Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie NovelR50785 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode08
Rate this Novel
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode01 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode02 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode03 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode04 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode05/06 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode07 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode08 (Watching)Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode09 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode10 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode11 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode12 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode13 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode14 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode15 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode16 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode17 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode18 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode19 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode20 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode21 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode22 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode23 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode24 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode25 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode26 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Last Episode
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode08
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode08
“پریشانی والی کوئی بات نہیں ہے معمولی سا ٹمپریچر ہے۔ آپ انہیں پراپر میڈیسن دیں انشا اللہ آرام آ جائے گا”۔ ڈاکٹر نے پریسکریپشن اپنے سامنے بیٹھے انسان کی جانب بڑھا کر ہدایات کیں تھیں۔
“تھینک یو سو مچ ڈاکٹر”۔ بولتے ہی وہ چیئر سے اٹھ کھڑا ہوا تھا عائشہ جو اسکے برابر والی چیئر پہ بیٹھی تھی، وہ بھی اسکے تعاقب میں اٹھ کھڑی ہوئی۔
وہ آگے چل رہا تھا جبکہ عائشہ اسکے عقب میں دھیرے دھیرے پیر رکھ رہی تھی۔
“مس عائشہ آپ یہاں ویٹ کریں میں میڈیسن لے آتا ہوں”۔ ہوسپٹل سے باہر نکلتے اسنے اسے مخاطب کرتے کہا۔
“نہیں سر میں گھر جا کر لے لوں گی آپکو خواہ مخواہ پریشانی ہوگی”۔ اسنے پریسکریپشن لینے کی غرض سے ہاتھ اسکی جانب بڑھایا۔
“نو اٹس اوکے۔ قریب ہی سٹور میں میں جا کے لے آتا ہوں”۔ بولتے ہی وہ اپنے بائیں ہاتھ پہ مڑ گیا تھا۔
“مجھے تو آج تک انکی سمجھ نہیں آئی۔ کبھی اتنی نرمی سے بات کرتے ہیں اور کبھی منہ پہ لائیو کر دیتے ہیں”۔ عائشہ کی نظروں نے تھوڑا دور تک اسکا پیچھا کیا پھر سر جھٹک کر دوسری جانب دیکھنے لگی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
دن کے تین بج رہے تھے۔ اسنے فورا اپنی چیزیں سمیٹیں اور بیگ پشت پہ ڈال کر برق صفت کلاس سے باہر نکل آیا تھا۔
“ارے باقی لوگ کدھر گئے؟؟چلے گئے کیا؟؟”۔ کلاس سے تھوڑا فاصلے پہ زین اور عماد کھڑے تھے جو کہ اسی کے انتظار میں تھے۔
“ہاں چلے گئے اب چل ہم تیرے ہی منتظر تھے”۔ علی، عماد اور زین نے یکجا کالج کے بیرونی گیٹ کے جانب قدم اٹھانا شروع کیئے۔
“ہاں بس تھوڑا لیکچر رہتا تھا سوچا لکھ لوں۔ روز کا روز نا کروں تو آخر میں مشکل ہوتی ہے۔ ویسے بھی سر اتنا جو لکھوا دیتے ہیں”۔ علی نے سر پہ رکھی پی کیپ کو سیٹ کیا پھر پاکٹ سے کار کی چابی نکال کر اسے گھمانے لگا تھا۔
اسنے کی- چین کے ساتھ لگا بٹن دبایا تو کار جو اسکے مقابل تھوڑے فاصلے پر کھڑی تھی، انلاک ہو گئی تھی۔
“اچھا عماد، زین بتاو میرے ساتھ چلنا ہے؟؟”۔ اپنے عقب میں آتے زین اور عماد کو اسنے مڑتے ہی مخاطب کیا۔
“نہیں یار تو جا ہم کالج بس میں جائیں گے”۔ زین نے بس کی طرف اشارہ کرتے کہا جو اس طرف ہی آ رہی تھی۔
“چلو جیسے تم لوگوں کی مرضی، بائے”۔ بولتے ہی وہ کار کی جانب بڑھا تھا۔
بیگ کو کار کی پچھلی سیٹ پہ رکھ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی تھی۔
کار کو ریورس کرتے اسنے دائیں سائیڈ پہ سڑک کی طرف دوڑایا تھا۔
” ہوہوہوہوہو۔۔۔۔۔۔
یونہی نہیں تجھ پہ دل یہ فدا ہے
~~~~
سب سے تو علیحدہ سب سے جدا ہے”
ہاتھ بڑھاتے اسنے میوزک آن کر دیا تھا۔
“یونہی نہیں تجھ پہ دل یہ فدا ہے
سب سے تو علیحدہ سب سے جدا ہے
نا ممکن تجھ سا کوئی چہرہ مل پانا”
وہ اب کالج سے تھوڑا دور نکل آیا تھا۔
“ارے یہ جوہی پیدل جاتی ہے کیا؟؟”۔ وہ اپنا پورا دھیان ڈرائیونگ پہ مرکوز کیئے ہوئے تھا کہ اسکی نظر اپنے بائیں جانب فٹ پاتھ پہ چلتی جوہم پہ پڑی۔ اس نے کار میں چلتی موسیقی کا گلا گھونٹ دیا پھر کار کو اسکے تعاقب میں کر کے ہارن بجایا تھا۔
ہارن کی آواز پہ وہ جھنجلا کر مڑی تھی۔
“جوہم آ جاو میں تمھیں ڈراپ کر دوں گا”۔ اپنی سائیڈ دروازے پہ لگے مخصوص بٹن کو دباتے اسنے دوسری سائیڈ کا شیشہ نیچے کو کیا تھا۔
“نہیں علی میں چلی جاوں گی، تھینکس”۔ اسنے نفی کی۔
“کم آن جوہم۔ ڈونٹ بی فارمل۔ آ جاو”۔ بولتے ہی وہ ذرا آگے کو ہوا اور اس طرف جھک کر دروازہ کھول دیا تھا۔
مجبوری کے تحت وہ کار میں بیٹھ گئی تھی۔
جوہم نے کار میں بیٹھ کر دروازہ بند کیا تو علی نے پاوں سے کار کا ایکسلڑیٹر دبایا۔
دل میرا چاہے جب بھی تو آئے
تجھ سے میں کہہ دوں واپس نا جانا
بانہوں میں تیری ساری شب جاگوں
آنکھوں سے دیکھوں صبح کا آنا”
تھوڑا دور جاتے اسنے دوبارہ سے موسیقی بحال کر دی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
“یہ لیجیئے چائے”۔ وہ اپنے کمرے میں صوفے پہ بیٹھا ہاتھ میں پکڑی فائل پہ سرسری نگاہ ڈال رہا تھا۔
“مصباح کل شام ابراہیم کے بیٹے کی اینگجینجمینٹ(منگنی) ہے۔ بمعہ فیملی انویٹیشن ہے تم اور زین تیار رہنا”۔ فائل کو سائیڈ ٹیبل پہ رکھتے اسنے ٹانگ پہ ٹانگ رکھ لی تھی۔
“جی اچھا ویسے تقریب کتنے بجے شروع ہوگی تاکہ میں اس حساب سے تیاری کروں۔ جوڑے کیلئے کچھ گفٹس وغیرہ بھی تو لینے ہوں گے”۔ مصباح نے اٹھ کر اسے چائے کا کپ پکڑایا پھر اپنا کپ پکڑ کر دوبارہ اپنی جگہ بیٹھ گئی تھی۔
“ہاں وہ دیکھ لینا۔ ٹائمنگ مجھے صحیح نہیں پتہ میرا خیال ہے پانچ بجے تقریب شروع ہو جائے گی۔ آپ لوگ چار بجے تک تیار رہنا۔ پھر بھی میں احتیاط ابراہیم سے دوبارہ پوچھ لوں گا”۔ بولتے ہی اسنے چائے کا ایک گھونٹ حلق سے اتارا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“بارشیں یوں اچانک ہوئیں
تو لگا تم شہر میں ہو
رات بھر پھر وہ جب نا رکیں
تو لگا تم سحر میں ہو
کہیں اک ساز ہے گونجی
تیری آواز ہے گونجی
میری خاموشیوں کو آ کر دے بیاں
تیرے بن بے وجہ سب ہے تو اگر ہے تو مطلب ہے نہیں تو ٹوٹا سا ادھورا کارواں”
کار میں مدھم موسیقی کیساتھ اے-سی کی ٹھنڈی ہوا پرسکون احساس دلا رہی تھی۔ علی اپنا دھیان ڈرائیونگ پہ مرکوز کیئے ہوئے تھا جبکہ جوہم شیشے کے پار اپنے ساتھ دوڑتے انسانوں، درختوں اور اشیا کو دیکھ رہی تھی۔
“اگر برا نا مانو تو ایک بات پوچھوں؟؟”۔ اس طرف منہ کیئے اسنے پوچھا۔
“ہاں پوچھو”۔ یوٹرن لینے کی غرض سے اس نے جوہم کی سائیڈ پہ دیکھا تھا۔
“تمھیں اس دن پتہ کیسے چلا تھا کہ میری اسائنمنٹ میرے پاس نہیں ہے؟”۔ وہ دلچسپی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“کہتے ہیں نا کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے”۔ اسنے اب یوٹرن لے لیا تھا۔
“مطلب؟؟”۔ وہ چونکی۔
“مطلب یہ کہ اگر ایک دوست مشکل میں ہو اور دوسرا اس سے بے خبر رہے یہ تو خارج از امکان ہے۔ خزاں میں درختوں سے جھڑنے والے ان پتوں کی مانند ساتھ ہو تو اس ساتھ کا کیا فائدہ؟؟۔ میرا ماننا ہے کہ ساتھ اور دوست دونوں کو ان جڑوں کی مانند ہونا چاہیئے جو خود زمین کے اندر رہ کر درخت کو پڑوان چڑھاتی ہیں۔ ہمیں بظاہر وہ درخت نظر آتا ہے کبھی جڑیں دیکھی ہیں؟؟نہیں نا۔ وہ زمین کے اندر رہ کر بھی مکمل سپورٹ فراہم کرتی ہیں”۔ اسنے جوہم پہ ایک نظر ڈالی اور اپنا نظریہ پیش کیا تھا۔
“پتہ ہے کیا علی انسان کو اتنا خوبصورت اسکی ظاہری شکل و صورت اور دائمی حسن نہیں بناتا جتنا کہ اسکا اخلاق، کردار اور اسکا دل بناتا ہے۔ تمھیں دیکھ کے کون کہہ سکتا ہے کہ تم اتنے اچھے اخلاق اور لب و لہجے کے مالک ہو”۔ علی سے نگاہ ہٹائے وہ سامنے دیکھنے لگی تھی۔
“تھینکس ویل اسے میں اپنے حق تعریف سمجھوں یا شان میں بولا گیا قصیدہ؟؟”۔ اسکے چہرے پہ نگاہ ڈالے وہ ہولے سے مسکرا دیا تھا۔
“جو مرضی سمجھ لو سوچ پہ کونسا پابندی عائد ہے”۔ وہ شریر ہوئی۔
@@@@@@@@@@@@
جوہم کو گھر ڈراپ کرنے کے بعد وہ تقریبا آدھے گھنٹے میں گھر پہنچ گیا تھا۔
“اسلام و علیکم دادو”۔ گھر داخل ہوتے اسنے لاونج میں بیٹھی عقیلہ پہ سلامتی بھیجی جو ہاتھ میں تسبیح پکڑے درود کا ورد کر رہی تھی۔
“وعلیکم السلام میرا بچہ کیسا ہے؟؟؟۔ اسکی پیشانی چومتے اسنے خوش اسلوبی سے کہا۔
“بالکل ٹھیک ہوں۔ دادو یہ باقی سب کدھر ہیں ماما،پاپا اور یہ عائشہ کہاں ہے؟؟آئی نہیں کیا ابھی تک؟؟؟”۔ عقیلہ کی گود میں سر رکھے وہ صوفے پہ لیٹ گیا تھا۔
“عفت اور حسنین اپنے کمرے میں ہیں۔ عائشہ اپنے کمرے میں میرے خیال سے آرام کر رہی ہے”۔ عقیلہ نے اسکے بالوں کو سہلاتے کہا۔
“آرام کر رہی ہے؟؟وہ تو آرام کرتی نہیں اس ٹائم پہ”۔ اسنے نظریں اٹھا کر عقیلہ کے چہرے کو دیکھا جو ہنوز سر جھکائے اسکے بالوں کو سہلا رہی تھی۔
“دراصل عائشہ کی طبیعت کچھ ناساز ہے معمولی سا بخار ہے اس لیئے وہ آج آفس سے بھی جلدی آ گئی تھی بلکہ اسکے باس اسے خود چھوڑ کے گئے ہیں”۔ اسنے وضاحت دی۔
“کیا؟؟عائشہ کو بخار ہے۔ اب اسکی طبیعت کیسی ہے؟ کھانا کھایا کیا اسنے؟؟اور میڈی لی؟؟؟”۔ وہ سیدھا ہو بیٹھا تھا۔
“ہاں بیٹا عفت نے اسے کھانا بھی کھلا دیا تھا اور دوائی بھی دے دی تھی۔ انشا اللہ جلد صحت یاب ہو جائے گی تم فکر مند نا ہو” عقیلہ نے اسے پرسکون کرتے کہا۔
“اچھا دادو میں ذرا فریش ہو لوں پھر ملاقات ہوگی”۔ اٹھتے ہی اسنے شرٹ سیٹ کی پھر بیگ اٹھا کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“ماما کیا بنانا ہے؟؟؟”۔ کچن کے سامنے رکھے گئے ڈائننگ ٹیبل کی چیئر پہ بیٹھی مصباح کے قریب جاتے اسنے کہا جو کہ سر جھکائے ترکاری کاٹنے میں لگی تھی۔
“بیٹا آلو قیمہ بنانے کا سوچ رہی ہوں۔ کیا ہوا میرے بیٹے کو بھوک لگی ہے؟؟”۔ بولتے ہی وہ مسکرا دی۔
“نہیں ماما بس ایسے ہی پوچھ رہا تھا۔ لائیں میں ہیلپ کرواتا ہوں”۔ اسکے برابر والی چیئر گھسیٹتے وہ اس پہ بیٹھ گیا تھا۔
“نہیں میری جان میں کر لوں گی۔ ویسے بھی یہ کام مردوں کے کرنے کو تھوڑی ہیں”۔
“تو کیا ہوا ماما؟ اپنی ماں کی ہیلپ کرنے میں کیا برائی ہے؟؟”۔ اسنے میز کی وسط میں رکھی فروٹ باسکٹ سے سیب اٹھایا اور اسکا ایک بائٹ لیا۔
“نہیں کوئی برائی نہیں ہے مگر میں نہیں چاہتی کہ میرے ہوتے ہوئے آپ یہ کام کرو۔ سچ یاد آیا زین کل چار بجے تیار رہنا ابراہیم بھائی کے گھر جانا ہے”۔ اسنے ترکاری کاٹ لی تھی۔
