Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 35

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj

اپنے ماتھے پر پسٹل رکھ احمر نے جیسے ہی گولی چلانی چاہی تھی کہ بایر جاتے شہیر چوہدری کی نظر اس پر پڑی وہ لمحوں کے ہزارویں حصے میں اس تک پہنچا تھا اور پسٹل والا ہاتھ اوپر کی جانب کیا۔

“احمر تم کہیں عقل سے پیدل تو نہیں ؟

دماغ ٹھکانے پر یا کہیں جل گیا یے ؟”

کانوں پر ہاتھ رکھ خوف سے لرزتی سحر کو اپنے مضبوط حصار میں لئے وہ احمر چوہدری پر غرایا تھا۔

“سحر کی حالت سے تم اچھی طرح واقف ہو لیکن پھر بھی اسے ٹارچر کرنے سے بعض نہیں آئے آخر ایک ہی مرتبہ میں بتا کر قصہ تمام کر دو کہ تمہیں کیا بیر ہے ہمارے ساتھ؟

اپنی اولاد تو کسی سانپ کی مانند نگل ہی چکے ہو اب کیا میری اولاد کو بھی ختم کرنے کا بد ارادہ بنا آئے ہو؟ “

شہیر چوہدری کی اس بات سے احمر چوہدری کے دل میں ایک ہوک سی اٹھی تھی شدتِ ضبط سے وہ آنکھیں میچ گیا ہاتھوں میں تھامی گئی وہ پسٹل نیچے زمین بوس ہو کر رہ گئی۔

“جاؤ نکل جاؤ یہاں سے احمر ورنہ اب تمہاری جان میں اپنے ہاتھوں سے لینے میں لمحہ نہیں لگاؤں گا اور بخدا تم میری عادت بہتر جانتے ہو میں ایسا کر بھی گزروں گا۔”

لہجے میں ٹھوس پن سموئے وہ غراتے ہوئے تیش کے عالم میں بولا تھا کہ احمر چوہدری تو لب بھینچے کسی ہارے ہوئے جواری کی مانند وہاں سے چل دیا جب کہ شہیر سحر کو تھام اپنے ساتھ کمرے میں لے آیا۔

©©©

شہیر کافی ٹائم سے خاموش بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ میں مصروف تھا پچھلے تین گھنٹوں سے نا اس نے سحر سے بات کرنے کوشش کی اور نا ہی اس کی جانب دیکھنا گوارا کیا تھا۔اب سحر کو اس کی یہ خاموشی بے چین کر رہی تھی کتنی دفع وہ اس سے بات کرنے کی کوشش کر چکی تھی مگر وہ مغرور شہزادہ آج زرہ کچھ غصے میں معلوم ہو رہا تھا۔

‘شہیر ” ایک آخری کوشش کرتی اسے پکارنے کی جرات کی اب کے لہجے میں نمی سی گھلنے لگی تھی لیکن شہیر کا ریکشن ایسا تھا جیسے اس نے سنا ہی نا ہو وہ کن اکھیوں سے اس کی جانب دیکھتا واپس کام میں مصروف ہو گیا۔

“ایم سوری سائیں ! مجھے معاف کر دیں ، میں احمر کے ہاتھ میں بندوق دیکھ کر کافی ڈر گئی تھی چاہتے ہوئے بھی خود کو مضبوط ظاہر نہ کر سکی۔آپ یقین جانیں میں اسے ڈانٹا بھی تھا اور مارا بھی جب اس نے مجھ پر ہا۔۔۔”

اپنی بات کہتی وہ اچانک سے خاموش ہوئی تھی جیسے ہی شہیر کی غصیلی نظریں اس کی آنکھوں سے ٹکرائی تھیں جس میں اس وقت صرف و صرف غصہ ، تکلیف و تیش تھا۔

“کیا مطلب اس نے تم پر ہاتھ اٹھایا اور یہ تم ابھی بتا رہی ہو ؟

میں اس احمر کے بچے کی جان لوں گا لگتا اس کو عزت راس نہیں۔”

آنکھوں اس کی حد درجہ سرخ ہو رہی تھیں جن میں صرف و صرف شرارے پھوٹ رہے تھے جیسے احمر چوہدری کو آج وہ صحیح معنوں میں مزہ چکھانا چاہتا ہو۔

“سحر آپ ڈرتی کیوں ہیں ؟ مضبوط بنیں خدا کے لئے اس بے معنی ڈر کو دل سے نکال باہر پھینکیں۔ جب تک آپ ایسے لوگوں سے ڈرتی رہیں گی نا تو یہ لوگ بھی تب تک آپ کے خوف کا مزا لیتے مزید ڈراتے رہیں گے اسلئے خدا کا واسطہ آپ کو ڈرنا چھوڑ دیں مقابلہ کرنا سیکھیں جواب دینا سیکھیں۔”

اس کو دونوں بازوؤں سے جھنجھوڑنے وہ غم و غصے کی سی کیفیت میں بولا تھا ۔آج شہیر کا غصہ آسمانوں کو چھو رہا تھا۔ سحر کو احمر سے ہراس ہوتا دیکھ اسے صحیح معنوں میں غصہ آیا دل تو چاہا تھا احمر کے ساتھ ساتھ سحر کو بھی ایک دو لگا دے لیکن وہ قابو کر گیا تھا خود کو۔

شہیر چوہدری کا غصہ کسی جھاگ کی مانند بیٹھتا چلا گیا جیسے ہی سحر کی آنکھوں سے آنسوں ٹپ ٹپ کرتے بہنا شروع ہوئے تھے وہ اسی کے سینے سے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

“جانم !” اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ نہایت نرمی سے گویا ہوا۔

“آ۔۔آپ بہت برے میں شہیر مجھے ڈانٹا آپ نے “

سوں سوں کر کے روتی وہ اس سے دور ہوئی تھی کہ شہیر واپس اسے اپنی طرف کھینچ گیا کہ وہ سیدھا اس کے سینے سے آن ٹکرائی۔

“ارے ارے میرا بچہ ناراض ہو گیا مجھ سے ؟”

دونوں ہاتھوں کے پیالے میں محبت سے اس کا چہرا بھر وہ پیار و شرارت کی ملی جلی کیفیت میں گویا ہوا۔

“بہت برے ہیں آپ جائیں میں نہیں بولتی آپ سے۔”

روئی روئی آنکھوں سمیت وہ اس کی جانب دیکھ نروٹھے پن سے گویا ہوتی بولی۔

“ارے جانِ شہیر یوں ادائیں دیکھائے کیوں اس دل کو گھائل کر رہی ہیں اگر کوئی گستاخی کر بیٹھا تو پھر شکوہ نہ کیجئے گا۔”

‘شہیر “۔۔ شرم و ناراضگی کی ملی جلی کیفیت میں چیختی وہ اسے گھورتے ہوئے بولی تھی کہ اس کے ریکشن پر شہیر کا جان دار قہقہہ گونجا۔

“میری معصوم پری ” دھیمی آواز میں کہتے وہ نرمی سے اپنے لب اس کے گال پر رکھ گیا تھا جب کہ سحر کی آنکھوں میں مصنوعی غصے سمیت شرم و حیا کے رنگ واضح تھے جس نے شہیر چوہدری کے دل کو مزید اپنا دیوانہ بنا ڈالا۔

آنکھیں مربع ، باتیں مربع

میں سو مرتبہ دیوانہ ہوا

©©©

پشمینہ گھر کے کاموں سے فارغ ہوتی روم میں ابھی ہی داخل ہوئی تھی کہ سامنے کا منظر پہلے تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلی لیکن پھر ایک جاندار قہقہہ گونجا تھا جو پشمینہ کا پورے کمرے میں گونجا وہ بمشکل اپنی ہنسی کو قابو کرتی آگے بڑھی جہاں بیڈ پر بیٹھا دو سالہ نعمان پشمینہ کا میک اپ تھامے اپنے باپ پر تجریہ کر رہا تھا وہ فاتح صاحب معصوم سا منہ بنائے خاموش بیٹھے تھے۔

“ہاہاہا ۔۔۔ فاتح سیریسلی یو آر لکنگ سو کیوٹ

دی بزنس ٹائیکون فاتح شرجیل اپنے بیٹے سے میک اپ کرواتے ہوئے۔۔۔”

اپنی ہنسی کو قابو کرتی وہ پاس رکھا موبائل تھام گئی تھی اور جھٹ سے کیمرہ آن کرتی فاتح کی کئی تصاویریں کھینچ ڈالیں ساتھ ہی ان دونوں باپ بیٹے کے اس خوبصورت و دلکش منظر کو وڈیو کی صورت میں قید کرنے لگی تھی کہ فاتح نے برق رفتاری سے پشمینہ کا ہاتھ تھامے اسے اپنی جانب کھنچتے بازو اس کی گردن کے پاس سے گزارے اپنے مضبوط حصار میں قید کر لیا۔

“اب ہنس کے دیکھاؤ زرہ۔۔۔”

کہتے ساتھ ہی فاتح نے اپنا چہرا اس کے چہرے کے قریب کیا تھا جس سے چہرے پر لگا ضرورت سے زیادہ پاؤڈر و ہونٹوں پر لگی لپ اسٹک پشمینہ کے چہرے پر ٹرانسفر ہونا شروع ہوئی تھی۔

“فاتح “۔۔۔۔ نا کریں میں ابھی منہ دھو کر آئی تھی۔”

وہ تقریباً چلانے کے سے انداز میں بولتی اپنے آپ کو اسکے مضبوط حصار سے نکالنے کی کوشش کرنے لگی جو کہ اس وقت ناممکن سا معلوم ہو رہا تھا۔

“بیگم صاحبہ ، غلطی آپ کی بھی ہے تو سزا میں اکیلا کیوں بھگتوں اب آپ آئندہ خیال کیجئے گا ان نواب صاحب کے سامنے میک اپ کرنے سے۔۔”

۔پشمینہ کے کان کے قریب جھک وہ آہستگی سے سرگوشی نما آواز میں بولتے اس کی کان کی لو کو ہلکا سا دانتوں سے دبایا کہ وہ سسک اٹھی۔

فاتح چھوڑیں مجھے ورنہ میں نے اور نعمان نے چھوڑنا نہیں آپ کو ۔۔۔۔۔ وہ دانت کچکائے بولی تھی کہ اس کی بات سن فاتح نے لب دبائے۔

میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ میری جان مجھے کبھی نہ چھوڑے۔

وہ اس کی گردن میں منہ چھپائے خمار آلود آواز میں بولا

فاتح انسان بنیں۔۔۔ اس کے بازوؤں پر ہلکی سی چٹکی کاٹ پشمینہ دانت چبائے بولی۔

آہہہ۔۔ جنگلی بلی ” فاتح نے برا سے منہ بنایا۔کافی دیر ان دونوں کی یوں ہی پیار و محبت بھری نوک جھوک جاری رہی جب کہ اپنے ماں باپ کی یہ نوک جھوک دیکھ نعمان انجوائے کر رہا تھا ساتھ ہی ہستے ہوئے تالیاں بجاتا جیسے اس سب کو دیکھ وہ بہت خوش ہو رہا ہے۔

©©©

مسٹر احمر چوہدری ہمیں بہت افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑ رہی ہے کہ اس رپورٹ کے مطابق اب آپ کبھی باپ نہیں بن سکتے ہیں۔

مقابل بیٹھی اس ڈاکٹر کی بات نے چوہدری احمر کے غرور اس کی انا سب کو نست و نابود کر کے رکھ دیا تھا اس کے ہوش سلب ہو کر رہ گئے تھے کیونکہ آج وہ اس مقام پر آن پہنچا جس کا اس نے کبھی گماں بھی نہ کیا تھا۔وہ تھکے قدموں سے چلتا اٹھ باہر کی جانب چل دیا آج اسے شدت سے وہ لمحات یاد آرہے جب پہلی بار اسے سحر کی جانب سے باپ بننے کی خبر ملی تھی تو اس نے کیا کیا تھا شکر کرنے کے بجائے انا و غرور میں آئے اس ذات کی ناشکری کرتے ہوئے اپنی ہی اولاد کو ختم کر ڈالا۔

سایہ بھی ساتھ جب چھوڑ جائے ایسی ہے تنہائی

رونا چاہوں تو رونا چاہوں آنسوں نا آئے

“احمر ! خدا کا واسطہ ہے ایسا ظلم نہ کریں میری سزا اس ننی جان کو نہ دیں یہ۔۔۔ یہ آپ کا بھی تو خو۔۔خون ہے آ۔۔ آپ کی بھی تو اولاد ہے پلیز ا۔۔۔ایسا نہ کریں آپ کی۔۔کیسے اپنی اولاد کا ق۔۔قتل کر سکتے ہیں “

ہسپتال سے نکلتے ہوئے بیتے زمانے کسی اسکرین کی مانند اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہے تھے کہ اس لڑکی کا گڑگڑاتے ہوئے اپنی اولاد کی جان کے لئے بھیک مانگنا لیکن احمر چوہدری کا وہی بے رحمانہ انداز۔۔۔

م۔۔میرا ب۔۔بچہ وہ بے یقینی کی سی کیفیت میں کہتی بڑبڑا رہی تھی کہ اسکی حالت بگڑنا شروع ہوئی اب پورے کمرے میں اسکی آواز گونج رہی تھی ۔

“م۔۔م۔۔میرا بچہ مار دیا تم نے “

“ق۔۔۔قا۔۔۔۔ اس کے باقی کے لفظ مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ اپنا بھاری ہاتھ اسکے لبوں پر رکھ اسکے لفظوں کا گلا گھونٹ چکا تھا “

“خاموش بالکل خاموش ! یہ ہسپتال ہے میں یہاں تمہارا ڈرامہ بالکل برداشت نہیں کروں گا اسلئے اپنا یہ پاگل پن اپنے اندر رکھو “

وہ رش ڈرائونگ کرتا اپنے اندر جمع ہونے والے وبال کو کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا آنکھوں سے آنسوں تواتر بہتے چلے جا رہے تھے آج اسے ماضی میں اپنی کی گئی غلطیوں کا احساس ہو رہا تھا دل گھٹ سا رہا تھا سب یاد کئے اپنی اولاد کو کھونے کا احساس ، وہ درد احمر چوہدری آج اپنے اندر محسوس کر رہا تھا اس کے کانوں میں اس معصوم کی چیخیں ، صدائیں گونج رہی تھیں۔

“احمر چوہدری آپ کو غرور ہے نا خود پر آج میں آپ کو ایک دعا دیتی ہوں کہ خدا آپ جیسے پتھر دل انسان کو کبھی اولاد نہ عطا فرمائے یہ دعا ہے میری اس رب سے ، اس پاک ذات سے جو انصاف کرنا جانتا ہے ، اور یہی میرا انصاف ہے کہ وہ آپ کو بے اولاد رکھے “

روتے روتے اس کی آنکھیں دھندلا سی گئی تھیں اوپر سے رش ڈرائیونگ اور مختلف سوچوں نے اس کے دماغ کو سن سا کر کے رکھ دیا کہ وہ سامنے سے آتی شہزور کو نا دیکھ سکا اور دیکھتے ہی دیکھتے فضا میں زور دار دھماکہ ہوا احمر چوہدری کی گاڑی بہت برے طریقے سے جا ٹکرائی تھی اس شہزور سے۔۔

وہ خون سے لت پت بے یارو مددگار پڑا ہوا تھا ادھر ۔۔۔

آس پاس ٹریفک جمع ہوتی چلی گئی۔۔۔

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پِیٹوں جِگر کو میں

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

©©©

کچھ مہینوں بعد۔۔۔

انا سے چور وہ شخص جو ہر کسی کو اپنے بس میں کرنا جانتا تھا جس کی آواز میں کبھی رعب و دبدبا ہوا کرتا تھا جو مقابل سننے والوں کو کانپنے پر مجبور کر دیتا جس کا دوسرا نام ہی بے رحم تھا جس کو فرعون کا لقب دیا گیا لیکن آج وہ اس ویران کمرے میں تن تنہا بے یارو و مددگار بسترِ مرگ پر تھا جس نے کبھی دوسروں کا سہارا لینا گوارا نہ کیا آج وہ دوسروں کے سہارے جی رہا تھا۔کچھ مہینوں پہلے ہوئے ایکسیڈینٹ کے باعث احمر چوہدری اپنے پیروں پر کھڑے ہونے سے بھی محروم ہو چکا تھا اس کی ذات اب صرف و صرف ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئی۔

کمرے میں موجود خاموشی ٹوٹی تھی جب کوئی اس ویران کمرے کا دروازا دھکیل اندر داخل ہوا تھا چوہدری احمر نے اپنی بند آنکھیں کھول اندر آنے والی ہستی کی جانب نظریں اٹھائے دیکھا تو اس کا دل مٹھی میں جکڑ کر رہ گیا وہ اپنی نظریں پھیر گیا تھا کیونکہ اب اس میں اتنی ہمت نہ رہی تھی کہ اس لڑکی سے اب نظریں ملا پائے۔

کیوں آئی ہو ؟ کیا میری بے بسی کا مزاق اڑانے کو آئی ہو؟

نظریں کا رخ سائیڈ پر موجود گیلری کی جانب کیے وہ سحر سے گویا ہوا جس کا چہرا ہر احساس سے عاری تھا۔

نہیں بے بسی کا مزاق میں کیوں اڑانے لگی بھلا ؟

میں تو بس اپنے مجرم کو دیکھنے آئی ہوں کہ وہ اپنی ہی غلطیوں کی سزا بھگتے ہوئے کیسا لگتا ہے ؟

جس نے صرف دوسروں کی روح و جسم کو ہی اذیت دینا جانا ہو وہ خود ان مراحل سے گزرتا ہوا کیسے لگتا ہے ؟

جب ضرب اپنی روح اور جسم پر لگتی ہے تو کیسی تکلیف ہوتی ہے؟

سحر پلیز بس کر دوں مجھ میں مزید سکت نہیں !

نا شرمندہ کرو مجھے اب میں ویسے ہی بہت تکلیف میں ہوں۔

سحر کی باتیں تیر کی مانند اس کے دل اور دماغ پر نشر ہو رہی تھی تب ہی تڑپتے ہوئے بولا۔

واہ احمر کہا کہنے ہیں آپ کے ؟ کتنا آسان ہوتا ہے نا کسی کی ذات سے کھیل اس کی روح کو چھلنی کر آخر میں آسانی سے معافی مانگ ہر بوجھ سے آزاد ہو جانا۔

سحر برائے کرم مجھے معاف کر دو ہر اس اذیت کے لئے جو میں نے تمہیں دی۔

اتنی جلدی احمر چوہدری ؟ جب زیاتی کرتے دوسرے کی تکلیف کا خیال نہ آیا تو آج اپنی سزا بھگتے ہوئے کیوں؟

میں اپنے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں کے لئے تو شائد ہی آپ کو معاف کر دوں لیکن اپنی اولاد کے کئے جانے والے قتل کو ہر گز معاف نہ کروں گی میری ممتا آپ کو ہر گز معافی نہیں دیتی احمر چوہدری چہرے پر تلخ مسکان سجائے وہ احمر سے مخاطب ہوئی اور بنا اس کی جانب دیکھ باہر کی جانب چل دی جب کہ وہ آنکھیں موندے وہیں لیٹا رہ گیا آنسوں آنکھوں سے لھڑک اس کا تکیہ بھیگوتے چلے گئے۔

©©©

حویلی کے تمام مکین صبح کے وقت خاموشی سے ناشتہ کر رہے تھے کہ اچانک ہی مین اینٹرنس سے لیڈیز اور جینٹس پولیس اپنی پوری ٹیم کے ساتھ اندر آئی تمام نفوس اپنی اپنی نشستوں سے کھڑے ہوتے چلے گئے۔

”ہم مسسز نورے وقاص کو قتل کے کیس میں گرفتار کرنے آئے ہیں”۔

یہ کیا بکواس ہے ؟ کونسا قتل ؟ پولیس آفیسر کی بات پر چوہدری وقاص غصے سے برہم ہوتے چلائے تھے۔

دیکھیں مسٹر وقاص بات زرہ تمیز کے دائرے میں کیجیے ہم ثبوتوں ، گواہوں اور مکمل اریسٹ وارنٹ کے ساتھ تشریف لائے ہیں۔ مسسز نورے نے آپ کے بیٹے ارتضیٰ وقاص کا قتل کروایا ہے جس کے ثبوت ہمارے پاس ان کی آواز میں ہی موجود ہیں اگر آپ چاہیں تو دیکھ سکتے ہیں۔

ی۔۔یہ کیا ک۔۔کہہ رہے ہیں آپ ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟؟

لگتا یے آپ لوگوں کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے قتل تو اس لڑکی کے بھائی نے کیا تھا اگر گرفتار کرنا ہے تو اسے کیجیے میری بیوی کا اس میں کوئی قصور نہیں۔

چوہدری وقاص بے یقینی کی سی کیفیت میں گویا ہوئے ان کے لئے یہ یقین کرنا نا ممکن تھا کہ قتل نورے نے کیا ہے۔

دیکھیں سر ، آپ ہمیں ہمارا کام کرنے دیں ہمیں کوئی شوق نہیں کہ بنا مطلب لوگوں کے گھروں سے جا کر انہیں پریشان کریں۔

ہمیں ایف آئی آر ریسیو ہوئی ہے تب ہی ہم آئے ہیں۔

کون ہے وہ جس نے ایف آئی آر درج کروائی ؟؟

میں “۔۔ کب سے خاموش تماشائی بنا شہیر چوہدری اپنی شرٹ کے کف فولڈ کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا جب کہ اب سب کی توجہ کا مرکز وہی وجیہہ شخص تھا۔

تایا سائیں افسوس شروع سے کہتا آیا تھا کہ اپنی اس پرانی دقیانوسی رسم سے ہٹ کر جوش میں آئے بغیر اگر عقلمندی و دانش مندی سے معاملہ سلجھایا ہوتا تو آج یہ سب نہ ہس رہا ہوتا۔

“ارمان ” شہیر کی گرجدار آواز گونجی تھی وہاں باہر کھڑا ارمان فوراً سے حاضر ہوا تھا اس شخص کو تھامے جس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں باندھی گئی تھیں۔

چ۔۔چھوٹے ؟ سحر بے یقینی کی سی کیفیت میں دیکھے گئی تھی ارمان کو آج وہ کتنے سالوں بعد اسے دیکھ رہی تھی پہلے سے زیادہ وجہیہ اور خوش شکل دیکھائی دے رہا تھا۔

ی۔۔یہ شخص یہاں کیا کر رہا یے ؟

ارمان کو دیکھ وہ صحیح معنوں میں سیخ پاہ ہوتے اس کی جانب جھپٹنے کے سے انداز میں بڑھے تھے لیکن شہیر انہیں بیچ میں ہی قابو کر گیا۔۔

ٹھہریے تایا سائیں اتنی جلد بازی نہ دیکھائیں۔ارمان کو میں نے بلایا ہے آپ سمیت ہم سب جو اسے قاتل سمجھتے آئے ہیں وہ ہمارا غلط نظریہ ہے کیونکہ قاتل یہ نہیں آپ کی بیگم نورے اور یہ صاحب رضوان ہیں جنہوں نے مل کر پوری پلاننگ کے ساتھ اس طرح سے ارتضیٰ کا قتل کیا کہ کوئی حقیقت جان نہ پائے اور الزام اس بیچارے ڈال دیا کہ دیکھنے والے شخص کو لگے کہ یہی قاتل ہے اور خون ہوتا دیکھ تو ارمان بیچارہ یہی سمجھتا رہا کہ اصل قاتل وہ خود ہے لیکن کہتے نا کہ خدا انصاف کرنے والا ہے وہ اپنے بندے کے لئے آسانیاں فرما ہی دیتا ہے۔جانتے ہیں ہمیں بھی حقیقت کبھی معلوم نہ ہوتی اگر اس دن آپ کی بیگم اور رضوان کی باتیں نہ سنی ہوتیں۔

یہ لیجئے آپ بھی دیکھ لیں اپنی آنکھوں سے اور تسلی کر لیں۔

کہتے شہیر نے وہ وڈیو چوہدری وقاص کو دیکھائی تھی جسے دیکھتے ان کا زمین پر کھڑا رہنا محال سا ہو گیا غم و غصے کے باعث دماغ کی رگیں پھٹنے کے قریب تھیں۔

تانیہ ، وجیہا جائیں مسسز نورے کو تلاش کرنے کے بعد انہیں گرفتار کریں پولیس آفیسر نے اپنی ٹیم کی لیڈی کانسٹیبل کو حکم صادر کیا تھوڑی دیر میں ہی نورے بیگم کو ہتھکڑی لگائے لیڈی کانسٹیبل نیچے آتی دیکھائی دیں۔ وہ مسلسل چیختے ہوئے خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھیں کبھی احمر کو آواز لگاتیں تو کبھی چوہدری وقاص کو ایک آخری امید بھری نظریں سکینہ بیگم سے ٹکرائیں لیکن وہ بھی اپنا رخ پھیر گئی تھیں۔نورے بیگم اور رضوان دونوں کو پولیس اپنے ساتھ لئے لے جا چکی تھی۔

جب یہ خبر چوہدری احمر تک پہنچی وہ تو مانے مزید احساسِ ندامت میں گھِرتا چلا گیا حقیقت سن اسے بھی یقین نہ آیا کہ اس کی ماں ہی ارتضیٰ کی قاتل ہے اس کو خود سے شدید نفرت سی ہونے لگی اپنی قسمت پر رونے کو جی چاہا تھا اس کا کہ واقعی وہ اب تک ایک بے گناہ کی زندگی انجیرن کرتا آیا ہے۔

آخر سچ کب تک چھپتا ہے ؟

ایک نا ایک دن سامنے آ ہی جاتا ہے۔

س۔۔سکینہ ! چوہدری وقاص آج کچھ نہ بولے تھے ان کے کندھے جھک سے گئے وہ سکینہ بیگم کے سامنے ہاتھ جوڑتے خاموشی سے اندر کی جانب چل دئیے تھے پورے دو دن تک وہ کمرے میں بند رہے آج ان کی محبت اور انا بھی ٹوٹ کر رہ گئی تھی۔

ارمان میرے بھائی ” سحر نم آنکھوں سے مسکراتے اس کے پاس گئی محبت سے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیر اس کا ماتھا چوما جیسے وہ بچپن میں کیا کرتی تھی یہی اس کا انداز تھا پیار جتانے کا۔ آج وہ دلی طور پر خوش تھی خدا کے بعد شہیر کی مشکور تھی جس نے اس معاملے کو بہترین طریقے سے سلجھایا۔

©©©

“کچھ ہفتوں بعد”۔۔۔

آنٹی کیا کر رہی ہیں آپ ؟

عمارہ سکینہ بیگم کے پاس کیچن میں آئی تھی جہاں وہ چوہدری وقاص کے لئے چائی تیار کر کپ میں نکال رہی تھیں۔

کچھ نہیں بیٹی بس سائیں کے لئے چائے تیار کر رہی تھی تم پیو گی ؟

دیجگی ایک جانب رکھتیں وہ عمارہ سے گویا ہوئیں۔

نہیں آنٹی شکریہ میرا ابھی موڈ نہیں ہے۔

دیکھیں زرا میرے کام باتوں کے چکر میں کام کی بات تو بھول ہی گئی دراصل میمونہ آنٹی آپ کو لان میں بلا رہی تھیں کہہ رہی تھیں کچھ بات کرنی ہے اسلئے اب یہ چائے میں مجھے دیں میں بابا سائیں کو دے دوں گی آپ آنٹی کی بات سن لیں۔

وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی ساتھ ہی کپ ان کے ہاتھوں سے تھام وہاں چل دی تھی چوہدری وقاص کے کمرے کی جانب۔

دروازے کو کھٹکھٹا کر وہ اندر آئی تھی جہاں چوہدری وقاص اخبار پڑھنے میں مصروف تھے عمارہ کو دیکھ انہوں نے برا سا منہ بنایا جیسے اس کا آنا انہیں زرہ نہ بھایا ہو۔

کیسے ہیں سسر جی ؟ یہ دیکھیں آپ کی بہو لزیز چائے لائی ہے آپ کے لئے ۔۔۔ لبوں پر مسکان سجائے وہ چائے کی جانب اشارہ کیے بولی جب کہ چوہدری وقاص نے زیادہ دھیان نہ دیا وہ اپنا اخبار پڑھنے میں مصروف رہے ساتھ ہی عمارہ کی دی گئی چائے کے گہرے گہرے سپ لگانے لگے۔

لڑکی اب تم جا سکتی ہو یہاں سے۔۔

عمارہ کو ہنوز وہیں کھڑے دیکھ وہ سنجیدہ لہجے میں گویا ہوئے جب کہ وہ ان کی بات سرے سے اگنور کیے ہاتھ پر ہاتھ باندھ وہیں کھڑی ہو چکی تھی۔

”بابا سائیں ویسے کتنا دلکش منظر ہوتا ہے نا جب اپنے مجرم کو اپنی ہی نظروں کے سامنے تڑپتا ہوا دیکھا جائے “

چوہدری وقاص کو اپنی نظروں کے حصار میں لئے وہ ٹھوس لہجے میں گویا ہوئی جب کہ آنکھوں میں ایک چمک سی ابھری جب کہ چوہدری وقاص سے اچھنبے سے اس کی جانب دیکھا۔

لڑکی تمہاری بات کا کوئی مطلب ہے اس وقت ؟؟

غراتے ہوئے وہ کسی شیر کی مانند دھاڑے تھے۔

مطلب ہی مطلب ہے ”

بھنونے اچکاتے وہ لے لچک لہجہ اپنائے بولی کہ چوہدری وقاص غصے کے عالم میں اپنی نشست سے کھڑے ہوئے تھے لیکن لڑکھڑا کر واپس وہ وہیں صوفے پر ڈھہ گئے دل میں ٹیس سی اٹھی تھیں اچانک ہی زور دار کھانسی کے ساتھ ان کے منہ سے خون نکلنا شروع ہوا تھا۔

پ۔۔۔پا۔۔۔پانی ” سائڈ ٹیبل پر رکھا وہ پانی کا گلاس جیسے ہی اٹھانا چاہا تھا برق رفتاری سے بڑھ عمارہ وہ گلاس ہنستے ہوئے نیچے فرش پر بہا گئی جب کہ چوہدری وقاص اپنا گلا پکڑے وہیں تڑپتے رہے۔

چوہدری کتنی خوشی ہوتی ہے نا جب اپنے مجرم ہو یوں اپنی آنکھوں کے سامنے تڑپتا دیکھتے ہیں۔

م۔۔میں م۔۔م۔۔میں نے کیا بگاڑا تھا ت۔۔ت۔۔۔تم۔۔تمہارا ؟

سب کچھ تم ہی نے تو بگاڑا تھا میرے پورے خاندان کے قاتل ہو تم چوہدری۔

ک۔۔کون ہو تم ؟

ملک گلشیر کی بیٹی “

“پریہا کی چھوٹی بہن عمارہ گلشیر “

عمارہ کی بات سن چوہدری کی آنکھوں کے سامنے کئی سالوں پہلے کا منظر گھومنے لگا تھا جب اس نے انسانیت سے گری ہوئی حرکت کیے کسی کی عزت سے کھیلا تھا۔

(فلیش بیک)۔۔۔۔

آج سے کچھ سال پہلے۔۔

شام کے پہر پریہا اپنی دوست کے گھر سے واپسی اپنے گھر جا رہی تھی کہ نہر کے قریب کچھ گاڑیاں بنا اسے سمجھنے کا موقع دئیے اندر ڈالے لے جا چکی تھیں اسے اپنی دفاع کرنے تک کا موقع نہ دیا گیا۔گھر والے پوری رات بیٹی کی گمشدگی پر سو نا سکے ماں تو بیچینی کے عالم میں دعائیں کرنے کے ساتھ صرف روتی رہی لیکن صبح لگ بھگ سات بجے کے قریب ان کے گھر میں صفحہ ماتم بچھا ہوا تھا جیسے ہی بیٹی کی ذیاتی سے بھرپور لاش کھیتوں میں سے برآمد کی گئی ماں کا کلیجہ تو پھٹنے کے قریب تھا جب کہ باپ وہ تو کچھ کہنے کی حالت میں نا تھا چھوٹی سی عمارہ جس کی عمر بارہ سال تھی وہ تو روتے ہوئے خاموشی سے سب منظر دیکھ رہی تھی اس کی جان سے پیاری آپی اس دنیا میں نا رہی تھیں وہ پریہا کو یاد کرتے ہوئے رویا کرتی۔

گھر والوں کو آس پڑوس کی چہمگوئی سے معلوم ہوا کہ چوہدری وقاص کے کچھ بندوں کو ان نے صبح سویرے کھیتوں سے نکلتے دیکھا تھا کچھ گواہوں کے ساتھ مل کر وہ چوہدری پر کیس کروانے چاہتے تھے لیکن صد افسوس امیری جیت گئی اور غریبی ہار گئی مقدمہ درج کروانے سے پہلے ہی اس کے والدین کا منہ بند کیے انہیں بھی ابدی نیند سلا دیا ۔ وہ زمین جس پر حق تھا صرف عمارہ کا وہ بھی چوہدری اپنے نام کروا گیا اور شیطانیت سے بھرپور قہقہ لگاتا اس گھر سے نکتا چلا گیا۔

(حال )

تم یقین نہ جانو گے چوہدری تمہیں اس حال میں دیکھ سکون سا مل رہا ہے دل کو ٹھنڈک سی ملی ہے اپنے دشمن ، ایک مجرم ایک زانی کو یوں سانوں کے لئے تڑپتا دیکھ تمہارا تو اس سے بھی برا حشر ہونا چاہیے تھے لیکن میں اب اتنی بھی ظالم نہیں۔

اپنی بات کے اختتام پر عمارہ نے رومال میں لپیٹی احمر کی بندوق نکالی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے سیلینسر لگائے وہ بندوق کی گولیاں چوہدری وقاص کے دل میں اتار اس کی سانسیں چھین گئی تھی۔

گڈ بائے پاسٹ “

بے لچک لہجے میں کہے وہ بندوق چوہدری کے ہاتھوں میں تھام دروازے کو اندر سے لاک کیے کھڑکی سے کود باہر کی جانب چل دی۔

©©©

رات میں تقریباً بارہ بجے کے قریب احمر کی آنکھ کسی کی سسکیوں کی آواز پر کھلی تو اس کی نظر ہلکی آواز میں روتی عمارہ پر گئی جو کہ سوٹ کیس کے پاس بیٹھی کسی تصویر کو دیکھ اسے تھام رو رہی تھی آنسوں کے کچھ موتی اس کانچ کے فریم میں بنی تصویر پر گر پھیل جاتے۔

” آج میں نے آپ لوگوں کے مجرم کو انجام کو پہنچا دیا ہے مما بابا میں نے اپیا کا بدلہ بھی لے لیا ہے اس چوہدری کی سانسیں چھین لی ہیں میں نے آج وہ انجام کو پہنچ چکا ہے۔”

تصویر کو سینے سے لگائے وہ ہچکیوں کی صورت میں روتی بولی تھی پھر گھڑی کی جانب نظریں دوڑائے وہ آنسوں کو پونچھے اٹھ کھڑی ہوئی تصویر کو احتیاط سے سوٹ کیس میں رکھے اس نے قدم باہر کی جانب بڑھائے لیکن جاتے جاتے وہ واپس پلٹی تھی اس شخص کے پاس جو کہ اس کا شوہر تھا جس سے عمارہ کا ایک گہرا رشتہِ وابستہ تھا۔

احمر تمہاری خواہش تھی نا کہ میں تمہیں سائیں کہہ کر بلاؤں آج تمہاری اس خواہش کو آخری بار جاتے جاتے پورا کیے جارہی ہوں جانتے ہو تمہارے ساتھ میرا ایک الگ ہی تعلق وابستہ ہے اسلئے اپنے نام کو تمہارے نام سے جدا نہیں کر رہی شائد مجھے تم سے محبت ہو جاتی میں تمہیں کبھی چھوڑ کر نا جاتی احمر اگر تم اتنے بے رحم نا ہوتے تم نے عورت ذات کو آج تک کم ظرف ہی سمجھا تمہارا سلوک غریبوں کے ساتھ نہایت سفاک رہا۔ تمہاری ذات میں دوغلا پن شامل ہے تم خود نہیں جانتے کہ تم کیا چاہتے ہو۔آج تک تم صرف دوہری کشتی کے مسافر رہے ہو اور یاد رکھنا دو کشتیوں میں شامل شخص کبھی اپنی منزل نہیں پاتے بلکہ ڈوب جایا کرتے ہیں۔

احمر سائیں ہمیشہ خوش رہیں”

اپنی بات کے اختتام پر وہ آرام سے جھکتے اپنے لب اس کے ماتھے پر پیوست کر گئی اور سوٹ کیس تھام آرام سے اس کمرے ، اس حویلی کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہتی نکلتی چلی گئی۔

عمارہ کے کمرے سے جاتے ہی احمر چوہدری کی آنکھوں سے آنسوں تواتر بہنا شروع ہو گئے وہ شخص واقعی ہی دوہری کشتی کا مسافر رہا ہے تب ہی آج وہ تنہا رہ گیا۔۔۔

©©©

کچھ سالوں بعد ”۔۔۔

تم ایک بہت بری عورت ہو بلکہ نہیں تم تو عورت کہلانے کے قابل ہی نہیں تم ایک قاتلہ ہو قاتلہ ایک دھوکے باز جس نے اپنوں کو ہی دھوکہ دیا سامنے کھڑا نورے بیگم کا عکس ان سے ہمکلام ہوا تو وہ خاموشی سے اس کی ہر بات سنتی گئیں۔ آنکھوں میں ایک عجب سے بیچنی رونما ہوئی تو پاس رکھا گلاس اٹھا اس سیراب نما عکس پر دے مارا جو کہ غائب نہیں ہو رہا تھا۔

آہہہہ “۔۔۔ می۔۔میں بہت بری ہوں میں قاتل ہوں میں دھوکے باز ہوں میں نے اپنی دوست کے ساتھ غداری کی اس کے شوہر کا اس سے چھین لیا۔ اس کے بیٹے کو اس سے چھین لیا۔

میں ب۔۔۔بہت بری ہوں۔

اپنے بالوں کو نوچتی وہ نیم پاگل سی معلوم ہو رہی تھی آس پاس سیل میں موجود لوگ سب نورے بیگم جی حالت پر ہنستے تو کبھی افسوس کرتے وہ جب سے یہاں آئی تھی اسے اکثر ایسے دورے پڑا کرتے تھے۔

یہی ان کی زندگی کا مکافات عمل تھا یا شائد نہیں۔

کیونکہ جتنے ظلم و ستم وہ آج تک سحر پر کرتی آئیں ہیں۔

یا جو گناہ انہوں نے اپنے ماضی میں کیے اس کے مقابلے میں یہ سزا بھی کم تھی۔

©©©

یہ تھا بہاولپور کا گاؤں جو وہاں کے سردار شہیر چوہدری اور اس کی بیوی سحر چوہدری کی ان تھک محنت اور کاوشوں کے بعد اب مکمل طور پر بدل چکا تھا اگر کہا جائے تو اب وہاں ایک چھوٹا سا حسین شہر بستا تھا۔اسکول ، کالج ، ہسپتال سب کے انتظامات عمدہ تھے۔سب سے بڑھ کر وہاں تعلیم و تربیت کو عام کیا گیا۔ماں ، بہنوں ، بیٹیوں کی عزتیں اب وہاں محفوظ تھیں کوئی بھی سنگ چیتی , خون بہا ، ونی جیسی رسموں کا اب ذکر بھی نہیں کرتا کیونکہ یہ رسم سرے سے ہی ختم کروا دی گئی تھی اب سزا جانچ پرتال کے بعد اصل مجرم کو دی جاتی ہے۔

وہ دونوں ہی حویلی کی چھت پر کھڑے گاؤں پر طائرانہ نظریں دوڑائے اس کی رونقوں کو دیکھ رہے تھے ساتھ ہی دل میں دعا گو تھے کہ یہ رونقیں تا قیامت بحال رہیں۔

شہیر اور سحر کو اللہ تعالیٰ نے ایک ننی سی خوبصورت رحمت سے نوازا تھا جس کا نام انہوں نے حیام رکھا۔ننی سی گرے آنکھوں والی گولی چٹی سی حیام شہیر چوہدری کی جان تھی۔

چوہدری وقاص کی موت پر سکینہ بیگم تھوڑی غمزدہ سی ہوئی تھیں۔آج بھی سب کی نظروں میں چوہدری وقاص کی موت خودکشی کے باعث ہوئی تھی حقیقت کیا تھی یہ آج تک کوئی نا جان پایا۔ وہ اکثر و بیشتر خاموش رہا کرتی بے شک جو بھی تھا وہ ان کے سر کا سائیں تھا اکثر و بیشتر سکینہ بیگم احمر کے پاس چلی جایا کرتی تھیں جو کہ پہلے کے مقابلے میں کافی زیادہ کمزور معلوم ہونے لگا تھا چہرے کا وہ غرور اور خوبصورتی سب کچھ نیست و نابود ہو کر رہ گئی تھی۔

گناہ کرنے والے سب اپنے انجام کو پہنچ چکے تھے۔

ان گزرے ماہ و سال میں زیشان کے والد کا بھی انتقال ہو چکا تھا وہ گاؤں ہمیشہ کے لئے چھوڑے جا شہر جا بسا۔

عمارہ کہاں گئی یہ بات بھی کوئی نہیں جانتا۔

گاؤں اور حویلی میں بس اب خوشیوں کی نوید تھی۔

سب ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہے تھے۔