Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode15

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode15

ہلکے سکن کلر کی پینٹ پہ اس نے سفید چیک والی شرٹ پہن رکھی تھی۔ بالوں کو آج جیل لگائے بغیر اسنے ترتیب سے سیٹ کیا تھا۔ دھوپ سے بچاؤ کے لیئے اسنے کف بند کر رکھے تھے ،پیروں میں وہی بلیک سنیکرز اور کپڑوں سے امڈتی پرفیوم کی مہک۔
اسکے لیئے آج کا دن بہت خاص تھا جیسا کہ باقی سب کیلئے ہوتا ہے مگر اسکے چہرے کے تاثرات اس دن کی خوشی کے بالکل متضاد تھے۔
روز کی طرح وہ پہلے لان کی جانب بڑھا تھا۔ معمول بہا وہ سب لان کی سرسبز و شاداب ہلکی ہلکی گھاس پہ بیٹھے گفت و شنید میں مصروف تھے اور چہمگوئیاں کر رہے تھے۔
“لو علی بھی آ گیا”۔ رباب نے علی کی جانب اشارہ کرتے کہا جو اس طرف ہی آ رہا تھا۔
“علی کیا ہوا؟ تو پریشان لگ رہا ہے۔ کوئی ٹینشن ہے کیا؟؟”۔ عماد جو کہ رباب کر برابر میں تھوڑا فاصلے پہ بیٹھا تھا، نے کہا۔
“کچھ نہیں بس ایسے ہی”۔ بولتے ہی مصنوعی مسکان اسنے چہرے پہ سجا لی۔ علی کچھ پل رکا پھر قدم اٹھاتا سب کے قریب آ گیا اور بیگ کو پشت سے اتارتے گھاس پہ رکھا تھا پھر خود بھی بیٹھ گیا تھا۔
“ہم لوگ زین کے بھائی کی شادی کے بارے میں ڈسکس کر رہے تھے۔ تم نہیں تھے تو تمھاری کمی محسوس ہو رہی تھی”۔ علی جوہم کے برابر میں گھاس پہ بیٹھا تھا جبی جوہم نے اسکی جانب دیکھا۔
“اچھا۔ کب ہے شادی؟؟”۔ جوہم کی جانب دیکھتے اسنے سوال کیا۔
“کل مہندی ہے پر سو بارات اور پھر ولیمہ”۔ اسنے مسکراتے جواب دیا۔
“وا مبارک ہو زین”۔ اسنے اب زین کو دیکھا تھا جو اسکے عین سامنے بیٹھا تھا۔
“خیر مبارک۔ ویسے تو شادی پہ آئے گا نا؟؟”۔ بولتے ہی وہ علی کو دیکھتے زیر لب مسکرا دیا تھا۔
“ہاں کیوں نہیں ضرور آوں گا”۔ سر اٹھاتے اسنے خوش اسلوبی سے جواب دیا۔
@@@@@@@@@@@@
دن کے دو بج رہے تھے وہ کلاس میں بیٹھا سر جھکائے اپنا بقیہ کام مکمل کرنے میں لگا تھا۔ پوری کلاس میں اسکے علاوہ اور کوئی موجود نا تھا اسکے خیال میں اسکے دوست باہر اسکے منتظر ہوں گے۔ اس یقین کے ساتھ اسنے جلدی جلدی ہاتھ چلایا تھا۔ کام مکمل کرنے کے بعد اسنے بیگ سمیٹا اور پشت پہ ڈال کر کلاس سے نکل کھڑا ہوا۔
اسکی نظروں نے گنے چنے سٹوڈنٹس تک رسائی کی تھی مگر سب غیر متعلقہ تھے۔
یہ اسکے لیئے دن کا دوسرا بڑا دھچکا تھا۔ اسکی متلاشی نظریں ہر جا گئیں مگر خالی ہاتھ واپس لوٹ آئیں تھیں۔
“کمال ہے یار ایک تو انہوں نے مجھے وش نہیں کیا دوسرا میرے لیئے رکے بھی نہیں۔ کیسے عجیب لوگ ہیں”۔ وہ اب مزید اداس ہو گیا تھا۔
زینے اترنے کی غرض سے وہ قدموں کو دوبارہ سے حرکت میں لایا تھا۔
تھوڑا آگے بڑھتے پیر تار کے ساتھ اٹکنے کی وجہ سے وہ بغیر کسی مشقت کے چند سیکنڈز میں زینے اتر گیا تھا۔ اسکو یہ سمجھنے میں دیر لگی تھی جس تار سے اسکا پیر اٹکا تھا وہ دانستہ دو ستونوں کے درمیان زمین سے تھوڑا اوپر لگائی گئی تھی۔
جونہی اسکا وجود زمین پہ گرا سرخ اور سبز رنگ کے پانی نے اسکے جسم کا راستہ ناپا اور اسکے بدن کو اپنے حصار میں لیتے اپنے رنگ میں ڈھال لیا تھا۔
علی تپ کر زمین سے اٹھا اور فہرسٹ فلور کی جانب سر اٹھایا۔
“ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔ ہیپی برتھ ڈے ڈیئر علی مہدی۔ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو”۔ عماد، جوہم، رباب، عون، زوحان اور زین گرل کے ساتھ کھڑے نیچے علی کی جانب دیکھے قہقہ لگا رہے تھے۔
انکو دیکھتے علی کا غصہ پل میں چھو منتر ہو گیا تھا اور کچھ ہی پل میں وہ سب علی کے پاس پہنچ گئے تھے۔
علی کی سفید شرٹ اب رنگ دار ہو چکی تھی ساتھ ہی گیلی بھی۔
عماد نے ہاتھوں میں پکڑا پانچ پونڈ کا کیک جس پہ خوبصورت سا ہیپی برتھ ڈے علی مہدی لکھا تھا، سیڑھیوں پہ رکھ دیا۔
“ارے عماد کیک کو ایسے زمین پہ تو نا رکھو”۔ جوہم نے اعتراض کیا۔
“ایک منٹ یار میں ٹیبل لے آتا ہوں”۔ زین سیڑھیاں چڑھتا کلاس میں چلا گیا تھا اور واپسی پہ اپنے ساتھ ایک ٹیبل لے آیا تھا۔
عماد نے کیک اٹھایا اور ٹیبل کی وسط میں رکھ دیا۔
“چلو علی اب جلدی سے کیک کٹ کرو”۔ رباب جو کہ علی کے برابر میں کھڑی تھی، نے علی کی جانب چھری بڑھاتے کہا۔
علی نے جونہی کیک کاٹنا شروع کیا سب نے اسے تالیوں کے ساتھ وش کرنا شروع کیا۔
“ایک منٹ رباب اتنی بھی کیا جلدی ہے؟؟”۔ عماد نے رباب کا ہاتھ پکڑتے کہا جو کیک کا ٹکڑا اٹھائے علی کے منہ کی جانب بڑھا تھا۔
“کیا ہوا عماد؟؟”۔ جوہم جو علی کے سامنے کھڑی تھی، نے چونک کر پوچھا۔
“یہ کیک کھانے کیلئے نہیں لائے ہم۔ کیوں گائز؟؟”۔ اپنے برابر میں کھڑے زین کو دیکھتے اسنے آنکھ ماری۔
“تو پھر؟؟”۔ وہ متجسانہ اسے دیکھ رہی تھی۔
“ایک منٹ یار بتاتے ہیں۔ بتاتے ہیں”۔ زین اور زوحان علی کی پشت پہ جا کھڑے ہوئے اور اسکے ہاتھوں کو پیچھے کی اور کرتے جکڑ لیا تھا۔
“یہ تم لوگ کیا کر رہے ہو؟؟؟”۔ علی چونکا۔
“سوری مائی ڈئیر! اسکے بنا برتھ ڈے کا مزہ نہیں رہنا”۔ عماد نے علی کے سر کی پشت پہ ہاتھ رکھتے کہا۔
“ہیپی برتھ ڈے علی”۔ دباو ڈالتے ہی اسنے علی کا منہ کیک پہ دے مارا۔
“ناو مائی ٹرن”۔ علی نے سر اٹھایا تو زوحان علی کا ہاتھ چھوڑتے آگے بڑھا تھا۔
زوحان نے بھی وہی رد عمل اپنایا تھا۔
عماد اور زوحان کے بعد زین اور عون نے بھی یکے بعد دیگرے وہی عمل دہرایا تھا۔
“کمینوں تم سے تو اللہ حساب لے گا میری مظلومیت اور بے بسی کا فائدہ اٹھا رہے ہو”۔ انگلی کی مدد سے اسنے ہونٹوں اور آنکھوں پہ لگی کریم ہٹائی تھی۔
گیلے رنگ دار کپڑوں پہ اسکا کیک سے بھرا منہ کافی حد تک مزاحیہ لگ رہا تھا۔
“یہی کرنا تھا تم لوگوں نے؟؟”۔ ایک ہاتھ کمر پہ رکھے اسنے تپ کر عماد کو دیکھا تھا۔
“ابھی ایک اور دھماکہ باقی ہے۔ کیوں ساتھیوں؟”۔ زین نے ہاتھ مسلتے عماد، زوحان اور عون کو دیکھا تھا۔
“اب کیا کرنا باقی ہے؟؟؟”۔ رباب اور جوہم نے یک زبان ہوتے کہا۔
“چلو جوانوں لگ جاو اپنے کام پہ”۔ ان چاروں نے علی کو کندھوں پہ اٹھا لیا تھا اور کالج گیٹ کی جانب حرکت کرنا شروع کی۔
ارے کہاں جا رہے ہو تم لوگ؟؟”۔ جوہم اور رباب بھی انکے پیچھے لپکیں تھیں۔
انہوں نے علی کو کالج سے کچھ مسافت پہ رکھے گئے ایک وسیع اور گندے ڈسٹ بن کے حوالے کر دیا تھا جسکی بدبو ہر سو پھیلی تھی کہ پاس کھڑا ہونا بھی محال تھا۔
وہ علی مہدی جو اپنی چیزوں میں بھی سلیقہ اور ترتیب پسند کرتا تھا۔ پسینے کی بدبو کے باعث روز غسل کے ساتھ کپڑے بدل کر کالج آتا تھا آج گندگی کا ڈھیر بن چکا تھا جو اسکے دوستوں کی مرحون منت تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“ارے فلزہ تم؟؟”۔ اپنے روم کی دہلیز پہ اسے کھڑا دیکھ وہ حیرت انگیز حد تک خوش ہوا تھا۔
“کیا ہوا فرخ؟ مجھے دیکھ کر خوشی نہیں ہوئی؟؟”۔ ہلکے قدم اٹھاتی وہ اسکے قریب گئی تھی۔
“کیا بات کر رہی ہو؟ پاگل۔ اکلوتی بہن ہو تم میری، میری شادی ہے۔ ایسا کیسے ممکن تھا کہ میں تمھارے بغیر شادی کر لیتا؟”۔ اسکے قریب آتے ہی فرخ نے اسے سینے سے لگایا تھا۔
“مجھے بھی تمھاری شادی کا سن کے بہت خوشی ہوئی تھی۔ میں نے تو عفان سے کہہ دیا تھا بھئی میرے بھائی کی شادی ہے مجھے جانا ہے”۔ اس سے الگ ہوتے ہی اسنے گرم جوشی ظاہر کی۔
“یہ تو تم نے اچھا کیا مگر میں تم سے ناراض ہوں بھائی کی شادی ہے اور میڈم ایک دن پہلے آ رہی ہیں”۔ اسنے مصنوعی ناراضگی ظاہر کی۔
“سو، سوری دراصل رش کے باعث سیٹ نہیں ہو پا رہی تھی تبھی دیر سے آئی ہوں۔ میرا تو ارادہ تھا کہ ایک ماہ پہلے پہنچ جاوں”۔ معذرت کرتے اسنے تفصیل دی۔
“کوئی بات نہیں پہلی بار ہے معاف کیا”۔ اسکی ناک چھیڑتے وہ مسکرا دیا۔
“تو میری جان تمھاری شادی بھی تو پہلی بار ہی ہے”۔ اسنے برابر جواب دیتے کہا تو فرخ کا قہقہ گونجا۔
“ہاں یہ بات بھی صحیح ہے۔ اچھا فلزہ تم اکیلی آئی ہو کیا؟؟ میرے جوان کہاں ہیں؟؟”۔ خیال آتے ہی اسنے دروازے کی جانب دیکھا تھا۔
“آئے ہیں عفان کے ساتھ باہر ہیں ماما پاپا کے پاس۔ میں تمھیں ہی بلانے آئی تھی اور باتوں میں لگ گئی۔ چلو چلتے ہیں”۔ بولتے ہی دونوں نے باہر کی جانب قدموں کو حرکت دینا شروع کی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
ایک ہاتھ سے بیگ اور دوسرے سے سنیکرز پکڑے وہ برہنہ انٹرنس پہ آ رکا اور گھر کا اندرونی جائزہ لیتے تسلی کی پھر پنجوں کے بل اپنے روم کی جانب چلنا شروع کیا۔
“علی”۔ اسکو مشکوک انداز میں اپنے روم کی اور جاتا دیکھ اسنے آواز لگائی۔
“میں تاں لٹی گئی آں، ڈھولنا”۔ منمناتے ہی وہ آواز کے تعاقب میں مڑ گیا تھا۔
“علی یہ تم نے اپنی کیا حالت بنائی ہے کالج سے آ رہے ہو یا کسی کوڑے دان سے اٹھ کر؟؟”۔ غصےمیں بولتے اسنے فاصلہ مٹایا اور اسکے قریب آ کھڑا ہوا۔
“پاپا دراصل آج میرا بر۔۔۔۔”۔ حسنین کے غصے کو بھانپتے اسنے بمشکل ہونٹوں کو حرکت دی تھی کہ عفت کی آواز پہ رک گیا تھا۔
“کیا حسنین آپ بھی؟ میں آپ کیلیے چائے روم میں رکھ کر آئی تھی اور آپ ہیں کہ اندر ہی رکھ آئے”۔ عفت چائے کا کپ لیئے اس طرف آئی تھی۔
“علی میرا بچہ کیا ہوا ہے؟؟”۔ اسکا بغور جائزہ لیتے عفت نے حیرت سے سوال کیا۔
“کچھ نہیں ماما بس وہ فرینڈز کے ساتھ تھا تو اس ۔۔۔۔”۔ عفت کی جانب دیکھتےاسنے کہا جبی حسنین نے اسے ٹوکا تھا۔
“علی اب تم بڑے ہو گئے ہو۔ تمھاری یہ عمر گند میں کھیلنے کودنے یا کپڑے گندے کرنے کی نہیں ہے۔ اب جاو جا کر کپڑے بدل لو اس سے پہلے کہ بدبو پورے گھر میں پھیل جائے”۔ سختی سے باور کراتے اسنے روم کی جانب اشارہ کرتے کہا جس پہ علی شرمندہ سر جھکائے اپنے روم کی جانب بڑھنے لگا تھا۔
“حسنین آپ آرام سے بھی تو بات کر سکتے ہیں۔ لازمی ہے کہ ڈانٹ کر بولا جائے اب علی چھوٹا نہیں ہے۔ جوان اولاد کو ڈانٹنا آپکو اچھا لگتا ہے؟؟”۔ عفت نے خفگی کا اظہار کرتے کہا پھر کچن کی جانب بڑھ گئی۔
@@@@@@@@@@@@
“میری آن، میری بان، میری شان، میرا روشن پاکستان”۔ وہ گھٹنوں کے بل انکے سامنے زمین پہ جا بیٹھا تھا۔
“آہل اور برہان”۔ سامنے کھڑے بچوں نے اسے جوش سے جواب دیا تھا۔
انکو پیار کرتے فرخ نے انہیں اپنی بانہوں میں لیا پھر کھڑا ہو گیا تھا۔
خالد محمود ایک بزنس مین تھا جسکے تین بچے تھے۔ سب سے بڑی بیٹی فلزہ جسکی شادی ہو چکی تھی اور اپنے شوہر کے ہمراہ جومنی سیٹل تھی۔ اللہ نے فلزہ کو چار سال قبل جڑواں بیٹوں کی نعمت سے نوازا تھا، آہل اور برہان۔
دوسرا نمبر فرخ کا تھا جسکی شادی ہونا قرار پائی تھی اور سب سے چھوٹا زین العابدین جو میڈیکل کالج میں زیر تعلیم تھا۔
“میرے بچوں نے ماموں کو مس نہیں کیا نا میں آپ لوگوں سے سخت والا ناراض ہوں”۔ منہ بناتے اسنے مصنوعی ناراضگی ظاہر کی۔
“ارے ماموں جس سے ناراض ہوں ہم اس سے بات بھی نہیں کرتے۔ آپکو یہ کسی نے نہیں بتایا کیا”۔ آہل نے اسکے منہ کا رخ اپنی جانب کیا تھا۔
“اور پیار بھی نہیں کرتے۔ کس والا”۔ برہان نے اسکی تائید کی جس پہ فرخ ہنس دیا تھا۔
“تو پھر کیسے ناراض ہوتے ہیں؟؟”۔ فرخ نے سنجیدہ لہجہ اپنا کر دونوں کو دیکھا۔
“ہم جس سے ناراض ہوتے ہیں اس سے بات نہیں کرتے بلکہ جب وہ سامنے ہو تو منہ بنا لیتے ہیں۔ یوں کر کے”۔ بولتے ہی آہل نے منہ بنایا تھا۔ دنیا بھر کی معصومیت جیسے اسکے چہرے میں آ سموئی تھی۔
“ٹھیک ہے نا ماموں آپکو جب بھی کچھ پوچھنا ہوا تو ہم سے پوچھ لینا”۔ برہان نے اسکا چہرہ اپنی جانب کیا تھا۔
“اوکے میری جان پوچھ لوں گا”۔ فرخ نے اسکے رخسار پہ بوسہ دیا پھر ڈرائنگ روم کی جانب بڑھ گیا۔
@@@@@@@@@@@@
” فرخ تمھاری شادی پہ میں جلدی نہیں آ سکی مگر زین کی شادی پہ میں پکا ایک ماہ پہلے ہی آ جاوں گی”۔ ڈنر کے بعد زین، عفان، فرخ اور فلزہ لان میں بیٹھے تھے جبی فلزہ نے کہا۔
“یہ کیا بات ہوئی فلزہ جیسے میری شادی پہ ایک دن پہلے آئی ہو اس کی شادی پہ بھی ایک دن پہلے ہی آو گی بتا رہا ہوں تمھیں”۔ فرخ نے بے زارگی سے فلزہ کو دیکھا جو اسکے سامنے بیٹھی تھی۔
“نہیں فرخ بھائی فلزہ آپی کو ایسا مت کہیں اچھا ہے نا میری شادی پہ فلزہ آپی جلدی آ جائیں گی۔ پھر جو حسرت اب رہ گی ہے وہ اس وقت پوری کر لینا”۔ زین جو کہ فرخ کے برابر میں بیٹھا تھا، نے کہا۔
“نہیں زین فلزہ تمھاری شادی پہ بھی ایک دن پہلے ہی آئے گی۔ بھئی میرے لیئے دونوں سالے برابر ہو”۔ لاف زنی کرتے، چیئر کی پشت چھوڑتے وہ سیدھا ہو بیٹھا تھا۔
“یہ کیا عفان بھائی آپ بھی”۔ زین نے چڑ کر کہا۔
“اچھا ایک بات تو بتاو سالے صاحب تمھیں کوئی لڑکی پسند ہے؟؟”۔ عفان نے اسے چھیڑنے کے سے انداز میں کہا۔
“وہ عفان بھائی بات یہ ہے کہ۔۔”۔
“زین اب جھوٹ نا بولنا۔ سچ سچ اس سوال کا جواب دو”۔ فلزہ نے اسکی بات کاٹ کر کہا۔
“ہاں پسند ہے”۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد اسنے کہا۔
“ہا؛ تم تو چھپے رستم نکلے زین۔ کون ہے وہ؟؟ نام کیا ہے؟؟ کرتی کیا ہے؟؟”۔ فلزہ نے جھٹ سے سوالوں بوچھاڑ کر دی تھی۔
“فلزہ آپی کیوں مجھے پاپا سے پٹوانے کا ارادہ ہے آپکا؟؟ پاپا نے سن لیا تو خواہ مخواہ کی بے عزتی ہوگی”۔ خالد کے غصے کے پیش نظر اسنے منہ بناتے کہا۔
“ارے سالے صاحب جب پیار کیا تو ڈرنا کیا؟؟”۔ بولتے ہی عفان، فرخ اور فلزہ قہقہ لگا کر ہنس دیے تھے۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *