Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj NovelR250487 Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 23
Rate this Novel
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 23
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj
صبح سویرے اسکی آنکھ پرندوں کے چہچہانے کی آواز سے کھلی تھی لیکن وہ فوراً ہی اپنی دونوں آنکھوں پر ہاتھ دھر گیا جیسے ہی سورج کی تیز شعائیں اس کے چہرے سے ٹکرائیں۔آنکھوں پر ہاتھ رکھے وہ آرام سے اٹھا تھا خود کو یوں میدان میں دیکھ اس نے اپنے ذہن پر زور دیا جیسے یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہو کہ وہ یہاں کیسے آیا لیکن اسکی یہ پریشانی بھی بہت جلد دور ہوئی تھی جب لاشعوری طور پر اسکی نظر سامنے اعلیٰ طرز پر بنی حویلی پر گئی رات کا ہر منظر اسکی آنکھوں کے سامنے لہرانے لگا کہ کیسے وہ بیچین سا آیا تھا یہاں پر سوچتے ہی ایک تلخ ہنسی اسکے چہرے پر در آئی۔
وہ مردہ قدموں سے اٹھ کر وہاں سے چل دیا تھا لیکن جاتے جاتے
زمین پر رکھی کانچ کی بوتل کو ٹھوکر مارنا نہ بھولا جو کہ زمین پر لاورثوں کی طرح گری پڑی تھی اس میں سے آدھے سے ذیادہ جام وہیں گر کر ضائع ہو چکا تھا پوری رات وہیں گزارنے کے باعث اسکے جسم اس کا انگ انگ درد سے ٹوٹ رہا تھا۔
اب سارے بندھن توڑ کہ
یادوں کو تنہاہ چھوڑ کہ
میں غم سے رشتہ جو کہ
جاؤں کہاں
©©©
آج حویلی کی رونقیں ہی جدا تھیں کچھ نفوسوں کے علاہ باقی سب کے چہروں پر ایک منفرد سی مسکراہٹ تھی ہوتی بھی کیوں نا شہیر چوہدری سرداری کے عہدے پر فائز ہونے جا رہا تھا۔
حویلی کے اراکین کے علاوہ ملازمین بھی بہت خوش تھے شہیر کو اس عہدے پر سوچ کیوں کہ احمر کی سنگ دلی کے باعث ہر کوئی اس سے خوف کھاتا تھا لیکن وہیں اسی گھر کا ایک فرد تھا شہیر جو طبعیت میں نرمی رکھتا تھا لیکن گناہ و غیر قانونی کام کرنے والوں کے لئے وہ ایک تپتے سورج کی مانند تھا جو ان کو اپنی لپیٹ میں لئے خاک کر دیا کرتا تھا۔
سفید شلوار قیمض میں کالے رنگ کی کھدر کی چادر کاندھے پر ڈالے دائیں ہاتھ کی گوری کلائی میں برانڈڈ کھڑی پہنے، پیروں میں پشاوری چپل اڑسے ، بالوں کو جیل کی مدد سے ترتیب دئیے وہ کافی وجیہہ لگ رہا تھا۔ آئینے میں سے خود کے عکس کو دیکھ سائیڈ پر رکھی مخصوص پرفیوم کی خوشبو خود کے وجود پر لگائی تھی جس سے پورا کمرا ہی ایک انوکھی خوشبو سے مہک گیا۔
خود پر ایک طائرانہ نظر ڈالے وہ سوچوں میں مگن سحر کی جانب متوجہ ہوا جو کہ اپنی ہی سوچوں میں جانے کیا خیالات بن رہی تھی۔
“کیا بات ہے بیوی نیا پاکستان بنانے کا سوچ رہی ہیں ؟”
سحر کے چہرے کے آگے چٹکی بجاتے اسے ہوش میں لانا چاہا تھا اس نے جو کہ خالی خالی نظروں سے اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔
“ن۔۔نہیں تو ..؟؟”
و ایکدم بوکھلائے ہوئے لہجہ میں گویا ہوئی۔
اسکے انداز پر وہ مسکرا گیا تھا۔
“بیگم چلیں ٹائم ہو گیا ہے سب انتظار کر رہے ہونگے۔”
سحر کی شال اسکے گرد اوڑتے وہ اپنائیت بھرے لہجے میں بولا تھا جبکہ اس نے احتجاج کرنا چاہا۔
“م۔۔مجھے وہاں نہیں جانا۔”
وہ شہیر کی آنکھوں میں دیکھ منمناتے ہوئے بولی تھی لیکن جلد ہی اسکی نظروں کی تپش سے گھبرا کر اپنے نین کٹوروں کو جھکا گئی تھی۔جب کہ سحر کی گھبراہٹ کو محسوس کیے شہیر نے دونوں شانوں سے تھام سحر کا چہرا اپنے روبرو کیا تھا کہ شہیر گرم پر تپش سانسیں اسکے چہرے کو جھلسانے کا کام کرنے لگی تھیں۔
” سحر اب آپ شہیر چوہدری کی بیوی ہیں آپ کی آنکھوں میں یہ خوف کچھ خاص جچتا نہیں اسلئے سر بلند کر کے جینا سیکھیں۔
آئندہ سے آپ کی آنکھوں میں مجھے خوف دیکھائی نہ دے”۔
کہتے وہ آخر میں اپنے لب پورے مان سے اسکی پیشانی پر پیوست کر گیا تھا پھر وہ دونوں ہی ہاتھ تھام حویلی سے چل دیے تھے۔
©©©
گاؤں کے میدان میں ایک بڑی پنچائیت بیٹھائی گئی تھی جہاں پر شہیر کو سرداری کے عہدے سے نوازا جانا تھا ۔میدان کے وسط میں چاروں طرف چارپائیاں لگائی گئی تھیں جس پر سارے بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے جب کہ بیچ میں رکھی گئی چارپائی پر بیٹھے چوہدری وقاص و چوہدری وقار گاہے بگاہے اپنی گھڑی پر نظر ڈال لیتے۔پنچائیت میں بیٹھے تقریباً سب لوگ ہی پچھلے بیس منٹ سے شہیر چوہدری کے منتظر تھے۔
“یہ لڑکا کہاں رہ گیا ہے ؟”
چوہدری وقار سامنے کی جانب دیکھتے الجھ کر بولے تھے کہ تبھی ان کی نظر ایک بلیک لینڈ کروزر پر گئی جو کہ دو منٹ کے وقفے کے بعد ہی ان سے کچھ ہی دوری پر کھڑی ہو گئی تھی اور اس میں سے نکلنے والی ہستی کو دیکھ سب ہی تقریباً شاک میں چلے گئے۔
پنچائیت میں بیٹھے سب لوگ آپس میں چہمگوئیاں کرنے لگے تھے جب کہ چوہدری وقاص غصے سے کھولتے اپنی نشست سے ہی کھڑے ہو گئے۔
اپنی پوری وجاہت کے ساتھ وہ کندھے پر پہنی اس شال کو ایک ادا سے ٹھیک کرتے ہوئےگاڑی سے اترا تھا ساتھ ہی ہاتھ بڑھائے سحر کو بھی اترا تھا جو کہ کنفیوژ سی ہوتی اسکے ساتھ دبکی کھڑی تھی۔
اتنے سارے لوگوں کو دیکھ وہ پریشان سی ہو رہی تھی شہیر کے ہاتھ میں موجود اسکا ہاتھ لرز رہا تھا جس پر شہیر نے ایک نظر اسکو دیکھ اسکے ہاتھ پر گرفت کیے اپنے پن کا احساس دلایا اور سب کے بیچ میں سے چلتا ہوا گیا تھا۔
“یہ لڑکی یہاں کیا کر رہی ہے؟”
چوہدری وقاص غراتے ہوئے بولے تھے اور ساتھ ہی کاٹ دار نظروں سے سحر کے وجود کو دیکھا جو کہ اتنے لوگوں کی نظریں خود پہ پاکر گھبرا رہی تھی۔
“کیوں تایا سائیں کیا ہوا ؟
کیا میں نہیں لا سکتا ؟”
ان کی آنکھوں میں دیکھ بظاہر مسکراتے سرد ترین لہجے میں بولا کم غرایا زیادہ تھا۔
“نہیں بیٹا میں نے ایسا کب کہا میں تو بس یہ کہہ رہا ہوں کہ ایک حویلی کی عورت کا یہاں کوئی کام نہیں۔”
شہیر کو بگڑتا دیکھ وہ بات بدل گئے تھے۔
جب کہ ان کی بات سن وہ مسکراتے ہوئے اکڑو سا چارپائی پر ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے بیٹھ گیا جب کہ چہمگیویاں کرتے ہجوم پر ایک کٹیلی نظر ڈالی تھی جس پر وہ سب ہی خاموشی سے ہو گئے تھے۔
“چلیں جلدی کریں جو بھی رسم ہے شروع کریں مجھے اور بھی بہت سے کام ہیں۔”
بیزار سا کہتے اس مغرور شہزادہ نے اپنی گھڑی کی جانب دیکھا تھا۔
شہیر کے موڈ کو سوچتے چوہدری وقاص وہاں بیٹھی پیچائیت کی جانب متوجہ ہوئے۔
“جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ اب تک اس گاؤں کا سردار میں رہا ہوں لیکن بڑھتی عمر کے ساتھ یہ سرداری کا عہدہ میں اپنے بھتیجے شہیر چوہدری کو اس امید سے سونپتا ہوں کہ وہ گاؤں کے نظام کو بھرپور طریقے پر نبھائیں گے۔”
اپنی بات کے مکمل ہوتے ہی ان نے وہ پگ شہیر کو پہنانے کے لئے جیسے ہی اٹھائی تھی وہ بیچ میں ہی ان کا ہاتھ روک گیا تھا۔
پنچائیت میں لوگوں کا تالیاں بجاتا ہاتھ تھم سا گیا تھا اچانک ہی ماحول سکوت زدہ سا ہو گیا۔
“گستاخی معاف تایا سائیں ! مگر میں یہ پگ اپنی بیوی کے ہاتھوں پہننا چاہوں گا۔”
شہیر کی اس بات نے جہاں چوہدری وقاص کے چہرے کا رنگ زرد مائل کیا تھا وہیں سحر نے اپنی ویران آنکھیں اٹھائے اس دشمنِ جاں کو دیکھا تھا۔
“مگر شہیر بیٹا یہ ہمارے رواج میں نہیں ہے۔”
اپنے بھائی کا غصے سے زرد چہرا دیکھ چوہدری وقار نے شہیر کو سمجھانا چاہا تھا مگر وہ ان کی بات بھی ٹال گیا۔
“نہیں بابا سائیں اگر یہ رواج میں نہیں ہے تو آج سے اسے رواج میں شامل کر لیجیے ویسے بھی مرد و عورت دونوں کے حقوق و فرض ایک ہی ہیں اسلئے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ رسم ایک مرد ادا کرے یا عورت ۔”
اٹل لہجے میں کہتا وہ اپنے پیچھے کھڑی سحر کا ہاتھ تھام آگے کر گیا تھا اور چوہدری وقاص کو آنکھوں کے اشارے سے پگ سحر کو تھمانے کا کہا جس پر وہ کلس کر رہ گئے اور خاموشی سے وہ پگ سحر کے ہاتھوں میں تھما دی۔
“پہناؤ۔۔”
چوہدری وقاص نے کاٹ دار نظروں سے سحر کے وجود کو دیکھ بھرم سے کہا تھا جسے سن وہ شہیر کے سر پر پگ پہنانے کو آگے بڑی تھی اسکے ہاتھوں میں لرزش صاف واضح تھی جب کہ چہرا پسینے سے تر ہو رہا تھا۔ پگ پہنا کر وہ پیچھے کو ہٹی تھی کہ وہ پوری پنچائیت ہی تالیوں کے شور سے گونج اٹھی وہ فخریہ مسکان چہرے پر سجائے اپنی نشست سے کھڑا ہوا تھا چوہدری وقار نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے گلے لگایا اور مبارک باد دی جسے اس نے بھی مسکرا کر قبول کیا اور پھر وہاں موجود لوگوں کی جانب متوجہ ہوا۔
“اب جیسا کہ آپ سب جان چکے ہیں کہ میں یعنی کے چوہدری شہیر آپ سب کا ، اس گاؤں کا ایک نیا سردار۔۔۔”
کہہ کر وہ کچھ پل کے لئے رکا تھا اور سحر کی جانب دیکھا جو جب حسبِ معمول نظریں جھکائے کھڑی زمین کو گھورنے میں مصروف تھی شہیر نے سب کے سامنے اسے محبت سے تھام اپنے قریب کیا جس پر وہ بوکھلا کر رہ گئی اور حیران کن نظروں سے اسکی جانب دیکھنے لگی جو کہ اب اپنی نظریں واپس سامنے مرکوز کرتے ہوئے اپنا کلام جاری کیا۔
“اور یہ آپ سب کی سردارنی یعنی کہ میری بیوی سحر شہیر چوہدری ہیں۔ان کا ادب ، ان کی عزت و احترام آپ سب پر واجب ہے۔ان کو آپ اتنی ہی عزت دیں گے جتنی ایک سردارنی کو دی جاتی ہے۔
باقی جہاں تک رہی آپ لوگوں کے حقوقِ کی بات ان شاءاللہ اس میں آپ کو کبھی شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔”
وہ استحقاق سے اسکے گرد حصار بنائے کھڑا تھا وہ ٹرانس سی کیفیت میں شہیر کو دیکھتے ہوئے اس کے ہر لفظ کو سنتے ہوئے اپنے دل میں اترتا محسوس کر رہی تھی۔
کیا یہ وہ جگہ نہ تھی جہاں اسکی ذات کو کم تر ظاہر کیے ، اس معصوم کا خون کے بدلے سودا کیا گیا تھا؟
کیا یہ وہ جگہ نہ تھی جہاں وہ ستمگر اسے کھنچتے ہوئے قید خانے میں لے کر گیا تھا صرف نام نہاد بدلے کی خاطر ؟؟
لیکن آج ! اسی گھر کا ایک فرد اسے ایک اعلیٰ مقام عطا کر گیا تھا کیا ظالموں کے بیچ میں مسیحا بھی پائے جاتے ہیں؟
ہاں یہ حقیقت ہے جہاں ایک بھائی نے ظلم ڈھانے میں کوئی کثر نہ چھوڑی تھی وہیں دوسرا بھائی اس کو محبتیں و عزتیں دے نہیں تھک رہا تھا اتنی عزت و اپنائیت پر وہ اپنی آنکھوں میں بہنے والے ان اشکوں کو نہ روک سکی تھی۔
“اور ہاں ایک بات اور۔۔
جاتے جاتے وہ واپس پلٹا تھا۔۔
اس اتوار ہمارا ولیمہ ہے آپ سب نے ضرور شرکت کرنی ہے۔”
اپنی مخصوص پر رونق مسکراہٹ کے ساتھ کہتا وہ اپنی پری کو لئے وہاں سے چل دیا جب کہ پیچھے کھڑے چوہدری وقاص کا چہرا حیرت کی زیاتی سے کھل چکا تھا انہیں ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ شہیر نے جو لفظ کہیں ہیں وہ حقیقی ہیں۔
اپنے امڈ آنے والے غصے کو ضبط کیے آنکھوں پر چشمہ سجائے وہ بھی انہی کے پیچھے چل دئیے تھے۔
©©©
کچھ گھنٹوں پہلے زیشان باہر سے آرہا تھا کہ گلی کے کونے پر بیٹھے کچھ لڑکوں کی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی جو کہ آپس میں کسی ونی کے بارے میں باتیں کر رہے تھے اور یہی وہ لمحہ تھا جب اسکے کان کھڑے ہوئے اور وہ وہیں ان کے پاس کھڑے بغور ان کی باتیں سننے لگا۔
“چوہدری کی حویلی میں ونی کی جانے والی لڑکی پر صحیح قسم ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔اتنا عبرت ناک سلوک کرتے ہیں وہ لوگ کہ کئی بار تو ونی موت کے منہ میں جاتی جاتی بچی ہے۔
بیچاری کی بہت غیر حالت کر رکھی ہے ان نے۔”
وہ لڑکا انتہائی افسوس ظاہر کیے بولا تھا جب کہ زیشان کے لئے اب وہاں مزید کھڑے رہنا دوبھر ہو رہا تھا ایک گھٹن سی بڑھنے لگی دل میں گلٹ سا پیدا ہو رہا تھا تب ہی وہ وہاں سے گھر کی جانب ہو لیا۔
اور گڑگڑاتے ہوئے وہ خدا کے حضور سجدے میں جھکا تھا آنسوں اس کی آنکھوں کو بھگو رہے تھے بے شک وہ جوش میں آکر ایک انتہائی قدم اٹھا گیا تھا لیکن اب وہی قدم اسکے قدموں کو زنجیروں کی مانند جکڑ گیا تھا کہ جینا اس پر بھاری ہونے لگا۔
“یا آلله ! خود کو اس بوجھ تلے محسوس کیے میں نہیں جی پا رہا۔
میں نے ایک معصوم جان کو زندہ ہی جہنم کی جلتی آگ میں دہک دیا میں نے۔۔میں نے اپنی ہی محبت کا خود گلا گھوٹ کے مار دیا۔۔
جس محبت کی م۔۔میں عبادت کرتا تھا اسکی کو کفن پہنا ڈالا مجھے معاف کر دے خدایا۔
مجھے سکون دے ، مجھے سکون دے ۔۔
میں تو اس سے نظریں ملانے کے قابل ہی نہ رہا۔۔
کیوں اللہ کیوں میں ہی ؟؟؟
میں ہی کیوں ملا تجھے امتحان کے لئے ؟؟
جب میری۔۔۔ میری محبت ہی چھین لی ہے تو مجھے زندہ کیوں رکھا ہے موت دے دے مجھے بھی۔ نہیں جینا مجھے اس بے رنگ دنیا میں۔”
وہ توانا نظر آنے والا مرد رو رہا تھا خدا کے حضور بے شک اپنے سکون کے لئے صحیح اس نے خدا کو یاد تو کیا۔
وقت کے کتنے نشاں ہیں زرے زرے میں یہاں
دوستوں کے ساتھ کے پل کچھ حسین کچھ غم زدہ
سب ہوا اب تو فنا بس رہا باقی دھواں
