Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 6

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj

“احمر غصے سے حویلی سے نکلتا سیدھا اپنے شہر میں موجود فلیٹ میں آیا تھا”…

“اس کا دماغ شل ہو رہا تھا”..

“آنکھوں میں غصہ تھا”……

“جیسے سب کچھ جلا کر راکھ کرنا چاہتا ہو”….

“اسکی ہمت کیسے ہوئی مجھ سے بدتمیزی کرنے کی”…..؟؟؟؟

“جان سے مار دوں گا اس (..بیچ..) کو”…..

“ہاتھ میں پکڑا حرام مشروب کا گلاس کھینچ کر دیوار پر دے مارا تھا”….

“جو کہ چھناک کی آواز سے ٹوٹتا زمین پر بکھر گیا تھا”…..

“عمارہ جو ابھی فلیٹ میں داخل ہوئی ہی تھی کہ کمرے میں سے کچھ ٹوٹنے کی آواز پر فوراً حواس باختہ سی داخل ہوئی تھی لیکن آگے کا منظر دیکھ اس کی آنکھیں پھیل گئی تھیں جہاں احمر غصے میں پورے کمرے کا حشر نشر کر رہا تھا”…

“میری “…”میری زات کو کمتر ظاہر کرنے کی کوشش کی “….

“پھولی سانسوں کے ساتھ اس نے شیشے میں خود کے عکس کو دیکھا تھا اور پوری قوت سے ہاتھ شیشے میں دے مارا “…

“جس کے باعث شیشہ تو ٹوٹا ہی تھا لیکن وہ کانچ اسکا ہاتھ بھی زخمی کر گیا تھا”….

“احمر”….

“اسکا یہ جنونی انداز دیکھ عمارہ چیختے ہوئے آگے بڑھی تھی اور اسکا خون سے بھرا ہاتھ تھاما”…

“اور اسے سنبھالتی ہوئی بیڈ تک لائی تھی سائیڈ ٹیبل سے فرسٹ ایڈ نکالا ‘”…

“ک۔۔کیا ہو گیا ہے تمہیں”..؟؟؟

“ک۔۔کی۔۔کیوں اسطرح کر رہے ہو”..؟؟؟

“کانپتے ہاتھوں سے احمر کے ہاتھ کی بینڈیج کر رہی تھی “…

“میں چھوڑوں گا نہیں اسے “…

“مار ڈالوں گا”…”مار ڈالوں گا”…

“کیا بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو تم “..؟؟؟

“کس کو مار ڈالوں گو”..؟؟؟

“اسکی لال انگارا ہوتی آنکھوں میں دیکھ وہ سوال کر گئی تھی “..

“ک۔۔کسی کو ن۔۔نہیں”….

“ت۔۔تم جاؤ ابھی مجھے سونا ہے”….

“اسکے سوال پر احمر نے کچھ ہوش سنبھالا تھا اور لڑکھڑاتی زبان کے ساتھ اسے جانا کا کہا تھا اور خود وہیں بیڈ پر ڈھہ گیا”….

“جبکہ عمارہ نے تفکر بھری نظروں سے اسکو دیکھا تھا “…

“جس کی حالت اس وقت قابلِ رحم تھی”…

” وہ باہر جاتے جاتے پلٹی تھی اور جھک کر اس کے ماتھے پر پھیلے بالوں کو ہٹایا اور وہاں اپنے لب رکھے تھے”….

“آئے لو یو احمر”……

“سرگوشی نما آواز میں کہتی وہ لائیٹس اوف کیے جا چکی تھی”..

©©©

“م۔۔مت ما۔۔مارو”..

“م۔۔مت مارو مجھے”….

“ا۔۔۔امی بچاؤ”….

“آہہہہ۔”….

“چ۔۔چھوڑ دی۔۔۔دیں م۔۔مجھے”…..

“سحر بیٹا کیا ہوا”..؟؟

“آنکھیں کھولو چندہ”….

“سکینہ بیگم جو تسبیح پڑھ رہی تھیں سحر کو یوں نیند میں چلاتے دیکھ فوراً بھاگ کر اس تک آئی تھیں”…

“جو نیند میں کب سے چلائے جا رہی تھی “….

“نیند میں بھی اسکی آواز میں ایک خوف ، تکلیف ، کرب اور درد تھا”..

“آ۔۔آنٹی م۔۔مجھے ب۔۔بچا لیں و۔۔وہ مار مار ریں گے مجھے”…

“وہ خوف سے لبریز آواز میں کہتی سکینہ بیگم کے گلے لگی تھی اس کی آنکھوں میں ایک دہشت تھی”…

“جسے دیکھ سکینہ بیگم کو دکھ ہوا تھا”…

“کوئی نہیں مارے گا تمہیں”..

“م۔۔میں نے کیا کیا ہے آنٹی”..؟؟

“ک۔ک۔کچھ۔۔کچھ بھی تو نہیں “…؟؟؟

“پ۔۔پھر کیوں وہ میرے ساتھ ایسا کرتے ہیں”…؟؟؟؟؟

“اس کا نیل زدہ چہرا آنسوں سے تر تھا”…

“ادھر دیکھو”….

“آرام سے اسکا چہرا اٹھایا تھا “…

“سحر نے ڈرتے ڈرتے اپنی نظریں اٹھائی تھیں”…

“جہاں سکینہ بیگم نماز کے طریقے سے ڈوپٹہ باندھے بیٹھی اسی کو دیکھ رہی تھیں”…

“سکینہ بیگم کی جب نظر سحر کے چہرے پر موجود نیل کے نشانوں پر گئی تھیں انہیں احمر پر شدید غصہ آیا تھا جسے وہ بمشکل ہی پی گئی تھیں”….

“ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے یہاں کوئی نہیں آئے گا”….

“آپ آرام سے لیٹ جاؤ “…

“میں جب تک نماز پڑھ لوں”…

“وہ کہتی اٹھ گئی تھیں لیکن سحر کا دماغ اپنی بات سے جامد کر گئیں”…

“صرف وہ ایک لفظ “…

“نماز”…..

“اِس ایک لفظ نے اس کے تاریک ذہن کو روشن کیا تھا”….

“ہاں کتنا عرصہ ہو گیا تھا اسے”…

“نماز ادا کیے”…

“اسے یاد ہے آخری نماز اس نے ظہر کی ادا کی تھی”…

“وہ بھی یہاں لائے جانے سے پہلے”…

“یہ سوچتے آنکھوں کو اذیت سے بند کیا تھا”…

“یہاں آنے کے بعد اپنے زخموں اپنی تکلیف کو سوچنے کے علاوہ کوئی کام ہی نہ رہا تھا “…

“وہ بس یہاں کی ہو کر رہ گئی تھی کہ اپنے خدا کو ہی بھول بیٹھی “….

“ان حالات نے کتنا دور کر دیا تھا اسے خدا سے”…

“کہتے ہیں بشر وہ ہوتا ہے جو حالات کی سنگینی کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے”..

“کتنے ہی مشکل حالات کیوں نہ ہو وہ اپنے رب کو نہیں بھولتا”…

“لیکن اس نے کیا کیا”…

“وہ غافل ہو گئی تھی اپنے رب سے”….

“مگر اب نہیں”…

“وہ فیصلہ کر چکی تھی “..

“اب وہ غافل نہیں رہے گی بلکہ اپنے رب کے حضور حاضر ہو گی”…..

“چاہے کچھ بھی ہو جائے اپنے اور خدا کے درمیان فاصلے نہیں آنے دے گی”….

“اور اپنی کہی بات سچ کر دیکھائی تھی اس نے”…

“کیونکہ تھوڑی دیر میں ہی وہ رب کے حضور سجدے میں تھی”….

“یا اللہ۔۔۔ می۔۔میں تیری گناہ گار بندی ہوں”…

“ان م۔۔مشکل حالات میں تجھے ہی بھول بیٹھی”….

“م۔۔م۔۔مجھے معاف کر دے”….

“دعا کے دوران آنسوں مسلسل اسکے چہرے کو بھگو رہے تھے”….

“زخم درہ جسم کے ساتھ سجدے میں بیٹھنا اسکے لئے مشکل ثابت ہو رہا تھا لیکن پھر بھی وہ خود پر ضبط کیے بیٹھی تھی”….

“م۔۔میں نہیں جانتی یہ سب تو نے کیوں کیا ہے”…

“بس اتنا جانتی ہوں ہر کام میں تیری مصلحت ہوتی ہے”…

“اگر یہ آزمائش ہے تیری جانب سے تو اس آزمائش پر غالب آنے کی سکت دے”…

“ربا درد اٹھایا زر پہ

آنسوں لائے تیرے در پہ

“بخش کہ یہ آزمائش میرے ایمان کو کمزور نہ کرسکے”…

“بس ایک التماس ہے تجھ سے”…..

“کہتے اس کی آواز رندھ سی گئی تھی”….

“م۔۔میرے لئے آسانی فرما “..

“مجھے صبر عطا کر اور کبھی خود سے دور نہ کرنا”……

“آ۔۔آج کافی عرصہ بعد تیرے در پر ان آنسوں کے ساتھ داخل ہوئی ہوں مجھے خالی ہاتھ نہ لوٹا بلکہ میری دعا کو قبول فرما اے خدا”…

“اپنی آخری دعا کے ساتھ وہ اٹھی تھی”….

“جبکہ اسکو نماز پڑھتے دیکھ سکینہ بیگم مسکرائی تھیں”..

“نمی ان کی آنکھوں میں بھی جھلکی تھی”…

“کچھ ہفتوں بعد”….

“”وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا خود پر برانڈڈ پرفیوم سے چھڑکاؤ کرتا ساتھ ساتھ اپنے بھورے بال بھی سیٹ کر رہا تھا”..

“وائٹ شرٹ “…

“ریڈ ٹائی”….

“بلیک ڈریس پینٹ”…

“بالوں کو سلیقے سے سیٹ کیے وہ کافی پرکشش شخص لگ رہا تھا”…

“اپنی تیاری مکمل کرتا ایک طائرانہ نظر خود کے وجود پر ڈالی تھی اس نے”..

“پاس رکھا کوٹ دائیں ہاتھ میں اٹھائے وہ شان سے چلتا نیچے آیا تھا “….

“جہاں پشمینہ پہلے سے ہی ناشتہ ٹیبل پر لگائے بیٹھی اس کا ہی انتظار کر رہی تھی لیکن جا کر بلانے کی ہمت نہ کی”…

“معمول کے مطابق کوٹ کرسی پر رکھنے کے بعد وہیں ہی بیٹھا تھا”…

“نیوز پیپر آیا ہے آج “..؟؟؟

” فاتح نے ناشتہ سرو کرتی پشمینہ کو ایک نظر دیکھے ہوئے بولا تھا”…

“جی “…

“یک لفظی جواب دیے وہ نیوز پیپر اسکے سامنے رکھ چکی تھی اور خود بھی وہیں بیٹھے ناشتہ کرنے لگی”….

©©©

میں وہ دنیا ہوں جہاں تیری کمی ہے سائیاں

میری آنکھوں میں جدائی کی نمی سائیاں

“سوچو کتنا مزہ آئے گا”…

“جب تم یہاں سے چلی جاو گی”…

“میں سکون سے سو کر اٹھوں گی”..

“اکیلے اس گھر اور کمرے میں راج کروں گی”……

“پشمینہ کو روتے دیکھ وہ مزید چڑانے لگی تھی”..

“جاو بدتمیز !” میں تم سے اب بات بھی نہیں کروں گی “…

پتہ نہیں کیسی جڑواں بہن ہو میری ، جسے زرا بھی خیال نہیں ہے میرا۔۔۔

“اپنا اور پشمینہ کا فوٹو البم دیکھتی مشل کی آنکھیں نم ہوئی تھیں وہ بے اختیار مسکرا دی تھی جب شادی سے پہلے پشمینہ کی کہی بات یاد آئی جس میں وہ شادی کے ذکر پر ہی روٹھ گئی تھی”…..

“آج اس البم میں ایک اور تصویر کا اضافہ کیا تھا اس نے جس میں ان دونوں کے بہنوں کی شادی کے وقت کی تصاویر تھی”…

“اس تصویر میں وہ دونوں بہنیں ایک دوسرے کے گلے لگی ہوئی تھیں”…

“منصور صاحب سے کہہ کر اس نے خاص یہ تصویر بنوائی تھی”…

“آئے مس یو مینہ”…

“تصویر کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولی تھی “..

“پھر ساتھ ٹیبل پر رکھا اپنا فون اٹھایا اور اس تصویر کا اسکرین شاٹ لیے مینہ کے نمبر بھیجا”….

“نیچے لوونگ ایموجیز کے ساتھ “…

“Miss you sweetheart”….

لکھا ہوا تھا”…..

©©©

“کیا ہوا فاتح سر جھکائے کیوں بیٹھا ہے”..؟؟

“آفس روم میں داخل ہوتے ہی شہیر نے فاتح کو دیکھ کر کہا تھا”…

“جو پریشانی کے عالم میں سر جھکائے ہوئے تھا”….

“یار پروجیکٹ فائل نہیں مل رہی”…

“تو جانتا ہے نا کتنی ضروری تھی وہ فائل اس ڈیل کے لئے”…

“اگر وہ فائل نہ ملی تو کروڑوں کا نقصان ہو گا”….

“اپنے لبوں کو بھینچے وہ اضطرابی کیفیت میں بولا تھا جبکہ فاتح کی بات سن شہیر کو بھی پریشانی نے آن گھیرا تھا”…

“یہ کیا بول رہا ہے تو”..؟؟؟

“رک “….!!

“ٹھنڈے دماغ سے سوچ کہ وہ فائل تو نے کہاں رکھی تھی لاسٹ ٹائم”….؟؟

“یار مجھے خود یاد ہے میں نے خود یہاں ٹیبل پر رکھی تھی مگر پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے”…

“وہ سر تھامے بیٹھ چکا تھا”….

“تبھی عروہ دروازہ نوک کیے اندر داخل ہوئی تھی”..

“سر میٹنگ روم میں سب آپ کا ویٹ کر رہے ہیں”….

“اپنے پروفیشنل انداز میں آ کر کہا تھا اس نے”….

“مس عروہ آپ وہاں جا کر سب کو ڈیل کریں “….

“ہم کچھ دیر میں آتے ہیں”…

“فاتح کے کچھ بھی بولنے سے پہلے وہ عروہ سے کہہ گیا”…

“کہ کہیں غصے میں فاتح کچھ غلط ہی نہ بول دے”….

“جی سر”…

“اس کے حکم کی تائید کیے وہ اثبات میں سر ہلائے جا چکی تھی”….

©©©

“وہ اپنے سامنے کھڑی اس کانچ کی بلڈنگ کو دیکھ رہی تھی”…

“جو کہ کافی اعلیٰ طرز کی بنائی گئی تھی”…

“وہ گہرا سانس بھرتی اندر لفٹ میں داخل ہوئی تھی”..

“وہ آفس میں تو آ گئی تھی لیکن اسے یہ معلوم نہ تھا کہ فاتح کا روم کون سا ہے”…

“وہ اسی کشمکش میں گھری کھڑی تھی کہ اسکی نظر لیفٹ سائڈ بنے بورڈ پر گئی جہاں بڑے بڑے انگریزی حروف میں ریسیپشن لکھا ہوا تھا”….

“ایکسکیوز می”….

“کسی لڑکی کی مدھم آواز پر ریسیپشنسٹ متوجہ ہوئی تھی “…

“یس”…؟؟؟

“ہاؤ کین آئے ہیلپ یو”..؟؟؟

“وہ لڑکی اپنے پروفیشنل انداز میں بولی تھی “…

“و۔۔وہ “….

“پشمینہ کنفیوژ سی ہو رہی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کہے”…

“لیکن پھر خود میں ہمت جمع کیے سامنے کھڑی لڑکی سے مخاطب ہوئی”.…

“آپ کے سر ہیں آفس میں “…؟؟

“جی میم بٹ آپ کون ہیں”..؟؟؟

“اور کون سے سر سے سر ملنا چاہتی ہیں “..؟؟؟

“سر شہیر “..؟؟

یا

“سر فات …”…

“سر فاتح”….

“اس لڑکی کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ بول گئی تھی”…

“آپ کے پاس اپائنٹمنٹ ہے”..؟؟؟

“جی “..؟؟؟

“ا۔۔اپائنٹیمنٹ”…؟؟؟

“پہلے تو وہ حیران ہوئی تھی اس کی بات سن مگر پھر اپنے چہرے پر در آنے والے حیران دیدہ تاثرات کو فوراً چھپا گئی تھی وہ “….

“آ۔۔آپ بس ان سے کہہ دیں کہ ان کی وائف آئی ہیں”…؟؟

“وہ ہاتھوں میں تھامے شاپر پر گرفت مضبوط کیے بولی تھی جوکہ اس بات کی نشانی تھی کہ وہ کنفیوژ ہو رہی تھی”..

“جبکہ پشمینہ کے لبوں سے ادا ہونے والے الفاظ سن وہ ریسیپشنسٹ اور اسکے ساتھ کام کرتی وہ لڑکی دونوں نے ہی ساکت نظروں سے اسکی جانب دیکھا”….

“آپ وائف ہیں ان کی”..؟؟؟

“اب کے دوسری لڑکی جس کا نام رومانہ تھا اس نے تصدیق چاہی تھی”…

“پشمینہ نے صرف سر کو ہلانے پر اکتفا کیا”…

“وہ ان کے یوں دیکھنے پر الجھ سی گئی تھی”…

“سر آپ کی وائف آئی ہیں”…

“فاتح جو فائل کی وجہ سے پہلے ہی ڈیپریشٹ تھا “…

“انٹر کوم پر اپنی ورکر کی بات سن ماتھے پر ان گنت بلوں کا اضافہ ہوا تھا”….

“بھیجیں انہیں “….

“کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ غصے کے ضبط کرنے کیلئے ایک گہرا سانس ہوا کے سپرد کرتے ہوئے بولا تھا”….

“سبھی کہیں مرے غم خوار کے علاوہ بھی

کوئی تو بات کروں یار کے علاوہ بھی”

” وہ آفس کا گلاس ڈور کھولے اندر داخل ہوئی تھی جہاں سامنے ہی فاتح اپنی راکنگ چئیر پر پریشان زدہ سا سر پیچھے چئیر سے ٹکائے بیٹھا تھا”…

“کیوں آئی ہو یہاں”…؟؟؟

“نظریں سامنے کھڑی اپنی بیوی کے وجود پر ٹکائے اس نے سوال داغا تھا”…

“لہجہ دھیما مگر سنجیدہ تھا”…

“جب کہ آنکھوں میں سرخی نمایاں تھی”…

“جسے پشمینہ نے بھی محسوس کیا تھا”….

“آپ کی طبعیت ٹ۔۔ٹھیک ہے”…؟؟؟؟

“اس کی یوں لال سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھ وہ تفکر زدہ لہجے میں بولی تھی”…

“جتنا پوچھا گیا ہے صرف اتنا جواب دو”…

“فضول بولنے کی اجازت میں نے نہیں دی ہے تمہیں”….

“وہ لمحوں میں اپنی کرسی سے کھڑا ہوتا اس تک پہنچا تھا”…

“اور اپنی سرد آنکھیں اسکی آنکھوں میں گاڑھے بولا”….؟

“جبکہ اسکے یوں اسطرح آندھی کی مانند پہنچے پر وہ لمحے بھر کے لئے ڈری تھی”….

“بولو کیوں آئی ہو یہاں”..؟؟؟

“و۔۔وہ ص۔۔صبح آپ ۔۔”…

“او پلیز یہ ہکلانا بند کرو پہلے ہی میرا دماغ خراب ہوا ہے”…

“جو بولنا ہے جلدی بولو اور جاؤ یہاں سے”…

“اسکے بازوں کو اپنی آہنی گرفت میں لیتا وہ غراتے ہوئے بیزار سے لہجے میں بولا تھا”…

” ہاتھوں پر گرفت سخت ہونے سے اور مقابل کے رویے سے پشمینہ کی آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے تھے”…

پیار جو ملا مجھکو جینے کا بہانہ تھا

کیا پتا تھا جاں لے لے دل میرا نشانہ تھا

“بولو اب گونگی کیوں ہو گئی ہو”…؟؟

“یا صرف شوق تھا یہاں آنے کا”….

“اس نے کرختگی سے بولتے اس کو جھنجھوڑا تھا کہ پشمینہ کے ہاتھ میں موجود وہ فائل زمین بوس ہوئی تھی”….

“پشمینہ کچھ نہ بولی تھی “…

“بلکہ اسکی گرفت سے اپنا ہاتھ جھٹکے سے چھڑایا تھا اور دوڑتی ہوئی وہاں سے گئی تھی”….

“آنکھوں سے آنسوں رواں تھا”…

“آس پاس موجود ورکرز کو بھی نہ دیکھا تھا بلکہ ان جے بیچ میں سے ہی وہ بھاگتے ہوئے گئی جبکہ اسکو یوں جاتے دیکھ فاتح نے سر جھٹکا تھا”…

“اور بیزاری کی سی کیفیت سے اس شاپر کو اٹھائے کھولا “…

“لیکن یہ کیا”..؟؟؟

“اسکی آنکھیں یکدم ہی کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں جب اس شاپر میں اسکی میٹنگ فائل کو دیکھا جس کیلئے پچھلے ایک گھنٹے سے وہ خوار ہو رہا تھا”….

“وہ حیرانی سے کبھی اس فائل کو دیکھتا تو کبھی اس دروازے کو جہاں تھوڑی دیر پہلے وہ دشمنِ جاں روتی ہوئی نکلی تھی”…

“فائل کو وہیں چھوڑے وہ باہر آیا لیکن تب تک وہ گاڑی میں بیٹھے جا چکی تھی”…..

“شٹ”….

“اپنے سر پر زور سے ہاتھ مارا تھا”….

“وہ میٹنگ بھی صحیح سے اٹینڈ نہ کر پایا تھا “…

“پشمینہ کا روتا درد بھرا چہرا بار بار اسکی آنکھوں کے سامنے لہرا رہا تھا”…..

درد تھا نصیب میں درد کو نبھانا تھا

آگ کے سمندر میں ڈوب کے ہی جانا تھا

©©©

“واٹس ربش عروہ”…

“میں کب سے تمہارا ویٹ کر رہا ہوں اور تم اب آ رہی ہو”..؟؟

“عروہ کے فلیٹ میں داخل ہوتے ہی احمر نے اسکے سامنے سوالات کا انبار کھڑا کر دیا “…

“ٹائم دیکھا ہے تم نے”…؟؟

“دائیں ہاتھ کی کلائی میں بندھی گھڑی کی جانب اشارہ کیا تھا”…

“ریلیکس احمر”….

“تم اتنا ہائپو کیوں ہو رہے ہو”..؟؟؟

“میٹینگ تھی اس وجہ سے لیٹ ہو گئی “

“سمپل”….!!

“یہ تمہارے لئے سمپل ہے”..؟؟

“سیریسلی عروہ”..؟؟؟

“اسکے شانوں سے تھامے اپنے قریب کیے اسکی آنکھوں میں دیکھتے سوال کیا”…

“میں یہاں سات بجے سے تیار بیٹھا تمہارا ویٹ کر رہا تھا کہ ہمیں آج باہر جانا تھا”…

“بٹ نو ایشو”…

“تم اپنی جاب اور میٹینگ دیکھ لو”…

“اوکے”….

“جھٹکے سے اسے چھوڑتا وہ باہر جانے کو تھا کہ عروہ نے احمر ہاتھ تھامے روکا تھا اسے”…

“ڈونٹ بی اینگری احمر”…

“تم جانتے ہو”۔۔!!

“I can’t bear your Angry Mood”….

(میں تمہارا یہ ناراضگی والا موڈ برداشت نہیں کر سکتی)…

“اسلئے مجھ سے ناراض مت ہوا کرو”…

“بس تم مجھے دس منٹ دو ابھی ریڈی ہو کر آتی ہوں”…

“وہ کہتی اندر روم میں گئی تھی اور بیس منٹ بعد ہی واپس لوٹی تھی”…

“چلیں احمر”…

“احمر جس نے ناراضگی ظاہر کرنے کے لئے نظریں صرف فون پر مرکوز کی ہوئی تھی عروہ کی پکار پر بس سر سری سا اسے دیکھا تھا”…

“لیکن وہ سرسری نظر کب ساکن نظروں میں بدلی اسے معلوم ہی نہ ہوا”…

“بیوٹیفل”…

“وہ کھوئے ہوئے لہجے میں بولا تھا”..

“جبکہ اسکے یوں مسرمرائیز ہونے پر عروہ مسکرا دی تھی”…

“وہ لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی گرے جینس پر وائف سمپل کرُتی پہنے ڈوپٹہ مفلر اسٹائل میں گلے پہ لپیٹے ہلکے میک اپ کے ساتھ”..

“بے شک وہ خوبصورتی کا پیکر لگ رہی تھی”…

“عروہ کو دیکھ وہ بھلا چکا تھا ساری ناراضگی”…

“یاد تھا تو صرف اتنا کہ سامنے وہ لڑکی ہے جس کو وہ پسند کرتا ہے”…

“جس سے اس نے محبت کی ہے”…

“تھوڑی دیر میں ہی وہ دونوں وہاں سے نکل چکے تھے اپنی منزل کی جانب”…..

©©©

اجاڑ گھر میں یہ خوشبو کہاں سے آئی ہے

کوئی تو ہے در و دیوار کے علاوہ بھی

“گاؤں کی سڑکوں کو عبور کرتی ایک سفید رنگ کی مہنگی ترین گاڑی حویلی کے سامنے آ رکی تھی”….

“اس گاڑی نے جیسے ہی ہارن بجایا چوکیدار نے فوراً وہ بڑا دروازہ کھولا تھا”….

“جیسے عبور کیے وہ گاڑی مین پارکنگ میں رکی تھی”….

“پھر اس گاڑی میں سے اس حویلی کا پہلوٹھا چشم و چراغ “چوہدری شہیر” اپنی شاندار پرسینلٹی کے ساتھ نکلا تھا”….

“نیلی شرٹ جو کہ ڈارک بلو جینس پر بہت جچ رہی تھی، اس پر نفاست سے جیل سے سیٹ کیے گئے بھورے رنگ ریشمی بال”…

“اپنی گرے آنکھوں کو ڈارک بلو شیڈ کے چوکور چشموں کے پیچھے چھپائے وہ اندر حویلی کی جانب بڑھا تھا”…

“لیکن اس کے حویلی میں بڑھتے قدم تھمے تھے”…

“جب باغیچے کے دوسری طرف موجود کسی شناسا وجود کے آنچل نے اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی”…

“وہ احساس ، وہ کشش آج کتنے عرصے بعد دوبارا اس کے وجود میں جاگا تھا”…

“وہ حویلی کے اندر جانے کے بجائے وہاں باغیچے میں گیا تھا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا”…

“کیونکہ وہ جو کوئی بھی تھا شائد جا چکا تھا “….

“شب و روز کا ملنا تھا کیا

مرجھا کے یوں کھلنا تھا کیا

“کیا ہوا صاحب جی”…

“اسکو باغیچے کی جانب دوڑتے دیکھ رشید بھاگتے ہوئے آیا تھا”…

“ر۔۔رشید یہاں کوئی لڑکی تھی “…؟؟

“لڑکی”..؟؟؟

“ہاں میں نے خود دیکھا تھا”…

“او صاحب جی”..

” وہ چھوڑیں نا کوئی نوکرانی ہو گی”…

“وہ ہنستے ہوئے بولا تھا اور وہاں سے چل دیا جبکہ شہیر نے بھی قدم اب حویلی کی جانب بڑھائے تھے لیکن جاتے جاتے پیچھے موڈ کر دیکھنا نہ بھولا تھا”….

©©©

“وہ چار سو ہریالی میں گھرا ہوا گاؤں”..

“اس گاؤں میں موجود کھلا میدان اور اس کھلے میدان کے سامنے بنی وہ کوٹھری “….

“جس کے ایک کمرے سے کسی خاتون کی کراہنے کی آواز آ رہی تھی”….

“س .. سحر”…

پ۔۔پ۔۔پا۔۔۔پان۔۔نی”….

“کمرے کے پلنگ پر بخار میں تپتی وہ عورت نیم بہوشی کی حالت میں سحر کو آواز لگا رہی تھیں”..

“اس سحر کو جس کو وہ زندہ جہنم میں جھونک چکے تھے”…

“وہی سحر جس کی معصومیت کو روندتے ہوئے ونی کر دیا گیا”…

“اب اپنی اس تکلیف میں وہ اسی کو آوازیں دے رہی تھیں”…

“کیونکہ ہمیشہ بیماری کی حالت میں وہی ان کا خیال رکھتی تھی”….

“پ۔۔پا۔۔۔پانی”….

“زیشان جو ابھی گھر میں داخل ہوا تھا اپنی ماں کے کراہنے کی آواز پر دوڑ کر اس کمرے میں گیا تھا”….

“م۔۔ماں”…

“ان کا چہرا تھپتھپایا تھا جو بخار کی ذیاتی سے سرخ ہو رہا تھا”….

ہائے! آلله اماں آپ کو تو اتنا تیز بخار ہو رہا ہے”….

سعدیہ بیگم پر ہلکی سی چادر دے کر ساتھ ہی کمرے کا پنکھا ہلکا کیا تھا “…

“ماں یہ لیں پانی اور دوائی کھائیں”….

ان کو سہارا دیے کھڑا کیا اور پانی کا گلاس ان کے لبوں سے لگایا تھا “….

“بی۔۔بیٹا ا۔۔ارمان”…؟؟

“ارمان کہاں ہے”…؟؟؟

“پ۔۔پانی پی کر انہوں نے غنودگی میں پوچھا تھا”….

“وہ جو ان کے ماتھے پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کر رہا تھا ، اس کے ہاتھوں کی حرکت ساخت ہوئی تھی اپنی ماں کی بات سن کر “۔

“م۔۔میرا کل۔۔کلی۔۔کلیجہ ک۔۔کٹ رہا ہے”…

“ار۔۔ارمان کو ل۔۔لا دو”….

“س۔۔سحر کے س۔۔ساتھ س۔۔ساتھ وہ بھی چلا گیا ہم۔۔ہمیں چھوڑ کر”…

“ج۔۔۔جس۔۔۔جس ۔۔جس ک۔۔کیلئے ہم۔۔ن۔۔نے ا۔۔اس م۔۔معصوم بچی کو عذاب م۔۔میں ڈالا اب تو وہ بھی ہمارا نہ رہا”….

“کہتے ان کی آنکھوں سے گرم سیل رواں ہو رہا تھا”…

“ج۔۔جںکہ سحر کے نام پر زیشان کا چہرا سپاٹ ہوا تھا”….

“ماں آپ فکر نہ کریں میں ان شاءاللہ جلد ارمان کو ڈھونڈ کر لے آؤں گا”…

“ت۔۔تم س۔۔سچ کہہ رہے ہو نا بی۔۔بیٹا”…؟؟

“ایک آس ایک امید سے ان نے ہاتھ تھاما تھا زیشان کا”…

“وہ کوئی جواب نہ دے سکا تھا بس سر اثبات میں ہلانے پر اکتفا کیا “…

“آپ اب آرام کر لیں”…

“میں چلتا ہوں “…

“کہتے وہ وہاں سے جا چکا تھا “…

“اپنی ماں کی بات سن اس کے دل میں ہلچل سی مچی تھی”…

“سحر کا خیال آیا تھا “…

“اس کا معصوم چہرا اسکی آنکھوں کے سامنے گھوما تھا”….

“لیکن اپنے سر کو جھٹکے وہ آگے بڑھا “…

“اس بات سے بے پرواہ کہ ابھی تو ابتدا ہے”…

“یہ سوچیں اس کا پیچھا نہیں چھوڑیں گی”…

“ہر لمحہ ہر گھڑی یہ زندگی اُس کو اِس بات کا احساس دلائے گی کہ کسی معصوم کو اس نے زندہ مرنے کے لئے چھوڑ دیا “….

“جس سے کبھی کسی وقت میں وہ محبت کو دعویدار تھا”…

اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا

اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا

©©©

“احمر جب سے حویلی سے گیا تھا تب سے سحر کی زندگی میں کچھ سکون سا آیا تھا”…

“ورنہ احمر کی موجودگی میں سحر کیلئے سانس تک لینا دوبھر ہوتا تھا”…

“ہر وقت کسی فرعون کی مانند اسکے سر پر سوار رہتا تھا”…

“کوئی لمحہ ایسا نہ ہوتا جس میں وہ اس کی زات کو کمتر ظاہر نہ کر رہا ہوتا”…

“سحر کی بے عزتی کرنا اسکا دلی سکون تھا”…

“دوسری جانب”….

“نورے بیگم طبعیت کی کچھ نا سازی کی وجہ سے کمرے میں ہر وقت سوتی رہتی تھیں جبکہ چوہدری وقاص اور چوہدری وقار زمینوں کے کام میں تھوڑا مصروف تھے جس کے باعث ان کو حویلی آنے کا وقت بہت کم ملتا تھا”….

“میمونہ بیگم اور سکینہ بیگم دونوں حویلی کے لاونچ میں بیٹھی ایک دوسرے سے باتوں میں مصروف تھیں”…

“آج ان دونوں بہنوں کو کافی عرصے بعد یہ موقع نصیب ہوا تھا جس میں وہ دونوں بیٹھی ایک دوسرے سے اپنا اپنا حالِ دل بانٹ رہی تھیں”…

“ماں”….

“میمونہ بیگم اور سکینہ بیگم دونوں ہی کی نظریں اس پکار پر دروازے کی جانب اٹھی تھی”…

“جہاں شہیر اپنی شان آن بان کے ساتھ دروازے کی چوکھٹ پر کھڑا تھا”…

“شہیر بیٹا”….

“وہ دونوں بیگمات ہی اپنی اپنی نشست سے کھڑی ہوئی تھیں”…

“وہ کے چہرے ہی خوشی سے کھل اٹھے تھے”….

“کیسا ہے ہمارا بچہ”…؟؟؟؟

“آگے بڑھ دونوں نے اسے اپنے اپنے گلے لگایا تھا”…

“سکینہ بیگم کی تو آنکھیں خوشی سے جھلک ہی پڑی تھیں”….

“بالکل ٹھیک ہوں میری پیاری ماؤں”…

“وہ ہنستے ہوئے بولا تھا اور وہیں صوفے پر ان دونوں کے ساتھ بیٹھ گیا”….

“آج کتنے عرصے بعد وہ دونوں اپنے اس خبر بیٹے کو دیکھ رہی تھیں”….

“بیٹا آنے سے پہلے بتا ہی دیا ہوتا”…

“کم از کم تمہارے لئے کچھ اچھا سا تیار ہی کروا لیتی “….

“ماں اگر میں یہاں آنے سے پہلے ہی آپ لوگوں کو بتا دیتا تو میرا سرپرائز ہی خراب ہو جاتا”…

“اور آپ لوگوں کے چہرے پر یہ خوشی دیکھنے کو نہ ملتی “….

“بالوں میں ہاتھ پھیرے وہ ادا سے بولا کہ وہ دونوں ہی بے اختیار مسکرا دیں”…

“چونکہ اب میں آ چکا ہوں اسلئے سکینہ ماں کے ہاتھوں کا بیسن کا حلوہ “…

“اور”…

“میمونہ ماں کے ہاتھوں کے آلو کے پراٹھے کھاؤں گا”….

“اسلئے اب آپ لوگ تیاری کریں میں تو چلا فریش ہونے”…

“وہی بچپن کا انداز اپنایا تھا شہیر نے”….

“جس طرح وہ ہمیشہ ان سے فرمائش کیا کرتا تھا”…

“میمونہ بیگم نے تاسف میں سر ہلایا تھا جبکہ سکینہ بیگم ہنس دی تھی”…

“ایسے ہی ہنستے مسکراتے وہ دونوں باتیں کرتیں باورچی خانے میں چل دیں”…

“جبکہ وہ فریش ہونے کی نیت سے اپنے کمرے میں آیا تھا “…