Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie NovelR50785 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode26
Rate this Novel
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode01 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode02 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode03 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode04 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode05/06 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode07 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode08 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode09 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode10 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode11 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode12 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode13 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode14 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode15 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode16 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode17 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode18 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode19 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode20 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode21 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode22 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode23 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode24 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode25 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode26 (Watching)Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Last Episode
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode26
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode26
پٹڑیاٹا کے بعد مال روڈ تک کا پورا سفر رباب راحم کے ساتھ ہی رہی تھی۔ فالکن گروپ میں صرف دو ہی لڑکیاں تھیں گرچہ باقی سب نے اسکا بھرپور ساتھ دیا اور انکی کمپنی جوہم نے بہت اینجوائے کی تھی پھر بھی وہ رباب کو مس کر رہی تھی اور اسکی کمی اسے پوری طرح محسوس ہو رہی تھی۔
بس سے اترتے انہوں نے سیدھا برف کے سفید ملبوں کی اور قدم اٹھائے تھے اور برف کے گولے بناتے ایک دوسرے کی طرف اچھالنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔
اسکا بائیاں ہاتھ پاکٹ میں جبکہ دائیاں ہاتھ میں فون تھا وہ اس میں کچھ ٹٹول رہا تھا جب اسے محسوس ہوا کہ اسکی پشت پہ کسی چیز کی ضرب لگی ہے تب فون پہلو میں کرتا وہ گھوم گیا تھا جہاں ناک کی سیدھ میں کچھ قدم کے فاصلے پہ جوہم کھڑی تھی جو علی کے یوں اچانک گھوم جانے پہ سہم گئی تھی۔ علی کو اپنی سمت آتا دیکھ وہ مزید گھبرا گئی تھی کیونکہ ایسا اسنے جان کے نہیں کیا تھا اور علی کے رد عمل سے بھی بے خبر تھی۔
فون پاکٹ میں رکھتے اسنے دوسرا ہاتھ بھی پاکٹ سے نکالا اور سینے پہ باندھ کر جوہم کو نہایت سنجیدگی اور مصنوعی غصے سے دیکھ رہا تھا۔ جوہم نروس ہوتے ہی اس سے نظریں چرا گئی تھی۔
“وہ علی ایکچوئلی میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا بس غل۔۔۔۔”۔ سر جھکائے وہ انگلیوں سے اٹکیلیاں کرتی مخاطب ہوئی۔ علی نے جھک کر برف کا ایک گولا بنایا اور پوری طاقت سے جوہم کا نشانہ باندھا جس نے جوہم کے دائیں کندھے پہ ضرب لگائی تھی۔ بقیہ الفاظ اسکے لبوں پہ ہی دم توڑ چکے تھے مزید کچھ کہے بغیر جوہم اسے متحیر نظروں سے دیکھنے لگی تھی جہاں تمسخرانہ مسکراہٹ لبوں پہ پھیلی ہوئی تھی۔
“اگر تم لوگوں کی مستیاں ختم ہو گئی ہوں تو چلو چل کر مال روڈ کی سیر کر لیں جس کیلئے ہم یہاں آئے ہیں”۔ عماد جو ان سے قدرے اونچائی پہ کھڑا تھا برف پہ سلیپنگ کرتا انکے قریب آ کر کہنے لگا۔
“ہاں چلو”۔
مال روڈ کی طرف جانے والا یہ وہ راستہ تھا جو سیدھا اور آسان تھا اور لوگ عموما اسی راستے کا چناو کرتے تھے۔ فالکن گروپ نے بھی اسی راستے کا انتخاب کیا تھا۔
راستہ تھوڑا پتھریلا تھا جس کے دائیں اور برف اور بائیں اور باڑ لگی تھی جسکی لمبائی ذرا کم تھی۔ باڑ کے دوسری طرف بھی برف کی تہہ جمی تھی مانو سفیدی ہر سو چھائی تھی۔
زوحان، علی، زین اور عماد سب سے آگے تھے انکے تعاقب میں جوہم اور جوہم کے عقب میں عون تھا جو قدرے آہستہ آہستہ قدم جما رہا تھا۔ غرض یہ کہ وہ سب ایک دوسرے کے متعاقب تھے۔
راستہ عبور کرتے اب وہ مال روڈ کی زینت بنے اس پہ قدم رکھ رہے تھے۔ مال روڈ کے دونوں اطراف مختلف اشیا سے آراستہ دکانیں سب کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھیں۔
اپنی ہی دھن اور دنیا میں محو وہ بہت آگے نکل گئے تھے۔ آپسی گفتگو اور چہ مگوئیاں انہیں اس بات سے دور لے گئی تھیں کہ جوہم بھی انکے ہمراہ تھی۔
“سنگل کی بن جا رانی
دے دے بن یہی نشانی
تینوں میں پیار کراں جو
دنیا تو بعد”۔ جوہم کو اکیلا پا کر لڑکوں کے ایک گروہ نے اسکا پیچھا کرنا شروع کیا جو عموما پکنک پوائنٹس پہ ہوتا ہے۔
بلیک فلیکسیبل جینز پہ سفید سادہ شرٹ جو گھٹنوں سے قدرے اوپر تھی،،، اوور کوٹ جو کالے رنگ کا تھا وہ بمشکل گھٹنوں تک تھا،،،بالوں کے کرلز بنے تھے سر پہ بلیک ویلوٹ کی ٹوپی جسکے دائیں سائیڈ پہ ربن کے ساتھ چھوٹے سائز کا کھلا گلاب لگا تھا جو سرخ رنگ کا تھا،،، گلے میں دوپٹہ تھا جو گردن کے گرد حائل تھا اور پیروں میں بلیک جوگرز۔
ان سے پیچھا چھڑانے کی غرض سے جوہم بھی تیز تیز قدم اٹھانے لگی تھی۔ یہ اسکے ساتھ پہلی بار ہوا تھا کہ وہ دنیا کے انجان لوگوں کے مجمع میں اکیلی رہ گئی ہو۔ اسکی دگنی رفتار کے ساتھ اسکی دھڑکنوں کی رفتار بھی دگنی ہو گئی تھی۔ رش سے مستفید ہوتے لڑکوں کا گرو بھی اسکے برابر میں ہی تھا۔
“ارے جوہم کہاں گئی؟؟”۔ خیال آتے ہی وہ لمحہ بھر کو رکا پھر الٹے پاوں مڑ گیا تھا۔
“او شٹ پتہ نہیں کہاں رہ گئی ہے؟؟”۔ انجان چہروں کے ہجوم میں اسے جوہم کا چہرہ دکھائی نا دیا جس کی وجہ سے اسنے ناک کی سیدھ میں دوڑنا شروع کیا تھا۔ اسکو یوں دوڑتا دیکھ فالکن گروپ کے بقیہ ممبرز نے بھی اسکے تعاقب میں دوڑ لگا دی تھی۔
ہجوم کے باعث وہ بارہا لوگوں سے ٹکرا رہا تھا مگر اسنے قدموں کی حرکت کو نہیں روکا تھا۔
بالآخر اسکی نظر جوہم پہ جا ٹھہری جو سہمی ہوئی متلاشی نظروں سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی اور کوئی مانوس چہرہ دیکھنے کی شدید خواہاں تھی۔
“تیرے نخرے جو سہندا اے
جو کہ تیرا ہلدا ریندا اے
زلفاں جد تیری اڑدی اے
چین ساڈے دل دا نچدا اے”۔
اب وہ جوہم کے قریب آ گیا تھا۔ علی کو دیکھتے جوہم پرسکون ہوئی تھی شاید آنکھوں ہی آنکھوں میں شکوہ بھی کر رہی تھی۔ اسی دوران علی کے کانوں میں گنگنانے کی آواز آئی تھی جو قریب سے گزرتے لڑکے نے جوہم کو دیکھ کو گایا تھا۔ علی کا خون کھول اٹھا تھا وہ جوہم کے مزید قریب ہوا۔۔۔۔۔ صرف اور صرف یہ بتانے کی غرض سے کہ وہ اکیلی نہیں ہے۔
“تمھیں کیا ضرورت تھی یہ ڈریس پہن کر آنے کی؟؟ تم وہ سادہ لباس بھی پہن کر آ سکتی تھی نا؟؟جو تم یونی پہن کر آتی ہو روز۔ اس لباس میں بھی تفریح ہو جاتی۔ یہ ضروری نہیں کہ دوسروں کیلئے ڈیکوریشن پیس بن کر آیا جائے۔ ہم ان لعنتی لوگوں کا منہ بند نہیں کر سکتے لیکن خود پہ غور ضرور کر سکتے ہیں۔ خواہ مخواہ بس یوںہی”۔ بغیر کچھ سوچے اس نے جوہم پہ اس لڑکے پہ آنے والے غصے کی بھڑاس نکالی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ جو ڈریس جوہم نے زیب تن کیا ہے اس میں کوئی مذاحقہ نہیں بلکہ یہ تو عام بات تھی مگر جوہم پہ پڑتی اس لڑکے کی غلیظ نظر اسے ناگوار گزری۔
باقی گروپ ممبرز بھی اب اسکے قریب آن پہنچے تھے لیکن تب تک جوہم بس کی جانب اپنے الٹے قدم لے چکی تھی۔
“کیا ہوا ہے علی؟؟؟ اور یہ جوہم کہاں چلی گئی؟؟”۔ زین کو حیرت ہوئی اور وہ علی کے قریب آ کر کہنے لگا۔
تب علی نے سر پکڑ کر پوری روداد بیان کر دی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
بس میں اپنی مقررہ جگہ پہ بیٹھے وہ آنسو بہا رہی تھی۔ اسکی مخمور آنکھیں نم اور دراز پلکیں بھیگ چکی تھیں۔ انگلی کے پوروں کی مدد سے وہ بارہا اپنے رخساروں پہ بہنے والے گستاخ آنسوؤں کو صاف کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
ایسے میں وہ ہلکی دوڑ لگاتا بس سٹینڈ پہ آ گیا تھا۔ لمحہ بھر کو رکتے اسنے نگاہ بس کی اور اٹھائی جوہم اپنی سیٹ پہ سر جھکائے بیٹھی تھی۔ یہ دیکھتے وہ تیزی سے بس کے قریب آیا دروازے کے ساتھ لگے ہینڈل کو تھاما اور بس میں داخل ہوا پھر برق رفتاری سے جوہم کے قریب آیا تھا
اسے اپنے قریب آتا دیکھ جوہم نظریں پھیر کر شیشے سے باہر دیکھنے لگی تھی۔ کچھ پل کھڑے ہوتے اسنے اپنی سانسیں بحال کیں جو تیز رفتاری کے نتیجے میں کافی حد تک پھول چکی تھیں۔
“آئی ایم سوری۔۔۔۔ مجھے تمھیں اس طرح سے ٹوکنے کا کوئی رائٹ نہیں تھا نا ہی تم پہ غصہ کرنے کا کوئی جواز۔۔۔۔۔۔ میں اپنے کیئے پہ پشیماں ہوں پلیز مجھے معاف کر دو”۔ راہداری میں ٹانگیں کرتے وہ جوہم کے برابر والی سیٹ پہ بیٹھ گیا تھا۔
“اٹس اوکے۔۔۔۔ تمھارے جگہ اگر میرے بابا یا بھائی ہوتا تو شاید وہ بھی ایسا ہی کرتے۔۔۔ میں نے تمھاری بات کو مائنڈ نہیں کیا”۔ رونے کے باعث اسکی ہچکی بند گئی تھی اور اسے بولنے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔
“اگر ایسی بات ہے تو پھر تم رو کیوں رہی ہو؟؟”۔ وہ چونکا۔
“تمھاری اگر کوئی انسلٹ کرے وہ بھی سب کے سامنے تو کیا تم ہنسو گے؟؟”۔ گردن کو جنبش دیتے اسنے چہرہ علی کی جانب موڑا اور سنجیدگی کا سہارا لیا۔
جوہم کی بات پہ علی کا قہقہ گونجا پھر اٹھ کر اپنی سیٹ کی جانب جھکا جو جوہم سے اگلی تھی۔ بیگ سے بوتل نکال کر اسکی اور بڑھائی۔
“یہ لو پانی پی لو اور چلو میں تمھیں لینے آیا ہوں”۔ دائیں بازو کو اگلی سیٹ کی پشت سے ٹکاتے اسنے کہا۔
@@@@@@@@@@@@
رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ رات کے عالم میں سناٹے اور خاموشی کے باعث دروازہ کھلنے کی آواز بخوبی سنائی دی تھی۔ اپنے پیچھے انٹرنس بند کرتے وہ دبے پاوں اپنے روم تک آیا تھا کیونکہ بقیہ گھر والے سو چکے تھے وہ انکی نیند میں کسی قسم کا خلل پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا۔
وہ جیکٹ جو اسنے اپنی پشت پہ ڈالی تھی سائیڈ پہ رکھے صوفے پہ گرا دی تھی اور خود بے بس اور تھکا ہارا بیڈ پہ ڈھے گیا تھا جب فون پہ بیپ اسکی توجہ کا مرکز بنی۔
سیدھا ہوتے ہی اسنے پینٹ کی پاکٹ سے فون نکال کر انلاک کیا جہاں سکرین پہ زوحان کا میسج جگمگا رہا تھا۔
“یار مہدی میری جیکٹ تیرے پاس تو نہیں رہ گئی؟؟”۔
ہاں جی میرے پاس ہی ہے تم کل آ کر لے جانا”۔ ریپلائے دیتے اسنے فون سائیڈ پہ رکھا اور جھک کر جوتوں کے تسمے کھولے اور جوتے سائیڈ پہ کیئے پھر پیچھے کو ہوا اپنی جیکٹ اور مفلر اتار کر سائیڈ پہ رکھے پھر کمبل اوڑھ کر سو گیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
سورج کی زرد روشنی بالکونی کے گلاس ڈور کے صاف اور شفاف شیشے کو چیرتی اسکے روم میں آ رہی تھی جس سے روم روشن ہو گیا تھا۔
بیڈ پہ اوندھا لیٹے اسنے تکیہ منہ پہ رکھا تھا جس سے اسکو اس بات کا اندازہ نا ہوا تھا کہ وقت کیا ہوا ہے۔ اچانک آنکھ کھلتے ہی اسنے تکیہ سائیڈ پہ رکھا اور سر اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پہ رکھی الارم کلاک پر نظر دوڑائی جو صبح کے گیارہ بجا رہی تھی۔ اتوار کے دن کے باعث وہ مطمئن اور پرسکون نیند بے دیر تک پوری کرتا رہا تھا۔ گزشتہ دن کی تھکان میں کافی حد تک کمی آئی تھی۔ نا چاہتے ہوئے اسنے کمبل سائیڈ پہ کیا اور انگڑائی لیتے ہوئے اٹھ بیٹھا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
جونہی اسنے اپنے روم میں قدم رکھا اسکی نظر بائیں اور صوفے پہ رکھے ڈریس پہ پڑی جسکا انتخاب اس نے مری کیلئے کیا تھا۔ جس ڈریس میں وہ پورا مری گھوم آئی تھی۔ غرض یہ کہ اسکے ذہن پہ مال روڈ رونما ہونے والا بد مزہ کم دلچسپ سانحہ بھی نقش تھا۔ کچھ پل رکتے اسنے ڈریس کو بغور دیکھا اور ذہن میں گردش کرتے علی کے الفاظ یاد کرتے وہ زیر لب مسکرا دی تھی۔
اسکے رخساروں پہ لال لالی یوں امڈ آئی تھی جیسے علی اسکے سامنے کھڑا اسے ہی دیکھ رہا ہو اور وہ چوروں کی مانند اس سے نگاہ چرانے کی ناکام کوشش کر رہی ہو۔ تمام خیالوں اور سوچوں کو جھٹکتے وہ حقیقی دنیا میں قدم رکھتی اس ڈریس کی جانب بڑھی اور اسے سمیٹنے لگی تھی کیونکہ رات دیر سے آنے کی وجہ سے اسنے تبدیل کرتے وہ ڈریس جوں کا توں صوفے پہ پھینک دیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“اسلام و علیکم”۔ جونہی وہ انٹرنس سے انٹر ہوا اسکا سامنا مخالف سمت سے آتی عائشہ سے ہوا۔
“و علیکم اسلام ۔۔۔ ارے آپ؟؟”۔ زوحان کو دیکھتے اسے فورا سے مال روڈ کے باہر پیش آنے والا واقعہ یاد آ گیا تھا۔
“جی۔۔ وہ ۔۔ میں علی مہدی سے ملنے آیا ہوں”۔ اسکے سارے شبہات دور کرتے اسنے کہا۔
“او اچھا تو آپ علی کے دوست ہیں”۔
“ارے زوحان وہاں کیوں کھڑا ہے ؟؟؟اندر آ جا”۔ اسے انٹرنس پہ کھڑا دیکھ علی بھی اس طرف آ گیا تھا۔
“ہاں وہ بس ابھی ہی آیا ہوں”۔ علی کے قریب آتے عائشہ بھی کچن کی جانب مڑ گئی تھی۔ زوحان علی کے ہمراہ ڈرائنگ روم کی اور بڑھ گیا تھا۔
“بتا کیا لے گا؟؟ ٹھنڈا ۔۔ گرم۔۔۔ ہاٹ۔۔۔ کولڈ؟؟”۔ بولتے ہی وہ زوحان کے دائیں ہاتھ پہ رکھے صوفے پہ بیٹھ گیا تھا۔
“ٹھنڈا ۔۔۔ گرم۔۔۔۔۔ ہاٹ۔۔۔ کولڈ ۔۔ یہ سب الگ الگ ہیں کیا؟؟”۔ وہ شریر ہوا۔
“جی بالکل”۔ وہ بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔
“تو سب منگوا لو”۔
“وائے ناٹ؟؟۔ میں ابھی گیا اور ابھی آیا”۔ بولتے ہی وہ ڈرائنگ روم سے نکل کر کچن کی جانب بڑھا تھا۔
“ماما زوحان آیا ہے پلیز آپ اسکے لیئے کچھ بھجوا دیں”۔ کچن میں کام کرتی عفت کو آگاہ کرتے وہ اپنی روم کی جانب گھوم گیا تھا۔ روم سے واپسی پہ اسکے ہاتھ میں ایک جیکٹ تھی جو زوحان لینے کیلئے اسکے گھر آیا تھا۔
“یہ لے بھئی تیری جیکٹ”۔ وہ جو اپنے خیالوں میں گم تھا علی کی آواز پہ اسکی جانب متوجہ ہوا۔
“یہ کیا مہدی یار ؟؟ تو تو کچھ اور لینے گیا تھا۔ جیکٹ متھے مار کر ڈائریکٹ جانے کا بول رہا ہے”۔ مصنوعی ناگواری ظاہر کرتے اسنے منہ بنایا۔
“ارے پاگل میں کچن میں کہہ کر آیا ہوں کہ جناب ڈاکٹر زوحان طارق صاحب تشریف لائے ہیں انکے کھانے کیلئے کچھ بھجوا دیں ورنہ انکے دیدے کھل جائیں گے اور بھوک پیٹ سے منتقل ہو کر انکی آنکھوں میں ٹرانسفر ہو جائے گی”۔ الفاظ کو ذرا لمبا کرتے اسنے ادائیگی کی پھر زوحان کے برابر میں جا بیٹھا تھا۔
جاری ہے
