Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 31

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj

کالے رنگ کے بہترین سوٹ بوٹ میں ملبوس وہ ساحرانہ پرسنیلٹی رکھنے والا شخص ، آفس کے کانفرنس روم میں بیٹھے اپنے کلائنٹ کے ساتھ بہت ہی خاص موضوع پر میٹنگ کر رہا تھا کہ اچانک ہی روم میں فون کی رنگ بجی تھی جس نے فاتح کے ساتھ ساتھ وہاں موجود ہر شخص کو متوجہ کیا تھا۔

وہ ان سب سے ایکسیوز کرتا سائیڈ پر فون کال سننے کیلئے آیا تھا ، نجانے دوسری جانب سے کیا کہا گیا کہ وہ بنا کسی کی پرواہ کیے فوراً ہی دوڑتا ہوا باہر پارکنگ میں پہنچا تھا اور گاڑی میں بیٹھ کر تیز رفتاری سے ہسپتال میں پہنچا جہاں ڈاکٹر نے اسے زندگی سے بھرپور خوش خبری سے آگاہ کیا۔

وہ روم میں داخل ہوا تھا جہاں پر وہ ماہ وش نیم غنودگی کی سی کیفیت میں آنکھیں موندے بستر پر لیٹی تھی۔پاس ہی کاٹ میں ایک بچہ موجود تھا جسے کپڑوں میں لپیٹا گیا تھا۔

فاتح دھیمے قدموں سے آگے بڑ رہا تھا اس وقت اسکی کیفیت ہی مختلف تھی آگے بڑھ اس نے بہت ہی آہستگی سے اس بچے کو اپنی گود میں اٹھایا دل ایک الگ ہی انداز میں دھڑکا تھا جب اپنے ہی وجود کے حصے کو گود میں تھامے کھڑا تھا۔

یہ احساس واقعی جدا تھا کہ وہ باپ بن چکا ہے۔

نہایت نرمی اور محبت سے فاتح نے اسے اپنے سینے سے لگایا ساتھ ہی ایک نظر اپنی متاعِ حیات پر ڈال رخ اس کی جانب کیا تھا۔

“مبارک ہو پیاری وائفی ! آپ ماں بن چکی ہیں۔”

گود میں موجود بچے کو پشمینہ کے پہلو میں لیٹائے ساتھ ہی عقیدت سے اس کا ماتھا چوم مبارک باد پیش کی تھی۔

پشمینہ نے مندی مندی آنکھیں کھول فاتح کی جانب دیکھا تھا۔

“ویسے ہماری بیٹی کی آنکھیں کتنی خوبصورت ہیں نا ، بالکل تمہاری طرح بس آنکھوں کا رنگ تھوڑا مختلف ہے۔”

“فاتح ، یہ بیٹی نہیں ، بیٹا ہے۔”

فاتح کی بات سن کر وہ ہلکا سا کھلکھلائی تھی جب کہ فاتح تو مارے حیرت کے کبھی پشمینہ کو دیکھتا تو کبھی اس کے پہلو میں موجود اپنے بچے کو ساتھ ہی اپنی شرمندگی چھپائے اس نے بات بنائی۔

“ہاہاہا ، کوئی بات نہیں ویسے ایک دن کا بیبی تو پہچانا بھی نہیں جاتا۔میں نے صرف اس کی آنکھوں کو دیکھ کہا جو کہ تمہاری طرح لگ رہی ہیں۔”

“مائے بوائے ! ” آتے ساتھ ہی ڈیڈ کو چکما دے دیا اٹس ناٹ فئیر ،

اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپ فاتح کے بیٹے ہو۔”

اپنے بیٹے کے گالوں کو ہلکا سا دبایا کہ وہ کسمسا کر رہ گیا مینہ نے آنکھیں دیکھائی دی تھیں اسے جیسے خبردار کر رہی ہو۔

لیکن اسکی گھوری کو بھی بنا خاطر میں لائے وہ اسکے گالوں کو بھی کھینچ گیا تھا۔

کچھ دیر میں موبائل نکالے فاتح نے اپنی ایک فیملی فوٹو کلک کی اور مشل اور منصور صاحب کے نمبر پر بھیج ڈھیر ساری مبارکباد وصول کیں ساتھ ہی اپنے بیٹے کی علیحدہ سے تصویریں لے کر اس نے شہیر کے نمبر پر سینڈ کی تھیں جسے دیکھ اس نے بنا وقت ضائع کال کی تھی اور ساتھ ہی اپنے کارڈ وڈ ( ۔۔۔) میں ہنستے ہوئے دلی طور پر باپ بن جانے کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے دلی طور پر دعاؤوں سے نوازا۔

©©©

آج فاتح کے بیٹے نعمان کا سوا مہینہ کافی بڑے پیمانے پر رکھا گیا تھا۔جس میں فاتح کے تمام قریبی دوست احباب ، رشتے دار سمیت اس کے آفس ایمپلائز بھی شامل تھے۔

سب نے ان دونوں کو بہت سی دعاؤں سے نوازا تھا ساتھ ہی نعمان کے لئے ڈھیروں تحائف بھی لائے تھے جسے کچھ دیر پہلے ہی مشل و پشمینہ نے سمیٹ کر رکھا تھا اب مشل نعمان کو گود میں اٹھائے اس کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی جب کہ منصور صاحب ، فاتح اور پشمینہ تینوں بیٹھے باتوں میں مصروف تھے کیونکہ یہ منصور صاحب کا ہی حکم تھا کہ وہ ان دونوں سے کسی اہم ٹاپک پر بات کرنا چاہتے تھے۔

“فاتح بیٹا اب آپ ہمارے گھر کا حصہ ہیں ، ایک فرد ہیں۔

اسلئے ایک بات ہے جو میں آپ شئیر کرنا چاہتا ہوں۔”

سامنے بیٹھے فاتح پر ایک نظر ڈالے بولے تھے وہ ساتھ ہی جوس کا ایک گہرا سِپ لیا تھا۔

“جی بالکل انکل کہیے میں سن رہا ہوں “

“میرے دوست کے گھر سے ہماری مشل کے لئے رشتہ آیا ہے۔

لڑکے سے میں بس ایک ہی مرتبہ ملا ہوں وہ بھی تب جب آج سے دو سال پہلے وہ پاکستان آیا تھا ورنہ اپنے بزنس کے ساتھ وہ باہر کے ملک میں ہی بسا ہوا ہے۔اگر دیکھا جائے تو رشتہ برا نہیں ہے۔”

“اب تم دونوں بتا دو کہ کیا رائے تمہاری ؟

اگر تکلف نہ ہو تو کسی دن وقت نکال ہم سب ان کے گھر بھی ہو آئیں۔

کیا کہتے ہو ؟”

منصور صاحب اپنی بات کہے خاموش ہوئے تھے کہ پشمینہ نے چور نگاہوں سے فاتح کی جانب دیکھا جہاں پر کسی بھی قسم کے تاثرات نہ تھے وہ نارمل انداز کے ساتھ بیٹھا منصور صاحب سے مسکرا کر بات کر رہا تھا۔ فاتح کو نارمل پائے پشمینہ نے بھی گہری سانس بھری تھی ورنہ نا چاہتے ہوئے بھی منصور صاحب کی بات اسے بے چین کر گئی تھی۔

“انکل ایک طرح سے بیٹا کہتے ہیں اور دوسری طرف تکلف کی بات کر رہے ہیں۔

باقی مشل کی فکر نہ کریں وہ مینہ کی بہن ہے میرے لئے بالکل چھوٹی گڑیا کی طرح ہے اتنی آسانی سے کسی کے سپرد تھوڑی کریں اپنی گڑیا کو ہم۔”

ایک نظر نعمان سے کھیلتی مشل کو دیکھ کہا تھا جو کہ ناجانے کون کون سی باتیں اس سے کر رہی تھی اور وہ صاحب صرف ہاتھ پاؤں ہلا کر بات کا جواب دے رہے تھے۔

“لڑکے کے بارے میں انفارمیشن میں نکلوا لوں گا جب تک آپ بات کر لیں اگلے ہی ہفتے میں وہاں جا کر بات چیت کر آئیں گے۔”

“شکریہ بیٹا !

خوش و سلامت رہو جیتے رہو۔”

منصور نے جواباً انہیں ڈھیروں دعاؤں سے نوازا تھا جس پر سر خم کیے اس نے ادب کے دائرے میں وصول کیا۔

©©©

نعمان کو سلانے کے بعد ابھی وہ سائیڈ پر ہو کر بیٹھی ہی تھی کہ فاتح نے پشمینہ کا رخ اپنی جانب کیے اس کو متوجہ کروایا تھا۔

“کیا تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے ؟”

“یہ کیسا سوال کر رہے ہیں آپ ؟”

حیران کن لہجے میں کہتے اسنے اپنے کندھے اچکائے جیسے اس کے سوال کو سمجھ نہ سکی ہو۔”شام میں انکل کے سوال پر تمہاری آنکھوں میں جو ہلکا سا خوف ابھرا تھا نا۔وہ میری نظروں سے مخفی نہیں رہ سکا۔”

آنکھیں چھوٹی کیے وہ اسے آگاہ کر رہا تھا جیسے اس کی ہر ایک حرکات پر اس کی نظر ہو۔

“ن۔۔نہیں فاتح ایسی بات نہیں مجھے خود سے بڑھ کر آپ پر یقین ، اگر یقین نہ ہوتا تو آج میں آپ کے ساتھ یہاں نہ ہوتی وہ تو بس پاپا کی بات پر کچھ لمحوں کے لئے ۔۔۔۔”

“ہش۔۔۔ کچھ لمحوں کے لئے ہی صحیح ، تمہاری آنکھوں میں یہ خوف و بے اعتباری نہ دیکھوں کیونکہ کچھ بھی ہو لیکن اب اس دل میں صرف تم بستی ہو۔یہ دل پشمینہ کے علاؤہ کسی اور کے بارے میں سوچنے کی گستاخی نہیں کر سکتا جانِ جاں۔”

اس کی بات بیچ میں ہی کاٹ گھمبیراً کہتے وہ اپنے لہجے میں محبت کا جہاں سمیٹے بولا تھا کہ پشمینہ اس کے لہجے کا مخمور محسوس کیے نظریں چرا گئی تھی۔

جذبات میرے سبھی تو ہی جانے

جتنا بھی دیکھوں دل بھر نا پائے۔

©©©

“سائیں !

کیا آپ کا دل پتھر کا ہے جو آج تک میرے لئے نرم نہیں ہو سکا ؟”

بستر پر بیٹھی سکینہ بیگم سامنےکھڑے تیار ہوتے چوہدری وقاص سے مخاطب ہوئی تھیں ان کے لہجے میں اداسی بھری پڑی تھی جسے ان کے شوہر صاف محسوس کر سکتے تھے لیکن وہی نا کہ ابتدائی دنوں سے ہی وہ ان کے معاملے میں لاپرواہی برتے آئے تھے۔ نا یہ درد ان نے پہلے محسوس کیا تھا اور نا ہی آج کر رہے تھے۔

“یہ کیسی فضول باتیں لے کر بیٹھ گئی ہیں آپ ؟”

ماتھے پر تیوری چڑھائے وہ نخوت زدہ لہجے میں گویا ہوئے تھے ان کے انداز سے لگ رہا تھا کہ یہ بات انہیں نہایت ناگوار گزری ہے۔

“میں نے کوئی ایسی ویسی بات تو نہیں کی ہے سائیں۔

بس سرسری سا سوال پوچھا ہے۔”

“اگر یہ ہی سوال ہے تو سن لیں سکینہ بیگم , نہایت ناگوار گزرا ہے مجھے اسلئے آئندہ ایسے سوال کرنے سے اجتناب برتیے گا۔”

ٹھوس لہجے میں کہہ کر وہ باہر جانے ہی لگے تھے کہ سکینہ بیگم نے ان کا ہاتھ تھام روکنے کی کوشش کی تھی کچھ لمحوں کے لئے وہ منجمد سے ہوئے تھے سکینہ بیگم کی اس جرات پر کہ کیسے آج گزرے ان سالوں میں انہوں نے چوہدری وقاص کا ہاتھ اسطرح سے تھاما تھا۔

“میرا یہ سوال آپ کو اتنا ناگوار گزرا ہے سائیں زرا سوچیئے مجھ پر تو یہ لمحات ، یہ احساسات بیت چکے ہیں میری ذات پر ان کا کتنا گہرا اثر پڑا ہو گا۔”

ان کی آنکھوں میں دیکھ وہ ایک ایک لفظ ٹھہر ٹھہر کر بول رہی تھیں اپنے جملوں کے ساتھ ان کی آنکھ نم تھیں۔

چوہدری وقاص نظریں چرا کر رہ گئے جو وہ کئی سالوں سے کرتے آئے تھے۔

“سکینہ میرے پاس وقت نہیں جو کہنا ہے بعد میں کہہ لینا۔”

ان کی جانب سے صاف بیزاری ظاہر کی گئی تھی کہ وہ تلخ سا ہنس دیں۔

“واہ سائیں ! نورے کے لئے پورا پورا دن اور میرے لئے دو پل بھی نہیں؟”

انتہائی قرب و اذیت شامل تھی ان کے لہجے میں۔

“یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ بیگم ، کیا ہم نے آج تک آپ کے اور نورے بیگم کے حقوق و معملات میں کوئی کوتاہی برتی ہے ؟

جو آپ نے اس طرح سے کہنے کی گستاخی کی ہے ؟”

“نورے کا تو پتہ نہیں لیکن میرے معملات میں ہمیشہ ہی آپ کوتاہی برتے آئیں ہیں۔”

اب کے نا چاہتے ہوئے بھی ان کی آواز بھیگی تھی اور لہجہ تیز ہوا جسے سن چوہدری وقاص بھنونے اچکا کر رہ گئے۔

“سکینہ بیگم پہلی چیز اپنا لہجہ ٹھیک رکھو پھر بات کرو ، تیز لہجے سے سخت نفرت ہے مجھے یہ بات اچھے سے جانتی ہو تم۔

اور کون سی کوتاہی کی بات کر رہی ہیں آپ ؟ “

اب کے دانت کچکچا کر کہا گیا تھا۔

“میرے معملات میں پہلی کوتاہی تو یہی ہے کہ آپ میرا یقین نہیں کرتے ، دوسرا۔میری خاموشی کا ہمیشہ نا جائز فائدہ اٹھاتے آئے ہیں۔

نورے نے اور آپ نے مل کر مجھے دھوکہ دیا میں خاموش رہی۔

مجھے دھتکار آپ اس کے پاس گئے میں کچھ نا بولی۔

اس کی وجہ سے آپ میری تذلیل کرتے آئے میں تب بھی خاموش رہی۔

ل۔۔لیکن ! لیکن جہاں بات آتی ہے ایک ماں پر الزام کی ،

م۔میں تب بالکل خاموش نہیں رہونگی۔

جسے آپ ارتضیٰ کا ہمدرد ، سمجھتے آرہے ہیں کہ اس نے ماں سے بڑھ کر محبت دی ہے تو سن لیں وہ ماں نہیں ڈائین ہے میرے ارتضیٰ کی اصل قاتلہ جو کھا گئی میرے بیٹے کو۔۔۔”

روتے ہوئے وہ اپنی بات ہچکیوں کی صورت میں کہہ رہی تھیں۔

“سائیں شائد ہی یہ میری جانب سے آخری بات ہو اسلئے ذیادہ کچھ نہیں کہنا مجھے ، بس اِتنا ہی کہوں گی کہ جس دن آپ کو حقیقت معلوم ہو گئی نا تو بہت پچھتائیں گے آپ اس دن۔”

“کیسی حقیقت ہاں اور کیسا پچھتاوا ؟

افسوس ہے سکینہ بیگم ! ایک آپ اور دوسرا آپ کا وہ بھانجا دونوں نے مل کر قسم کھائی ہے میری زندگی کے سکون کو غارت کرنے کی۔”

“میرا بھانجا آپ کا بھی کچھ لگتا ہے شائد آپ بھول رہے ہیں۔”

سکینہ بیگم بھی دوبدو بولی تھیں کہ وہ سر جھٹک کر رہ گئے۔

“کچھ اور کہنا ہے یا صرف یہی فضول گوئی کرنی تھی ؟”

کلائی میں بندھی کھڑی پر ایک نظر ڈال وہ تیوری چڑھائے بولے تھے کہ نورے بیگم میں نفی میں سر ہلائے پیچھے ہٹ گئی تھیں۔

کیا کہنا سب مناسب تھا سمجھ لیتے نا آنکھوں سے

کہ دستک دے رہے آنسوں تیرے دل کے دریچوں سے