Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 13

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj

سن کے فسانہ میرا اتنی ہے روئی وفا

دریا بھی تھوڑا لگے جتنی ہے روئی وفا

“احمر چوہدری آپ کو غرور ہے نا خود پر آج میں آپ کو ایک دعا دیتی ہوں کہ خدا آپ جیسے پتھر دل انسان کو کبھی اولاد نہ عطا فرمائے “

یہ دعا ہے میری اس رب سے ، اس پاک ذات سے جو انصاف کرنا جانتا ہے ، اور یہی میرا انصاف ہے کہ وہ آپ کو بے اولاد رکھے “

وہ آنکھوں میں وحشت و نفرت لئے اسے دیکھ رہی تھی ساتھ ہی اپنے بالوں کو ہاتھوں میں دبوچا گویا خود پر ضبط کرنا چاہا ہو جبکہ وہ اپنے لفظوں سے احمر پر گہرے وار کر گئی تھی احمر کا دل چاہا اس لڑکی کی چلتی زبان گدی سے کھینچ لے یا پھر اس کی ان چلتی سانسوں کو ابدلآباد کے لئے بند کر ڈالے وہ ایسا کر بھی گزرتا لیکن ان کی توجہ کمرے میں داخل ہوتے شہیر نے اپنی جانب مبذول کروائی ۔ جو غصے سے بھپراہ ہوا احمر کی جانب بڑھا ۔

©©©

شہیر زمینوں پر جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا تبھی اسکے پاس کال آئی مقابل نے ناجانے کیا کہا تھا کہ وہ سکتے کی سی کیفیت میں آ گیا اور بنا اپنی تیاری کا جائزہ لئے سب کو نظر انداز کرتا رش ڈرائیونگ کئے ہسپتال پہنچا تھا ۔

“تمہیں زرہ برابر شرم نہ آئی یہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے دل نہ کانپا تمہارا “..؟؟؟

احمر چوہدری کے گریبان کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھامتے وہ غصے سے غرایا جبکہ احمر نے کھا جانے والی نظروں سے شہیر کو گھورا تھا ۔

“شہیر کالر چھوڑ دو میرا “

وہ سکون کے عالم میں گویا ہوا لیکن چہرے پر چھائی سرد مہری کسی کو بھی خوف میں مبتلا کر سکتی تھی لیکن سامنے بھی شہیر چوہدری تھا جس نے ڈرنا نہیں سیکھا تھا ۔

“احمر کیا ہو گیا ہے تمہیں ، تمہاری وہ تعلیم و تربیت سب رائیگاں جا رہی ہے ، کیا فائدہ اتنا تعلیم یافتہ ہونے کا جب تمہارے اندر انسانیت ہی مر گئی ہو ۔۔۔

“کون ہے وہ شخص جو اپنی ہی اولاد کو ختم کرتا ہے “…؟؟؟

اس معصوم کا نہ صحیح کم از کم اپنے خون کا ہی احساس کر لیا ہوتا مگر نہیں تم تو وہ سانپ ثابت ہوئے جو اپنی ہی اولاد کو نگل جاتا ہے “

شہیر کسی بھپرے ہوئے شیر کی مانند چلا رہا تھا اس کا دماغ ماؤف ہو چکا تھا جب فون پر اس کو یہ اطلاع دی گئی کہ “آپ کے بھائی نے اپنی بیوی کا ابارشن کروایا ہے “

“بہت زیادہ ہمدردی ہو رہی ہے اس سے “۔۔۔؟؟؟

احمر خاموش تھا کب سے لیکن جب بولا تو زہر ہی بولا۔۔۔

شہیر کا من چاہا اس کو زندہ زمین میں دفن کر ڈالے ۔

“مجھے ہمدردی اس سے نہیں ، ہمدردی تجھ سے ہو رہی ہے ۔

ہنہہ “…

احمر نے سر جھٹکا تھا ۔

“تمہیں اتنا افسوس کیوں ہو رہا ہے ، تمہاری اولاد کو ختم کروایا ہے یا پھر سچ میں یہ تمہاری ہی اولاد تھی “…؟؟؟

لبوں پر شیطانی مسکان سجائے وہ تمام لحاظ بلائے طاق رکھے سنجیدگی سے گویا ہوا تو اسکی بات سن سحر کا دل چاہا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے جبکہ شہیر کی آنکھوں کے ڈورے لال انگارا ہونے لگی ، رگیں تن سی گئی تھیں لیکن وہ خود پر ضبط کر گیا ۔ ہسپتال میں تھے وہ لوگ تب ہی شہیر کوئی تماشا نہیں چاہتا تھا وہاں تب ہی خود پر ضبط کے کئی پہرے بیٹھائے رکھے۔

افسوس ہے تم پر احمر ، تو جانتا ہے مجھے ترس آرہا ہے تمہارے پر کیونکہ جان بوجھ کر بہت بڑی غلطی کر گزرے ہو تم ، جس کا دکھ و پچھتاوا پوری زندگی تمہیں جینے نہیں دے گا ۔

“شٹ اپ ، کب سے تمہاری بکواس سن رہا ہوں اپنے یہ درس اپنے پاس رکھو مجھ پر مت جھاڑو کیونکہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑنے والا اسلئے بہتر ہو گا اپنے کام سے کام رکھو “

انگلی اٹھائے اسے وارن کرنے کے سے انداز میں بولا تھا اور وہاں سے چل دیا ۔

زندگی یوں جینا پڑے گی

بن کے آنسوں دل پہ گرے گی

شہیر نے اپنی نگاہیں اس دلربا کے وجود پر مرکوز کیں جو کہ سر گھٹنوں میں گرائے رونے میں مصروف تھی ۔ اس نے کبھی خیال میں بھی نہ سوچا تھا اپنی پری کو اس حال میں دیکھے گا اسکی اجڑی حالت کتنے ہی خنجر چلا گئی تھی شہیر کے دل پر ، اسکا دل چاہا وہ اس کے تمام آنسوں چن لے ، اس کے تمام درد خود میں سمو لے لیکن وہ چاہ کر بھی ایسا نہیں کر سکتا تھا تب ہی ایک سرد آہ خارج کیے باہر کی جانب ہو لیا۔

وہ روم سے نکلتا سیدھا ریسیپشن پر آیا اور سحر کے ڈیسچارج ہونے کے بارے میں معلومات لیں “ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ سےر کو رول کے مطابق دو دن مزید ہسپتال میں رہنا ہو گا دوسری چیز وہ بہت ذیادہ کمزوری کا شکار ہے تب ہی طاقت کی ڈریپ کی اسے اشد ضرورت ہے ۔ لیکن اس نے ڈاکٹر سے درخواست کی کہ وہ اسے چھٹی دے دیں بے شک رول توڑے جانے پر وہ اس سے پیسے لے لیں لیکن اس کو چھٹی دے دیں۔

کیونکہ وہ اسے احمر کے پاس تنہاہ چھوڑنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا تب ہی بے چین سا ہو رہا تھا وہ ، وہاں کا عملہ عجیب پریشان ہوئی مطلب ایک بھائی زبردستی داخل کرواتا ہے اور دوسرا ڈیسچارج۔

وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے بالآخر انہوں نے سخت ہدایت کے ساتھ سحر کو ڈیسچارج کر دیا ۔

©©©

وہ اس وقت شہر کے مہنگے ترین بار میں موجود حرام مشروب کے گہرے گہرے سیپ لے رہا تھا ساتھ ہی سگار جلائے اپنے اندر کی طلب و وحشت کو بجھانے کی کوشش میں تھا جو کہ گزرتے وقت کے ساتھ مزید بڑھ رہی تھی۔

بار میں چلتا ہلکا ہلکا ڈسکو میوزک ، اور جگمگاتی بتیاں اس وقت چوہدری احمر کو سخت زہر معلوم ہو رہی تھیں اس کا دماغ شہیر کی کی گئی باتوں کو سوچ سوچ کر درد سے پھٹا جا رہا تھا رگیں ابھرنے لگی تھیں کہ غصے کی شدت میں آ کر اس نے ہاتھوں میں موجود گلاس اٹھا کر زمین پر پٹخا جو کہ بار میں چلتے میوزک میں کہیں دب سا گیا تھا ۔

How dare them , …….

وہ دونوں ۔۔۔ مجھے بددعا دیں گے چوہدری احمر کو ، ۔۔۔

جان لے لوں گا ان کی ۔۔

خود سے بڑبڑائے وہ لڑکھڑاتے قدموں سے باہر گاڑی کی جانب بڑھا تھا اور بمشکل ڈرائیو کرتے ہسپتال پہنچا جہاں اسکا غصہ مزید سوا نیزے پر پہنچا تھا جب یہ خبر اس پر اشکار ہوئی کہ شہیر پہلے ہی سحر کو ڈیسچارج کروا کر لے جا چکا ہے۔ وہ ہوش میں نہ تھا تب ہی تمام تر غصہ وہاں کے اسٹاف پر اتار آیا جبکہ سب لوگ ہی شاک تھے اس ہنگامے پر گارڈز نے بمشکل ہی اسکو باہر نکالا ۔

©©©

ان کی گاڑی اس وقت جنگلات کے بیچ کے راستے کو عبور کرتی اپنی منزل کی جانب رواں تھی ۔گاڑی میں بالکل خاموشی چھائی ہوئی تھی آواز تھی تو صرف دو نفوس کی سانسوں کی ۔

روکھے روکھے سے لمحے آوارہ پن کا صلہ

سوکھے سوکھے سے رشتے بھیگا بھیگا گیلا

شہیر نے نوٹ کیا وہ خاموش سی کسی گہری سوچ میں محو آسمان کی جانب دیکھ رہی تھی بہت غور کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ رو رہی ہے ہاں وہ خاموش آنسوں بہانے میں مصروف تھی جس کا اندازہ اسکی تیز چلتی سانسوں کی آواز سے ہوا شہیر نے بنا اسکی جانب دیکھے ہاتھ آگے بڑھاتے ٹشو تھمایا تھا. اس نے نا سمجھی کے عالم میں شہیر کی عور دیکھا جیسے تائید چاہ رہی ہو ۔

شہیر نے اشارہ کیا تھا اسکے بہتے آنسوں کی جانب جو کہ مسلسل بہہ رہے شائد ان پر اب اسکا اختیار بھی نہ رہا تھا کہ انہیں روک سکتی ۔

وہ تلخ سا ہنسی تھی شہیر کے اشارے پر ۔۔۔

“اس سے ظاہری آنسوں تو صاف ہو سکتے ہیں مگر ان آنسوں کا کیا ؟ جو میری روح میں بسے ہیں وہ تو کبھی نہیں مٹ سکتے “

اسکی آنکھوں میں دیکھ وہ ٹرانس سی کیفیت میں بولی ۔

“ان ظاہری آنسوں کو ختم کرو روح میں بسے خود با خود ختم ہو جائیں گے باقی جو ہو چکا اسے بھول جاؤ ، کیونکہ اب کچھ بدلہ تو نہیں جا سکتا “

وہ سحر کو سمجھا رہا تھا ، اس لڑکی کے آنسوں مقابل کے دل پر گر رہے تھے وہ اسے مضبوط کرنا چاہتا تھا ۔

“کسی بہت اپنے کو کھونے کی تکلیف و تڑپ کیا ہوتی ہے جسے آپ نے صرف تصویر ہی کیا ہو جس کے آنے کی آپ کو امید ہو لیکن وہ آپ کو نہ ملے یا ملنے سے پہلے ہی چھین لیا جائے “

اس تڑپ کا اندازہ آپ نہیں لگا سکتے ۔

اس درد کو محسوس نہیں کر سکتے جو میں کر رہی ہوں۔

سحر کی بات سن اس کے لبوں پر تلخ ہنسی آئی تھی ۔

ہنہہ۔۔ واقعی میں تو بالکل اس احساس سے نا آشناں ہوں میں یہ احساس کبھی محسوس نہیں کر سکتا ۔ کیونکہ میں نے تو کبھی کسی اپنے کو کھویا ہی نہیں۔

سحر کے وجود سے نظریں چراتا وہ گاڑی سے باہر نکل آیا تھا کیونکہ بیچ راستے میں ہی گاڑی نے مزید چلنے سے انکار کر دیا۔

“ی۔۔یہ گ۔۔گاڑی ک۔۔کیوں بند ہو گئی “..؟؟

پ۔۔پلیز ا۔۔اس کو جلدی ٹھیک کریں م۔۔مجھے گھر جانا و۔۔ورنہ ا۔۔احمر مار ڈالیں گے و۔۔وہ واقعی پاگل ہیں پلیز ۔۔

“ایک تو میں۔۔آ۔۔۔آپ کے ساتھ آ گئی اگر دیر ہوئی تو وہ ز۔۔زندہ نہیں چھوڑیں گے “

گاڑی کو بیچ راستے میں بند ہوتا دیکھ وہ واقعی گھبرا چکی تھی یا احمر کی وحشت و خوف اس کے روگ و پے سما گئی تھی تب ہی وہ گھبراتے ہوئے بولی جبکہ اسکا خوف و ڈر دیکھ شہیر کو افسوس ہونے لگا اس معصوم کے لئے اس نے کیا سپنے سجائے تھے اور آج وہ کس حال میں تھی ۔

“سحر ریلیکس !!

کچھ نہیں ہوتا . میں ہوں تمہارے ساتھ کوئی کچھ نہیں کہے گا ریلیکس ہو جاؤ گاڑی خراب ہو گئی ہے ۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔

ابھی ٹھیک ہوتی ہے تو گھر پہنچ جائیں گے ۔

“اسکو جھنجھوڑتے ہوئے ہوش میں لایا تھا وہ “…

سائڈ پر ہوئے وہ پھر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی جبکہ شہیر اپنا سر تھام گیا ۔

وہ حویلی پر کال ملانے کی کوشش کر رہا تھا مگر یہاں سگنل نہیں آ رہے تھے غصے میں آ کر اس نے گاڑی کے بونٹ پر شدت سے مکا مارا ۔

یہ بات تو واضح تھی کہ آج رات انہیں وہیں جنگل میں گزارنی تھی البتہ سورج نکلتے ہی ہوسکتا ہے کہ انہیں کوئی مکینک مل جائے یا پھر لفٹ۔۔

©©©

صبح ہوتے ہی وہ حویلی پہنچے تھے کسی سے لفٹ لے کر وہاں کے تمام اراکین کو سانپ سا سونگ گیا تھا ان دونوں کو ساتھ دیکھ۔

احمر جو کب سے ہاتھ میں جلتی سیگریٹ کی مانند سلگ رہا تھا لمحوں کے ہزارویں حصے میں سحر تک پہنچا اور بنا کسی کو سمجھنے کا موقع دیے تھپڑ مارنے کے ہاتھ اٹھایا ۔

لیکن اسکا ہاتھ وہیں ہوا میں محلق رہ گیا ، کیونکہ اس کا بڑھتا ہاتھ شہیر بیچ میں روک گیا تھا۔

“جب خدا نے زبان دی تو اس کا استعمال کرو نا ، یہ بار بار ہاتھوں کا استمعال کر کے کیا جتانا چاہ رہے ہو “..؟؟

اسکا ہاتھ جھٹکتے وہ لب بھینچے ہوئے بولا ۔

“تمہیں اتنی تکلیف کیوں ہو رہی ہے ، میری بیوی ہے وہ میری مرضی میں جو چاہے کروں تمہیں کوئی سرو کار نہیں ہونا چاہیے”…

دل جلا دینے والی مسکان لبوں پر سجائے کہتا وہ پیچھے سر جھکائے کھڑی سحر کو بازوؤں سے دبوچے سب کے بیچ اوپر کی جانب کھینچتا ہوا لے کر گیا جبکہ وہ درد و تکلیف سے کراہ کر رہ گئی ۔۔