Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie NovelR50785 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode22
Rate this Novel
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode01 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode02 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode03 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode04 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode05/06 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode07 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode08 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode09 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode10 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode11 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode12 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode13 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode14 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode15 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode16 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode17 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode18 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode19 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode20 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode21 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode22 (Watching)Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode23 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode24 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode25 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode26 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Last Episode
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode22
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode22
ٹاول سے سر رگڑتا وہ واش روم سے نکل کر سیدھا سنگھار میز کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔
ٹاول کو سنگھار میز کے ساتھ رکھے مخصوص سٹینڈ پہ لٹکا کر دونوں آستینوں کو فولڈ کیا پھر برش اٹھا کر بالوں میں پھیرنے لگا۔ بالوں کو ترتیب سے سیٹ کرنے کے بعد اسنے پرفیوم کی بوتل اٹھائی اور کپڑوں پہ چھڑک کر دوبارہ سے اپنی جگہ پہ واپس رکھ دی تھی۔
بیڈ کی جانب پلٹ کر سائیڈ ٹیبل پہ رکھا والٹ اور فون اٹھایا پھر روم سے نکل کھڑا ہوا۔
“ارے عائش آج تم دیر سے کیوں آئی ہو؟؟”۔ جونہی وہ روم سے نکلا اسکی نظر متضاد سمت سے آتی عائشہ پر پڑی۔
“ہاں وہ کچھ کام رہ گیا تھا تو سوچا ابھی مکمل کر لوں۔ تم کب آئے؟؟”۔ علی کی آواز پہ وہ مزید اسکے قریب آئی تھی۔
“آدھا گھنٹہ ہو گیا ہے۔ چلو تم فریش ہو کر ڈائننگ ٹیبل پہ ہی آ جاو ملکر لنچ کریں گے میں تمھارا انتظار کر رہا ہوں۔ جلدی آنا”۔ بولتے ہی وہ ڈائننگ ہال کی اور بڑھا پھر مڑ کر تنبیہ کی۔
@@@@@@@@@@@@
“رباب آپ نے مجھے یہاں بلایا؟ ہوپ سو کہ سب ٹھیک ہے؟؟”۔ شام کے پانچ بج رہے تھے رباب نے راحم کو کال کر کے کافی شاپ بلوایا تھا جس پہ وہ ابھی تک ششدر تھا۔ وہ اپنے سامنے بیٹھی رباب سے مخاطب ہوا جو سر جھکائے بیٹھی تھی۔
“سر جب سے آپ۔۔۔۔۔”۔ رباب نے شروعات کی جبی راحم نے اسے ٹوک کر چپ کروا دیا تھا۔
“رباب پہلے تو مجھے سر کہنا بند کرو۔ پہلی ملاقات پہ جب ہم ایک دوسرے کیلئے بالکل انجان تھے تب تو یہ تکلف ہمارے درمیان نہیں تھا۔ پھر اب کیوں؟؟”۔ ناگواری کی شکنیں راحم کے چہرے پہ ابھریں۔
“اس وقت مجھے یہ بھی تو علم نہیں تھا کہ آپ ہمارے کالج میں آ کر ہماری ہی کلاس کو پڑھائیں گے۔ پھر ایک استاد کا رتبہ تو بہت بڑا ہوتا ہے جسے آپ تکلف سمجھ رہے ہیں نا سر درحقیقت یہ وہ عزت ہے جو آپکو دینا میرا فرض ہے اور آپکا حق”۔ اسنے پر سکون جواب دیا جس پہ راحم کے چہرے پہ بے ساختہ ہنسی پھیلی تھی۔
“مطلب یہ کہ سر کا ٹیگ اتنی آسانی سے ہٹنے والا نہیں”۔ چیئر کی پشت چھوڑتے وہ سیدھا ہو بیٹھا تھا۔ “خیر چھوڑیں آپ یہ بتائیں کہ آپ نے مجھے یہاں کیوں بلایا ہے؟؟”۔ اسنے مزید کہا۔
“سر آپ اچھے سے جانتے ہیں کہ میں ایم-بی-بی-ایس سیکنڈ ائیر کی سٹوڈنٹ ہوں اسکے بعد ایک سال کی ہاوس جاب بھی ہے۔ نا ہی میرے پیڑنٹس اتنی جلدی میری شادی کریں گے نا ہی میں ابھی شادی کی خواہاں ہوں۔ ابھی مجھے اپنا کریئر بنانا ہے جو میرا ایم ہے اور اسکے لیئے مجھے بہت زیادہ محنت اور وقت درکار ہے”۔ رباب نے بات مکمل کر دی۔
“رباب میں جانتا ہوں ان فیکٹ میں سمجھ رہا ہوں کہ آپ کیا کہنا چاہ رہی ہیں؟ کیا سوچ رہی ہیں؟سب کچھ مگر میں آپ سے یہ کب کہہ رہا ہوں کہ آپ کل ہی میرے ساتھ نکاح کر کے میری منکوحہ بن جائیں؟۔ فلوقت تو رشتہ طے ہو گا شادی تب کر لیں گے جب آپ کہیں گی۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا؟؟”۔ وضاحت کرتے ہی اسنے سوال کیا۔
@@@@@@@@@@@@
ڈنر کے بعد وہ اپنے روم میں پشت پہ ہاتھ باندھے ٹہل رہا تھا۔
“ایسا کرتا ہوں کہ بابا سے بات کر لیتا ہوں دیکھتا ہوں کہ وہ کیا کہتے ہیں”۔ ذہن میں جنم لینے والے ہر خیال کو جھٹکتے وہ روم سے نکل کر دائیں ہاتھ مڑ گیا تھا۔
“بابا”۔ شجاع کے روم کی دہلیز پہ پہنچتے ہی اسنے پکارا تھا۔
“ارے راحم وہاں کیوں کھڑے ہو؟ اندر آو”۔ شجاع جو پرسکون بیڈ کے تاج کیساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا، اب سیدھا ہو بیٹھا تھا۔
“بابا آپ بزی ہیں؟؟”۔ قدموں کو حرکت دیتا وہ اسکے قریب آ گیا تھا۔
“نہیں بیٹا بزی تو نہیں ہوں۔ ہاں سونے کی تیاری میں ضرور تھا شکر ہے تم ابھی آ گئے ذرا بھی دیر کرتے تو مجھے نیند میں غرق پاتے”۔ بولتے ہی وہ قہقہ لگا کر ہنس دیا تھا۔
“تو پھر آپ سو جائیں کل بات کر لیں گے”۔ اسنے کہا۔
“نہیں راحم آو یہاں بیٹھو اور کہو کیا بات ہے؟؟”۔ اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہی اسنے کہا۔
“بابا میں نے اس لڑکی سے بات کر لی ہے۔ اسے کوئی اعتراض نہیں ہے میں چاہتا ہوں آپ اور ماما اسکے گھر میرا رشتہ لے کر جائیں کل ہی”۔ بغیر وقت کا ضیاع کیئے اسنے مدعہ بیان کیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
پاکٹس میں ہاتھ ڈالے خوابوں کی بستی میں گم وہ تن تنہا لان میں چہل قدمی کر رہا تھا۔
لان کی جانب کھلتی ڈرائنگ روم کی نئے طرز کی وسیع کھڑکی بند کرنے کی غرض سے وہ ڈرائنگ روم میں آئی تھی اسی اثنا میں اسکی نظریں لان میں چہل قدمی کرتے زین پہ جا ٹکیں تھیں۔
کھڑکی بند کرتے وہ اپنے روم میں چلی گئی تھی۔ چند منٹوں میں فرخ زین کے پاس لان میں آن پہنچا تھا۔
“ارے فرخ بھائی آپ؟؟، آپ سوئے نہیں؟”۔ جونہی وہ مڑا اسنے فرخ کو اپنے سامنے کھڑا پایا پھر چونک کر اس سے سوال کیا۔
“یہی سوال تو مجھے تم سے کرنا تھا۔ تم کیوں نہیں سوئے اور تم اس وقت لان میں کیا کر رہے ہو؟؟ جبکہ تمھیں تو اس پہر اپنے روم میں بیڈ پہ نیند کی آغوش میں ہونا چاہئے تھا”۔ سینے پہ ہاتھ باندھے اسنے کہا۔
“کچھ نہیں فرخ بھائی نیند نہیں آ رہی تھی سوچا یہاں آ کر ٹہل لوں شاید نیند آ جائے”۔ پاکٹس سے ہاتھ نکالے اب اسنے پہلو میں کر لیئے تھے۔
“اچھا اگر نیند آ جائے گی تو کیا میرا لعل یہیں آرام فرمائے گا؟؟”۔ اسنے لافزنی کی۔
“اب ایسی بھی بات نہیں ہے۔ آپکو تو اصولا اس وقت ماہین بھابی کے پاس ہونا چاہئے اور آپ میرے پاس آ گئے حد ہے یار”۔ ٹال مٹول سے کام لیتے اسنے منہ پھیر لیا تھا۔
“بات سنو میں تمھارا بڑا بھائی ہوں تمھاری رگ رگ سے واقف ہوں۔ تم یہ نا سمجھو کہ الفاظ کے ہیر پھیر سے تم مجھے بدھو بنا لو گے۔ اب سیدھے سیدھے بتاتے ہو کیا مسئلہ ہے؟ یا الٹی ترکیب آزماوں؟؟”۔ اسکے بازو کو گرفت میں لیتے اسنے جھٹکے سے اسے اپنے سامنے کیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
صبح کے آٹھ بج رہے تھے سورج بادلوں کے پیچھے سے جھانک کر آنکھ مچولی کھیلنے کے موڈ میں تھا۔ رباب، جوہم، زوحان اور زین کلاس کے باہر سیڑھیوں پہ بیٹھے علی، عون اور عماد کے منتظر تھے ساتھ ہی آپس میں گفتگو کر رہے تھے۔
“مجھے تم سب سے بات کرنی ہے مگر میں یہ چاہتی ہوں کہ وہ لوگ بھی آ جائیں تب کروں”۔ رباب جو کہ پہلی سیڑھی پہ جوہم کے ہمراہ بیٹھی تھی، نے کہا۔
“ایسی کونسی بات ہے رباب جو تمھیں ہم سب سے کرنی ہے؟؟ جسکے لیئے ہم سب کا ہونا ضروری ہے۔ ابھی بتا دو مجھ سے زیادہ ویٹ نہیں ہوتا”۔ زین جو کہ اس سے ایک درجہ نچلی سیڑھی پہ بیٹھا تھا، نے گردن کو جنبش دیتے چہرہ اٹھا کر رباب کو دیکھا تھا۔
“بس ہے نا کوئی بات اور تم صبر نہیں کر سکتے؟”۔ رباب نے خفگی ظاہر کی۔
“لو بھئی تھنک آف ڈیولز اینڈ ڈیولز آر ہیئر”۔ زوحان جو کہ ان کے سامنے فرش پہ کھڑا تھا، نے اپنی طرف آتے عماد،علی اور عون کو دیکھ کر کہا۔
“اوئے کدھر تھے تم لوگ؟؟”۔ زین نے با آواز بلند کہا۔
“وی-پی آفس گئے تھے”۔ قریب آتے ہی علی نے پھولتی سانس سے کہا۔
“ہاں اور تم لوگوں کیلئے ایک سرپرائز بھی ہے”۔ اسکے تعاقب میں آتے عون نے مزید کہا۔
کلاس کا سی-آر ہونے کی حیثیت سے سب سے پہلے خبر علی کو ہی معلوم ہوتی تھی۔
“کیسا سرپرائز؟؟”۔ جوہم متجسس ہوئی۔ جوہم کے ہمراہ باقی سب بھی علی کو حیرانگی اور تجسس سے دیکھ رہے تھے۔
“نیکسٹ ویک ہمارا ٹریپ جا رہا ہے مری۔ میں میم سے یہ بات کر کے آیا ہوں کہ صرف مال روڈ پہ جانے کا کیا فائدہ لگے ہاتھوں پتڑیاٹا بھی گھوم آتے ہیں۔ ہم سب چل رہے ہیں میں کسی کا کسی قسم کا کوئی بھی بہانہ نہیں سنوں گا اور ہاں۔۔۔۔۔ جوہم تم بھی اس بار ہمارے ساتھ چل رہی ہو ورنہ تمھاری خیر نہیں”۔ تفصیل دیتے ہی اسنے جوہم کو باور کراتے وارن کیا تھا۔
“بالکل جوہم علی ٹھیک بول رہا ہے تم ہر بار کوئی نا کوئی بہانہ بنا کر بھاگ جاتی ہو۔ اس بار تم ہمارے ساتھ چل رہی ہو، سمجھی؟”۔ رباب نے بولتے ہی اسے گھوری سے نوازا تھا۔
“ایک منٹ رباب۔ میں کب انکار کر رہی ہوں؟؟ میں چلوں گی اور ویسے بھی روز روز تھوڑی نا موقع ملتا ہے کہیں جانے کا”۔ رباب کو دیکھتے ہی اسنے مزے سے جواب دیا جسکے جواب میں رباب اسے حیرانگی سے دیکھ رہی تھی کیونکہ ایسا پہلی بار ہوا تھا جب جوہم نے خود اپنے گروپ کے ہمراہ جانے کی حامی بھری تھی۔
@@@@@@@@@@@@
دن کے بارہ بجے کالج لان میں رباب بینچ پہ بیٹھی تھی اسکے تھوڑا فاصلے پہ برابر میں جوہم جبکہ باقی سب انکے سامنے گھاس پہ بیٹھے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
“اب تم لوگ مجھے ایسے غصے سے تو نا دیکھو۔ میں نے کونسا سب کچھ جان بوجھ کے کیا ہے؟”۔ معصومیت کا لباس اوڑھے اسنے سب کا جائزہ لیا تھا۔
“کباب اورنج سیب تم اتنی بڑی بات ہم سے چھپا رہی تھی اور ہم تم پہ غصہ بھی نا ہوں واہ”۔ عون گھٹنوں کے بل بیٹھتے اسکے قریب ہوا تھا۔
“تو یار میں تم لوگوں کو بتانے ہی والی تھی مگر۔۔۔۔”۔
“ہاں بتانے والی تھی میرا دل نہیں کر رہا تھا مگر تم لوگوں کو بتانا میری مجبوری تھی کیونکہ اگر میں نا بتاتی تو کوئی اور بتا دیتا۔ یہی نا؟؟”۔ زوحان جو کہ اسکے دائیں ہاتھ پہ تھا، نے تپ کر اسکی بات کاٹی تھی۔
“نہیں زوحان ایسی بات نہیں ہے”۔
“تو پھر کیسی بات ہے رباب؟؟ ہم لوگ فرینڈز ہیں اور میرا نہیں خیال کہ ہم لوگوں کے درمیان یوں رازونیاز والا سلسلہ ہونا چاہیئے”۔ علی نے تمسکن آمیز انداز میں کہا۔
“علی ٹرسٹ می۔ میں تم لوگوں کو بتانا چاہ رہی تھی مگر ٹائم ہی نہیں مل رہا تھا”۔
“وڈی عمران خان دی سیکٹری لگی اے جیڑا اسنو سن دسنڑاں دا ٹائم ہی نہیں لگیا”۔ بولتے ہی عماد نے سر جھٹکا۔
“اوئے چپ کر جاو سر راحم اسی جانب آ رہے ہیں”۔ زین نے جونہی گردن کو جنبش دیتے سر پھیرا اسکی نظر را حم پہ پڑی جو اسی جانب آ رہا تھا۔
رباب کے ہمراہ باقی سب بھی احتراما اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
“اسلام و علیکم سر”۔ راحم کے قریب آتے ہی سب نے یکجا کہا۔
“وعلیکم السلام آپ لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں کلاس نہیں ہے کیا؟”۔ رباب کو دیکھتے اسنے سب کو یکجا مخاطب کیا اس بات سے یکسر بے خبر کہ سب اسکے متعلق جان چکے ہیں اور اسکی حرکتوں کو نوٹ کر رہے ہیں۔
“سر اگر آپکو کوئی کام تھا تو مجھے بلوا بھیجا ہوتا آپ خود کیوں آ گئے؟؟”۔ مصنوعی سنجیدگی چہرے پہ سجائے علی نے راحم کو مخاطب کیا تھا پھر اپنے برابر کھڑے زین کو دیکھتے مسکرا دیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“ماہین ۔۔۔ ماہین کدھر ہو؟؟”۔ روم میں داخل ہوتے ہی اسنے آواز لگائی۔
“ماہین”۔ جواب نا ملنے پر اسنے واش روم کا دروازہ کھول کر تسلی کی پھر روم سے نکل کھڑا ہوا تھا۔
سیڑھیاں اترتے ہی وہ بائیں جانب انٹرنس کی اور بڑھا تھا جبی سامنے سے آتیں ماہین اور مصباح کو دیکھتے اسکے قدم وہیں تھم گئے تھے۔
“کہاں گئے تھے آپ لوگ اور ماہین بندہ بتا دیتا ہے”۔ ماہین کے قریب آتے ہی فرخ نے خفگی سے کہا۔
“بیٹا ہم ہوسپٹل گئے تھے”۔ مصباح نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“وہ تو ٹھیک ہے مما لیکن بتانا تو فرض بنتا ہے نا”۔ مصباح کی بات کو نظر انداز کرتے اسنے کہا۔
“فرخ تم باپ بننے والے ہو”۔ بولتے ہی وہ ماہین کو دیکھ کر مسکرا دی تھی۔
“وہ بھی ٹھیک ہے مما لیکن بندہ بتا۔۔۔۔۔ کیا؟ کیا کہا ہے آپ نے؟؟”۔ مصباح کی بات پہ غور کرتے وہ مصباح کے قریب ہوا تھا۔
“یہی فرخ کہ تم پاپا بننے والے ہو”۔ اسکے رخسار کو چھوتے مصباح نے کہا۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے
