Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 9

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj

عنوان” شہیر کے سامنے آئی حویلی والوں کی سچائی”…

میری غزلوں کا فقط درد ہی عنواں ہوگا

مجھ سے پوچھو نہ سبب اس کا ، تو احساں ہوگا

شہرِ دل میں جو کبھی عالمِ ویراں ہوگا

کوئی جگنو ، نہ ستارہ درِ امکاں ہوگا

“اندھیری رات “….

“سنسان علاقہ “…

اس سنسان علاقے میں موجود نہر کے کنارے وہ تنہاہ بیٹھا ہاتھ میں موجود پتھروں کو نہر میں پھینک رہا تھا “….

“شائد ایسا کر کے وہ اپنے اندر پیدا ہونے والے اشتعال کو کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا یا خود میں پیدا ہوئے غم کو چھپانے کی کوشش کر میں تھا”….

“کچھ گھنٹوں پہلے حویلی میں ہوئے اس ناقابل فراموش واقع کے بعد وہ غصے سے وہاں سے نکل کر کافی دیر یوں ہی گلیوں میں بے مقصد پھرتا رہا تھا”….

“اسکا ذہن یہ سب قبول کرنے سے انکاری تھا جس لڑکی سے وہ دیوانگی کی حد تک محبت کرتا رہا ، جسے اپنی شریکِ جاں بنانے کے خواب دیکھتا رہا وہ اس کے کزن کی بیوی ہے”….

“اس حویلی میں اسے بہو کے طور پر دیکھنا اسکی دلی خواہش تھی لیکن وہ بہو تو بن چکی تھی لیکن اسکی طرف سے نہیں “….

“اسکے بھائی کی طرف سے “……

“اس راحتِ جاں کو اس صورت میں دیکھنا ، اسے قبول کرنا اسکے لئے سوہان روح تھا”…

“اس کے چہرے پر موجود نشانات “…

“احمر کو دیکھتے ان جھیل سی آنکھوں میں خوف کا ابھرنا “…

“اسکی گھبراہٹ … کپکپاہٹ “…

“چوہدری وقاص کی بات کی نفی کر رہے تھے”….

“سب سے بڑھ کر اگر وہ احمر کی بیوی ہے تو باڑے میں کیا کر رہی تھی اور یقیناً یہ وہی لڑکی ہے جس کو وہ اس سے چھپانا چا رہے تھے”….

“ایسے کئی ذہن کو منتشر کرنے والے سوالات شہیر کے دماغ کو الجھائے ہوئے تھے”….

“اس کھلی فضا میں اس نے گہرا سانس لیا تھا اور ساتھ ہی جیب سے موبائل نکالے کسی کو فون پر کچھ حکم صادر کیا تھا”…

“لہجے میں سنجیدگی ، غصہ بیک وقت نمایاں تھا”…

“آج کی وہ پوری رات اس نے وہیں نہر کے کنارے گزاری تھی”….

تقریباً صبح فجر کے وقت وہ حویلی واپس آیا تھا اور بنا کسی سے کچھ کہے تیار ہوتا واپس جا چکا تھا “…

“وہاں موجود صرف تین لوگوں کو اسکی خاموشی گھل رہی تھی”…

ناجانے اس کی یہ خاموشی کیا رنگ لانے والی یہ کوئی بھی نہ جانتا تھا”…

©©©

آج صبح سے ہی سحر کی طبیعت کافی نا ساز سی تھی لیکن اس کی پرواہ کسے تھی “..؟؟

“کسی کو نہیں “…

“گزشتہ شب اپنی درندگی و وحشت دکھانے کے بعد صبح سویرے اٹھا بیٹھایا تھا اسے اور اپنے لئے ناشتہ بنانے کا حکم صادر کیا “….

“ٹوٹے و تھکان زدہ وجود کو تقریباً گھسیٹتے ہوئے وہ باورچی خانے میں گئی اور اس کے لئے ناشتہ بنانے لگی “…

“وہ لارڈ صاحب جو کبھی صبح سویرے نہ اٹھے تھے آج ناجانے کیسے اتنی صبح اٹھ بیٹھے اور اس سے ناشتے کی فرمائش کرنے لگے یا یہ کہنے ذیادہ بہتر ہو گا کہ اسکو مزید اذیت دینے کے لئے آزمانے لگے”…..

“کیا ہوا ابھی تک ناشتہ کیوں نہیں بنایا”..؟؟؟

“باورچی خانے میں تقریباً وہ دھارتے ہوئے داخل ہوا تھا جبکہ اسکو کیچن میں آتا دیکھ سحر گھبراہٹ کا شکار ہوئی “…

“اسے اس شخص سے ایک نفرت سی ہوتی تھی جب بھی احمر اس کے آس پاس ہوتا وحشت و ویرانگی سی اس کے چہرے پر نمایاں ہوتی تھی”..

“جی و۔۔وہ بس سب بن گیا ہے ص۔۔صرف چائے میں ابال آنا رہتا ہے”….

“باورچی خانے کی چیزوں کو سمیٹے وہ سراسیمگی میں بولی”…

ہنہہ جلدی کرو ،پتہ نہیں چائے ہی بنا رہی ہو یا پائے گلانے کی کوشش کر رہی ہو”…

“ہنکار بھرتے وہ نخوت سے بولا اور ساتھ ہی ڈائنگ ٹیبل کی کرسی سیدھی کیے وہاں بیٹھ گیا”…

تقریباً تھوڑی دیر انتظار کے بعد سحر نے جلدی سے ناشتہ لگا کر دیا تھا احمر کو جبکہ کام کے دوران اسکی چبھتی نظریں اپنے وجود پر محسوس کر سکتی تھی “..

“لیکن وہ نظر انداز کرتی واپس باورچی خانے میں چلی گئی تھی “…

“اسے ابھی آئے تین منٹ بھی نہ ہوئے ہونگے کہ احمر کے دھاڑنے کی آواز آئی “…

“سحر ………!!!!!

“وہ دوڑتے ہوئے باہر آئی “…

“ج۔۔ج۔۔جی “.۔۔۔

“یہ۔۔۔یہ کیا بنایا ہے”….؟؟؟

“چائے ہے یا کوئی زہر”..؟؟؟؟

“وہ غصے سے کھولتے ہوئے بولا اور ساتھ ہی چائے سے بھرا گرم کپ ماربل کے فرش پر پٹخا تھا کہ وہ کرچیوں کی صورت میں بھکر گیا جبکہ چائے فرش پر بہتی چلی گئی “….

“م۔۔میں نے ٹھیک تو ب۔۔بنائی تھی”…

“وہ اس سے غصے سے بچتی ہمت جمع کیے اپنی صفائی دیتے ہوئے بولی “…

“تم اچھے سے جانتی ہو میں میٹھی چائے نہیں پیتا “…

“ذہر لگتی ہے مجھے “…

“پھر بھی تم جان بوجھ کر چینی ڈالی تھی نا اس میں”..

“اس کے بالوں کو اپنی آہنی گرفت میں لئے وہ غرا کر بولا تھا”…

“ن۔۔نہیں م۔۔مجھے نہیں معلوم تھا آپ۔۔میرے ب۔۔بال تو چ۔۔چھوڑیں مجھے درد ہو۔۔ہو رہا ہے ا۔۔احمر”..

“اپنے بال اسکی گرفت سے نکلوانے کی کوشش کیے بولی تھی جبکہ آنسوں کو روکنے کے باعث گلے کی گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی تھی”…

“خ۔۔خاموش “….

“ایک دم خاموش “….

“ورنہ جان لے لوں گا کہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہو جاو گی”….

“اپنی نفرت و غصے سے بھری آنکھیں سحر کی تکلیف زدہ آنکھوں میں گاڑھی تھیں “…

درد تھا نصیب میں درد کو نبھانا تھا

آگ کے سمندر میں ڈوب کے ہی جانا تھا

“شور کی آواز سن میمونہ بیگم اور سکینہ بیگم دونوں ہی فوراً آئی تھیں لیکن آگے سحر کو احمر کی گرفت میں دیکھ دونوں کی ہونق بنی دیکھ رہی تھیں”….

“احمر چھوڑو بچی کو”…

“میمونہ بیگم ہوش میں آتے بولی تھیں “….

“جبکہ سکینہ بیگم سکتے میں تھیں ، احمر کے اندر انہیں چوہدری وقاص نظر آ رہا تھا وہ نفی میں سر ہلاتے آگے بڑی تھیں اور بنا لمحہ ضائع کیے اس کا دائیاں گال تھپڑ سے لال کر دیا تھا تھپڑ اتنی زور کا تھا کہ اس کے گال پر نشان چھوڑ گیا “….

“ی۔۔یہ تربیت ہے تمہاری ہے”….

“ایسی تربیت کی ہے تمہاری ماں نے”….

“تم لوگ عورت پر ظلم کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہو”..؟؟؟؟

“بہت ہی طاقتور ہو ، اگر اتنی ہی مردانگی دکھانی ہوتی ہے تو اپنے جیسوں سے جا کر مقابلہ کرو ، کسی صنفِ نازک سے مقابلہ کر کے تمہاری مردانگی نہیں ، بزدلی ثابت ہے”…..

“سکینہ بیگم غصے سے برہم ہوتی بولی تھیں”….

“بڑی ماں یہ میرا اور اس لڑکی کا معاملہ ہے بہتر ہو گا آپ لوگ بیچ میں نہ بولیں اور ایک اور چیز آج تو میں نے برداشت کر لیا ہے کہ آپ میری ماں کی تربیت کے بارے میں بولی ہیں لیکن شائد اگلی بار برداشت نہ کر سکوں”…

“کیونکہ سگی ، سگی اور سوتیلی سوتیلی ہوتی ہے”….

“تمام لحاظ بلائے تاک رکھے وہ بدتمیزی سے کہتا حویلی سے ہی چل دیا جبکہ جاتے جاتے کاٹ دار نظروں سے سحر کو دیکھنا نہ بھولا “….

“میمونہ نے اپنی جان سے پیاری بہن کی جانب دیکھا تھا جو کہ ساکت نظروں سے دروازے کو ہی تک رہی تھیں جہاں سے ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ نکلا تھا ان کے جذبات ان کی ممتا کو کچلتا “…

“احمر تو بنا سوچے سمجھے وہ جملے کہے جا چکا تھا لیکن اس کی اس بات سے سکینہ بیگم کا دل پسیج سا گیا تھا ، میمونہ بیگم نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھے انہیں حوصلہ دینا چاہا تھا “…

©©©

“سکینہ بیگم و میمونہ بیگم دونوں ہی کی نظریں بے ساختہ سیڑھیوں کے وسط میں کھڑی نورے بیگم پہ گئی تھی جو کہ انہیں طنزیہ نظروں سے دیکھ رہی تھیں “…

“کیا ہوا سوتن جی منہ بند ہو گیا “…

“اب کیوں نہیں بول رہی “….

“ہاہاہاہا یاد رکھنا وہ نورے کا بیٹا جو کہ نورے کے ہی نقشِ قدم پر چلے گا “….

“وہ تقریباً ان کا مزاق اڑا کر بولی تھی “….

“قسم سے دل خوش ہو گیا ہے تمہاری یوں اتری شکل دیکھ کر”…

“کیا کہتے ہیں وہ”…

“نورے تھوڑی پر ہاتھ رکھے سوچنے کا ناٹک کیے بولی “…

“ہاں “…

“دائیں ہاتھ سے چٹکی بجائی “….

“دل کو قرار آیا …

پہلی پہلی بار آیا ۔۔۔

ہاہاہاہا “…..

“میمونہ بیگم نے زہرلی آنکھوں سے نورے کی ہنسی کو دیکھا تھا جو کہ ان کی بہن کو نیچا دیکھا رہی تھی ان کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اس نورے کا منہ نوچ لیں”….

“بھابھی سائیں ! میری بہن سے دور رہیں یہی آپ کے حق میں بہتر ہے ،

ورنہ اپنی بہن سے بدتمیزی کرنے والے کا میں نے حشر بگاڑنے میں لمحہ نہیں لگانا،

” رشتے کا لحاظ کر رہی ہوں ورنہ آپ تو اس قابل ہی نہیں ہیں کہ آپکو عزت دی جائے”….

“میمونہ بیگم کٹیلی نظر نورے کے وجود پر گاڑے بولی تھیں کہ ان کی بات سن نورے کی مسکراہٹ سمٹی تھی”….

“آنہاں “…!!

“دیورانی صاحبہ !…

زرا سنبھل کر ، کہیں یہ جوش مہنگا نہ پڑ جائے”…

“سکینہ ، سنبھالو اپنی بہن کو ورنہ تمہاری طرح اس کو بھی خسارہ نہ اٹھانا پڑے یا کہیں اس کی یہ خوشیاں ہی نہ چھین لوں میں”….

“آنکھیں ترچھی کیے وہ زہر خند مسکان سجائے بولی “…..

“نورے افسوس کے ساتھ”….

“تم نے آج تک چھیننا ہی جاننا ہے “…

“کبھی کسی کو دینا نہیں سیکھا “…..

“سکینہ بیگم آنکھیں گھمائے اپنے سامنے کھڑی نورے بیگم کو دیکھتے ہوئے بولی تھیں”….

“ہو نہ ہو یہ اپنا مشغلہ بن چکا پیاری سوتن صاحبہ “..

“کندھے پر اوڑھا اپنا ڈوپٹہ ٹھیک کیے وہ اترا کر بولی تھی”…..

“جب کوئی چیز چھین ہی لیتے ہیں تو اسے بنانا سوارنا بھی ہماری زمہ داری ہوتی ہے نا کہ دوسروں سے چھین اسکو لاوارث کی طرح چھوڑ دیا جائے “….

“اپنی بات سے نورے بیگم کو وہ بہت کچھ باور کروا گئی تھیں لیکن وہ نورے ہی کیا جس کے کان پر کوئی جوں تک رینگی ہو”….

“ویسے ایک راز کی بات ہے “….

“نورے کہتے سکینہ بیگم کے کان کے پاس جھکی تھی اور نا جانے کیا تھا ان سے کہ سکینہ بیگم کے قدم ڈگمگا سے گئے تھے”….

“انہوں نے تڑپ کر حیرانی سے ، نا امیدی سے نورے بیگم کی جانب دیکھا “…..

“مسکرا کر اپنی بات کہتی نورے بیگم جا چکی تھی پیچھے کھڑی سکینہ بیگم کو زندگی کا سب سے بڑا دھجکا دیے”….

“وہ وہیں پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گئیں تھیں”….

©©©

“ویسے ایک راز کی بات ہے ، ‘ ارتضیٰ کو بھی میں نے ہی مروایا ہے اور “….

“نورے بیگم الفاظ کسی خنجر کی مانند سکینہ بیگم کے دل پر لگے تھے ،

سکینہ بیگم تڑپ ہی تو اٹھی تھیں ان کو یقین نہ آیا ہے کہ وہ اس قدر گر سکتی ہے “….

“وہ ماں تھیں ان کا کلیجہ حلق کو آیا تھا ایک بار پھر اپنے بیٹے کی جان بوجھ کر ہوئی موت کا سوچ , پھر دوسرا خیال سحر کا آیا جو بے گناہی کی سزا کاٹ رہی ہے”….

“سکینہ بیگم کے آنسوں آنکھوں سے پھسلتے ان کے چہرے کو بھگو گئے تھے “…

“میرا لال , میرا بیٹا”…

“م۔۔میں تمہیں اس ظالم دنیا سے بچا نہ سکی “….

“ارتضیٰ کی تصویر اپنے سینے سے لگائے وہ سسک رہی تھیں”….

“ان کی ممتا کا قتل کرعانے والا اور کوئی نہیں بلکہ نورے ہی تھی “….

کیا ہو گیا تم نے صبح صبح کیوں صفحہ ِ ماتم بچھایا ہوا “.. ؟؟؟

“چوہدری وقاص نیند میں سے جھنجھلا کر اٹھ بیٹھے تھے سکینہ بیگم کی سسکیوں پر “….

“م۔۔میرے ارتضیٰ کو ۔۔م۔۔مار ڈالا ا۔۔اس نے”…

“ا۔۔اس نے ق۔۔قتل کیا ہے”….

“رونے کے باعث الفاظ صحیح سے ادا نہیں ہو پا رہے تھے وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی تھیں ، سکینہ بیگم جو کافی عرصے سے ارتضیٰ کی موت کو حادثاتی سمجھے بیٹھی تھیں یوں اس معصوم جان کا جان بوجھ کر قتل کروائے جانے پر وہ بھکر کر رہ گئی تھیں”…

سن کے فسانہ میرا اتنی ہے روئی وفا

دریا بھی تھوڑا لگے جتنی ہے روئی وفا

“کافی عرصے بعد خیال نہیں آ گیا کہ ہمارا بیٹا قتل ہو چکا ہے “..

“ورنہ تم تو اس ونی کی محسن بنی بیٹھی تھی”…

” طنزیہ کہتے ان نے کروٹ بدل لی تھی اور تکیہ اٹھائے اپنے چہرے پر رکھا “….

“ن۔۔نہیں ن۔۔نورے ہ۔۔ہے ق۔۔قاتل “…..

“کہتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھیں”….

“جبکہ چوہدری وقاص جھٹکے سے پلٹے تھے”….

“کیا بکواس کر رہی ہو ،..؟؟؟

“ہوش میں تو ہو”…

یا صبح سویرے دماغ سن پڑا ہے”….

“سکینہ بیگم کی بات سن وہ نخوت سے بولے تھے”….

“م۔۔میں سچ سچ کہہ رہی ہوں اس ۔۔اس نے خو۔۔۔خود بتایا ہے”….

“اپنی بات کی نفی ہوتے دیکھ وہ بے چین سی بولی تھی یا ان کے اندر کی ممتا بول رہی تھی جسے چوہدری وقاص نظر انداز کر گئے”…..

“بکواس بند کرو سکینہ اپنی “….

“بتا دو میرا اگر یہاں سونا تمہیں پسند نہیں تو میں چلا جاتا ہوں یوں میرا دماغ مت خراب کرو “…

“اور کون سا ایسا قاتل ہے جو خود اپنا جرم قبول کرے”…..

“ان کی عقل پر ماتم کیے وہ سنجیدگی سے بولے”…..

م۔۔میں سچ…بول رہی ہوں میرا یقین کریں”…

“سکینہ میں ۔۔۔۔۔

“ان کو اپنا باقی کا جملا مکمل کریں کا موقع نہ ملا تھا کیونکہ باہر سے شور کی آواز سن وہ دونوں ہی وہاں متوجہ ہوئے اور فوراً سے پہلے ہی بھاگتے ہوئے باہر نکلے”…

©©©

شہیر کب سے اپنی گاڑی میں بیٹھا سیگریٹ سُلگائے ہوئے بار بار اپنی سوچوں کے پہلو کو بدل رہا تھا دل تھا کہ سب تہس نہس کرنے کو تیار بیٹھا تھا اسے نفرت ہو رہی ان حویلی والوں سے جب سے ان کی اصلیت اس کے سامنے آئی تھی من چاہا سب کچھ چھوڑ اس کو ساتھ لئے کہیں دور چلا جائے لیکن نا ممکن “….

آنکھیں بند کیے ہوش و خرد سے بیگانہ وہ گہری سوچوں میں تھا کہ یکدم گاڑی سے باہر نکلے وہ اندر حویلی کی جانب بڑھا”…

اندر بڑھتے سامنے ہی اس کی نظر گھری میں سے اس معصوم پر گئی جہاں وہ آس پاس سے لاپروا صفائی کر رہی تھی ، اسکی اجڑی حالت ، اداس چہرا ، آنکھوں میں ویرانگی و بے بسی اسے بہت کچھ باور کروا گئے”…

“وہ چھ فٹ کا قد رکھنے والا ایک تنوانا اور سمجھ دار مرد تھا “…

“زندگی کی حقیقت ، لوگوں کے چہروں سے انجان تو نہ تھا وہ”…

“سحر کو اس حالت میں دیکھ اس کی آنکھوں میں شرارے پھوٹنے لگے تھے “….

“اس کو اس حالت میں دیکھنے کا تو تصور نہ کیا تھا اس نے”….

“وہ اس پر سے نظریں اٹھائے اندر کی جانب بڑھا “….

“بابا سائیں”…

“تایا سائیں”…….

“احمر کہاں ہیں سب “…؟؟؟

“وہ تقریباً غصے کی ذیاتی سے چیخ رہا تھا ، میمونہ بیگم نے بت ساختہ اپنے دل پر ہاتھ رکھا تھا انہیں جس چیز کا ڈر تھا وہ ہو چکا تھا ٫…

“مطلب طوفان یہاں کا رخ کر چکا تھا”…..

چوہدری وقاص ، چوہدری وقار ، سکینہ بیگم ، نورے و میمونہ بیگم سمیت سب ملازمین بھی جمع ہو گئے تھے حویلی کے ہال میں”….

ان سب نے چونک کر اینٹرس کی طرف کھڑے شہیر کو دیکھا تھا

“وہ ابھی تک رات والے حلیے میں تھا سفید شرٹ جس کے اوپری دو بٹن کھلے ہوئے تھے بکھرے بال ، سوجی آنکھیں جن میں اس وقت غصہ ہی غصہ بھرا پڑا تھا”….

“جب سے حویلی میں آیا ہوں ہر شخص کے ہر انداز و بیان بدلے پائے”…

“کوئی عجیب سی تبدیلی محسوس کی تھی میں نے”….

“مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے آپ لوگ کسی کو مجھ سے چھپانا چا رہے ہیں ، ایسا کوئی راز ہے جس سے آپ سب مجھے بے خبر رکھے ہوئے ہیں”….

“اخر اس دن جب اس راز سے پردہ فاش ہونے ہی والا تو تایا سائیں نے یہ کہہ کر مجھے خاموش کروا دیا کہ وہ احمر کی بیوی ہے”…..

“وہ لب بھینچے غصے سے بولا تھا”….

“کہتے اس نے کانچ کے ٹیبل پر کچھ کاغذات پھینکے تھے”…..

“جو کہ یقیناً احمر کا نکاح نامہ تھا “….

“جب اس کاغذات کو چوہدری وقاص نے اپنے ہاتتھ میں اٹھایا تھا تو ان کا چہرگ لٹھے کی مانند سفید ہوا تھا”….

“تایا سائیں “..؟؟؟

“کیوں کیا آپ نے ایسا “….؟؟؟

“آپ نے کہا احمر نے پسند سے نکاح کیا ہے ، کیا نکاح نامہ پڑھ کر آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ نکاح مرضی و پسندگی کی وجہ سے ہوا ہے”…..

“نہیں آپ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ایک حویلی کا وارث کبھی اپنی بیوی کا حق مہر سو روپے نہیں رکھا ما سوائے اس کے کہ اگر لڑکی میں ونی میں نہ آئی ہو”…..

“ایک سیکنڈ “….

“ونی تو تب لی جاتی ہے ، جب کسی کا قتل ہوا ہو”….

“لیکن آپ سب تو میرے سامنے ہیں “….

“پھر قتل کس کا ہوا ہے ، ارے کہیں میں مردوں کے درمیاں تو نہیں کھڑا”….؟؟؟؟

“وہ کچھ سوچنے کے سے انداز میں بولا “…..

“ہاں آپ لوگ واقعی مردہ ہی تو ہیں جن کے سینے میں دل ہی نہیں “…

“جو لوگوں کو تکلیف دینا جانتے ہیں سکون نہیں”….

“وہ کاٹ دار نظریں نورے بیگم اور پھر چوہدری وقاص پر جماتے ہوئے بولا تھا”…..

“برخودار تمیز سے بات کرو کب سے تمہارا گستاخانہ لہجہ برداشت کر رہے ہیں ہم “…

“اب کے چوہدری وقاص کچھ سنبھل کر بولے تھے”….

“تایا سائیں کیا سنبھالوں خود کو “..؟؟؟؟

“اب تو پانی سے سر سے گزر چکا ہے”…..

“میرے ہی بھائی کی موت ہوئی ہے اور مجھے اطلاع تک نہ دی آپ لوگوں نے ، کہ آخری دیدار تک ہی کر لوں “…

“بلکہ اس کی موت کو آج تک چھپاتے آئے ہیں آپ لوگ مجھ سے “….

“ماں ، بابا آپ لوگ بھی “….؟؟؟

“اس نے شکوہ کناں نگاہیں ان تینوں کی جانب اٹھائی تھیں”….

“وہ ضبط کے باعث لال سرخ ہو رہا تھا آنکھوں کے گوشے بھیگے تھے لیکن آنسوں نہ تھے “…..

“اس کے دل پر گہرا زخم لگا تھا “…

“چلیں ارتضیٰ کی موت ہوئی ، وہ آلله کی مرضی تھی کیونکہ ہر جان اسکی امانت ہے وہ جب دل چاہے لے لے”…

“لیکن آپ کون ہوتے ہیں کسی دوسرے کی زندگی کا فیصلہ کرنے والے”..؟؟؟؟

“شہیر مت بھولو تم سے ہمارا کیا رشتہ ہے”….؟؟؟؟

“اپنا لہجہ و انداز درست رکھو اور ارتضیٰ ہماری سگی اولاد تھی جس مے باعث اسکی موت ہوئی اسکا فیصلہ بھی ہم کریں گے کہ کیا کرنا ہے”….

“تمہیں اس لئے نہیں بتایا کہ تم ہمارے کام میں روکاوٹ ڈالو گے جو کہ اب بھی ڈال رہے ہو “…..

“چوہدری وقاص کے ماتھوں پر بلوں کا جال نمایاں ہوا “….

“افسوس تایا سائیں!

آپ ہی نے تو سب گاؤں والوں کے سامنے یہ اعلان کیا تھا کہ گاؤں میں ونی نہیں کی جائے گی لیکن جب خود کی باری آئی تو “…

“تو کیا کیا آپ نے”….؟؟؟

“آپ کی وہ زبان ، وہ قول ، وہ وعدے سب دھرے کے دھرے رہ گئے”…

“اول پر آیا وہی سو کالڈ بدلہ وہ بھی ونی کی صورت میں”….

“اس معصوم کو کیوں سزا دے رہے ہیں”..؟؟؟

“کیا غلطی ہے اس لڑکی کی جو آپ لوگ اسے ونی کر لائے ہیں”….

“ب۔۔بیٹ۔۔۔۔

“او پلیز “…..!!!!!

“نفرت ہو رہی ہے اپنے آپ سے کہ میں یہاں اس پست خاندان میں پیدا ہوا جو نام سے تو گرچہ بڑا ہے لیکن یہاں کے رہنے والوں کے کام پست لوگوں کی طرح ہے”…..

“ونی “….

“ہنہہہ”….

“اس لفظ سے جتنی نفرت ہے اسی رسم پر میرے اپنے گھر والوں نے ہی عمل کیا ہے”….

“افسوس سے کہتا اپنے کمرے میں بند ہو گیا تھا “…..

©©©

کچھ گھنٹوں بعد۔۔۔۔۔

“احمر کافی دیر سے فلیٹ میں بیٹھا عروہ کا انتظار کر رہا تھا “…

“وہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے صوفے پر تقریباً لیٹا ہوا تھا اپنے ہاتھ کی دو انگلیوں کے درمیاں سگار جلائے اپنے ہونٹوں سے سلگا رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ گاہے بھگائے نظر سامنے موجود گھڑی کی جانب دوڑاتا”…

“ایک , دو ، تین ، تین سے چار اور اب پانچ گھنٹے ہونے والے تھے اسے کو عروہ کا انتظار کیے “…..

“لیکن وہ ابھی تک واپس نہ آئی تھی “…

“وہ کئی مرتبہ اسکے نمبر پر کال بھی کر چکا تھا مگر نمبر اس کا سویچ اوف جا رہا تھا”….

“وہ چلتا ہوا کھڑکی کہ پاس آیا جو کہ فلیٹ کے باہر کی جانب کھلتی تھی”…

“ہاتھوں مین سیگریٹ ابھی بھی موجود تھی جس کے گہرے گہرے کش لگاتا خود کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہا تھا”….

“اور باہر پارکینگ میں کھڑی گاڑیوں کو دیکھ رہا تھا کہ ایک سفید رنگ کی گاڑی پر اس کی نظریں ٹک گئی تھیں آنکھوں کا رنگ یکدم بدلہ تھا ہاتھوں میں جلتی وہ پانچویں سیگریٹ جلتے جلتے اس کا ہاتھ جلانے کا باعث بن گئی”….

“جہاں عروہ کسی شخص کی گاڑی سے اتری تھی اور اسے مسکرا کر الوداع کرنے کے بعد وہ فلیٹ کی جانب بڑھی تھی جبکہ وہ گاڑی واپس جا چکی تھی ۔ احمر نے اس گاڑی کو اپنی خون آشام آنکھوں سے گھورا تھا”…..

“عروہ جیسے ہی فلیٹ کا لاک کھولے اندر داخل ہوئی احمر نے کمر سے تھام اسے دیوار سے لگایا “…

“عروہ جس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ احمر فلیٹ میں ہو گا یکدم ہواس باختہ ہی ہوئی تھی اسے فلیٹ میں دیکھ”…

“اس کے ہاتھ میں موجود ، پرس ، فائل ،کوٹ سب زمین بوس ہوا “…

“ا۔۔احمر تم “..؟؟؟

“اپنے ہواس بحال کرتی وہ مسکرانے کی کوشش کیے بولی “….

“کیوں تمہیں اچھا نہیں لگا یا کسی اور کی موجودگی چا رہی تھی”….؟؟؟

“اسکی کمر پر گرفت مزید سخت کیے وہ غراتے ہوئے بولا “…

“نہیں تو کیسی باتیں کر رہے ہو”…؟؟؟

“تو پھر کسی غیر کی گاڑی میں رات گئے کیا کر رہی تھیں “…؟؟؟

“میں دوپہر سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں”…

“اس کے کان کے پاس جھک کو سرسراتے گھمبیر لہجے میں بولا کہ عروہ اس کی گرم صاف محسوس کر سکتی تھی”…

“و۔۔وہ وہ تو سر ہیں میرے ، دراصل میری گاڑی خراب ہو گئی تھی تو س۔سر نے ڈراپ کر دیا ، بہت اچھے ہیں وہ “….

“وہ احمر کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتی اپنی صفائی پیش کر گئی تھی”….

“ہنہہ میں مر گیا تھا کیا ، یا اب میری ضرورت نہیں”…؟؟؟

“اس چہرے پر نظریں گاڑھے وہ دانت پیستے ہوئے بولا”…

“ایسے کیوں بول رہے ہو، مجھے کیا پتہ تم یہاں ہو ورنہ تمہیں ہی بلاتی “…

وہ سچ ہی تو کہہ رہی تھی اسے کیسے معلوم ہونا تھا کہ احمر یہاں موجود ہے “..

ویسے بھی مجھے آنے میں کوئی مشکل نہیں ہوئی سر بہت صاف دل اور اچھی عادت کے انسان ہیں اور۔۔۔

“احمر کی گرفت و گستاخی نے اسے مزید کچھ کہنے کے قابل نہ چھوڑا تھا , وہ مچلی تھی اسکی سخت ترین گرفت میں “……

“آئندہ کسی کی شان میں تبصرے نہ سنوں ان لبوں سے”……

“اپنی بات کہتا وہ بنا عروہ کی جانب دیکھے سیدھا فلیٹ سے نکل چکا تھا جب کہ اس کے جاتے وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ سانسوں و دھڑکنوں کس ہموار کرنے لگی”…..

میری باتوں میں جو اکثر ہی جھلک آتا ہے

بھوُلا بھٹکا سا کوئی روح کا ارماں ہوگا

ہم دنوں میں ہی بدل ڈالیں گے فرسودہ نظام

کرنا مشکل ہے بہت ، کہنا تو آساں ہوگا

©©©

“رات کے ساڑھے دس بجے کے قریب فاتح گھر میں داخل ہوا “…

“ہاتھ میں موجود بیگ صوفے پر رکھا جبکہ کندھے پر لٹکایا گیا وہ کوٹ ہاتھ میں ہی تھامے رکھا”….

“کیچن سے آتی کھٹ پٹ کی آوازیں ٫ اسکو اپنی جانب متوجہ کرنے کا باعث بنا اوپر جاتے جاتے وہ واپس پلٹا تھا اور دبے قدموں سے ہی کیچن میں داخل ہوا جہاں وہ انہماک سے اپنے کام میں مصروف تھی”….

کالے رنگ کے خوبصورت سادھا سوٹ میں چھپا اسکا نازک سا وجود فاتح عالم کی توجہ کا مرکز بنا”….

وہ سر تا پا غور سے اسے دیکھ رہا تھا “….

“پاؤں کیسا ہے اب “…؟؟؟

“فاتح کی گھمبیر آواز اپنے پہلو میں محسوس کیے وہ اچھلی تھی”…

“ارے سنبھل کر “…!!!

“اس کے یوں ڈرنے پر وہ ہنستے ہوئے بولا “….

“پاوں کیسا ہے”..؟؟؟؟

“اپنی بات کو دوبارا دوہرایا تھا اس نے”….

“جی بہتر ہے تب ہی تو یہاں موجود ہوں”….

“وہ نارمل انداز میں کہتی واپس اپنے کام میں مشغول ہو گئی”….

جوہری بند کئے جاتے ہیں بازار سخن

ہم کسے بیچنے الماس و گہر جائیں گے

نعمت زیست کا یہ قرض چکے گا کیسے

لاکھ گھبرا کے یہ کہتے رہیں مر جائیں گے

“کھانا کھائیں گے”..؟؟؟؟

“نہیں’….

“کیچن ریلینگ پر تمام سامان ایک جانب رکھے وہ فریج کی جانب گئی اور وہاں سے بوتل نکالے اس کا ٹھنڈا ٹھنڈا پانی گلاس میں انڈیل فاتح کی جانب کیا “….

“شکریہ “….

“گلاس تھامے وہ مسکرایا تھا جب پشمینہ کا ہاتھ اس کے ہاتھوں سے مس ہوا”….

“سوپ پئیے گیں۔۔؟؟

” اس نے تیار شدہ سوپ پاس رکھی بال میں ڈالا اور ساتھ فرینچ فرائز پلیٹ میں نکالے اور فاتح ساتھ ہی فاتح سے پوچھا”….

“وائے ناٹ ! میں فریش ہو رہا ہوں تم روم میں لے آؤ “…

وہ بھرپور مسکراہٹ پشمینہ کو پاس کیے بولا”….

“وہ کیچن کی چیزوں کو سمیٹتے سوپ کو اور باؤل میں نکالنے لگی اور کمرے کی جانب قدم بڑھائے “….

“وہ پانچ منٹ بعد جب کمرے میں سوپ لے کر آئی تب تک فاتح بھی چینج کر چکا تھا”….

“ہمم کافی اچھا ہے”….

وہ گرم گرم کارن سوپ کے گھونٹ گھونٹ پیتا اب پھر محویت سے اسے دیکھتے ہوئے بولا “…

“پشمینہ نے بس ہلکی سی مسکان پاس کی تھی اس کی جانب”…

“وہ اسکی پر شوق نظریں اپنے چہرے پر صاف محسوس کر سکتی تھی لیکن وہ جان کر انجان بن رہی تھی”…

“کھانے میں اور کیا کیا بنا لیتی ہو”..؟؟؟

“وہ شائد بات بڑھانے کے لئے کہہ رہا تھا کیونکہ پشمینہ سے بات کرنا اس کو لطف اندوز کر رہا تھا”…

“تقریباً سب کچھ “….

“آپ کیوں پوچھ رہے ہیں “..؟؟

“آپ کو کچھ کھانا ہے”..؟؟؟

“سوپ کے سپ کے ساتھ وہ فرائز کے مزے لیتے بولی تھی”….

“ارے نہیں میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہا تھا”….

“ویسے ایک بات بتاؤ”…!!!

“تم سوپ کے ساتھ چپس کیوں کھا رہی ہو “…؟؟

“مطلب یہ کیسا کامبینیشن ہوا بھلا”….

“پشمینہ کو کارن سوپ کے ساتھ مزے لے کر چپس کھاتے دیکھ بولا تھا “…

“فاتح کی بات سن وہ ہنس دی تھی بے اختیار اور اس کی یہی ہنسی کسی کے دل کی دنیا ہلا گئی “..

“ہاہاہاہا”…

“یہ دیسی اسٹائل ہے”…..

“چپس میرے بہت فیورٹ ہیں “….

“ایک دن یہی چپس جب میں نے سوپ کے ساتھ ٹرائی کیے تو بہت یمی لگے پھر تب ہی سے یہ اسٹائل بن گیا”….

“وہ مسکراتے ہوئے اپنی باتیں شئیر کر رہی تھی جب کہ فاتح محویت سے اس کے چہرے کے رنگوں ، اسکی خوشی کو دیکھ رہا تھا”…..

“دل نے دعا کی کہ یہ وہ ہنستی مسکراتی رہے”….

“لیکن کیا ہر دعا قبول ہو جائے یہ ضروری تو نہیں “…….

شاید اپنا بھی کوئی بیت حدی خواں بن کر

ساتھ جائے گا مرے یار جدھر جائیں گے