Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj NovelR50487 Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 21
Rate this Novel
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 21
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj
اس کے جھکے سر کو دیکھ وہ گھمبیر سا بولا شہیر کا لہجہ خمار آلود سا ہو رہا تھا کاندھے پر بھکرے وہ شایہ فنگن زلفوں کے جال کو پرے دھکیل اپنے لب جیسے ہی رکھے تھے وہاں موجود ضربوں کے نشانات کو دیکھ وہ رک سا گیا تھا اس نے جھٹ سے سحر کا رخ اپنی جانب کیا تو گلے پر بھی کافی چوٹوں کے نشانات نمایاں تھے ۔ وہ ہمیشہ سے ڈوپٹہ اپنے گرد اوڑھے رکھتی تھی یہی وجہ تھی کہ یہ نشانات آج تک اس سے چھپے ہوئے تھے لیکن اتفاق سے آج وہ حسنِ جاناں بغیر ڈوپٹے اس کے سامنے موجود تھی اسلئے ہی اس راز سے پردہ فاش ہوا تھا۔
سنتے ہیں اپنی دھڑکن تیرے تڑپنے میں
فرق نہیں اب میرے دل کے دھڑکنے میں
“کیا احمر نے تم پر ب۔۔بیل۔۔بلیٹ سے۔۔۔؟؟”
وہ بے یقینی کی سی کیفیت میں اسکے کندھے کو دونوں جانب سے تھامے لب بھینچے پوچھ رہا تھا جب کے شہیر کی بات سن وہ سر جھکائے کھڑی تھی اسے معلوم نہ ہوا کہ کب آنسوں نکل کر اس کی آنکھوں سے بہنے لگے شائد ان اذیت بھرے لمحوں کو سوچتے اس کا دل بھر آیا تھا۔
روگ میرا بڑتا جائے کوئی تو سنبھالے نا
راحتیں ملیں اب ہم کو دل کے دہکنے میں
شہیر کی آنکھوں میں خون سا اترا تھا اس کا دل چاہا آگ لگا دے ان سب کو جس نے اس کی پری پر ہاتھ اٹھانے کی جرت کی۔ بہت مشکل سے اپنے اندر جمع ہوتے اشتعال کو قابو کرتا وہ اسے آرام سے تھام بیڈ تک لایا تھا۔ ان زخموں کے نشان کافی گہرے تھے جو کہ اتنے مہینوں میں بھی نہ بھرے تھے بلکہ آج بھی صاف واضح تھے وہ اس کی جلد پر۔۔
شہیر نے الماری سے فرسٹ ایڈ باکس سے کوئی مخصوص ٹیوب نکالے اس کے زخموں پر لگانی چاہی تھی لیکن بیچ میں ہی وہ اس کے ہاتھوں کو تھام روک گئی تھی۔
مانگوں میں اب کیا رب سے
پایا ہے تجھ کو جب سے
عشق تیرا ہم پہ طاری رقصمِ جہاں
“ن۔۔نہیں کریں۔”
بھیگے نین کٹوروں کو اٹھائے وہ اس کی جانب دیکھ اسے منا کر رہی تھی شائد شرم و حیا کا پردہ بیچ میں حاوی ہو رہا تھا۔ شہیر نے مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھوں کو تھام اپنے لبوں سے لگایا تھا۔
“اگر ان زخموں پر دوائی نہ لگائی تو یہ بگڑ جائیں گے اور کسی بڑی بیماری کی شکل اختیار کر لیں گے اور آپ کو کسی بیماری میں گھیرا میں بالکل نہیں دیکھ سکتا۔”
کہتے ہوئے آرام سے وہ اسکا رخ بدل گیا تھا جب کہ اس کی بات کو سن کر سمجھتے ہوئے وہ خاموشی اختیار کر گئی۔
زخم دیتا کوئی اور ہے اسکی دوا کوئی اور بنتا ہے یہاں بھی ایسا ہی تھا زخم دینے والا وہ ستمگر تھا لیکن اس کی دوا یہ مسیحا بن رہا تھا جو کہ ہمیشہ سے اس کی ڈھال بنتا آیا ہے۔
وہ ٹیوب جیسے ہی لگائی تھی اسکے زخموں پر سحر کے لبوں سے ایک سسکی سی برآمد ہوئی اپنی آنکھوں میں زور سے میچ گئی تھی وہ سچ ہی کہہ رہا تھا وہ اپنی زندگی کی تلخیوں میں ان زخموں کو فراموش کر گئی تھی کوئی مرہم ، کوئی دوا کا استعمال کیا ہی نہیں تھا اس نے یا یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ اسکے زخموں کے لئے مرہم میسر ہی نہیں کی گئی تھی۔
“میں تمہارے زخموں کی دوا بننا چاہتا ہوں۔ تمہارا ہر درد ،ہر غم خود میں سمیٹتے ہوئے تمہیں ان سب سے رہائی دینا چاہتا ہوں۔یہاں تک کہ شہیر وقار چوہدریوں تمہاری وہ ڈھال بننا چاہتا ہے جو تمہاری ہر راہ کے ہر لمحے میں تمہاری حفاظت کرے۔”
شہیر گھمبیر خمار زدہ نما آواز میں کہہ رہا تھا اس کے سرگوشی کرتے لب سحر کے کان کی لو کو چھو رہے تھے دوائی لگانے کے بعد اس کو مرہم پٹی سے ڈھکا تھا تاکہ زخم جلدی ٹھیک ہو جائے۔
“شکریہ ۔۔”
اس ساری صورتحال میں وہ صرف بس ایک یہی جملا ادا کر پائی تھی شہیر نے بغور اس کے پر رونق چہرے کو دیکھا تھا جہاں پر معصومیت کا بسیرا تھا۔
“بیگم صاحبہ شکریہ سے کام نہیں چلنے والا ، “
اس کی ٹھوڑی کو شہادت کی انگلی سے اوپر اٹھائے وہ گھمبیر لہجے میں گویا ہوا۔ سحر نے اپنی نشیلی آنکھیں اٹھائے اسکی گھائل کر دینی والی آنکھوں میں دیکھا تھا جہاں خمار صاف واضح تھا۔
شہیر کی آنکھوں کا خمار لہجے کی تپش کو محسوس کیے وہ اپنی نظروں کو جھکا گئی تھی جب کہ سحر کی اس ادا پر وہ مسکرا کر رہ گیا واقعی وہ معصومیت کا پیکر تھی۔
شہیر نے محبت و پیار سے اسکو خود کی ذات میں سمیٹ لیا تھا وہ دونوں ہی سکون میں تھے ایک اپنی محبت کو پا کر جب کہ دوسرا عزت و اپنائیت کو پا کر۔۔۔
کروں سجدہ ایک خدا کو
پڑھوں کلمہ یا میں دعا دوں
دونوں ہی ایک خدا اور محبت
©©©
رات کے پہر جہاں پوری حویلی میں سناٹا سا چھایا تھا وہیں دو نفوس حویلی کی چھت پر موجود باتوں میں مشغول تھے اور ساتھ ہی اپنی چاپلوسی کو سوچتے قہقہ لگا جاتے۔
“ویسے بیگم صاحبہ تم کتنی خوش قسمت تھی جو تمہیں اس لڑکی جیسے بہو ملی تھی مگر تم نے اپنی حسد کی آگ میں اسے گنوا دیا ہے۔”
شلوار قمیض میں موجود وہ پنجابی طرز کا لڑکا جو اکثر ہی نورے بیگم کے پاس آیا کرتا تھا نورے بیگم سے افسوس زدہ سے لہجے میں مخاطب ہوا حقیقتاً اسے آئینہ دکھانا چاہا تھا۔
“اوئے چپ کر ، مجھے کوئی افسوس نہیں۔ نورے خود بھی شہر کی ہے تو وہ بہو بھی شہر کی لائے گی بالکل اپنے جیسی۔”
سامنے کھڑے لڑکے کو جھڑکتے وہ غرور سے بولی تھیں جو کہ بہت جلد خاک ہونے کے قریب تھا جب کہ اس کی بات سن اس لڑکے نے بہت ہی عجیب نظروں سے نورے بیگم کو دیکھا تھا جیسا جتانا چا رہا ہو کہ تم میں ایسا کیا خاص ہے۔
“چل اب زیادہ باتیں نہ بنا خاموشی سے وہ کام کر جو یہاں کرنے آیا ہے۔”
منہ بنائے وہ دبی دبی میں آواز میں بولی تھیں جسے سن وہ لڑکا سر جھٹک کر ہنس دیا۔
“حوصلہ رکھیں بی بی جی ! پہلے مجھے ایک سوال کا جواب تو دیں جو ناجانے کتنے ہی مہینوں سے ناگ کی مانند میرے دماغ میں کنڈلی مارے بیٹھا ہے۔” اس کی بات سن نورے بیگم نے بھنونے اچکائے اسے دیکھا جیسا کہہ رہی ہوں پوچھو جو پوچھنا ہے۔
“آپ اس بیچاری لڑکی کی جان کی دشمن کیوں بنی ہوئی ہیں جب کہ حقیقتاً قتل تو آپ نے کروایا ہے ۔؟؟”
ان کو دیکھ وہ تجسس سے بھرپور لہجے میں گویا ہوا۔
“اسلئے تاکہ کسی کو مجھ پر شک نہ ہو کہ ارتضیٰ کو قتل کروانے والی کوئی اور نہیں بلکہ میں ہی ہوں “
فخر سے اپنا سر بلند کیا تھا ان نے جیسا بہت ہی کوئی اعلیٰ کام سر انجام دیا ہو ان نے۔
“ویسے تمہیں ضرورت کیا تھی اس معصوم بچے کو قتل کروانے کی جو تمہیں ماں جی ماں جی کہتے نہ تھکتا تھا ۔”
اس لڑکے کے لہجے میں بلا کا افسوس تھا۔
“نورے کو تو جانتا نہیں ہے وہ دماغ سے کھیلنا جانتی ہے۔ تو جانتا تو ہے ارتضیٰ سائیں وقاص کا چہیتا بیٹا تھا جو کہ مجھے کسی صورت گوارا نہیں سکینہ کو تو ویسے ہی بڑی مشکلوں سے برداشت کرتی ہوں لیکن اسکی اولاد کو برداشت کرنا میرے بس کی بات نہیں۔ویسے بھی اگر مدعے کی بات پر آئیں تو وقاص سائیں کی جائیداد میں سے دو حصے ہو رہے تھے ایسے میں میرے احمر کے پاس صرف آدھا حصہ آتا اسلئے میں نے وجہ ہی ختم کر دی اب پوری جائیداد صرف ہماری ہو گی۔”
اپنی بات کے ختم ہوتے ہی آخر میں وہ شاطر سا مسکراتی قہقہہ لگا گئی تھیں اس بات سے بے خبر کے دیوار کے پار کوئی نفوس ایسا ہے جس کی آنکھوں میں خون سا اترا تھا ان کی باتیں سن کیونکہ نا صرف وہ ان کی تمام باتوں کو سن چکا تھا بلکہ اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھ بھی لیا دونوں کے چہروں کو نفرت سے دیکھ وہ واپس چل دیا۔
“واہ بیگم مان گئے تمہیں ۔۔”
اس لڑکے نے ہاتھ اٹھائے تالی بجاتے ہوئے داد دی جیسے بہت ہی بڑا کارنامہ سنایا ہو۔ نورے نے اس کی تعریف کو مسکرا کر وصول کیا تھا۔
“چل اب زیادہ شوخا نا ہو مجھے میری چیز دے اور تو جا یہاں سے ورنہ کسی نے دیکھ لیا تو گڑبڑ ہو جانی ہے۔”
آس پاس کا جائزہ لیتے اپنے پلو کو چہرے پر پھیرتے ہوئے کہا جب کہ اس لڑکے نے اپنی قمیض کی جیب سے کوئی چھوٹی سی پیکٹ نکال کر نورے بیگم کو تھمائی تھی اور مسکراتا ہوا چل دیا۔ اس کے جانے کے بعد نورے بھی نیچے کی جانب چل دی۔
