Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj NovelR50487 Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 8
Rate this Novel
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 8
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj
جسم شعلہ ہے جبھی جامۂ سادہ پہنا
میرے سورج نے بھی بادل کا لبادہ پہنا
” رات کی گہری خاموشی میں جہاں تمام حویلی والے سکون کی نیند فرما رہے تھے وہیں شہیر لان میں کھڑا آسمان کی جانب دیکھے کسی مرئی نقطے پر غور کر رہا تھا جبکہ دائیں ہاتھ میں موجود کافی کے کپ سے سپ گاہے بگاہے لیتا اپنے کے ذہن سکون دینے کی کوشش کر رہا تھا”….
“جب سے وہ حویلی میں آیا تھا اس نے بہت کچھ بدلا پایا”…
“ماحول ، رشتے تقریباً سب ہی تو بدلتے ہوئے نظر آ رہے تھے ، سب کے رویے میں اسے کوئی راز دیکھائی دیتا تھا جو وہ اس سے چھپانا چا رہے تھے ، لیکن ایسی کیا بات ہو سکتی “..؟؟؟؟
“یہی سوچیں اسکے زہن کو اپنی ضد میں گھیرے ہوئے تھیں”…..
“لیکن ہوا کے سپرد ایک گہرا سانس کیے خود کو پر سکون کیا “….
“ساتھ ہی نظر ہاتھ میں موجود خالی کپ پر گئی تو اسے رکھنے کی نیت سے کیچن کا رخ کیا لیکن وہاں جا کر وہ ٹھٹھکا تھا کیونکہ معمول سے ہٹ کر وہاں پر بلب جل رہا “….
“شہیر دھیمے قدم بڑھتا آگے بڑھے تھا جہاں اسے کوئی نسوانی وجود کھڑا دیکھائی دیا ، چہرا سامنے ہونے کے باعث وہ اسکا چہرا دیکھ نہ پا رہا تھا “….
“کون ہو “….؟؟؟؟؟
“وہ سرد گھمبیر لہجے میں بولا تھا کہ سامنے کھڑا وجود لرز سا گیا تھا اور اسکے ہاتھ میں موجود شئے نیچے زمین بوس ہوئی”…..
“شہیر کا ہاتھ جیسے ہی مقابل کھڑی لڑکی کے کندھے سے ٹکرایا تھا ایک کرنٹ سا دوڑ گیا تھا دونوں کے وجود میں “….
“اس سے پہلے کے اس لڑکی کو پلٹ وہ اسکا چہرا دیکھ پاتا تب ہی اچانک لائٹ چلی گئی”…
“وہ آخری بلب بھی بند ہو گیا تھا “….
“اور اسی موقع کا فائدہ اٹھائے سحر نے اپنا وجود چھڑائے بھاگنے میں عافیت جانی”…..
“ہئے روکو”….
“شہیر چلایا تھا اسکو پکارتے ہوئے کیونکہ وہ آج کسی بھی حال میں اس لڑکی کو دیکھنا چاہتا تھا جس کی کشش پہلے ہی دن سے اسے اپنی جانب کھینچ رہی تھی ،”…
“جس کو حویلی والے اس سے چھپانے کی کوشش کر رہے تھے”..
“لیکن کیوں”…؟؟؟
“اس سوال کا جواب اس کے پاس موجود نہ تھا”…..
“شٹ”..
“پاس ٹائل پر اس نے غصے سے مکہ مارا تھا “…..
“یہ بجلی جو کبھی بند نہ ہوتی تھی وہ آج ہو گئی تھی وہ بھی ایک نازک موقعے پر ، جب ایک راز فاش ہونے والا تھا”…..
“شہیر لائٹ والوں کو برا بھلا کہتا واپس اپنے کمرے میں چلا گیا”….
“جب کہ اس کے جاتے ہی فریج کے پیچھے چھپی سحر دل پر ہاتھ رکھے اپنی پھولتی سانسوں کو ہموار کیے باہر آئی تھی”….
“یا اللہ تیرا شکر اگر بڑے سائیں کو معلوم ہو جاتا تو وہ مار ہی دیتے “….
“یہی سوچ آتے ہی اس نے دل سے سد شکر ادا کیا “….
©©©©
“جانم اتنی صبح صبح کہاں کی تیاری ہے”..؟؟؟
“وہ بھی شادی کے پہلے دن”..؟؟
“عروہ کو یوں نک سک سا تیار دیکھ احمر جانچتی ہوئی نظروں سے دیکھ بولا تھا” …
“آفس کی تیاری ہے میرے ماہان شوہر صاحب”…
“شیشے کی سامنے کھڑی وہ تیار ہوتے ہوئے بولی تھی “….
“نہیں کوئی ضرورت نہیں آفس جانے کی آج کا پورا دن تم میرے ساتھ گزارو گی”….
“احمر نے ہاتھ بڑھائے اسکو اپنی عور کھینچا تھا کہ وہ سیدھا اسکے سینے سے آن ٹکرائی کھلے بال اڑتے ہوئے اس کے چہرے پر پھیلے تھے”….
“کیا کر رہے ہو احمر”..؟؟
“میرا جانا ضروری ہے آفس ہے مزاق تھوڑی”….
“عروہ نے اسکو مصنوعی گھوری سے نوازتے ہوئے کہا تھا”….
“جاناں میں بھی تو یہی کہہ رہا ہوں”…
“پیار ہے مزاق تھوڑی “….
“اسلئے آج کے دن آفس بھول جاؤ”..
“گھمبیر لہجے میں بولتا وہ اپنا چہرا اس کی گرن میں چھپا گیا کہ وہ کسمسائی تھی”..
“اح۔۔”…
“شششش”….
“عروہ کے لبوں پر اپنی شہادت کی انگلی رکھے خاموش کروایا تھا اسے”…
“آج کچھ مت بولو پلیز”…
“آئے ونٹ ٹو فیل یو”……
“وہ دھیمے مگر بوجھل لہجے میں بولا تھا”….
