہل آپکو کیا چیزیں لینی ہیں؟؟”۔ عفان نے اسے پوچھا۔
“پاپا ایک پاوں کی ایک جراب، دوسرے پاوں کی دوسری جراب۔ کالا کالا چشمہ جو سورج کے سامنے پہنتے ہیں، بالوں کو لگانے والی جیلی، اور میرے ایک ہاتھ کی گھڑی اور دوسرے ہاتھ کی”۔ اسکی جانب دیکھتے آہل نے کہا۔
“مگر آہل بیٹا گھڑی تو ایک ہی ہاتھ کی ہوتی ہے اور ایک میں ہی پہنی جاتی ہے”۔ اسکی جانب ہلکا سا جھکتے فلزہ نے اسکے بال سہلائے۔
“اوہو ماما جب دو ہاتھوں میں گھڑی ہو گی تو ٹائم زیادہ نظر آئے گا نا۔ آپ نہیں سمجھو گے”۔ ہلکا سا ماتھے کو تھپکاتے وہ روم سے نکل گیا تھا۔
کھانسنے کی آواز پہ فلزہ اور عفان نے بیک وقت دروازے کی جانب دیکھا تھا جہاں ماہین اور فرخ کھڑے تھے۔
“ارے فرخ وہاں کیوں کھڑے ہو؟ اندر آو”۔ بیڈ کے تاج سے پشت ہٹاتے وہ سیدھا ہو بیٹھا تھا۔
“یہ میں کیا سن رہا ہوں فلزہ؟”۔ انکے قریب آتے اسنے سنجیدگی سے کہا۔
“کیا سن کر آئے ہو فرخ مجھے کیسے پتہ ہوگا؟”۔ اسنے لاعلمی کا اظہار کیا۔
“اچھا تو یہ بھی اب میں ہی بتاوں”۔ ماہین کی جانب دیکھتے اسنے خفگی کا اظہار کیا۔
“جی سالے صاحب اگر سن کے آپ آئے ہیں تو بات بھی آپ ہی بتائیں گے نا”۔ عفان نے اسے چھیڑتے کہا۔
“تم لوگ کل واپس جا رہے ہو”۔ عفان کو دیکھتے اسنے منہ بنایا۔
“جی”۔ عفان نے مطمئن اور مختصر جواب دیا۔
“مگر کیوں یار آئے بھی دیر سے ہو اور جا بھی جلدی رہے ہو۔ یہ تو کوئی منطق نا ہوئی”۔ کمر پہ ہاتھ رکھے اسنے چڑ کر کہا۔
“تو کیا اب ادھر ہی اپنا ڈیرہ جما لیں؟؟”۔ عفان نے آبرو اچکائے۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے
