Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 24

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj

حویلی پہنچنے کے بعد چوہدری وقاص بنا کسی کی جانب دیکھے غصے سے اپنے کمرے میں چل دیے جب کہ چوہدری وقار نے خائف نظروں سے شہیر کی جانب دیکھا۔

“شہیر بیٹا جو بھی تھا مگر آپ کو اس بچی کو وہاں نہیں لانا چاہیے تھا۔ “

چوہدری وقاص کی ناراضگی کا سوچ وہ شہیر سے خفا ہوئے تھے۔

“بابا سائیں میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں مگر مجھے اب بھی ایسا لگتا ہے کہ میں نے جو کیا ٹھیک ہی کیا ہے کیونکہ اگر میں ایسا نہ کرتا تو سحر کو ایک بیوی کا رتبہ سب کے سامنے کبھی نہ ملتا وہ آج گاؤں والوں کی نظروں میں ایک ونی ہی رہتی اور یہ بات مجھے گوارا نہیں تھی۔

آپ تو جانتے ہی ہیں سحر کی اس حویلی میں آمد کیسے ہوئی تھی؟

اس کو اسی پنچائیت میں سب کے سامنے ونی جیسے گرے ہوئے رتبے سے نوازا گیا تھا میں نے تو بس ایسا کر کے اس کے سر سے وہ ونی کا داغ ختم کیا ہے اور ایک بیوی اور سردارنی کا تاج پہنایا ہے۔

کیا اب بھی آپ کو ایسا لگتا ہے کہ میں نے غلط کیا ؟؟؟”

ان کی آنکھوں میں دیکھ وہ مخاطب ہوا تھا جب کہ اپنے بیٹے کے لہجے میں چھپی سنجیدگی کو دیکھ چوہدری وقار خاموش ہو گئے۔

کہیں نا کہیں وہ شہیر کی بات سے اتفاق کر گئے تھے۔

©©©

“بھائی آپ موڈ تو ٹھیک کر لیں صبح سے خاموش بیٹھے ہیں شہیر کی طرف سے میں معافی مانگتا ہوں آپ سے پلیز نظر انداز کر دیں اس بات کو ۔”

چوہدری وقار اپنے بھائی کی خاموشی کو دیکھ شرمندہ سے ہو رہے تھے۔

“تمہیں معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے وقار ، اور میں تم سے ناراض بھی نہیں ہوں بس شہیر کا یوں بھری پنچائیت میں اس لڑکی کو لانا مجھے کافی ناگوار گزرا ہے تم تو یہ بات اچھے سے جانتے ہو کہ عورت کی عزت کے معاملے میں ، میں کتنا سخت طبعیت ہوں مجھے نہیں اچھا لگا کہ وہ لڑکی سب مردوں کے سامنے وہاں لائی گئی ہے۔ “

“بھائی ناراض تو نہ ہوں نا بچہ سمجھ کر معاف کر دیں۔”

ان کو مزید بھپرتے دیکھ انہوں نے بات کو ختم کرنا چاہا۔

“وقار جو بھی ہے شہیر نے ٹھیک نہیں کیا سحر کو بھری پنچائیت میں لے جا کر آخر کو وہ ایک عورت ہے ، اس کا وہاں کوئی کام نہ تھا۔”

سنجیدگی سے کہتے وہ پیچھے کرسی پر ٹیک لگا گئے تھے۔

جب کہ ان کی بات سن اندر ہال میں بڑھتے شہیر کی قدم تھمے وہ اندر جانے کے بجائے وہیں ان ہی کی جانب آکھڑا ہوا اور طنزیہ نظروں سے چوہدری وقاص کی جانب دیکھا جب کہ وہ اپنا رخ دوسری سمت پھیر گئے تھے۔

“واہ ! تایا سائیں واہ ! شہیر چوہدری قربان جائے آپ کی اس بے تکی لاجک پر ، مطلب حد ہے جب بھری پنچایت میں سب مردوں کے سامنے اس کو ونی کیا گیا تھا کیا تب آپ کو اسکا عورت ہونا نظر نہ آیا تھا جو اب آپ عورت کے حقوق و فرائض کا درس پڑھا رہے ہیں۔”

ان کی جانب کٹیلی نظروں سے دیکھ وہ طنزیہ انداز میں مخاطب ہوا۔

“شہیر تب اس لڑکی کا تعلق ہماری حویلی و خاندان سے نہیں تھا اسلئے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔”

دانت کچکچاتے وہ اپنے شرمندگی مٹاتے بولے تھے کہ شہیر نے افسوس کن نظروں سے ان کی جانب دیکھا۔

“عورت حویلی کی ہو یا کسی غریب کسان کی ، عورت عورت ہی ہوتی ہے تایا سائیں ، رشتے بدلنے سے اسکی جنس یا رتبہ نہیں بدل جایا کرتے اور جہاں تک مجھے لگ رہا ہے کہ آپ کو مسئلہ سحر کے وہاں ہونے سے نہیں بلکہ اس بات سے ہے کہ میں نے وہ پگ آپ کے ہاتھوں کے بجائے اسکے ہاتھوں سے پہنی۔”

اپنی آنکھیں ترچھی کیے وہ انہیں گھور کر بولا شہیر کے لہجے میں بلا کا غصہ و سنجیدگی نمایاں تھی وہ پختہ و اٹل لہجے میں کہتا ان کو خاموش کروا گیا تھا جب کہ شہیر کی بات سن وہ سر جھٹکتے اٹھ کر اندر کی جانب چل دئیے۔

©©©

“ارے واہ اتنا بھن ٹھن کے کہاں جا رہے ہو ؟

کہاں کی سواری ہے بھئی تم دونوں کی ؟”

شہیر اور سحر کو ایک ساتھ باہر جی جانب جاتا دیکھ نورے بیگم اپنی عادت کے مطابق طنز کرنا نہ بھولی تھیں جب کہ ان کے یوں سوال کرنے ہر شہیر نے بیزاری سے ان کی جانب دیکھا۔

“ہم تیار کیوں ہوئے ہیں یہ بتانا میں آپ کو ضروری نہیں سمجھتا اور ہم کہاں جا رہے ہیں یہ جاننا آپ جیسی کے لئے ضروری نہیں۔”

لبوں پر طنزیہ مسکان سجائے وہ نورے بیگم کی آنکھوں میں دیکھ درشتگی سے بولا تھا جب کہ اپنی یوں براہِ راست بے عزتی کیے جانے پر نورے بیگم کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔

“جب معلوم ہے کہ بے عزتی ہی ہونی ہے تو بہتر ہے نا کہ اپنا منہ بند ہی رکھا جائے۔”

نورے بیگم کے سناٹے کی ضد میں آئے وجود کو دیکھ میمونہ بیگم اپنی ہنسی ضبط کیے بولی تھیں اور وہاں سے لان کی جانب چل دی جب کہ نورے بیگم اپنی بے عزتی پر کھولتی صوفے پر آن بیٹھی شہیر و سحر سمیت میمونہ بیگم کو بھی دل میں کئی سلاواتوں سے نواز چکی تھیں۔

©©©

عمارہ کے بہت اسرار پر احمر اسے اپنے ساتھ حویلی لے آیا تھا وہ تھوڑی نروس و ایکسائیڈٹ ہو رہی تھی اس کے چہرے پر ایک الگ سی رونق چھائی ہوئی تھی۔ نورے بیگم و چوہدری وقاص سمیت حویلی کے تمام اراکین شاک تھے احمر کے ساتھی کسی ماڈرن لڑکی کو دیکھ ان کی حیرانی مزید شاکٹ میں بدلی تھی جب احمر نے عمارہ کا تعارف اپنی بیوی کی حیثیت سے کروایا۔

سب نے اس تکھے نین نقوش والی سفید رنگت عمارہ کو دیکھا جس کے بال گولڈن ڈائے کئے بال ہلکے کیچر میں قید کمر پر لہرا رہے تھے جینس کُرتے میں ملبوس وہ بنا ڈوپٹے کے ان کے سامنے کھڑی مسکراتی نظروں سے سب کو دیکھ رہی تھی۔

نورے بیگم تو منہ پر ہاتھ رکھے مسکراتی ہوئی آگے بڑی تھیں اور فوراً سے عمارہ کو اپنے گلے لگایا۔

“واہ احمر پتر مان گئی تجھے ، کتنی سوہنی بہو ڈھونڈی ہے میرے لئے بالکل ایسی لڑکی چاہیے تھی مجھے۔”

وہ ستائشی نظریں عمارہ کے وجود پر گاڑے احمر کے شانے تھپکتے بولی تھیں جب کہ چوہدری وقاص اس پر سرسری سی نظر ڈال اندر ہو لیے۔ عمارہ کی آنکھ میں موجود چمک جو ان کو دیکھ نمودار ہوئی اس نے بیچین کر ڈالا تھا چوہدری وقاص کو کہ وہ نظر انداز کرتے اندر ہو لیے جب کہ عمارہ کے لبوں پر ایک عجب سی مسکان نمودار ہوئی تھی۔

©©©

شہیر سحر کو اپنے ساتھ لئے فاتح کے گھر آیا تھا اس کا ارادہ سحر کو تین دن یہاں ٹھہرانا کا تھا وہ چاہتا تھا کہ فنکشن سے پہلے سحر یہاں کچھ وقت پشمینہ کے ساتھ گزار لے تا کہ وہ حویلی میں جو تیاریاں کروانی ہے وہ آرام سے کروا سکے۔

وہ دونوں اس وقت لان میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے

جب کہ اس کے بر عکس سحر خاموشی سے نظریں جھکائے بیٹھی اپنے ہاتھوں سے کھیلنے میں مصروف تھی۔

“پشمینہ بھابی۔۔

سحر کو اندر لے جائیں اور انہیں خوف پر قابو پاتے ہوئے تھوڑا بولنا سیکھا دیں۔”

شہیر نے سب کے بیچ پزل ہوتی سحر کو دیکھ کہا تھا جب کہ شہیر کی بات سن فاتح کا قہقہہ گونجا۔

“شہیر جانی یہ مینہ کیا سیکھائے گی ، یہ تو خود ڈرتی پھرتی ہے ۔۔”

قہقہ لگائے وہ مینہ نے وجود کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے بولا تھا کہ پشمینہ نے شکوہ کناں نظروں سے اسکی جانب دیکھا تھا۔

فاتح کو مصنوعی گھوری سے نوازتے وہ سحر کا ہاتھ تھام اندر کی جانب چل دی۔

جب کہ فاتح و شہیر دونوں ہی اپنی اپنی بیگمات کو جاتا دیکھتے رہے پھر واپس سے اپنی باتوں میں مشغول ہو گئے۔

©©©

احمر کو حویلی آئے دو دن بیت چکے تھے وہ حیران تھا شہیر و سحر دونوں کو حویلی میں نا پا کر اسے سمجھ نہ آئی کہ وہ لوگ گئے کہاں ہیں وہ تو انہیں کمتر ظاہر کروانے کے لئے عمارہ کو اپنے ساتھ یہاں حویلی لایا تھا لیکن اب انہیں وہاں موجود نہ دیکھ وہ الجھ کر رہ گیا تھا بلآخر تنگ آنے کے بعد وہ سیدھا نورے بیگم کے پاس آیا کہ شاید وہ ہی جانتی ہونگی ان کے بارے میں لیکن اس کی یہ خوش فہمی بھی بہت جلد دور ہو گئی جب وہ اسے دیکھ غصے و ناراضگی سے اپنا منہ موڑ گئی تھیں۔

“احمر چلے جاؤ یہاں سے۔”

نورے بیگم غصے کی زیاتی سے اپنا رخ پھیر گئی تھیں۔

“کیا ہو گیا ماں ؟”

ان کے یوں غصے سے چلائے جانے پر وہ بیزار سا ہوا تھا ایک تو ویسے ہی اس کا موڈ اوف تھا اوپر سے نورے بیگم کا یہ ردعمل اسکا دماغ گھومانے کا باعث بنا۔

“یہ تو مجھ سے پوچھ رہا ہے کیا ہوا ؟

یہ جو آج حویلی کے حالات ہیں نا تیری ہی بدولت ہیں ۔”

“میری وجہ سے۔۔؟؟”

وہ حیرت کی زیاتی سے چلاتے ہوئے بولا ۔

“نا تو سحر کو طلاق دیتا نہ ہی شہیر کا نکاح سحر کے ساتھ ہوتا۔

اس نکاح کی وجہ سے اسے کتنی ہلا شیری مل چکی ہے جو ہمیں ہی دو بدو جواب دینے پر تلی ہوئی مطلب وہ لڑکی جس کی اوقات ہمارے سامنے دو ٹکے جتنی بھی نہیں ہمارا مقابلہ کرنے چلی ہے۔”

غصے سے کھولتی وہ ساتھ احمر کو بھی باتیں سنا گئی تھیں کہ وہ ان کی باتوں پر اپنا ماتھا پیٹتا وہاں سے چل دیا۔

©©©

شہیر کسی سے فون پر بات کرتا گزر رہا تھا کہ اس کی نظر ایک خوبصورت منظر پر اٹک کر رہ گئی وہ اسٹیل سا اپنی جینس کی جیب میں ہاتھ ڈالے ایک ہاتھ سے فون کان پر لگائے کھڑا اپنی محبوبہ کو تک رہا تھا جو نجانے کب سے اپنے بالوں کی زلفوں سے کشتی کرنے میں مصروف تھی اس کے چہرے سے یہ گمان ہونے لگا کہ وہ اب الجھن کا شکار ہونے لگی ہے شہیر سر جھٹکے مسکراتا ہوا روم میں آیا۔

“کیا ہوا بیگم صاحبہ آپ اتنی الجھی ہوئی کیوں ہیں”…؟؟

اس کے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھے وہ لب دبائے بولا کہ سحر نے شکوہ کناں نظروں سے اس کی جانب دیکھا جیسے کہنا چا رہی ہو کہ سب دیکھتے ہوئے بھی پوچھ رہے ہیں کہ کیا ہوا۔

“مجھے بھوک لگی ہے بھابھی نے کہا میں آکر کھلاتی ہوں مگر وہ اب تک نہیں آئی ہیں۔”

سر جھکائے وہ معصومیت سے بھرے لہجے میں گویا ہوئی اس کے گال ایسی سیٹویشن میں ہلکے گلابی رنگ میں ڈھل سے گئے تھے کہ شہیر کہ اختیار ہوتا انہیں پیار سے کھینچ گیا۔

“کیوں آپ خود نہیں کھا سکتیں آپ کے ہاتھوں پر مہندی لگی ہے؟”

ہاتھ چہرے پر ٹکائے وہ آنکھوں میں محبت و شرارت بیک وہ سمیٹے گھمبیر لہجے میں بولا تھا۔

“مہندی ہی تو لگی ہے ورنہ میں خود ہی کھا لیتی ویسے بھی اتنا تو میں بھی جانتی ہوں کہ دوسروں کے آسروں پر جینے والوں کو یہ دنیا جینے نہیں دیتی۔”

نارمل لہجے میں کہتے کہتے وہ سنجیدہ سی ہوئی تھی۔

“او کم آن وائفی سردارنی صاحبہ۔۔۔”

چہرے پر چھائی وہ گہری زلفوں کو شہیر چوہدری نے پرے دھکیلا تھا

“جب تک آپ کا شوہر آپ کے ساتھ ہے آپ کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ویسے اتنا اداس نہیں ہوتے ،آپ کو بھوک لگی ہے نا لائیں میں کھلا دیتا ہوں فکر ہی کوئی نہیں۔۔”

اس کا رخ اپنی جانب کیے پلیٹ میں رکھا گیا فروٹ باری باری اپنے ہاتھوں سے کھلایا تھا شہیر نے اسے وہ جھجھک رہی تھی لیکن جلد ہی لیکن خود پر تھوڑا قابو پا گئی۔