Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj NovelR50487 Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 5
Rate this Novel
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 5
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj
“نیم اندھیرے میں ڈوبی وہ کوٹھری “….
“اس کوٹھری کے وسط میں موجود ٹوکری جس میں ایک سہمی چڑیا بیٹھی تھی “….
“وہ چڑیا اڑنا چاہتی تھی مگر ستم یہ تھا کہ اس کے پر کاٹ دیے گئے تھے”….
“اس چڑیا کے دائیں اور بائیں دو بھورے رنگ کے بلے موجود تھے”….
“جو ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے غراہ رہے تھے اور ان کے غرانے پر وہ چڑیا خوف سے سہم رہی تھی”….
“اسکی آنکھوں میں خوف سا نمایاں تھا”…….
“ایک بلا جیسے ہی غراتے ہوئے چڑیا پر جھپٹنے لگا دوسرے بلے نے فوراً اس بلے کی گردن دبوچی تھی”…
“اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ دونوں آپس میں لڑنے لگ گئے تھے”……
“ان دونوں بلوں کے غرانے کی آواز وہاں کوٹھری کے ماحول کو نہایت ہیبت ناک بنا رہی تھی”…
“یا آللہ “…..
“پسینے میں شرابوز شہیر فوراً نیند سے بیدار ہوا تھا”….
“یہ اسکے ساتھ تیسری مرتبہ ہوا تھا جو وہ ایسا کوئی خواب دیکھ رہا تھا”…
“کیا ہیں یہ خواب “…؟؟؟
“کیوں ہیں”…؟؟
“اور بھلا کیا مقصد ہوا ان سب کا”..؟؟؟
“اور ہر دفع ایک ہی کوٹھری “…؟؟؟
“یہ تمام سوالات اس کے ذہن میں گھوم رہے تھے”…
“جن کے جواب کی تلاش تھی اسے”…
“وہ ٹھان چکا تھا کہ اب ان خوابوں کی تعبیر جان کر رہے گا”…..
©©©
“کہتے ہیں ہر صبح سورج سب کے لئے نئی روشنی لیے نکلتا ہے”….
“جو ان کی تاریک راتوں کو اجالے سے بھر دیتا ہے”…
“لیکن نہیں”….
“یہاں کوئی وجود ایسا بھی تھا جس کی ہر صبح بھی تاریک تھی اور شام بھی”….
“شائد اسکا سورج ہی تاریک تھا جو اسکی زندگی اندھیروں سے بھر گئی تھی”…
“لڑکی اٹھ جاؤ بہت سو لی تم”…..
“احمر چوہدری کی سرد ترین آواز تاریک کمرے میں گونجی تھی”…..
“سحر جس کی آنکھ کچھ دیر پہلے لگی تھی “….
“کمرے کی گہری خاموشی میں احمر چوہدری کی سرد آواز سن وہ حواس بحال کرنے کی سحی کرتی نیند سے بیدار ہوئی اور نیند سے بوجھل آنکھوں کے ساتھ اسکی جانب دیکھا جو اسے اٹھنے کا اشارہ کر رہا تھا “….
“آنکھیں ہتھیلی سے مسلتی وہ کھڑی ہوئی تھی جیسے نیند کو پرے کرنا چا رہی ہو ، کیونکہ قسمت میں تو شائد سکون کی نیند لکھی ہی نہیں تھی “……
“جی “….
“وہ سر جھکائے کھڑی تھی اس کے سامنے “….
“اس کے حکم کے انتظار میں”…
“احمر صوفے پر ٹانگ پہ ٹانگ دھرے بیٹھا تھا”….
“سفید شلوار قمیض ، کاندھے پر کالے رنگ کی مردانہ شال ڈالے جبکہ پاؤں میں پہنی پشاوری چپل “…
“بلا شبہ وہ کافی وجیہہ تھا “….
“مگر “……
“صرف دیکھنے کی حد تک “….
“احمر نے کوئی جواب دیے بنا اسکے ہاتھ سے کھینچ بیٹھایا تھا اپنے پہلو میں “….
“احمر نے محسوس کیا وہ گرم ہو رہی تھی ، “آنکھیں اسکی لال تھیں اور جسم اسکا بخار سے تپ رہا تھا “…..
“لیکن وہ اگنور کر گیا تھا”….
“کیونکہ یہ سب اُس جابر انسان کی ہی تو کرم نوازی تھی”…
“جس نے اتنی سردی میں پہلے اس سے کپڑے دھلوائے “…
“اور پھر پوری رات ٹھنڈے فرش پر سلایا تھا”……
“کیونکہ بقول اسکے وہ شاہی بستر صرف ان لارڈ صاحب کے لئے تھا”…..
“ویسے تو تمہاری اتنی حیثیت نہیں کہ میرے ساتھ بیٹھو “…
“پر خیر ہے”…
“اس کے وجود کو ان نظروں سے دیکھ کر مسکرایا تھا جیسے وہ کوئی حقیر ہو”….
“سر جھٹکا تھا اس نے”….
“کیسی گزری شب “…؟؟؟
“وہ شائد اسکا ضبط آزمانہ چاہا رہا تھا”…..
“چہرے پر بکھرے ان ریشم بالوں کی زلفوں کو پرے کیا تھا”…..
“احمر کے سوال پر سحر نے درد بھری نظروں سے اسکی جانب دیکھا تھا “…
“کیا وہ انجان تھا اسکی حالت سے یا انجان بن رہا تھا”….
“جبکہ وہ قہقہ لگا گیا تھا اس کی آنکھوں میں چھپے درد کو دیکھ”…
“یہی تو چاہتا تھا وہ”….
“اس کو تکلیف دینا”…..
“ان آنکھوں میں آنسوں کا انبار دیکھنا”…..
“یہی سب تو چوہدری احمر کو سکون دیتے تھے”…..
“ناشتہ کرو گی”…؟؟؟؟”اسکے جھکے سر کو دیکھتے بولا جو گود میں رکھے اپنے ہاتھوں کو کھروچنے میں مصروف تھی”….
“اپنی وہ تاریک آنکھیں اٹھائی تھیں جن میں کبھی ستاروں کی مانند چمک ہوا کرتی تھی”..
“ایسے نہ دیکھو “…
“جانتا ہوں سزا میں ہو تم ، لیکن اب اتنا سفاک بھی نہیں “…
“ہنستے ہوئے بولا تھا جبکہ سحر اس بے رحم ستمگر کو دیکھتی رہ گئی تھی”….
“کیا وہ انسان نہیں تھا”…؟؟؟؟
“وہ ایسے ہنس رہا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو”…..
“یہ لو کر لو ناشتہ”….
“ناشتہ کرو گی تبھی تو اس قابل ہو گی کہ ہر درد کو سہہ سکو”…
“سفاکیت سے کہتا ظلم کی تمام حدود کو پار کر گیا تھا”….
“ہاں وہ ان کے ظلم ہی تو سہنے آئی تھی”….
“ظلم “… ںے تکے ظلم”……
“سوچتے دل میں ایک ٹیس سی اٹھی تھی”….
“اپنا بچا ہوا ناشتہ اسکی جانب کیا تھا “….
“کیا ہوا کھاؤ نا”….
“اسکو ہنوز ویسے ہی بیٹھے دیکھ اپنی بات دہرائی تھی”…..
“ن۔۔نہیں م۔۔۔میں ج۔۔جوٹھا ن۔۔نہیں کھاتی”…..
“سحر کی بات سن پہلے تو اسکے ماتھے پر بلوں کا اضافہ ہوا لیکن پھر خود کو نارمل کیا تھا اس نے”….
“ارے میاں بیوی میں کیسا پرہیز”….؟؟؟
“آنکھوں میں سختی جبکہ چہرے پر مسکان تھا ۔۔ شیطانی مسکان”…
“سحر نے آنکھوں میں شکوہ لئے اسے دیکھا جیسے احساس دلانا چاہ رہی ہو”…
“بیوی”…؟؟؟
“بیوی کی حیثیت دی یے کبھی وہ تو نوکرانیوں سے بھی برتر رکھتا تھا اسے”….
“چلو جلدی سے یہ چائے پیو”….
“اس کا منہ سختی سے تھامے چائے پلانے کے لئے کپ اس کے لبوں سے لگانا چاہا تھا”…
“ن۔۔نہیں احمر م۔۔مجھے جھوٹے سے الرجی ہے پل۔۔پلیز ن۔۔نہیں”….
“مسلسل نفی میں سر ہلاتی وہ پیچھے کو کھسکی تھی کہ کپ سے چائے جھلک کر دونوں پر گر پڑی تھی”……
“احمر کی آنکھوں کا رنگ یکدم بدلنا شروع ہوا تھا ، “….
“اس نے دھکا دیا اسے صوفے سے کہ وہ نیچے فرش پر جا گری تھی اوندھے منہ”…
“تم جیسی عورتیں ہمدردی کے قابل ہی نہیں ہوتی “….
“کہتے وہ بنا اسکی طبعیت کی پرواہ کیے کسی چیل کی مانند اس پر جھپٹا تھا”…..
“ن۔۔نہیں ا۔۔۔ احمر ۔۔۔۔ ن۔۔نہیں”….
“خ ۔۔خدا کے لئے ۔نن۔۔نہیں”…..
“اسکو اپنی جانب بڑھتا دیکھ وہ پیچھے کو کھسکتی جا رہی تھی “….
“کیونکہ اس وجود میں اتنی سکت نہ بچی تھی کہ یہ سب سہہ سکے”…
“اس کی مار سے بچنے کے لئے اس نے اٹھ کر باہر جانا چاہا تھا لیکن اس سے پہلے ہی وہ اس پر جھپٹ چکا تھا”….
“اور تب تک اس پر بے در پہ در وار کرتا رہا جب تک وہ ادھ موی نہ ہو گئی”…..
“م۔۔۔ماں”………..
“یا اللہ “……
“تکلیف سے دوہری ہوتی وہ اپنی ماں اور اللہ کو پکار رہی تھی”…
“لیکن اس بے رحم کو زرہ ترس نہ آ رہا تھا”……
“اب تو اس کے زخموں سے خون بھی رسنے لگا تھا لیکن احمر کو کچھ خوفِ خدا نہ تھا”…
“کیونکہ وہ خود کو ہی خدا سمجھ بیٹھا تھا”…..
“وہ تو بھلا ہو سکینہ بیگم کا جو وہاں سے گزر رہی تھیں لیکن اندر سے آتی سحر کی چیخ و پکار پر دوڑتے ہوئے کمرے میں آئی تھیں لیکن اندر کا منظر دیکھ ان کا سر چکرا گیا تھا”…..
“یا اللہ “….
“دل پر ہاتھ رکھتیں وہ فوراً آگے آئی تھیں اور بمشکل ہی احمر کو قابو کیا جو شائد آج اسے جان سے مار دینے کا ارادہ رکھتا تھا”….
“احمر چھوڑو بچی کو رحم کرو اسکی حالت پر “……
“مت روکیں بڑی ماں”….
“یہ ذلیل لڑکی رحم کے قابل ہی نہیں ہے”…
“کہتے بری طرح ٹھوکر رسید کی تھی “…….
“دور رہو احمر “…..
“اسکو کھینچ کر سائڈ پر کیا تھا”…..
“مجھے نیچا دیکھاو گی”..؟؟
“ایک تو کھانا دے رہا ہوں اوپر سے نخرے نہیں ختم ہوتے “……..
“باہر جاتے جاتے وہ واپس پلٹا تھا اور نیم بہوش سحر کا منہ دبوچے غرایا تھا”…..
“جھوٹے سے الرجی ہے نا تمہیں “…؟؟؟
“اب تم وہی کھانا کھاؤ گی جو میرا میرا بچا ہوا ہو گا “……
“جبکہ سکینہ بیگم کی بس ہوئی تھی ان کا ہاتھ فضا میں بلند یوا اور احمر کے منہ پر نشان چھوڑ گیا”……
“دفع ہو جاو یہاں سے احمر”…..
“انہوں نے بھپرے ہوئے انداز میں کہا تھا “…
“جبکہ احمر بے یقینی سے ان کی جانب دیکھ رہا تھا جنہوں نے آج تک کبھی اس پر ہاتھ نہ اٹھایا تھا لیکن آج صرف اس ونی میں آئی لڑکی وجہ سے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا ان نے “……..
“قہر برساتی نظر سحر کے وجود پر ڈالتا وہ غصے سے نکل چکا تھا وہاں سے”….
“جبکہ سکینہ بیگم نے رحم بھری نظروں سے اسکے وجود کو دیکھا تھا”…..
“شائد ہم عورتوں کو کبھی اپنا مقام نہیں ملے گا”….
“تلخی سے سوچتی وہ سر جھٹک چکی تھیں”…
“اسکی حالت دیکھ ان کا دل دکھ رہا تھا “….
“کتنی ہی بے رحمی سے مارا تھا احمر نے اسے”……..
“انہوں نے آگے بڑھ اسے سہارا دیے اٹھانا چاہا تھا لیکن تکلیف کے باعث اسکے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھی ،،
“چہرے پر لگاتار آنسوں بہہ رہے تھے”…..
“اسکی یہ ہی آہیں ، یہ سسکیاں ، یہ درد دور بیٹھا کوئی شخص محسوس کر رہا تھا “….
“کہتے ہیں جب آپ کسی سے دل کی گہرائیوں سے محبت کرو اور ٹوٹ کر کسی شخص کو چاہو تو مقابل سے آپ کے تمام احساسات وابسطہ ہو جاتے ہیں اس کے ہر درد ، ہر زخم ،ہر خوشی اور ہنسی کو قریب نہ ہو کر بھی محسوس کر لیا جاتا ہے “….
“اور ایسا ہی کچھ حال اپنے آفس میں بیٹھے شہیر چوہدری کا ہو رہا تھا”….
“وہ گزشتہ رات کے خواب کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ یکدم اسے کسی انجانی گھبراہٹ نے آن گھیرا تھا “…..
“اسلام آباد کے اس سرد ترین موسم میں بھی اس کے چہرے پر پسینہ نمایاں تھا”…..
“گلے میں پہنی لال رنگ کی ٹائی کو کھینچ کر ڈھیلا کیا تھا”
“تازہ ہوا کے لئے اس نے گلاس ونڈو کھولیں تھیں اور وہاں خاموشی سے آ کھڑا ہوا تھا”…..
“یہ کیسے احساسات ہیں”..؟؟؟
“کیوں مجھے اتنی گھبراہٹ ہو رہی ہے”….؟؟؟
“یا خدایا بے شک تو ہر شئے پر قادر ہے میری مدد فرما”….
“نیلگو آسمان کی جانب سر اٹھائے وہ خدا سے مدد مانگ رہا تھا”….
“کیا بات ہے شہیر “…؟؟؟
“آج اتنے خاموش خاموش کیوں ہو “..؟؟
“کہ دوست کے آنے کی خبر نہ ہو سکی “…
“فاتح کی بات سن وہ حیرانی سے پیچھے مڑا تھا اور اسکی جانب دیکھا جو ہاتھ میں کافی کا کپ تھامے اب چئیر پر بیٹھنے لگا تھا”….
“نہیں ایسی بات نہیں “…
“تم سناؤ “…
“تم آفس میں”…؟؟؟
“کیا مطلب میں آفس نہیں آسکتا”…؟؟؟
“وہ بھنونے اچکائے بولا”…
“میں نے ایسا کب بولا “…
“میر مطلب یہ تھا کہ آج تو تمہاری شادی کا دوسرا دن ہے اور تم آفس ٹپک پڑے”….
“وہ ہنستے ہوئے بولا تھا”….
“اور ساتھ ہی فاتح کی کافی کے کپ سے ایک گہرا گھونٹ بھرا تھا”….
“ہاں تو شادی ہی کی ہے کوئی پہاڑ تھوڑی توڑیں ہیں جو چھٹیاں کروں گا”….
“شہیر کی بات سن وہ بھی ہنستے ہوئے بولا تھا”….
“فاتح صاحب محبت کو حاصل کر لینا پہاڑ توڑنے کے مترادف ہی ہوتا ہے”…..
“ہم سے پوچھو جو آج تک اپنی اس گمنام محبت کو ڈھونڈ نہ پائے “….
“تم تو اتنے قسمت والے ہو جسے اس کی محبت اتنی آسانی سے ملی ہے اسلئے بہتر ہے تم اپنا زیادہ وقت بھابھی کے ساتھ گزارو”….
“وہ ٹرانس سی کیفیت میں بولا تھا کہ فاتح کے چہرے پر چھائے تاثرات جان نہ پایا تھا”…
“جو اسکی بات سن سپاٹ ہوئے تھے”….
“ہنہ”….
“فاتح نے صرف ہنکار بھرنے ہر اکتفا کیا تھا”….
©©©
“آفس سے آنے کے بعد وہ سیدھا اپنے کمرے میں آیا تھا”….
آتے ساتھ ہی وہ صوفے پر ڈھ سا گیا تھا”…
“کیا ہوا آپ کو “…؟؟
“خیریت”..؟؟؟
“تھکے ہوئے لگ رہے ہیں”..؟؟؟
“پشمینہ نے جھجھکتے ہوئے سوال کیا تھا”….
“لیکن آگے سے جواب نادارہ تھا”…
“چ۔۔چائے لاؤں آپ کے لئے”….
“اسکو یوں ہنوز خاموش دیکھ وہ دوبارا بولی تھی “…
“جب کہ کب سے اسکو اگنور کرتے فاتح نے بھی ایک نظر اٹھاکر سامنے کھڑی پشمینہ کو دیکھا تھا جس نے لان کا سادہ جامنی سوٹ زیب تن کیا ہوا تھا ، بالوں کو ہائی پونی میں قید کیا گیا تھا”….
“ایک جھلک بس اس پر ڈال ، ہاتھ میں موجود کوٹ سائڈ پر رکھا تھا”…
“پانی پئیں گے آپ “..؟؟
“خود پر اسکی نظریں محسوس کیے وہ پھر جھجھکتے ہوئے سوال کر گئی تھی اور ساتھ ہی فاتح کے غصے مین اضافہ “…..
“یہ اچھا بننے کا ڈرامہ بند کیوں نہیں کر رہی”..؟؟؟
“جب ایک بندہ جواب نہیں دے رہا تو سمجھ جاؤ وہ بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہے”…
“لیکن تم تو گوند کی مانند پیچھے ہی پڑھ گئی ہو”…
“چائے لاوں”…
“پانی لاوں”….
“بھئی نہیں چاہیے کچھ بہت مہربانی آپکی محترمہ”….
“اگر کچھ کر سکتی ہو تو ایک مہربانی کر دو “….
“اپنا یہ بہروپیا چہرا لے کر کہیں غائب ہو جاؤ کیونکہ جب جب تمہارے اس چہرے کو دیکھتا ہوں”…
“تو خسارہ یاد آتا ہے اپنا”….
“اپنی بے وقوفی و غلطی یاد آتی ہے”……
“فاتح کی بات سن پشمینہ نے شکوہ کناں نظروں سے اس کی جانب دیکھا تھا”..
“جیسے کہنا چا رہی ہو”…
“اس سب میں میرا کیا قصور”..؟؟؟
“جبکہ فاتح اس کی نظروں میں موجود نمی و شکوہ دیکھ اسے سراسر اگنور کیے فریش ہونے جا چکا تھا “…..
“شائد اسے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا”…..
“پشمینہ بھی اپنے بوجھل قدم اٹھاتی ڈریسنگ پر آئی تھی اور خود کے چہرے کو شیشے میں دیکھا تھا”….
“اسکا چہرا بھی ہو بہو مشل جیسا تھا”….
“ہاں وہ دونوں ایک جیسی ہی تو دیکھتی تھیں”….
بس فرق تھا تو صرف اس چاند کے نشان کا “…..
” ان دونوں کو مختلف بناتا تھا”…..
“وہ آنسو پیتی خاموشی سے بیڈ پر آ بیٹھی تھی”…
“اور چادر تانے لیٹ گئی “…
