Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj NovelR50487 Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 14
Rate this Novel
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 14
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj
“شہیر حویلی سے نکل کر چوہدری وقاص و چوہدری وقار کے ساتھ سیدھا زمینوں پر چلا گیا تھا اور ابھی کچھ دیر پہلے ہی لوٹا تو کیچن کی جانب آیا جہاں سحر اس کو معمول کے مطابق کام کرتی دیکھائی دی”
“آپ ابھی تک یہیں ہیں “..؟
وہ اپنی حیرت پر قابو پانے کی ناکام سی کوشش کیے بولا حالانکہ لہجے میں حیرانی پھر بھی ٹپک رہی تھی کیونکہ جب وہ جا رہا تھا تب بھی وہ کیچن میں ہی موجود کھانا بنانے میں جٹی ہوئی تھی اور اب تو مغرب ہونے ہو کو آئی تھی اسلئے وہ حیران ہوا تھا۔
شہیر کی بات سن بس ایک سرسری سی نظر اس پر ڈالی تھی سحر نے اس کے بعد وہ واپس اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔
“آپ کو آرام کرنا چاہیے ، طبعیت دیکھی ہے آپ نے اپنی اور پھر بھی یہاں کام کر رہی ہیں “.؟؟
اسکو خاموش دیکھ وہ واپس سے بولا البتہ اب اسکے لہجے میں نرمی کی جگہ سنجیدگی نے لے لی تھی۔
“آپ کو کچھ چاہیے “..؟؟
شہیر کی بات کو سرے سے نظر انداز کیا گیا تھا۔
اپنی بات کو یوں دوبارا نظر انداز ہوتا دیکھ شہیر کا غصہ بھی سوا نیزے پر پہنچا تھا تب ہی غصے سے بھرے انداز میں اس نے رضوانہ کو آواز دی ۔اسکی دھاڑ اتنی تیز تھی کہ سحر بھی ایک پل کے لئے لرز گئی جبکہ رضوانہ دوڑتے ہوئے کیچن میں آئی تھی ۔
“جی جی صاحب “
تم لوگوں کو تنخواہ کس لئے دی جاتی ہے “…؟؟
حویلی میں گھومنے کے لئے ، یا پھر کام کرنے کےلئے ۔۔؟؟
“صاحب کام کرنے کے لئے “
“تو پھر سنبھالو یہ سب اور آپ کمرے میں جاؤ فوراً”
رضوانہ سے کہتا وہ آخر میں سحر سے گویا ہوا تھا اور بنا اسکی جانب دیکھے وہاں سے واک آوٹ کر گیا ۔
“ہنہہ ! ہٹو سائڈ پر مہارانی کہیں کی ، اب ان ونی میں آئی محترمہ کی خدمت کرو۔ نخوت سے بولتے ہوئے سحر کو قدرے بے رحمی سے دھکا دیا تھا ۔
©©©
“مینہ کوئی مووی دیکھیں “..؟
بیڈ پر لیٹی مشل نے سوچنے کے سے انداز کہا ۔
“ہم ناٹ آ بیِڈ آئیڈیا ! ویسے کون سی “..؟؟
لو بھئی , یہی تو تم سے پوچھنا ہے ۔
ہہمم ” میں پنجاب نہیں جاؤں گی ، جب وے میٹ ، یا ہم ساتھ ساتھ ہیں یا ہم آپ کے ہیں کون اگر پھر بھی سمجھ نہیں آئی تو امیتابھ بچن کی مووی “ستے پہ ستا” دیکھ لیتے ہیں آخر میں کہتے پشمینہ جاندار قہقہ لگا گئی تھی کیونکہ مشل نے منہ ہی ایسا بنایا کہ نا چاہتے ہوئے بھی اسکی ہنسی برآمد ہو گئی۔
پشمینہ انگلیوں پر گن گن پر فلموں کے نام بتا رہی تھی جبکہ مشل فرست سے چہرے پہ دونوں ہاتھ ٹکائے فلموں کے نام سن سن کر منہ کے عجیب عجیب زاویے بنانے میں تھی ۔
“آئیڈیا ” جوش سے کہتی وہ اچانک ہی کھڑی ہوئی ۔
پشمینہ نے ناسمجھی سے اسکی جانب دیکھا ۔
کیوں نا تمہاری شادی کی مووی دیکھ لی جائے”
اسکی بات سن پشمینہ نے بھی ہامی بھر لی بلآخر کافی دیر کی سوچ بچار کے بعد انہوں نے شادی کی مووی دیکھنے کا فیصلہ کیا ۔
مووی شروع کرنے سے پہلے انہوں نے سب سے پہلے ماحول بنایا ، کھانے پینے کی چیزیں پاپ کورن ، چپس ، جوس ، سلینٹی یہ ساری چیزیں اکٹھی کیں ، پردے برابر کر کے کمرے میں نیم اندھیرا کرنے کے بعد پھر انہوں نے مووی اسٹارٹ کی ۔
“پشمینہ ویڈز فاتح “
یہ دونوں نام دل کی صورت میں اسکرین پر جگمگائے جس نے غیر ارادی طور پر پشمینہ کا دھیان فاتح کی جانب مبذول کروایا ۔
پھر پتہ نہیں اسے کیا سوجھی کہ اسٹیٹس پر پرائیویسی لگا کر اس نے اسٹیس لگا دیا “
“Watching Wedding Movie “
ساتھ ہی گلاسس والا ایموجی استعمال کیا ۔
پھر اپنا فون بند کر کے رکھ دیا اور پوری طرح سے مووی میں مگن ہو گئی ۔
©©©
“آپ کھانا نہیں کھائیں گی”..؟؟؟
سحر کو یوں کونے میں کھڑا دیکھ وہ تعجب کر بولا
“اسکی جگہ وہاں نہیں یہاں ہے زمین کی جانب اشارہ کیا تھا ۔
شہیر کی بات سن احمر دل جلا دینے والی مسکراہٹ کے ساتھ بولا تھا جیسے بہت کچھ باور کروانا چاہ رہا ہو ۔
“یہ تم کس طرح کا برتاؤ کرتے ہو اس معصوم سے”…
“شہیر تیش میں بولا تھا”…
“ارے کزن بھائی سا کیا ہوا یہ تو کچھ بھی نہیں “….
“سحر”….
“ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے کرسی پر بیٹھے ہوئے پکارا”…
ج۔۔جی “….
سر جھکائے بولی تھی ۔
“بیٹھو”…..
“فرش کی جانب اشارہ کیا تھا جبکہ سب حویلی والوں کے سامنے اپنی اتنی تزلیل پر وہ آنسوں پیتی رہ گئی “
شہیر نے نوٹ کیا تھا اس کا وجود لرز رہا ہے۔اس کی سفید رنگت میں یکدم ہی سرخی گھلنے لگی تھی آنکھوں میں غصہ و تیش صاف ظاہر تھا”۔
قسم سے احمر مجھے یقین نہیں آرہا ہے کہ تم پڑھے لکھے ہو ۔ انسانیت نام کی چیز تم میں زرہ برابر بھی نہیں ہے ، چلو یار سائڈ پر رکھو انسانیت کو کم از کم مذہب کا تو پاس رکھ ہی سکتے ہو مگر نہیں تم تو اسے بھی فراموش کیے ہوئے ہو ۔ دو پل کے لئے رکا تھا وہ ایک گہرا سانس ہوا کہ سپرد کیا ۔
معاشرہ پتہ ہے کیا کہتا ہے “لعنت ہو تم جیسے مردوں پر ، تم جیسے مرد سخت ملعون ہوتے ہیں “
غصے سے بھپرے ہوئے انداز میں کہے وہ جا چکا تھا پیچھے بیٹھے تینوں نفوس نے قہقہ لگایا جبکہ سکینہ بیگم بھی انہیں افسوس بھری نگاہوں سے دیکھتی وہاں سے چل دیں۔
©©©©
مووی دیکھنے کے بعد وہ دونوں ہی لیٹ گئی تھی ، مشل تو نیند کی وادیوں میں پہلے ہی کھو گئی تھی جبکہ پشمینہ الجھی سی تکیے پر سر گرائے سوچوں میں گم سم تھی۔ وہ شائد ان لڑکیوں کی ضد میں آتی تھی جن کو رات نیند دیر سے آتا کرتی تھی تو وہ سوچوں کے محور میں کھوئی رہتیں۔
مووی میں جیسے ہی رخصتی کا سین آیا تھا وہ اسے اپنی شادی کی وہ رات یاد کروا گیا تھا جہاں پشمینہ کے ارمانوں کو اسکے شوہر نے کسی شیشے کی مانند توڑا تھا یہ کہتے ہوئے کہ وہ اس سے نہیں بلکہ اسکی بہن سے محبت کرتا ہے ۔ اس ہی سین کے بعد اسکا دل اُچاٹ سا ہونے لگا اس نے بے دلی سے باقی کی مووی دیکھ گویا اپنی چھڑائی۔
پشمینہ نے ایک نظر اپنے ساتھ لیٹی مشل پر ڈالی جو کہ نیند کی وادیوں میں گم تھی ۔
“اگر وہ غلط فہمی جیسی بلا ان کے بیچ نہ آئی ہوتی تو آج اس جگہ پر اسکی بہن ہوتی۔ خود کو فاتح کے ساتھ دیکھ ہمیشہ اسے یہی لگتا کہ اس نے مشل کا حق لیا ہے تب ہی وہ خوش ، خوش بھی اداس ہو جایا کرتی ۔ پھر جب وہ خود کو نارمل کرنے لگتی تھی تو ہی خیال ناگ کی طرح اس کے سر پر سوار ہو جاتا کہ اس کا شوہر اسکی بہن سے محبت کرتا ہے اور یہاں اسکے تمام طر جذبات ٹھنڈے پڑ جاتے۔
کیا ہوتا اگر وہ اس پر یہ ظاہر نہ کرتا کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتا ۔
کم از کم اس کے دل میں کوئی خلش تو نہ رہتی۔
©©©
“احمر سحر پر نظر رکھ پتر “
نورے بیگم ہولے سے اسکے کان کے پاس جھک کر رازداری سے بولی تھیں۔
“کیا مطلب ماں کیا ہوا اب “؟؟
وہ نا سمجھی سے بولا تھا ۔
“لو بھلا ، تم اندھے ہو یا بننے کی کوشش کر رہے ہو ؟
تمہیں نظر نہیں آتا۔ پر مجھے آتا ہے جب سے یہ شہیر حویلی میں آیا ہے مجھے سب کچھ ہی الٹا ہوتا نظر آرہا ہے ۔
“م۔۔مطلب “..؟؟ لب کچلتا وہ نورے بیگم کی بات پر غور کرتے ہوئے بولا۔
مطلب یہ کہ مجھے شہیر کی نیت سحر پر ٹھیک نہیں لگتی ، سحر اسکے سامنے معصوم ہونے کا ڈرامہ بہت اچھے سے کرتی ہے ۔ دیکھا نہیں تھا کہ کیسے تم سے بچ بچ کر اسکے پیچھے چھپتی ہے جیسے شوہر تم نہیں وہ ہے۔ اور وہ شہیر صاحب کیسے طرف داری کرتے ہیں اس اپسرا کی ۔
“اسلئیے کہتی ہوں اس کو اپنے قابو میں کر ورنہ چڑیا اوڑھ جائے گی “
وہ زہریلے لہجے میں کہتی احمر کے بھرپور کان بھر رہی تھیں۔
©©©
“بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائے وہ کب سے نورے بیگم کی باتوں کو سوچنے میں مصروف تھا اس کا ذہن اس لمحے اشتعال برپا کر رہا تھا
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے ؟
“لعنت و تم جیسے مردوں پر ، تم لوگ سخت ملعون ہو۔
“کیا قصور ہے اس معصوم کا”
“وہ شہیر کو اپنے جال میں پھنسا رہی ہے “
شہیر کے الفاظ ، نورے بیگم کے جملے سب اسکے کانوں میں گونج رہے تھے اسکی رگیں تقریباً پھٹنے کے لے قریب تھیں۔
اسکی نظر یکدم ہی پہلو میں لیٹی سحر سے ٹکرائیں جو کہ کچھ دیر پہلے ہی سوئی تھی احمر نے ماتھے پر بلوں کا جال سجائے اچانک ہی اسکو برے طریقے سے جھنجھوڑ اٹھا بیٹھایا۔
“کیا چاہتی ہو تم “..؟؟
سحر تو ناسمجھی کے عالم میں احمر کو دیکھ رہی تھی جو ناجانے نیند میں سے اٹھا کر اس سے کیسا سوال کر رہا تھا۔اسکو احمر کی دماغی حالت پر شبہ ہوا۔
“شہیر کو لبھانا چاہتی ہو “..؟؟
اسکو جبڑوں کو اپنی گرفت میں لئے وہ غراتے ہوئے بولا۔
سحر جس کی آنکھیں نیند کی وجہ سے ہلکی ہلکی بند تھیں احمر کے انداز و سوال کو ہی نا سمجھ پا رہی تھی ۔
“ک۔۔کیا کہہ رہے ہیں آپ “…؟؟
اسکی گرفت میں مچھلی کی مانند تڑپی تھی وہ ۔
“بہت ہمدرد بن رہا ہے وہ تمہارا اور تم بھی بہت مچل رہی ہو ، خبردار اگر کوئی غلط خیال تمہارے ذہن میں آیا ٹانگیں توڑ دوں گا تمہاری “.
اسکی بھیگی آنکھوں میں دیکھ وہ ذہر سے بھی زیادہ کڑوے الفاظ کہہ رہا تھا۔
“چ۔۔چھوڑیں م۔۔مجھے احمر میرے سر میں زخم ہے “
اس کی نظروں میں دیکھ رحم کی اپیل کی تھی اس نے جو کہ وہ یکسر ہی فراموش کر گیا ۔
“آئندہ تمہیں اسکے قریب نہ دیکھوں ، سرد ترین لہجے میں کہتا بنا اسکو کچھ سمجھنے کا موقع دئیے اسے بانہوں کے گھیرے میں لے گیا۔
نہیں ! محبت میں نہیں صرف اپنے سکون کے لئے۔
وہ بس آنسوں، خاموش آنسوں ہی بہا کر رہ گئی۔
پتھروں کی اس نگری میں
پتھر چہرے پتھر دل
پھرتا ہے مارا مارا
کیوں راہوں میں تو آوارہ
©©©
صبح جب اسکا موڈ تھوڑا بہتر ہوا تو اس نے موبائل آن کیا جہاں فاتح کی کتنی کالز و میسج آئے ہوئے تھے ۔ وہ اب شرمندگی محسوس کر رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید سوچوں کے دریا میں گم ہوتی فاتح کا نام سکرین پر جگمگایا۔جسے اسے ان طویل سانس خارج کیے اٹھایا جیسے خود کو اسکا سامنا کرنے کے لئے تیار کر رہی ہو۔
“کال کیوں نہیں اٹھا رہی تھیں ؟ اور یہ رات سے نمبر کیوں بند تھا؟ جانتی ہو میں کتنا پریشان ہو گیا تھا۔
ایک ہی سانس میں وہ کتنی ہی باتیں کہہ گیا اسکی پھولی سانسیں ، تھکے انداز و لہجے کی سنجیدگی نے پشمینہ کو شرمندگی میں مبتلا کیا۔
“سوری! بس وہ میرا دل نہیں چاہا “
وہ سرسری سا جواب ہی ادا کر سکی ۔
سوری ۔۔؟؟ تمہاری سوری و دل کی ایسی کی تیسی ۔
وہ دانت کچکچائے بولا۔
“بیگم جانی تمہارے دل و دماغ کو تو میں آکر ٹھیک کروں گا تب تک اپنی خیر منا لو “
کہتے وہ کال منقطع کر گیا ۔
جب کہ اس کی بات سن پشمینہ اپنے لب کچلتی رہ گئی۔اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ کچھ زیادہ ہی خفا ہو گیا تھا ۔
©©©
“کدھر “..؟؟
سحر کو باہر کی جانب بڑھتے دیکھ وہ بھنونے اچکاتے استفسار کرنے لگا۔
“باہر ” یک لفظی جواب دئیے وہ باہر جانے کو تھی کہ احمر کے ہاتھوں میں اپنی کلائی محسوس کئے اپنی جگہ منجمد ہوئی ۔
“تم باہر نہیں جاؤ گی جب تک شہیر حویلی سے چلا نہیں جاتا “
وہ سر تاثرات چہرے پر سجائے وارننگ زدہ لہجے میں بولا۔
“خدا کا واسطہ ہے احمر کبھی تو سکون سے رہنے دیں ۔ کتنا برا ، برا کرتے ہیں آپ میرے ساتھ میں اف تک نہیں کرتی لیکن میرے کردار کو اگر آپ نشانا بنائیں گے یہ میں برداشت نہیں کروں گی۔
وہ غصے کے عالم میں چلا کر بولی تھی کہ احمر کے ہاتھ سے پڑنے والے زناٹے دار تھپڑ نے اسکی چلتی زبان کو قفل لگایا۔
“تمہاری یہ مجال کہ تم مجھ سے۔۔؟؟ مجھ سے احمر چوہدری سے زبان چلاؤ ،مت بھولو اپنی اوقات کو جو ونی ہو کر آئی ہو “..
وہ غصے سے برہم ہوتا شدید تیش کے عالم میں بولا
مقابل کی بات سن ایک تلخ مسکان اس کے زخمی چہرے پر در آئی ۔
“آپ کون ہوتے ہیں مجھے اوقات یاد دلانے والے ، میں اچھے سے اپنی اوقات سے واقف ہوں ، جو کہ آپ جیسے چھوٹے ذہنیت والوں سے بلند تر ہے”۔
اس کا ضبط ٹوٹا تھا آخر کب تک وہ برداشت کرتی تب ہی اٹل لہجے میں کہتی وہ چوہدری احمر کی غیرت اور غصے کو للکار چکی تھی۔
“تم مجھے میری اوقات بتاو گی”…؟؟؟
سحر کا ہاتھ موڑ اس نے پیچھے کمر سے لگایا تھا، تکلیف سے اس نے آنکھیں میچی تھیں ، لیکن زبان سے اف تک نہ کی تھی اس نے کتنی ہی تکالیف سہہ چکی تھی مگر اب بس ہو گئی تھی ۔
“تم میرے صبر کو آزما رہی ہو”..؟؟؟
کان کے پاس جھک سرگوشی نما آواز میں غرا کر کہا گیا ۔
“اور آپ میرے صبر کو آزما چکے ہیں”
سحر کی جانب سے بھی جواب دوبدو آیا تھا۔
“تمہاری ویلیو ، اس حویلی میں کسی نوکر سے کم نہیں “
ذہر خند لہجے میں کہتا اسکی گردن میں دانت گاڑ گیا تھا جس سے ایک سسکی اس کے لبوں سے برآمد ہوئی جو مقابل کے چہرے پر مسکراہٹ لے آئی تھی۔
“تو آپ کی حویلی کے مرد ایسے ہی اپنی نوکرانیوں کے پاس جاتے ہیں”..؟؟اس ستمگر کے دئیے گئے زخم پر لب بھینچے کہا تھا اس نے ، “
“شٹ اپ سیلی گرل ! تم بیوی ہو میری شرعی حق ہے میرے پاس”
سحر کے جواب نے اس کا دماغ گھما دیا تھا ، جو ان کی حویلی کے مردوں کی غیرت کا للکار رہی تھی “
ہنہہ ! کیا خوب کہتے ہو چوہدری احمر
“اس حویلی کی نوکرانیوں کے ساتھ بیویوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے یا پھر بیویوں کے ساتھ نوکرانیوں جیسا”۔۔۔
اسکی گرفت سے نکلنے کے لئے چڑیا کی مانند پھڑپھڑاتی لیکن وہ گرفت مزید سخت کر گیا تھا “
“تمام حویلی والوں اور پنچائیت کے سامنے مجھے آپ نے بیوی ہونے کا حق دیا ہے اور یہ حق میرے دین ،میرے خدا نے بھی مجھے سونپا ہے ،
اب میری پہچان آپ سے ہے ۔ چوہدری احمر سے “
کیا آپ کی غیرت یہ گوارا کرتی ہے کہ “ایک چوہدری کی بیوی ونی کہلائے”..؟؟
اپنی اکھڑتی سانوں کو ہموار کئے وہ آرام آرام بولی تھی ۔
“یہ سب تم کس کی زبان بول رہی ہو “..؟؟
“ہاں ! تمہارے اندر اتنی ہمت کہاں سے آ گئی کہ میرے سامنے تمہاری یہ زبان قینچی کی مانند چلنے لگی “۔۔؟؟
سحر کو گھما کر اسکا چہرا اپنے چہرے کے قریب کیا تھا ساتھ ہی اسکے دونوں ہاتھوں کو پیچھے لے جا کر کمر پر باندھے لاک لگایا ۔
“کسی کی نہیں ، اپنی ہی زبان بول رہی ہوں” ۔
اور ہمت کی بات نہ کریں آپ ، جب عورت اپنی پر آتی ہے نا تو نسلیں برباد کر دیتی ہے “
روانی میں وہ یہ سب بول تو گئی تھی لیکن اس کا دل اب بھی اندر سے خوف کھا رہا تھا نا جانے اس کا ردِعمل کیا ہو ۔
“ہاہاہا “
تم عورتیں “..؟؟ سیریسلی نسلیں برباد کر دیتی ہو “
چوہدری احمر کا قہقہہ گونجا تھا کمرے میں ، اپنا سر پیچھے کی جانب گرائے وہ قہقے لگا رہا تھا۔ طنزیہ قہقے جو کہ سحر کے کانوں میں ہتھوڑوں کی مانند بج رہے تھے .
“تم لوگوں کی کوئی اوقات ہی نہیں ، ہم مردوں کی کٹ پتلیاں ہوتی ہو تم پہلے باپ ، بھائی کی اور پھر شادی کے بعد شوہروں کی ۔ چاہے تو اپنا ہی حال دیکھ لو “
اپنی شہادت کی انگلی سے اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو ٹریس کرتے کہہ رہا تھا وہ ۔
“ا۔۔احمر”..
آخر کب تک ، کب تک میں برداشت کروں “…؟؟
میں تھک گئی ہوں اس سب سے پلیز یا تو آج مجھے موت دے دیں یا پھر رہائی ۔ میں مزید خود کو اس آگ میں نہیں جلانا چاہتی ۔
تھکے ہوئے انداز میں کہتی اپنا سر اسکے کاندھے پر ٹکا دیا تھا اس نے جبکہ سحر کی اس حرکت سے چوہدری احمر وہیں منجمد سا ہو گیا ۔
قربت بھی نہیں دل سے اتر بھی نہیں جاتا
وہ شخص کوئی فیصلہ کر بھی نہیں جاتا
