Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj NovelR250487 Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 18
Rate this Novel
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 18
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj
صبح صادق کے وقت حویلی پر سورج کی کرنیں پڑ رہی تھیں جو کہ اس چمکتی ہوئی حویلی کو مزید چمکانے کا باعث بنیں۔ آج وہاں پرندے خوشی سے چہچاہتے ہوئے خدا کی حمد و ثناء کے گیت گا رہے تھے کیونکہ حویلی میں موجود اس پری کی آزمائش ختم ہونے کے قریب تھی۔
حویلی کے سارے فرد اس وقت ڈائٹنگ ٹیبل پر موجود ناشتہ تناول فرما رہے تھے کہ ان کی نظریں شہیر پر مرکوز ہوئیں جو کہ سحر کا ہاتھ بہت محبت و اپنائیت سے تھامے چلتا ہوا ٹیبل تک آیا اور اپنے پاس ہی رکھی کرسی پر اسے بیٹھایا تھا ۔یہ منظر دیکھ احمر کی آنکھوں میں مرچیں سی چبھیں تھیں جب کہ نورے بیگم کا نوالہ حلق میں اٹکا البتہ باقی نفوس نارمل تھے جیسے بہت ہی عام سی بات ہو۔
“شہیر تم اس کم ذات لڑکی کو ہمارے بیچ میں بیٹھا کر کھانا کھلاؤ گے؟”
نورے بیگم بپھر کے کھڑی ہوئی تھیں ان سے یہ سب برداشت نہیں ہو رہا تھا جس لڑکی کو اب تک وہ نوکرانی کی سی حیثیت دیتی آئی تھیں وہ ان ہی کی میز پر ان ہی کے ساتھ بیٹھ کر شان سے کھانا کھائے ۔
“کیوں آپ کو کوئی تکلیف ہے “..؟؟
مسکراتے ہوئے وہ دو ٹوک لہجے میں بولا جبکہ توہین کے احساس سے نورے بیگم کا چہرا سرخ اناری ہو گیا ۔
“شہیر۔۔۔”
چوہدری وقار نے گلا کھنکھارتے ہوئے اسے نارمل رہنے کا کہا جب کہ ایک نظر انہیں دیکھنے کے بعد شہیر کی نظریں سکینہ بیگم اور میمونہ بیگم ٹکرائیں جو کہ اپنی مسکراہٹ دبائے ہوئے تھیں۔
“سحر کیا کھائیں گی آپ”۔۔؟؟
اپنا لہجہ نارمل کیے وہ واپس سحر کی جانب متوجہ ہوا تھا جو کہ سب کے بیچ میں اس طرح سے بیٹھنے پر کنفیوژن کا شکار ہوتے ہوئے اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی شہیر نے اپنا ہاتھ بہت مان سے اسکے نرم ہاتھوں پر رکھے اسے نارمل رہنے کا اشارہ دیا یہ بات سب نے نوٹ کی تھی کہ شہیر کے اس عمل سے سحر تھوڑا ہی صحیح مگر نارمل ہوئی تھی۔
اس نے پراٹھا اور آملیٹ اسے نکال کر دیا تھا اور ساتھ ہی تمام حویلی والوں کو سحر کی اپنی زندگی میں موجود اہمیت کا احساس دلانے کے لئے خود سے نوالے بنائے کھلایا۔جب کہ وہ تھوڑا سا جھجھکی تھی لیکن شہیر کی اپنایت کے آگے اسے ہتھیار ڈالنے پڑے ۔
نورے بیگم تو جل بھن کر واپس کمرے میں چل دیں جب کہ چوہدری احمر آدھا ادھورا ناشتہ چھوڑ حویلی سے ہی چل دیا جب کہ اس کس یوں جاتے دیکھ ایک تمسخر مسکراہٹ شہیر کے لبوں پر در آئی ۔
بھول گئی مجبوری نوں
دنیا دی ستوری نوں
ساتھ تیرا ہے بتھیرا
پورا کر ضروری نوں
©©©©
وہ دونوں اس وقت سوسائٹی پارک میں موجود تھے جہاں بارش کے موسم کی وجہ سے بہت ہی کم لوگ آئے ہوئے تھے پشمینہ کے موڈ کو فریش کرنے کے لئے وہ اسے زبردستی اپنے ساتھ باہر لایا تاکہ باہر کی تازہ ہوا کو وہ محسوس کرے اور اسکی طبیعت کچھ بہتر ہو۔
پچھلے پندرہ منٹ سے وہ بینچ پر بیٹھے ہوئے تھے دونوں ہی خاموش نظروں سے آتے جاتے لوگوں کو دیکھنے میں محو تھے لیکن پھر اس ماحول کی گہری خاموشی میں پشمینہ کی سرسراتی آواز گونجی ۔
“فاتح ایک سوال پوچھوں گی شائد یہ آخری بار ہو کیونکہ شائد یہ زندگی دوبارا موقع نہ دے۔”
وہ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بول رہی تھی لیکن نظریں اسکی اوپر آسمان کی جانب مرکوز تھیں یہ اس کی بچپن کی عادتوں میں سے ایک تھی وہ لڑکی جب بھی کوئی ایسا سوال کرنے لگتی جس کے جواب کا اس کو ڈر ہو تو نظریں وہ اوپر کی جانب جما لیا کرتی تھی۔
“کیا آپ مجھ سے واقعی محبت کرتے ہیں “..؟؟
پشمینہ کے سوال کو سن اس نے ایک سرد آہ بھری تھی یقیناً وہ لڑکی واقعی ڈھیٹ تھی یا اپنی بات کی پکی۔
“تمہیں کوئی شک ہے مسسز “..؟؟
اس کی آنکھوں میں دیکھ وہ آئیبرو اچکائے بولا۔
وہ اقرار تو کرتا تھا لیکن وہ جب یہ سوال پوچھتی تو وہ بات بدل دیا کرتا اگر دیکھا جائے تو دونوں باتوں کے معنی ایک ہی تھے لیکن شائد وہ اسکے سوال کے طور پر اسکا جواب نہیں دینا چاہتا۔
“شک نہیں فاتح مجھے یقین ہے !”
وہی سابقہ لہجہ اپناتے ہوئے جواب دیا گیا۔
“مینہ شادی کے بعد محبت ہو ہی جاتی ہے اسلئے ایسا سوال مت کرو “۔
اب کے وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا لیکن پشمینہ کی اگلی بات نے اسکی مسکراہٹ لمحوں میں غائب کی .
“تو پھر آپ کو مجھ سے محبت کیوں نہیں ہوئی “..؟؟
اس نے دکھ سے اسکی آنکھوں میں دیکھا لہجہ اسکا کرب و رنج میں ڈوبا ہوا تھا جس نے فاتح کے دل کو چھلنی کر دیا۔
” کس نے کہا میں محبت نہیں کرتا آئی لو یو یار “
وہ تڑپ ہی تو گیا تھا جب کہ فاتح کا ردِعمل دیکھ وہ تلخ سی ہنسی ہنس دی۔
“اچھا چلیں مان لیا آپ کو مجھ سے محبت ہو گئی .
مگر کیسے ؛ مطلب اتنے کم وقت میں اپنی پہلی محبت کو بھلا دینا آسان تو نہیں یا پھر میں یہ سمجھوں کہ آپ کی پہلی محبت میں طاقت ہی نہیں تھی “۔
لہجے میں طنز ہی طنز بھرا تھا لیکن بات سو فیصد درست تھی فاتح واقعی خاموش ہو گیا تھا مینہ کی بات سن کر ۔
“کیا ہوا خاموش کیوں ہو گئے اب بولیں نا نہیں ہے نا جواب دیکھیں آپ کہنے اور ہونے میں بہت فرق ہوتا ہے جیسے زمین و آسمان میں
مسٹر فاتح شرجیل میں نے آپ کی آنکھوں میں آج بھی اپنی بہن کے لئے وہی محبت دیکھی ہے جو پہلے دن تھی مگر بس فرق اب اتنا ہے کہ آپ ظاہر نہیں ہونے دیتے “۔
وہ نظروں کا زاویہ مخالف سمت دوڑاتے ہوئے بولی۔
“مینہ اگر تمہیں لگتا ہے کہ مشل سے اب بھی مجھے محبت ہے تو سو نہیں اسی فیصد تم درست ہو لیکن یہ بات یاد رکھنا اس محبت سے کئی زیادہ بڑھ کر مجھے تم سے لگاؤ اور چاہت ہے کیونکہ تم بیوی ہو میری ۔
اور سب سے بڑھ کر چہرے تو تم دونوں کے ایک ہی ہیں”۔
گھمبیر زرہ لہجے کے ساتھ آخر میں وہ آنکھ ونک کئیے شرارتاً گویا ہوا لیکن پشمینہ کے چہرے پر سپاٹ تاثرات ہنوز قائم رہے۔
” فاتح بات چہروں کی نہیں روح کی ہوتی ہے ، جذبات اور دل کی ہوتی
محبت میں تو روح سے دل تک کا رشتہ ہوتا ہے یہ چہروں و جسموں سے نہیں کی جاتی ۔
“ہمارے علاقے میں ایک مشہور کہاوت ہے کہ جب دل آیا گدھی پر تو حور کیا چیز ہے ۔
دراصل یہ کہاوت محبت کے نام پر ان لوگوں کے لئے ہے جنہیں اندھی محبت ہو جاتی یے اور اس کہاوت کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ محبت خوبصوررتی جاؤ جلال نہیں دیکھتی کیونکہ محبت کسی سے کسی بھی وقت ہو سکتی ہے جو جذبوں اور دل عکاسی کرتی ہے۔ اسلئے آپ میرے اور مشل کے چہرے ایک ہونے کی بات تو رہنے دیں کیونکہ یہ ایک طرح سے فضول جواز پیش کیا ہے آپ نے ۔ “
“کیا بکواس ہے مینہ میں تمہیں پیار سے سمجھا رہا ہوں لیکن تم سمجھ ہی نہیں رہی تمہارا اپنا کردار ہے مشل کا اپنا ہاں مانا میں نے مشل سے محبت کی ہے لیکن تمہیں بھی تو اپنے دل میں بسایا ہے تو کیوں نہیں سمجھ رہی تم میرے دل میرے جذباتوں کو ؟”
وہ گھمبیر لہجے میں بول رہا تھا لیکن اسکا لہجہ سرد و بے بس تھا۔
” مجھے مینہ نہ بلایا کریں۔۔” اس کی بات کو وہ سرے سے نظر انداز کر گئی تھی یا پھر نظریں چراتے ہوئے نظر انداز کرنے کی کوشش۔
پشمینہ کی بات سن نا سمجھی کے عالم میں کندھے اچکائے جیسے جاننا چاہ رہا ہو کیوں ؟؟؟
“اس نام سے مجھے صرف وہی بلاتے ہیں جو میرے دل کے قریب ہوں ۔”
بے تاثر لہجہ جس میں نا سنجیدگی تھی نا ہی کوئی دوسرا تاثر۔۔
“تو کیا میں تمہارے دل کے قریب نہیں ہوں”..؟
اب کے نرمی سے پوچھا تھا اس نے اور بہت ہی شدت سے اسکے جواب کا منتظر کہ وہ اس کے بارے میں کیا سوچتی ہے لیکن جیسے ہی اس کا جواب فاتح کے کانوں سے ٹکرایا اسکا اپنا دل ٹکڑوں میں بٹتا محسوس ہوا دل ٹوٹنا کسے کہتے ہیں یہ بات آج واضح ہوئی تھی فاتح شرجیل پر۔
“نہیں ۔۔ ” یک لفظی جواب دئیے وہ اپنا حجاب ٹھیک کرتی باہر کھڑی گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی جب کہ فاتح بھی اپنے شکستہ قدم لئے باہر کی جانب چل دیا۔وہ جب بھی کچھ ٹھیک کرنا چاہتا تھا ہمیشہ الٹ ہو جایا کرتا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ زندگی کون سے کھیل کھیل رہی ہے اس کے ساتھ۔
“بس کر اے زندگی مجھ میں اب اتنی سکت نہیں کہ تیرے کھیل کو جان سکوں”
©©©
“سحر میں کام سے باہر جا رہا ہوں اگر آپ کو کوئی کام ہو تو ملازمہ سے کہہ دینا خود باہر مت جانا ورنہ دشمن گھات لگائے بیٹھے ہیں۔۔” اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے تاکید کی تھی اور اپنا والٹ اور گاڑی کی چابیاں اٹھائے باہر کی سمت چل دیا لیکن جانے سے پہلے اس کے ماتھے پر بوسہ دینا نہیں بھولا جب کہ وہ دھیرے سے مسکرا دی تھی شہیر کی اس حرکت پر وہ اس کو جاتا دیکھتی رہی تھی۔
اسے گئے ابھی مشکل سے پندرہ منٹ ہوئے ہونگے کہ احمر تن فن کرتا کمرے میں داخل ہوا جسے دیکھ سحر اپنی جگہ سے گھبراتے ہوئے کھڑی ہوئی تھی لیکن پھر شہیر کا دیا گیا حوصلہ اور ہمت یاد آئی تو خود کو پر سکون کیا۔
“ایسا کون سا جادو کر دیا ہے شہیر پر کہ وہ تو تمہارا دیوانہ ہوا پھر رہا ہے ؟؟”
لہجے میں کرواہٹ جب کہ آنکھوں میں حسد صاف ظاہر تھا۔
“وہی جو آپ پر نا کر سکی “۔
مسکراتے ہوئے وہ بھی دوبدو بولی تھی لیکن اسکے لہجے میں صاف طنز ظاہر تھا جو کہ احمر چوہدری کی ذات کو سلگا گیا۔
“ذلیل لڑکی ۔۔۔” تیش و غصے کے عالم میں کہتے وہ اپنی عادت کے مطابق اس پر ہاتھ اٹھانے کو تھا لیکن اس کا وہ ہاتھ ایک بار پھر سے روک لیا گیا آج روکنے والا شہیر یا کوئی اور نہیں تھا بلکہ سحر خود تھی۔
“احمر لگتا ہے آپ شہیر کے کہے گئے الفاظ بھول گئے ہیں جو مجھ پر دوبارا ہاتھ اٹھانے کی زحمت کرنے لگے ہیں ۔ اگر بھول ہی گئے ہیں تو کوئی بات نہیں میں یاد کروا دیتی ہوں ، میں اب آپ کی ملکیت نہیں رہی جس پر جب دل چاہا ، جیسے دل چاہا جبر کریں اور میں اف تک نہیں کروں گی۔ اگر آپ ایسا کچھ سوچ رہے ہیں تو یہ آپ کی بہت بڑی خام خیالی ہے۔ یقین جانے اگر یہ ہاتھ میری جانب اٹھا تو توڑ کر رکھ دوں گی کیونکہ نا محرم کا لمس سخت ناگوار گزرتا ہے”
ایک ہی سانس میں وہ کتنا کچھ احمر کو بول گئی تھی کہ اسے خود بھی معلوم نہ تھا شائد غصے کا اثر تھا یا پھر اس دل میں موجود احمر کی نفرت کا کہ وہ بالکل لحاظ نہ کر سکی جب کہ احمر چوہدری خاموش سا سامنے کھڑی لڑکی کی ہمت دیکھ رہا تھا جو آج تک اس کے سامنے خاموش رہتے ہوئے اس کے حکم کی تابعداری کیا کرتی تھی آج اسکے ہاتھوں کو جھٹک اس کو دوبدو جواب دے رہی تھی۔
وہ تلملا ہی گیا تھا سحر کی باتیں سن اس کو تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ سحر نے اس سے بدتمیزی کی ہے۔ وہ جواب دینا چاہتا تھا اسے کیونکہ خاموش رہ جاتا ایک لڑکی کی بات سن تو احمر کی نظروں میں یہ اس کی توہین تھی جب کچھ نا سوجھی تو جو سمجھ آیا کہہ گیا۔
“اگر تمہیں لگتا ہے کہ ہم ارتضیٰ کے قتل کو بھول گئے ہیں تو یہ تمہاری سب سے بڑی بھول ہے اس کا خمیازہ تو تم بھگتو گی چاہے میرے نکاح میں رہو یا نہیں
جسٹ ویٹ اینڈ واچ ۔۔۔”
وہ اسکی آنکھوں میں اپنی خون آشام آنکھیں گاڑھے سرد ترین لہجے میں گویا ہوا اس کا لہجہ ایسا تھا جیسے جلا کر سب راکھ کر دے گا ۔
وہ سحر کو وارن کرنے کے بعد کمرے سے چل دیا جب کہ وہ نا چاہتے ہوئے شہیر اور احمر کی ذات کا موازنہ کرنے لگی۔بے شک وہ ایک خون تھے ،ایک چھت تلے رہتے تھے لیکن دونوں کی تربیت میں بہت فرق تھا ایک آگ تھا تو دوسرا پانی ۔
کتنے درد لے آئے ہیں ہم تو تیری چوکھٹ سے
اپنے غم چھپا لیں گے ہم جھوٹی مسکراہٹ سے
