Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie NovelR50785 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode19
Rate this Novel
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode01 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode02 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode03 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode04 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode05/06 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode07 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode08 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode09 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode10 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode11 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode12 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode13 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode14 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode15 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode16 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode17 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode18 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode19 (Watching)Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode20 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode21 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode22 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode23 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode24 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode25 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode26 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Last Episode
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode19
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode19
“کیا ہوا ابا جی؟؟آپ نے مجھے بلایا سب خیریت تو ہے نا؟؟”۔ عجلت میں وہ صحن میں آیا تھا جہاں ملک شبیر ہاتھ پشت پہ باندھے ٹہل رہا تھا اور عماد اسکے سامنے سر جھکائے کھڑا تھا۔ اسے ایک طوفان کا اندیشہ ہو رہا تھا۔
یوسف کی آواز کانوں میں گونجی جبی وہ قدم روکتے اسکی جانب مڑا تھا۔
“یوسف یہ تمھارا بیٹا بہت بڑا ہو گیا ہے۔ اسکی رگوں میں دوڑتا خون بہت جوش مارنے لگا ہے”۔ عماد کی جانب اشارہ کرتے اسنے سرد مہری سے کام لیا۔
“ہوا کیا ہے ابا جی؟ آخر بتائیے تو۔ کیا کیا ہے عماد نے؟؟”۔ حیرت سے اسنے عماد کی اور دیکھا تھا۔
“اپنے جیتے جاگتے دادا کو مار کر دفنا آیا ہے یہ نا مراد”۔ غصے میں اسنے زبان سے انگاڑے اگلنا شروع کیئے تھے۔
“عماد کیا ابا جی جو کہہ رہے ہیں ایسا ہی ہے؟؟”۔ عماد کے قریب جاتے اسنے کہا۔
“پاپا وہ۔۔”۔ چہرہ اوپر کو کرتے اسنے یوسف کو دیکھا تھا جہاں حیرت سے زیادہ پریشانی کے آثار واضح تھے۔
“ہاں یا نا؟”۔ انگلی سے اشارے کرتے اسنے نے تلخی سے کہا۔
“جی پاپا”۔ بولتے ہی اسنے دوبارہ سر جھکا لیا تھا۔
“چٹاخ”۔ عماد کے منہ سے “ہاں” نکلتے ہی یوسف نے ایک زوردار تھپڑ اسکے بائیں رخسار پہ مارا تھا جو عماد کے منہ پہ اپنے نشانات چھوڑ آیا تھا۔
“رہنے دو یوسف اب یہ ڈرامے نا کرو۔ اگر یہی تم پہلے کر دیتے تو آج یہ ایسا نا کرتا کبھی بھی۔ اس تھپڑ کا اب اس پہ کوئی اثر نہیں ہونا”۔ ملک شبیر اس طرف آ کر کہنے لگا۔ “رضوان”۔ گردن کو جنبش دیتے اسنے اپنے پشت پہ کھڑے ملازم کو آواز دی تھی۔
ملک شبیر کی آواز پہ ملازم اس طرف ایک راڈ کے ساتھ آیا تھا جو لوہے کا بنا تھا۔ ملک شبیر نے ہاتھ آگے بڑھایا تو رضوان نے وہ راڈ اسکے ہاتھ میں تھا دیا اور خود وہاں سے رخصت ہوا۔
اس راڈ کو مضبوطی سے تھامے اسنے عماد کے بدن کو نشانہ بناتے اس پہ ضرب لگائی تھی جس سے یوسف بوکھلا اٹھا تھا۔
کہتے ہیں کہ خون کے رشتوں کا کوئی مول نہیں ہوتا اور خون کے رشتوں سے بڑھ کر کوئی دوسرا رشتہ نہیں ہوتا مگر جب جسم میں بہتا خون سفید ہو جائے تو دنیا کی کوئی چیز اسکو لال نہیں کر سکتی۔
@@@@@@@@@@@@
“میں نے اچھا نہیں کیا انجانے میں ہی سہی میں نے غلط کیا ہے۔ پتہ نہیں عماد کے دادا اسکے ساتھ کیسا رویہ روا رکھیں گے؟؟نجانے وہ کیسا ہوگا؟”۔ دونوں ہاتھ پاکٹس میں ڈالے وہ سوچ کے بھنور میں ڈوبا بالکونی میں کھڑا تھا۔
“ارے علی تم یہاں ہو؟اور میں نے نجانے تمھیں کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا”۔ اسکو بالکونی میں کھڑا دیکھ وہ متحیر ہوئی۔
“کیوں کچھ کام تھا؟؟”۔ ہاتھوں کو پہلو میں کرتے اسنے عائشہ کی جانب منہ پھیرا۔
“نہیں وہ پھپھو نے بولا ہے کہ تم سے پوچھ آوں کے تم نے دوپہر کا کھانا کھایا ہے یا نہیں؟”۔ اپنی پشت کو گرل سے ساتھ لگاتے اسنے کہا۔
“نہیں عائشہ میں نے کھانا نہیں کھایا موڈ نہیں تھا”۔ پریشانی کے آثار اس کے منہ پہ منڈلا رہے تھے۔
“علی تم پریشان لگ رہے ہو۔ سب خیریت ہے؟”۔ اسے تشویش ہوئی۔
“عائشہ میں پریشان لگ نہیں رہا میں پریشان ہوں۔ وہ بھی کوئی معمولی پریشانی لاحق نہیں ہے بہت بڑی ہے”۔ جواب دیتے اسنے مزید کہا۔
“کیا ہوا ہے؟؟”۔ بولتے ہی وہ سیدھی ہوئی۔
ازل تا آخر علی نے ساری روداد سنا دی تھی۔
“یہ تو بہت برا ہوا علی مگر تم پریشان مت ہو انشاءاللہ کوئی نا کوئی حل ضرور نکل آئے گا”۔ اسکو تسلی دیتے اسنے کہا۔
@@@@@@@@@@@@
بے حس و حرکت وہ صحن کے فرش پہ ٹانگیں پھیلائے بیٹھا تھا۔ آنسوؤں سے تر گال اور بھیگی پلکیں اسکے وجود سے اٹھتے درد کی نشان دہی کر رہے تھے۔
“عماد بیٹا اٹھو اپنے روم میں چلو”۔ پنجوں کے بل اسکے پاس بیٹھتے یوسف نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔
“یوسف آپ اسے ہوسپٹل لے کر جائیں۔ آپ کے باپ کو ذرا رحم نا آیا میرے بچے پہ۔ پتہ نہیں کیا چاہتے ہیں اب وہ؟؟”۔ عماد کی حالت دیکھ ماں کی مامتا بھی خون کے آنسو رونے لگی تھی۔
“عماد بیٹا تمھاری ماں ٹھیک بول رہی ہے۔ چلو شاباش اٹھو میں تمھیں ہوسپٹل لے کر چلتا ہوں”۔ اسے دائیں بازو سے پکڑتے اسنے عماد کو اٹھانے کی کوشش کی تھی۔
“کمال ہے باپ زخم دیتا ہے اور بیٹا، بیٹا اس پہ مرہم لگانے کی بات کرتا ہے”۔ خاموشی کو توڑتے اس نے کہا اور ہنس دیا مگر بدن سے اٹھتے درد کے باعث اسکی آنکھوں سے آنسو ہنوز رواں تھے۔ “پاپا کیا غلطی ہے میری یہی کہ اس گھر میں ولادت ہوئی ہے؟”۔ اپنی دائیں جانب منہ پھیرے اسنے بے بسی ظاہر کی۔
@@@@@@@@@@@@
“زین جلدی سے تیار ہو جاو شاباش”۔ اسکے روم میں جلد بازی میں داخل ہوتے اسنے بیڈ پہ آرام سے بیٹھے زین کو کہا۔
“کیوں بھائی؟؟ خیریت ؟؟کدھر جانا ہے؟”۔ بائیں ٹانگ بیڈ سے نیچے کرتے وہ سیدھا ہو بیٹھا تھا۔
“تم پانچ منٹ کے اندر تیار ہو کر ہال میں آو ہم تمھارا انتظار کر رہے ہیں۔ کسی اور کام میں نا لگ جانا زین جلدی کرنا اور ہاں، کوئی ڈھنگ کے کپڑے پہن کر آنا”۔ جاتے جاتے اسنے تنبیہ کی۔
مجبورا بیڈ سے اٹھتے اسنے وارڈ روب کا رخ کیا اور ایک ڈریس نکالتے واش روم چلا گیا تھا۔
جیسا کہ فرخ نے کہا تھا وہ پانچ منٹ میں تیار ہو کر سیڑھیاں عبور کرتے ہال میں پہنچ گیا تھا جہاں سب اسکے منتظر تھے۔
“مجھے اتنی عجلت میں تیار تو کروا لیا ہے مگر یہ تو بتایا نہیں کہ جانا کہاں ہے۔ اب تو بتا دیں کہ کدھر جانا ہے؟؟”۔ ان کے قریب آ کر وہ کہنے لگا۔
“ہم لوگ جہاں جا رہے ہیں وہ صرف ہم جانتے ہیں۔ تم کب سے روم میں بیٹھے ہو سوچا تمھیں بھی ساتھ لے چلتے ہیں تمھارا موڈ اچھا ہو جائے گا”۔ اسکے قریب آتے فلزہ نے کہا پھر ہنس دی۔
“فلزہ آپی آپ کو کیا ہوا ہے؟؟ مجھے دیکھ کر اتنا ہنس کیوں رہی ہیں؟؟ آپ نہیں یہاں تو سب کے مزاج بدلے ہیں”۔ فلزہ کو نوٹ کرتے اسنے سب کا جائزہ لیا تھا۔
“شکی مزاج مرد کہیں نہیں جا رہے بس گھومنے جا رہے ہیں”۔ بولتے ہی عفان قہقہ لگا کر ہنس دیا تھا جسکے تعاقب میں سب کا قہقہ گونجا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“کالج میں عماد والے مسئلے کی وجہ سے میں جوہی سے بات نا کر سکی۔ فلحال گھر میں بھی کسی سے بات نہیں کر سکتی ایسا کرتی ہوں کہ جوہم سے بات کر لیتی ہوں۔ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی”۔ واش روم سے نکلتے وہ بیڈ کی جانب آئی اور فون اٹھاتے جوہم کےنمبر پہ میسج چھوڑا تھا۔
“آر یو بزی؟؟”۔
“نہیں فری ہوں کیوں کوئی کام ہے؟؟”۔ پانچ منٹ بعد جوہم نے ریپلائے کیا تھا۔
جونہی جوہم کا جواب موصول ہوا رباب نے اسکا نمبر ڈائل کیا اور ٹانگیں اوپر کو کرتے بیڈ پہ بیٹھ گئی تھی۔
“ہیلو اسلام و علیکم”۔ چند ہی لمحوں میں کال ریسیو ہو گئی تھی۔
“و علیکم اسلام۔ جوہم تم بزی تو نہیں ہو؟؟”۔ اسنے یونہی پوچھ لیا۔
“نہیں نہیں رباب کہو کیا بات ہے؟؟”۔ رباب کو مطمئن کرتے اسنے کہا۔
“جوہم تم یہ تو جانتی ہو کہ سر راحم نے آج مجھے بلایا تھا؟”۔ اسنے بات کا آغاز کیا۔
“ہاں ہاں یاد آیا۔ سچ میں نے تم سے اکیلے میں پوچھنا بھی تھا کہ سر راحم نے ایسی کونسی بات کرنی تھی جو تمھیں اپنے آفس بلوایا تھا مگر عماد کی وجہ سے پوچھ نا سکی اور پھر ٹائم بھی نہیں بچا تھا”۔ سوچتے ہی اسنے کہا۔ ” کیوں بلایا تھا سر نے؟؟”۔ اسنے مزید کہا۔
“جوہم سر نے مجھے پروپوز کیا ہے”۔ دروازے کی جانب دیکھتے اسنے دھیرے سے کہا۔
“سچ رباب؟؟؟ مجھے تو یقین نہیں آ رہا”۔ جہاں بے یقینی نے اسکو اپنی گرفت میں لیا تھا۔ وہیں وہ حیرت انگیز حد تک خوش بھی تھی۔ ” تم نے سر کو کیا کہا؟؟”۔ خیال آتے ہی اسنے پوچھا۔
“ابھی کوئی جواب نہیں دیا۔ سر نے مجھے ٹائم دیا ہے کہ میں سوچ کے انہیں جواب دوں زیادہ بات نہیں ہوئی ہماری بس سر نے یہی کہا پھر کلاس کا ٹائم ہو گیا تھا”۔ جواب دیتے اسنے مزید کہا۔
@@@@@@@@@@@@
“چلو بھئی بچہ پارٹی پلس بزرگان دین پلس خواتین پلس حضرات اتر جاو ٹکٹ ختم ہو گیا ہے”۔ انکی کار آدھے گھنٹے کی لگاتار ڈرائیو کے بعد ایک عالی شان بنگلے کے سامنے آ رکی تھی۔
سب دروازہ کھولے اتر رہے تھے جبکہ زین فون پہ نظر جمائے کسی سے میسیجز کے ذریعے رابطے میں تھا۔
“ارے یہ تو ابراہیم انکل کا گھر تھا”۔ جونہی اسنے کھڑکی سے باہر دیکھا وہ چونک اٹھا تھا۔
دروازہ کھولے وہ کار سے اترا سب زین کے روبرو آ کھڑے ہوئے تھے۔
“ابراہیم انکل کا گھر تھا نہیں ہے”۔ فرخ جو اسکی بات سن چکا تھا اسکے برابر آ کھڑا ہوا تھا۔
“فرخ بھائی ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟؟۔ آپ لوگ تو بول رہے تھے کہ گھومنے جانا ہے پھر یہاں کیوں آ گئے؟؟”۔ وہ متحیر سا اسے دیکھ رہا تھا۔
“ہم لوگ یہیں آ رہے تھے زین تم سے جھوٹ بولا تھا ان فیکٹ چھوٹا سا مذاق کیا تھا”۔ عفان نے اسکے لیئے آسانی پیدا کی۔
متحیر آنکھیں اور متعجب چہرہ،، واضح پریشانی کی دلیل تھیں۔ سب کے ہمراہ وہ بھی بنگلے کے اندرونی جانب بڑھ گیا تھا۔
“اسلام و علیکم”۔ انٹرنس سے داخل ہوتے ہی فرح بیگم مخالف سمت سے اس طرف آئی تھیں۔
اسنے سب کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا پھر سب کے ہمراہ ڈرائنگ روم میں چلی گئی تھی۔ زین نے ایک بار پورے گھر کا جائزہ لیا پھر سب کی پیروی کرنے لگا۔
@@@@@@@@@@@@
ڈنر سے فارغ ہو کر وہ اپنے روم میں آ گیا تھا۔ ہاتھ دھونے کی غرض سے اسنے واش روم کی راہ لی ہی تھی کہ اسکے فون پہ رنگ ٹون اپنے پورے زور سے چنگاڑی تھی جس پہ اسے ایڑیوں کے بل مڑنا پڑا تھا۔
بیڈ پہ رکھا فون ہاتھ میں لے کر سکرین کو دیکھا تو کوئی unknownنمبر اپنی آب و تاب سے جگمگا رہا تھا۔
“ہیلو اسلام و علیکم”۔ کال اٹینڈ کرتے ہی اسنے فون کان کے ساتھ لگایا تھا۔
“وعلیکم السلام عون پہچانا؟ میں وقاص”۔ دوسری جانب سے آنے والی آواز کانوں سے ٹکڑاتے ہی وہ حیران ہوا۔
ہاں ہاں وقاص بولو کیا ہوا؟۔ خیریت تو ہے؟ جو مجھے اس وقت کال کی”۔
بس یار ایسے ہی کیوں میں تمھیں کال نہیں کر سکتا کیا؟؟”۔ دوسری جانب ٹال مٹول سے کام لیا گیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے
