Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 19

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj

وہ دونوں اس وقت ہسپتال کے کوریڈور میں موجود حیرانی کے عالم میں کھڑے ان ریپورٹس کو دیکھ رہے تھے جو کچھ دیر پہلے ڈاکٹر نے انہیں اپنے کیبن میں بلائے تھمائی تھیں۔ دراصل پچھلے کچھ دنوں سے پشمینہ کی طبعیت ناساز سی تھی جس کے باعث فاتح زبردستی اسے اپنے ساتھ ہسپتال لایا جہاں ڈاکٹر نے اس کے امید سے ہونے کی خبر سنائی تھی پشمینہ کو تو ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ ماں جیسے عہدے پر فائز ہونے والی ہے وہ خالی خالی نظروں سے فاتح کی جانب دیکھ رہی تھی جب کہ وہ مسکراتا ہوا ریپورٹس کو ہی دیکھ رہا تھا وہ باپ بننے کی خوشی میں اتنا پاگل ہو گیا تھا کہ وہیں پشمینہ کو اپنی گود میں اٹھائے گول گول گھومنے لگا آس پاس کے لوگ سب ان کو دیکھ ہنس رہے تھے جب کہ پشمینہ کی آنکھیں تو حیرت سے پھیل گئی تھیں فاتح کے اس ریکشن پر ۔

“فاتح اتاریں مجھے م۔۔میں گر جاؤں گی”۔

پشمینہ نے گرنے کے ڈر سے اس کے کاندھے پر ہاتھ ٹکائے ہوئے کہا جب کہ آنکھیں میچی ہوئی تھیں۔

“اور تمہیں ایسا لگتا ہے کہ میں تمہیں گرنے دوں گا “۔۔؟؟

اب کے وہ اسے اپنے روبرو کھڑے کر گیا تھا پشمینہ نے اپنا سر گھومنے کے باعث تھامتے ہوئے اسے مصنوعی گھوری سے نوازا تھا۔جواب میں وہ صرف مسکرا دیا۔

تو ہے جو روبرو میرے بڑا محفوظ رہتا ہوں

تیرے ملنے کا شکرانہ خدا سے روز کرتا ہوں

©©©

فاتح نے اپنی خوشی کو بانٹتے ہوئے پورے آفس کے اسٹاف میں میٹھائی تقسیم کروائی تھی اور سب سے ڈھیروں مبارکباد کو بھی وصول کیا۔

“کیا بات ہے بڈی کس خوشی میں یہ میٹھائیاں بانٹیں جا رہی ہیں”۔ ؟

شہیر آفس کا دروازا دکھیل اپنی بھرپور وجاہت کے ساتھ داخل ہوا تھا بلیک پینٹ پر سکین کلر کی شرٹ پہنے آستینوں کو کہنیوں تک فولڈ کیے بالوں کو جیل کی مدد سے نفاست سے بنائے وہ کسی کا بھی دل دھڑکا سکتا تھا اس کی شخصیت میں ایک وجاہت سی تھی بے شک وہ دونوں دوست کسی ہیرو سے کم نہیں تھے ۔

“یار جانی کیا بتاؤں بس بات ہی کچھ ایسی ہے “

وہ ایک آنکھ ونک کیے شرارتاً بولا ۔

“اچھا پھر ہمیں بھی بتائیں ایسی کیا بات ہے”۔؟

شہیر نے اسکے کندھے پر اپنا بائیاں ہاتھ ٹکائے سوچنے کے سے انداز میں کہا ۔

“میں یعنی کہ فاتح شرجیل پاپا بننے والا ہوں “۔

وہ مسکراتے ہوئے روانی سے بولا تھا جب کہ اس کی بات سن پہلے تو شہیر نے اسے غور سے دیکھا پھر قہقہہ لگاتے ہوئے اسے کمر پر دھموکا رسید کرتے ہوئے بغلگیر ہوا۔

“بہت بہت مبارک ہو جانی اپنے مسٹر کھڑوس بھی باپ بننے والے ہیں “

“یار مگر ایک مسئلہ ہے مجھے لگتا ہے تیری بھابھی اس سب سے شائد خوش نہیں کیونکہ جب سے یہ نیوز پتہ چلی ہے پہلے تو خوش ہوئی تھی مگر اسکے بعد وہ خاموش خاموش سی ہے پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے اس کے ساتھ ایک تو ہر وقت خاموش خاموش رہتی ہے نا جانے کیا سوچتی رہتی ہے مجھے تو سمجھ نہیں آتی”۔

“افف میرے سائیکو دوست ایسا کچھ نہیں ہوتا اس حالت میں انسان چیڑچیڑا ہو ہی جاتا باقی تو یہ بتا کہیں تو نے بھابھی کے ساتھ جھگڑا تو نہیں کیا نا ۔”

اس کو سمجھاتے سمجھاتے یکدم آنکھیں ترچھی کیے مصنوعی غصے سے پوچھا۔

“نہیں یار ! جھگڑا تو کوئی نہیں ہے البتہ وہ ایک بات کو اپنے سر پر سوار کر چکی ہے اسے لگتا ہے میں اس کی بہن سے پیار کرتا تھا جب کہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔”

وہ جھنجھلا اٹھا تھا ۔

“کہیں سچ میں تو اس کی بہن کے ساتھ ۔۔۔۔؟؟؟”

شہیر کہتے درمیان میں اپنی بات اُدھوری چھوڑ گیا جس پر یکدم ہی فاتح سٹپٹایا تھا ۔

“نہیں ایسا کچھ نہیں ہے جو بھی تھا وہ ماضی میں تھا ہاں میں پسند کرتا تھا اس کی بہن کو لیکن اتفاق سے میری شادی اس کے بجائے پشمینہ سے ہو گئی مگر اب میں قبول کر چکا ہوں اسے لیکن شائد وہ نہیں کر پا رہی۔”

وہ افسردگی سے منہ بسورے بولا۔

“دیکھو فاتح ہم زندگی میں کتنی ہی چیزوں کی خواہش کر لیتے ہیں لیکن ضروری نہیں ہے کہ وہ ساری ہی چیزیں ہماری تقدیر میں لکھی گئی ہوں۔ہم انسان ہیں ہمارے بس میں صرف خواہش کرنا ہے چاہنا ہے لیکن عطا کرنا اس پاک زات کے بس میں ہے وہ بہتر جانتا ہے کہ ہم کس چیز کے خواہ ہیں کیا چیز ہمارے لئے بہتر ہے ۔جس طرح دنیاوی والدین اپنی اولاد کو بچوں کی ضروریات اور حیثیت کے مطابق چیزیں دلاتے ہیں اسی طرح ہمارا خدا ہمیں ہماری حیثیت کے مطابق عطا کرتا ہے۔

ہو سکتا ہے مشل کا ساتھ تیرے لئے کارآمد ثابت نہ ہوتا اسلئے اللہ نے بھابھی کو تیری زندگی میں بھیجا ہے۔

اسلئے یار اب تو بھابھی کو پیار سے سمجھا دیکھنا وہ سمجھ جائیں گی ان کو اپنے پیار میں اتنا ڈھال دے کہ ان سب باتوں کی جانب ان کا دھیان نہ جائے وہ صرف تجھ میں کھو جائیں ۔”

شہیر نے بہت ہی گہرائی سے فاتح کو ہر ایک بات سمجھائی تھی جسے سنتے وہ سر اثبات میں ہلا گیا۔

©©©

کچھ مہینوں بعد۔۔

دن تیز رفتاری سے گزر رہے تھے پشمینہ کی پریگنینسی کو پورے چھ مہینے بیت گئے ان گزرے ماہ میں فاتح نے اس کا ہر طرح سے خیال رکھا تھا وہ جتنا ہوتا اس کو اپنے پن کا احساس دلاتا لیکن شاید پشمینہ نے قسم کھائی تھی کہ فاتح سے بدلہ لے کر رہنا ہے۔

وہ ابھی بھی آفس سے آیا تھا اور پورے گھر میں اسے ڈھونڈتا پھر رہا تھا اور وہ محترمہ اسے سوئمنگ پل کے پاس رکھے گئے جھولے پر بیٹھی نظر آئی۔

“کیا حال ہے میڈم ؟”

اس کے شانوں کو تھپک وہ محبت سے بولا کہ وہ رخ پھیر گئی۔

“میں نے آپ سے کہا ہے نا کہ مجھ سے بات نہ کریں آپ کو سمجھ نہیں آتی ۔”

اپنا رخ سامنے لگے پودوں کی جانب کیے دبے دبے غصے کے تحت بولی تھی وہ۔

“پشمینہ بالغ بنو یہ بچوں والی سوچ و ضد چھوڑ دو ۔

میں ایک پریکٹیکل انسان ہوں مانتا ہوں کہ غلطی ہو گئی ہے میں نے کی ہے مشل سے محبت لیکن اس محبت کو میں نے روگ تو نہیں بنا لیا نا بلکہ اصل روگ تو تم ہی نے بنایا ہوا ہے اسے۔

وہ میرا ماضی ہے اور تم آج ہو خدا کا واسطہ ہے چھوڑ دو منفی سوچنا ۔سب بھول جاؤ صرف مجھے سوچو ہمارے اس بچے کو سوچو۔”

“فاتح خاموش ہو جائیں مجھے آپ کی ان فصول باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں اور جہاں رہی بات سابقہ محبت کی اگر یہی انکشاف شادی کی پہلی ہی رات میں آپ پر کرتی تو کیا بیتی آپ پر ، آپ تو شائد طلاق کا تحفہ پکڑا کر رخصت کر دیتے مجھے۔

فاتح اگر میری جگہ پر آکر سوچیں نہ تو آپ بھی قبول نہیں کر پائیں گے اس چیز کو ، جانتے ہیں جب یہ سوچتی ہوں کہ آپ مشل سے پیار کرتے ہیں تو دل میں درد سا ہوتا ہے۔”

وہ بولتے بولتے رو پڑی تھی ۔

“پشمینہ ایک تو تم ڈبل مائنڈ ہو اور مجھے بھی کر دیا ہے اب تو میں خود کنفیوژ ہو گیا ہوں۔”

وہ اپنا سر تھام گیا تھا جب کہ وہ افسوس بھری نگاہیں اسکے وجود پر ڈالے وہاں سے چل دی۔

®®®®

وہ اس وقت شہر کے مشہور ہسپتال کے بستر پر لیٹی درد سے کراہ رہی تھی آنسوں دونوں وجود کی آنکھوں سے تواتر بہہ رہے تھے۔

“مینہ۔۔م۔۔میری غ۔۔غلطی تھی مجھے ایسے نہیں کہنا چاہیے تھا پلیز ٹھیک ہو جاؤ مجھے چھوڑ کر مت جاؤ۔”

“م۔۔میں مرنا نہی۔۔۔م۔۔مرنا نہیں چ۔۔چاہتی۔۔

ل۔۔لیکن “….

“م۔۔مجھے مرنا ہ۔۔ہوگا”…”

وہ لڑکی ہسپتال کے بستر پر لیٹی خود پر ضبط کی گرھیں لگائے بمشکل بول رہی تھی۔آس پاس موجود اس کی فیملی کی آنکھیں اشکوں سے رواں تھیں ۔ جبکہ اس کے پہلو میں موجود اس لڑکی کا شوہر بھیگی آنکھوں سے اپنی بیوی کا ہاتھ تھامے اسے یوں تڑپتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔۔.

“ن۔۔نہیں تمہیں ک۔۔کچھ نہیں ہو گا۔۔

تمہیں جینا ہے میرے لئے , پلیز ایسی باتیں مت کرو”….

اپنے شوہر کی بات سن وہ تلخ سا ہنس دی تھی ….

جو اسے دلاسے دے رہا تھا یا شائد خود کو امیدیں دلا رہا تھا….

اس کا بس چلتا تو وہ کچھ کر گزرتا ، جس کے باعث وہ لڑکی ٹھیک ہو پاتی ، لیکن افسوس !

یہ صرف ایک خواب ہی رہ گیا تھا ‘…

کیونکہ یہ سب اس کے بس میں نہ تھا…

روٹھ جائیں گے یہ خوش رنگ مناظر سارے

دل اگر اب کے محبت سے گریزاں ہو گا

خوں رلائیں گے مجھے پھر مرے آدابِ وفا

کچھ لکھوں گی تو یہ اشعار کا عنواں ہوگا

“سنیں “…

بہت ہی امید سے پکارا تھا اس لڑکی نے اپنے شوہر کو …

“م۔۔میری ا۔۔ایک آخ۔۔آخری خواہش پوری کر دیں”…

کتنا مان ، کتنی امید بھری تھی اس کی ان بھیگی شربتی آنکھوں میں ، جو کے تکلیف میں ہونے کے باعث لال سرخ ہو رہی تھیں….

“ج۔۔جی “

اسکا شوہر اپنی بیوی کی پر امید آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا…

وہ مسکرا رہا تھا لیکن اسکی یہ مسکان زیادہ لمحے اسکے چہرے کی زینت بننے کا شرف حاصل نہ کر سکی تھی…

کیونکہ جو الفاظ۔ ، جو جملے اسکی بیوی نے اس سے کہے تھے وہ اسکے قدم ڈگمگانے کا باعث بنے …

کچھ ایسا ہی حال وہاں موجود اسکی فیملی کا تھا ..

لیکن اس لڑکی کو کسی سے کوئی سروکار نہ تھا ..

اسے مطلب تھا تو صر اپنے فیصلے سے…

کیونکہ وہ جانتی تھی دل پر پتھر رکھے ، بہت مشکل اس نے یہ فیصلہ کیا ہے جو کہ ابھی نہیں ،لیکن آگے جا کر سب کی زندگیوں کے لئے بہت کار آمد صاحب ہوگا..

کچھ ہی لمحوں کے بعد منظر بدل چکا تھا..

وہ آنکھیں جن میں امید تھی ، محبت تھی ، پیار تھا ساکت ہو چکی تھیں. اپنی آخری خواہش کے پورا ہوتے ہی وہ لڑکی اس ظالم دنیا سے کوچ کر گئی تھی .

دم توڑتے ہوئے اس کے چہرے پر تکلیف کے ساتھ ساتھ خوشی بھی تھی…

محبتوں کی خوشی ۔۔۔

اس کا شوہر رو تڑپ رہا تھا اس کے بے جان وجود کو دیکھے اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ معصوم پری کتنی جلدی اس دنیا سے رخصت ہو گئی…

جس کا ساتھ اسے ابھی ہی نصیب ہوا تھا قسمت نے جدا کر دیا تھا انہیں….

ہے کوئی ایسا بھی دل جس کو کوئی غم ہی نہیں

غمِ جاناں نہ ہوا تو غمِ دوراں ہو گا

خود سے میں ملنا تو چاہوں گی مگر اے عذراؔ

خود سے مل کر بھی بچھڑنا کہاں آساں ہوگا

©©©

“یا خدایا ! جب مجھ سے سب چھیننا ہی ہوتا ہے تو دیا ہی نہ کر …

کیوں سب کو میرے دل کے قریب کر چھین لیتا ہے ..

بچپن میں ، میرے والدین کی شفقت کو مجھ سے چھین لیا گیا ..

“میں برداشت کر گیا ….

میری محبت ، کو تو نے میرا نہ ہونے دیا تب بھی صبر کر لیا ..

لیکن ، لیکن جب دل نے دھڑکنا شروع کیا اس دلربا کے لئے ، تو نے اسکو بھی مجھ سے جدا کر ، الگ ہی ستم ڈھا دیا “…

“فاتح شرجیل “..!

ایک مضبوط توانا شخص ٹوٹ کے بھکر رہا تھا ..

ابھی کچھ دیر پہلے ہی اس مٹی تلے اس صنف جو اسکی بیوی تھی .

دفنایا تھا اسے ، ..

ہر گزرتے لمحے کے ساتھ فاتح کا دل بھی پیسچ رہا تھا , وہ لڑکی جس کی معصومیت ، اس کی سادگی گھر کر گئی تھی اس کے دل میں ..

آج یوں جدا ہو گی ، ایسا کبھی خوابوں میں بھی نا سوچا تھا اس نے..

ابھی تو اپنے آشیانے کو سجانے کے ، سپنے سجائے تھے اس نے ،

مگر وہ سب ہی سپنے کسی نازک کانچ کی مانند چکنا چور ہو گئے..

دوپہر سے رات ہونے کو آئی تھی مگر وہ وہاں سے ایک انچ بھر بھی نہ ہلا تھا ، وہاں موجود آتے جاتے لوگوں کو وہ کوئی دیوانا ہی معلوم ہو رہا تھا.

مشہور بزنس ٹائکون ، جس کے نام سے دنیا واقف تھی ..

کم ہی وقت میں جس نے اپنا نام بنوایا تھا ، وہ یوں اپنی بیوی کے قبر کے پاس بیٹھا رو رہا تھا “…

اس کا ذہن ہر چیز کو بالکل فراموش کر چکا تھا..

یہاں تک کہ اس کو یہ بھی نہ یاد تھا کہ اپنی ایک دن کی بچی کو وہ یونہی چھوڑ آیا ہے , ساتھ ہی کوئی ایک ایسا وجود بھی ہے جو آج ہی اس کے رشتے میں جڑا ہے ….

وہ سب کچھ فراموش کیے غم کی سی کیفیت میں بیٹھا خود کی قسمت پر اشک بار تھا..

ہوش آیا تھا اسے جیسے ہی خود کے کندھے پر کسی کے ہاتھوں کے لمس کا گمان ہوا ، پیچھے موڑ کر دیکھنا چاہا تو وہ کوئی بزرگ شخص تھا ، شائد اس قبرستان کا چوکیدار تھا …

“بیٹا دوپہر سے رات ہونے کو آئی میں دیکھ رہا ہوں کب سے یہیں بیٹھے ہو ، آپ کے ساتھ آنے والے لوگ حتیٰ کے ، وہ آس پاس کے لوگ جو اپنے عزیزوں کی یاد میں آئے تھے جا چکے ہیں مگر آپ اب تک یہیں ہو…؟؟”

فاتح بس خاموش نگاہوں سے اس شخص کی آنکھوں میں دیکھ رہا ، اس کے دل کی ویرانگی ، بے بسی ، تکلیف سب اسکی آنکھوں سے صاف نمایاں ہو رہی تھیں …

“بیٹا دنیا میں جو جان آتی ہے اسے جانا بھی لازم ہے .

لکھا ہے…

خاک خاک سے جا ملے جس طرح آگے ملی ہوئی تھی ….

ہم سے مٹی سے بنائے گئے ہیں ، اس لئے ہمارا وجود مٹی میں ہی جا ملتا ہے ، آخر کار جو جس کی چیز ہوتی ہے وہ ایک نا ایک دن واپس لے ہی لیتی ہے ، اسی طرح ہماری یہ روح خدا کی امانت ہے ..

وہ ذاتِ الٰہی بھی اپنی یہ امانت مقررہ وقت پر واپس لے لیتا ہے …

اسی لئے بس دعا کرو ، ورنہ بیٹی کی روح کو بہت تکلیف ہو گی ….

شاباش اب آپ بھی اب گھر جائیں ، کیونکہ رات دیر ایسے آپ سب کا یہاں رہنا ٹھیک نہیں “….

وہ شخص بہت ہی سمجھ داری سے فاتح کو سمجھا رہے تھے….

ایک بار پھر اسکے دل میں ٹیس سی اٹھی تھی آنکھوں کے گوشے بھیگنا شروع ہوئے تھے لیکن وہ خود پر قابو کیے ، اس قبر پر آخری نظر ڈالے وہاں سے چل دیا ۔اسکے نکلتے ہی وہاں تیز کی آندھی چلنے لگی تھی وہ اپنی گاڑی تک پہنچنا چاہتا تھا لیکن پہنچ نہیں پا رہا تھا ایک روشنی سی پڑ رہی تھی اسکی آنکھوں پر اور کوئی نسوانی پری پیکر کی آواز تھی جو اسے پکار رہی تھی اور اس نور میں سے اسکا وجود دھیرے دھیرے نمایاں ہونا شروع ہوا وہ وجود جیسے ہی اسے قریب آیا فاتح وہ اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا کیونکہ وہ تو۔۔۔۔