“اور ساتھ ہی اسکو خود میں بھینچتے محسوس کیا تھا”…
“عروہ بھی آنکھیں بند کیے احمر کی محبت کو محسوس کر رہی تھی”…
“لیکن ان خاموش لمحات میں فون کی چنگھاڑتی آواز نے کسی دشمن کا سا کام کیا تھا”….
“احمر برا سا منہ بنائے پیچھے ہٹا تھا جبکہ عروہ نے اپنی ہنسی ضبط کی تھی”….
“ہیلو جی بابا سائیں”…
“ہیلو احمر کہاں ہو تم فوراً حویلی پہنچو”…
“دوسری جانب سے چوہدری وقاص کی کرخت آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی”…
“کیوں خیریت”..؟؟؟
“کسی تفتیش کے تحت بولا تھا وہ “…
“ہنہہ سب ٹھیک ہے بس تم پہنچو یہاں اور اپنی اس ونی لوگائی کو سنبھالو بہت اڑتی پھر رہی ہے ہوا میں ، شہیر بھی حویلی آیا ہوا ہے اسلئے کہہ رہا ہوں تم سے ، پہلی فرست میں سب چھوڑو اور یہاں حویلی میں پہنچو”….
“جبکہ چوہدری وقاص کی بات سن اسکے ماتھے پر بلوں کا اضافہ ہوا تھا جسے بغوبی عروہ نے بھی محسوس کیا”….
“ہمم بابا سائیں آپ فکر نہ کریں میں پہنچتا ہوں خدا حافظ”…
“عروہ کے سامنے وہ تفصیل میں بات نہیں کرنا چاہتا تھا تب ہی مختصراً کہتا فون کھٹاک سے بند کر گیا” …..
“کیا ہوا احمر سب ٹھیک تو ہے نہ ….”؟؟؟
“احمر کے چہرے یوں تنے نقوش دیکھ عروہ فکر مندی سے بولی تھی”….
“ہاں ڈارلنگ تم پریشان نہ ہو سب ٹھیک ہے “…
“بٹ ائی ایم سوری مجھے جلدی میں حویلی جانا ہے کیونکہ بابا سائیں نے بلایا ہے “….
“اسکے گالوں کو تھپکتا وہ آرام سے بولا تھا اور ساتھ ہی باہر جانے کے کئے قدم بڑھائے تھے لیکن عروہ کے ہاتھ میں قید اسکے ہاتھوں نے اسکے قدموں کو آگے بڑھنے سے روک دیا تھا “……
“آہاں “..!!!
“مجھے روک کر آپ یوں نہیں جا سکتے شوہر صاحب”….
“اس کے چہرے کو شہادت کی انگلی سے اوپر اٹھائے وہ آئبرو اچکائے بولی تھی کہ احمر مسکرا دیا تھا”…
“اور میں کیوں نہیں جا سکتا”…؟؟؟؟
“عروہ کے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لئے وہ آنکھیں ترچھی کیے بولا”….
“کیونکہ جب میں آفس نہیں جا سکتی تو یہ ضرور ہے کہ آپ بھی کہیں نہیں جائیں گے”….
“اسی کے انداز میں کہتی وہ نظریں گھما گئی تھی”…
“لیکن ڈارلنگ میں جا رہا ہوں روک سکتی ہو تو روک لو”۔
“اس کو ہلکا سا جھٹکا دیے وہ بولا تھا اور باہر کی جانب قدم بڑھائے “…
“پھر میں بھی آفس جا رہی ہوں”….
“عروہ نے پیچھے سے ہانک لگائی تھی لیکن احمر کی جانب سے ملنے والے جواب پر منہ بنا گئی تھی وہ”….
“اوکے”…..
“ہنہہ سیلف فیش”…
“منہ ہی منہ میں بڑبڑائی تھی وہ”…
“اور پھر تیار ہونے لگی”..
©©©©
“ماں “…
“ہو سکتا ہے کچھ دن میں میرا دوست یہاں گاؤں وزٹ کے لئے آئے”…
“ناشتہ کرتے شہیر نے میمونہ بیگم اور سکینہ بیگم سے کہا تھا”….
“جسے سن میمونہ بیگم نے تو اثبات میں سر ہلایا تھا”….
“ہہمم “…
“سکینہ بیگم کچھ سوچنے کے سے انداز میں بولی تھیں”..
“شہیر بیٹا “….
“انہوں نے بہت ہی احساس سے شہیر کو پکارا تھا ، لہجے سے ایسا لگتا تھا جیسے کسی ماضی کی سوچ میں ہوں”…..
“زندگی میں ایک چیز یاد رکھنا دوست دیکھ کر بنانا”…
“کیونکہ باعث دوست نظر تو اچھے آتے ہیں لیکن حقیقتاً وہ آستین کا سانپ ہوتے ہیں “….
“بلکہ سانپ بھی نہیں”….
“سکینہ بیگم تلخ سا ہنسی تھیں”….
“وہ بالکل اژدھا کی مانند ہوتے ہیں جو آپ کو بالکل نگل جاتے ہیں”….
“اس لئے اعتماد کرو ،لیکن اندھا اعتماد کسی پر نہ کرنا “…..
“وہ نہیں جانتی تھیں کہ وہ ایسا کیوں کہہ گئی ہیں ، شائد اس وقت ایسی بات کرنے کا کوئی تک بھی نہ بنتا تھا”…
“لیکن شائد وہ اپنے دل کے غبار کو نکالنا چاہتی تھیں تب ہی”….
“یہ تمام باتیں انہوں نے نورے بیگم کو اپنی نظروں کا مرکز بنائے کہا تھا جبکہ نورے بیگم آنکھیں گھما گئی تھیں”….
“ارے ماں آپ پریشان نہ ہوں ، میرا صرف ایک ہی دوست ہے اور وہ ہے فاتح ، کافی اچھا ہے آپ بے فکر ہو جائیں ان شاءاللہ اس سے مل کر آپ کو بہت اچھا لگے گا”….
“ان کی بات سنے وہ ہنستے ہوئے بولا تھا جبکہ دھیرج سے سکینہ بیگم بھی مسکرا دی تھیں”…
“لیکن ان کی اس ہنسی کے پیچھے چھپا وہ درد ، وہ مایوسی شہیر سمجھ نہ پایا تھا لیکن پاس بیٹھی ان کی بہن باخوبی محسوس کر سکتی تھی ، وہ انداز ، وہ لہجہ نورے بیگم محسوس کر سکتی تھیں ،
لیکن نورے بیگم نخوت بھری نظر ان دونوں پر ڈالے اٹھ کر جا چکی تھیں وہاں سے “…..
“سکینہ بیگم اٹھے کیچن میں آ گئی تھیں ،صرف ایک لفظ “دوست ” نے انہیں کہیں ماضی میں لا پٹخا تھا لیکن وہ ان سوچوں میں سوار ہوئے اپنے حال کو خراب نہیں کرنا چاہتی تھیں”….
“وہ اس بے اعتبار رشتے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتی تھیں”….
تیرے بن نہیں سکون زندگی میں کہیں
بھیگوں زرہ ہے دل بنجر میرا ۔۔۔۔۔
©©©
“احمر واپسی پر سیدھا چوہدری وقاص کے پاس گیا تھا جو کہ اس وقت چارپائی پر بیٹھے منشی سے حساب کتاب لے رہے تھے”….
“ہاں احمر پتر ادھر آ “…..
“انہوں نے منشی کو جانے کا حکم دیتے ہوئے احمر کو اپنے پاس بیٹھایا تھا”….
“جی بابا سائیں”…!!
“دیکھ احمر تیرا چاچا زاد بھائی شہیر بھی آیا ہے ، تو جانتا ہے وہ تجھ سے بڑا بھی ہے اور اسکی سوچ بھی ہم لوگوں سے قدرے مختلف ہے “….
“اسلئے بہتر ہو گا اس ۔۔۔۔۔ ونی کا زکر اس کے سامنے نہ چھیڑا جائے”…
“اس لڑکی تو سنبھالے رکھنا جب تک شہیر یہاں حویلی میں ہے …”
“بس کچھ بھی کرنا لیکن وہ لڑکی اسکی نظروں میں نہیں آنی چاہیے کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں شہیر کو ویسے بھی بہت گرمی چڑھی ہے “…
“وہ لڑکی میرے منا کرنے کے باوجود اس کے سامنے آنے کی کوشش کرتی ہے آخر ہے جو (…….) خاندان سے”….
“چوہدری وقاص نخوت بھرے انداز سے بولے تھے”…..
“ان کی بات سنیں احمر اپنی مٹھیاں بھینچ گیا تھا غصے میں”…
“آپ بے فکر ہو جائیں بابا سائیں ، اس سحر کو تو میں سیدھا کر لوں گا لیکن شہیر کو آپ سنبھال لینا”….
“وہ دونوں باپ بیٹے بیٹھے اپنا ہی فیصلہ کر رہے تھے”..
“اس بات سے انجان کے سچ آخر کب تک چھپتا ہے”…
“جیسے سمندر کبھی کبھی ساکن ہو جاتا ہے لیکن پھر”……
“ایک نا ایک دن حقیقت کا سمندر جوش میں آجاتا ہے اور جھوٹ کی دیواروں کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے”……
©©©
“سنیے گا”…
“پشمینہ کی سُریلی آواز ڈائنگ حال میں بیٹھے فاتح کے کانوں سے ٹکرائی تھی جو کہ سامنے لگی مووی سمیت بھاپ اڑاتی کافی کے مزے لے رہا تھا”….
“ہم سناؤ”….
“نظریں ہنوز ایل_ای_ڈی پر مرکوز کیے وہ مسرور سا بولا تھا”..
“پشمینہ نے ایک نظر مووی اور پھر فاتح کی جانب دیکھا جو کہ اس سے آج پھر بیگانگی اختیار کیے ہوئے تھا”….
“کچھ بولو گی بھی یا یوں ہی کھڑے رہنے کا ارادہ ہے”….
“پشمینہ کو یونہی منجمد دیکھ وہ کندھے اچکاتے ہوئے بولا تھا “…
“وہ ۔۔مجھے آپ کا موبائل چاہیے تھا”….
“صوفے کے دائیں جانب کھڑی ، ڈوپٹے کو ہاتھوں کو موڑتے تقریباً اسکی استری خراب کر گئی تھی ، چہرے پر چھائے کنفیوژن زدہ تاثرات کے ساتھ وہ سامنے موجود اپنے شوہر کے چہرے پر اتار چڑہاؤ سے اس کے موڈ کا اندازا لگا رہی تھی “…
“پشمینہ کے الجھن زدہ تاثرات اسکو کنفیوژ ظاہر کر رہے تھے ، جبکہ اسکی یہ کنفیوژن فاتح بھی محسوس کر چکا تھا”…
“کیوں… تمہارا فون کہاں ہے”..؟؟؟
“مووی کو پوز کرتا اب وہ پوری طرح اسکی جانب متوجہ ہوتے ہوئے بولا “…
“میرا موبائل کل صبح کام کرتے ہوئے ٹوٹ گیا تھا اور ابھی مجھے بابا اور مشل سے بات کرنی ہے”…
“کیا آپ میری بات کروا دیں گے”..؟؟
“وہ ایک ہی سانس میں اپنی بات بیان کر گئی تھی جبکہ پشمینہ کو یوں تیز روانی سے بولتا دیکھ فاتح آنکھیں آڑی کیے اسے دیکھ رہا تھا لبوں پہ ایک تبسم سا آن ٹھہرا تھا جسے دانتوں تلے وہ دبائے غائب کر گیا”….
“آں “..!!
“خیریت ویسے کیوں بات کرنی ہے”…؟؟؟
“دائیں آئیبرو اچکائے وہ تفتیش کن لہجے میں بولا تھا”….
“پشمینہ نے اپنی سنہری آنکھیں اٹھائے ناسمجھی سے اسکی جانب دیکھا جیسے کہنا چاہ رہی ہو کہ لو بھلا یہ کیسا سوال ہوا”….
“یہ کیسا سوال ہے فاتح ،”..؟؟؟
“میرا دل چاہ رہا ہے ان سے بات کرنے کو “…..
“اپنی حیرت پر قابو پائے وہ سرسراتے لہجے میں بولی تھی “….
“فاتح جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اپنی بیگم کی بات سنے اسے ہاتھ سے کھینچ اپنے پہلو میں بیٹھایا تھا “….
“ہاں تو ہماری بیوی نے کبھی تو دو گھڑی مجھ سے تو بات نہیں کی “….
“اس کے نازک وجود کو اپنے حلقے میں لئے وہ سامنے لگی مووی دوبارا اسٹارٹ کر چکا تھا “….
“آپ نے کبھی ایسا موقع ہی نہیں دیا اور نہ ایسا کوئی تعلق رکھا کہ میں آپ سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کرو”…
“آپ مجھے بتا دیں کہ آپ اپنا فون دے رہے ہیں یا نہیں”…..
“وہ بنا لحاظ کیے اپنی بات بیان کر گئی اور وہ سچ ہی تو کہہ رہی تھی اس نے ایسا موقع ہی کہاں دیا تھا یا ان کے درمیاں اس طرح کے تعلقات ہی نہ تھے کہ وہ اپنی خواہشات کو اس پر عیاں کرتی ،بلکہ اس نے تو پہلے ہی دن سے نا پسندگی کا ٹیگ اس پر لگایا ہوا تھا”…..
“پشمینہ کی بات سن وہ لب بھینچ گیا تھا اس نے کچھ نہ کہا تھا بلکہ خاموشی سے سامنے رکھا فون اٹھا کر اس کے حوالے کر دیا جسے تھام وہ بھی اٹھ کر سائڈ پر آ گئی”…..
خواہشیں یوں ہی برہنہ ہوں تو جل بجھتی ہیں
اپنی چاہت کو کبھی کوئی ارادہ پہنا
یار خوش ہیں کہ انہیں جامۂ احرام ملا
لوگ ہنستے ہیں کہ قامت سے زیادہ پہنا
“شام کا وقت تھا اس وقت حویلی کے تقریباً مرد کھیتوں میں گئے ہوئے تھے یہی وجہ تھی کہ سحر آرام سے اپنی پسندیدہ جگہ “حویلی کے باغیچے ” میں بیٹھی کہیں کھوئی ہوئی تھی لیکن صد افسوس”…!
“اسکا یہ سکون ذیادہ پل ٹک نہ سکا تھا “…
“کیونکہ نورے بیگم کی نظر اس پر پڑ چکی تھی اور انہیں کہاں گوارا تھا کہ سحر کی زندگی میں سکون آئے”…..
“تب ہی اسکے چند لمحے نصیب ہوئے سکون کو غارت کرنے کی نیت سے
وہ تن فن کرتی خاموش بیٹھی سحر کے سر پر آن کھڑی ہوئی تھیں”…..
“اے مہارانی تم یہاں آرام کرنے کے لئے اس حویلی میں نہیں لائی گئی ہو جو یہاں سکون فر ما رہی ہو”…
“چل اٹھ اور جا کر باڑے کی صفائی کر اور جانوروں کو کھانا پانی دے”….
“کلموہی “…
“ہڈرام نہ ہو تو”….
“اپنی اعلیٰ زبان کے جوہر دکھائے وہ سحر کو برا بھلا کہتیں نفرت بھرے القابات سے نواز رہی تھیں”..
“نورے بیگم کے یوں سر پر آ کھڑے ہونے سے سحر گھبرا کر کھڑی ہوئی تھی ۔ آج کافی دنوں بعد اسکا سامنا نورے بیگم سے ہوا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی تھی کیونکہ اس پوری حویلی میں اگر وہ کسی سے خوف کھاتی تھی تو وہ تھی نورے بیگم اور ان ہی کے نقشِ قدم پر چلنے والا ان کا بیٹا چوہدری احمر”…
“ہاں اس کا گھبرانا ، خوف کھانا بجا تھا کیونکہ ابھی تک جتنے زخم و تکالیف جو اسکو نصیب ہوئے تھے وہ ان ہی کی بدولت تو ہوئے تھے”….
“ایسے کھڑی کیا ہے …؟؟
سنائی نہیں دیا تجھے”….
“سحر کو سر جھکائے کھڑے دیکھ وہ نخوت سے بولی تھیں”….
“نورے بیگم کی جانب دیکھنے سے پرہیز کرتی سر جھکائے ہی اس نے اپنا رخ باڑے کی جانب کیا تھا “…
“جب کہ اس کو یوں جاتے دیکھ نورے بیگم کی آنکھیں کسی سوچ کے تحت چمکی تھیں اور ساتھ ہی ان کے لبوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ آ ٹھہری تھی “….
©©©
یار پیماں شکن آئے اگر اب کے تو اسے
کوئی زنجیر وفا اے شب وعدہ پہنا
“آہہہہ”…..
“اسٹڈی میں بیٹھا فاتح ہواس باختہ سا کمرے سے باہر بھاگتا ہوا سیٹنگ روم میں داخل ہوا”….
“جہاں اسکی نظر ماربل کے فرش پر گری پشمینہ پہ گئی تھی جو کہ اپنا پیر تھامے درد سے چلا رہی تھی”….
“وہ لمحوں میں اس تک پہنچا تھا”….
“کیا ہوا “…؟؟؟؟
“تم یہاں کیا کر رہی ہو”..؟؟؟
“م۔۔میں گر گئی “….
“میرے پاوں میں موچ آئی ہے”…..
“اپنے پاؤں کو تھامے وہ ضبط سے بولی تھی ، آنکھوں میں درد کے آثار صاف نظر آرہے تھے”….
“فاتح پشمینہ کو ناسمجھی سے دیکھ رہا تھا لیکن اس کی وہ کنفیوژن بھی دور ہو گئی تھی جیسے ہی اس کی نظر پشمینہ کے پیچھے رکھے اسٹول اور جھاڑو پر گئی”…
“او تو محترمہ اسپائیڈر مین بنی ، جالے اتارنے کی کوشش کر رہی تھیں”…
“وہ پاس رکھی اسٹول ، اور جھاڑو کو دیکھ پشمینہ کو مزاق بنا گیا تھا”….
“پلیز فاتح مزاق بند کریں ، مجھے درد ہو رہا ہے “…
“اب کے درد کے باعث اس کی آنکھوں میں آنسوں نمایاں ہونا شروع ہو گئے تھے”….
“فاتح مسکرا کر مخمور نگاہوں سے اس کے چہرے کا طواف کر رہا تھا اس کی نظر بار بار اسکے کپکپاتے لبوں پر بھٹک رہی تھی”…..
“سنیں “…..
وہ بے بس ہوتی نم آنکھوں سے اسکو جھنجھوڑ گئی تھی”..
فاتح نے دو قدم آگے آکر اسے وجود کو اپنے قریب کیا تھا “…..
“وہ پزل ہوتی پلکیں جھکا گئی تھی ، ایک تکلیف اوپر سے ظالم کی دل دھڑکا دینے والی نظریں”…..
“تمہارا یوں دیکھ کر پلکیں جھکا لینا لرزنا مجھے مسمرائز کرتا ہے ۔۔”
“وہ کہتے ہوئے مزید قریب آیا تھا پشمینہ ڈر کر پیچھے کو ہوئی “…
“فاتح نے اپنا ہاتھ آگے کیا تھا “….
نظریں جھکائے اس نے فاتح کا تھامتے اسکی چوڑی ہتھیلی پر اپنا نازک ہاتھ رکھا تھا اور اٹھنے کی کوشش کرنے لگی لیکن وہ واپس وہیں ڈھہ گئی”….
“ن۔۔نہیں اٹھا جا رہا “….
” لبوں کو بھینچتے ہوئے کہا تھا”….
“کچھ سوچ فاتح نے اثبات مین سر ہلایا اور اس کو کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیے بغیر ایک ہلکے سے جھٹکے سے اسے کھینچا تو وہ کٹی ڈور کی طرح اسکی بانہوں میں سما گئی “….
“پشمینہ اپنی دونوں آنکھیں زور سے میچ گئی تھی اسکے چوڑے سینے سے لگی کپکپا رہی تھی جبکہ فاتح اسکی محسور کن خوشبو سے بہک رہا تھا”۔۔۔
فاتح کی سانسیں پشمینہ کی سانسوں کو اپنے چہرے سے ٹکراتی محسوس ہوئی تو اسکا دل اتنی تیزی سے دھڑکنا شروع ہوا کہ فاتح صاف دھڑکنوں کو سن سکتا تھا”…
“فاتح اسے کمرے میں لایا تو وہ فوراً اس سے دور ہونے لگی لیکن جتنی ہی رفتار سے وہ فاتح سے دور ہوئی تھی اسی رفتار سے واپس اس کے پاس آئی “….
“کیونکہ پشمینہ کے گلے میں موجود لاکٹ فاتح کی شرٹ کے بٹن میں اٹک چکا تھا “…..
“دونوں کی نظریں پہلے لاکٹ پھر ایک دوسرے کی آنکھوں سے ٹکرائی تھیں اور یہی وہ لمحہ تھا جب دونوں کی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھیں”..
“لمحہ رک سا گیا تھا”…..
“شائد قسمت کو منظور نہ تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے دور جائیں لیکن یہ تو صرف تقدیر ہی جانتی ہے کہ کون کب تک کس کے ساتھ ہے”…
“فاتح اسکے مزید قریب آیا اور بہت احتیاط کے ساتھ اس چین کو اپنی شرٹ سے علیحدہ کیا اور جھک کر اسکے پاؤں کا معائنہ کرنے لگا جہاں سوجن واضح تھی”….
“پاس رکھی ڈرو میں سے ٹیوب نکال اسکے پاؤں پر لگانے لگا تھا لیکن پشمینہ نے روک دیا تھا اسے”….
“ن۔۔نہیں رہنے دیں میں کر لوں گی “….
“پشمینہ اپنا پاؤں پیچھے کرتے بولی تھی لیکن اسکی کوشش کو فاتح نے ناکام بنائے اس کا پاؤں اپنی گود میں رکھا اور آرام آرام سے اس کے پیر پر لگانے لگا تھا جس کے اس کو سکون مل رہا تھا “…..
“وہ بیڈ سے ٹیک لگائے آنکھیں موند گئی تھی “…..
آشناں پھر ہوں گے کیا اجنبی ستارے
کیا ملیں گے منزل سے راستے ہمارے
©©©
“تقریباً آدھے گھنٹے کی محنت کے بعد جا کر اس نے یہ باڑے کو تھوڑا ٹھیک کیا تھا کیونکہ یہاں جب وہ آئی تو ہر طرف چارا پانی وغیرہ ہی گرا پڑا ہوا تھا جسے دیکھ اسکا دم گھٹنے لگا تھا”….
“لیکن حادثاتی طور پر اس کو اپنا اس حویلی میں وہ پہلا دن یاد آیا”…
“جہاں اس کی ذات کو بھی انہیں جانوروں کی مانند سمجھتے ہوئے اسی باڑے میں رکھا گیا اور بلاجواز تشدد کیا گیا “…..
“جسے یاد کیے اس کے لبوں پر تلخ مسکان نمودار ہوئی لیکن تمام سوچیں کو جھٹکے وہ آگے بڑھی تھی “…
“جہاں باڑے میں موجود کچھ جانور بیٹھے تھے جبکہ باقی چارا کھاتے ہوئے چگالی کر رہے تھے وہ خاموشی سے ان معصوم بے زبانوں کو دیکھ رہی تھی ۔سحر کو خود کی ذات بھی ان کی مشابہ ہی لگی تھی کیونکہ نہ ہی یہ جانور اپنے حق کے لئے بول سکتے ہیں اور نہ وہ “….
“ان جانوروں سے جس کا دل چاہے وہ اپنی مرضی سے ان سے کام لیتا ہے”…
“ہاں بالکل ایسا ہی تو حال تھا اسکا “….
“جہاں اس کی ذات سے بھی مشینوں کی مانند کام لیا جارہا تھا”….
“آخری جھاڑو لگانے کے بعد اس نے تمام کوڑا ایک جگہ جمع کیے پاس رکھے کوڑے دان میں ڈالا تھا اور ساتھ ہی جانوروں کو کھانا ڈالنے لگی “…
“کھانے ڈالنے کے بعد اس نے باہر جانے کے لئے قدم بڑھائے لیکن دروازے پر منجمد کھڑے اس شخص کو دیکھ سحر کے قدم تھمے تھے”…
“جو آنکھوں میں شیطانیت لئے ،لبوں پر عجیب مسکان سجائے اسی کو دیکھ رہا تھا”…
“س۔۔سائڈ پر ہوں مجھے ج۔۔جانا ہے”….
“سر جھکائے وہ کھڑی سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھ بولی تھی”…
“ارے دل ربا اتنی کیا جلدی ہے جانے کی کچھ وقت ہمارے نام بھی کر دو آخر ہم بھی اسی حویلی کے پرانے رہنے والے ہیں”….
“کچھ لمحے ہمارے نا۔۔۔۔۔۔۔
“وہ شخص سحر کی کلائی کو گرفت میں لیتے بول رہا تھا لیکن سحر کے ہاتھ سے پڑنے والے تمانچہ نے اس کے باقی کے الفاظ کہیں گم کر دیے “…
“سالی (……..)…..
مجھے تھپڑ مارے گی “…..؟؟؟؟
“اس لڑکے نے اپنے سرخ ہوتے گال پر ہاتھ رکھے سحر کو زمین پر دھکا دیا تھا”….
“ابھی بتاتا ہوں تجھے”…..
“کہتے اس نے سحر کے گالوں کو تھپڑوں سے سجا دیا تھا”….
“تم یہاں کی مالکن نہیں ہو ، جس نے مجھے مارا تو برداشت کر جاوں گا۔ ونی ہو تم ہمارے مالکوں کا بچایا ہوا کھانا ، جو بعد میں ہمارے کام آتا ہے ، ہماری بھوک مٹاتا ہے”….
“وہ آنکھوں میں ہوس ، چہرے پر شیطانیت لئے سامنے سحر سے مخاطب تھا جو کہ خود کو اس سے بچانے کی کوشش کر رہی تھی”….
“چ۔چھوڑو م۔۔مجھے”….
“ا۔۔احمر “….
“آ۔۔آنٹی “……
“وہ اپنی مدد کے لئے سب کو پکار رہی تھی ، جبکہ اس کو یوں چلاتے دیکھ وہ شخص قہقے لگا گیا تھا “۔۔۔
“یہاں کوئی نہیں آنے والا “..
“کیونکہ کسی کو یہاں کسی سے سروکار نہیں ، خاص کر ہم سے کہ ہم تم جیسوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں “…
“مزاق اڑانے کے انداز میں کہتا اسکی جانب بڑھا تھا”..
“اس سے پہلے کے وہ اپنی سوچ پر عمل کرتا کسی نے اسے گردن سے دبوچ سائڈ پر کیا تھا “….
“اور بنا دیکھے اندھا دھن مارنا شروع کر دیا تھا”…..
“ص۔۔۔ص۔۔۔صاح۔۔صاحب جی “….
“وہ شخص سامنے کھڑے شہیر کو دیکھ گڑبڑا گیا تھا “….
“یہ کیا بے غیرتی کر رہے تھے اس دن کے لئے تم لوگوں کو یہاں کام دیتے ہیں ہمارے ہی خاندان کا نام بدنام کرو”…
” شہیر جو کسی کام سے چوہدری وقاص لوگوں سے پہلے ہی حویلی آ گیا تھا لیکن یہاں باڑے سے آتی نسوانی چیخوں کی آواز پر فوراً بھاگنے کے سے انداز میں یہاں آیا تھا لیکن آگے کا منظر دیکھ اس کے ماتھے پر شکنوں کا اضافہ ہوا تھا “…
“لیکن اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی تھی سامنے موجود اس صنفِ نازک کو دیکھ جو کہ خوف سے آنکھیں موندے اب بھی پہلی کی سی پوزیشن میں تھی “….
“اس ماہ وش کو دیکھ شہیر کو یقین نہ آیا تھا کیونکہ وہ جس حالت میں تھی وہ اس کے لئے ناقابلِ قبول تھی”….
“اگر وہ یہاں وقت پر نہ آتا تو ، اسی کے گھر میں اس معصوم پری کی عزت نیلام ہو جاتی “….
“یہی سوچتے اس کے لب بھینچ گئے تھے ، آنکھوں میں سرخی سی گھل گئی تھی ، شدید ضبط کے باعث کنپٹی کی نسیں ابھر گئی تھی”…
“شہیر نے نفی میں سر ہلاتے ہوتی قوت سے اس شخص پر وار کرنے شروع کر دیے تھے”….
“ہاؤ ڈئر یو ٹچ ہر (……..)
“شہیر اس لمحے شدید غصے میں لگ رہا تھا “…..
“جیسے سب کچھ تہس نہس کرنے کا ارادہ رکھتا ہو ،”…
“شور سن حویلی کے تمام اراکین وہاں جمع ہو چکے تھے”…
“سکینہ بیگم دوڑتی ہوئی وہاں آئی تھیں لیکن سب کو ہی سانپ سونگ گیا وہاں کا منظر دیکھ”…..
“نورے بیگم کا چہرا لٹھے کی مانند سفید ہوا پڑا تھا جبکہ چوہدری وقاص تو اپنی جگہ ہی منجمد ہو گئے تھے سحر کو شہیر کے سامنے موجود پا کر “…..
“ش۔۔۔شہیر چھوڑو ب۔۔بیٹا “….
“میمونہ بیگم نے شہیر کو قابو کرنا چاہا تھا”…
“چھوڑیں ماں ، میں اس (…..) کو نہیں چھوڑوں گا اس کی ہمت کیسے ہوئی اس لڑکی کی اس عزت پر ہاتھ ڈالنے کی”….
“وہ کرخت لہجے میں کہتا پھر اسکی جانب لپکنے لگا تھا کہ وہ شخص چوہدری وقاص کے پاؤں میں گڑگڑایا تھا”…
“ن۔۔۔نہیں ص۔۔صاحب م۔۔میری کوئی غ۔۔غلطی نہیں اس۔۔۔اس لڑکی نے خ۔۔خود م۔۔مجھے “….
“وہ چوہدری وقاص کے پاؤں میں بیٹھا گڑگڑاتے ہوئے تمام الزامات سحر کے سر ڈال گیا یہ جانے بغیر اسکا یہ جھوٹ کسی معصوم کے لئے وبالِ جان بن سکتا ہے”…
“اس کی بات سن احمر نے کٹیلی نگاہوں سے سحر کی جانب دیکھا تھا جو کہ احمر کی غصیلی نظریں خود پر پا کر لرز سی گئی تھی “….
“ن۔۔نہیں ۔۔۔ا۔۔۔ا۔۔احمر وہ ۔۔ج۔۔
“وہ نفی میں سر ہلائے پیچھے کی جانب کھسکی تھی جبکہ احمر لمحوں میں فاصلہ طے کرتا اسکا ہاتھ تھام اندر حویلی کی جانب بڑھا تھا”….
“اب تم اسے کہاں لے جا رہے ہو”….؟؟؟؟؟
“سحر کا ہاتھ احمر کے ہاتھ میں دیکھ وہ تقریباً تپ کر بولا تھا”…..
“وہیں جہاں ایک بیوی کو لے جایا جاتا ہے”.. ۔
“تمسخر لہجے میں کہتا وہ تو جا چکا تھا جبکہ شہیر نے نا سمجھی کے عالم میں وہاں سب کی جانب دیکھا”….
“جیسے جاننا چا رہا ہو کہ یہ سب کیا ہے”……..
“ہاں بیٹا ! احمر کا نکاح ہو گیا ہے اس کی پسند سے “…….
“اس کی استہفامیہ نظروں کو محسوس کیے وہ اپنا لہجہ مضبوط کئے مسکراتے ہوئے بولے جیسے معاملے کی نزدیکی کو سنبھالنا چا رہے ہوں”…
“چوہدری وقاص کی بات سن شہیر کو ایسا لگا جیسے پورے حویلی کی چھت اس کے سر پر آ گری ہو”….
“اسے یقین نہیں آ رہا تھا “…
“جس پری کو وہ در بدر ڈھونڈتا رہا وہ یہاں ہے “…..
“اور اسکی بھابھی کے روپ میں”….
“سوچتے اس کا دل پھٹنے کے قریب تھے”….
“وہاں موجود سب لوگ نظریں چرائے جا چکے تھے “….
“وہ شخص بھی اپنی جان بچائے بھاگ نکلا”…
“وہاں کوئی تنہاہ موجود تھا تو وہ خود تھا”…..
یہ دل تنہاہ کیوں رہے کیوں ہم ٹکڑوں میں جئیں
کیوں روح میری یہ سہے”..؟؟؟
©©©
“زیشان یہ چوڑیاں کتنی پیاری ہیں”…؟؟
“لے لیں کیا”..؟؟
“پندرہ سالہ سحر نے گولا گنڈے کھاتے ہوئے زیشان سے کہا تھا جو کہ اپنے ہاتھوں میں موجود مکئی کے دانوں کو آرام آرام سے کھا رہا تھا”…
“وہ دونوں آج گاؤں میں لگا میلا گھومنے آئے تھے”….
“تقریباً میلے کی سیر کرنے کے بعد ان نے اپنی اپنی پسندیدہ چیزیں لیے کھانا شروع کیا , انہیں ابھی چلتے دس منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ سحر کی نظریں چوڑیوں کے اسٹال پر گئی تبھی خود پر قابو نہ پاتے ہوئے وہ زیشان سے بولی تھی جو کہ سحر کی چمکتی ہوئی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا “…
“بھائی یہ والی چوڑیاں دیکھائیں “….
“وہ زیشان سے پہلے ہی اسٹال پر پہنچ چکی تھی اور دکاندار سے مخاطب ہوئی”….
“سحر”…
“چھوڑو یار بعد میں لے لینا”…
“زیشان چوڑیوں کو ٹٹلوتی سحر کو دیکھ آرام سے بولا تھا جو لاپرواہ سی کھڑی اپنی مشق جاری رکھے ہوئے تھی “….
“اماں نے ڈانٹنا ہے ، بس کر دو ، ویسے ہی ہم اتنے پیسے خرچ کر چکے ہیں”….
“زیشان کچھ پریشان لہجے میں بولا تھا”…
“او ہو تم تائی جان کی فکر نہ کرو”..
“ان کو میں سنبھال لوں گی ، تھوڑی سی چوڑیاں ان کے لئے بھی لے جاوں گی تو خوش ہو جائیں گی”…
“اب یہ بتائیں کیسی لگ رہی ہیں”….؟؟؟
“وہ پرواہ سی اپنے دونوں ہاتھوں میں پہنی چوڑیاں کھنکھناتی بولی”…
“سحر”…..
“زیشان نے کچھ مصنوعی غصے سے پکارا تھا “…
“جب کے سحر نے جواباً مسکرا کر اسکو دیکھا جسے دیکھ وہ بھی ہنس دیا تھا “…..
تیری چوڑیوں کی وہ کھنک یادوں کے کمرے میں گونجے ہیں
سن کر اسے آتا ہے یاد ہاتھوں میں میرے زنجیریں ہیں
“الارم کی چنگھاڑتی آواز نے اسے ماضی کی یادوں سے سیدھا حال میں لا پٹخا تھا کہ وہ فوراً بیدار ہوا”….
“آج بھی وہ اسکی کھلکھلاہٹیں ، ان چوڑیوں کی کھنک اپنے پاس محسوس کر رہا تھا لیکن افسوس وہ اس کے پاس نہ تھیں”…
“وہ زیشان کی پہنچ سے بہت دور جا چکی تھی”…
“ہاں اس کے ہی ایک جذباتی فیصلے نے اُس کو زیشان سے کوسوں دور کر دیا تھا بلکہ مقابل لڑکی کے جذبات ، اسکی وہ ہنسی ، کھلکھلاہٹیں بھی چھین چکا تھا لیکن اب وہ صرف ماضی کو سوچتے پچھتانے کے علاوہ کچھ نہ کر سکتا تھا”….
©©©
“ا۔۔۔احمر چھوڑیں م۔۔میری کوئی غ۔۔۔غلطی ن۔۔نہیں”…
“چ۔۔چھوڑ۔۔۔چھوڑیں ۔۔۔مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“وہ۔۔۔ج۔۔جھوٹ ۔۔بول رہا ۔۔۔تھا”…..
“…م۔۔میں۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا”….
“کچھ نہیں کیا”……
“احمر اسے کھینچنے کے سے انداز میں کمرے لایا تھا جبکہ سحر اس کی سخت گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتی بولی تھی”….
” کیا بکواس کر رہی ہوں “…؟؟؟؟
“اگر تمہاری غلطی نہیں تو وہاں کیا کر رہی تھی بابا سائیں نے منع کیا تھا نا تمہیں یہاں سے نکلنے سے”….
“پھر کیا کر رہی تھی وہاں” ۔۔۔
“وہ دھاڑنے کے انداز میں بولا تھا “……
“و۔۔وہ ن۔۔نورے آنٹی ن۔۔۔”….
“شٹ اپ “….
“بند کرو اپنی بکواس “…
“اپنی اس بد زبان سے میری ماں کا نام مت لو”…..
“غصیلے لہجے میں دھاڑتے احمر نے اسکے بالوں کو اپنی آہنی گرفت میں لیا کہ درد سے وہ سسک اٹھی تھی”….
“آنسوں آنکھوں کی باڑیں توڑیں باہر آنے کو بے تاب تھے”…..
“تم بد اخلاق لڑکی “…..
“میں اچھے سے جانتا ہوں تم جیسوں کو جن کا کوئی زرف کوئی دین نہیں ہوتا “….
“احمر کی بات سن اسکی نے بھیگی نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا تھا جس میں درد ہی درد تھا”…..
“بہت بے تاب ہو رہی ہو ، ہماری حویلی کا نام خراب کرنے جا رہی تھی”…
“آج تمہاری تمام چاہتیں ، وہ سب حسرتیں پوری کر دوں گا کہ کسی غیر کے پاس جانے کا سوچو گی نہیں”……
“ہاتھوں میں پہنی گھڑی اتار زمین پر پھینکی تھی جب کہ سحر کو بیڈ کی جانب دھکا دیا تھا “…..
“خ۔۔خدا کے لئے بخش دیں مجھے م۔۔میری کوئی غلطی نہیں ہے”..
“وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اس کے سامنے جوڑتے ہوئے بولی “…
“ا۔۔۔احمر ۔۔۔چ۔۔چھوڑ دیں خدا کا واسطہ مت کریں یہ سب”…..
“چٹاخ”……
“چٹاخ”…..
“بکواس بند رکھو اپنی “……
“نہیں تو جان لے لوں گا”…..
“اسکا منہ دبوچے وہ تقریباً غرانے کے انداز میں بولا “…..
وہ پھڑپھڑا رہی تھی اسکی سخت گرفت میں”…..
“لیکن مقابل کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا “…
“نہ اسکے آنسوں سے “…
“نہ اسکی مزاحمت سے”….
“اور نہ بھی اسکی التجاؤں سے”…..
“باہر پھیلتی رات کی سیاحی کے ساتھ وہ کمرا بھی سیاہی میں ڈوبتا چلا گیا جبکہ کسی معصوم کی دبی دبی سسکیاں وہاں گونج رہی تھیں”….
دستک بنا آئے غم بھی عجیب ہے
جانتے نہیں ہیں ان کو پھر بھی کیوں نصیب ہیں……
©©©
“بیگم صاحبہ آپ نے کہا تھا کہ وہاں کوئی نہیں آئے گا”…
“لیکن سب ہی حویلی والے جمع ہو گئے”….
“وہ شخص اپنے سوجے ہوئے منہ کے ساتھ نورے بیگم سے مخاطب ہوا تھا “۔۔۔۔
“ہاں تو مجھے کیا معلوم تھا یہ سب اتنی جلدی آ جائیں گے”…..
“نورے بیگم نخوت سے سوچتے بولی “….
“آپ نے اچھا نہیں کیا ، اپنے ہی بھتیجے سے پٹوا کر , اتنا گندہ مارا ہے کہ صحیح سے بولا بھی نہیں جا رہا “…
“تو غلطی بھی تمہاری ہے ، باتیں کرنے سے بہتر کام کرتے اور بھاگ جاتے مگر نہیں تمہیں تو ہیرو بننے کا شوق تھا”…
“نورے بیگم نے سر جھٹکا تھا “….
“ہاں ، کام کرتا اور سیدھا اوپر پہنچ جاتا نا”….
“ابھی صرف ۔۔سو۔۔سوچا ہی تھا صاحب نے یہ حال کر دیا اگر عمل کر دیتا تو آج یہاں موجود نہ ہوتا”….
“بے غیرت اس کملوہی کی قسمت اچھی ہے جو ہر بار بچ جاتی ہے”…
“لیکن کب تک “..؟؟؟
“اگلی دفع نہیں چھوڑوں گی اسے “….
“چل اب تم بھی جاو یہاں سے کسی نے دیکھ لیا تو اچھا نہیں ہو گا”. ..
“آس پاس نظریں دوڑائیں نورے بیگم کچھ سوچتے ہوئے بولیں”….
“بیگم صاحبہ”….
“کچھ پیسے اور دے دو “…
“علاج ہی کروا لوں گا اپنا “….
“ہماری وہاں تک بات ہوئی تھی مار کھانے کی نہیں”….
“وہ اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے شیطانیت سے بولا تھا کہ نورے بیگم نے نفی میں سر ہلائے ہاتھ میں موجود کچھ مزید نوٹ اسکی جانب بڑھائے اور وہاں سے چل دیں ، جبکہ وہ شخص بھی نظریں بچاتا جا چکا تھا”….
