Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode05/06

Yeh Dosti Milti Naseeb Se by Rose Marie Episode05/06

“ارے علی تم وہاں کیوں کھڑے ہو؟؟ آو نا”۔ وہ سنگھار میز کے سامنے کھڑی اپنے بالوں کو سنوارنے میں منہمک تھی کی شیشے میں اسکا عکس نظر آتے ہی مڑی۔
“میں تو آ جاوں گا کوئی مسئلہ نہیں۔ تم سناو؟ کہیں جانا ہے کیا؟”۔ وہ جو کہ دروازے کے ساتھ ہاتھ باندھے کھڑا تھا اب ہلکے قدم اٹھاتے اندر کی جانب آیا تھا۔
“نہیں تو میں نے کہاں جانا ہے”۔ بولتے ہی وہ ہنس دی۔
“ہنس کیوں رہی ہو؟ پاگل میں نے کوئی جوک تو نہیں سنایا کیوں تم کہیں جا نہیں سکتی کیا؟ آفس بھی تو جاتی ہو”۔ خود کو ڈھیلا چھوڑتے اپنا دائیاں بازو بیڈ پہ اور ہاتھ سر کے نیچے ٹکاتے وہ چہرے کا رخ اسکی جانب کیئے بیڈ پہ لیٹ گیا۔
“ہاں جاتی ہوں مگر وہ توصبح جاتی ہوں وہ بھی تمھارے ساتھ ابھی کونسا ٹائم ہے آفس جانے کا؟”۔ اسنے سنگھار میز کے سامنے پڑے مخصوص سٹول کو اٹھایا اور علی کے سامنے بیٹھ گئی۔
“کہیں گھومنے چلیں؟؟”۔ اسنے یونہی پوچھ لیا۔
“کہاں؟؟”۔ وہ متحیر سی اسے دیکھ رہی تھی۔
“ایسا کرتے ہیں مووی دیکھنے چلتے ہیں ویسے بھی آج کوئی نیو ریلیز ہو رہی ہے وہی دیکھ لیں گے۔ کہو کیا خیال ہے؟؟”۔
“کتنے بجے لگے گی؟؟”۔ اسنے سوچ بچار کرتے کہا۔
“رات آٹھ بجے”۔ اسنے جوابا کہا۔
“نہیں علی انکل ڈانٹیں گے تم نے صبح کالج جانا ہے اور میں نے آفس دیر ہو جائے گی”۔ اسنے بیڈ پہ رکھے فون کو اٹھا کر ایک نظر دیکھا تھا۔
“کچھ نہیں ہوتا عائش ہم ایسا کرتے ہیں کہ مووی کا بتائیں گے ہی نہیں۔ ہم بول دیں گے کہ پارک جانا ہے پھر تو ٹھیک ہے نا؟؟؟”۔ بولتے ہی اسنے کھڑے ہو کر اپنے بالوں پہ ہاتھ پھیرا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“آسمان سے گری اور لنگور میں اٹکی”۔ زمین سے اٹھتے ہی وہ کپڑے جھاڑنے لگی تھی۔
“لنگور نہیں کھجور ہوتا ہے، محترمہ”۔ اسنے تصحیح کی پھر ہنس دیا۔
“تم نے سن لیا؟؟؟”۔ اسکی پلکوں میں ارتعاش پیدا ہوا، گھبراہٹ کے عالم میں اس نے اسکی جانب دیکھا تھا۔
“جی بالکل اللہ تعالی نے یہ کان سجاوٹ کیلئے نہیں دیئے بلکہ ان میں سماعت عطا کی ہے تاکہ ہم سن سکیں وہ بھی جو لوگ ہمارے بارے میں دھیرے سے بولتے ہیں”۔ ارادی طور پہ بولتے وہ زیر لب مسکرا دیا۔
“جانتی ہوں”۔ اسنے لب کاٹے۔
اسے سامنے کھڑے انسان پہ شدید غصہ آ رہا تھا جبکہ اس انسان سے کہے الفاظ اسکے دماغ میں گردش کرنے لگے تھے۔
“بریرہ تمھیں زیادہ چوٹ تو نہیں آئی؟؟”۔ دوشیزہ جو کہ پہرے دار کا کام سر انجام دے رہی تھی، اپنے قدموں کو تیزی سے حرکت دیتے اس طرف آئی۔
“زیادہ تو نہیں مگر جو آئی ہے وہ ان کے لیئے کافی ہے”۔ اسنے سامنے کھڑی بریرہ جو کہ مسلسل کھڑی اپنی دائیں کہنی کو مسل رہی تھی، پر نظر ٹھہراتے اسکے مقابل کھڑی دوشیزہ سے ہم کلام ہوا۔
گرنے کے باعث اسکی کہنی میں خاصی خراشیں آئیں تھیں جس سے اسے جلن ہو رہی تھی۔
زین کے جواب پہ بریرہ نے اس پہ زہر آلود نگاہ ڈالی پھر سر جھٹک کے دوشیزہ کے ہمراہ گھر کی اندرونی جانب بڑھنے لگی۔
“یہ کون تھا؟؟”۔ سر کو جنبش دیتے اسنے زین جو کہ انکے عقب میں آ رہا تھا، پر نظر دوڑائی۔
“مجھے کیا پتہ تم پوچھ تو ایسے رہی ہو جیسے اس ملک کے تمام آوارہ لوگوں کی بائیو گرافی اور ہسٹری مجھے ازبر ہے۔ بس اتنا پتہ ہے کہ یہ وہی ہے جو مجھے صبح ملا تھا مگر مجھے یہ نہیں پتہ کہ یہ یہاں کیا کر رہا ہے؟”۔ اسکے سوال پہ وہ چڑ گئی تھی۔
“بریرہ مہمان تو آئے ہوئے ہیں”۔ انٹرنس کے بائیں ہاتھ پہ ہی ڈرائنگ روم تھا جس سے گفتگو اور قہقہوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔
“یہ سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے اگر تم مجھے وقت پہ آگاہ کرتی کہ مہمان آ چکے ہیں تو کم از کم میں اپنے روم میں رہتی، نا میں گرتی اور نا ہی مجھے چوٹ لگتی”۔ قدموں کی حرکت کو روکتے ہی وہ اسکی جانب گھومی۔
“اگر آپکو ہمیں جوائن کرنا ہے تو کر سکتی ہیں اور اگر جانا ہے تو پھر بھی کوئی بات نہیں۔ دروازے کے سامنے سے ہٹ جائیں کیونکہ راستے میں کھڑے نہیں ہوا کرتے”۔ انکو ڈرائنگ روم کے باہر دیکھتے اسنے اپنا کوٹ جھاڑا اور متوازن چال چلتا انکے قریب گیا۔
“تم سے مطلب؟؟؟ یہ میرا گھر ہے”۔ اسکی بات پہ وہ غصیلے انداز میں ایڑیوں کے بل اسکی طرف مڑی-
“تو میں یہ کب بول رہا ہوں کہ میرا ہے۔ ابھی نہیں مگر عنقریب بن جائے گا”۔ ہنوز چہرے پہ سنجیدگی اور زیر لب تمسخرانہ مسکراہٹ، جواب دیتے وہ بڑبڑایا تھا۔
“بائے دا وے آپکے اس خوبصورت گھر کی زینت میرا مطلب ہے کہ وہ عالی شان اور منفرد لفٹ مجھے بہت پسند آئی۔ میں اپنے گھر بھی ضرور لگواوں گا تاکہ سیڑھیاں اترنے میں میرا قیمتی وقت برباد نا ہو”۔ ڈرائنگ روم کی جانب بڑھتے وہ پل بھر کو رکا گردن میں جنبش لاتے چہرے کا رخ بریرہ کی جانب کرتے ہو لے سے گویا ہوا جس پہ بریرہ دانت بھینچ کر رہ گئی کیونکہ وہ ڈرائنگ روم میں داخل ہو چکا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“عون میرا بچہ تمھارے پاپا کسی دوست کے ہاں گئے ہیں ۔ رات کے پکانے کیلئے کوئی سبزی یا دال تو لے آو”۔ عارفہ جو کہ برآمدے میں چارپائی پر بیٹھی تھی، نے پاس سے گزرتے عون کو مخاطب کیا۔
“اچھا ماما لے آتا ہوں پہلے میں کچھ کھا لوں بہت بھوک لگی ہے”۔ شدید بھوک کے باعث اسنے کچن کی راہ لی۔
“واو چپس”۔ فریج بند کرتے اسکی نظر دائیں جانب دروازے کے پیچھے رکھے میز پر پڑی جس پہ چپس کا ایک باول پڑا تھا۔
وہ اسکے قریب گیا اور کچھ ہی منٹوں میں سارے چٹ کر ڈالے تھے۔ باول میں اب صرف بچی کچی کیچ اپ تھی جو اسکے کناروں کے ساتھ لگی تھی۔
“اچھا میں آتی ہوں ذرا کچن سے چپس لے آوں”۔ وہ کچن کے دروازے تک پہنچا ہی تھا کہ لمحہ با لمحہ اسکی آواز کچن تک واشگاف رسائی کرنے لگی تھی۔
“ارے اب میں کیا کروں؟ یہ بیا تو مجھے زندہ درگور کر دے گی۔ ایسا کرتا ہوں کہ ادھر چھپ جاتا ہوں”۔ وہ جو کہ کچن سے باہر جانے لگا تھا فورا سے پلٹا اور اپنے آپکو میز کے نیچے چھپا لیا۔
“ارے یہ میرے چپس کہاں گئے؟؟؟”۔ میز پہ خالی باول دیکھتے اسکا خون کھول اٹھا تھا۔
“جل تو جلال تو آئی بلا ٹال تو”۔ ہاتھوں اور گھٹنوں کی بدولت اپنے آپکو میز کے نیچے چھپائے وہ دعائیں مانگنے لگا تھا۔
“اماں ۔۔۔ اماں ۔۔۔” وہ آوازیں لگاتی کچن سے نکل کھڑی ہوئی۔
اس کے عقب میں بغیر وقت کا ضیاع کیئے عون بھی ہاتھوں اور گھٹنوں پہ چلتا کچن سے نکل گیا تھا۔
“ماما آپ نے مجھے کال کیوں کی تھی؟؟ کیا کام ہے؟”۔ اسنے پورے زور سے گیٹ کھولا تھا کہ گھر میں موجود افراد جان سکیں کہ اسکی آمد اسی وقت ہوئی ہے۔
“عون کے بچے تو نے میرے چپس کھائے ہیں؟؟”۔ اسکی آواز کانوں میں گونجتے وہ کمرے سے فورا سے باہر آئی تھی۔
“ارے بیا خدا خوفی کرو۔ کونسے آلو کے چپس؟؟ میں تو ابھی ابھی آیا ہوں”۔ اسنے نظریں چرا لیں اور عارفہ کی جانب دیکھنے لگا جو عون کو دیکھتے مسکرا دی۔
“یہ تمھارے ہونٹوں کے پاس کیا لگا ہے؟؟”۔
“ارے یہ تو کیچ اپ ہے جو چپس پہ۔۔۔۔۔۔”۔ اسنے ہونٹ کے کنارے کو انگلی سے صاف کیا ہی تھا کہ نظر سامنے کھڑی بیا جو کہ کر پہ ہاتھ رکھے اسے قہر آلود آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
اپنا سارا کام نبٹانے کے ساتھ ہی وہ اپنے کمرے میں آگئی تھی۔ واش روم سے ہونے کے بعد بیڈ پہ آ کے بیٹھ گئی اور دوپٹہ سائیڈ پہ رکھ کر لیٹ گئی تھی۔
فون اٹھا کر اسے انلاک کیا اور گیلری اوپن کر کے گزشتہ سال کی تصویریں دیکھنے لگ گئی۔
“پتہ نہیں میرے اس خفیہ رشتے کا اختتام کیا ہوگا؟؟؟۔ مجھ میں تم سے کہنے کی ہمت نہیں۔ تمھاری قربت کے لمحے میری زندگی کے قیمتی لمحات ہیں اور میری ذات کا کل اثاثہ۔ کاش کہ تم بن کہے میرے دل کی بات کو سمجھ جاتے”۔ سامنے سکرین پہ اسکی تصویر کو بارہا زوم کرتے وہ خود سے ہم کلام تھی۔
“نا مقدر سے کوئی لڑ سکتا ہے نا نصیب سے بڑھ کر مل سکتا ہے۔ جو چیز ہو نہیں سکتی اسکا تصور کرنا بھی حماقت سے بڑھ کر کچھ نہیں”۔ اسنے فون دوبارہ سے انلاک کر کے تکیے کے نیچے رکھا اور سائیڈ ٹیبل پہ رکھے لیمپ کو بجھا کر آنکھیں موند لیں۔
میرے دل کی دھڑکنوں پہ اسکا راج ہے
دل اسکا بھی مچلتا ہوگا یہی میرا قیاس ہے
میں بھولنا بھی چاہوں نا بھول پاوں گی
نظروں سے دور سہی مگر دل کے پاس ہے
دنیا کی بھیڑ میں کہاں گم ہو گیا ہے
نا امیدی میں دل نشان حسرت و یاس ہے”
@@@@@@@@@@@@
صبح کے نو بج رہے تھے سورج اپنے عروج پہ چمک کر ماحول کو گرم اور بد مزہ بنا رہا تھا۔ کلاس شروع ہونے میں ابھی خاصہ وقت تھا۔ آج کلاس گراونڈ فلور کی بجائے فہرسٹ فلور پر ہونی تھی اسلیئے وہ فہرسٹ فلور پہ کلاس کے باہر مستعطیل بالکونی نما جگہ پہ موجود تھے جہاں دونوں اطراف پلاسٹک کی کرسیوں کی شکل کی جگہیں بنی تھیں۔
“یہ رباب اور عماد کدھر ہیں؟؟”۔ ہر کوئی وہاں موجود تھا ماسوا ان کے۔ اپنی پشت کی جانب کالج کا خوبصورت منظر کیئے وہ ستون کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا، دائیاں پیر ستون سے ٹکا تھا جبکہ بائیاں زمین پہ تھا۔
“پتہ نہیں ہم جب آئے تھے تو وہ دونوں غائب تھے”۔ زوحان جو کہ علی کی دائیں جانب نصب قطار میں پہلی کرسی پہ بیٹھا تھا، نے لاعلمی میں جواب دیا۔
“لو شیطان کو یاد کیا اور شیطان حاضر”۔ عون جو کہ زوحان کے ساتھ بیٹھا تھا، نے اپنی طرف آتے عماد اور رباب کی طرف اشارہ کیا۔
“اسلام و علیکم”۔ جوہم جو کہ علی کے بائیں جانب بیٹھی تھی، کے پاس بیٹھتے رباب نے سب پہ یکجا سلامتی بھیجی۔
“وعلیکم اسلام رباب یار تم لوگ کہاں تھے؟؟”۔ زین جو کہ گرل کے ساتھ کھڑا کالج کے منظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا،نے رباب کی آواز پہ اس جانب منہ کا رخ کیا۔
“بتاتے ہیں بتاتے ہیں”۔ ہاتھوں میں پکڑیں کتابیں اسنے رباب کے پاس رکھیں اور چند قدم آگے بڑھا۔
“ہمارے پاس ایک گڈ نیوز ہے اور ایک بیڈ نیوز ہے۔ بولو کونسی پہلے سنو گے؟”۔ ہاتھوں کو استعمال میں لاتے اسنے بات کا آغاز کیا۔
“ایک تو بیڈ نیوز بھی ساتھ ہی رہتی ہے۔ گڈ نیوز پہلے”۔ عماد نے تاسف سے کہا پھر متجسانہ اسے دیکھنے لگا۔
“اس ہفتے گرینڈ فنکشن ہے مطلب پارٹی پورے کالج کی”۔ عماد نے پر زور آواز میں کہا پھر رباب کو اشارہ کیا۔
“مزید برآں اس میں سب کچھ ہو گا”۔ عماد کے اشارہ کرنے پہ رباب نے مزید کہا۔
“کھانا بھی؟؟؟”۔ عون نے فورا سے پوچھا۔
“بیوقوف کھانا تو لازمی ہوتا ہے۔ اسکو چھوڑو رباب آگے کہو”۔ زوحان نے چڑ کر کہا۔
“ٹیبلوز، ڈرامے، فنی کلپس ان سب کیساتھ ساتھ اپنی مرضی کا گانا بھی گا سکتے ہیں”۔ آخری بات پہ رباب نے زور دیا تھا۔
“سچ مطلب اس بار ہمیں پھر سے علی کا بے سرا گانا سننے کو ملے گا”۔ عون نے منہ بنایا۔
“او جسٹ شٹ اپ(اپنی بکواس بند رکھو)۔ علی کی آواز بہت پیاری ہے تمھیں یاد نہیں پچھلی بار سنگنگ کامپیٹیشن میں علی کو فہرسٹ پرائز ملا تھا”۔ رباب نے عون کو غصے میں کہا پھر پرانی یاد تازہ کرتے ہوئے بولی۔
“ہاں علی تم اس بار پھر سے گانا گاو۔ سچ میں تمھاری آواز بہت اچھی ہے”۔ رباب کے کہنے پہ عماد نے بھی اسرار کیا تھا۔
“اچھا گا لوں گا مگر یہ تو بتاو کہ بیڈ نیوز کیا ہے؟؟؟”۔ ہامی بھرتے اسنے ستون کی ٹیک چھوڑی اور دوسرا پیر بھی زمین پہ رکھ لیا تھا۔
“او ہاں ۔۔۔۔ اگلے ویک سینڈ اپس ہیں”۔ رباب نے افسردگی سے کہا۔
“او نو مطلب پڑھنا پڑے گا۔ پھر سے۔ ہے”۔ زین نے سر پکڑتے کہا۔
“ہر بار کی طرح”۔ زوحان نے بے زارگی سے کہا۔
@@@@@@@@@@@@
“امی میرا ٹوتھ برش آپ نے کہیں دیکھا؟؟؟”۔ وہ خفگی میں عارفہ کے کمرے کی جانب بڑھی۔
“نہیں بیٹا میں نے تو نہیں دیکھا۔ ادھر ہی ہو گا نا جہاں سب کے رکھے ہیں”۔ عارفہ جو کہ بیڈ پہ رکھے کپڑوں کو تہہ لگا رہی تھی، نے لاپرواہی میں کہا۔
“دیکھ چکی ہوں مگر وہاں پہ نہیں ہے۔ اب تو عون بھی گھر پہ نہیں ہے ورنہ اس سے منگوا لیتی”۔ منہ بناتے وہ کمرے سے نکل گئی تھی۔
@@@@@@@@@@@@
پہلی کلاس اختتام پذیر ہو چکی تھی اب وہ سب سر شکیل کی کلاس لینے کی غرض سے کلاس کی جانب بڑھنے لگے تھے۔
“جوہم تم نے سر شکیل کی اسائنمنٹ بنائی؟؟؟”۔ اسکے ہمراہ سیڑھیاں اترتے اسنے اسے مخاطب کرتے پوچھا۔
“ہاں بنائی ہے ابھی دکھاتی ہوں”۔ بولتے ہی اسنے ہاتھ میں پکڑی فائل کا بٹن کھولا۔
“رباب اس میں اسائنمنٹ نہیں ہے”۔ فائل میں اسائنمنٹ کی عدم موجودگی اسکے لیئے خاصی پریشانی اور ٹینشن کا سبب بن گئی تھی۔
“کیا؟؟؟ ادھر آو”۔ سیڑھیاں عبور کرتے ہی وہ اسے سائیڈ پہ لے گئی تھی۔ “تم نے تو بولا تھا کہ تم نے اسائنمنٹ بنائی ہے تو پھر گئی کہاں؟؟؟”۔
“مجھے نہیں پتہ رباب؟ میں نے سچ میں اسائنمنٹ بنائی تھی۔ اب کیا ہو گا؟؟ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے سر انسلٹ کریں گے”۔ بے رنگ انمول موتی اسکی آنکھوں کی باڑ توڑتے بے مول ہو رہے تھے۔
“کیا ہوا جوہم؟؟ تم رو کیوں رہی ہو؟؟”۔ عماد اور زین جو کہ انکے عقب میں تھوڑے فاصلے پر تھے، اس طرف آئے تھے۔
“یار اسکو سر شکیل کی اسائنمنٹ نہیں مل رہی۔ بول رہی ہے کہ بنائی ہے مگر پتہ نہیں کہاں چلی گئی؟؟”۔ رباب نے وضاحت کی۔
“اوہو یہ تو بہت برا ہوا۔ یہ کھڑوس سر تو کتے والی کرتے ہیں۔ یہ بھی لحاظ نہیں کرتے کہ لڑکی ہے تھوڑی رعایت ہی دے دوں”۔ بات کو تسلی سے گوش گزار کرتے زین نے چڑ کر کہا۔
“چلو ہم بات کر لیں گے کوئی بہانہ ہی بنا دیں گے تم رو مت۔ امید ہے سر ہماری بات سن لیں گے”۔ اسکو تسلی دیتے وہ سب یکجا کلاس کی جانب بڑھ گئے تھے۔
“اسلام و علیکم سٹوڈنٹس”۔ سر شکیل بھی کلاس میں آ پہنچے تھے۔
چند لمحوں کی تاخیر کیساتھ ہی وہ بھی سر کے عقب میں کلاس میں داخل ہوا تھا۔ چہرے پہ تمسکن آمیز تاثرات اور ہاتھ میں پکڑی بے رنگ فائل۔ وہ ٹھاٹ سے چلتا اپنی کرسی پہ آ بیٹھا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“مس عائشہ میں نے آپکو جو فائل دی تھی اسکی تمام ڈیٹیلز آپ مجھے میل کر دیں، ارجینٹلی(جلدی)”۔ وہ عجلت میں اسکے ٹیبل کے قریب آیا تھا۔
“اوکے سر”۔ بولتے ہی اسنے دراز کھول کر اس میں رکھی فائل نکالی تھی جبکہ وہ فون پہ نظر گاڑھے کسی کا نمبر ٹٹولنے میں محو تھا۔
“خود تو کچھ کرتے نہیں ہیں ہمیشہ عائشہ کے گاٹے پہ سوار رہتے ہیں۔ عائشہ یہ کر دو عائشہ وہ کر دو جیسے عائشہ انکی کمپنی کی نہیں انکی ذاتی ملازمہ ہے”۔ عائشہ اسے دیکھ کر منہ کے زاویے بگاڑتے ہوئے بڑبڑائی۔
“مس عائشہ ایسا کریں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “۔ اپنی گردن کو دائیں جانب جنبش دیتے جیسے ہی اسنے عائشہ کے چہرے پہ نگاہ ڈالی اسکے چہرے کے بگڑے زاویے دیکھ کر وہ ششدر رہ گیا۔
“آر یو اوکے( کیا آپ ٹھیک ہیں)؟؟؟”۔
“ج۔ج ۔ جی سر”۔ اسنے ہکلاتے جواب دیا۔ ” سر میں نے آپکو میل کر دی ہے آپ چیک کر لیں”۔ فورا سے اسنے اپنے سامنے میز پہ رکھے مانیٹر پہ نظر دوڑائی۔
“اوکے۔۔۔۔ ویل آپ آج آفس سے واپسی پہ ہوسپٹل ضرور جائیے گا۔ آئی تھنک یو نیڈ اٹ فرسٹلی(میرا خیال ہے آپکو پہلے اسکی ضرورت ہے)”۔ لہجے میں سنجیدگی اور بلا کا طنز، بولتے ہی وہ اپنے کیبن کی جانب بڑھ گیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
“یااللہ پلیز مجھے سر سے بچا لینا”۔ سامنے ڈائس پہ کھڑے انسان جو کہ اسائنمنٹ چیک کرنے میں لگا تھا،کی طرف دیکھتے وہ زیر لب بڑ بڑا رہی تھی۔
“ایک اسائنمنٹ کم ہے مجھے علم ہے کہ وہ کون ہے جس نے اسائنمنٹ نہیں دی بہتر ہے کہ وہ خود کھڑا ہو جائے اگر میں نے پوائنٹ آوٹ کیا تو یہ اسکے لیئے اچھا نہیں ہوگا”۔ اسنے چنگاڑتے کہا۔
بمشکل قطرہ قطرہ ہمت اکھٹی کرتے وہ نشست چھوڑتے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ چہرہ احساس ندامت سے جھکا ہوا، آنسوؤں سے تر گال۔
“ارے جوہم بیٹا آپ کیوں کھڑی ہو گئیں؟؟؟”۔ جوہم جو کہ سر جھکائے کھڑی تھی اب حیرت سے چہرہ اوپر کو کیئے اس انسان کو دیکھ رہی تھی جو ارادی طور پر اسکی جگہ لے چکا تھا۔
“سٹ ڈاون(بیٹھ جاو)”۔ بولتے ہی اسنے اس جانب قدم اٹھانا شروع کیئے۔
اسکی پریشان حال نظریں بارہا اپنے برابر تھوڑے فاصلے پہ کھڑے علی پہ جا رہیں تھیں جو سر جھکائے کھڑا تھا۔
“تمھیں شرم آنی چاہیئے ہر کام تم کرنا جانتے ہو مگر ایک اسائنمنٹ تم سے نا بن سکی۔ اب بیگ اٹھا کے سیدھا کلاس سے باہر جاو اور برہنہ دھوپ میں جا کر کھڑے ہو جاو۔ آج تم کسی صورت میری کلاس میں نہیں بیٹھ سکتے”۔ وہ ایک ہولناک انداز میں دھاڑا تھا۔ جس کی وجہ سے جوہم نے نشست سے اٹھتے اسے سچ بتانے کی کوشش کی تھی مگر رباب جو کہ اسکے برابر والی کرسی پہ بیٹھی تھی، نے نفی میں سر ہلاتے اسے روک لیا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی بات بننے کی بجائے مزید بگڑ جائے گی۔
@@@@@@@@@@@@
سر شکیل کی کلاس کے دو گھنٹے بیت چکے تھے۔ سر کے کلاس سے جاتے ہی وہ دوڑ کر کلاس سے باہر آئی۔
“علی کہاں ہے؟؟؟”۔ زین،عماد، زوحان، رباب اور عون بھی اسکے عقب میں رواں انگیز اسکے قریب آئے تھے۔
“چلو چل کے اسے ڈھونڈتے ہیں”۔ وہ تمام متلاشی نظروں سے دیوانہ وار کالج میں گھومنے لگے تھے۔
“یہ سب میرا قصور ہے مجھے بتانا ہی نہیں چاہیئے تھا۔ مجھے سزا مل جاتی میری وجہ سے بیچارے علی کو۔۔۔۔”۔ وہ اپنے آپکو کوس رہی تھی جبی اسکی نظروں کی تلاش کا سفر ختم ہوا اسکی نظر دائیں جانب منجمند ہو گئیں جہاں بینچ پہ علی بیٹھا تھا۔
جوہم دوڑتی اسکے قریب جا پہنچی تھی جوہم کو دوڑتا دیکھ باقی سب بھی اسکے تعاقب میں دوڑے۔
وہ اپنی ٹانگیں بینچ سے نیچےلٹکائے ہوئے تھا اور سر بے حس و حرکت بینچ کی پشت پہ ٹکا تھا۔ اسکی آنکھیں موندی ہوئیں تھیں۔ دو گھنٹے لگاتار انگاڑے اگلتی زمین پہ برہنہ کھڑے رہنے سے اسکے پاوں کے تلوں میں چھالے پڑ گئے تھے جبکہ پورا بدن پسینے میں شرابور تھا۔
“علی یار آنکھیں کھول”۔ زین نے اسکے گال تھپتھپائے تھے۔
“زوحان پلیز جا کے پانی لے آو”۔ اس سے التجا کرتے وہ اسکے ساتھ بینچ پہ بیٹھ گئی تھی۔
عون اور زوحان پانی لینے کی غرض سے کیفے کی جانب لپکے تھے۔
عماد اور زین نے اسکے پاوں صاف کیئے جبکہ رباب اور جوہم نے اسکے ہاتھ مسلنا شروع کیئے۔
کچھ ہی دیر میں عون اور زوحان پانی کی بوتل لیئے واپس آ گئے تھے۔
عماد نے اسکے چہرے پہ پانی کا چھڑکاؤ کیا جسکے برعکس علی کی پلکوں میں لرز پیدا ہوئی اور اسنے اپنی آنکھیں کھول دیں تھیں۔
“ارے تم لوگ؟؟ کلاس ختم ہو گئی کیا؟؟”۔ بولتے ہی وہ مسکرا دیا تھا۔
“بکواس نا کر علی حالت دیکھ اپنی”۔ زین نے تپ کر کہا۔
“علی آئی ایم سوری(مجھے معاف کر دو)نا میں اپنی اسائنمنٹ گھر بھولتی نا میری وجہ سے تمھیں تکلیف اٹھانا پڑتی”۔ اسکے سامنے نظریں جھکائے اسنے معذرت کی۔
“جوہم آر یو کریزی؟؟(کیا تم پاگل ہو)۔ میں نے نا ہی کوئی تکلیف برداشت کی نا ہی تمھارے سر کوئی احسان کیا ہے جو کچھ بھی کیا ہے دوستی میں کیا ہے۔ دوست ہوتے کس لیئے ہیں؟؟ میں نے صرف اور صرف اپنی دوستی کا حق ادا کیا ہے۔ باقی ہائے۔۔۔۔۔”۔ سختی سے تردید کرتے اسنے کھڑے ہونے کی کوشش کی تھی مگر بے سود۔
“یار تو ایک جگہ بیٹھ جا اب”۔ عماد نے اسے پکڑ کے دوبارہ سے بٹھا دیا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
کالج سے چھٹی کے بعد زین اور عماد علی سہارا دیتے اسے اسکے گھر لے آئے تھے۔
“تو اب آرام کر ہم چلتے ہیں جو میڈیسن ڈاکٹر نے دی ہے اسے یاد سے لگا لینا اور ہاں”۔ اسے ہدایات دیتے وہ پلٹا ہی تھا کہ دوبارہ سے پیروں پہ مڑا۔ “اگر صبح تک زیادہ مسئلہ ہوا اور چلنے پھرنے میں مشکل ہوئی تو مجھے کال کر کے بتا دینا۔ ہم سنبھال لیں گے”۔
“اوکے تم آرام کرو کافی ٹائم ہو گیا ہے ہم اب چلتے ہیں”۔ ہاتھ ملاتے ہی وہ دونوں کمرے سے نکل گئے تھے۔
“بیٹا تم لوگ ایسے ہی جا رہے ہو۔ کچھ کھا پی تو لو پھر چلے جانا”۔ سامنے سے آتی عفت نے ناراضگی ظاہر کی۔
“نہیں آنٹی بہت شکریہ دراصل ابھی ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ انشا اللہ پھر کبھی”۔ زین نے نفی کی۔
“ٹھیک ہے بیٹا جیسے آپکی مرضی”۔ عفت نے خوش اسلوبی سے کہا۔
“اوکے آنٹی اب آپ علی کا خیال رکھئے اور ہمیں اجازت دیجیئے”۔ اجازت طلب کرتے وہ دونوں یکجا انٹرنس کی جانب بڑھے تھے۔
@@@@@@@@@@@@
“عون میری بات سنو”۔ عون جو کہ کھانے سے اسی وقت فارغ ہوا تھا، کو بیا نے مخاطب کیا۔
“کہیں کیا بات ہے؟؟”۔ برآمدے میں چارپائی سے اٹھتے وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگا تھا۔
“تم بازار کب جاو گے؟؟”۔ ہو لے سے سوال کرتی وہ اسکے تعاقب میں آئی۔
“کیوں خیریت؟؟ کچھ منگوانا ہے کیا آپکو؟؟؟”۔ بائیاں پیر بیڈ سے نیچے لٹکائے دائیں پیر کو بیڈ پہ رکھتے وہ بیڈ پہ بیٹھ گیا اور تاج کے ساتھ ٹیک لگا لی۔
“وہ میرا ٹوتھ برش گم گیا ہے مجھے وہی منگوانا تھا”۔ وہ بھی اسکے سامنے بیڈ پہ جا بیٹھی۔
“مطلب آج آپ نے دانت صاف نہیں کیئے؟؟”۔ اسکی بات پہ وہ سیدھا ہو بیٹھا تھا اور ہمیشہ کی طرح شیطانی خیال اسکے دماغ میں جنم لے چکا تھا۔
“نہیں”۔ اسنے منہ بنایا۔
“اوہو بیا تم جانتی ہو کہ ہمارے مذہب میں صفائی کو کتنی اہمیت حاصل ہے۔ مقصد صرف اور صرف دانتوں کی صفائی ہی تھا نا؟؟ اگر ٹوتھ برش نہیں تھا تو کپڑے صاف کرنے والے برش نہیں نہیں آپکے دانت بہت بڑے بڑے ہیں بہتر تھا آپ ٹائلٹ برش استعمال کر لیتیں پھر دیکھیں آپ کے دانت چمک جاتے۔ کیسا؟؟؟”۔ لہجے میں شرارت اور چہرے پہ تمسخرانہ مسکراہٹ، لاف زنی کرتے اسنے بھنووں کو جنبش دیتے اپنا دائیاں ہاتھ اسکے سامنے کیا جس پہ سامنے بیٹھی بیا نے اسے گھورا تھا۔
@@@@@@@@@@@@
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *