Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie NovelR50785 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode14
Rate this Novel
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode01 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode02 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode03 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode04 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode05/06 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode07 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode08 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode09 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode10 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode11 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode12 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode13 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode14 (Watching)Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode15 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode16 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode17 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode18 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode19 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode20 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode21 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode22 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode23 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode24 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode25 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode26 Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Last Episode
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode14
Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode14
وہ اپنے ٹیبل پہ بیٹھی مانیٹر پہ نظر گاڑھے کی بورڈ پہ انگلیاں چلا رہی تھی۔
“ہیلو مس عائشہ”۔ ہلکے قدم اٹھاتا وہ اسکے ٹیبل کے قریب آیا، بائیاں ہاتھ پینٹ کی جیب میں جبکہ دائیں ہاتھ میں فون پکڑا تھا۔
“ارے سر آپ؟؟؟”۔ اسکو اپنے سامنے دیکھ وہ چیئر سے بوکھلا کے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
“مس عائشہ میں ہوں بکلم خود غفران حدید۔ آپ کے چہرے کے تاثرات تو یوں ہیں جیسے کسی جن کو دیکھ لیا ہو یا پھر میری روح کو”۔ بولتے ہی وہ مسکرا دیا تھا۔
“نہیں نہیں سر وہ بات نہیں ہے۔ ایکچوئلی کل آپکی شادی ہوئی ہے نا تو مجھے لگا شاید آج آپ نا آئیں”۔ اسنے فورا سے سر جھٹکا تھا۔
“تو کیا شادی شدہ حضرات ڈیوٹیز چھوڑ دیتے ہیں؟؟ یا ان کے حق یہ رعایت کی جاتی ہے کہ وہ بقیہ زندگی اپنے گھر گزاریں انکی ماہانہ تنخواہ انکے گھر پہنچا دی جائے گی؟”۔ لہجے میں سنجیدگی اور آنکھوں میں بلا کی شرارت۔
“نہیں سر مجھے یہ تھا کہ آپ اپنی وائف کے ساتھ ٹائم سپینڈ کریں گے تبھی ایسا بول دیا۔ سوری سر آپکو برا لگا”۔ بولتے ہی اسنے نظریں جھکا لیں۔
“مس عائشہ میرا مقصد آپکو شرمندہ کرنا قطعا نہیں تھا۔ میں بالکل بات کی تہہ تک پہنچ گیا ہوں کہ آپ کہنا کیا چاہ رہی ہیں۔ آئی واز جسٹ کڈنگ، تھوڑی دیر کیلئے آیا ہوں ایک فائل چاھیے تھی پھر گھر ہی جا رہا ہوں”۔ اسنے تردید کی پھر اپنے کیبن کی اور بڑھ گیا۔
@@@@@@@@@@@@
“سچ یاد آیا، زین تمھارے بھائی کی شادی کب ہے؟؟؟”۔ عماد نے زین کو مخاطب کرتے کہا جو اسکے مقابل میں چیئر پہ بیٹھا تھا۔
پہلی کلاس سے فارغ ہوتے وہ سب کیفے میں ڈیرہ جمائے بیٹھے تھے۔
“یار پتہ نہیں؟ آج جائیں گے دیکھو کب کی ڈیٹ فکس ہوتی ہے”۔ چیئر کی پشت چھوڑتے وہ سیدھا ہو بیٹھا تھا۔
“اچھا زینب گلاب دین ایک بات تو بتا؟۔ تو ہمیں شادی پہ بلائے گا نا؟”۔ عون جو کہ اسکی برابر والی چیئر پہ بیٹھا تھا؛ نے اسکی جانب دیکھا تھا۔
“تم لوگوں کو نہیں بلاوں گا تو پھر کس کو بلاوں گا یار؟؟”۔ زین نے بھی عون کی جانب دیکھا تھا۔
“یہ ہوئی نا بات۔ اسے بولتے ہیں دوست صحیح معنوں میں۔ اچھا زین کھانے میں مزے مزے کے اور لذیذ پکوان رکھوانا اور زیادہ بھی”۔ رباب نے بھی گپ شپ میں حصہ لیا۔
“تم تو میری جان ہمیشہ بھوکی ہی رہنا”۔ جوہم جو کہ رباب کے دائیں ہاتھ پہ بیٹھی تھی، نے رباب کا دائیاں گال تھپتھپایا تھا۔
“یار جوہم بڑے بزرگ کہتے ہیں کہ پہلے پیٹ پوجا پھر کام دوجا۔ اس وجہ سے شادی پہ ملنے ملانے والا کام بعد میں ہو تو ہی بہتر ہے”۔ بائیاں بازو میز پہ برابر رکھتے اسنے دائیاں ہاتھ ہوا میں بلند کرتے کہا۔
“کوئی حال نہیں ہے تمھارا، رباب”۔ سر جھٹکتے ہی وہ ہنس دی۔
“جے- ٹی! اسکا حال کیا۔ مجھے تو مستقبل بھی نظر نہیں آتا”۔ عماد جو کہ جوہم کے دائیں جانب بیٹھا تھا، نے کہا۔
“صحیح پکڑے ہوبالکل”۔ جوہم نے اسکی تائید کی۔
“لسن یو بنکرز۔ میم چمن تم لوگوں کو کلاس میں بلا رہی ہیں”۔ چند ہی لمحوں میں ایک لڑکا دوڑتا انکے قریب آیا اور پھولتی سانس سے اپنی بات مکمل کی۔
“او نو باتیں کرتے کرتے وقت کا اندازہ ہی نہیں ہوا”۔ زوحان نے دائیں کلائی اوندھی کر کے گھڑی پہ نظر ثانی کی۔
“آج تو بے عزتی پکی”۔ رباب ہڑبڑاہٹ میں اٹھ کھڑی ہوئی تھی جسکی تائید میں باقی سب بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔
“یار میم سے کیا بہانہ بنائیں گے؟؟”۔ تیز تیز قدم اٹھاتے عون نے پریشانی میں پوچھا۔
“وہی جو ہر پروفیسر کے سامنے مارتے ہیں”۔ علی نے تسلی بخش انداز میں عون کی جانب دیکھا۔
پروفیسر چمن آر ڈبلیو پی کی پرنسپل تھیں اور بد قسمتی سے انکی کلاس کو گراس اناٹمی پڑھاتی تھیں۔ پورے کالج میں انکا رعب و دبدبہ بہت مشہور تھا لیکن جہاں انکا غصہ مشہور تھا وہاں سب نے انکی کمزوری بھی پکڑ رکھی تھی کہ وہ کسی سٹوڈنٹ کو روتا نہیں دیکھ سکتی تھیں اور سب اس بات کا فائدہ اٹھاتے تھے۔
@@@@@@@@@@@@
“یہ کالج تمھارا ہے
تم ہو بنکر میری جان اسکے
یہ چمن تمھاری ہے
تم ہو بے عزتی کا سامان اسکے”
وہ سب دھیرے دھیرے پیر رکھ رہے تھے جبی عون کی نظر کلاس کی دہلیز پہ کھڑی پروفیسر چمن پہ پڑی۔
“بے غیرت مجھے ہنسا مت تو جانتا ہے میری ہنسی کنٹرول میں نہیں آتی”۔ زین جو کہ عون کے برابر میں تھا، کی بظاہرنگاہیں سامنے کی جانب تھیں جبکہ وہ عون سے ہم کلام ہوا تھا۔
علی عون کے عقب میں تھا اور عماد علی کے۔ گردن کو جنبش دیتے علی نے عماد کو دیکھا اور تمسخرانہ مسکراہٹ چہرے پہ سجا لی جس پہ عماد نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا اور اپنی بھنووں کو جنبش دیتے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی۔
عماد کی جانب ہوتے اسنے فورا سے عماد کی آنکھوں پہ ضرب لگائی تھی جس سے اسکی آنکھوں میں چبھن پیدا ہوئی تھی۔ چبھن کے نتیجے میں عماد کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے۔
“ذلیل انسان یہ کیا کیا ہے؟؟”۔
“عماد خبردار آنکھوں کو صاف نا کرنا”۔ عماد کا ہاتھ آنکھوں کی جانب اٹھتے ہی اسنے عماد کو تنبیہ کی۔
اب وہ سب کلاس کے باہر پہنچ چکے تھے رباب سب سے آگے تھے اور باقی سب اسکی تائید میں۔
“سٹوڈنٹس آپ لوگ کدھر تھے؟؟”۔ پروفیسر نے آگے بڑھ کر ان سے وجہ دریافت کی۔
“وہ میم”۔ رباب نے ہمت کرتے زبان کو حرکت دی تھی۔
“میم بات دراصل یہ ہے کہ عماد کے دادا جی کی دیتھ ہو گئی ہے تو ہم اسکے ساتھ کیفے میں تھے”۔ علی نے آگے بڑھ کر رباب کے لیئے آسانی پیدا کی۔ جس پہ عماد سمیت باقی سب نے علی کو حیرت سے دیکھا تھا۔
“یہ سالہ مجھے مروائے گا میرے جیتے جاگتے دادا کو مار کر کتنے مزے سے کہانی گھڑدی”۔ عماد علی کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا مگر سچویشن کے پیشنظر اسنے منہ بنا لیا تھا۔
“او ہو اللہ انکی مغفرت کرے۔ عماد پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہم سب مل کر ان کیلئے دعا کریں گے”۔ پروفیسر نے آگے بڑھ کر عماد کی پیٹھ تھپتھپائی۔
@@@@@@@@@@@@
“ارے عائشہ آج تم جلدی آ گئی آفس سے؟”۔ عفت عائشہ کے روم کے باہر سے گزر ہی رہی تھی کہ عائشہ کو روم میں موجود پا کر اسکے روم میں داخل ہوئی۔
“جی پھپھو جان بس کام مکمل ہو گیا تھا تو سوچا گھر ہی چلی جاتی ہوں”۔ وہ سنگھار میز کے سامنے کھڑی بالوں کو سنوارنے میں لگی تھی کہ عفت کی آواز پہ اسکی جانب متوجہ ہوئی۔
“یہ تو تم نے بہت اچھا کیا۔ اچھا عائشہ بیٹا جب فری ہو جاو تو ذرا کچن میں آ جانا سودا منگوانا ہے تو لسٹ بنانی ہے”۔ دروازے کی جانب مڑتے ہی وہ دوبارہ پلٹی تھی۔
“جی بہتر”۔ اسنے اثبات میں سر ہلادیا۔
@@@@@@@@@@@@
“یار علی نے بہت غلط کیا ہے”۔ دن کے دو بج رہے تھے وہ سب کالج کے باہر سیڑھیوں پہ بیٹھے تھے جبی عماد نے بے زارگی ظاہر کی۔
“یار عماد اسنے جو کچھ بھی کیا ہے ہمیں بچانے کیلئے کیا ہے۔ تم اسے غلط نا سمجھو پلیز”۔ رباب جو کہ عماد سے تھوڑا فاصلے پہ بیٹھی تھی، نے علی کی سائیڈ لی۔
“کیا خاک بچایا ہے یار رباب۔ مروا دیا ہے مجھے وہ بھی مکمل طور پہ۔ تم لوگ میرے دادا جی کو نہیں جانتے۔ اگر انہیں پتہ چلا کہ میں نے ایسا کہا ہے تو وہ پتہ نہیں کیا کریں گے؟ اور پاپا وہ تو مجھے مار دیں گے”۔ رباب کی جانب منہ کیئے وہ بھڑک اٹھا تھا۔
“عماد انکو کون بتائے گا؟؟ تم اس کالج میں ایک سال سے ہو اگر انہیں یہاں آنا ہوتا تو وہ کب کے آ چکے ہوتے۔ اس لیئے ریلیکس رہو ایسا کچھ نہیں ہوگا جیسا تم سوچ رہے ہو۔ اچھا اچھا سوچو نا”۔ جوہم جو کہ انکے سامنے زینوں سے نیچے کھڑی تھی، نے کہا۔
“یار باقی باتیں چھوڑو یہ بتاو کہ کل علی کیلئے کیا سرپرائز رکھا ہے۔ کل اسکا برتھ ڈے ہے نا”۔ ادھر ادھر نظر دوڑاتے زینے چڑھتے زین انکے قریب آیا تھا۔
“او یار یہ تو ہم بھول گئے تھے”۔ رباب نے سر پکڑا۔
“ہم نہیں صرف اور صرف تم۔ مجھے علی کا برتھ ڈے یاد ہے نہیں بھولی”۔ جوہم نے تردید کی۔
“تو بندہ بتا دیتا ہے”۔ رباب نے خفگی سے جوہم کو دیکھا جو اب اسکے قریب آ گئی تھی۔
“تو بندہ یاد رکھتا ہے نا”۔ جوہم نے سر جھٹکا۔
“بھئی تم لڑکیوں نے جو بھی سرپرائز دینا ہے وہ دے لینا ہم نے جو اسکے لیئے دھماکے دار، شاندار سرپرائز رکھا ہے نا وہ تا عمر نہیں بھولے گا”۔ بولتے ہی وہ سیڑھی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا جبکہ ایک شیطانی مسکراہٹ اسکے چہرے پہ جم سی گئی تھی۔
“کیا سرپرائز ہے تم لوگوں کا؟؟”۔ رباب متجسانہ اسے دیکھ رہی تھی۔
“تم سننا چاہتی ہو؟؟”۔ زین کے پوچھنے پہ رباب نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“تو سنو”۔ اسکے قریب ہوتے اسنے منہ کے گرد ہاتھ حائل کیا تھا۔
“ہم تمھیں کیوں بتائیں؟”۔ اسکے کان کے پاس چیختے وہ برق صفت سیڑھیاں اتر گیا تھا جس پہ سب کا قہقہ گونجا تھا۔
“خبیث، ذلیل انسان میرے کان کا پردہ پھاڑ دیا ہے”۔ رباب نے غصے میں کان کو ملتے کہا۔
“تو کیا ہوا کباب اورنج سیب میں تمھیں کل اپنے روم کی کھڑکی کا پردہ اتار کے لا دوں گا تم وہ لگوا لینا”۔ عون نے اسکے قریب آتے شکل بگاڑی۔
“وہ تو تم اپنی بیوی کے ناک کے آگے لگوانا” رباب نے تپ کر کہا۔
@@@@@@@@@@@@
“جوہم بیٹاآپکا آج کا دن کیسا گزرا؟؟”۔ جوہم کالج سے واپس آ چکی تھی۔ لنچ کے بعد وہ سیدھا اپنے روم میں چلی گئی تھی۔ گھر موجود نا ہونے کی وجہ سے طالب بعد میں خبر گیری کیلئے اسکے روم میں چلا آیا۔
“جی پاپا بس اچھا گزر گیا ہے۔ آپ سنائیں؟ آپ کدھر تھے لنچ ٹائم آپ نہیں تھے گھر پہ”۔ وہ اسکے قریب آئی اور غیر ارادی طور پر اس سے پوچھا۔
“بس بیٹا ایک دوست کے ہاں گیا تھا۔ اسکی والدہ بیمار ہیں تو سوچا بیمار پر سی کر آوں”۔ صوفے پہ براجمان ہوتے اسنے ٹانگ پہ ٹانگ رکھتے کہا۔
“جی پاپا یہ تو اچھا کیا آپ نے”۔ جوہم اسکے سامنے بیڈ پہ بیٹھ گئی تھی۔
“اچھا جوہم بیٹا آپکی پڑھائی کیسی چل رہی ہے؟؟ اگر کسی سبجیکٹ میں مسئلہ ہے تو بتا دو میں آپکو ٹیوٹر لگوا دیتا ہوں”۔ اسنے مزید پوچھا۔
“نہیں پاپا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر ایسا کوئی سین ہوتا بھی ہے تو ہم گروپ سٹڈی سے وہ مسئلہ سالوآوٹ کر لیتے ہیں”۔ اسنے جوابا کہا۔
@@@@@@@@@@@@
آٹو سے اتر کر اسنے آٹو والے کو پیسے دے کر رخصت کیا اور تیزی سے مال کی سیڑھیاں چڑھنے لگی تھی۔
وقت کی قلت کے باعث وہ تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی تاکہ وقت کے رہتے وہ ایک بہترین تحفہ خرید سکے۔
وہ شہر کے بڑے مال میں موجود تھی جہاں مختلف اشیا کے الگ پورشنز بنے تھے۔ وہ اپنی تسلی کیلئے ہر پورشن
میں گئی تھی مگر کوئی بھی چیز اسکے دل کو بھا نا سکی۔
آخر وہ پرفیوم والے پورشن میں داخل ہوئی اور سب سے مہنگا اور بہترین پرفیوم پیک کروایا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ علی کو پرفیوم اکھٹے کرنے کا کریز ہے۔ پرفیوم کی مہک اسکے کپڑوں سے کبھی الگ نہیں ہوئی تھی۔
پیمنٹ کرتے وہ مال سے نکل کھڑی ہوئی تھی۔
“اوہو دھیان سے میڈم۔ ہماری ذرا سی غلطی ہمارے ساتھ پیش آنے والے ان حادثات کا سبب بنتی ہے جو ہمارے لیئے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے”۔ برق رفتاری سے سیڑھیاں اترتے وہ ایک لڑکے سے ٹکرا گئی تھی۔
“سو سوری میں جلدی میں تھی اس وجہ سے دیکھا نہیں”۔ اسنے معذرت کی۔
“میڈم ہمارا دیر سے پہنچنا نا پہنچنے سے بہتر ہے۔ وہ تو شکر مانیے کہ آپ مجھ سے ٹکرائیں ہیں اگر خدا ناخواستہ کسی گاڑی وغیرہ سے ٹکرا جاتیں تو نتیجہ آپکو معلوم ہی ہے۔ اس لیئے میرا مشورہ ہے کہ اپنی آنکھیں کھلی رکھیں۔ ذہن بند ہو تو چلتا ہے”۔ لاف زنی کرتے وہ منمنایا تھا۔
“جی؟؟خیر۔ مشورے کا شکریہ۔ مجھے دیر ہو رہی ہے بحث کا وقت نہیں”۔ اسنے سر جھٹکا پھر بولتے ہی وہ سڑک کی جانب بڑھی تھی جہاں ایک آٹو آ کے رکا تھا جبکہ اس لڑکے نے چہرے کو جنبش دیتے اسے آٹو میں بیٹھے دیکھا تھا پھر مال میں چلا گیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
وہ رات سے اسی حیرت میں تھا کہ کسی کی جانب سے اسے جنم دن کی مبارک باد کا میسج تک نہیں آیا تھا اور ایسا پہلی بار ہوا تھا۔
وہ سنگھار میز کے سامنے کھڑا بالوں میں برش پھیر رہا تھا اسی اثنا میں دروازے پہ دستک ہوئی۔
“میں اندر آ جاوں؟؟”۔ ہاتھ پیچھے کی اور کیئے عائشہ دروازے کی دہلیز پہ کھڑی تھی۔
“ارے عائش؟؟۔ آو نا”۔ برش کو واپس جگہ پہ رکھتے وہ عائشہ کی جانب بڑھا تھا۔
“ہیپی برتھ ڈے علی”۔ بولتے ہی اسنے گفٹ علی کی جانب بڑھایا۔
“تھینک یو سو مچ عائش۔ تھینک گاڈ کہ تمھیں یاد تھا مجھے لگا سب میرا برتھ ڈے بھول گئے”۔ اسکے ہاتھ سے گفٹ لیتے اسنے بیڈ پہ رکھا تھا۔
“میں تو رات کو ہی آنا چاہ رہی تھی مگر پھر سوچا کہ تم سو رہے ہو گے ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں۔ تو ابھی چلی آئی”۔ اسنے مزید کہا۔
“کوئی بات نہیں۔ ویسے بھی تم پہلی ہی ہو جس نے وش کیا ہے”۔ اسنے مسکراتے کہا۔
“اچھا علی اب میں بھی چلتی ہوں ورنہ آفس سے دیر ہو جائے گی واپسی پہ ملاقات ہوتی ہے۔ گفٹ کھول کے ضرور دیکھ لینا”۔ جاتے جاتے اسنے تنبیہ کی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے
