Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 34

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj

تیز رفتاری سے چلتی کالے رنگ کی وہ مہنگی گاڑی ایک مکان کے سامنے رکی تھی جہاں پر تقریباً آدھے سے زیادہ گاؤں کے لوگ موجود تھے اس گھر میں سے ماتم کی آوازیں آ رہی تھیں جیسے کوئی اس دنیا سے کوچ کر گیا ہو لیکن سب لوگ ہی ایک دم خاموشی سادھ گئے تھے جیسے ہی اس گاڑی میں سے سحر شہیر چوہدری کے ہمراہ اپنے مخصوص انداز و جلال کے ساتھ باہر آئی تھی۔

شہیر کو اطلاع ملی تھی کہ سحر کی تائی یعنی زیشان کی والدہ کا گزشتہ رات ہی انتقال ہو چکا ہے تب ہی وہ اسے یہاں ان کے جنازے پر لے لایا تھا۔

“س۔۔سحر !!

سحر اماں ہمیں چھوڑ کر اس دنیا سے کوچ کر گئیں۔

وہ اب ہم میں نہیں رہیں تمہیں اور ارمان کو یاد کرتیں وہ ہمیشہ کے لئے چل بسیں وہ تم سے معافی مانگنا چاہتی تھیں لیکن انہیں یہ موقع نصیب نہ ہو سکا۔”

پہلے تو سحر کو وہاں موجود پاکر زیشان کو یقین نہ آیا اسے وہاں دیکھ حیرانی سی ہوئی تھی اسے لیکن پھر تمام سوچوں کو جھٹلائے وہ اس سے گویا ہوا جیسے اپنا غم بانٹ رہا ہو لیکن سحر بنا اس کی بات پر کان دھرے سائیڈ پر کھڑے زیشان کے والد کے پاس گئی جو کہ صحت سے کافی کمزور معلوم ہو رہے آنکھوں کے گرد پھیلے سیاح ہلکے چہرے پر چھائی جھریاں انہیں عمر سے کافی بڑا دیکھا رہی تھیں۔وہ لب کچلتی ان تک گئی تھی اور ان کے سینے سے لگ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

اس پورے گھر میں وہی تو تھے جنہوں نے اس کے والدین کے گزر جانے کے بعد سحر کے پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا تھا کہ اسے اپنی اولاد ہونے کا اعزاز بخشا مگر افسوس وہ مان آخر تک قائم نہ رہ سکا۔

“سحر م۔۔میری ب۔بچی کیسی ہے ؟

دیکھ تیری تائی دکھوں کی ماری اس دنیا میں ہم سب کو تنہا چھوڑ گئی ہو سکے تو اس سمیت ہم سب کو معاف کر دی۔۔دینا بیٹی۔”

زیشان کے والد سحر کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے بولے۔

احساسِ ندامت سے وہ لفظ بھی ٹھیک سے ادا نہیں کر پا رہے تھے ان کے دل پر ایک بوجھ سا تھا کہ وہ اس بچی کو جو کہ ان کے مرحوم بھائی کی امانت تھی اسے ونی جیسی رسم سے بچا نہ سکے لیکن آج اسے شہیر چوہدری کے ساتھ پوری شان کے ساتھ وہ خوش بھی تھے۔

“بڑے پاپا کیوں گناہ گار کر رہے ہیں مجھے آج بھی اس دل میں آپ کا وہی مقام ہے جو برسوں سے تھا۔ “

بے ساختہ سحر نے ان دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام سر سے لگاتے ہوئے کہا تھا ایک طرح سے یہ عزت دینے کا طریقہ تھا۔

ان سے ملنے کے بعد آنکھوں میں پہنے وہ سن گلاسز اتار وہ دھیمی رفتار سے چلتی اس چارپائی تک پہنچی تھی جہاں پر زیشان کی والدہ دنیا و جہاں کی فکریں بھلائیں ابدی نیند سو رہی تھیں۔بنا ایک لفظ ادا کیے وہ خاموشی سے نیچے اسی چارپائی کے پاس بیٹھ گئی تھی لب خاموش تھے جب کہ آنکھیں آنسوں سے تر۔۔۔

جو بھی تھا، جیسا بھی تھا وہ اس کی والدہ کی جگہ پر تھیں انہوں نے بچپن سے لے کر آج تک اسے پالا تھا وہ ان کا یہ احسان نہیں بھلا سکتی تھی۔

“إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ ٗ”

دھیمی آواز میں لب کشائی کرتی وہ اٹھ کر باہر کی جانب چل دی جہاں شہیر چوہدری کھڑا اسی کا منتظر تھا پھر وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ چل دیے تھے اس گھر سے۔ سحر نے ایک نظر پیچھے مڑ کر ایک نظر اس گھر کو دیکھا تھا جہاں پر اس کا پورا بچپن سے لے جوانی تک کا سفر گزرا تھا اور اب وہ اسے ہمیشہ کے لئے خیر باد کرتی اپنے شہزادے کے ہمراہ چل دی۔

©©©

یاد آتے ہیں بیتے زمانے

جب تم آئے تھے ہم کو منانے

گاڑی اپنی منزل کی جانب گامزن تھی سحر گاڑی کی کھڑکی پر سر ٹکائے سوچوں کے محور میں کھوئی باہر کی جانب دیکھ رہی تھی تیز ہوا اس کی زلفوں کو اڑانے کا باعث بن رہی تھی وہ نہیں جانتی کب اور کیوں کچھ ظالم آنسوں آنکھوں سے بے مول ہوتے اس کے چہرے کو بھگو گئے تھے جنہیں شہیر کی نظروں میں لائے بنا وہ صاف کر گئی تھی لیکن یہ صرف اس کی خام خیالی تھی کیوں کہ شہیر چوہدری اپنی پری پر باز کی سی نظر رکھتا تھا اس کے تمام احساسات ، جذبات صرف اسی پری پیکر کے ساتھ وابستہ تھے تو وہ بھلا کیسے لاپتہ رہ سکتا تھا اس سے۔

“مسسز خیریت تو ہے ان آنکھوں کو کیوں بھگو رہی ہیں رو رو کر ؟” دائیں آئیبرو اچکائے وہ آواز میں خمار سمیٹے استہفامیہ لہجے میں گویا ہوا کہ سحر نے رخ پلٹا تھا۔

“ن۔۔نہیں تو ! میں تو نہیں رو رہی آپ سے کس نے کہا ہے کہ میں رو رہی ہوں میں تو بالکل ٹھیک ہوں۔”

آنکھوں میں آنسوں لیے وہ زبردستی مسکراتی بولی تھی لیکن رفتہ رفتہ اس کی وہ مسکان سمٹنا شروع ہوئی تھی جیسے ہی اس پر غنودگی کا راج ہوا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے ہوش و خرد سے بیگانہ ہوتی فرنٹ سیٹ پر ڈھے سی گئی۔

شہیر نے گھبراتے ہوئے فوراً بریک لگائی تھی۔

“سحر”۔۔ اسکا گال تھپکتے ہوئے اسے آواز لگائی ساتھ ہی پاس رکھی پانی کی بوتل سے چند قطرے لے کر اس کے چہرے پر چھڑکا لیکن ناکارہ ! سحر کی ایسی حالت دیکھ شہیر کی جان مانو ہتھیلی پر آئی تھی اس نے بنا وقت ضائع کیے گاڑی کو ہسپتال کی جانب گھمایا جہاں پر ڈاکٹر کی جانب سے دی جانے والی خبر کو سننے کے بعد شہیر کے پیر تو زمین پر نا ٹک رہے تھے اور سحر وہ تو سن سی ہو کر رہ گئی تھی۔

“سحر آپ اب کیوں رو رہی ہیں کیا آپ کو خوشی نہیں ہوئی ؟”

اس کی آنکھوں میں پھر سے پانی جمع ہوتا دیکھ وہ کچھ پریشان کن لہجے میں گویا ہوا۔

“نہیں شہیر سائیں ایسی بات نہیں میں خوش ہوں بلکہ بہت خوش لیکن بس۔۔”

وہ گاڑی چلاتے ہوئے بغور اس کی بات سن رہا تھا لیکن پھر اس کے بس ۔۔ کہنے پر اچھنبے سے اسکی جانب دیکھا جیسا بات کے مکمل ہونے کے انتظار میں ہو۔

“شہیر میری زندگی کی کہانی آپ کے سامنے کسی کھلی کتاب کی مانند ہے آپ میری زندگی کے ہر پہلو ، ہر واقعات سے باخبر ہیں بس اس وقت بیتے وقت کی کچھ تلخ یادیں ہیں جو ذہن پر سوار ہیں۔”

“میری دلبر جانی ” یوں ان آنکھوں کو تکلیف نہ دیں بس ہنستی رہا کریں میرا وعدہ ہے کہ میں ان آنکھوں میں کبھی آنسوں نہیں آنے دوں گا اور اس مقصد میں صرف آپ ہی میرا ساتھ دے سکتی ہیں۔”

لہجے کو گھمبیر بنائے وہ پر مسرت لہجے میں بولتے ہوئے اس کے آنسوں پونچھ گیا۔

“نہیں شہیر وعدہ نہ کیجیئے ” کیونکہ اکثر وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں آپ کی آنکھوں میں آنسوں برداشت نہیں ، اور یہاں تک کہ یہ وعدہ بھی کر بیٹھتے ہیں کہ ہم ان آنکھوں میں کبھی آنسوں نہیں آنے دیں گے لیکن افسوس ! وہی لوگ ان آنکھوں سے نکلنے والے آنسوں کی وجہ بن بیٹھتے ہیں کچھ ایسا ہی میری ذات پر بیتا ہے شہیر آپ جانتے ہیں بچپن سے لے کر جوانی تک صرف میں نے اس شخص کے خواب سجائے تھے اس کے وعدوں کے سہارے جیتی تھی لیکن سب ختم کر دیا تھا اس شخص نے اپنی ہی عزت کو بھری پنچایت میں ونی کے لئے پیش کر کے میں ٹوٹ چکی تھی بالکل بکھر گئی تھی میری ذات بالکل ریزہ ریزہ ہو کر رہ گئی اعتماد ، یقین ، بھروسہ سب ٹوٹ کر رہ گیا۔

اس شخص نے بھی کئی وعدے کیے تھے لیکن سب کھوکھلے نکلے ہمارے رشتے کی مانند۔۔”

سحر کی آواز درد و رنج سے پُر تھی اس کے لہجے کی بے بسی کو محسوس کیے شہیر کا دل پیسچ کر رہ گیا۔

“جانِ جان !اس شخص کے کئے گئے وعدے اور میرے کیے گئے وعدے میں بہت فرق ہے کیا تمہیں ایسا نہیں لگتا ؟

کیا آج تک تمہیں میں نے تکلیف پہنچائی ہے ؟ نہیں نا۔۔

تو بس ایسی سوچیں سوچنا چھوڑ دو ویسے بھی آج کا دن ہماری زندگی کے لئے کتنا انمول ہے اسے یوں رو کر بے مول نہ کریں بس خوش رہیں ورنہ ہمارا بیبی بھی ہر وقت ایسے روتا رہے گا پھر آپ نے ہی تنگ آجانا ہے۔ “

اسے پیار سے پچکارتے آخر میں شرارتی لہجہ اپنائے آنکھ ونک کی تھی کہ وہ بے ساختہ نم آنکھوں سمیت ہنس دی تھی شہیر کی جان میں جان آئی اپنی پری کو یوں ہنستا دیکھ کر

©©©

شہیر نے سحر کے امید سے ہونے کے باعث پورے گاؤں میں میٹھائی تقسیم کروائی تھی اور ساتھ ہی سب سے ڈھیروں مبارکباد کے ساتھ ساتھ دعائیں بھی وصول کیں۔

سب بے حد خوش تھے سوائے چوہدری احمر کے کیونکہ سحر کی امید سے ہونے کی خبر جیسے ہی چوہدری احمر کے کانوں میں پڑی تھی اس کے وجود میں حسد کا ایک شدید لاوا سا پھوٹا تھا ایک طرف اس کے دل میں حسد تھا تو دوسری طرف اس کے دل میں غم کے سائے ، طبعیت اس کی چڑچڑی سی رہنے لگی وہ اکثر عمارہ سے چڑ جاتا یا اس پر غصہ کرنے لگتا پھر مقابل کی جانب سے دئیے جانے والے دو ٹوک جواب پر دانت کچکچاتا رہ جاتا۔

عمارہ تم کافی بدل گئی ہو میں کافی عرصے سے یہ بات نوٹ کر رہا ہوں کہ تمہارا رویہ حویلی آنے کے بعد کافی بدل چکا ہے مطلب نا تم مجھے دھیان دیتی ہو اور نا ہی ہمارے رشتے کو بس اپنی ہی دنیا میں مگن رہنے لگی ہو۔

موبائل میں مصروف عمارہ ، چوہدری احمر کی بات سن اس کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔

احمر میرا رویہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا پہلا تھا بس فرق صرف اتنا ہے کہ اب آپ کا دھیان کہیں اور رہنے لگا ہے اسلئے بہتر ہو گا کہ ہمارے رشتے کا الزام صرف مجھے نا دیں کیونکہ میاں بیوی

کے رشتے میں جب دوریاں بننے لگے نا تو سمجھ جائیں کہ ضرور ہی ان کے رشتے میں کوئی تیسرا موجود ہے اور وہ تیسرا کون ہے یہ بات آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔

کندھے اچکائے کہتی وہ فون پر نظریں جھکائے مصروف سے انداز میں بولی کہ احمر نے اس کا فون جھپٹ کر پکڑا اور اُس کی اِس حرکت پر عمارہ کے ماتھے پر بلا نمایاں ہوئے۔

عمارہ ہماری شادی کو کافی عرصہ بیت چکا ہے لیکن ابھی تک ہماری جانب سے ہمارے والدین کے کان کسی بھی قسم کی خوشخبری سننے سے محروم ہیں۔شہیر و سحر ان دونوں کی شادی ہمارے بعد ہوئی لیکن آج وہ دونوں مجھ سے پہلے ماں باپ کے عہدے پر فائز ہونے والے ہیں۔

خدا کا خوف کر لیں احمر ، اب تو حسد کرنا بند کر دیں ان سے آخر کیا بگاڑا ہے ان دونوں نے آپ کا جو آپ کے اندر اتنی نفرت بھری پڑی ہے۔

اور جہاں تک رہی بات اولاد کی تو وہ ہمیشہ اللہ کی رضا اور مرد کے نصیب سے ہوتی ہے اسلئے یہ آپ کے لئے بہتر ہو گا کہ مجھ سے سوال کرنے سے پہلے خود کو دیکھ لیں اور جان لیں۔

اس کی آنکھوں میں دیکھ وہ روانی سے کہتی اپنا موبائل تھامے باہر کی جانب چل دی جب کہ وہ یک ٹک اسے جاتا دیکھتا رہا۔

©©©

وقت رفتہ رفتہ گزرتا رہا سحر شہیر و شہیر سحر کے سنگ بہت خوش رہنے لگے شہیر متاعِ حیات کو وعدے کے مطابق ہر غم سے دور رکھے ہوئے تھا ہر ممکن کوشش کیے اسے خوش رکھنے کی کوشش کرتا۔

نومبر کے مہینے کی ابتدا تھی گرمیاں تقریباً خیر باد کہہ چکی تھی سردیوں کا ہلکا ہلکا احساس ہر کسی کو اپنی لپیٹ میں لئیے ہوئے تھا سحر بھی آج صبح سویرے چہل قدمی کی نیت سے باہر لان میں آ چکی تھی تا کہ تازہ ہوا کا احساس اپنے وجود میں اتار سکے۔

سحر تم اب صرف میری محبت نہیں میری ضد ، میرا جنون ہو دیکھنا تمہیں تو میں شہیر سے حاصل کر کے ہی رہوں گا چاہے اس کے لئے مجھے اس کی جان ہی کیوں نا لینی پڑے۔

لا انگارہ آنکھوں میں جنون کی شدت سمیٹے وہ غرانے کے سے انداز میں بولا۔

شٹ اپ جسٹ شٹ اپ ! بند کرو اپنی بکواس اور دفا ہو جائیں یہاں سے ذلیل انسان میں تمہارا حشر بگاڑ کر رکھ دوں گی اگر تم نے شہیر کے خلاف ایک بھی لفظ ادا کرنے کی کوشش کی تو۔

ہاہاہا ” تم ” سیریسلی تم میرا حشر بگاڑو گی ؟

بھولو مت سحر آخر ہو تو تم ایک عورت ہی نا ، مرد سے پنگاہ لینے کی تمہاری حیثیت نہیں۔اسلئے پیار سے سمجھا رہا ہوں لوٹ آؤ میرے پاس ورنہ زبردستی حاصل کرنے میں ، مجھے کوئی جھجھک نہیں۔

مر بھی جاؤں گی تب بھی واپس تم جیسے نیچ و گرے ہوئے انسان کے پاس آنا گوارہ نہیں کروں گی کیونکہ مجھے موت گوراہ ہے تم جیسے کم ظرف شخص کا ساتھ گوارہ ۔۔۔۔

چٹاخ”۔۔ سحر کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی احمر چوہدری کا ہاتھ پوری شدت کے ساتھ اٹھتا سحر کے گال پر نشان چھوڑ گیا تھا۔

آئی۔۔آئی ایم سوری سحر میں ایسا نہیں چاہتا تھا پتہ نہیں کیسے۔۔

لب کچلتا ، گہرا سانس بھرے وہ اپنے ہاتھ کی جانب دیکھے احساسِ ندامت سے بولا تھا لیکن جواب میں سحر کے ہاتھ سے پڑنے والے تھپڑ نے بھی اس کی چلتی زبان کو بریک لگائی۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی ؟

بھولو مت احمر اب میں سحر شہیر چوہدری ہوں منہ توڑنے میں لمحہ نہیں لگاؤں گی۔

ویسے افسوس ہے احمر چوہدری تم پر کہ تم کبھی نہیں بدل سکتے تمہاری فطرت میں ہی ایسی گھناؤنی حرکتیں شامل ہے۔

وہ افسوس بھری نظروں سے اس کی جانب دیکھ نفرت و غصے میں پھنکاری تھی۔

سحر پلیز مجھے معاف کر دو م۔۔میں م۔۔م۔۔میں مر جاؤں گا تمہارے بن پلیز لوٹ آؤ نا میں وعدہ کرتا ہوں کبھی ہاتھ نہیں اٹھاوں گا اور عمارہ اسے بھی چھوڑ دوں گا بس تم واپس آجاؤ تمہیں شہیر کے ساتھ دیکھ مجھے اچھا نہیں لگتا مجھے کوفت ہوتی ہے اپنے وجود سے نفرت ہوتی ہے پلیز سحر رحم کھا لو میری حالت پر۔

احمر چوہدری میری بلا سے مر جاؤ تم لیکن میری جان چھوڑ دو ۔۔۔نخوت سے اس کے وجود کو دیکھتی وہ سائیڈ پر ہوتی جانے لگی تھی کہ احمر نے اس کا ہاتھ تھام پسٹل تھمائی۔

یہ لو کر لو اپنا شوق پورا لے لو میری جان ختم کر دو قصہ۔۔

اس کے ہاتھ میں پسٹل دیکھ سحر کے وجود میں کپکی سی دوڑی تھی وہ کبھی پسٹل کو دیکھتی تو کبھی احمر کو۔

اس کہانی کی شروعات مجھ سے ہوئی تھی نا آج اپنی جان لے اس کہانی کا اختتام کر دوں گا لیکن یاد رکھنا میری موت کی زمہ دار صرف تم ہو گی سحر۔۔

آنکھوں میں وحشت و جنون سموئے وہ کوئی پاگل معلوم ہو رہا تھا آنکھیں اس کی لال انگارہ ہو رہی تھیں جیسے سب کچھ جلا کر بھسم کرنا چاہتا ہو۔

ٹھاہ۔۔۔

اچانک ہی فضا میں گولی کی گونج کے ساتھ سحر کی ہولناک چیخ گونجی تھی ۔۔۔