“سچ ماما۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ خیریت تو ہے کیوں جانا ہے؟؟”۔ زین کی اس پراسرار خوشی پہ مصباح کی نگاہ اسکے چہرے پر اٹھی تھی جسے زین نے لب دباتے چھپا لیا تھا۔
“جی بیٹا خیریت ہے وہ ابراہیم بھائی کے بیٹے کی اینگجینجمنٹ ہے اسی سلسلے میں”۔ اسنے مدعے کی بات کی تھی۔
“آپ بے فکر رہیں ماما میں تیار رہوں گا”۔
“اندھا کیا مانگے دو آنکھیں” زین پہ اس وقت یہ مثل خوب جچ رہی تھی۔ اسکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
گھڑی نے آٹھ کا ہندسہ عبور کر لیا تھا۔ رات کے کھانے کی غرض سے وہ اپنے روم سے نکل کھڑا ہوا تھا۔ عائشہ کی غیر موجودگی اسے کھل رہی تھی۔ اسکی غیر حاضری پہ علی کا دھیان عائشہ کی طرف رسائی کر گیا تھا۔
“علی بیٹا کہاں جا رہے ہو؟کھانا تو کھا لو”۔ عفت نے اسے ٹوک کر کہا۔
“جی ماما بس ابھی آیا”۔ اسنے عفت کو پلٹ کر جواب دیا پھر الٹے پاوں عائشہ کے روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔
اسکی سوچ کے مطابق خراب طبیعت کے پیش نظر عائشہ اس وقت نیند میں ہوگی۔ وہ بلا اجازت اس وقت اسکے روم میں نہیں جانا چاہتا تھا دوسری طرف عائشہ کی خراب طبیعت کے پیش نظر وہ اسکو ایک بار دیکھنا چاہتا تھا۔ کسی کنواری لڑکی کے روم میں جانا خاص کر اس وقت جبکہ وہ سو رہی ہو اخلاقیات کے خلاف تھا اور یہی بات اسکے ذہن میں بار بار گھوم رہی تھی۔ گرچہ عائشہ اور اسکی گہری دوستی تھی وہ کزنز تھے مگر پھر بھی وہ ہر بات کا خاص خیال رکھتا تھا۔
وہ سوچ کے اس بھنور میں گھوم رہا تھا کہ عائشہ کے روم کی دہلیز تک پہنچتے اسکے ذہن میں آنے والے تمام خیال تتلی بن کر ہوا میں اڑ گئے تھے جب اسنے عائشہ کو بیڈ کے تاج کے ساتھ ٹیک لگاکر بیٹھا دیکھا تھا۔
“محترمہ لگتا ہے کہ باس کی دی ہوئی دوائی اور کی گئی ہمدردی کا سرور اتنا زیادہ تھا کہ ابھی تک آپ اسکے حصار سے خود کو باہر نہیں نکال پائیں”۔ پینٹ کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالے وہ متوازن چال چلتا اسکے قریب گیا۔
“پاگل کیا بول رہے ہو؟”۔ علی کی آواز پہ وہ اسکی جانب متوجہ ہوئی۔
“بتاو طبیعت کیسی ہے؟؟”۔ سنگھار میز کے سامنے پڑے سٹول کو اٹھا کر وہ اسکے قریب بیٹھ گیا تھا۔
“پہلے سے بہتر ہے اب”۔ اسکی آنکھوں میں غنودگی ابھی بھی برقرار تھی۔
“دکھاو مجھے”۔ تھوڑا آگے کو ہوتے اسنے اسکی نبض چیک کی۔ “عائشہ تمھیں تو ابھی تک بخار ہے۔ ایسا کرو تم آرام کرو میں تمھارے کھانے کیلئے کچھ لے آتا ہوں”۔ بولتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“نہیں علی میں وہیں آ جاتی ہوں اس طرح اچھا نہیں لگتا”۔ نفی کرتے اسنے ٹانگیں بیڈ سے نیچے لٹکا لیں تھیں۔
“خبردار جو تم یہاں سے ہلی۔ منع کیا ہے نا ایک بار سمجھ جایا کرو بات کو۔ میں ابھی آتا ہوں”۔ اسے وارن کرتے وہ روم سے نکل گیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے
