Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 27

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj

کھیتوں و باغات کی سیر کرنے کے بعد ان سب نے واپس حویلی کی راہ لی تھی البتہ چوہدری احمر عمارہ کی ضد کرنے پر اسے مزید گاؤں کی سیر کروانے کو نکل پڑا تھا۔

“کتنا وقت ہو گیا لیکن آج بھی کچھ نہیں بدلا ، سب ویسے کا ویسا ہی ہے؟”

آس پاس موجود ، مکانات اور زمینیں دیکھ وہ کھوئے ہوئے لہجے میں گویا ہوئی کہ احمر چوہدری نے چونک کر اس کی جانب دیکھا تھا۔

“کیا مطلب ، کیا تم پہلے بھی اس گاؤں میں آچکی ہو؟”

عمارہ کی آنکھوں میں دیکھ وہ اچھنبے سے بولا کہ وہ گڑبڑا کر رہ گئی ۔

“ن۔۔نہیں تو ، ایسا کب ممکن ، میں یہاں تنہاہ آ ہی نہیں سکتی تھی ، بس ایک دو بار اس گاؤں کی جھلکیاں نیوز میں دیکھی تھی جب کئی حادثات ہوا کرتے تھے۔”

ہوا کے باعث چہرے پر بکھرتے ان بالوں کو اس نے ایک جانب کیا تھا ساتھ ہی احمر چوہدری کی بات کا جواب ، چہرے پر اداس مسکان سجائے دیا۔

“اوو ویل ! ورنہ میں تو شاک ہی ہو کر رہ گیا تھا تمہاری اس بات سے۔”

“احمر ایک بات تو بتائیں… کیا آپ آج بھی مجھ اتنی ہی محبت کرتے ہیں “..؟

اسکی آنکھوں میں دیکھ وہ سرسراتے لہجے میں گویا ہوئی۔

“کوئی شک بھلا ؟؟”

چوہدری احمر کا سرسراتا جواب عمارہ کے کانوں سے ٹکرایا تھا وہ پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے اپنی جگہ پر اسٹیل کھڑا کسی نقطے پر غور فرما رہا تھا حتیٰ کے عمارہ کی آنکھوں میں دیکھنے کی غلطی نہیں کی گئی تھی۔

“شک تو نہیں ، یقین ہے ، نا جانے مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ تم میرے پاس ہو کر بھی میرے نہیں۔”

وہی عجب افسوس سے پر لہجہ ، جس میں کرب و رنج نمایاں تھا۔

“او کم ان ڈارلنگ ! چلو چھوڑو ان سب باتوں کو ، مجھے یہ بتاؤ تمہیں ان میں سے کون سی زمین چاہیے ؟؟”

عمارہ کو اپنے بازوؤں کے حلقے میں لیتے ، اسکی آنکھوں میں دیکھ احمر چوہدری مسکرا کر بولا گویا اس کا دھیان بٹانا چاہا تھا لیکن اس کی بات سن عمارہ کی آنکھوں میں یکدم ہی چمک رونما ہوئی تھی ۔

“سچی ؟؟”

اپنی جگہ اسٹیل ہو کر رہ گئی تھی وہ گویا احمر کی باتوں پر اسے یقین نہ آیا ہو ۔

“ہمم.. ” عمارہ کی خوبصورت چہرے کو دیکھ وہ اثبات میں سر ہلائے مخالف سمت دیکھنے لگا تھا کہ عمارہ نے یکدم اسے گلے لگایا تھا خوشی کے باعث۔

“ی۔۔۔یہ ۔۔یہ والی ، ” وہ دوڑتے ہوئے گئی تھی وسط میں بنی گئی زمین پر کسی دیوانے کی مانند جہاں ہر طرف میدانی مٹی بھری ہوئی تھی۔

احمر کونے میں کھڑا بہت ہی باریکی سے عمارہ کے رویے کا جائزہ لے رہا تھا جو کہ وہاں کی مٹی کو ہاتھوں میں بھرے ہوئے مسکرا رہی تھی احمر چوہدری کو سمجھ نہ آیا وہ ایسا کیوں کر رہی ہے۔

سب سے زیادہ احمر چوہدری تب حیران ہوا تھا جب وہی مٹی تھام عمارہ نے اپنے ماتھے پر لگائے رو دی۔وہ لمحوں کے ہزارویں حصے میں اس تک پہنچا اور فوراً ہی کھڑا کیا تھا۔۔۔

“عمارہ کیا ہو گیا تمہیں ، کیا سب ٹھیک ہے نا ؟؟”

اس کو وہیں زمین پر بیٹھے روتے دیکھ وہ واقعی پریشان ہو گیا تھا لیکن عمارہ نے احمر کو دیکھتے ہی اپنے آنسوں پہنچے۔

“ہ۔۔ہاں م۔۔میں ٹھیک بس ایسے ہی وہ کچھ یاد آگیا۔”

کہتے کپڑے صاف کیے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی۔۔۔

روتے ہیں کیوں پوچھے کوئی

دے خوشی لوٹے کوئی

©©©

“چلو شہیر اب ہم چلتے ہیں !

بہت شکریہ ہمیں برداشت کرنے کے لئے۔”

فاتح ، شہیر کو زور سے گلے لگائے بولا تھا کہ اس کی آخری بات پر قہقہہ گونجا تھا شہیر کا۔

“بس کر دو زیادہ بونگیاں مارنے کی ضرورت نہیں۔”

فاتح کی کمر پر تھپکی دی تھی شہیر نے ساتھ ہی نفی میں سر ہلاتے منہ بنائے بولا۔

“سیریسلی ! بھائی آپ لوگوں کا گاؤں بہت ہی شاندار ہے ۔

دلکش ! مزہ آگیا کتنا خوبصورت گاؤں ہے اور سب سے بڑھ کر یہاں کے آم کچھ زیادہ ہی عمدہ ہیں۔

آپ سب نے کتنی اچھی خاطر داری کی ہے نا !!

بہت یاد آئیں گے آپ سب ۔”

پشمینہ کی بات سن ، جہاں فاتح مسکرایا وہیں شہیر و سحر کے لبوں پر مسکان آن ٹھہری تھی۔

“پر مجھے تو ایسا لگتا ہے شہر کی الجھنوں میں آپ ہمیں کہیں بھول ہی نا جائیں اسلئے میں چاہتی ہوں آپ ہمیشہ ہمیں یاد رکھیں”

اپنی بات کے اختتام پر ہی سحر نے ملازم کو اشارہ کیا تھا جسے سمجھ وہ آم کی دو پیٹیاں ، اٹھا لایا اور فاتح کی گاڑی میں رکھوانے لگا۔

“ارے یہ کیا ، “…؟؟

مینہ خوشی و حیرت کی ملی جلی سی کیفیت میں گویا ہوئی تھی ساتھ ہی تھوڑی شرمندگی کے آثار اس کے چہرے پر نمایاں ہوئے جسے فاتح محسوس کر گیا تھا۔

“تحفہ ہے ہماری جانب سے .

ہمارے گا5وں کا رواج ہے جب بھی کوئی ہمارے گاؤں میں آئے اسے خالی ہاتھ نہیں بھیجا جاتا اور میں امید کروں گی کہ آپ اس کو قبول فرمائیں گی۔”

پشمینہ کے ہاتھوں کو تھامے وہ مسکرا کر بولی ساتھ ہی گلے مل اس کو الوداع کیا۔

کچھ ہی دیر میں ، ان کی گاڑی حویلی کی دہلیز کو پار کرتی نکلتی چلی گئی تھی۔ ایک طرف سے فاتح لوگوں کی گاڑی نکلی تھی اور دوسری جانب سے احمر چوہدری کی گاڑی حویلی میں داخل ہوئی۔

گاڑی سے اترتے ہی عمارہ نے جیسے ہی شہیر و سحر کے پاس جانا چاہا تھا احمر اس کے ہاتھوں کو تھام اسکے قدم وہی روک گیا تھا۔

“کدھر ؟؟”

بھنھونے اچکائے وہ تشویش کن لہجہ میں گویا ہوا۔

“سحر لوگوں کے پاس !”

