Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode23

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode23

سنگھار میز کے سامنے بیٹھی وہ خود کو آئینے میں دیکھ کر من ہی من میں مسکرا رہی تھی۔ اسی دوران اسکی کزن دوڑتی اسکے قریب آئی۔اسکی سانسیں پھولی ہوئیں تھیں اور وہ کافی ہڑبڑائی ہوئی تھی۔
“کیا ہوا ہے ہما؟ تم اتنی پریشان اور گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟؟”۔ آئینے میں اسکا عکس دیکھتے ہی اسنے کہا۔
“رباب وہ ۔۔۔ وہ تمھارے سسرال والے آ گئے ہیں۔ ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہیں”۔ بولتے ہی اسنے سانسیں بحال کیں۔
“تو اس میں گھبرانےوالی کونسی بات ہے ہما؟؟ویسے بھی ابھی وہ میرے سسرال والے بنے نہیں ہیں۔ کیا پتہ امی ابو کا کیا ڈیسیژن ہو گا؟”۔ بولتے ہی اسنے سر جھکا لیا تھا۔
“رباب پہلی بات تمھیں راحم پسند ہے اور دوسری بات یہ کہ راحم اچھا لڑکا ہے اچھی جاب کرتا ہے اچھی خاصہ پے ہے اور تو اور اچھی فیملی سے بیلانگ کرتا ہے۔ انکل آنٹی کو بھلا کیا مسئلہ ہو گا راحم سے؟؟”۔ بولتے ہی وہ رباب کے سامنے آئینے کی اور اپنی پشت کیئے کھڑی ہو گئی تھی۔
“اللہ کرے ہما جیسا تم بول رہی ہو ویسا ہی ہو”۔ ہما کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے اسنے کہا۔
@@@@@@@@@@@@
اپنے روم میں بیڈ پہ بیٹھا وہ جھک کر جوتوں کے تسمے کھولنے میں لگا تھا۔
“ارے زوحان بیٹا آپ نے ابھی تک ڈریس چینج نہیں کیا”۔ اسکے روم میں داخل ہوتے ہی انعم نے اسے مخاطب کیا۔
“جی ماما بس جا ہی رہا ہوں”۔ انعم کی آواز پہ وہ جوتے سائیڈ پہ رکھتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
“ٹھیک ہے آپ فریش ہو کر آ جاو میں آپکے لیئے کھانا لگاتی ہوں”۔ بولتے ہی وہ روم سے نکل گئی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
وقاص نے عون کے فون پہ میسج چھوڑا تھا جس سے عون بغیر کچھ سوچے وقاص کو اپنا ہمدرد اور خیر خواہ سمجھتے اس سے ملنے بتائی گئی جگہ پہ آ گیا تھا۔
“ہیلو کوئی ہے؟؟”۔ یہ ایک گھر تھا جس میں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی مگر انسان کا نام و نشان تک نہیں تھا۔
عون اپنے قدم گھر کے اندرونی جانب بڑھاتا چلا جا رہا تھا۔ راہداری کو عبور کرتے وہ ایک ہال میں آن پہنچا تھا۔
“ارے عون تم آ گئے مجھے لگا تم نہیں آو گے پھر سوچا پتہ نہیں میرا میسج تمھیں ملا بھی ہو گا یا نہیں؟”۔ جونہی بائیں جانب سے آواز عون کے کانوں سے ٹکرائی وہ اسی جانب گھوم گیا تھا۔
“ہاں تمھارا میسج مجھے مل گیا تھا۔ کیا ہوا؟؟ کوئی کام ہے؟ تم میرے گھر آ جاتے یا مجھے اپنے گھر بلوا لیتے۔ یہ کونسی جگہ ہے؟؟اور تم۔۔۔۔۔۔”۔ عون نے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی تھی۔
“ارے ارے دم لو ذرا۔ سانس لے لو یار کوئی ٹیکس نہیں ہے اس پہ۔ آو چل کر بیٹھ جاتے ہیں پھر جو پوچھنا ہوا پوچھ لینا”۔ بولتے ہی وہ عون کے ہمراہ دائیں جانب بڑھا جہاں ایک وسیع ڈائننگ روم تھا۔
کچھ ہی دیر میں وقاص کے باقی ساتھی بھی وہاں پہنچ گئے تھے۔
@@@@@@@@@@@@
رباب کے گھر والوں کو راحم اور اسکی فیملی پہلی ملاقات میں ہی بہت اچھے لگے تھے۔ رباب اور راحم کا رشتہ طے ہو گیا تھا۔
رباب سے کیئے گئے راحم کے وعدے کے پیش نظر ابھی صرف اور صرف منگنی کا دن مقرر کیا گیا تھا۔
“مبارک ہو رباب۔ میں تمھارے لیئے بہت خوش ہوں۔ اللہ تمھارے نصیب اچھے کرے”۔ رباب اپنے روم میں بیڈ پہ بیٹھی تھی جبی ہما اسکے نزدیک آ بیٹھی تھی۔
“خیر مبارک بہت شکریہ”۔ اسنے خوش اسلوبی سے کہا۔
“اور سناو راحم بھائی کا نمبر ہے تمھارے پاس؟؟؟۔ نہیں میرا مطلب ہے بندہ حال احوال ہی پوچھ لیتا ہے۔ اچھا ہوتا ہے نا میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہی تھی اور تو کچھ نہیں”۔ رباب نے ہما کو گھوری سے نوازا تھا جبی ہما کا لہجہ تھوڑا دھیما ہوا تھا۔
“جی بالکل ہے میرے پاس راحم کا نمبر اور آپکی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ میں راحم سے روز کالج میں ملاقات ہوتی ہے تو فون کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر بلفرض ایسا ہوتا بھی ہے تو میں انہیں کال کر کے پوچھ لوں گی، ڈونٹ وری”۔ جواب دیتے ہی رباب نے اسکا دائیاں رخسار تھپتھپایا تھا۔
“یہ تو میں جانتی ہوں کہ آجکل کی نسل بہت ایڈوانس ہو گئی ہے”۔
“ہاں اور تم تو میری جان جیسے سیونٹیز ایٹیز کی ہو نا؟ اولڈ نسل”۔ بولتے ہی رباب قہقہ لگا کر ہنس دی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
“ارے وقاص یہ تو بے ہوش ہو گیا ہے۔ خدا قسم اگر کسی کو بھنک بھی لگ گئی تو بہت برا پھنسیں گے ہم لوگ”۔ عون بے سدھ صوفے پہ پڑا تھا جس سے عامر کو تشویش ہوئی اور وہ وقاص کے قریب آ کر کہنے لگا جو صوفے کے قریب کھڑا سگریٹ سلگا رہا تھا۔
“کیا ہو گیا ہے عامر ریلیکس یہ کونسا ہم نے پہلی بار کیا ہے؟؟ کچھ نہیں ہوتا اور تمھیں کس بات کی ٹینشن ہے؟؟”۔ عون کی جانب دیکھتے اسنے پرسکون انداز میں عامر کو جواب دیا پھر سگریٹ کا ایک کش لگا کر سرمئی دھواں ہوا میں تحلیل ہوتا دیکھنے لگا۔
“تمھارا کیا خیال ہے وکی جو تم نے چال چلی ہے کیا وہ کامیاب ہو گی؟؟”۔ اسفر اسکے قریب آ کر کنفرم کرنے لگا۔
“وقاص نے بچا ہوا سگریٹ زمین پہ پھینک کر پیر سے مسلا پھر پیر صوفے کی ہتھیلی پہ رکھا تھا۔
“اسفر لازمی نہیں ہے کہ ہر بار شکست ہی آپکا مقدر بنے۔ اس بار جو تیر کمان سے نکلا ہے وہ کوئی عام تیر نہیں ہے ایک ایسا زہریلا تیر ہے جو عون کے ہمراہ اسکے ساتھیوں کو بھی گھائل کر دے گا۔ خدا گواہ ہے جس دن سے یہ لوگ یکجا ہو کر ایک مٹھی ہوئے ہیں انہوں نے مجھے ذلیل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ اب باری ان کی ہے”۔ بے ہنگم اور وحشیانہ قہقہ پورے روم میں گونج اٹھا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
شام کے پانچ بج رہے تھے عماد صحن میں رکھی چارپائی پہ آ بیٹھا تھا جبی بائیں جانب ڈرائنگ روم سے آنے والے قہقے اسکی توجہ کا مرکز بنے۔ کچھ ہی دیر میں سب مہمان ملک شبیر اور راحیلہ کے تعاقب میں ڈرائنگ روم سے باہر آ گئے تھے عماد انکو بغور دیکھنے لگا تھا۔
ایک آدمی ملک شبیر کا ہم عمر تھا جس نے سفید شلوار قمیض زیب تن کر رکھی تھی اسکے ساتھ ایک عورت تھی جو اس سے عمر میں بہت کم تھی اور حلیے سے دیہاتی معلوم ہو رہی تھی ساتھ ہی ایک کم عمر جوان لڑکی تھی۔۔۔ نا پہننے کا سلیقہ نا اوڑھنے کا ڈھنگ یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے برسوں سے گنجان آباد علاقے کے رہائشی پہلی بار شہر میں آ بسے ہوں۔
عماد نے نظریں جھٹکتے ہی ہاتھ میں پکڑے فون پہ جما لیں تھیں۔ جونہی مہمان رخصت ہوئے راحیلہ بیگم عماد کے قریب آ کر سامنے رکھی گئی چیئر پہ بیٹھ گئی تھیں۔
“عماد بیٹا آپکو یہ لڑکی کیسی لگی؟؟؟”۔ اسنے کہا۔
“کونسی لڑکی امی؟؟”۔ بولتے ہی اسنے ایک نظر راحیلہ پہ ڈالی۔
“یہی جو ابھی مہمانوں کے ساتھ آئی تھی اسی کی بات کر رہی ہوں”۔
“ٹھیک ہی ہو گی۔ مجھے اس لڑکی سے کیا لینا دینا؟ امی جو آپ مجھ سے یہ سوال کر رہی ہیں”۔ ہنوز فون پہ نظریں جمائے اسنے خفگی کا اظہار کیا تھا۔
“لینا دینا ہے۔۔۔ لینا دینا ہے کیونکہ اب تمھیں تاحیات اسی لڑکی کے بارے میں سوچنا ہے اور اسی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرنی ہے”۔ ہاتھ پیچھے کو باندھے ملک شبیر عماد کے قریب آ کر کہنے لگا۔
“کیا مطلب ہے اس بات کا؟؟”۔ عماد نے چونک کر سر اٹھا کر ملک شبیر کر دیکھا تھا۔
“ہم نے اس لڑکی کے ساتھ تمھاری بات طے کر دی ہے اور اگلے مہینے تمھاری شادی ہے”۔
“وٹ؟؟”۔ عماد بھڑکتے ہی اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ “کس سے پوچھ کے آپ نے میری زندگی کا فیصلہ کیا ہے؟؟۔ یہ میری زندگی ہے دادا جی کوئی بیل گاڑی نہیں جسے آپ اپنی مرضی سے جہاں موڑیں گے وہ مڑتی چلی جائے گی۔ میں یہ شادی نہیں کروں گا آپ کو جو کرنا ہے آپ کر لیں سمجھے آپ”۔ اسکو باور کراتے وہ غصے میں گیٹ کی اور بڑھ گیا تھا۔
“راحیلہ تم اس کا دماغ درست کرو مجھے مزید کوئی گڑبڑ نہیں چاہیئے۔ تم سمجھا دو اسے اپنی زبان میں اگر میں سمجھانے پہ آیا تو اچھا نہیں ہو گا”۔ راحیلہ کو آگاہ کرتے وہ بھی اپنے روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
بارش کی وجہ سے موسم میں خاصی تبدیلی پیدا ہو گئی تھی۔ ٹھنڈی اور پرسکون تاریک رات کے بعد صبح کا اجالا بہت حسین معلوم ہو رہا تھا۔
ایسے میں اپنے پیاروں، دوستوں اور عزیزوں کے ہمراہ چند پل گزار لینے میں اپنا ہی لطف ہے۔
“عمادے تو نے پھر کیوں منہ لٹکایا ہے؟؟۔ تیرے دادا نے پھر کوئی نیا کٹا کھول دیا ہے کیا؟؟”۔ لان میں بیٹھے وہ سبھی گفتگو میں منہمک تھے جبی زین کی نظر اپنے سامنے عماد پہ پڑی جو گم صم بیٹھا تھا۔ زین کی آواز پہ باقی سب بھی اسکی اور متوجہ ہوئے تھے۔
“بس یار کیا بتاوں میری تو قسمت ہی خراب ہے پتہ نہیں وہ ایسی کونسی منحوس گھڑی تھی جو اس گھر میں جنم لے لیا اور ملک شبیر کا پوتا بنا تھا”۔ عماد نے دل کی بھڑاس نکالنا شروع کی۔
“سالے بتائے گا بھی کہ کیا ہوا ہے یا بس پہیلیاں ہی بجھواتا رہے گا؟؟”۔ زوحان جو اسکے برابر میں بیٹھا تھا، نے اسکے سر کی پشت پہ چپت لگائی۔
“یار کل انہوں نے اپنے کسی دوست کی پوتی کیساتھ میرا رشتہ طے کر دیا ہے”۔ عماد نے تپ کر کہا جس کے جواب میں سب نے پہلے اسے حیرت سے دیکھا پھر یکایک قہقہ لگا کر ہنس دیئے تھے۔
“ہم لوگ ترس رہے ہیں کہ ہمارے گھر والے کب ہمارا رشتہ کریں گے اور ایک تو ہے جو منہ لٹکائے بیٹھا ہے”۔ لاف زنی کرتے ہی عون ہنس دیا تھا۔
“تو اور کیا؟؟”۔ زین نے عون کی تائید کی۔
“تم لوگوں کو مذاق بنانے کے علاوہ اور بھی کچھ آتا ہے؟؟”۔ سب کا رد عمل دیکھتے عماد نے چڑ کر کہا۔
“ہاں؟؟”۔ عون جو اسکے سامنے تھا اب سینہ تان کر مزید اسکے قریب ہوا تھا۔
“کیا؟؟”۔
“بیوقوف بنانا”۔ ہنستے ہی عون پیچھے کو ہوتے گھاس پہ لیٹ گیا تھا۔
“یار تم لوگ سمجھ کیوں نہیں رہے انہوں نے اگلے ماہ میری شادی بھی فکس کر دی ہے”۔ دوستوں کے غیر سنجیدہ رسپونس پہ وہ مزید غصے سے بولا تھا۔
“کیا بول رہا ہے عماد؟؟”۔ اسے جیسے سب مذاق لگا تھا۔
“ٹھیک بول رہا ہوں علی۔ دادا جی نے میری شادی فکس کر دی ہے”۔
“ارے ایسے کیسے فکس کر دی ہے؟؟۔ مجھے لگتا ہے کہ اب ملک شبیر کی چھمک سے اچھے سے صفائی کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ انکی ہڈیوں کا جو شیرا ہے نا عنقریب ختم ہو جائے گا پھر ملک شبیر وہی چھمک پکڑ کر چلا کرے گا ممکن ہے بے ساکھی بھی کام آئے”۔ علی نے اطمینان سے بات مکمل کی پھر گھاس سے اٹھ کر پینٹ جھاڑی تھی۔
“یار علی تم اور نہیں تو کم از کم انکی عمر کا ہی لحاظ کر لو”۔ رباب نے سر اٹھا کر علی کو دیکھا تھا جس کے چہرے پہ مسکان واضح تھی۔
کباب اورنج سیب خدا بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جسکو اپنے بدلنے کا خود احساس نا ہو”۔ علی کے عقب میں وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *