Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 20

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj

ہم نے باندھا ہے تیرے عشق میں احرامِ جنوں

ہم بھی دیکھیں گے تماشہ تیری لیلائی کا

اسکے نکلتے ہی وہاں تیز سی آندھی چلنے لگی تھی وہ اپنی گاڑی تک پہنچنا چاہتا تھا لیکن پہنچ نہیں پا رہا تھا ایک روشنی سی پڑ رہی تھی اسکی آنکھوں پر اور کوئی نسوانی پری پیکر کی آواز تھی جو اسے پکار رہی تھی اور اس نور میں سے اسکا وجود دھیرے دھیرے نمایاں ہونا شروع ہوا وہ وجود جیسے ہی اسے قریب آیا فاتح کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا کیونکہ وہ تو پشمینہ ہی تھی جو پچھلے پانچ منٹ سے اسے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی جس میں وہ کامیاب بھی ٹھہری۔

فاتح نے اپنی مندی مندی آنکھیں کھولے سامنے کھڑی پشمینہ کو دیکھا تو وہ تڑپ کر بیچین سا اٹھ بیٹھا اور بنا اس کو کچھ سمجھنے کا موقع دیے کھینچ کر اپنے سینے میں بھینچا تھا اس کے لمس میں اس قدر سختی تھی کہ پشمینہ کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا۔

“م۔۔مینہ ڈ۔۔ڈونٹ لیو م۔۔می ۔۔( مینہ ڈونٹ لیو می)

آ۔۔۔آئی کانٹ ل۔۔ل۔۔لیو وید آؤٹ یو۔۔(آئی کانٹ لیو وید آؤٹ یو)۔۔”

وہ ٹرانس کی سی کیفیت میں بس یہی جملے دوہرا رہا تھا جب کہ پشمینہ اسکی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اسے ہوا کیا ہے وہ تو نیند میں اسکا نام بڑبڑا رہا تھا تو وہ اسے جگانے آئی لیکن جاگتے ہی فاتح کے دیے جانے والے انوکھے ردِعمل پر وہ حقیقتاً شاکٹ ہی تو رہ گئی تھی۔

کب دیکھا تھا اس نے فاتح کا ایسا روپ ؟؟

پشمینہ کے لئے اس کا یہ انداز بالکل انوکھا تھا۔

“ف۔۔فاتح ‘

اس نے ٹوٹے لفظوں میں اسے پکارا تھا فاتح کے انداز نے اس کو کچھ کہنے کے قابل نہ چھوڑا اس کو چپ سی لگ گئی تھی۔

“آ۔۔آئے رئیلی لو یو مینہ۔فاتح تم سے پیار کرتا ہے پلیز مجھے کہیں چھوڑ کر مت جانا ورنہ فاتح مر جائے گا۔”

اس کی لرزتی ہوئی آواز پشمینہ کے کانوں سے جیسے ہی ٹکرائی تھی تو اس نے محسوس کیا وہ رو رہا ہے ہاں وہ رو رہا تھا ، فاتح شرجیل ایک جانا مانا بزنس مین اپنی بیوی کے گرد حصار بنائے ٹوٹا ہوا رو رہا تھا اس لہجے میں خوف پنپ رہا تھا پشمینہ نے اپنی جھکی نظریں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا تھا۔اسکا چہرا اپنے ہاتھوں میں تھام کر وہ جنون اور دیوانگی بھرے لہجے میں گویا ہوا تھا فاتح کی لال سوجھی آنکھیں پشمینہ کی سنہری آنکھوں سے جیسے ہی ٹکرائی تھیں ایک بیٹ مس کی تھی اس نے۔

“فاتح کیا ہو گیا ہے آپ کو میں کہیں نہیں جا رہی ۔”

فاتح کے حصار کو توڑتے جھجلاتے ہوئے کہا تھا اس نے اسکی سمجھ سے بالاتر تھا فاتح کا ریکشن اس نے آج تک فاتح کو یوں اسطرح سے روتے نہ دیکھا تھا اور اب تو وہ صحیح معنوں میں خود بھی گھبرا چکی تھی۔

وہ سپنا فاتح کی آنکھوں سے سامنے پھر سے گھوم رہا تھا جسے سوچ اسے وحشت سی محسوس ہوئی اس کی آنکھیں لال انگارا ہو چکی تھیں جب کہ سفید رنگت لٹھے کی مانند سفید ضبط کے باعث وہ اپنے بال نوچ گیا۔

“فاتح ریلیکس ! یہ لیں پانی پئیں اور آرام سے بتائیں ہوا کیا ہے ؟

کیوں ایسا ریکیٹ کر رہے ہیں ؟”

اس کی حالت کے پیشِ نظر وہ نرم پڑی تھی جب کہ اس کے انداز بیان ، اس کے لہجے پر فاتح نے اپنی پر تپش آنکھوں سے اسکی جانب دیکھا تھا جسے وہ نظر انداز کر گئی تھی اور سائڈ ٹیبل پر رکھے گلاس میں پانی نکال اس کی جانب بڑھایا تھا جسے وہ خاموشی سے تھام اس کا گھونٹ گھونٹ اپنے اندر اتارنے لگا۔

ماحول میں اچانک ہی ہیبت ناک سی خاموشی چھا چکی تھی جہاں صرف گھڑی کی سوئیوں کی آواز ہی گونج رہی تھی فاتح کی نظریں سامنے موجود دیوار پر مرکوز کسی نقطہء پر غور کر رہی تھیں جب کہ پشمینہ فاتح کے چہرے کو دیکھ کر اس کے بولنے کی منتظر تھی بالآخر فاتح کے سرسراتے لفظوں نے ماحول کی خاموشی کو توڑا۔

“جانتی ہو آج جو میں نے سپنا دیکھا وہ کتنا انہونا تھا مطلب ناقابلِ قبول ، میری ذات اس چیز کو قبول کرنے سے انکاری ہے دل چاہ رہا ہے ان لمحات کو نوچ کر اپنے دل و دماغ سے نکال باہر پھینکوں۔”

وہ دانت کچکچائے تیش میں بولا غصے کے باعث اس کا سانس پھول رہا تھا۔

“بتا بھی دیں اب ایسا کیا دیکھ لیا ہے ۔۔”

پشمینہ منتظر نظروں سے اسکی جانب دیکھتی کندھے اچکائے بولی تھی وہ کب سے بات گھوما رہا تھا ۔

“م۔۔موت ، ت۔۔تم۔۔تمہاری موت دیکھی ہے۔۔”

یہ لفظ ادا کرتے ہوئے فاتح کا دل گھبرا رہا تھا اس کی زبان ساتھ نہیں دے پا رہی تھی تب ہی ٹوٹے جملوں میں اپنی بات مکمل کی تھی ساتھ ہی لب کچلتے وہ اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا جو اپنی سنہری آنکھیں پھیلائے اس ہی جانب دیکھ رہی تھی کمرے میں سکوت سا چھا گیا تھا لیکن کچھ ہی لمحوں بعد وہاں پشمینہ کا ایک جاندار قہقہ گونجا وہ ہنس رہی تھی اور فاتح بغور اس کو کھکھلاتے ہوئے دیکھ رہا تھا فاتح کو سمجھ نہ آئی کہ وہ کیوں ہنس رہی ہے۔

“آ۔۔آپ نے میری موت دیکھی ؟؟

سچی ؟؟”

اپنی ہنسی بمشکل ضبط کیے اس نے دوبارا پوچھا جیسے تائید چاہ رہی ہو۔

“اگر سچ میں ایسا ہے تو آپ بالکل بے فکر ہو جائیں کیونکہ میری عمر بڑھ گئی ہے۔”

آنکھیں پٹپٹائے وہ اس کی جانب دیکھے بے فکر لہجے میں بولی ۔

“یہ کیسی لاجک ہے بھلا؟”

فاتح نے تقریباً اسکی عقل پر ماتم کیا ۔

“یہ پرانے زمانے کی لاجک ہے “جب بھی کوئی شخص کسی کی موت خواب میں دیکھے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مقابل شخص کی زندگی بڑھ چکی ہے ۔ اسلئے اب آپ فضول سوچنا چھوڑ دیں۔ویسے بھی وہ سپنا ہے اسے سپنا رہنے دیں حقیقت کے طور پر نہ سوچیں۔

اگر آپ کا اب بھی دل گھبرائے تو خدا سے دعا کریں ویسے بھی ہو سکتا ہے اس سپنے میں آپ کے لئے کوئی پیغام چھپا ہو یا پھر سبق۔”

چہرے پر ایک ہاتھ ٹکائے وہ کھوئے ہوئے لہجے میں بول رہی تھی مگر جملے کے آخر میں وہ سنجیدگی اختیار کر گئی۔

فاتح اس کا روشن چہرا دیکھ رہا تھا جو کہ کسی گلاب کی مانند کھل رہا تھا وہ بے اختیار ہوتا اس کو اپنی طرف کھینچ گیا۔

“دو کشتی میں سوار شخص ہمیشہ ڈوب جایا کرتے ہیں اور میں دوہری کشتی کا مسافر بن رہا تھا مگر اب نہیں۔۔

تم ٹھیک کہتی ہو ہر کام میں اس پاک ذات کی مصلحت شامل ہوتی ہے اور اس سپنے کو دیکھنے کے بعد مجھے اپنی زندگی میں تمہاری اہمیت کا اندازہ ہو رہا ہے کہ تم ہیرا ہو میری زندگی کا تمہارے بنا فاتح کچھ بھی نہیں ہے۔

میں فاتح شرجیل اپنے پورے ہوش و حواس میں یہ اقرار کرتا ہوں مجھے پشمینہ سے شدت و جنون سے بھرپور محبت ہو گئی ہے۔ مینہ فاتح شرجیل پور پور ڈوب چکا ہے تمہاری محبت کی گہرائیوں میں وہ کل بھی تمہارا تھا اور آج بھی تمہارا ہے اور آئندہ بھی تمہارا ہی رہے گا۔

آئی لو یو مائی گرل۔”

پشمینہ کی پیشانی سے پیشانی ٹکائے وہ شدت و جذبات سے چور ہر ایک لفظ دل کی گہرائیوں سے کہہ رہا اس کی پر حدت دہکتی سانسوں کی تپش پشمینہ کے چہرے کو جھلسانے کا باعث بنی تھی۔

دونوں کے دل کی دھڑکنیں منتشر سی ہو رہی تھیں آج وہ دونوں ہی ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے تھے آج فاتح اپنی محبت کا اقرار کر رہا تھا جب کہ پشمینہ مگن سی اس کا ہر ایک لفظ خود کی روح میں اترتا محسوس کر رہی تھی۔

تیری نظروں کے صدقے یہ جاں وار دوں گا

تو جو کہہ دے تو اپنا جہاں وار دوں گا

©©©

“شہیر تم نے کہا تھا کہ نکاح کے بعد تم حویلی سے چلے جاؤ گے لیکن ابھی تک تم یہیں موجود ہو اور میرے بیٹے کے نام کی ونی کو سہارا دیتے نظر آتے ہو جب کہ اس ڈیل میں ایسا کچھ نہیں تھا۔”

چوہدری وقاص غصے سے بھرم ہو رہے تھے لیکن وہ خود پر ضبط کے پہرے بیٹھا گئے تھے۔

“اب وہ آپ کے بیٹے کے نام کی ونی نہیں شہیر چوہدری کی بیوی ہے اور میں اتنا بے وقوف نہیں ہوں کہ اپنی بیوی کو آپ جیسے درندوں کے بیچ تنہاہ چھوڑ جاؤں۔”

“اگر تم اس لڑکی کے لئے یہ سب کر رہے ہو تم ہم اسے زندہ نہیں چھوڑیں۔۔”

“اگر آپ نے ایسا کچھ کرنے کا سوچا بھی تو آپ خود کے لئے مشکلات کھڑی کریں گے کیونکہ آپ کی کمزوری میرے ہاتھ ہے تایا سائیں۔۔”

زہر خند مسکان سجائے وہ سرد ترین لہجے میں گویا ہوا جب کہ چوہدری وقاص سر جھٹک کر رہ گئے سامنے بیٹھا وہ لڑکا جو ان کے ہاتھوں پلا تھا آج انہی کے مقابل کھڑا تھا۔

“کچھ بھی ہو جائے لیکن ہم اسے اپنی بہو قبول نہیں کریں گے۔”

چوہدری وقاص نے نفرت سے پھنکارتے ہوئے کہا جب کہ شہیر بس شاطر سے مسکرا دیا۔

“یہ نیک کام کرنے کی آپ کو ضرورت بھی نہیں کیونکہ وہ بہو صرف تین لوگوں کی ہے “سکینہ ماں ، میمونہ ماں اور بابا سائیں “

ان کی آنکھوں میں دیکھ وہ شولا بار نظروں سے دیکھ رہا تھا شہیر کا لہجہ بھلا کا سنجیدہ تھا جس نے چوہدری وقاص کو چپ سی لگا دی تھی۔

“کیا بات بھئی کیا باتیں ہو رہی ہیں ؟”

چوہدری وقاص وہیں ڈیرے میں ہی داخل ہوئے تھے۔

“کچھ نہیں بس ہم تایا بھتیجا بات کر رہے تھے کافی ہونہار ہے تمہارا بیٹا۔”

چوہدری وقاص دانت پیستے بمشکل مسکراتے ہوئے شہیر کے کندھے کو تھپکتے ہوئے بولے تھے جب کہ چوہدری وقار مسکرا دیے تھے اپنے بیٹے کی تعریف سن کر ان کا سینہ فخر سے چوڑا ہوا تھا۔

شہیر اٹھ کر وہاں سے چل دیا اب صرف وہ دونوں بھائی ہی موجود تھے ڈیرے پر ۔چوہدری وقار کچھ کہہ رہے تھے لیکن چوہدری وقاص جا دھیان ان کی جانب نہ تھا وہ تو شہیر کے بارے میں سوچ رہے تھے کہ ناجانے وہ کیا قدم اٹھائے گا اور اگر ان کی حقیقت حویلی میں پتہ چل گئی تو ۔۔

یہ سوچتے ہی ایک جھرجھری سی لی تھی ان نے۔

اپنے کرتوت سامنے آنے پر ایک خوف سا ان کے دل پیپ رہا تھا لیکن وہی خوف انہیں گناہ کرتے نہ آیا تھا کہ بے شک اس لمحے اشرف المخلوقات ان سے بے خبر ہے لیکن ہر ذات کا انصاف کرنے والی ذات تو دیکھ ہی رہی ہے جو کہ سب سے افضل ہے جس سے کوئی بھی چھپ نہیں سکتا۔

©©©

سحر شیشے کے سامنے کھڑی خود کا معائنہ کر رہی تھی مہرون رنگ کے سوٹ میں وہ کوئی اپسرا معلوم ہو رہی تھی سفید رنگت پر وہ سوٹ واقعی جچ رہا تھا آج کافی عرصے بعد اس نے خود کو یوں آئینے میں دیکھ رہی تھی وہ کافی بدل چکی تھی وہ پہلے کے مقابلے میں کافی کمزور معلوم ہو رہی تھی لیکن عجب سا نور تھا جو اب بھی اسکے چہرے پر چھایا ہوا تھا۔

اپنے خیالوں میں وہ اتنی گہرائی میں کھوئی ہوئی تھی کہ اسے شہیر کے آنے کی بھی خبر نہ ہوئی ہوش تو تب آیا تھا اسے جب مقابل نے اسکے گرد اپنا حصار بنایا۔

“Looking gorgeous my Pari..”

اس کے خوبصورت وجود کو اپنی نظروں کے حصار میں لئے وہ مسکراتے ہوئے بول رہا تھا سحر اس کی پر حدت سانسیں اپنے وجود کر محسوس کیے خود میں سمٹ سی رہی تھی۔

“س۔۔سنیے..” وہ کچھ کہنا چا رہی تھی لیکن شہیر کی نظروں نے اسے خاموش کروا دیا تھا اس کی نظریں خمار سمیٹے ہوئے تھیں۔

“My Innocent Princess “

اس کے جھکے سر کو دیکھ وہ گھمبیر سا بولا شہیر کا لہجہ خمار آلود سا ہو رہا تھا کاندھے پر بھکرے وہ شایہ فنگن زلفوں کے جال کو پرے دھکیل اپنے لب جیسے ہی رکھے تھے ۔۔۔۔