“کوئی ضرورت نہیں ہے سیدھا اوپر چلو۔”

عمارہ کو جھڑک ، اسکا ہاتھ تھام اس کو اوپر کھینچتے ہوئے لے کر گیا تھا۔

“احمر کیا ہو گیا ہے آپ کو ؟؟؟

کیوں سائیکو بنتے جا رہے ہیں ؟؟”

“شٹ اپ عمارہ ، دوبارہ بس تم مجھے ان کے آس پاس دیکھائی نہ دو۔”

بنا اس کا جواب سنے وہ واشروم میں چل دیا۔

©©©

اندھیری گفا

اس گفا میں موجود وہ تنہا کھڑی شہیر کا انتظار کر رہی تھی۔

“شہیر !

شہیر “….

اس کو صدائیں لگائے سحر نے اپنے قدم آگے کو بڑھانے چاہے تھے کہ اسی وقت ایک ہیولہ سا نمودار ہوا جو لمحہ با لمحہ طویل ہوتا اس کے سر پر آن پہنچا۔

“شہی۔۔شہیر یہ آ۔آپ ہیں”…؟؟؟

چہرے پر آنے والے پسینے کو اپنے ڈوپٹے کے پلو کی مدد سے صاف کیا لیکن اچانک ہی اس کے ہوش صلب ہوئے جیسے ہی کسی کا ہولناک قہقہہ اس کو گفا میں گونجتا محسوس ہوا۔

“ک۔۔کون ہے ؟؟؟

شہیر کہاں ہیں آپ ؟؟”

بھاگنے کی سعی کرتی وہ بھوکلائے ہوئے انداز میں بولی تھی کہ مقابل نے اس کے وجود کو اپنی آہنی گرفت میں جکڑا۔

“مر گیا تمہارا شہیر ، اور اب ” تمہاری باری “.

کیا سوچا تھا تم لوگوں نے ہماری دولت ، ہماری جائیداد پر قبضہ کر لو گے اور ، اور ہمیں یوں رسوا کر دو گے تو یہ تم دونوں کی بہت بڑی بھول ہے کیونکہ۔۔ کیونکہ جب تک احمر چوہدری حیات ہے تم لوگوں کی یہ پلاننگ نا کارہ ہے .”

سحر کے جبڑوں کو اتنی سختی سے بھینجا تھا کہ وہ تڑپ کر رہ گئی۔

“ن۔۔نہیں تم ۔۔شہیر کو نہیں م۔۔مار سکتے

ب۔۔بھائی ہیں و۔۔وہ تمہارے “”

اپنے آپ کو سحر نے احمر کی سخت ترین گرفت سے نکالنا چاہا تھا۔

“آنہاں ! سحر ڈارلنگ یوں رشتے کا احساس نہ دلاؤ۔”

آنکھوں میں عجیب سی وحشت لیے وہ دھاڑنے کے سے انداز میں بولا تھا کہ سحر نے افسوس کن نظروں ، بہتی آنکھوں سے احمر کی آنکھوں میں دیکھا جہاں صرف و صرف وحشت و آوارگی نمایاں تھی۔

“سحر ڈارلنگ ! اگر تم یہ سوچ رہی ہو کہ تم اپنی اس خوبصورت آنکھوں و ہوش رپا سراپے سے مجھے گھائل کر سکتی ہو تو یہ تمہاری بہت بڑی بھول ہے۔”

لب اس کے کان پر پاس رکھ وہ گھمبیر ، خمار آلود لہجے میں گویا ہوا کہ سحر نفرت کی انتہا کو پہنچتی اپنا رخ بدل گئی کہ احمر نے قہقہ لگائے اپنے ہاتھوں کا دباؤ اس کی گردن پر مزید سخت کیا کہ سحر کی آنکھیں باہر کو ابلنے لگی تھیں۔

“ن۔۔نہیں اح۔۔۔احمر چھوڑ دیں م۔۔مجھے م۔۔مت ما۔۔ماریں۔۔

م۔۔میری س۔۔سانس۔۔میری سانس نہیں آ رہی۔”

اب کے سانس بند ہونے اور گلے پر بڑھتی شدید تکلیف کے باعث وہ اس کے سامنے گڑگڑاتے پر مجبور ہو چکی تھی کہ سحر کی بے بسی کو دیکھ وہ وحشی آنکھوں سے مسکرا رہا تھا۔

“سحر !!”

شہیر جو پاس کی لیپ ٹاپ پر مصروف کام کر رہا تھا کہ سحر کی بڑبڑاہٹ اور پھر اچانک ہی اس کی چلاتی آواز نے اسے الرٹ کیا تھا اپنے لیپ ٹاپ کو وہیں پھینک کر وہ فوراً سحر کے قریب آیا اور اس کو جھنجھوڑ کر نیند سے اٹھایا تھا اس نے ، جو کہ حواس باختہ سی آس پاس کے ماحول کو سمجھنے کی سعی کر رہی تھی۔

“و۔۔وہ وہ مجھے مار دے شہیر

م۔۔مجھے بچا لیں پلیز۔”

اپنے بالوں کو نوچتے وہ پاگلوں کی مانند چلا رہی تھی شہیر نے دیکھا تھا کہ اس کا معصوم و بھولا سا چہرا پسینے اور آنسوں سے تر ہے وہ گھبراہٹ میں بھوکلائی ہوئی تھی۔

“کون ؟؟ کس کی بات کر رہی ہیں آپ ؟؟”

سحر کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھر اسکی بھیگی آنکھوں میں دیکھ کہا تھا شہیر نے کہ لمحے بھر کے لئے وہ ساکت ہوئی تھی۔

“و۔۔وہ احمر ” ۔۔

کہتے وہ اپنا سر گھٹنوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

“سحر ، سحر ریلکس !”

اس کی کمر پر تھپکی دئیے اس کو پر سکون کرنا چاہا تھا جو کہ فلوقت ناممکن سا معلوم ہو رہا تھا۔

“کوئی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ، کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ آپ کو تکلیف پہنچائے جان لینا تو بہت دور کی بات ہے۔ جب تک شہیر چوہدری کا نام و سایہ آپ کے ساتھ ہے کوئی آپ کی جان لینے کی غلطی بھی نہیں کر سکتا

اور جہاں تک رہی بات اس احمر کی تو ، ” اس کی باتوں اور رویے کو پوری طرح سے آپ نے اپنے سر پر سوار کر لیا ہے بھول جائیں ماضی کو اگنور کر دیں ،، بس یاد رکھیں تو اتنا کہ آپ سے بے پناہ محبت کرنے والا آپ کا شوہر آپ کے ساتھ ہے۔”

ٹرانس سی کیفیت میں کہتا اس کو پر سکون کرنے کے لئے ، اپنی محبت کا احساس دلانے کے لئے وہ اپنے لب اس کے گالوں پر رکھ گیا تھا لیکن سحر اپنا رخ بدل گئی۔

“جب ماضی اتنا تلخ و زخموں سے چور ہو تو نا چاہتے ہوئے بھی اس کے گھاؤ یاد آ جایا کرتے ہیں۔ ان ماہ و سال نے میری روح و جسم پر اس قدر گہرے زخم چھوڑیں ہیں کہ میں آج بھی انہیں اپنی زات میں محسوس کرتی ہوں”۔

بستر سے اٹھ اپنے پیر اس نے ٹائل پر بچھائے گئے اس مہنگے قالین پر رکھے پھر من من قدم بھرتی گیلری میں چل دی جہاں سے آتی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اس کی طبعیت کو خاصی اچھی معلوم ہو رہی تھی۔

“لیکن جب حال میں ، کوئی شخص آپ کو ایسا مل جائے جو آپ کے ماضی کے تمام زخموں کو خود میں سمیٹ ، حال کی نئی ، محبتوں سے لبریز خوشگوار یادوں سے مالا مال کر دے پھر “..؟؟؟

“کیا تب بھی آپ ماضی کی تلخ یادوں میں کھوتے ہوئے نئے لمحات و رشتے کو مایوس کریں گی ” یا پھر ” ماضی کو بھولائے ، حال کے رشتے کو معنی دیں گی ؟؟”

گلیری میں کھڑی سحر کو پیچھے سے اپنے نرم حصار میں لیے اسے خود میں سمیٹا تھا ساتھ ہی اپنی باتوں سے وہ اس کے دماغ کو گہری سوچ میں لے ڈوبا تھا۔

“سحر میں چاہتا ہوں آپ سب کچھ بھولا کر بس ہمارے رشتے پر نظر ثانی کریں میں نہیں چاہتا کسی اور کی وجہ سے ہمارے رشتے میں دراڑیں آئیں کیونکہ بہت مشکل و چاہ کے بعد آپ کو پایا ہے۔

جانتی ہیں ، آپ وہ لڑکی ہیں جس نے شہیر چوہدری کے دل میں بنا کسی لالچ و بے حیائی کے بغیر گھر کیا ہے۔

کہتے ہیں کسی دور میں خوبصورت وادیوں کے بیچ ایک بہت حسین پری رہتی تھی جس کی خوبصورتی کے چرچے دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔

ایک دن وہ پری گھومنے کے لئے اس وادیوں میں اپنی سہیلیوں کے سنگ تشریف لاتی ہے کہ پاس میں موجود ایک لڑکا اس پری کو دیکھ اس کے حسن کا گرویدہ ہو جاتا ہے “اگر کہا جائے تو پہلی نظر کی محبت و عشق “۔۔

لیکن پھر ” اچانک ہی وہ پری لا پتا ہو جاتی ہے ، وہ لڑکا اس کو ہر در ، ہر جگہ ، شہر شہر ڈھونڈتا ہے ، اس کی یادوں میں تڑپتا ہے لیکن وہ پری اس لڑکے کو نہیں ملتی ، اس لڑکے کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ پری کہیں بہت بڑی مشکل میں ہے اور پھر ہوتا بھی یہی ہے۔

کچھ مہینوں بعد اس لڑکے کو معلوم ہوتا ہے کہ ایک دیو ہے جو اس پری کو اپنی قید میں لے جا چکا ہے یہ سننا تھا کہ وہ لڑکا اشتعال میں آجاتا ہے اس کی کیفیت غم و غصے کی سی ہو کر رہ جاتی ہے۔

وہ دیو ، اس پری ہر بہت ستم ڈھاتا تھا ، وہ پری تکلیف کی انتہا کو پہنچ چکی تھی کہ اپنے مرنے کی دعائیں کرنے لگی وہ معصوم سی کلی ، اب مرجھانے لگی تھی۔ وہ لڑکا جب اپنی محبت کا ایسا حال دیکھتا تو اپنی قسمت پر پھوٹ پھوٹ کر رو دیتا لیکن پھر ایک دن ایسا آیا جو دونوں کی قسمت بدلنے کے لئے کافی تھا

اپنی کوشش و لگن کے باعث وہ لڑکا اپنی پری کو ، اس دیو کی جان لیوا قید سے رہائی دلوا دیتا ہے اور پری ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کی ہو کر رہ جاتی ہے۔

اور جانتی ہو سحر ؛ وہ پری کون ہے “..؟؟

اس کی دہکتی سانسیں سحر کے کان کی لو کو چھو رہی تھیں۔

“ک۔۔کو۔۔کون ؟”

کانپتی ، آواز کے ساتھ استفسار کرنا چاہا لہجے میں ایک جستجو بھی نمایاں تھی جس نے شہیر چوہدری کے احساسات کو مزید ، پر جوش کیا تھا۔

“سحر شہیر چوہدری نام ہے اس پری کا

جو کہ صرف و صرف شہیر چوہدری کی پری ہے اور آخر تک رہے گی۔

بے شک ! میری زندگی میں آنے سے پہلے آپ نے کئی تکلیفیں سہی لیکن اب ؛ اب نہیں اب آپ کی ذات صرف و صرف شہیر چوہدری کے گرد گھومتی ہے اور میرا وعدہ ہے کہ اپنی پری کو زندگی کے ہر اونچ نیچ سے بچا کر رکھونگا۔”

خمار آواز میں بوجھل پن سمیٹے وہ اپنی پری کو محبت کا احساس دلا رہا تھا جب وہ پری وش آنکھیں موندے شہیر کے لفظوں کو محسوس کر رہی تھی۔

میں عشق تہ کر لیا ہے مینوں وفا چاہیے

اکھیاں نوں تیری دید دی پناہ چاہیے

اثر دوائے چھڈ گئی دعا چاہیے