Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 26

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj

اے دل ٹھہر جا جینے کی کوئی تو وجہ ڈھونڈ لے

گھبرا نہ غم سے اپنی خوشی کا تو پتہ ڈھونڈ لے

فنکشن اپنے اختتام کو پہنچ چکا تھا دعوت میں آئے مہمان اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے تھے حویلی میں موجود مکین اپنے اپنے کمروں میں سونے جا چکے تھے جب کہ چوہدری احمر اب تک یہیں لان میں تنہاہ بیٹھا ہاتھوں میں سگار جلائے اسکے گہر گہر کش بھرتا اپنے اندر پیدا ہونے والے اشتعال کو کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

آج کے دن کا گزرا ایک ایک پل احمر کی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی مانند چل رہا تھا۔

حویلی کی وہ سجاوٹ ، سحر کا سولا سنگھار ، جس میں وہ کسی حور کی مانند دکھ رہی تھی ،شہیر و سحر کی آپسی محبت ،پھر ان کا ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈالے ڈانس کرنا یہ سب سوچتے احمر کی آنکھوں میں جلن سی ہونے لگی تھی۔ اس کے دل ہول سے اٹھ رہے تھے وہ ل تھا کیوں ؟

اس کا جواب اس کے پاس نہ تھا کہ وہ اس لڑکی کے لئے کیا محسوس کر رہا ہے لیکن یہ بھی سچ تھا جس لڑکی کو آج تک وہ ٹھکراتا آیا آج اسے اپنے ہی بھائی کی بانہوں میں دیکھ سیخ پاہ ہوا تھا۔

اس سے پہلے وہ مزید خیالوں میں کھوتا عقب سے کسی نصفِ نازک کے ہاتھ کا لمس اسے اپنے کندھے پر محسوس ہوا ساتھ ہی آتی عمارہ کی سرگوشی نما آواز اس کے کان کے پردوں سے ٹکرائی تھی۔

“احمر …

میں کب سے تمہیں پورے گھر میں ڈھونڈ رہی ہوں اور تم ہو کہ یہاں بیٹھے ہو۔”

“تم کمرے میں جاؤ میں آتا ہوں، “

کندھے پر موجود عمارہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں تھامے اپنے روبرو کیا تھا لیکن جیسے ہی نظریں اس کے وجود سے ٹکرائی تھی کئی ان گنت بل نمودار ہوئے تھے احمر چوہدری کے ماتھے پر۔

احمر چوہدری نے ہاتھ میں جلتی اس سگریٹ کا بھرپور کش لیا تھا اور ساتھ ہی ایک طائرانہ نظر عمارہ پر ٹکائی جو کہ سلک کی نائٹی زیب تن کیے بالوں کو کھلا چھوڑے خوبصورتی کا مجسمہ بنی کھڑی تھی۔

“یہ تم کس حلیے میں گھوم رہی ہو ؟ “

اس کے وجود پر سرسری نظریں گاڑے وہ غرانے کے سے انداز میں بولا تھا۔

“تم جانتے تو ہو میں ایسے ہی کپڑے پہنتی ہوں۔”

اس کی آنکھوں میں دیکھ وہ نارمل لہجہ اپنائے بولی تھی کہ یکدم ہی اس کے لبوں سے سسکاری برآمد ہوئی جیسے ہی احمر چوہدری نے اس کے بازوؤں کو اپنی آہنی گرفت میں لیا تھا۔

“عمارہ ڈارلنگ بھولو مت کہ ، یہ حویلی ہے گاؤں کی حویلی جہاں خاندان بستا ہے میرے والدین ہیں ، ملازمین ہیں اسلئے آخری دفعہ پیار سے سمجھا رہا ہوں کہ اس قسم کے لباس صرف کمرے تک محدود رکھو۔”

“احمر میں تمہیں ڈھونڈنے ..

شٹ اپ ، میں نے کہا روم میں جاؤ ، ہاں اور آئندہ اس قسم کے لباس صرف کمرے تک ہی زیب تن کرنے کی اجازت ہے اس کے علاوہ مجھے تم اس حلیے میں دیکھائی نہ دو۔”

وارن کرنے کے سے انداز میں کہتا وہ اسکے بازوں کو جھٹک گیا تھا جب کہ عمارہ بنا احمر کی جانب دیکھ آنسوں کو روکتی کمرے میں چل دی۔

جب کہ سگریٹ کا وہ آخری کش لینے کے بعد اسے پاؤں تلے کچلتا اپنے کمرے میں آیا جہاں گھوپ اندھیرے نے اس کا استقبال پورے اہتمام کے ساتھ کیا تھا عمارہ بستر پر منہ پرے کیے لیٹی تھی۔

وہ سر کو نفی میں جنبش دیتا ، اپنی جگہ آئے لیٹ گیا تھا جب کہ عمارہ نے افسوس کن نگاہیں احمر چوہدری کے وجود پر جمائی تھیں جس سے اسے رتی برابر بھی فرق نہ پڑا ۔

©©©

حویلی میں بنائے گئے کمروں میں سے ایک کمرا ایسا بھی تھا جہاں کی روشنی اب بھی جل رہی تھی اور وہ تھا گیسٹ روم جہاں فاتح و پشمینہ کا قیام دو دن کے لئے یقینی بنایا گیا تھا۔

پشمینہ آنکھیں موندے لیٹی تھی کہ یکدم جھٹکا کھا کر بیدار ہوئی جیسے ہی فاتح کے ہاتھوں کا لمس اسے اپنے پیروں پر محسوس ہوا تھا۔

فاتح جو ابھی لباس تبدیل کرنے کے بعد بیڈ پر جیسے ہی لیٹنے لگا تھا کہ اس کی نظر پشمینہ کے سوجن زدہ پیروں پر گئی تھی ۔ بے شک وہ آنکھیں موندے لیٹی تھی لیکن درد کے زیرِ اثر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی تکلیف کے آثار پشمینہ کے چہرے پر صاف واضح ہو رہے تھے جنہیں فاتح محسوس کر گیا اسلئے وہ کچھ لمحوں کے لئے اپنی نیند کو خیر باد کہتا پشمینہ کے پیروں کی مساج کرنے کو آگے بڑھا تھا۔

“فاتح کیا کر رہے ہیں آپ ؟”

اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی تھی اس نے کہ فاتح نے اسے واپس لٹا دیا تھا۔

“کچھ خاص نہیں بیگم ، بس تمہارے پیر دبا رہا ہوں۔”

پشمینہ کی سر کے پیچھے تکیہ سیٹ کر کے دیا تھا اسے تاکہ وہ ریلیکس ہو کر لیٹ سکے۔

“مگر مجھے بالکل درد نہیں ہے ، میں ٹھیک ہوں۔”

اس نے فاتح کے ہاتھوں کو اپنے پیروں سے ہٹانا چاہا تھا وہ جھجھک محسوس کر رہی تھی اس کی زات کو برا لگ رہا تھا کہ اس کا شوہر اس کے قدموں میں بیٹھا اس کے پیر دبا رہا ہے۔

“مینہ بیگم ، تمہیں کیا لگتا ہے میں اندھا ہوں جو تمہاری اس تکلیف کو دیکھ نہیں سکتا۔”

بام کو ایک جانب رکھ وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ سوال گو تھا جب کہ فاتح کی بات سن کو نظریں چرا گئی تھی۔

“ن۔۔نہیں ایسی بات نہیں ہے بس میں یہ کہہ رہی تھی کہ آپ میری وجہ سے پریشان نہ ہوں۔”

“آہاں ! ایسا تو نہ کہو بیگم ایسا تو ممکن ہی نہیں ، کہ جس کے ایک عدد بیوی ہو اور وہ پریشان نہ ہو۔”

“ا۔۔اسلئے ہی تو کہہ رہی ہوں مت کریں تکلُف۔”

“ارے بیگم جانی ، اس میں تکلُف کیسا، بس ایک طرح اپنی بیگم کی غلطی کی سزا بگھت رہا ہوں نا تم وہ ہیل پہن کر اتنا گھومتی اور نہ تمہارے پیر سوجتے۔”

پشمینہ کی آنکھوں میں دیکھ وہ شرارتاً بولا تھا کہ مینہ نے اس کو مصنوعی گھوری سے نوازا تھا۔

“ہاں تو مسٹر فاتح میں نے آپ کو دعوت تو پیش نہیں کی نا آپ خود ہی یہ مہربانی کر رہے ہیں اور ویسے بھی جب سوٹ آپ کی پسند کا پہن سکتی ہوں تو ہیل میں اپنی من پسند کیوں نہیں پہن سکتی۔”

نروٹھے پن سے کہتی وہ اپنے پیر سائڈ پر کر گئی تھی۔

“آہاں ! میری کیوٹ کیٹی ناراض ہو گئی ہیں۔”

اس کے گالوں کو کھینچ وہ گھمبیر لہجے میں بولا۔

ہ”ٹیں آپ بات مت کریں مجھ سے۔”

فاتح نے جیسے ہی اس کا رخ اپنی جانب کرنا چاہا تھا وہ ناراضگی سے منہ پھیر گئی تھی۔

“بڑی بے مروت عورت ہو ایک تو خدمت کر رہا ہوں اوپر سے نخرے دکھا رہی ہو۔”

“نہیں تو میں نے کب دکھائے نکھرے ؟ “

اب کے وہ فاتح کی آنکھوں میں دیکھتے بولی تھی جب کہ چہرے پر مسکراہٹ واضح تھی مینہ کے لہجے میں چھپی شرارت ، و شوخیاں وہ محسوس کر گیا تھا اب کے اس کے چہرے پر درد کے آثار بھی نہیں تھے جسے دیکھ فاتح کو کچھ تسلی سی ہوئی تب ہی وہ اسے اپنے حصار میں لیتا لیٹ چکا تھا اور جلد ہی وہ دونوں نیند کی آغوش میں جا بسے۔

©©©

شہیر و سحر حویلی کی اعلیٰ طرز پر بنائی گئی شہنشاہی سیڑھیوں کو عبور کرتے نیچے اتر رہے تھے کالے رنگ کی شلوار قیمض میں ملبوس جس کی آستینوں کو کہنیوں تک فولڈ کیا تھا ،کندھے سفید کھدر کی اعلی شال ڈالے ، پیروں میں پشاوری چپل پہنے، سفید دودھیا رنگت پر ڈارک براؤن بیرڈ کو ہلکی شیو دئیے ، بالوں کو نفاست سے جیل کی مدد سے سیٹ کیے وہ کافی وجیہہ لگ رہا تھا کہ لڑکیاں اس کو دیکھتے اس پر فدا ہو جاتیں ، لیکن ایسا اب ممکن نہ تھا کیونکہ اب اس شہزادے پر فدا و قربان جانے کا اختیار صرف و صرف ایک ہی شہزادی کے پاس تھا اور تھی مسسز شہیر چوہدری ۔

جو اس کے ہم قدم ، اس کے سنگ سیڑھیوں کو عبور کرتی آرہی تھی ان دونوں کا ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھ میں تھا شہیر چوہدری نے اپنی بیوی کا ہاتھ بہت مضبوطی سے تھام رکھا تھا سب گھر والوں کی نظریں ان ہی پر ٹک کر رہ گئی تھیں وہ دونوں ہنستے مسکراتے ہوئے اتر رہے تھے شہیر نے کوئی بہت گہری بات کہی تھی سحر سے جس پر وہ مسکرا کر سر جھکا گئی تھی۔

احمر چوہدری کی نظریں تو جیسے کسی نے منجمد ہی کر دی تھیں عمارہ نے اس کے ہاتھ پر ہلکی سی چٹکی کاٹی تھی جس پر وہ ہوش کی دنیا میں لوٹا۔

“او مائے گوڈ کتنی خوبصورت جوڑی ہے۔”

عمارہ نے سرگوشی کرتے احمر چوہدری کے کان کے پاس جھک آرام سے کہا تھا لیکن وہ تو ہوش میں ہی نا تھا اس کی نظریں صرف و صرف سحر کے گرد گھوم رہی تھیں ، وہ کوئی جادوئی لمحات معلوم ہو رہے تھے احمر چوہدری کو جس نے انہیں اپنی زنجیروں میں جکڑ لیا ہو۔

وہ دونوں نیچے پہنچ چکے تھے شہیر نے خود کرسی سیٹ کی تھی سحر کے لئے اور اسے بالکل اپنے ساتھ بیٹھایا تھا یہاں تک کہ کھانا بھی اسے اپنے ہی ہاتھوں سے پروسہ تھا میز پر موجود تمام اراکین میمونہ بیگم ، سکینہ بیگم ،چوہدری وقار مسکرائے تھے ان کے دل سے بے اختیار کئی دعائیں نکلی تھیں اس خوبصورت جوڑے کے لئے جب کہ چوہدری وقاص صاحب سمیت نورے بیگم سپاٹ تاثرات چہرے پر سجائے بیٹھے تھے جب کہ سحر مسکرا کر رہ گئی تھی شہیر چوہدری کی اس بے پناہ محبت و نوازش پر ۔۔

کیا یہ حسین و مغرور خوبصورت آن بان رکھنے والا شہزادہ اسی لئے بنایا گیا تھا؟ ایسے کئی سوالات اس کے زہن میں منڈلا رہے تھے سحر کی نظریں شہیر پر جمی ہوئی تھیں وہ جو کبھی روتی تھی اپنی قسمت کو آج اپنی ہی قسمت پر رشک کرنے لگی تھی۔

©©©

فاتح و پشمینہ نے آج شام تک شہر کے لئے روانہ ہو جانا تھا اسلئے ان سب نے مل کر گاؤں کے باغات و کھیت گھومنے کا پلان بنایا تھا۔

تمام بڑے گھر پر ہی موجود تھے البتہ نوجوان بچے اپنی اپنی جوڑیوں سمیت گھومنے کے لئے جا چکے تھے۔

ابھی بھی وہ سارے صبح صبح کی ہلکی ہلکی دھوپ و چھاؤں ، ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں کو انجوائے کرتے آم کے باغات میں گھوم رہے تھے گرمیوں کا خوش گوار موسم تھا جس میں فصل اچھی خاصی تیار ہوئی تھی۔

“واؤ ، احمر گاؤں اتنا خوبصورت ہے تم آج سے پہلے مجھے یہاں کیوں نا لائے یہاں ؟ “

احمر چوہدری کے ہمقدم چلتی عمارہ نے اسے جھنجھوڑتے نروٹھے پن سے کہا تھا وہ ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی اس سے ، احمر چوہدری جس نے اپنی نظروں کا مرکز صرف سحر کو بنایا ہوا تھا عمارہ کے بلانے پر اس کی جانب متوجہ ہوا تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ عمارہ کے لہجے و آنکھوں میں ایک حسرت ہے وہ بجھی ہوئی آنکھوں سے اس سے شکوہ کر رہی تھی جسے وہ مسکرا کر نظر انداز کر گیا۔

“تم انجوائے کرو نا عمارہ ڈارلنگ ، ویسے بھی لے ہی تو آیا ہوں کہتے ہیں دیر آئے درست آئے “

عمارہ کے شانوں سے تھام اس کو اپنے روبرو اس طرح سے کیا تھا کہ وہ سامنے کھڑی سحر کی ہر حرکت پر نظر رکھ سکتا تھا۔

“ہاں بالکل ، ٹھیک کہہ رہے ہو تم ، واقعی دیر آئے درست آئے “

عمارہ کے لبوں پر بھی ایک عجب مسکان نے گھر کیا تھا۔

جو کہ احمر چوہدری کو صرف ایک طنز معلوم ہوا اس سے پہلے کہ وہ عمارہ سے کچھ سوال کرتا وہ بڑھ چکی تھی آگے ، شہیر لوگوں کے پاس۔

©©©

“عمدہ کتنے زبردست آم ہیں نا بالکل تازہ “..

پھلوں کو تازہ تازہ درخت سے توڑ کر کھانے کا جو مزہ ہے نا وہ یقین جانیں دکان سے خرید کر کھانے میں وہ مزہ نہیں۔

“آپ جانتے ہیں میں مشل جب چھوٹے ہم ، ہمارے گھر کے پاس موجود باغ سے پھل درخت سے توڑ کر ہی کھایا کرتے تھے ، آج بچپن کی یادیں تازہ ہو گئی ہیں۔”

پاس رکھی چارپائی پر بیٹھی پشمینہ تیسرے آم کے ساتھ انصاف کرتی بولی تھی کہ فاتح کا قہقہ گونجا جب اس کے لبوں کے پاس آم کا رس گرتا پایا۔

“بیگم جانی ، تھوڑا ہلکا ہاتھ رکھیں ، کیونکہ جس طرح سے آپ اس آم بچارے کے ساتھ انصاف کر رہی ہیں اور آپ نے جو اپنا حشر کیا ہوا نا یقین جانے آپ کو ہی کھا جانے کا من کر رہا ہے۔ “

پشمینہ کے کان کے پاس جھک وہ گھمبیر لہجے میں گویا ہوا جب کہ فاتح کی بات کو سن اس کا آم کھاتا ہاتھ ساکت ہوا تھا پشمینہ نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اسے گھورا تھا جس کا اسے رتی برابر فرق نہ پڑا تھا اس کے برعکس وہ اپنے لب اسکے گلابی گالوں پر رکھ گیا جس سے پشمینہ کی آنکھیں مزید پھیل گئیں۔

“فاتح !

کم از کم جگہ تو دیکھ لیا کریں آپ کو تمیز نہیں ہے۔۔۔”

وہ دبا دبا غرائی تھی اور اپنے شوہر نامدار کی شرٹ پر ہاتھ رکھے پیچھے کرنا چاہا ، جس کا نتیجہ یہ نکلا فاتح تو پیچھے نہ ہٹا تھا البتہ اس کی سفید شرٹ پر آم کے داغ لگ چکے تھے۔

“اوپس۔۔۔”

مینہ نے اپنی زبان دانتوں تلے دبائی تھی۔

“م۔۔مینہ یہ کیا کر دیا ؟؟؟”

وہ نا سمجھی کی سی کیفیت میں اپنی شرٹ تو کبھی مینہ کی جانب دیکھ رہا تھا۔

“ہ۔۔ہاں ۔۔ہاں توا۔۔اس اس میں آ۔۔آپ کی غلطی ہے ۔”

“واٹ ؟؟”

اب کے فاتح کی آنکھیں حیرت کی زیاتی سے کھلی تھیں۔

“ہ۔۔ہاں تو آ۔۔اپ کو ہوش ہونا چاہیے جب پتا میں آم کھا رہی ہوں تو کیوں قریب آرہے ہیں اب ملی نا سزا تو بھگتیں۔۔”

کہتی وہ واپس اپنے سابقہ کام میں مشغول ہو چکی تھی جب کہ فاتح نفی میں سر ہلائے وہیں اس کے قریب بیٹھ اپنی اس جھلی کو دیکھنے لگا جو کہ اس وقت کسی بچے کی مانند آم سے انصاف کر رہی تھی۔

©©©

“تو پھر سردارنی صاحبہ کیسا لگا ہمارا گاؤں ؟”

سحر کو اپنے بازوؤں کے حصار میں لئے وہ ہلکے ہلکے قدم بھر رہا تھا کہ تب ہی اس کی آنکھوں میں دیکھ وہ دھیرے سے گویا ہوا۔

“یہ کیسا سوال ہے ؟

آپ شاید بھول رہے ہیں ، میں اسی گاؤں سے ہوں میرا بچپن ، جوانی سب یہیں گزری ہے، لیکن اگر آپ بات کرتے ہیں گاؤں کی خوبصورتی کی تو وہ بے مثال ہے مگر بات کی جائے سیرت و قانون کی تو وہ بہت بری ، انتہائی خستہ اور بے صوری ہے۔”

سحر کھوئے ہوئے لہجے میں بول رہی تھی اس کے لہجے میں چھپی تلخی کو شہیر چوہدری باخوبی محسوس کر گیا تھا۔

“مسسز شہیر چوہدری ، آپ کے شوہر نامدار ، آپ سے وعدہ کر چکے ہیں کہ ان شاءاللہ آئندہ وقتوں میں آپ سے گاؤں میں، اس کے قانون میں کئی تبدیلیاں پائیں گی لیکن ایک شرط پر۔”۔

مسرمرائز انداز میں کہتا وہ ایک دم خاموش ہوا تھا کہ سحر نے استہفامیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا جیسا کہنا چا رہی ہو کہ کون سی شرط ؟

“میری یہ شرط ہے کہ تم ہر قدم میرے ساتھ ہو گی اور میں تمہارے , کیونکہ یہ ایسا کام ہے جس میں ہم دونوں کی ضرورت ہے ، ہم دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے ہم ان شاءاللہ مل کر اس گاؤں کو تبدیل کریں گے۔”

مسکراتے ہوئے سحر کے ہاتھوں پر ہلکا سا زور دیا تھا جیسے اس کو اپنا احساس دلا رہا ہو ، اس وعدہ حاصل کر رہا ہو جواباً وہ بھی مسکرا دی تھی ۔

یہی منظر احمر چوہدری کی جلتی آنکھوں نے دیکھا تھا ، اس کے دل میں حسد پیدا ہوا رہی تھی سحر و شہیر کے لئے وہ سحر کو شہیر کے اس قدر قریب دیکھ اپنی مٹھیاں بھینچ گیا تھا۔

شہیر کے نکاح میں جانے کے بعد ، سحر میں اس قدر بدلاؤ آئے گا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا , شادی کے بعد وہ مزید حسین لگے گی اس بات کا یقین کرنا احمر چوہدری کے لئے نا ممکن سا ہو رہا تھا یا پھر یہ کہا جائے کہ احمر نے ٹھیک سے سحر کو شہیر کے نکاح میں جانے کے بعد حسد کی آنکھوں و شہیر کی بیوی کے روپ میں دیکھا تھا ورنہ خوبصورت و حسین تو ویسے بھی بہت تھی یا یہ کہنا زیادہ بہتر رہے گا کہ بات انداز کی ہوتی ، لڑکی تو وہ ایک ہی تھی جو دونوں بھائیوں کے نکاح میں رہی لیکن دونوں کا انداز مختلف ،

ایک نے اس پر انتقام ، ظلم ، نفرت ، کدورت کے پہاڑ توڑے جب کہ دوسرے کا انداز اس سے قدرے مختلف تھا ، دوسرے بھائی نے اسے کسی نازک پھول کی مانند سنبھال سنبھال کر رکھا اس پر محبتوں کی بارش کی ، سب سے عزت دلاوائی اور اسی محبت و عزت کے باعث وہ نکھر کر رہ گئی تھی۔

یہی تھا ایک موازنہ دونوں کے انداز میں۔

کسی کام کے باعث ، شہیر دوسری سمت گیا تھا سحر تنہا درخت کے سائے کے نیچے کھڑی خود میں مسکرا رہی تھی کہ کسی نے اس کو کلائی سے تھام درخت کے تنے سے لگایا وہ زور و شور سے دھڑکتے دل کے ساتھ آنکھیں میچ گئی تھی۔

“آج بھی میرے اس قدر قریب آنے پر تمہاری دھڑکنیں شور برپا کرتی ہیں “

سحر کے چہرے پر بکھرے اس محبتوں کے گلال و رونق کو دیکھ وہ دل جلا دینے والی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اس کے کان کے پاس جھکے بولا تھا لیکن سحر کا تو مانو سانسں ہی اٹک کر رہ گیا تھا جب چوہدری احمر کا کُرتا لہجہ اپنے بے حد قریب محسوس کیا تھا جس میں حسد و جلن صاف واضح تھی۔

اپنی بند ہوئی آنکھوں کو فوراً سے کھولا تھا اس نے۔

“د۔۔دور ہ۔۔ہوں مجھ سے ، ورنہ منہ توڑ دوں گی آپ کا۔”

“ہاہاہا تم میرا منہ توڑو گی ، اتنی ہمت نہیں ہے تم میں ابھی تو پچھلی بے عزتی کا بدلہ بھی باقی ہے جاناں لیکن چلو خیر اسے معاف کیا تمہارے اس حسن کے صدقے ۔”

اپنی وہی اجلی مسکان وہ لبوں پر سجائے بولتے سحر کو کوئی زہر معلوم ہوا تھا۔

احمر چوہدری بہت شوقیہ نظریں اس کے وجود پر جمائے کھڑا تھا، اس کے دل نے کہا ہاں وہ پہلے اسکی تھی جسے اس نے اپنے جذباتی پن کی وجہ سے کھو دیا ، پہلے جب وہ اس کی دسترس میں تھی تب اس کے زہن پر صرف بدلے کی آگ سوار تھی لیکن اب ، اب جب وہ اس کی دسترس سے کہیں دور جا بسی ہے تو اس کے ذہن میں کوئی بدلہ کوئی انتقام جیسا لفظ گردش نہیں کر رہا ، بلکہ اب تو ایک نئی آگ میں جل رہا ہے وہ “حسد کی آگ ” جو سابقہ آگ سے خاصی خطرناک ہے۔

“ویسے سابقہ ونی نما بیوی بہت خوش لگ رہی ہو شہیر کے ساتھ ؟؟”

آنکھ ونک کیے ، اس کی زلف کو شہادت کی انگلی میں لپیٹے بولا ساتھ ہی عادت سے مجبور اس کو دلی زخم دیتے ہوئے یہ احساس دلانا نہ بھولا کہ وہ ونی میں لائی گئی ہے۔

“الحمداللہ.. ، شہیر بہت اچھے ہیں ، بہت ذیادہ خوش رکھتے ہیں مجھے تب ہی میں رہتی ہوں ورنہ اوروں کی مانند میری جان کے دشمن تو نہیں ہیں نا جو آئے دن کسی جانور کی مانند برتر سلوک کرنے کو تیار بیٹھا ہو۔”

احمر چوہدری کو اس ہی انداز میں جواب دیتی اس کے ہاتھ کو جھٹکا تھا اس نے، وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی جب کہ ہونق بنا احمر ، لب بھینچ کر رہ گیا تھا۔