Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie NovelR50785 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode07
Rate this Novel
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode01 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode02 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode03 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode04 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode05/06 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode07 (Watching)Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode08 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode09 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode10 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode11 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode12 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode13 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode14 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode15 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode16 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode17 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode18 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode19 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode20 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode21 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode22 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode23 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode24 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode25 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode26 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Last Episode
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode07
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode07
گھڑی کی بڑی سوئی بارہ پر تھی جبکہ چھوٹی نو پر، اسنے آج اپنے کمرے میں ہی کھانا تناول کیا تھا کیونکہ وہ چلنے پھرنے سے قاصر تھا۔
اپنے دونوں پیر سیدھے کیئے وہ بیڈ کے تاج کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔
“علی اب تمھارا زخم کیسا ہے؟؟ آرام آیا؟؟”۔ اسکے قریب آتے اسنے ہولے سے پوچھا۔
“ہاں عائش اب تھوڑا بہتر ہے۔ بیٹھو”۔ اپنے سامنے بیڈ کی جانب اشارہ کرتے وہ بولا۔
“تمھاری میڈیسن کہاں ہے؟؟ ادھر دو میں لگا دیتی ہوں”۔ بیڈ کی پائنتی میں بیٹھتے اسنے اسکے پیروں کو ایک نظر دیکھا۔
“نہیں میں لگا لوں گا”۔ اسنے نفی کی۔
“دے دو میں لگا دیتی ہوں تمھیں مشکل ہو گی۔ اب میں آ گئی ہوں تو مجھے ہی دے دو خود کیوں زحمت کرو گے۔ ویسے بھی میڈیسن لگانے کے بعد تم نے ہاتھ بھی تو دھونے ہوں گے اور تم اٹھ نہیں سکتے۔ اس لیئے بہتر یہی ہے کہ تم مجھے ہی دے دو”۔ اسرار کرتے اسنے مزید کہا۔
“اچھا بابا۔ یہ لو”۔ اپنے دائیں جانب سائیڈ ٹیبل کی دراز کھولتے اسنے ایک ڈبہ عائشہ کی جانب بڑھا۔
ڈبے کو کھولتے اسنے ایک ٹیوب نکالی اور انگلی کے پوروں کی مدد سے اسکے پیروں کے تلوں میں لگانا شروع کیا۔
اسکے سفید جھاگ پیروں پہ بنے چھالے چاند پہ گرہن کا کام سر انجام دے رہے تھے۔ بہت کم مرد ہی ایسے ہوتے ہیں جن کے پیر کسی نازک اور خوبصورت پنکھڑی کی ماند ہوتے ہیں اور علی ان میں سے ایک تھا۔
“علی ایک بات بتاو تمھیں یہ چھالے بنے کیسے؟؟”۔ ہنوز اسکے پیروں پہ نظر جمائے وہ اسکے زخموں پہ کریم لگانے میں لگی تھی۔
“ایسے ہی چھوڑو اب اس بات کو۔ ویسے بھی مصیبت کسی کے بلانے پر نہیں آتی”۔ اسکی بات کو ہوا میں اڑاتا وہ قہقہ لگا کر ہنس دیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“ارے جوہی بیٹا تم ابھی تک جاگ رہی ہو؟ سوئی کیوں نہیں؟؟”۔ واش روم سے نکلتے وہ جوہم کا وجود اپنے کمرے میں دیکھتے حیران ہوئی۔
“بس ماما سونے ہی جا رہی تھی۔ آپکے روم کے پاس سے گزری تو سوچا علیزہ سے مل لوں۔ پورا دن مصروفیت کے باعث اس سے مل نہیں سکی”۔ حفصہ کی جانب منہ کا رخ کیئے اسنے کہا۔
“اچھا بیٹا علیزہ تو کب کی سو گئی ہے اب تم بھی جا کر سو جاو۔ صبح کالج جانا ہے نا دیر نا کرو”۔ اسے تلقین کرتے وہ بھی بیڈ پہ آ گئی تھی۔
“جی ماما جا رہی ہوں۔ گڈ نائٹ”۔ بولتے ہی وہ الٹے پاوں دروازے کی جانب لپکی تھی۔
“اچھا سنو جوہی بیٹا اس سنڈے تم کوئی باہر کا پلین نا رکھنا تمھارے لیئے ایک سرپرائز ہے”۔ اسے جاتے ہوئے ٹوکا۔
“ماما کیسا سرپرائز؟؟”۔ وہ چونک کر مڑی۔
“یہ تو آپکو سنڈے کو ہی پتہ چلے گا فلوقت آپ جا کر سو جاو”۔ اسنے شرارت سے کہا۔
“تو مطلب آپ مجھے نہیں بتائیں گیں؟؟”۔ کمر پہ ہاتھ رکھے اسنے مصنوعی غصے سے کہا۔
“آپکے پاپا آ رہے ہیں”۔ وہ قہقہ لگا کر ہنس دی۔
“سچ ماما؟؟”۔ وہ حیرت انگیز حد تک خوش ہوئی تھی۔
“جی میری جان”۔
“ویسے ماما یہ تو آپکے لیئے سرپرائز ہوا آپکے ہزبینڈ(شوہر) جو آ رہے ہیں۔ جس دن میرے والے نے آنا ہوا اس دن میرے لیئے ہو گا نا”۔ لب بھینچتے وہ اسکے قریب گئی۔
جوہم ابھی تمھاری شادی کی عمر نہیں ہے۔ جب تم پڑھائی سے فارغ ہو جاو گی تب کوئی اچھا سا رشتہ ڈھونڈ کے تمھارے بھی ہاتھ پیلے کر دیں گے۔ بس اللہ میری بچی کے نصیب اچھے کرے”۔ اسکے چہرے کو ہاتھوں کے اوک میں لیتے اسنے آہ بھری۔
@@@@@@@@@@@@
“یہ تو اچھی بات ہے جوہم انہیں گئے بھی تو کتنا عرصہ ہو گیا ہے۔ تمھارے اس کالج میں ایڈمشن کرواتے ہی وہ چلے گئے تھے نا؟؟”۔ رباب نے کہا۔
“ہاں جی”۔
وہ دونوں کیفے میں، وسط میں رکھے میز پر ڈیرہ جمائے بیٹھے تھے۔ رباب سامنے جبکہ جوہم کیفے کے دروازے کی جانب پشت کیئے بیٹھی تھی۔
“کیا حال ہے کڑیو؟؟ کیا گپ شپ چل رہی ہے؟؟”۔ انکے قریب آتے عماد نے جوہم کے ساتھ والی کرسی تھوڑی باہر گھسیٹی اور اس پہ بیٹھ گیا۔
“عماد تمھیں پتہ ہے جوہم کے پاپا اس سنڈے آ رہے ہیں”۔ میز پہ ہاتھ رکھے وہ سیدھی ہوئی۔
“وا مبارک ہو جے- ٹی”۔ اسکی جانب منہ کا رخ کیئے اسنے مبارک باد دی۔
“خیر مبارک ۔۔۔۔ عماد تمھاری علی سے بات ہوئی؟؟وہ آج آئے گا؟؟ اسکے پاوں کے چھالے کیسے ہیں اب؟؟؟”۔ دل میں چھپی بے چینی کو اسنے بصورت الفاظ لبوں تک رسائی دی۔
“ہاں جوہم ہوئی تھی بات۔ میں اور زین اسکو کل گھر چھوڑنے بھی گئے تھے اور اس سے کہا تھا کہ اگر اسکا زخم ٹھیک نہیں ہوتا تو مجھے کال کر کے بتا دے ہم مینیج کر لیں گے۔ اسکی کال آئی تھی آج صبح اسنے بولا ہے کہ اب وہ پہلے سے بہتر ہے اور کالج آئے گا”۔ اسنے تفصیل دی۔
“ارے داماد یوسف تم لوگ یہاں بیٹھے ہو۔ کوئی پارٹی وارٹی چل رہی ہے کیا؟؟ یہ میز خالی کیوں ہے؟ مجھے کچھ نظر کیوں نہیں آ رہا؟؟ سب ختم کر دیا ہے کیا؟”۔ انکے قریب آتے بغیر کسی وقفے کے اسنے سوالوں کی قطار باندھی تھی۔
“بھکڑ جہان کا”۔ عون کے چہرے کو ایک نظر دیکھتے اسنے سر جھٹکا پھر ہنس دی۔
“اتنا خرافاتی دماغ ہے نا تیرا عون۔ ہر بندے کا ایسا نام رکھا ہے کہ اگلا بولتا ہے اب میں اسکا کروں تو کروں کیا؟؟”۔ چہرے کو ذرا اوپر کو کیئے اسنے عون کے چہرے پہ نگاہ ڈالی۔
“تھینک یو سو مچ”۔ عماد کے اس طنز پہ وہ مسکرا دیا اور اسکے بائیں سائیڈ پہ کرسی کو کھینچ کر اس پہ بیٹھ کر اسکی پشت سے ٹیک لگا لی۔
“ویسے یہ چھلی مہندی آیا نہیں کیا؟؟؟”۔ سیدھا ہوتے ہی اسنے پوچھا۔
“عون کتنا پیارا نام ہے اسکا، علی مہدی۔ تم اسکا پورا نام نہیں لے سکتے کیا؟؟؟”۔ عون کی بات پہ اسنے چڑ کر اسکی جانب منہ پھیرا جبکہ جوہم کی اس پھرتی پہ عماد اور رباب جو کہ آمنے سامنے بیٹھے تھے اب ایک دوسرے کی جانب چونک کر دیکھ رہے تھے۔
“ویسے جوہی عون میرا،عماد،زوحان،زین یہاں تک کہ ہر کسی کا نام بگاڑتا ہے۔ تم نے ایسے کبھی ہماری طرف داری تو نہیں کی؟”۔ دونوں بازو میز پہ رکھے اسنے ہاتھوں پہ چہرے کو ٹکا لیا تھا اور تمسخرانہ مسکراہٹ چہرے پہ سجائے جوہم کی جانب دیکھ رہی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
“جوہی تم مجھے ایک بات بتاو تم ہمیشہ یہ کتابی کیڑا کیوں بنی رہتی ہو؟؟؟۔ اچھے خاصے کیفے میں بیٹھے تھے پتہ نہیں بیٹھے بٹھائے کیا سوجھی جو یہاں آ کر سانس لیا۔ خود تو آئی ہی ہو ساتھ مجھے بھی گھسیٹ لائی ہو۔ خواہ مخواہ میرا آدھا گھنٹہ ضائع کروا دیا”۔ لائبریری سے نکلتے ہی وہ جوہم پہ بھڑک اٹھی تھی۔
“ٹھیک ویسے ہی جیسے آپ ہمیشہ گفت و شنید کا کیڑا بنی رہتی ہیں۔ پڑھائی کریں آپکے دشمن۔ ویسے بھی آپ کالج پڑھنے تھوڑی نا آتی ہیں”۔ جوہم نے فورا سے جواب دیا۔
وہ دونوں لائبریری جو کہ فہرسٹ فلور پہ بنی تھی، سے نکل کر گراونڈ فلور پہ آنے کی غرض سے راہداری میں ہلکے قدم اٹھا رہیں تھیں۔
“یہ عون کس کے ساتھ ہے؟؟؟”۔ جوہم کے ہمراہ چلتے اسکی نظر گراونڈ کے وسط میں کھڑے عون پہ پڑی جو کسی لڑکی کے ساتھ کھڑا بے تکلف ہو رہا تھا۔
“چلو چل کے اسکی خبر لیتے ہیں”۔ جوہم کی طرف دیکھتے اسنے قدموں کی رفتار بڑھا دی تھی۔
“ٹھیک ہے میں تم سے پھر بات کروں گا، بائے”۔ رباب کو اس طرف آتا دیکھ اسنے فورا سے پہلے سامنے کھڑی دوشیزہ کو کہا۔
“عون یہ لڑکی کون تھی؟؟؟”۔ اسکے قریب پہنچتے ہی اسنے پھولتی سانس سے کہا جسکو کان میں مارتے اسنے منہ پھیر لیا۔
“کیا ہوا رباب؟؟ تم اتنے غصے میں کیوں ہو؟؟؟”۔ عماد، زوحان اور زین بھی اس طرف آئے تھے۔ رباب کے مزاج میں سختی محسوس کرتے عماد نے سوال کیا۔
“دراصل عون ابھی کسی لڑکی کے ساتھ تھا۔ رباب اس سے وہی پوچھ رہی ہے مگر عون جواب نہیں دے رہا”۔ جوہم نے جواب دیا۔
“لڑکی؟؟”۔ زین کا منہ کھل گیا تھا۔
“رباب تمھیں یقین ہے کہ وہ ایک لڑکی ہی تھی؟؟”۔ عون کی حرکتوں کے پیش نظر عماد نے کنفرم کیا پھر برابر میں کھڑے زوحان کے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر ہنس دیا۔
“عون بتاو وہ لڑکی کون تھی؟؟؟”۔ رباب نے بضد اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کیا تھا۔
“نہیں بتاوں گا”۔ عون نے نفی میں سر ہلا دیا۔
“کیوں۔ کیوں نہیں بتانا؟؟”۔ اسنے وجہ دریافت کی۔
“میں بولنے کے موڈ میں نہیں ہوں”۔ اسکی جانب دیکھتے اسنے لاپرواہی میں کہا۔
“اچھا”۔ اپنے آپکو نارمل کرتی وہ اسکے ذرا قریب ہوئی۔ ” تو پھر بھونک دو”۔ اسنے چلا کر کہا جس سے عون نے اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھ لیئے تھے۔
@@@@@@@@@@@@
“مس عائشہ ذرا میرے کیبن میں آئیے گا”۔ اسکے میز کے پاس سے عجلت میں گزرتے اسنے اسے مخاطب کیا۔
“ایک تو سر ہمیشہ ہوا کے گھوڑے پہ سوار رہتے ہیں”۔ وہ بڑبڑائی پھر اٹھ کر اسکے کیبن کی جانب چل دی۔
“کم ان”۔ اپنے سامنے میز پہ رکھے لیپ ٹاپ پہ نظر جمائے اسنے کہا۔
“جی سر؟؟”۔ سوالیہ نظریں لیئے وہ اسکے قریب آئی۔
“مس عائشہ ادھر آئیے”۔ اسنے لیپ ٹاپ اسکی جانب تھوڑا ترچھا کیا تھا۔
عائشہ چند قدم چلتی اسکے قریب میز کے پاس جا کھڑی ہوئی۔
“مس عائشہ یہ مہریہ فاونڈیشن کے ساتھ میٹنگ کی تمام ڈیٹیلز ہیں۔ آپ پہ زیادہ بوجھ نا ہو اس وجہ سے یہ میں نے رات کو سیٹ کر لیں تھیں۔ آپکو بس اس طرح کرنا ہے کہ۔۔۔۔”۔ وہ ہنوز لیپ ٹاپ پہ نظر ٹکائے اسکو سمجھانے میں لگا تھا کہ عائشہ پہ نگاہ پڑتے اسکے بقیہ الفاظ اسکے منہ میں ہی دب گئے تھے۔
“مس عائشہ آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے؟؟”۔ اسنے گھبراہٹ میں عائشہ کو مخاطب کیا جو کہ اپنی پیشانی پہ ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔
“پتہ نہیں سر میرا سر چکرا رہا ہے”۔
“آپ یہاں بیٹھ جایئے”۔ اسنے چیئر گھسیٹ کر اسکی جانب بڑھائی۔
@@@@@@@@@@@@
“اچھا نا رباب غصہ چھوڑ دو۔ تم تو جانتی ہو کہ عون کی عادت ہے۔ تم ہمیشہ سب کو ایسا بولتی ہو کہ عون کی بات کا برا نا مانو عون ہے ہی ایسا۔ اب خود اسکی بات کو دل سے لگا کر بیٹھی ہو”۔ جوہم جوکہ رباب کے ساتھ بیٹھی تھی، نے اسے سمجھاتے کہا۔
“ہاں تو اور کیا؟ کباب اورنج سیب تم نے بھی تو مجھے کیا کچھ نہیں کہا۔ کیا میں نے منہ بنایا؟؟ پلیز اب غصہ تھوک دو۔ آگے سے ایسا نہیں کروں گا”۔ وہ پنجوں کے بل اسکے سامنے آ بیٹھا تھا اور کانوں کو ہاتھ لگائے معصومیت سے بولا تھا۔
“پکا؟؟”۔ اسنے کنفرم کیا۔
“ہاں۔ آگے سے نہیں کروں گا پیچھے سے کروں گا”۔ قہقہ لگاتے وہ پیچھے کی اور گھاس پہ گر گیا تھا۔
“اچھا سوری مذاق کر رہا تھا”۔ رباب نے منہ بنایا تو وہ دوبارہ سے سیدھا ہوا۔
وہ سب کالج کے لان میں ایک دائرے کی شکل میں بیٹھے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ رہے تھے۔
“اوئے سر نصراللہ کی کلاس نہیں لینی کیا؟؟؟۔ کلاس کا ٹائم ہو گیا ہے”۔ زوحان نے فون پہ نظر دوڑاتے کہا۔
“چھوڑ یار منڈے کو لے لیں گے۔ کل پارٹی ہے اور علی نے اس میں گانا گانا ہے پریکٹس اسنے کی نہیں ہوگی۔ ابھی اس سے گانا سن لیتے ہیں آخر اس نے پورے کالج کے سامنے گانا ہے کوئی مذاق تو ہے نہیں”۔ عماد نے علی کی طرف اشارہ کرتے کہا جو اس کے برابر میں بیٹھا تھا۔
“چلو علی کوئی اچھا سا گانا گاو”۔ زوحان نے کہا۔
“ایک منٹ”۔ عون جو کہ سب کے درمیان میں بیٹھا تھا اب اٹھ کے انکے برابر میں جا بیٹھا تھا۔
لایا کہاں مجھ کو یہ موہ تیرا
راتیں نا اب میری نا میرا سویرا
جان لے گا میری یہ عشق میرا
عشق میں نگاہوں کو ملتی ہیں بارشیں
پھر بھی کیوں کر رہا دل تیری خواہشیں
دل میری نا سنے دل کی میں نا سنوں
دل میری نا سنے دل کا میں کیا کروں؟”۔
علی نے عاطف کا گانا گنگنانا شروع کیا تھا باقی سب اسکی مسحور کن آواز سے لطف اندوز ہوتے اسے دیکھ رہے تھے جبکہ جوہم نے چور نظر سب پہ ڈالی پھر اپنے فون کی ریکارڈنگ آن کر دی تھی تاکہ وہ اسکی آواز کو قید کر سکے۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے
