Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj NovelR250487 Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 22
Rate this Novel
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 22
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj
صبح کھڑکی میں سے آتی تیز روشنی سے اس کی آنکھ بیدار ہوئی بے اختیار اس کی نظر اپنے پہلو میں لیٹی اس متاع جاں پر گئی جو کہ اس کی دسترس میں موجود تھی وہ دھیما سا مسکرا دیا۔
کچھ دنوں پہلے دیکھے جانے والے سپنے سے وہ واقعی خوف زدہ سے ہو گیا تھا ۔ وہ دن تھا اور آج کا دن تھا فاتح نے پشمینہ کو ایک لمحے کے لئے بھی اس حالت میں تنہا نہ چھوڑا وہ سائے کی مانند اس کے ساتھ رہا کرتا تھا۔
وہ اپنی آنکھوں میں جذبات کا سمندر بکھیرے اس کے حسین چہرے کو دیکھ رہا تھا جس میں عجب سی رونق تھی جب سے وہ اس پاکیزہ رتبے پر فائز ہوئی تھی ایک الگ ہی نور اسکو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھا فاتح اس کو دیکھتا رہ گیا وہ چاہ کر بھی اس سے اپنی نظریں نہ ہٹا سکا۔ فاتح کی پر تپش نظروں کو نیند میں بھی محسوس کیے وہ ہلکا سا کسمسائی تھی اور کروٹ بدل گئی ایسے میں اسکا چہرا فاتح کے چہرے کے عین سامنے آ چکا تھا۔
اُس دشمنِ جاں کی اِس قدر نزدیکی پر مقابل کا دل تیز لہر میں دھڑکا تھا وہ چاہ کر اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکا اور پشمینہ کے چہرے کے ہر نقش و اپنے لبوں سے محسوس کرنے لگا۔ جب کہ نیند میں خلل پیدا ہونے کے باعث اس نے اپنی نیند سے بوجھل آنکھیں کھولیں لیکن اپنے اس قدر قریب فاتح کو پا کر وہ جھٹ سے اٹھ بیٹھی تھی۔
اپنی دونوں آنکھیں حیرت کے عنصر میں کھولے وہ فاتح کے وجہیہ چہرے کو دیکھ رہی تھی جو کہ شوخ نظروں سے اس ہی کو دیکھنے میں محو تھا۔
“گڈ مارننگ جانِ جاں وید مائے کیوٹ لیٹل ایلیسا ۔۔۔”
وہ اسکے گلابی گالوں کو اپنے لبوں سے دھیرے سے چھوتا پشمینہ کے وجود کی جانب اشارہ کیے بولا جس پر وہ شرماتے ہوئے اسکے سینے میں ہی سر چھپا گئی تھی۔
“اٹھ جائیں محترمہ واک پر بھی جانا ہے۔”
اس کو یوں ہی سینے میں سر چھپائے آنکھیں موندے دیکھ وہ ہنستے ہوئے بولا ساتھ ہی یاد دہانی کروانا نہ بھولا۔
“بس کریں کم از کم آج کے دن تو چھٹی دے دیں اب تو مجھ سے چلا بھی نہیں جاتا۔”
اسکے بٹنوں سے کھیلتی وہ لاڈ سے بولی۔
“کوئی نہیں مسسز اس معاملے میں بالکل بھی رعایت نہیں ملنے والی اٹھو فوراً ورنہ مجبوراً مجھے سختی اختیار کرنی پڑے گی۔”
اسکے چہرے کو نرمی سے تھامتے ہوئے کہا لیکن لہجہ نا چاہتے ہوئے بھی سرد تھا پشمینہ نے روہانسی نظروں سے اس کی جانب دیکھا پھر منہ بناتے ہوئے آٹھ کر فریش ہونے کے لئے ہو لی جب کہ بیڈ کرون سے ٹیک لگاتا وہ پس مسرت سا مسکرا دیا۔
©©©
“کیا ہوا کس کی کال تھی ؟”
ٹیبل پر ناشتہ لگاتی عمارہ نے احمر سے سوال داغا تھا جو کہ کچھ دیر پہلے ہی موبائل پر آنے والی کال کی وجہ سے اٹھ کر بالکنی کی جانب گیا تھا۔
“کچھ نہیں بس بابا سائیں کی کال تھی حویلی میں بلا رہے ہیں۔”
کرسی کو پیچھے کی جانب کیے وہ اپنی نشست پر براجمان ہوا تھا جب کہ احمر کی بات سن عمارہ اپنی آنکھیں گھوما گئی تھی۔
“لگتا تمہارے بابا سائیں کا تمہارے بنا گزارا نہیں ہے جو آئے روز کال کرتے رہتے ہیں۔”
کندھے اچکائے وہ گہرا طنز کر گئی تھی جب کہ احمر نے عجیب نظروں سے اسکی جانب دیکھا تھا۔
“عمارہ یہ کیسے بات کر رہی ہو ؟”
اس کو گھورتے وہ تقریباً غرایا تھا جب کہ وہ اپنی بات بدل گئی۔
“میرا مطلب ہے کہ ہم بھی کیوں نا حویلی میں ہی شفٹ ہو جائیں اس طرح تمہارے بابا سائیں کی شکایت بھی دور ہو جائے گی۔”
“نہیں ابھی نہیں۔”
وہ بنا کسی تاثر کے کہتے کھانے میں مصروف ہو گیا جب کہ عمارہ منہ بنا کر رہ گئی۔
©©©
“ارے واہ آج کافی عرصے بعد مہارانی نے اپنا دیدار کروا ہی دیا ہے کیوں ملکہ عالیہ کہیں کوئی تکلیف تو نہ ہوئی نا آپ کے آرام میں جو یوں باہر آ گئی ہیں۔”
سحر کو اپنی دھن میں مگن سیڑھیاں اترتا دیکھ نورے بیگم طنز کے تیر چلاتے ہوئے بولی تھیں جب کہ وہ ایک لمحے کے لئے ٹھہری تھی اپنی جگہ پر لیکن پھر ان کو سرے سے نظر انداز کرتی سکینہ بیگم کے پاس چل دی جو کہ صوفے پر بیٹھی ہوئی اسے مسکراتا ہوا دیکھ رہی تھیں۔ نورے بیگم تو سحر کے اس ردعمل پر شاکٹ ہی راہ گئی تھیں ان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا کیسے وہ لڑکی بنا کچھ کہے ان کا منہ بند کروا گئی تھی صرف اپنی خاموشی سے۔
جس مفکر نے بھی کہا ہے بالکل ٹھیک کہا ہے ” خاموشی لڑائی کا بہترین علاج ہے “۔
“ماشاءاللہ جیتی رہو۔”
سحر کو پیار کیے سکینہ بیگم اسے اپنے ساتھ ہی بیٹھا گئی تھیں جب کہ نورے بیگم کو دیکھنا نہ بھولیں جو کہ جلتی کڑتی انہیں کو دیکھ رہی تھیں سر جھٹکے وہ اندر اپنے کمرے میں چل دی جس پر سکینہ بیگم خفیف سا ہنس دی اور سحر سے باتوں میں مشغول ہو گئیں تھیں وہ بے حد خوش تھیں سحر و شہیر کو ایک ہوتا دیکھ آخر کو ان کے بیٹے کی پسند جو تھی وہ تب ہی اس کی بلائیں لیتی نہ تھکتی تھیں وہ۔
©©©
“یہ لو مینہ پانی پیو۔”
فاتح نے سائیڈ پر رکھی بینچ پر اسے بیٹھاتے ہوئے کہا تھا جو کہ اپنی پھولی ہوئی سانسوں کو ہموار کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“ہٹیں میرے پاس سے بات مت کریں آپ مجھ سے۔”
اس کے ہاتھ کو جھٹکتے وہ روہانسی سی ہوتی بولی جب کہ فاتح اس دلِ جاناں کو یوں روٹھتے دیکھ لب دانتوں تلے دبا گیا۔
“آ۔۔آپ کو بولا بھی تھا کہ مجھ سے نہیں ہو پاتی اب واک ل۔۔لیکن پھر بھی آپ مجھ سے زبردستی کرتے ہوئے لے آتے ہیں د۔۔دیکھیں اب مجھے سانس لینے میں مشکل ہو رہی ہے۔”
اس کی آنکھوں میں پشمینہ نے خائف نظروں سے دیکھتے کہا تھا جب کہ فاتح مزید شوخ ہوا۔
“اگر ایسا ہے تو یہ مسئلہ میں منٹ سیکنڈوں میں حل کر سکتا ہوں۔”
پشمینہ کے کان کے پاس جھک وہ گھمبیر لہجے میں گویا ہوا جب کہ فاتح کے اس ریکشن پر اُس نے شکوہ کناں نظروں سے اسکی جانب دیکھا جیسا کہنا چا رہی ہو کہ میری اس حالت میں بھی آپ کو مزاق سوج رہا ہے۔
سانسوں کی وہ ہلچل وہ مہکتا آنچل
بانہوں کے وہ گھیرے زلف کا وہ بادل
لیکن فاتح کا یہ شوخ پن جلد ہی پریشانی میں بدلا تھا جب پشمینہ کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے وہ اپنی ابتر ہوتی حالت کے ساتھ بیچنی میں فاتح کی شرٹ کو مٹھی میں تھامتے سر اسکے سینے پر ٹکا گئی تھی اور گہرے سانس لینے کی کوشش کرنے لگی۔
کوئی اور لمحہ ہوتا تو فاتح کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں ہونا تھا کیونکہ اسکی متاعِ جاں خود اسکے قریب آئی تھی۔
“مینہ۔۔”
اسکے سر کو سہلاتے وہ اسکو نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگا حقیقت تو یہ تھی کہ اس کی ایسی حالت کو دیکھ وہ خود بھی پریشان ہو چکا تھا۔ وہ پہلی پہلی فرصت میں اسے روم میں لایا تھا اور بنا دیر کیے اس کی پلس چیک کی تھیں پھر میڈیسن باکس میں سے اسکی دوائیاں لا کر کھلائی اسکے بعد اسے سونے کی تاکید کرتا وہ وہیں اسکے سرہانے بیٹھتا اپنا کام کرنے لگا اور گاہے بگاہے نظر اس پر بھی ڈال دیتا جو کہ دوائیوں کے زیرِ اثر نیند کی وادیوں میں کھو چکی تھی۔
آنکھوں کی ہیں یہ خواہشیں کہ چہرے سے تیرے نہ ہٹیں
نیندوں میں میری بستے رہیں خوابوں نے لی ہیں کروٹیں
©©©
چوہدری وقاص شیشے کے سامنے کھڑے تیار ہو رہے تھے کہ نورے بیگم غصے میں بڑبڑاتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی تھیں اور منہ بناتے ہوئے بیڈ پر بیٹھیں ایک نظر چوہدری وقاص پر ڈالنے کے بعد انہوں نے نظریں پھیر لی تھیں جب کہ وہ انہوں نے بھنویں سکیڑی تھیں نورے بیگم کی اس جرت پر۔
“کیا ہوا نورے بیگم اتنی شولہ جوالہ کیوں بنی ہوئی ہیں ؟”
کندھے پر کھدر کی چادر ڈالے وہ چلتے ہوئے بیڈ تک آئے اور انہی کے برابر میں بیٹھ گئے جب کہ ان کی نرمی پر نورے بیگم مصنوعی سا رونے لگیں۔
“نہیں تو اور کیا خوش ہوں کہا بھی تھا مت کروائیں اس کملوہی کی شادی شہیر سے سر پر چڑ جائے گی دیکھ لیں ہوا بھی یہی ہے محترمہ کے پر نکل آئے ہیں کہ ہمیں جواب دینا گوارا نہیں کرتی یوں بات کو اگنور کرتے ہوئے نکلتی ہے کم ظرف نہ ہو تو اوپر سے اس کا ساتھ آپ کی وہ بیگم سکینہ دیتی ہیں۔”
جھوٹ موٹ کے آنسوں صاف کرتی وہ دانت پیستے ہوئے بولی تھیں کب کہ ان کی بات سن چوہدری وقاص کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔
“کم عقلی تو احمر نے دیکھائی ہے اس لڑکی کو طلاق دے کر اگر وہ طلاق نہ دیتا تو سرداری کے عہدے پر اسے فائز کر دیتے مگر نہیں سدا کا جذباتی ٹھہرا وہ شخص برداشت ہی نہ کر پایا۔”
چوہدری وقاص احمر کو سوچتے دانت پیستے ہوئے بولے تھے جب کہ ان کو بات بدلتے دیکھ نورے بیگم منہ بسور کر رہ گئیں۔
“چلیں اب میں چلتا ہوں اپنا خیال رکھیے گا اور اس لڑکی کا بھی کچھ حل نکالنے کا سوچتے ہیں۔”
اپنے جگہ سے اٹھتے وہ نورے کو الوداعی کلمات کہتے کمرے سے چل دیے۔
©©©
ڈھونڈتا تھا ایک پل میں دل سے یہ سو دفا
ہے سہانا راز اس بن روٹھی شامیں دن خفا
“ن۔۔نہیں زیشان مجھے ونی نہ کریں۔
میں ۔۔ میں تو آپ کی منگیتر ہوں نا آپ تو مجھ سے محبت کرتے ہیں نا۔۔
پلیز مجھے ونی نہ کریں۔۔
نہیں زیشان۔۔ پلیز نہیں۔۔۔”
وہ الجھن زدہ سا نیند سے بیدار ہوا چہرا اسکا پورا پسینے سے شرابوز تھا۔ہر رات جاگتے سوتے ماضی کے یہی الفاظ تھے جو اس کے زہن پر سوار رہتے وہ الجھ کر رہ گیا وہ پیچھا چھڑانا چاہتا تھا ان سب سے۔ تب ہی راہ فرار کے لئے اس نے اپنی مطلوبہ شئے نکالی کمرے میں جب گھٹن کا احساس مزید بڑ گیا تو وہ باہر کی جانب چل دیا۔
وہ آئے نا لے جائے نا
ہاں اسکی یادیں جو ہیں یہاں
حویلی کے سامنے بنے میدان میں بیٹھا وہ اجڑی حالت میں موجود تھا اسکے دائیں ہاتھ میں حرام مشروب کی بوتل تھی جسے وہ گھونٹ گھونٹ اپنے اندر اتار رہا تھا جیسے اپنے اندر کی وحشت و آوارگی کو ختم کرنا چا رہا ہو ۔
آخری دیدار پر وہ سحر کا شکوہ کناں نظروں سے دیکھنا اس کا عکس زیشان کی مدہوش ہوتی آنکھوں کے سامنے لہرایا دل پسیج سا گیا تھا۔
وہ جلد بازی میں جذباتی فیصلہ کر گیا تھا جس کا خمیازہ وہ آج تک بھگت رہا تھا اسکی راتوں کی نیندیں تباہ و برباد ہو گئی تھیں۔
دوسروں کے دکھوں کا سبب بننے والے شخص کبھی اپنی زندگی میں خوش نہیں رہ سکتے کچھ ایسا ہی حال اب زیشان کا ہو رہا تھا۔
وہ تڑپ رہا تھا پچھتا رہا اپنے کئے گئے فیصلے پر مگر صد افسوس اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ بیتا کل کبھی لوٹ کر نہیں آ سکتا۔
وہ وہیں سوچتے سوچتے اس حویلی کو اپنی نظروں میں بسائے نیند کی آغوش میں چلے گیا۔
