Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 7

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj

“اتوار کا دن تھا اسلام آباد کا پورا شہر سردی کے خوبصورت موسم کی ضد آیا ہوا تھا”…

“ایسے میں احمر کا فلیٹ بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا”…

“جہاں سے موتیے ، گلاب اور گیندے کے پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو آ رہی تھی “…

“جب کہ احمر بھی سوٹ بوٹ میں مکمل تیار کھڑا تھا “…

” سامنے لگے شیشے میں اپنی تیاری پر آخری نظر ڈال کر اس نے قدموں کا رخ ساتھ والے روم کی جانب کیا تھا”…

“اس کے چہرے پر الگ طرح کی خوشی تھی”…

“ایک انجانا سا احساس تھا “…

“احمر کمرے میں داخل ہوا تو اس کی نظر لال عروسی جوڑے میں ملبوس عمارہ پر گئی “…

“جس کو تھوڑی دیر پہلے ہی ایک بیوٹیشن تیار کر کے گئی تھیں”…

“احمر مسکراتے ہوئے آگے بڑھا تھا اور مکمل تیار ہوئی عمارہ کے سامنے جا کھڑا ہوا “…

“لیکن یہ کیا”..!!

“اسکے چہرے پر وہ مسکان اچانک سمٹی تھی عمارہ کے چہرے کو گھونگھٹ میں ڈھکا دیکھ”…..

“یہ کیا ہے عمارہ ڈارلنگ”..؟؟؟؟

“وہ اسکے چہرے کو گھونگھٹ میں دیکھ برا سا منہ بنا کر بولا تھا”…

“وہ تو اسکو تیار ہوتا دیکھنا چاہتا تھا لیکن عمارہ نے اسکی خواہشات پر پانی ڈالا تھا”….

“احمر یہ گھونگھٹ ہے جو ہر دلہن اپنے ہونے والے شوہر سے کرتی ہے”…

“گھونگھٹ میں سے ہی عمارہ نے احمر سے کہا”…

“وہ تو ٹھیک ہے مگر مجھ سے کیسا پردہ یار “…

“میں نے کتنی ہی بار یہ چہرا دیکھا ہے “…

“پھر گھونگھٹ کرنے کا کیا فائدہ”..؟؟؟؟؟

“کہتے اسکا لال سرخ گھونگھٹ اٹھانا چاہا جسے عمارہ نے اسکا ہاتھ تھام کر ناکام بنایا”…

“ن۔۔نہیں احمر”…

“ابھی نہیں “…

“یہ رسم نکاح کے بعد کی ہے”…..

“اسکے ہاتھ کو آرام سے سائیڈ پر کیا تھا”..

“بے شک احمر”…

“تم نے مجھے دیکھا ہے مگر دلہن کے روپ میں آج ہی دیکھو گے”..

“اسلئے اب یہ چہرا نکاح کے بعد تمہارے سامنے آئے گا”….

“کہتے وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی”…

“بہت ظالم ہو عمارہ ڈارلنگ “….

“احمر جھنجھلاتے ہوئے بولا تھا”…

“لیکن خیر”….

“کر لو اپنی منمانیاں اسکے میری باری ہو گی”….

“وہ معنی خیزی سے بولتا اسکو شرمانے پر مجبور کر گیا” ۔۔۔

“احمر نے ایک سرد کھینچی جیسے اپنے جذبات کو سلانے کی کوشش کر رہا ہو”…

“پھر اسکا ہاتھ تھامے باہر لے گیا تھا”…

“جہاں نکاح خواہ اور سب دوست ان ہی کا انتظار کر رہے تھے”…

©©©

“پشمینہ فاتح کے کپڑے پریس کر کے انہیں الماری میں ترتیب سے رکھ رہی تھی کہ وہ اپںی شاہانہ شان چال کے ساتھ چلتا کمرے میں آیا تھا”…

“ہاتھ میں تھاما وہ لیپ ٹاپ سائڈ پر رکھا “…

“ایک نظر بے نیازی سے کام کرتی پشمینہ پر ڈالی جو اسے نظر انداز کیے اپنا کام کرنے میں مصروف تھی”…

“اور بیڈ پر بیٹھے آرام سے اپنے پیروں کو ان جوتوں اور جرابوں سے آزاد کرنے لگا”…

“اور گاہے بگاہے اپنی ترچھی نظریں اس پر بھی ڈال دیتا جو کہ اسکی نظروں کو محسوس کیے غصے میں بھی کنفیوژ ہونے لگی”. …

“فاتح اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو بخور دیکھ رہا تھا اور نا چاہتے ہوئے بھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی و، غصے میں کنفیوژن کا شکار ہوتی پشمینہ کو نظروں کے حصار میں رکھتا فریش ہونے چلے گیا تھا” ….

“جبکہ جاتے جاتے اس نے جان بوجھ کر اس کے کندھا مس کیا تھا”…

“جس سے لمحے بھر کے لئے صحیح پشمینہ ساکت ہوئی تھی”….

“اس دن آفس میں ہوئے واقع کے بعد ان دونوں کے درمیان پہلے جو تھوڑی بہت بھی بات ہو جایا کرتی تھی تب سے وہ بھی نہ ہو رہی تھی “…

“پشمینہ نے اپنی آنکھیں اٹھائے ایک نظر واش روم کے بند دروازے کو دیکھا تھا “…

“اور واپس سر نفی میں ہلاتے واپس اپنے کام میں مشغول ہو گئی”…

تھوڑے بھرے ہیں ہم تھوڑے سے خالی ہیں

تم بھی ہو الجھے سے ہم بھی سوالی ہیں

“وہ واپس آیا تو پشمینہ ابھی تک اپنے سابقہ کام میں مشغول دیکھائی دی تھی”…

“پشمینہ کے پاس آئے اسکے ہاتھوں میں تھامی وہ شرٹ پکڑی تھی”…

“جسے وہ خاموشی سے چھوڑ چکی تھی اور باقی کی شرٹیں اٹھا کر الماری میں لگانے لگی”….

“آئی ایم سوری “….

“اسکا کام کرتا ہاتھ ساکت ہوا تھا جب اپنے کان کی لو پرفاتح کی گرم دہکتی سانسیں محسوس ہوئیں “…

“وہ فاتح کو نظر انداز کرتے الماری بند کیے سائڈ سے نکل کر جانے لگی تھی لیکن اسکی اس کوشش کو فاتح نے ناکام بنایا “…

“کیونکہ وہ اسے کھینچ کر الماری کے ساتھ ہی پن کر چکا تھا “…

“اور تھوڑا اس کے قریب جھکا”….

“میں نے کچھ کہا ہے مسسز پشمینہ”….

“وہ لہجہ نرم رکھتے ہوئے بولا تھا لیکن چہرے پر سنجیدگی چھائی ہوئی تھی”۔

“کیونکہ اسکو پشمینہ کا یوں اگنور کرنا سخت نا گوار گزرا تھا”…

“اور یہ چیز وہ پچھلے دو دن سے برداشت کر رہا تھا”….

“کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ”۔۔۔ ؟

“وہ لہجے میں بیزاری سموئے بولی “….

“تم ہو میرا مسئلہ”….

“اسکے چہرے کو اوپر اٹھائے وہ خمار آلود لہجے میں بولا تھا جبکہ پشمینہ اسکے لہجے کو دیکھ ششدر تھی”…

“کچھ دنوں پہلے وہ کس طرح اس سے بیہو کر رہا تھا”…

“اور اب “…..!!!

“اس کی سانسیں تھمی تھیں”….

“فاتح کے اس آنچ دیتے لہجے پر”….

“ائی ایم سوری پشمینہ مجھے اس دن اس طرح برتاؤ نہیں کرنا چاہیے تھا”..

“میں شرمندہ ہوں”…

“اس کے چہرے پر جھولتی وہ آوارہ زلف کو کھینچا تھا جس پر ہلکا سا سسکی تھی وہ”….

“آپ کو معافی مانگنے یا شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے “…

“اس دن آپ نے جو کیا ٹھیک تھا”..

“کیونکہ میرا کوئی حق نہیں ہے آپ کے آفس میں آنے کا”…

“مجھے آپ کے آفس میں یوں نہیں آنا چاہیے تھا”….

“وہ سپاٹ لہجے میں بولی تھی لیکن آنکھوں میں نا چاہتے ہوئے بھی نمی جھلکی تھی”….

“مینہ”…

“ایسی بات مت کرو”…

“اس دن اگر تم نہ آتی تو مجھے کروڑوں کا نقصان ہو جاتا “….

“اور دیکھو تمہاری وجہ سے مجھے اتنی بڑی ڈیل ملی ہے”….

“یہ سب تمہاری وجہ سے ممکن ہوا ہے وائفی”….

“جذبات سے چور لہجے میں بولا تھا اور اپنے تشنگہ لب اسکے ماتھے پر ثبت کیے”….

“دل عبادت کر رہا ہے دھڑکنیں میری سن

تجھ کو میں کر لوں حاصل لگی ہے یہی دھن”

“کمرے میں چار سو خاموشی چھا چکی تھی”…

“صرف ان دونوں کی دھڑکنوں کی آواز گونج رہی تھی”…

“وہ دونوں ایک دوسرے کے اتنا قریب تھے کہ صاف ایک دوسرے کی دھڑکنوں کے شور کو سن سکتے تھے”…

©©©

زیشان ڈروس میں سے اپنی کوئی چیز تلاش کر رہا تھا کہ وہاں سائڈ پر رکھا ایک باکس زمیں بوس ہوا “….

“اور اس باکس میں موجود سحر کی چند تصویریں بکھر گئی تھیں اس فرش پر”….

“ان تصویروں کو یوں زمیں بوس ہوتے دیکھ فوراً اٹھایا تھا اس نے “….

“اور بغور ان تصویروں کو دیکھا تھا جس میں سحر کے چہرے پر مسکراہٹ رقصاں تھی”..

“لیکن پھر اسکا وہ روتا بلکتا چہرا ذہن میں آیا جس میں وہ روتے ہوئے اس سے منتیں کر رہی تھی لیکن وہ اپنے دل اور اسکی التجاؤں کی پرواہ کیے بنا اسے کسی اور کو سونپ چکا تھا”…

“یہ سب سوچتے دل پر گہری ضرب سی لگی تھی لیکن اب کوئی فائدہ نہیں تھا”….

میری آنکھوں میں جدائی کی کمی ہے سائیاں

میرے زخموں کی دوا تیرے سوا کوئی نہیں

©©©

“ماں”…

“مجھے یہاں آئے دو دن ہو گئے ہیں اور ارتضیٰ ابھی تک نظر نہیں آیا”…

“کیا وہ کہیں گیا ہوا ہے”..؟؟؟؟

“وہ سب کھانا کھا کر ابھی لان میں بیٹھے ہوئے تھے کہ شہیر نے یاد آنے پر فوراً پوچھا “…

“کیونکہ وہ جب بھی حویلی آتا سب سے پہلے اس سے ارتضیٰ ہی ملتا تھا”…

“وہ بالکل اسکو چھوٹے بھائی کی طرح ٹریٹ کرتا تھا ان دونوں کی بانڈنگ بھی کمال کی تھی”..

“وہ اپنی زیادہ طر باتیں شہیر سے ہی شئیر کیا کرتا تھا”…

“اور اب اس کو یہاں نہ پا کر شہیر کو کسی انہونی کا احساس ہوا”…

“شہیر کی بات سن کر لان میں بیٹھے تمام نفوس کو سانپ سونگ گیا تھا”…

“کوئی کچھ نہ بول رہا تھا جبکہ ایک دوسروں کے چہرے ہی تک رہے تھے”…

“ارتضیٰ کو میں نے باہر کے ملک میں تعلیم مکمل کرنے بھیجا ہے”…

“سکینہ بیگم کو لب کھولتے دیکھ چوہدری وقاص نے کہا تھا اور ساتھ میں ایک سخت گھوری سے سکینہ کو نوازا جیسے کہہ رہے ہوں”..

کہ اپنا منہ بند رکھو”….

“چوہدری وقاص کی بات سن وہ خاموش ہو گئی تھیں”…

“چوہدری وقاص کی بات سن کر میمونہ بیگم کی آنکھوں میں غصہ جھلکا تھا”..

“انہوں نے کچھ کہنے کے لئے لب کھولے ہی تھے کہ چوہدری وقار نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھے انہوں خاموشی اختیار کرنے کا حکم دیا تھا”..

“جسے وہ نا چاہتے ہوئے بھی مان گئی تھیں”….

©©©

“احمر وقاص آپ کا نکاح عمارہ الیاس کے نکاح میں بشمول حق مہر پچاس لاکھ طے پایا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے”…؟؟؟؟

“مولوی صاحب کے الفاظ جیسے ہی احمر چوہدری کے کانوں میں گونجے تھے انجانے میں ہی صحیح لیکن سحر کا چہرا اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا تھا”….

“احمر کی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے مولوی صاحب نے اپنے الفاظ دوبارا دہرائے”..

“احمر وقاص آپ کا نکاح عمارہ الیاس کے نکاح میں بشمول حق مہر پچاس لاکھ طے پایا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے”…؟؟؟؟

“قبول ہے”….

“سنجیدگی سے کہتے اس نے نکاح نامے پر دستخط کیے تھے جبکہ ساتھ بیٹھی عمارہ کو ایک انجانی سی خوشی محسوس ہوئی “….

“احمر سے ایجاب و قبول کے بعد مولوی صاحب نے عمارہ سے سوال کیا”…

“جس پر اس نے تین بار “قبول ہے ” کہتے ہوئے احمر کو شریعہ طور قبول کیا تھا”…

“کیونکہ روحانی اور دلی طور پر تو اسے وہ پہلے ہی قبول کر چکی تھی”….

©©©

بالکونی میں کھڑا وہ سیگریٹ کے گہرے گہرے کش لگا رہا تھا”…

“اور ساتھ ساتھ اسکا ذہن کسی بہت گہری سوچ میں مصروف تھا”…

“وہ بہت کچھ سوچ رہا تھا “….

“لیکن اس بہت کچھ میں ، “…

” بہت کچھ عجیب تھا”….

“جسے وہ خود بھی نہیں جانتا تھا”…

“وہ نہیں جانتا تھا کہ اسکی حالت ایسی کیوں ہو رہی ہے”…

“اس نے آج کے دن کے لئے بہت زیادہ انتظار کیا تھا جس میں وہ عمارہ کو مکمل طور پر پا لینا چاہتا تھا”…

“اسے مکمل حاصل کرنا چاہتا تھا”…

“کیونکہ بقول اس کے وہ اسکی محبت تھی ، پسند تھی اسکی”….

“آج شائد قسمت اس پر مہربان ہوئی تھی “….

“تبھی آج وہ دن اس کی قسمت میں لکھا جا چکا تھا”…

“جس میں عمارہ اور وہ ایک دوسرے کے نکاح میں آ چکے تھے”….

“لیکن پھر بھی اسکا یہ چہرا سنجیدہ کیوں تھا”….

“آج دوپہر تک تو ٹھیک تھا”…..

“اسکی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا تھا جب فون کی چنگھاڑتی آواز آئی تھی”…

“ہیلو “..

“سیگریٹ کو پاؤں تلے کچلتے اس نے فون کان سے لگایا تھا”…

“احمر کہاں ہو تم”..؟؟؟؟

” تمہیں میں نے کچھ کام کہا تھا”…

“اور تم حویلی سے ہی غائب ہو”…

.

“چوہدری وقاص کی برہم آواز فون کے دوسری جانب سے آ رہی تھی”…

“فوراً پہنچو حویلی”….

“انہوں نے سیدھا حکم صادر کیا “….

“بابا سائیں ابھی تو تھوڑا مصروف ہوں، “…

“ابھی تو آ نہیں سکوں گا”…

“ایک نظر سامنے بند دروازے پر ڈالتے بولا تھا وہ”…

“البتہ کل آ جاوں گا”…

“اور ویسے بھی آپ کا کام یاد ہے مجھے”…

“ان شاءاللہ کل اسی کام کو نپٹاؤں گا”..

“چلیں اب میں فون رکھتا ہوں”….

“کہتے وہ فون رکھ چکا تھا اور ایک گہرا سانس کیے قدم اس کمرے کی جانب بڑھائے جہاں وہ اپسرا اس ہی کا انتظار کر رہی تھی”….

“منزل پہ پہنچے دیکھا منزل وہاں تھی نہیں

چوٹ لگی ہے ایسی جس کا نشاں بھی نہیں

“کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کا استقبال پھولوں اور خوشبودار موم بتیوں کی بھینی بھینی خوشبو نے کیا”….

“یہ سب تیاریاں اس نے خاص طور پر عمارہ اور اپنے لئے کروائی تھیں”…

“لیکن جن لمحات کے لئے یہ تیاری کروائی گئی تھی اس کے جذبات ٹھنڈے پڑنا شروع ہو گئے تھے اس وقت “…

“وہ خود پر ضبط کیے چلتا ہوا عمارہ کے بلکل سامنے آ بیٹھا “…..

“وہ کچھ لمحے یونہی بیٹھے اس کے وجود کو تکتا رہا پھر عمارہ کے چہرے پر ڈالے گئے گہرے گھونگھٹ کو آرام سے اتارا تھا”….

“جب کہ عمارہ کا دل دھک دھک کر رہا تھا بے شک شہر میں رہنے والی اوپن مائنڈ گرل تھی”.۔۔۔

“مگر تھی تو مشرقی ہی”…

“آج کے اس خاص دن کو لے کر اسکے احساسات اور جذبات وہی روایتی دلہنوں والے تھے جس میں ہر لڑکی اپنے محرم سے عزت اور محبت بھرے شبدوں کی طلبگار ہوتی ہے”…….

“احمر نے جیسے ہی اسکا وہ گھونگھٹ اٹھایا تھا وہ ششدر رہ گیا تھا “….

“سحر”..

“اس کے لبوں سے بے ساختہ ادا ہوا تھا”…

“م۔میرا مط۔۔مطلب تمہارے اس حسن نے سحر طاری کر دیا ہے”….

“عمارہ عرف عروہ کی نظروں میں نا سمجھی دیکھ وہ بات کو سنبھالتے ہوئے بولا تھا”..

“جب کے اس کی بات سن عروہ شرما کر سر جھکا گئی تھی”…

“احمر نے عروہ کا ہاتھ محبت سے اپنے ہاتھوں میں لیا تھا”…

“وہ تمام تر سوچوں کو جھٹک چکا تھا”…

“کیونکہ آج اسکی محبت اسکے سامنے تھی جسے وہ حاصل کرنا تھا چاہتا تھا اور وہ کسی دوسرے کو اپنی سوچ پر ہاوی نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن یہ بات سچ تھی عروہ کا گھونگھٹ اٹھاتے ہی اسکو سحر کے چہرے کی جھلک نظر آئی تھی کیونکہ اس کی سوچوں میں بھی نا چاہتے ہوئے بھی وہ بسی ہوئی تھی لیکن وہ جلد ہی سنبھال گیا تھا خود کو”….

“کتنی حسین لگ رہی ہو”….

“مخمور لہجے میں کہتا وہ عروہ کو اپنے بے حد قریب کر گیا تھا”…..

اور ہلکا سا اس کے ہاتھ کو جھٹکا دیا تھا جس سے اسکا سر سیدھا احمر کی کے کسرتی سینے سے ٹکرایا”….

“اف احمر کیا کرتے ہو”….

“اپنی پوزیشن کو ٹھیک کرتے وہ آنکھیں دیکھاتے بولی تھی”….

“جانِ من پیار کر رہا ہوں”…..

“کیونکہ آج کا دن میرے لئے بہت ایمپورٹنٹ ہے”

“اور کسی کی وجہ سے اس دن کو خراب نہیں کروں گا”….

“یہ آخری جملے اس نے دل میں کہے تھے”….

“وہ محبت پاش نظروں سے اس کے حسین چہرے کو دیکھتے ہوئے مدہوش ہو رہا تھا اس کی لو دیتی نظریں نے عروہ کو جھن من پلکوں کے جھالر کو جھکانے پر مجبور کر دیا تھا”….

سچ پوچھو تو موسم بہت اچھا تھا‎

نہ بہکنے کا مگر میرا ارادہ پکا تھا‎

“اس کی یوں پلکیں جھکانے کی ادا پر مسکرا کر شعر پڑھتا اسکو سانسوں کو خود میں جذب کر گیا اور آہستہ آہستہ اپنی محبت اس پر نچھاور کرنے لگا تھا جس پر اس کی ننی سی جان کانپ سی گئی تھی”…

“عروہ کو اپنے جذبات کے سمندر کی گہرائی میں لے ڈوبا تھا احمر ، اس کی محبت بھری گستاخی پر وہ سر اس کے سینے میں ہی چھپا گئی”…

“کیا احمر کی محبت عروہ کے لئے سچی ہے”..؟؟؟

“کیا دے گا دھوکہ احمر عروہ کے جذبات کو”..؟؟؟

“یا لے گی عروہ کی زندگی بھی کوئی نیا موڈ”..؟؟؟؟

©©©

“چوہدری وقاص کے بلانے پر وہ ڈرتے ہوئے ان کے کمرے میں داخل ہوئی تھی اس کا دل لرز رہا تھا کہ نجانے وہ کیا سلوک کریں گے اسکے ساتھ کیونکہ ان کی سنگدلی کا احساس تو اسے وہاں کٹھہری میں ہی ہو چکا تھا جب وہ اس کی ذات کے لئے نا قابلِ قبول الفاظ کا استعمال کر رہے تھے”….

“بیٹھو “….

“اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے چوہدری وقاص نے اسے اپنے قدموں میں بیٹھنے کا اشارہ کیا”..

“چوہدری وقاص اسطرح سے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھے تھے کہ ان کا دائیاں پاؤں بالکل سحر کے چہرے پر پڑ رہا تھا”..

“صاف کرو”…

“اپنے جوتوں کی جانب اشارہ کیے کہا تھا اور ساتھ ہی ایک گہرا کش سگار کا لگائے اس کا دھواں ہوا میں چھوڑا تھا”….

“ر۔۔۔ر۔۔رومال دے دیں”…

“نظریں نیچے کیے وہ اٹکتے ہوئے بولی تھی”….

“سحر کی بات سن ایک طنزیہ مسکراہٹ چوہدری کے چہرے پر آئی تھی”….

“اپنے اس ڈوپٹے سے صاف کرو”…

“پیچھے صوفے پر ٹیک لگائے ٹانگوں کو مزید آگے کیا تھا”….

“اور ہاتھوں کے اشارے سے اسکو جوتے صاف کرنے کا کہا”….

“چ۔۔چوہدری صاحب مع۔۔معذرت مگر یہ ڈوپٹہ پہن کر میں نماز ادا کرتی ہوں اسلئے اس سے آپ کے ان جوتوں کو صاف نہیں ۔۔۔ک۔۔کر سکتی”…

“وہ جھجھکتے ہوئے مگر اٹل لہجے میں بولی تھی کہ چوہدری وقاص نے بھنونے اچکائے اسکی جانب دیکھا جیسے تائید چا رہا ہو کہ تم نے مجھے انکار کیا”…..

“لڑکی تم جانتی ہو تمہیں یہاں بلانے کا مقصد کیا ہے”..؟؟؟

“یقیناً نہیں جانتی ہو گی”…

“خود ہی سوال کیے اور سوال کا جواب دیے وہ طنزیہ مسکرا گئے تھے”…..

“اس حویلی میں میرا بھتیجا آیا ہوا ہے”…

“اور میں نہیں چاہتا تم اپنا یہ حقیر وجود لیے اسکے سامنے آؤ اسلئے جب جب وہ حویلی میں ہو گا تب تب تم اس کمرے میں قید رہو گی اور جیسے ہی وہ باہر چلا جائے تم باہر نکل سکتی مگر یاد رکھنا جس دن تم اسکے سامنے آئی وہ دن تمہارا آخری دن ہو گا”…

“کرخت لہجے میں کہتے اسے باہر جانے کا حکم دیا”…

“سحر زمین سے اٹھتے ہوئے واپس وہیں منجمد ہوئی تھی “..

اس نے پلٹ کر اپنے ڈوپٹے کی جانب دیکھا تھا”….

“جس پر چوہدری وقاص کا پیر درا ہوا تھا اور وہ شیطانی مسکراہٹ سے اسکی جانب دیکھ رہے تھے جیسے بہت کچھ جتانا چا رہے ہوں”….

“سحر اپنا ڈوپٹہ چھڑائے آنسو پیتی وہاں سے نکلی تھی”…

“اور دوڑتے ہوئے کمرے میں داخل ہو کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی”….

“جس طرح ایک مرد کے لئے اس کی پگ اس کی شان و عزت ہوتی ہے “..

“پگ کو پیروں میں روندنے سے جس طرح مرد کی عزت و شان میں کمی آتی ہے بالکل ٹھیک اسی طرح ایک عورت کے لئے اس کا ڈوپٹہ اسکی عزت و شان ہوتا ہے جسے وہ اپنے سر کی زینت بناتی ہے وہی ڈوپٹہ اوڈ کر وہ نماز و دعا ادا کرتی ہے لیکن اگر کوئی اس ڈوپٹے کو پیروں تلے روندے تو یہ ایک عورت کے لئے بے عزتی ہوتی ہے”…

©©©

“پشمینہ کیچن میں کھڑی کام کرتے ساتھ ساتھ فاتح کے رویے کے بارے میں سوچ رہی تھی جو کہ اچانک ہی بدل چکا تھا “…

“مطلب کل تک وہ اس سے بات کرنا گوارا نہ کر رہا تھا یہاں تک کہ اس کا چہرا دیکھنا تک کا روادار نہیں تھا مگر اب”….

“اس کا میٹھا شیریں لہجا”…

“جذبات سے بوجھل انداز”….

“وہ سمجھنے سے قاصر تھی”….

“اگر یہ سب وہ صرف آفس میں ہوئے فائل والے معاملے کی وجہ سے کر رہا ہے تو وہ بالکل اس کو بخشنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی”….

©©©

“زندگی نام ہے درد ہے”…

“امتحان کا”…

“آزمائش کا”…

“جسے ہر انسان کو سہنا پڑتا ہے”….

“گزرنا پڑتا ہے”….

“بعض اوقات یہ آزمائش اللّٰہ کی طرف سے آتی ہے جس سے وہ اپنے بندے کو پرکھتا ہے”….

“آج سے کچھ سال پہلے کچھ آزمائش اللّٰہ کی قوم بنی اسرائیل پر بھی آئی تھی”…

“وہ تھے قید میں”…

“درد میں”…

“تکلیف میں”….

“ٹھیک ویسی ہی آزمائش اس وقت سحر پر آئی تھی “…

“وہ بھی اس وقت قید تھی فرعون چوہدری وقاص کی حویلی میں”…

“جہاں وہ نہ اپنی مرضی سے ہنس سکتی تھی نہ رو سکتی تھی”..

“اسکی زندگی میں سے صبح اور شام ختم ہو چکے تھے”…

“اسکی زندگی میں سے ہر رنگ ختم ہو چکے تھے”…

“وہ بن کر رہ گئی تھی صرف ایک اداس قیدی پنچھی”….

“جسے اس کے اپنوں نے قید کروایا تھا”…

“اس کی زات کو بے مول کیا گیا تھا “…

“وہ بھی اس نے “…

“جس سے اس کو امید نہ تھی”….

“جس نے قسم کھائی تھی کبھی تمام عمر ساتھ نبھانے کی”…

“جس نے وعدہ کیا تھا اسکی زندگی کو خوشیوں سے بھرنے کی”…

“لیکن کھایا تھا دھوکا اس نے اسی شخص سے جو کھبی اس کے دل کی سلطنت ہوا کرتا تھا مگر اب”….

“وہ دل ہی توڑ گیا تھا وہ “………

“زیشان کیوں کیا آپ نے میرے ساتھ ایسا”..؟؟؟

“بچپن سے لے آج تک آپ نے تمام عمر ساتھ رہنے کا وعدہ کیا “….

“مگر ان سب کو توڑ دیا آپ کی اس بذدلی نے”…

“جو تکالیف اس حویلی میں ، میں برداشت کرتی ہوں اگر کبھی دیکھ لیں نا تو شائد ہی آپ مر جائیں اگر محسوس کریں تو”…..

“اپنے دل میں سوچتے وہ طنزیہ ہنسی تھی”…

“اس وقت وہ کمرے میں بنائی گئی کانچ کی کھڑی کے پاس کھڑی بہت گہری سوچ میں محو تھی”…

“وہ خیالوں میں سہی لیکن زیشان سے شکوہ کناں تھی”….

“کمرے کی تمام بتیاں اس نے بجھائی ہوئی تھیں کیونکہ وہ سکون ڈھونڈنا چا رہی تھی اس اندھیرے میں جو شائد اس کا مقدر بن چکا تھا”….

©©©

“شہیر کچھ دیر پہلے ہی وقار اور وقاص چوہدری کے ساتھ گاؤں کی زمینوں کا چکر لگا کر آیا تھا اور اب ان کے ساتھ لان میں بیٹھا زمینوں اور کھیتوں کے متعلق گفتگو کر رہا تھا کہ بے ساختہ اس کی نظر احمر کے کمرے کی کھڑکی کی جانب پڑی تھی جہاں سے کسی صنفِ نازک کے وجود کا سایہ نظر آ رہا تھا “….

“وہ لڑکی کون ہے “..؟؟؟

“شہیر نے اوپر احمر کے کمرے کی جانب اشارہ کرتے تجسّس سے کہا تھا”…

“کہاں”..؟؟

“چوہدری وقاص نے کندھے اچکائے کہا جیسے کہنا چا رہے ہوں کہ کون سی لڑکی “…

“وہاں احمر کے روم “…

“شہیر کہتا خاموش ہوا تھا کیونکہ اب وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا”…

“کہاں ہے بیٹا ہے ہمیں تو نظر نہیں آئی”…

“میں نے خود ابھی دیکھا تھا احمر کے کمرے میں تھی رکیں مین دیکھ کر آتا ہوں”….

“وہ عجلت میں کہتا اوپر جانے ہی لگا تھا کہ چوہدری وقاص نے اس کا ہاتھ تھامے واپس بیٹھایا”…

“ارے بیٹا چھوڑو نا کوئی ملازمہ ہو گی کیوں خود کی جان کو ہلکان کر رہے ہو”….

“چوہدری وقاص کے کہنے پر وہ وہاں بیٹھ تو چکا تھا لیکن وہ جو کوئی بھی تھا اس کی کشش اسکو اپنی جانب کھینچ رہی تھی”…

“اس کے دل میں تجسس سا بڑھ رہا تھا وہ جاننا چاہتا تھا کہ کون ہے وہ جسے سب ملازمہ ملازمہ کہہ رہے ہیں مگر وہ اچھے سے جانتا تھا کہ کوئی بھی ملازمہ ہو اسے احمر کے کمرے میں جانے کی اجازت نہیں ملتی “…

“یقیناً وجہ کوئی اور تھی جو سب اس سے کچھ چھپا رہے ہیں”….

“اس سب میں چوہدری وقار بس خاموش ہی بیٹھے رہے وہ اپنے بیٹے کی کیفیت کو جانچ رہے تھے”….

“ان تینوں نے گفتگو واپس شروع کر دی تھی لیکن شہیر کا دماغ وہیں اٹکا ہوا تھا”….

©©©

“وقار یہ بھائی صاحب کے ساتھ کیا مسئلہ ہے”…؟؟

“میمونہ بیگم نے ساتھ بیٹھے اپنے شوہر چوہدری وقار سے پوچھا”..

“میمونہ بیگم کی بات سن نا سمجھی سے ان کی جانب دیکھا”…

“یہ ارتضیٰ کی موت کی خبر بھی شہیر کو نہیں دے رہے اور نہ ہی سحر کے بارے میں کچھ بتا رہے ہیں “…

“وہ عجیب سی کیفیت میں بولی تھیں ان کی آنکھوں میں کئی سوالات تھے جو آج اپنے شوہر سے پوچھ لینا چاہتی تھیں لیکن شائد ان سوالوں کے جوابات ان کے پاس بھی نہ تھے”….

“بیگم افسوس کے ساتھ مجھے بھی معلوم نہیں ہے مگر اس بات کا تجسس اور بے چینی مجھے بھی ہے کہ آخر کیا وجہ ہو سکتی ہے جو بھائی یوں کر رہے ہیں”…

“چوہدری وقار لب بھینچے اور آنکھیں سکیڑ کر بولے تھے “….

“مگر جو بھی جیسا بھی بھائی صاحب کو یوں نہیں کرنا چاہیے”…

“سر جھٹکتے نہایت افسوس سے کہا تھا ان نے”….

©©©

“وہ لڑکی کدھر ہے کہاں چھپا کر رکھا ہے اسے”…؟؟؟

“نورے بیگم نے کیچن میں داخل ہو کر سکینہ بیگم سے کہا تھا جو کہ پھلوں کو کاٹ فروٹ چاٹ بنا رہی تھیں”…

“وہ وہیں ہے جہاں اسے ہونا چاہیے تم فکر نہ کرو”…

“سکینہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا تھا اور پھلوں کو ایک باؤل میں اکھٹا کرنے لگیں “..

“نہیں نا”…

“وہ وہاں نہیں کیونکہ اس کی اصل جگہ یہاں ہے “…

“میرے قدموں میں”…

“نورے بیگم اپنے ازلی غرور سے بولی تھیں کہ بے ساختہ سکینہ بیگم کا قہقہہ گونجا تھا وہاں کیچن میں”..

“جو جہاں ہوتا ہے دوسروں کو بھی وہیں دیکھنا چاہتا ہے”…

“نورے بیگم نے طنزیہ انداز میں کہا تھا اور اپنے اس ایک جملے سے وہ سامنے کھڑی نورے کو آگ ہی تو لگا گئی تھیں”…

“تم حد میں رہو اپنی اور بتاو کہاں چھپایا ہے اسے مجھے کام کروانا ہے”…

“نورے بیگم تڑخ کر بولی تھیں”….

“فکر نہ کرو کمرے میں ہے اپنے “…

“بہت ہی آرام دہ لہجے میں سکینہ بیگم نے کہا تھا “…

“ہنہہ ابھی دیکھتی ہوں مہارانی کو آرام کرنے کے لئے حویلی نہیں لائے “…

“کہتے وہ واپس پلٹنے لگی تھیں کہ سکینہ بیگن نے ان کا بازو تھاما”…

“کمرے میں لاک کیا ہے اسے کیونکہ جب تک شہیر حویلی میں ہے تب تک وہ باہر نہیں نکل سکتی”…

“یہ آپ کے چہیتے شوہر سائیں کا حکم ہے”…

“اسلئے بہتر ہے آرام کرو جا کر ابھی بیماری سے اٹھی ہو “..

“کیوں دوسروں کی زندگیوں کو بے سکون کرنے پر تلی ہو”..

“سکینہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا نورے کے بازو کو جھٹکتے ہوئے واپس اپنے کام میں مشغول ہو گئیں جبکہ نورے بیگم غصے سے کھولتی ہوئی وہاں سے نکلی تھیں”…