Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie NovelR50785 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode11
Rate this Novel
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode01 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode02 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode03 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode04 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode05/06 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode07 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode08 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode09 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode10 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode11 (Watching)Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode12 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode13 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode14 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode15 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode16 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode17 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode18 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode19 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode20 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode21 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode22 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode23 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode24 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode25 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode26 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Last Episode
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode11
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode11
سورج کی زرد روشنی اپنی پوری طاقت سے ہر چیز پہ اپنی گہری اور گرم ضربیں لگا رہی تھی۔
ایسے میں وہ سب بغیر کسی شور کے کالج لان میں درخت کے ٹھنڈے سائے تلے بیٹھے پڑھنے میں مشغول تھے۔
“اوئے ہوئے ہوئے۔ ماشااللہ ، سبحان اللہ ، لا حول ولا قوت الا باللہ، چشم بد دور”۔ اپنے گروپ کو پڑھتا دیکھ اسنے بغیر موقع گنوائے، با آواز بلند نعرہ لگایا۔
“تمھاری کمی تھی”۔ رباب جو کہ گھاس پہ بیٹھی نوٹس میں سر دیئے ہوئے تھی، نے سر اٹھا لیا۔
“چلو میرے آنے سے کمی پوری ہوئی۔ تم لوگوں کو آج کیا ہوا ہے جو اتنا پڑھ رہے ہو؟؟اور یہ عون، عون کو کیا ہوا ہے؟؟؟”۔ سب کا سرسری جائزہ لیتے اسنے عون پہ نظر ٹھہرا لی۔
“کچھ نہیں ہوا میرے لعل، زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ تیرے آنے سے دس منٹ قبل میں نے رجسٹر اٹھایا ہے، وہ بھی داماد یوسف اور کباب اورنج سیب کے اسرار پہ۔ مر کے ایک ڈیفینیشن ہوئی ہے یار”۔ رجسٹر سے نظر اٹھاتے اسنے سامنے کھڑے زین کو بے چارگی سے دیکھا۔ ” تو بھی کچھ پڑھ لے زینب گلاب دین ورنہ پٹے گا بری طرح”۔
“کیا یار ہر وقت پڑھائی پڑھائی۔ تم لوگ کس لیئے ہو؟؟؟ اچھے سے سب یاد کر لو، پیپرز میں میری مدد کر دینا”۔ عون کے سامنے کھڑا وہ مطمئن نظر آ رہا تھا اور تسلسل سے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا تھا۔
“آہا، تم لوگ پڑھ لو مجھے بھی بتا دینا”۔ منہ کا اینگل بدلتے رباب نے نقل اتاری۔
“بھائی کہتے ہیں نا اپنے مرے سوا جنت نہیں ملتی ٹھیک ویسے اپنے پڑھے سوا مارکس بھی نہیں ملتے”۔ عماد جو کہ بینچ پہ بیٹھا تھا، نے کہا۔
“اچھا یار پڑھ لوں گا میں کونسا سیریس تھا”۔ زین کے چہرے پہ پر اسرار مسکراہٹ مسلسل رواں تھی۔
“ایک بات بتا زین؟؟”۔ عماد کے ساتھ بینچ پہ بیٹھے اسنے اپنی دائیں کہنی بینچ کی ہتھیلی پہ ٹکائی تھی اور شہادت کے ساتھ درمیانی انگلی کو ملائے کنپٹی پہ رکھے چہرے کو ٹیک دی تھی۔
“پوچھ”۔
“تو کب سے مسکرائے جا رہا ہے وہ بھی بغیر کسی وجہ کے، کوئی خاص بات ہے؟؟؟”۔ اب وہ سیدھا ہو بیٹھا تھا۔
“میں کل ابراہیم انکل کے بیٹے کی اینگجینجمنٹ پہ گیا تھا”۔ ہاتھوں کو پہلو سے ہٹا کر اس نے پاکٹس میں ڈال لیئے تھے۔
@@@@@@@@@@@@
“کم ان”۔ وہ گلاس وال کی جانب منہ کیئے کھڑا تھا، بائیاں ہاتھ جیب میں جبکہ دائیں ہاتھ سے چائے کا مگ پکڑے ہوئے تھا جبی دروازے پہ دستک ہوئی۔
“سر آپ نے مجھے بلایا؟؟؟”۔ ہلکے قدم اٹھاتی وہ اسکے قریب آئی۔
“جی مس عائشہ بیٹھیں”۔ ہنوز اسکی جانب پشت کیئے اسنے کہا، الفاظ کے پیش نظر عائشہ اسکے سامنے چیئر پہ بیٹھ گئی تھی۔
کچھ پل بعد اسنے عائشہ کی جانب منہ کا رخ موڑا اور ہاتھ میں پکڑا مگ اسکے سامنے پڑے ٹیبل پہ رکھا۔
ایزی چیئر کو ہلکا سا جگہ سے کھسکاتے وہ اس پہ براجمان ہو گیا تھا۔
عائشہ مسلسل سوالیہ نظروں سے اسے گھور رہی تھی۔
“مس عائشہ میں نے آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی”۔ ٹیبل پہ پڑے پیپر ویٹ کو اسنے اپنے ہاتھ کے شکنجے میں لیا۔
“جی سر کہیئے”۔ کشمکش کی زد میں وہ اسے دیکھ رہی تھی۔
“مس عائشہ جب میں سات سال کا ہوا، لاکھ منتوں اور مرادوں کے بعد اللہ نے ہمارے گھر ایک رحمت بھیجی تھی۔ موم ڈیڈ کو میرا تجویز کیا نام بہت پسند آیا تھا اور انہوں نے اسکا وہ نام رکھ دیا۔ سب کی لاڈلی تھی، اسکے منہ سے نکلی ہر خواہش ہم ہر ممکن پوری کرتے تھے۔ اسکا بس ایک شوق تھا دلہا دلہن دیکھنا، محلے میں جب بھی کسی کی شا؛ شادی ہوتی وہ تیار ہو کر چلی جایا کرتی تھی۔ جب میں بائیس کا ہوا تو وہ مجھ سے کہنے لگی بھائی جان؛ جب آپکی شادی ہو گی تو میں بہت سارے نئے کپڑے اور ہیل والے جوتے لوں گی۔ غرض وہ سب لوں گی جو ایک دلہن کے پاس ہوتا ہے”۔ ہنوز پیپر ویٹ پہ نظر ٹکائے وہ اسے گھمانے میں لگا تھا۔ یکایک اسکی لڑکھڑاتی زبان نے اسکا ساتھ چھوڑ دیا تھا اور لاکھ کوشش کے باوجود آنسو اسکے رخسار پہ بہہ نکلے تھے۔
“سر آپ؟؟؟”۔ وہ بوکھلائی۔
“اٹس اوکے مس عائشہ”۔ اسکے گلے کے تار اب خراب ہو چکے تھے۔
“مس عائشہ میں آٹھ سال سے انہیں آنسوؤں کو پی کر جیتا آیا ہوں کہ کہیں انکی وجہ سے میرے پیڑنٹس اذیت میں نا پڑ جائیں”۔ اسنے نم آنکھوں اور بھیگی پلکوں سے عائشہ کیساتھ رابطہ استوار کیا۔
عائشہ کی سمجھ سے بالا تر تھا کہ اب وہ کیا کرے۔
@@@@@@@@@@@@
“یار زین یہ تو تیرے لیئے آسان بات ہے۔ وہ تیرے پاپا کے فرینڈ کی بیٹی ہے۔ تم انکل سے کہو وہ رشتہ لے کر جائیں، سمپل”۔ عماد جو کہ زین کے سامنے گھاس پہ بیٹھا تھا، نے کہا۔
“ہاں اور ایک دوست کی حیثیت سے وہ تمھارا پروپوزل ریجیکٹ بھی نہیں کریں گے”۔ رباب نے کہا۔
“رشتہ رد نہیں ہو گا اگر تو بریرہ کا رشتہ کہیں اور نا ہوا ہو یا اسکو زین میں دلچسپی نا ہو”۔ زوحان نے اپنی رائے تجویز کی۔
“تو نا، زوحان تو اپنا منہ بند رکھا کر جب بھی بولتا ہے گھٹیا ہی بولتا ہے۔ انشا اللہ ایسا نہیں ہو گا”۔ زین نے اپنے سے تھوڑا پیچھے بیٹھے زوحان سے کہا جو کہ گھاس پہ بیٹھا اپنی پشت بینچ کے ساتھ لگائے ہوئے تھا۔ دائیں کان میں ہینڈ فری لگائے وہ گانے سن رہا تھا۔
“کیا نہیں ہو گا؟؟؟ رشتہ؟؟”۔ ہنوز فون میں سر دیئے اسنے لاف زنی کی۔
“قسم سے تو بڑا ڈھیٹ ہے”۔ زین نے تپ کر کہا۔
“او یار زین وہ مذاق کر رہا ہے، ریلیکس کر۔ کونسا تیرے ماں باپ تیری شادی ابھی ہی کر دیں گے۔ موقع ملتے آنٹی کو آگاہ کر دے وہ سنبھال لیں گی۔ شادی تو ویسے بھی ہم ڈاکٹر کی ہاوس جاب کے بعد ہی ہو گی”۔ علی جو کہ زین کی پشت پہ لگے بینچ کی ہتھیلی پہ بیٹھا تھا، نے کہا۔
“ہاں اور دیکھنا ایک دن تیری شادی کا کارڈ بھی چھپے گا۔ جسکے فرنٹ پہ بڑا کر کے لکھا ہو گا
زینب گلاب دین ویڈز ذخیرہ سکیم”
عون جو کہ زین کے سامنے بیٹھا تھا، نے ہوا میں ہاتھوں سے اشارہ کرتے کہا جس پہ زین نے اسے خونخوار نظروں سے نوازا جبکہ سب کا قہقہ ہوا میں بلند ہوا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“سر کے سڑو پن، غرور اور اکڑ کے پیچھے کی اصل وجہ یہ تھی۔ بے چارے سر میں پتہ نہیں انکو کیا کیا بول دیتی تھی۔ سر اس سے کتنا پیار کرتے ہیں، آج تک اسے نہیں بھولے اور بھولیں بھی کیسے؟ رشتہ ہی ایسا تھا سر کا۔ اللہ کی ذات بھی کیسی کیسی آزمائش ڈالتی ہے بندوں پہ”۔ وہ سوچ میں ڈوبی اسکے کیبن سے نکل کر اپنے ٹیبل کی طرف بڑھ رہی تھی۔
طلسم ٹوٹا، اسکے فون کی چنگاڑتی رنگ ٹون نے اسکی سوچ میں خلل پیدا کیا۔ ہاتھ میں پکڑے کارڈ کو اسنے سائیڈ پہ رکھ کر فون اٹھا لیا تھا جس پہ عفت کا نمبر آب و تاب سے جگمگا رہا تھا۔
“ہیلو ۔۔۔ السلام و علیکم”۔ کال اٹینڈ کرتے اسنے فون کان کیساتھ لگایا۔
“بس پھپھو جان تھوڑا سا کام باقی ہے میں جلد ہی آ جاوں گی۔ آپکو کوئی کام ہے؟؟”۔ دوسری جانب سوال کے پیش نظر عائشہ نے جواب دیا۔
“نہیں پھپھو اسکی کوئی ضرورت نہیں میں رکشہ لے کر آ جاوں گی۔ آپ علی کو زحمت نا دینا وہ کالج سے تھک کر آئے گا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اس سے پہلے ہی آ جاوں۔ آپ فکر مند نا ہوں”۔
“اوکے خدا حافظ”۔ فون کان سے ہٹاتے اسنے سائیڈ پہ رکھا اور سامنے ٹیبل پہ رکھے مانیٹر پہ نظر گاڑھ کر اپنا دائیاں ہاتھ ماوس پہ رکھا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
دوپہر کے تین بج رہے تھے۔ سورج کی درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے گرمی اپنی شدت اختیار کر گئی تھی۔ معمول کے مطابق وہ چھٹی کے بعد اپنے گھر پہنچ گیا تھا۔
گھر داخل ہوتے ہی دائیں جانب ایک لاونج تھا جس کے وسط میں ایک صوفہ سیٹ رکھا گیا تھا اور سائیڈ پہ ایک دیوان تھا۔
بڑے صوفے کی پشت گھر کی راہداری کی جانب تھی اور دو چھوٹے صوفے اسکے بائیں ہاتھ پہ تھے۔ جس میں سے ایک پہ عفت بیٹھی تھی۔
“اسلام و علیکم ماما”۔ تیز تیز قدم اٹھاتا وہ لاونج میں داخل ہوا، بیگ کو پشت سے ہٹا کر صوفے پہ رکھا اور خود بھی اس پہ بیٹھ گیا تھا۔
“وعلیکم السلام”۔ عفت جو کہ سر جھکائے چاول صاف کرنے میں لگی تھی، اب اسکے ہاتھ منجمد ہو گئے تھے اور سر اٹھائے علی کو دیکھ رہی تھی۔
گرمی سے بے حال علی نے کارلر کے بٹن کھول کر اپنا سر صوفے کی پشت سے ٹکا لیا تھا۔
“علی بیٹا آپ یہیں رکو میں آپ کیلیے پانی لاتی ہوں”۔ ٹرے سائیڈ پہ رکھتے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
تھوڑی دیر میں عفت پانی کا گلاس لیئے واپس لوٹ آئی تھی۔
علی نے گلاس اٹھایا اور ایک ہی سانس می پانی حلق سے اتار دیا۔
“علی میرا بچہ سانس نکال کر سہارے سے پانی پیا کرو۔ ایسے بیٹا اچھا نہیں ہوتا”۔ عفت نے دوبارہ سے صوفے پہ بیٹھتے اسے ہدایت کی۔
“ماما گرمی بہت ہے اور پیاس بھی بہت لگی تھی۔ سوری”۔ گلاس کو سائیڈ ٹیبل پہ رکھتے اسنے کہا۔ “ماما یہ کس کا کارڈ ہے؟؟”۔ اسکی نظر گلاس کے ساتھ رکھے کارڈ پہ پڑی جو اپنی ڈیکوریشن اور چمک کے باعث ایک شادی کارڈ معلوم ہو رہا تھا۔
“بیٹا یہ۔۔۔”۔
“یہ سر غفران کی شادی کا کارڈ ہے”۔ عفت کی بات کاٹتے عائشہ اس طرف آئی۔
“سر غفران؟؟؟”۔ گردن کو جنبش دیتے اسنے چہرہ اٹھا کر عائشہ کو دیکھا جو اب لاونج میں آ گئی تھی۔
“علی سر غفران میرے باس ہیں انکی شادی ہے اس ویکاینڈ۔ مجھے انوایٹ کیا ہے اور۔۔۔۔”۔ عفت کے برابر والے صوفے پہ بیٹھتے اسنے تفصیل دی۔
“اور یہ کہ تم جانا نہیں چاہتی؟”۔ علی نے اسکی بات کاٹ کے اسکے افسردہ چہرے کے پیش نظر اندازہ لگایا۔
“میں نے ایسا تو نہیں کہا”۔ اسنے نفی کی۔
“پھر؟؟”۔
“جانتے ہو علی سر کی اکلوتی بہن تھی جسکا نام عائشہ تھا۔ اسے سر کی شادی دیکھنے کا بہت شوق تھا مگر صحت کی خرابی اور دل میں سوراخ ہونے کے باعث زندگی نے اسے مہلت نا دی کہ وہ یہ خوشی دیکھ سکے”۔ عائشہ نے افسردگی سے کہا۔
“یہ تو بہت برا ہوا، اللہ دشمن کو بھی یہ دن نا دکھائے”۔ عفت نے کانوں کو ہاتھ لگائے استغفار کیا۔
“اور پھپھو جان آپکوپتہ ہے کہ سر کی فیملی نے اسکو منتوں اور مرادوں سے مانگا تھا”۔ عائشہ کی بظاہر ہنسی کے پیچھے چھپا درد صرف وہی جان سکتی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
رات کی تاریکی ہر سو چھا گئی تھی۔ اندھیرے نے اپنے کالے پر پھیلا لیئے تھے۔ ایسے میں کالے ڈراونے آسمان پہ اکیلا چاند بہت پیارا لگ رہا تھا۔ پورے آسمان پہ صرف اسی کا راج تھا جو اپنی شان سے چمک رہا تھا بغیر کسی ڈرکے، بے خوف اور نڈر۔
رات کا کھانا نوش کرنے کے بعد وہ سب اپنے رومز میں چلے گئے تھے۔
“حفصہ میری عدم موجودگی میں تمھیں گھر سنبھالنے میں مشکل تو نہیں ہوتی؟”۔ حفصہ کو مخاطب کرتے وہ آہستگی سے چلتا بیڈ کی دائیں جانب آ بیٹھا تھا۔
“نہیں طالب کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ جوہم سمجھدار ہے اور عبید بھی تنگ نہیں کرتا بس علیزہ تھوڑا تنگ کرتی ہے مگر وہ بھی جوہم سنبھال لیتے ہے”۔ اسنے وضاحت دی پھر بیڈ کے دوسری جانب آ کر بیٹھ گئی تھی۔
“چلو یہ تو اچھا ہوا۔ اچھا حفصہ میں نے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے مگر فلوقت اس بات کا دھیان رکھنا کہ یہ بات جوہم یا عبید میں سے کسی کو پتہ نا چلے”۔ ٹانگوں کو بیڈ پہ کرتے وہ سیدھا ہو بیٹھا تھا اور حفصہ کو آگاہ کر رہا تھا۔
“آپ بے فکر رہیں میں کسی سے اس کا ذکر نہیں کروں گی۔ کہیئے کیا بات ہے؟؟”۔ وہ بھی تجسس بھرے انداز میں منہ کا رخ اسکی جانب کیئے بیٹھ گئی تھی۔
“حفصہ میرا ایک بہت اچھا دوست ہے اسفر۔ وہ میرے ساتھ ہی ہوتا ہے ایبراڈ۔ بہت اچھی فیملی ہے سٹیٹس، شہرت، نام سب کچھ ہے۔ پچھلے دنوں اس نے مجھ سے کہا کہ کیوں نا اس دوستی کو رشتہ داری میں بدل دیا جائے”۔ اسنے تفصیل دی۔
“آپکا خیال ہے کہ ہماری جوہم اور اسفر بھائی کا بیٹا؟؟؟”۔ اسنے کنفرم کرتے پوچھا۔
“ہاں حفصہ میں یہی کہہ رہا ہوں۔ آخر کل کو ہمیں جوہم کو اس گھر سے رخصت کرنا تو ہے پھر اس سے اچھی بات کیا ہوگی کہ خاندان اچھا ہے۔ وہ ہماری جوہی کا بہت خیال رکھیں گے۔ مجھے بھی تسلی رہے گی”۔ بیڈ کے تاج سے اپنی پشت لگاتے وہ پرسکون ہوا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
گھر میں خاموشی اور سناٹے کو بھانپتے وہ اپنے روم سے نکل کر ادھر ادھر دیکھنے لگا تھا۔ دبے پاوں اسنے مصباح اور خالد کے روم کی راہ لی۔
دہلیز تک پہنچتے اسنے اپنے آپکو دروازے کے سائیڈ پہ چھپا لیا تھا اور ہلکا سا سر باہر نکال کر روم میں جھانکا اور مصباح کو اکیلا پایا۔
سیدھا ہو کر اپنی پشت پہ دیکھا پھر انٹرنس کی جانب دیکھا جسکا دروازہ کھلا تھا۔ فورا سے مصباح کے روم میں داخل ہو گیا۔
“ارے زین بیٹا آپ اس وقت یہاں؟؟ خیریت تو ہے؟؟”۔ کپڑوں کو سائیڈ پہ رکھے سٹینڈ کے ساتھ لٹکاتے وہ اس طرف آئی۔
“جی ماما خیریت ہے”۔ اسکے قریب آتے اسنے کہا۔ “ماما پاپا کدھر ہیں؟؟”۔ اسنے اپنی تسلی کیلئے پوچھا۔
“بیٹا انہیں کوئی کال آئی تھی بس ابھی ابھی باہر گئے ہیں۔ کیا ہوا کوئی کام ہے خالد سے؟؟”۔ اسکی مشکوک نظروں کو بھانپتے اسنے کہا۔
“ن۔ن۔ نہیں تو ماما۔ مجھے ان سے تو کوئی کام نہیں ہے”۔ اپنے عین سامنے رکھے سنگھار میز کی جانب بڑھتے اسنے کہا۔
“تو بیٹا مجھ سے کوئی کام ہے تو بول دو۔ ہچکچا کیوں رہے ہو؟؟”۔ بولتے پہ وہ بیڈ کی پائینتی پہ آ بیٹھی تھی۔
“ماما آپ سے ایک بات پوچھوں؟؟”۔ سنگھار میز سے اسکا عکس دیکھتے اسنے کہا۔
“جی بیٹا پوچھو”۔ اسنے زین کی جانب دیکھا جو اسکی جانب پشت کیئے کھڑا تھا۔
“ماما آپکو بریرہ کیسی لگتی ہے؟؟”۔ اسنے پہیلی بوجھی۔
“بریرہ کون؟؟ کہیں بریرہ ابراہیم بھائی کی بیٹی تو نہیں؟”۔ سوچتے ہی اسنے کہا۔
“جی ماما وہی ہے”۔ وہ ابھی تک سنگھار میز کی جانب منہ کیئے ہوئے تھا۔
“اچھی ہے مگر تم کیوں پوچھ رہے ہو؟؟؟”۔ وہ چونکی۔
“ماما بات یہ ہے کہ”۔ اب وہ مصباح کی جانب سرعت سے پلٹا تھا۔ “ماما آپ ابراہیم انکل سے میرے لیئے بریرہ کا ہاتھ مانگے، میں یہ چاہتا ہوں”۔ وہ جھٹ سے اسکے پاس آ بیٹھا تھا اور بغیر کسی تمہید کے اپنی بات مکمل کر دی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے
