Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj NovelR50487 Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 25
Rate this Novel
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 25
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj
شہیر سحر کو اپنے ساتھ دوپہر میں ہی لئے پارلر جا چکا تھا جب کہ فاتح اور مینہ گھر پر ہی موجود تمام کام دیکھ رہے تھے فاتح تقریبا سب کام نبٹانے کے بعد مینہ کو لینے جیسے ہی روم میں اینٹر ہوا اسکو بالکل سادہ سا تیار دیکھ ششدر رہ گیا تھا حیرت کی زیاتی سے منہ سے گھٹی گھٹی آواز برآمد ہوئی۔
“مینہ ۔۔۔”
وہ حیرت کی زیاتی سے چلایا تھا اس کو سادے کاٹن کے سوٹ میں دیکھ جس پر اس نے ہلکی بھورے رنگ کی چادر اوڑھے خود کو کوور کیا تھا۔
“کیا ہوا آپ تو ایسے چلا رہے ہیں جیسے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو ؟”
اپنے بال کو جوڑے میں قید کیے اس نے آنکھیں پٹپٹائے کہا
“بھوت نہیں ، جاناں ایلین بولو ایلین۔”
اپنے ماتھے کو سہلاتے وہ اس کے نک سک سے تیار وجود کو دیکھتے بولا جب کہ فاتح کی بات سن مینہ نے اچھی خاصی گھوری سے نوازا ۔
‘آپ جانتے ہیں میری اس طرح کی کنڈیشن ہے کہ میں اتنے شوخ ریشمی کپڑے زیب تن نہیں کر سکتی گھٹن ہوتی ہے مجھے پھر بھی آپ ایسا کہہ رہے ہیں ویری بیڈ۔۔۔”
وہ منہ بسورے سائیڈ پر ہوئی تھی۔
“جاناں میں یہ کب کہہ رہا ہوں کہ آپ شوخ ڈریس پہنے، میں نے تو بس اتنا کہا ہے کہ کچھ اچھا سا پہن لیں لیکن تھوڑا کامدار جوڑا ہو۔”
اسکے گال کو محبت سے سہلائے وہ الماری کی جانب گیا وہاں سے پیچ کلر کا ایک ہلکا کامدار جوڑا نکال لایا اور پشمینہ کے ہاتھوں میں تھاما۔
“جاؤ یہ پہن لو ، میں ویٹ کر رہا ہوں ہمیں نکلنا بھی ہے شہیر ہمارا انتظار کر رہا ہو گا۔”
اس کو ڈریس تھمائے وہ خود صوفے پر بیٹھ فون یوز کرنے لگا جب کہ مینہ بھی کچھ ہی دیر اس لباس کو زیب تن کیے ڈریسنگ سے جیسے ہی باہر آئی تھی فاتح کے لبوں سے بے اختیار ماشاءاللہ نکلا۔
“بیوٹیفل ، پرفیکٹ اب لگ رہی ہو نا مسسز فاتح !”
آنکھ ونک کیے وہ شرارتاً بولا تھا کہ مینہ مسکرا کر سر جھکا گئی تھی۔
©©©
آج کا دن حویلی کے مکینوں کے لئے خوشیوں کی نوید لایا تھا میمونہ بیگم ، سکینہ بیگم اور چوہدری وقار سمیت تمام ملازمین تیاریوں میں جٹے ہوئے تھے البتہ نورے بیگم جلی بھنی سی اپنے کمرے میں ہی بند تھیں ان سے کہاں برداشت ہو پاتی تھی دوسروں کی خوشیاں۔
پورے گاؤں کو کسی دلہن کی مانند سجایا جا رہا تھا جب کہ اس سب میں چوہدری احمر بوکھلایا بوکھلایا پھر رہا تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ سب تیاریاں ہو کس وجہ سے رہی ہیں۔
“بات سنو یہ اتنی تیاریاں کس وجہ ہو رہی ہیں ؟”
اسٹیج سجاتے شخص کو دیکھ وہ آنکھیں سکیڑے بولا تھا کہ مقابل نے بے یقنی سے اسکی جانب دیکھا تھا مطلب گھر کے فرد کو ہی معلوم نہ تھا کہ یہ سب تیاریاں کس وجہ سے کروائی جا رہی ہیں۔۔
“کیا ہوا بول بھی دو ، خاموش کیوں ہو گئے ؟”
سامنے کھڑے آدمی کو خود کو تکتے پا کر وہ نخوت سے بولا تھا۔
“معذرت صاحب ہمیں نہیں معلوم ، ہمیں تو بس یہ اسٹیج سجانے کا کام دیا گیا ہے جسے ہم کر رہےہیں۔”
نظریں جھکائے کہتا وہ واپس اپنے کام میں مشغول ہو گیا تھا جب کہ احمر نے بھنونے اچکائے ، دانت کچکچاتے اس شخص کو دیکھا۔
“جب معلوم نہیں تھا تو پہلے کہہ دیتے کب سے یوں گھوری جا رہے ہو۔”
نخوت سے سر ہلائے وہ اندر کی سمت چل دیا۔
©©©
“احمر بتائیں میں کیسی لگ رہی ہوں؟”
دھوتی سوٹ پر ملبوس بالوں میں پراندھا لگائے ہلکے میک اپ کے ساتھ عمارہ نے ایک ادا سے پوچھا تھا۔
احمر جو اپنی سوچوں میں محو عمارہ کے یوں اچانک بلانے پر چونک کر اس کی جانب دیکھا جو کہ نک سک سی تیار کھڑی اس سے اپنی تعریف کی منتظر تھی۔
“تم کہاں جا رہی ہو ؟ اور یہ سوٹ تمہارے پاس کہاں سے آیا ؟”
احمر کے سوال پر وہ حیرت و ششدر پن کے عالم میں اس کو تک رہی تھی جو عمارہ کی تعریف کرنے کے بجائے اس کو کندھے سے جھنجھوڑتے الٹا سوال گو تھا۔
“اح۔۔احمر کیا ہو گیا ہے آپ کو چھوڑیں مجھے اور یہ کیسے بات کر رہے ہیں آپ میں بھلا کہاں جاؤں گی اس انجان جگہ پر مجھے تو یہ سوٹ بڑی ماں نے دیا تھا کیونکہ ۔۔۔”
“عمارہ بی بی !
آپ کو بڑی بیگم صاحبہ نے بلایا ہے۔”
ملازمہ کی دی جانے والی آواز کے باعث عمارہ کو بات مکمل کرنے کا موقع نہ ملا تھا وہ احمر سے ایکسکیوز کرتی اپنے ہاتھ چھڑائے بنا اس کی جانب دیکھے نیچے چل دی جب کہ سدا کا سائیکو احمر چوہدری غصے کے عالم میں لب بھینچتا رہ گیا۔
©©©
آج وہ دن آ پہنچا تھا جس کا شہیر نے بہت بے صبری سے انتظار کیا تھا ان کے ولیمے کا دن جس میں وہ سب کے سامنے اپنے نکاح جیسے پاک رشتے کو سب کے سامنے واضح کرنا چاہتا تھا سحر کا رتبہ اس کا درجہ نورے بیگم و احمر کے سامنے بتانا چاہتا تھا۔
شہیر چوہدری کی گاڑی گاؤں کی جس شاہراہوں سے گزر رہی تھی اسے رنگ برنگے دیگر قسم کے پھولوں و بتیوں سے سجایا گیا تھا گاؤں کی ان خوبصورت انداز سجائی گئی شاہراہوں سے گزرتی ان کی گاڑی جیسے ہی حویلی کے سامنے رکی تھی سحر دنگ رہ گئی تھی اتنی خوبصورت سجاوٹ کو دیکھ اس نے بے یقینی کی سی کیفیت میں گھونگھٹ کے ہالے میں سے اپنے پہلو میں موجود چوہدری شہیر کو دیکھا تھا۔
وہ دونوں ہی اس وقت اپنی بھرپور وجاہت کے ساتھ کسی ریاست کے شہزادے و شہزادی کی مانند اس مہنگے بچھائے گئے قالین پر چلتے اسٹیج تک آئے تھے ان کو دیکھ کچھ ایسا گمان ہو رہا تھا جیسے وہ صرف ایک دوسرے کے لئے ہی بنے ہوں اور واقعی ایسا ہی تھا وہ دونوں ایک دوسرے کے لئے ہی بنائے گئے تھے ایک دوسرے کی ڈھال تھا تو دوسرا پہلے کی محبت و دیوانگی۔
وہ دونوں اسٹیج پر پہنچے ہی تھے کہ فاتح بھی ہاتھ میں مائک لئے ان کے پیچھے ہو لیا۔
“جی تو لیڈیز اینڈ جینٹل مین ! اب ہمارے دولہے راجا ہماری بھابھی صاحبہ یعنی اپنی دلہن کا گھونگھٹ اٹھانے کی رسم پوری کریں گے۔”
فاتح کی سحر زدہ آواز سے ماحول میں چھائے شور میں یکدم سا سکوت چھایا تھا لیکن اس کی آخری بات کے ساتھ ہی ماحول میں پھر سے تالیوں کی آواز گونج اٹھی۔
وہ دونوں اسٹیج پر کھڑے سب کی نظروں کا مرکز بنے ہوئے تھے ۔ جاناں تیار ہو ؟
آس پاس موجود عوام پر نظریں جمائے وہ اپنے سامنے کھڑی سحر کے گھونگھٹ کے پیچھے چھپے چہرے کو دیکھ سرگوشی نما آواز میں بولا تھا جس پر سحر نے سختی سے خود کی میکسی کو پکڑا اس کی زبان تو گویا تالوں سے چپک کر رہ گئی تھی شہیر نے ہولے سے سحر کا گھونگھٹ اٹھایا لیکن اگلے ہی لمحے وہ ٹھٹھک کر رہ گیا تھا جب سامنے وہ دلربا کسی پری پیکر کی مانند سجی سنوری نظریں جھکائے کھڑی تھی شہیر چوہدری کی نظریں اس کے ہوش ربا سراپے پر ہی اٹک گئی تھی جہاں وہ اس کے دل کو گھائل کرنے کے تمام ہتھیار سے لیس اس کی دسترس میں موجود تھی اس کے سامنے سحر نے اپنی جھل مل کرتی پلکیں اٹھا کر سامنے کھڑے اپنے شہزادے کو دیکھا تھا ایک لمحے کے لئے ہی صحیح لیکن دونوں کی آنکھیں دو چار ہوئی تھیں گہری آنکھیں بھوری آنکھوں سے ٹکرائی تھیں۔
ایک کی آنکھوں میں گھبراہٹ و محبت کی ملی جلی کیفیت تھی جبکہ دوسرے کی آنکھوں میں اپنی پری کو دیکھ محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر سحر کے وجود میں لرزش صاف واضح تھی شہیر بے اختیار ہوتا جھک کر سب کے سامنے اپنے لب پوری عقیدت و حق کے ساتھ اس کی پیشانی پر پیوست کر گیا تھا وہیں وہ حسین منظر کیمرے کی آنکھ نے قید کر لیا۔
ساری عوام انہیں رشک بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی جب کہ ان سب میں کوئی وجود ایسا تھا جو یہ تمام منظر جلتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا احمر چوہدری کے بس میں نہیں تھا کہ سب کچھ تہس نہس کر کے رکھ دے سحر و شہیر کو ایک ساتھ خوش دیکھ اس سے رہا نہیں جا رہا تھا کونے پر رکھی گئی کرسی بیٹھ گیا تھا وہ جب کہ اس کے پہلو میں موجود عمارہ تو خود شاکڈ تھی شہیر کو احمر کے بھائی کے روپ میں دیکھ اور سب سے زیادہ حیرت اسے تب ہوئی جب مسٹر فاتح کو بھی وہیں پایا تھا اس نے۔
“واؤ احمر مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ میرے باس ہی میرے جیٹھ جی ہیں اور ان کی وائف واؤ کتنی کیوٹ ہیں نا ۔”
سامنے اسٹیج پر موجود سحر و شہیر کی جوڑی کی دل سے تعریف کی تھی اس نے کہ عمارہ کی بات سن احمر نے ترچھی نظروں سے سحر کو دیکھا تھا جس کے چہرے پر شرمنگی مسکان کے ساتھ محبتوں کا گلال بچھا ہوا تھا۔
وہ دونوں کتنے خوش لگ رہے تھے ایک ساتھ احمر چوہدری کلس کر رہ گیا سحر کا ساتھ یوں شہیر کے ساتھ احمر کو زہر معلوم ہو رہا تھا وہ سر جھٹک کر رہ گیا۔
احمر اپنی سوچوں میں محو تھا کہ اچانک ہال کی لائٹس اوف ہوئی تھیں اور اسپاٹ لائیٹس جلائی گئی جو کہ ہال کے بیچ میں کھڑے چوہدری شہیر و سحر کو فوکس کیے ہوئے تھی بیک گراؤنڈ پر چلتا دل والے فلم کا گانا ماحول کو خواب ناک بنا رہا تھا۔
جنم جنم جنم ساتھ چلنا یونہی
قسم تمہے قسم آکے ملنا یہیں
ایک جان ہیں بھلے دو بدن ہو جدا
میری ہوکے ہمیشہ ہی رہنا
کبھی نا کہنا الوداع
سحر کے دونوں ہاتھوں کو شہیر نے اپنے کندھے پر رکھ اسکی کمر کو اپنے ہاتھوں سے تھام ہلکا ہلکا موو لیا تھا شہیر چوہدری کی نظریں اپنی سحر پر طاری تھیں جب کہ سحر کی نظریں نیچے زمین پر۔
میری صبح ہو تمہی
اور تمہی شام ہو
تم درد ہو تم ہی آرام ہو
میری دعاؤں سے آتی ہیں بس یہ سدا
میری ہوکے ہمیشہ ہی رہنا
کبھی نا کہنا الوداع
شہیر چوہدری نے سحر کو گول گھومایا تھا جس کے باعث اس کی میکسی کا گھیرا بھی گول گھومتے ہوئے ایک دلکش نظارہ پیش کرنے لگا تھا۔
تیری باہوں میں ہیں میرے دونوں جہاں
تو رہے جدھر میری جنت واہینجل رہی اگن ہیں جو یہ دو طرفہ
نا بجھے کبھی میری مانت یہی
تو میری آرزو، میں تیری عاشقی
تو میری شائری، میں تیری موسیکی
سحر کو گول گھوماتے ہوئے سحر کو اپنے دائیں بازو پر گرایا تھا جس پر وہ اپنی آنکھیں میچ کر رہ گئی تھی سحر کی اس ادا پر وہ دھیما سا مسکرا دیا۔
طلب طلب طلب بس تیری ہیں مجھے
نشوں میں تو نشہ بانکے گھلنا یوںہی
میری محبت کا کرنا تو حق یہ ادا
میری ہوکے ہمیشہ ہی رہنا
کبھی نا کہنا الوداع
گانے کے ان بولوں کے ساتھ ہی شہیر نے سحر کو اپنی بانہوں کے حصار میں سمو لیا تھا ان دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے کی آنکھوں سے چار ہوئی تھی جب کہ دور بیٹھا احمر اپنی بڑتی سانسوں کے ساتھ یہ سب دیکھ رہا تھا جہاں کچھ لوگوں کے چہروں پر مسکان تھی وہیں چوہدری وقاص ، چوہدری احمر کے چہرے نخوت زدہ سے ہو رہے تھے۔
میری صبح ہو تمہی
اور تمہی شام ہو
تم درد ہو، تم ہی آرام ہو
میری دعاؤں سے آتی ہیں بس یہ سدا
میری ہوکے ہمیشہ ہی رہنا
کبھی نا کہنا الوداع
گانے کے ان آخری شبدوں کے ساتھ ہی شہیر نے سحر کا سر اپنے سینے پر ٹکا دیا وہ دونوں ایک دوسرے میں ہی گم تھے کہ ہال کی لائٹس جل چکی تھی پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا سب کے چہرے کھل رہے تھے سحر شرماتے ہوئے پیچھے ہوئے تھی شہیر سے۔
پشمینہ ، میمونہ بیگم و سکینہ بیگم ہنستی ہوئی آئی تھیں اور اسے تھامتے ہوئے اسٹیج پر لے کر گئی شہیر کے ساتھ ساتھ سحر کے چہرے پر شرمیلی سی مسکان نمایاں تھی۔
“کتنے پیارے لگ رہے ہیں دونوں ایک ساتھ ، ایسا لگ رہا ہے جیسے ایک دوسرے کے لئے بنیں ہوں ویسے احمر آپ کے بھائی کتنے رومینٹک ہیں۔”
شہیر کے لئے سحر کی محبت کو دیکھ وہ پر رونق آنکھوں سے بولی تھی۔
“چلے آئیں انہیں مبارک باد تو دے آئیں ورنہ کیا سوچیں گے ہمارے بارے میں۔”
جب کہ یہاں ہوئی تھی احمر چوہدری کی بس ، وہ اٹھتا وہ سر جھٹکتے باہر کی جانب چل دیا جب کہ اس کو یوں غصے سے باہر جاتا دیکھ عمارہ کندھے اچکا گئی۔
©©©©
پورا کمرا تاریخی میں ڈوبا ہوا تھا جگہ جگہ پر رکھی گئی موم بتیاں دھیمی دھیمی روشنی روشنی کا باعث بن رہی تھیں اور یہی روشنی اپنا کمال دکھاتے ہوئے اس جہازی سائز پھولوں سے سجے بیڈ پر بیٹھی اس پروی وش کے چہرے پر بھی پڑ رہی تھی وہ پری اس لمحے کمرے میں تن تنہا بیٹھی اپنے شہزادے کا انتظار فرما رہی تھی لیکن اس کا دل دھک دھک کرتے ہوئے سو کی سپیڈ میں چل رہا تھا آج جو یہ سب تیاریاں شہیر نے اسکے لئے کروائی تھیں سحر کے لئے وہ ناقابل بیان تھیں شہیر کے ساتھ آج کے دن بیتے لمحات کو محسوس کیے وہ مسکرا دی تھی لیکن پھر آنے والے پلوں کو سوچ اس کے چہرے پر گھبراہٹ کا شکار ہو رہی تھی۔ نظریں جھکائے چہرے پر شرمنگی مسکان سجائے پھولوں و لڑیوں سے سجے بیڈ پر براجمان تھی سحر پہلے بھی کئی دن اس کے ساتھ گزار چکی تھی۔ مگر آج کے اس خوبصورت دن و انوکھے سے احساس نے اس کے دل میں بسیرا کر رکھا تھا وہ حسین شہزادہ اپنے خاندان والوں سے بہت مختلف تھا اس کے ہر ایک انداز میں بہت ہی دلچسپی نمایاں تھی۔
اس کو عزت دینا ، اس کا ہر چھوٹی و بڑی بات میں خیال رکھنا، اس کو ہر لمحے اپنے پن کا احساس دلانا یہاں تک کے پورے گاؤں والوں کے سامنے اس نے سحر کا اصل مقام بیان کروایا تھا۔
جہاں ایک بھائی نے اس کی عزت ، و خود اعتمادی کو رسوا کیا تھا وہیں دوسرے بھائی نے اس کی کھوئی ہوئی عزت و خود اعتمادی کو لوٹاتے ہوئے اصل درجا عنایت کیا اس کے چہرے پر ایک عجب مسکان سی تھی وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی کہ جب دروازہ کھلنے کی آواز اس پری وش کو ہوش میں لائی تھی اس کا دل تیزی سی لہر میں دھڑکنے لگا تھا چہرہ گلاب کے پھولوں کی مانند سرخ سا ہو گیا جبکہ مقابل موجود وہ مغرور محبتوں کا امین حسین شہزادہ اپنی شاہانہ انداز میں چال چلتا بیڈ پر سمٹ کر بیٹھی اس پری وش تک آیا اور اس کے قریب بیٹھ گیا تھا وہ آنکھوں میں تپش دیتے جذباتوں کا سمندر بھرتا اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا شہیر چوہدری کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ نمایاں تھی جس سے اس کی خوشی کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا آج وہ کتنا خوش تھا مطلب وہ محبت جس کو پانے کے لئے اس نے کیا کچھ نہ کیا آج وہ انوکھے انداز میں اس کی دسترس میں تھی آج وہ اس پر تمام اختیارات رکھتا تھا مقابل اس پری وش کی آنکھیں بھی شرم و حیاء کی بنا پر جھکی ہوئی تھیں چہرے پر چھایا وہ گلال شہیر چوہدری کو سرشار کرنے کے لئے کافی تھا سحر اپنی گود میں رکھے ہاتھوں کو مروڑ رہی تھی وہ کافی زیادہ کنفیوژن کا شکار تھی اس بات کا اندازہ شہیر جو اس کے ہاتھوں کو مروڑنے سے ہو گیا تھا شہیر اس کی کنفیوژ ہونے پر مسکراتا بہت ہی نرمی سے اسکا وہ لرزتا ہاتھ تھام گیا۔
“سردارنی صاحبہ”،
شہیر چوہدری کی زندگی میں شامل ہو کر اسکو مزید حسین بنانے کے لئے آپ کا بہت بہت شکریہ۔”
اس کے نرم ملائم ہاتھوں کو اپنے لبوں سے لگائے وہ مسکراتے ہوئے بول مقابل اپنی پری کی دھڑکنیں منتشر کر گیا۔
“ویسے آپس کی بات ہے بیگم صاحبہ ، آج آپ اپنی تیاری سے اپنے شوہر نامدار پر قہر ڈھا رہی ہیں۔”
اس کے کانوں کے پاس جھک وہ مسرور سی آواز میں گھمبیر لہجے میں بولا تھا کہ سحر اپنی جگہ سن سی ہو کر رہ گئی اس کو اپنی شور کرتی دھڑکنیں اپنے کانوں میں صاف سنائی دینے لگی تھیں شہیر چوہدری کی دلکش آواز نے ماحول میں ایک ساز سا چھیڑ کر رکھ دیا تھا۔
“جاناں منہ دیکھائی کی رسم تو ہم نیچے ہی سر انجام دے چکے تھے مگر اسکا تحفہ میں اب دے رہا ہوں امید ہے میری جان اسے قبول فرمائے گی۔”
کہتے الماری سے کاغذات کی کچھ فائل نکال کر لایا تھا وہ جو اس نے سحر کے ہاتھوں میں تھمائی لیکن اس کی آنکھیں حیرت کی زیادتی سے مزید پھیل چکی تھیں جب ان کاغذات پر اپنا نام تحریر پایا۔
“ش۔۔شہیر۔۔۔؟؟”
نا سمجھی کی سی کیفیت طاری ہوئی تھی اس پر جب کہ اپنا نام پہلی بار اس دلربا کے لبوں سے سن گویا وہ مسرور ہوا تھا۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہیں ؟
آپ کی منہ دیکھائی کے طور پر میں نے یہ جائیداد آپ کے نام کر دی ہے کیونکہ میرے اس قدم سے کسی کی ہمت نہیں ہو گی کہ آپ سے بدتمیزی کرے۔”
“شہیر یہ سب کیا۔۔؟؟”
وہ سر تھام گئی تھی اپنا ۔
“مجھے اس سب کی خواہش نہیں ، میں شکر گزار ہوں آپ کی کہ آپ نے یہ عزت بخشی لیکن مجھے ایسی منہ دیکھائی چاہیے اگر آپ مجھے عزت بخشتے ہوئے کوئی تخفہ دینا چاہتے ہیں تو ایک کام کریں۔
ہمارے گاؤں سے اس پست رسم کو ختم کر دیں کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ آئندہ کبھی کسی گھر میں سحر پیدا ہو جو کہ اپنے باپ ، بھائی کے خون کی بھینٹ چڑھائی جائے
“اگر ایسا ہو گیا تو اس کے ساتھ بھی جانوروں سے بتر سلوک کیا جائے گا ، اس کے لئے دن ، دن نہیں رات ، رات نہیں ہو گی اس کے لئے کوئی موسم نہیں ہو گا وہ ایک باندی بن کر رہ جائے گی “
پلیز اس بیہودہ رواج کو ختم کر دیں شہیر کیونکہ ہر بار ایسا ممکن نہیں کہ ہر گھر میں آپ جیسا بیٹا ہو جو مجھ جیسی سحر کا آئندہ مسیحا بن پائے “
کہتے وہ رو دی تھی کہ شہیر نے اس کے لبوں پر شہادت کی انگلی رکھ خاموش کروا دیا تھا۔
“سحر ، خود کو مضبوط کریں روتے نہیں ہیں ، آپ سے پہلے بھی کہا تھا کہ آپ سردارنی ہیں اب تو آپ اس حویلی کی مالکن میں بھی شمار ہوتی ہیں اسلئے اپنی شخصیت میں کچھ روب لائیں اور رہی بات یہ رسم ختم کرنے کی تو میرا آپ سے وعدہ ہے کہ ” اس رسم کو ختم کرنے کی میں ہر ممکن کوشش کروں گا ”
اپنے آخری جملوں کے ساتھ درمیاں میں رکھا وہ آخری فاصلہ بھی مٹا گیا تھا اور کسی گھٹا کی مانند چھایا تھا اس پر شہیر کی بڑھتی شوخیاں سحر کو شرمانے پر مجبور کر رہی تھیں کہ وہ خود میں سمٹ کر رہ جاتی تھی وہ اپنے رویے سے اس پر اپنی محبت عیاں کر رہا تھا آج ان کی وہ محبت کامل ہوئی تھی ، جس کا انتظار شہیر نے پل پل تڑپ کر کیا تھا آج وہ اپنی محبت کو پاک محرم کے رشتے کے طور پر حاصل کر گیا تھا۔
