Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie NovelR50785 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode09
Rate this Novel
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode01 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode02 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode03 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode04 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode05/06 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode07 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode08 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode09 (Watching)Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode10 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode11 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode12 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode13 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode14 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode15 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode16 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode17 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode18 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode19 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode20 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode21 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode22 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode23 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode24 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode25 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode26 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Last Episode
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode09
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode09
سورج کی کرنیں کھڑکی کے شفاف اور رنگین شیشے کر چیرتیں کمرے میں داخل ہو کر اسے مزید روشن بنا رہیں تھیں۔ وہ واش روم سے نکل کر سیدھا سنگھار میز کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔ لیئرز میں کٹے بالوں کو اونچی پونی ٹیل میں مقید کر کے اسنے ایک نظر چہرے کا جائزہ لیا۔
اسے پونی ٹیل بہت سوٹ کرتی تھی۔ اسکے سلکی ہلکے بھورے بال پونی میں مقید ہو کر آبشار سے مشابہت رکھتے تھے۔آنکھوں کے سحر کو لائنر اور کاجل سے اور بھی مضبوط کر دیا تھا، اسے مسکارے کی قطعا ضرورت نہیں تھی کیونکہ اسکی پلکیں کافی حد تک گھنی اور دراز تھیں۔ کانوں میں سنہری پھول نما ٹاپس جو سائز میں تھوڑے بڑے تھے جنہیں ٹاپ کی کڑھائی کیساتھ میچ کیا گیا تھا۔ دائیں کلائی میں واچ بائیں کلائی میں دو کنگن پہن کر اسنے ہلکے گلابی رنگ کی کپ سٹک اٹھا کر اسے ہونٹوں کی زینت بنانا شروع کیا تھا جس سے اسکے ہونٹ تھوڑے نمایاں ہو گئے تھے۔
بلیو جینز پہ اس نے ہلکے گلابی رنگ کا ٹاپ پہن رکھا تھا۔ جسکا گلا نفیس سنہری دھاگے کی کڑھائی کا بنا تھا۔
پھر وہ وارڈ روب کی جانب بڑھی اور جوتوں کی سلیکشن میں لگ گئی تھی جبی اسکی نظر نہایت عمدہ سینڈلز پہ پڑی جسکی ہیل نا ہونے کے برابر تھی اور رنگ کپڑوں سے مشابہت رکھتا تھا۔
اسکے دائیں پاوں میں ایک خوبصورت اور سادہ ankletتھا گرچہ وہ عام دھات کا بنا تھا مگر اسکے پیروں نے اسکی قیمت بڑھا دی تھی۔
سینڈلز پہن کر وہ سنگھار میز کے ساتھ رکھے شیشے کے سامنے آئی جس میں انسان کا عکس سر سے پاوں تک دکھائی دیتا تھا۔ آخری نظر خود پہ ڈالتی وہ بیڈ پہ رکھا کلچ اٹھائے روم سے نکل گئی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
کالج کے سٹوڈنٹس افراتفری میں ہال کی جانب جا رہے تھے کیونکہ آج پورے کالج کی فیئر ویل تھی۔ سٹوڈنٹس کی رنگینی اور خوبصورتی عروج پہ تھی۔ گرچہ کالج کے آڈیٹوریم میں سٹوڈنٹس کا کافی رش تھا مگر ابھی بھی بہت سے ایسے سٹوڈنٹس تھے جو لیٹ تھے۔
ہال کے دروازے کے باہر خوبصورتی سے ویلکم لکھا گیا تھا جس میں دو طرح کے غبارے اور تین طرح کے پھول استعمال کیئے گئے تھے۔ ہال میں داخل ہوتے ہی سامنے سٹیج بنا تھا جسکی بیک پھولوں اور غباروں سے آراستہ کیا گیا تھا۔
پارٹی کی تھیم جامنی اور سفید تھی اسی وجہ سے پارٹی میں استعمال ہونے والے غبارے بھی انہی دو رنگوں کے تھے۔
ہال کی انٹرنس سے سٹیج تک ایک سادہ سرخ رنگ کا قالین بچھایا گیا تھا۔ سٹیج پہ چڑھنے کے دو راستے تھے ایک سامنے سے جبکہ دوسرا بائیں جانب تھا۔ سٹیج پہ چڑھنے کیلئے دو سیڑھیاں دونوں اطراف میں بنائی گئیں تھیں۔
سٹیج کے اوپر دائیں جانب ایک ڈائس رکھا تھا اور وسط میں ایک سٹینڈ تھا جو مائک کی ایڈجسٹمنٹ کیلئے تھا اسکے علاوہ دو بڑے ساونڈ سسٹم تھے جو ہال کے دونوں اطراف رکھے گئے تھے۔
راہداری میں بچھائے گئے قالین کے دونوں اطراف سٹوڈنٹس کیلئے چیئرز سیٹ کی گئیں تھیں۔ بہت کم ہی چیئرز تھیں جو خالی تھیں۔ ایسے میں وہ مائک ہاتھ میں پکڑے ہال کے دروازے کی جانب تیز قدم اٹھا رہا تھا۔
بلیک فلیکسیبل جینز پہ سفید شرٹ، کف کہنیوں تک مڑے ہوئے، کالے بالوں کو خاص انداز میں جیل لگا کر کھڑا کیا گیا تھا، پیروں میں کالے جوتے جن کے اوپر ویلوٹ لگی تھی جنکی سائیڈ پہ اوپر کی جانب سائن نما کلپ لگے تھے۔
ہمیشہ کی طرح سب کو اپنی شخصیت کے سحر میں دبوچنے کو تیار تھا؛ بالکل ایک فسوں گر کی مانند۔
“کیا ہوا علی؟؟ ہاتھ میں مائک لیئے تم کدھر جا رہے ہو؟؟”۔ ہال کی دہلیز پہ اسکا سامنہ علی سے ہو گیا تھا۔
“کچھ نہیں یار فنکشن شروع ہونے والا ہے سب لوگ آ گئے ہیں۔ تم لوگ کہاں رہ گئے ہو؟؟جگہ فل ہو رہی ہے”۔ اسنے خفگی کا اظہار کیا۔
“تم فکر نا کرو میں آ گیا ہوں سب کیلئے جگہ رکھ لیتا ہوں”۔ علی کے کندھے پہ ہاتھ رکھے اسنے کہا۔
“اسکی ضرورت نہیں ہے میں پہلے ہی رکھ چکا ہوں جلدی پہنچو میں باقی سب کو دیکھ کر آتا ہوں۔۔۔ دائیں ہاتھ پہ دوسری لائن میں”۔ آواز بلند کرتے اسنے اسے آگاہ کرتے کہا۔
“اوکے”۔ نشست کی جانب بڑھتے اسنے ہوا میں ہاتھ بلند کیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“ارے عائشہ بیٹا تم کیوں اٹھ کر آ گئی اگر کچھ چاہیئے تھا تو مجھے بول دیتی میں لے آتی”۔ عفت جو کہ کام سے فارغ ہو کر لاونج کی طرف جا رہی تھی، عائشہ کو اس طرف آتا دیکھ کر پریشان ہو گئی تھی۔
“نہیں پھپھو جان اب میں ٹھیک ہوں۔ کمرے میں بیٹھے بیٹھے بور ہو گئی تھی تو سوچا کچھ کام کروا لیتی ہوں”۔ وہ قدم اٹھاتی مزید اسکے قریب آ گئی تھی۔
“اوہو بیٹا کام کی تم کیوں فکر کرتی ہو۔ اچھا ادھر آو”۔ اسکو بازو سے پکڑتے وہ اسے لاونج کی طرف لے گئی۔
“پھپھو علی کالج چلا گیا کیا؟؟؟”۔ صوفے پہ بیٹھتے اسنے پوچھا۔
“جی بیٹا چلا گیا ہے۔ آج انکے کالج میں پارٹی ہے نا اور علی نے پارٹیسیپیٹ بھی کیا ہے۔ اس وجہ سے وہ آج جلدی چلا گیا ہے”۔ اسکے بائیں سائیڈ پہ رکھے صوفے پہ بیٹھتے اسنے کہا۔ “اچھا عائشہ آپ بیٹھو میں آپکے لیئے ناشتہ لاتی ہوں”۔ بولتے ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
@@@@@@@@@@@@
“Now audience guess who is our next participant???”
ڈائس پہ کھڑی دوشیزہ نے سب کی جانب دیکھتے کہا۔
“وقاص تنویر”۔ بائیں جانب ایک لڑکے نے آواز بلند کی۔
“نو”۔ لڑکے نے جو کے دوشیزہ کے ہمراہ ڈائس پہ کمپیئرنگ کی غرض سے کھڑا تھا، کہا۔
“علی مہدی”۔ دائیں جانب دوسری قطار میں بیٹھے عون نے صدا بلند کی۔
“یس ۔۔۔ علی مہدی”۔ علی کا نام اناونس کرتے وہ دونوں یکجا سٹیج سے اتر گئے تھے۔
کچھ ہی لمحوں میں علی سامنے سے سٹیج کی اور بڑھا تھا۔
“علی ۔۔ علی ۔۔ علی ۔۔ علی”۔ اسکے نام کی صدائیں ہوا میں رقص کرنے لگی تھیں۔
“یار جوہی کہاں رہ گئی ہے؟؟اسے پتہ بھی تھا کہ علی کی پرمارمنس ہے پھر بھی لیٹ ہے”۔ رباب نے جو کہ دائیں جانب دوسری قطار میں جوہم کیلئے پہلی نشست چھوڑ کر دوسری پہ بیٹھی تھی،اپنے برابر بیٹھے زین کو مخاطب کیا تھا۔
“اسے فون کر لو نا”۔ عماد رباب کی سرگوشی سن کر تھوڑا آگے کو ہوا تھا۔
“یار کتنی بار ٹرائی کر چکی ہوں مگر وہ فون نہیں اٹھا رہی”۔ رباب نے افسردگی سے کہا۔
سٹیج کی بائیں سائیڈ پہ کالج بینڈ کا ایک گروہ تھا۔ علی وسط میں رکھے سٹینڈ پہ لگے مائک کے پاس جا کھڑا ہوا۔
جوہم کی عدم موجودگی اسے ناگوار گزر رہی تھی۔ اسکے بغیر وہ گانا نہیں چاہ رہا تھا دوسری طرف وہ تاخیر بھی نہیں کر سکتا تھا۔ آنکھوں میں حسرت لیئے اسنے ایک بار ہال کے دروازے کی جانب دیکھا۔
چہرے کا رخ بائیں جانب موڑتے اسنے بینڈ والوں کو اشارہ کیا اور مائک منہ کے سامنے سیٹ کیا تھا۔
گنگنانے کی وجہ تم ہووووو
جیاجائے نا جائے نا جائے نا او رے پیا رےےے
جیا جائے نا جائے نا جائے نا او رے پیا رےےے 
علی نے گنگنانا شروع کیا جسکے باعث آڈیٹوریم کا چھت سٹوڈنٹس کے شور و غل سے لرز اٹھا تھا۔
ایک مائک علی کے سامنے سٹینڈ پہ لگا تھا جبکہ وائرلیس مائک اسکی آسانی کیلئے اسکے کان میں لگا تھا جسکی پہنچ اسکے عنابی ہونٹوں تک تھی۔
گانے میں وقفہ لاتے علی قدم اٹھاتا سٹیج کے سامنے بنی سیڑھی پہ جا بیٹھا تھا جسکے دونوں اطراف پھولوں کی سجاوٹ تھی۔ علی نے پل بھر کو سر جھکا لیا تھا جبکہ بینڈ مسلسل گانے کی دھن بجانے میں منہمک تھا۔
جب اسنے دوبارہ سر اٹھایا تو اسکے چہرے پہ ایک عجیب مسکراہٹ رینگ گئی تھی۔ وہ اپنے سامنے کچھ مسافت پہ کھڑی جوہم کو دیکھ سکتا تھا جس کی متلاشی نظریں اپنے گروپ کو ڈھونڈنے میں لگی تھیں۔
ہال کی لائٹس آف تھیں جبکہ ڈسکو لائٹس اپنے رقص کے سحر میں سب کو اپنا گرویدہ بنائی ہوئیں تھیں۔
اچانک اسکی متلاشی گھومتی نظریں علی پہ جا ٹکیں تھیں۔
@@@@@@@@@@@@
“بریرہ کدھر جا رہی ہو؟؟”۔ انٹرنس کی جانب بڑھتی بریرہ کو اسنے ٹوک کر پوچھا۔
:ماما پارلر جا رہی ہوں”۔ اسکی جانب رخ کیئے اسنے جواب دیا۔
“پارلر؟؟مگر بیٹا ابھی تو فنکشن شروع ہونے میں کافی وقت ہے؟؟”۔ اسنے حیرانگی سے کہا۔
“جی ماما جانتی ہوں۔ دراصل ابھی میں نازلی کے گھر جا رہی ہوں واپسی پہ پارلر جاوں گی”۔ اسنے مزید کہا۔
“اچھا بیٹا جاو مگر جلدی آ جانا۔ کچھ تیاریاں ابھی باقی ہیں اور مہمانوں کا آنا بھی شروع ہو جائے گا”۔ اسنے باور کرایا۔
“اوکے ماما میں جلدی واپس آ جاوں گی آپ بے فکر رہیں۔ بائے”۔ بولتے ہی وہ دروازے سے نکل گئی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
خواہشوں کی بارشوں میں بھیگ سنگ جانا
سیڑھی سے اٹھتے اسنے جوہم کی جانب قدم اٹھانا شروع کیئے۔ ہال میں بیٹھے تمام افراد کی نظریں اسکے تعاقب میں تھیں۔
جوہم نروس کھڑی علی کو دیکھ رہی تھی اسکے ساتھ اپنے اوپر اٹھنے والی سوالیہ نظروں کو بخوبی محسوس کر سکتی تھی۔
علی کا مقصد جوہم کو اپنے دوستوں تک لے کے جانا تھا جنہیں وہ منجمد کھڑی متلاشی نظروں سے ڈھونڈ رہی تھی۔
خواہشوں کی بارشوں میں بھیگ سنگ جانا
اسکے قریب جاتے اسنے اسکا ہاتھ تھاما اور اپنے بقیہ گروپ کی جانب بڑھنے لگا تھا۔
جیا جائے نا جائے نا جائے نا او رے پیا رےےے 
علی کے لبوں پہ گانے کے الفاظ تا ہنوز رواں تھے۔
جوہم کو گروپ کے ہمراہ چھوڑتے وہ دوبارہ سے سٹیج پہ چڑھ گیا تھا۔
“جوہم یار تم کدھر رہ گئی تھی؟؟”۔ جوہم کے بیٹھتے ہی رباب نے غصے کا اظہار کیا جسکا جوہم کی صحت پہ کوئی اثر نا تھا وہ سٹیج کی جانب چہرہ کیئے علی کا گانا سننے میں منہمک تھی۔
@@@@@@@@@@@@
ریفریشمنٹس کے ڈبوں کے ساتھ کولڈ ڈرنکس اٹھائے تمام سٹوڈنٹس ایک کے بعد ایک ہال سے باہر جا رہے تھے۔
“جے- ٹی آج تم اتنی دیر سے کیوں آئی؟؟؟”۔ کالج کے لان کی جانب بڑھتے عماد نے اپنے مقابل میں تھوڑا آگے چلتی جوہم کو مخاطب کیا۔
“پتہ ہے؟؟میں بھی اس سے یہی پوچھنے والی تھی”۔ رباب جو کہ جوہم کے برابر میں چل رہی تھی، نے چہرہ موڑ کر عماد کو دیکھا تھا۔
“یار میں وقت پہ تیار بھی ہو گئی تھی۔ افسوس تو مجھے بھی ہے دیر سے آنے کا۔ بس یہی سمجھ لو وقت پہ آنا میری قسمت میں تھا ہی نہیں”۔ جوہم نے تاسف سے کہا۔
“اچھا اب جو ہونا تھا ہو گیا تم اپنا دل چھوٹا مت کرو”۔ رباب نے اسکی جانب دیکھا۔
“ہاں جوہم کباب اورنج سیب بالکل ٹھیک بول رہی ہے۔ اب پچھتایے کیا ہوت جب اونٹنیاں چگ گئیں کھیت”۔ عون تیز قدم اٹھاتا جوہم کے برابر میں ہو لیا۔
اونٹنیاں نہیں چڑیاں ہوتا ہے ڈفر”۔ رباب نے تصحیحح کی تو سب کا قہقہ گونجا۔
جو بھی ہوتا ہے یار ویسے بھی ہم میڈیکل کے سٹوڈنٹس ہیں اردو کے نہیں”۔ عون نے فورا سے کہا۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے
