Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode10

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode10

“ماما چلیں میں تیار ہوں”۔ مصباح کے روم کی دہلیز پہ پہنچتے اسنے کہا۔
“ماشاللہ میرا بیٹا بہت پیارا لگ رہا ہے”۔ زین کے قریب آتے اسنے اپنا دائیاں ہاتھ اسکے بائیں رخسار سے چھوا تھا۔
“سچ میں ماما؟؟”۔ اسنے خوشگوار حیرت سے پوچھا پھر سنگھار میز کے سامنے جا کر خود کو ایک نظر دیکھا۔
“جی میری جان”۔ اسنے خندہ پیشانی سے کہا۔
تھری پیس کی گرے پینٹ پہ ہلکے سکن کلر کی شرٹ، کف کو کہنیوں تک موڑ رکھا تھا۔ شرٹ پہ سلیو لیس گرے واسکٹ، بالوں کو ترتیب سے سیٹ کیا گیا تھا اور پیروں میں براون جوتے۔
وہ پہلے سے تھوڑا منفرد لگ رہا تھا کیونکہ اسنے ایسی ڈریسنگ پہلی بار کی تھی۔
“چلیں ماما ورنہ دیر ہو جائے گی”۔ مصباح کے قریب آتے اسنے اسکے شانوں پہ ہاتھ رکھے تھے۔
@@@@@@@@@@@@
“ہاں بھئی محترمہ سناو؟؟ کیسی طبیعت ہے تمھاری؟؟”۔ وہ فریش ہو کر عائشہ کے روم میں چلا گیا تھا۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں۔ تم سناو؟؟ یہ تم نے کیا محترمہ محترمہ لگایا ہے ہاں؟؟ کہاں سے سیکھا ہے؟اتنا ادب”۔ وہ جو کہ ناول پڑھنے میں مصروف تھی علی کی آواز کانوں میں گونجتے ناول کو سائیڈ پہ رکھ کر بیڈ کی ٹیک چھوڑ بیٹھی تھی۔
“ہاہاہاہا۔۔۔ ہاں وہ میرے اناٹمی کے سر ہیں۔ لئیق الزمان کارتوس”۔ گلا بھاری کرتے وہ قہقہ لگا کر ہنس دیا تھا۔
“کارتوس؟؟؟”۔ وہ چونکی۔
“نہیں۔ لئیق الزمان نام ہے۔ کارتوس تو عون کا دیا لقب ہے”۔ اسنے تصحیح کی۔
“اچھا”۔ وہ ہنس دی۔
“سناو تمھاری فیئر ویل کیسی رہی؟؟”۔
“فیئر ویل بہت بہت بہت اچھی۔ پتہ ہے عائشہ جب میں نے گانا گایا تو پورا آڈیٹوریم چیخ و پکار سے گونج اٹھا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔ سچ میں بہت اچھا لگا اور اینجوائے بھی بہت کیا”۔ ہلکے قدم اٹھاتا اسکے سامنے بیڈ پہ آ بیٹھا تھا۔
“کونسا گانا گایا تم نے؟؟”۔ وہ متجسانہ اسے دیکھ رہی تھی۔
“مسکرانے کی وجہ تم ہو”۔ گردن کو جنبش دیتے اسنے سنجیدہ نگاہ عائشہ کے چہرے پہ ڈالی۔
“میں نے بہت بار سنا ہے۔ بہت اچھا گانا ہے”۔ اپنے چہرے پہ بار بار لہراتی لٹ کو اسنے کانوں کے پیچھے اڑسا تھا۔
“تم سناو تمھارے باس نے کال کر کے تمھارا حال احوال نہیں پوچھا؟؟؟”۔ دائیں ٹانگ کو دہرا کرتے وہ بیڈ کی پائنتی پہ عائشہ کے مقابل ہو بیٹھا تھا اور تمسخرانہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“آیا تھا مگر میں نے اتنی زیادہ بات نہیں کی۔ باس ہیں تو آفس کی حد تک ہی ہیں نا اب کیا ان سے بات کرتی رہتی اور اپنی چھٹی خراب کر لیتی۔ پہلے ہی مشکل سے طبیعت سیٹ ہوئی ہے مزید خراب ہو جاتی”۔ عائشہ نے ناک چڑھایا۔
“عائشہ ایسے نہیں کہتے اتنے تو اچھے باس ہیں تمھارے۔ اپنے امپلائیز کا کتنا خیال رکھتے ہیں”۔ علی مزید شرارت کے موڈ میں تھا مگر عائشہ باس کا نام سنتے اور برہم ہو رہی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
انکی کار ایک میرج ہال کے سامنے آ رکی تھی۔ وہ کار کی ڈرائیونگ سیٹ سے پچھلی سیٹ پہ بیٹھا تھا۔ دروازہ کھول کر وہ کار سے اترا، کوٹ جھاڑا پھر مصباح اور خالد کے انتظار میں سائیڈ پہ کھڑا ہو گیا تھا۔
مصباح ہاتھ میں تحفہ لیئے تھوڑا آگے چل رہی تھی خالد اسکے ہمراہ جبکہ زین انکے تعاقب میں ان سے کچھ قدم پیچھے تھا۔
ہال کی سجاوٹ مصنوعی پھولوں سے کی گئی تھی۔ مہمانوں کا رش بھی کافی تھا۔ ہال کی انٹرنس کے سامنے ہی سٹیج بنا تھا جسکو رواج کے حساب سے تھوڑا کم سجایا گیا تھا۔ سٹیج پہ ایک صوفہ سیٹ رکھا گیا تھا۔ درمیان والے صوفے پہ منگنی شدہ جوڑا بیٹھا تھا۔
مصباح اور خالد کے ساتھ زین بھی سٹیج پہ چڑھ گیا تھا۔ چند جملوں کے تبادلے کے بعد زین اور خالد سٹیج سے اتر آئے تھے جبکہ مصباح کچھ دیر لڑکی کے پاس بیٹھی رہی تھی۔
“ارے بریرہ یہ لڑکا کون ہے؟؟؟”۔ سٹیج کے عین سامنے کھڑے زین کو دیکھتے اسکی دوست نے اسے مخاطب کرتے پوچھا۔
“یہ میرے پاپا کے دوست کا بیٹا ہے۔ ایڈیٹ کہیں کا”۔ بریرہ ایڑیوں کے بل مڑی اور اپنی پشت پہ کھڑے زین کو دیکھ کر منہ بسورا پھر منہ موڑ لیا۔
“ایسا کیا کہہ دیا اس ایڈیٹ نے جو تم اتنی برہم ہو”۔ بریرہ کے پہلو میں کھڑی دوست نے اسکو کہنی ماری تھی۔
“کچھ نہیں کہا۔ نا شکل ہے نا عقل۔ اس دن مجھ سے پارک کے باہر ٹکرا گیا تھا اور پھر اس دن گھر میں۔ پتہ نہیں کیا سمجھتا ہے خود کو؟؟”۔
بریرہ نے دوبارہ سے چہرے کو جنبش دے کر زین کو دیکھا تھا پھر اس سے نظر ہٹانا بھول گئی تھی۔ اسکے آس پاس کھڑی تمام دوستیں اسکا رویہ نوٹ کر رہیں تھیں اور ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس رہیں تھیں۔
“بریرہ”۔ اسکے مقابل کھڑی دوست نے اسکے شانے کو تھپتھپایا تھا۔
“ہہمممم”۔ بریرہ کی نظریں زین پہ منجمد تھیں جو کہ مسلسل کھڑا کسی کیساتھ کال پہ مصروف تھا اور ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا۔
اچانک باتیں کرتے کرتے زین نے بریرہ کی جانب دیکھا تو بریرہ بوکھلا کر دوبارہ سے چہرہ موڑ گئی۔
بریرہ کی اس حرکت پہ زین زیر لب مسکرا دیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
♡مینوں اپنڑا بنا لے میری ہیریئے
مینوں اپنڑا بنا لے میری ہیریئے
میں رینڑا اے تیرا بنڑ کے♡
زین بالوں میں ہاتھ پھیرتا بریرہ کے پاس سے گزرا تھا جو کہ سٹیج کی جانب بڑھ رہی تھی۔
“تمھیں شرم آنی چاہیئے لڑکی کو دیکھ کر چھیڑتے ہو۔ گانا گاتے ہو”۔ رکتے ہی بریرہ زین کی جانب مڑی تھی۔
“ایکس کیوز می؟؟”۔ بریرہ کی آواز پہ زین کے قدم تھم گئے تھے اور وہ اسکی جانب پلٹا تھا۔
“اتنے انجان مت بنو۔ ایسے ایایکٹ کر رہے ہو جیسے کچھ پتہ ہی نا ہو”۔ وہ مزید تپ کر بولی تھی۔
“مس بریرہ ابراہیم میں ایک شریف خاندان سے تعلق رکھتا ہوں اور ہمارے خاندان کے لڑکے ایسی گھٹیا حرکتیں نہیں کرتے”۔ وہ مزید اسکے قریب ہوا۔
“شریف خاندان۔۔۔۔ سنو مسٹر؟”۔ شہادت کی انگلی اسکی طرف کرتے اسنے اسکو گھورا تھا۔
“ڈاکٹر زین العابدین”۔ اسنے ٹوک کر کہا۔
“جو بھی ہو مجھے اس سے کیا؟؟؟۔ تم نے کیا کہا شریف خاندان؟؟ شریف خاندان کے لڑکے کیا کرتے ہیں کیا نہیں میرا اس سے کوئی سروکار نہیں۔ مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ شریف خاندان کے لڑکے جب شریف لڑکیوں کے پاس سے گزرتے ہیں تو انہیں دیکھ کر گانے نہیں گایا کرتے”۔ ماتھے پہ بل ڈالے وہ غصے میں بولی تھی۔
“اچھا تو ایک بات میں بھی کہوں”۔ چہرے پہ آتی مسکراہٹ کو اسنے پل میں غائب کیا تھا۔ ” شریف لڑکیاں یوں چوری چھپے لڑکوں کو گھورا نہیں کرتیں”۔ دو ٹوک جواب دیتے وہ ہال کے بیرونی راستے کی جانب بڑھنے لگا تھا۔ بریرہ کی خونخوار نظریں اسکے تعاقب میں تھیں پھر بے بس پاوں پٹختی سٹیج پہ چڑ گئی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
“میری پری کیا کر رہی ہے؟؟؟”۔ حفصہ کے روم میں جاتے اسنے بیڈ پہ بیٹھی علیزہ سے کہا۔
“کھیل ری ہوں”۔ ہاتھ میں پکڑی گڑیا کو دیکھتے اسنے جواب دیا۔
“علیزہ کھیل رہی ہے۔ چلو میں بھی علیزہ کے ساتھ کھیلتی ہوں”۔ جوہم قدم اٹھاتی اسکے سامنے بیڈ پہ جا بیٹھی تھی اور اسکے پاس پڑی دوسری گڑیا اٹھا لی۔
“جوہم تم نے میرے ہینڈ فری دیکھے؟؟؟”۔ وہ عجلت اور پریشانی میں حفصہ کے روم میں داخل ہوا تھا۔
“نہیں عبید میں نے نہیں دیکھے۔ تو علیزہ کس گڑیا سے کھیلے گی؟؟ اس والی سے یا اس والی سے؟”۔ عبید کو جواب دیتے وہ علیزہ کے ساتھ لگ گئی تھی۔
“اوہو پتہ نہیں میرے ہینڈ فری کدھر گئے ہیں”۔ وہ کوفت میں بولتا ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔ ” اچھا ایک کام کرو جب تک میرے نہیں مل جاتے مجھے اپنے دے دو”۔ تنگ آکر وہ اسکے قریب آیا تھا۔
“ارے یہ کیا بات ہوئی؟ میں اپنے کیوں دے دوں؟ تم اپنے جا کر ڈھونڈو نا”۔ علیزہ سے نظر ہٹاتے اسنے عبید کو بے زارگی سے دیکھا تھا۔
“دے دو نا جوہی کھانے نہیں ہیں میں نے واپس کر دوں گا بول جو رہا ہوں”۔ اسنے یقین دہانی کرائی۔
“تو؟؟ میں پھر بھی نہیں دوں گی۔ تمھارے ان لفظوں کا اعتبار نہیں ہے مجھے۔ اپنے ڈھونڈو میں اپنے تمھیں ہر گز نہیں دوں گی”۔ اسنے نفی کی۔
“یار جوہم کیا چیز ہو تم؟؟؟۔ قسم اللہ کی نہایت ہی کوئی شودی اور حد درجے کنجوس ہو۔ اپنی چیز اپنے بھائی اپنے سگے بھائی کو نہیں دیتی ہو شوہر کو تو مار ہی دو گی”۔ ہاتھ سے جوہم کے سر پہ زور سے چپات لگاتے وہ دوڑتا روم سے نکل گیا تھا۔
عبید کے بچے تو میرے ہاتھ لگ بتاتی ہوں تجھے”۔ وہ چلائی۔
@@@@@@@@@@@@
“گڈ مارننگ”۔ وہ آنکھیں ملتا ڈائننگ ٹیبل کی طرف آیا تھا جہاں پوری فیملی بیٹھی بریک فاسٹ کر رہی تھی۔
“گڈ مارننگ۔ کیا ہوا علی تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟؟”۔ حسنین جو کہ علی کے دائیں جانب چیئر پہ براجمان تھا، کو تشویش ہوئی۔
“نہیں پاپا بس وہ رات تھوڑا دیر سے سویا تھا تو اس وجہ سے آنکھ دیر سے کھلی ہے”۔ حسنین کے بائیں جانب دوسرے نمبر والی چیئر گھسیٹتے وہ اس پہ بیٹھ گیا تھا۔
“علی میرا بچہ نیند کا پورا خیال رکھا کرو ورنہ طبیعت خراب ہو جائے گی”۔ عفت جو کہ اسکے برابر والی چیئر پہ بیٹھی تھی، نے کہا۔
“کیا لو گے؟؟”۔ عائشہ جو کہ علی کے مقابل بیٹھی تھی، نے کہا۔
“ایسا کرو ایک گلاس جوس دے دو”۔ علی نے کہا۔
@@@@@@@@@@@@
وہ توت کے درخت کے پاس کھڑی اسی سوچ میں محو تھی کہ انکو اپنی رسائی تک کیسے لائے کیونکہ توت اسکی پہنچ سے بہت دور تھے۔
“یا اللہ یہ توت کا درخت اتنا بڑا کیوں ہے؟؟؟ میرا کھانے کو دل کر رہا ہے۔ یہ تیری کیسی نعمت ہے جو میری پہنچ سے کوسوں دور ہے۔ یا تو اس درخت کر اتنا بڑا نا کیا ہوتا یا میرا قد اتنا بڑا کیا ہوتا کہ ان تک پہنچ سکتی”۔ وہ درخت کے نیچے کھڑی حسرت بھری نگاہوں سے درخت کی شاخوں کو دیکھ رہی تھی جو توت سے اٹیں تھیں۔ اسی اثنا میں اسکی نظر ایک پتھر پہ جا ٹکی وہ دوڑتی اسکے قریب گئی اور اسے ہاتھ کے شکنجے میں جکڑ کر درخت کی جانب پوری طاقت سے اچھالا تھا۔
“او گاڈ ۔۔۔ یہ پتھر کس نے پھینکا ہے؟؟”۔ پتھر توت کی شاخوں کو بچاتا دوسری جانب ایک جوان کی کار کے شیشے پہ جا گرا تھا جس سے وہ غصیلے انداز میں چنگھاڑا تھا۔
اسکی آواز کانوں میں گونجتے وہ درخت کے پیچھے ہو گئی تھی۔
“کون ہے وہاں؟؟؟ سامنے آو”۔ وہ بھڑکتا درخت کے سامنے جا کھڑا ہوا تھا۔
درخت کے پیچھے سے لہراتے دوپٹے پہ وہ حیران ہوا۔
ہمت کرتے وہ سہمی سہمی سی ڈری ڈری سی اسکے سامنے آ گئی تھی۔ آنکھوں کو مینچے، زبان کو دانتوں تلے دبائے وہ ہاتھوں کی مٹھیاں بنائے ہوئے تھی جسکو دیکھتے وہ بے ساختہ مسکرا دیا تھا۔
“یہ پتھر تم نے پھینکا ہے؟؟؟”۔ ہنسی کو چھو منتر کرتے وہ چلایا۔
“ن۔ن۔ نہیں قسم سے۔ میں سچ بول رہی ہوں میرا یقین کرو۔ میں نے یہ جان بوجھ کر نہیں کیا۔ میں نے پتھر پھینکا تھا مگر تمھاری طرف نہیں پھینکا تھا۔ تم سچ میں میرا یقین کرو”۔
ہنوز آنکھیں مینچے اسنے بغیر کسی وقفے کے اپنی بات مکمل کر دی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
کار کے ہارن پہ واچ مین نے گیٹ کھول دیا تھا۔ کار پورچ میں آ کر رکی تو نوکر نے بھاگ کر دروازہ کھولا۔
“ہاں بھئی شیخو کیا حال ہے؟؟ کیسے ہو؟؟”۔ اسنے کار سے اتر کر اپنے سامنے کھڑے نوکر کو کہا۔
“میں ٹھیک ہوں صاحب۔ رب کا احسان ہے۔ آپ واپس آ گئے مجھے بہت خوشی ہے”۔ اسنے احتراما کہا۔
“اچھا شیخو سامان اندر پہنچا دینا”۔ گھر کے اندرونی جانب بڑھتے وہ اچانک سے پلٹا تھا۔
“جی صاحب”۔ بولتے ہی وہ کار کی ڈگی کی جانب بڑھا تھا۔
“ارے کہاں گئے سب؟؟”۔ گھر کے وسط میں بنے ہال میں پہنچتے اسے حیرانگی ہوئی۔
“اسلام و علیکم بابا”۔ کار کی آواز پہ وہ دوڑتا روم سے نکل آیا تھا۔
“وعلیکم السلام۔ کدھر ہو بھئی سب؟؟ کوئی خیر خبر نہیں؟ کوئی آیا بھی ہے”۔ اسکے گلے لگاتے اسنے کہا۔
“کچھ نہیں بابا بس وہ کالج کا تھوڑا کام تھا سوچا آپ کے آنے سے پہلے کر لوں”۔ اسنے جواب دیا۔
“اسلام و علیکم بابا”۔ علیزہ کا ہاتھ پکڑے وہ زینے اترنے لگی تھی۔
“وعلیکم السلام جوہم بیٹا کیسے ہو؟؟”۔ جوہم کی آواز پہ اسنے چہرے کا رخ اسکی جانب موڑا تھا۔
“میں ٹھیک ہوں بابا آپ سنائیں؟؟ آپ کیسے ہیں”۔ اسکے قریب آتے اسنے کہا۔
“بس بیٹا اللہ کا شکر ہے۔آپ لوگوں کو دیکھ لیا ہے تو ساری سفری تھکان، مشکلات، پریشانی ختم ہو گئیں ہیں”۔ اسکو سینے سے لگاتے اسنے اسے پیار کیا۔
“اور میری لٹل پرنسز کیسی ہے؟؟”۔ علیزہ کو بانہوں میں بھرتے اسنے کہا۔
@@@@@@@@@@@@
“وہ ایکچوئلی میں یہاں سے گزر رہی تھی اس درخت کو دیکھ کر توت کھانے کا دل کیا۔ اسی وجہ سے پتھر پھینکا اور وہ آپکی کار پہ جا گرا”۔ ہاتھ کی انگلی سے اٹکیلیاں کرتے وہ اسکے سامنے شرمندہ کھڑی تھی۔
“نہیں کوئی بات نہیں۔ جو تقصان لکھا ہوتا ہے وہ ہو کر ہی رہتا ہے”۔ اسنے تمسکن آمیز انداز میں کہا۔
“شکر ہے کہ وہ پتھر آپکو نہیں لگا ورنہ آپکو میری وجہ سے چوٹ لگ جاتی”۔ اسکے ہمراہ وہ اسکی کار کی جانب قدم اٹھا رہی تھی۔
“کئی چوٹیں اتنی گہری ہوتی ہیں کہ یا تو ان کے گہرے اثرات دل پہ مرتب ہو جاتے ہیں یا تو اس انسان کی زندگی پہ جو اس سے منسلکہ ہوتا ہے”۔
“جی؟؟؟”۔ اسنے حیرت سے اسکے چہرے کی اور دیکھا تھا۔
“کچھ نہیں”۔ بذریعہ مسکراہٹ اسنے بات کو ٹال دیا تھا۔ “باتوں باتوں میں اپنا تعارف کروانا تو بھول ہی گئے۔ میں راحم شجاع میر”۔ چلتے چلتے یکایک اسکے قدم تھم گئے تھے۔ ہاتھ کو پاکٹ سے نکالتے اسنے اسکی طرف بڑھایا۔
“رباب اورنگ زیب”۔ اسنے بھی مسکرا کر اسکے ہاتھ کو تھام لیا تھا۔
“آپ سے مل کر اچھا لگا۔ امید ہے ہماری ملاقات کا یہ آغاز ہمارے لیئے بہتر ثابت ہو گا”۔ اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ جدا کرتے وہ دل لگی سے مخاطب ہوا تھا۔
“شکریہ”۔ وہ جواب دیتے دائیں بائیں دیکھنے لگی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *