Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 30

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj

سرجری کے بعد کچھ ہفتوں کے لئے سحر کو ہسپتال میں انڈر اوبزویشن رکھا گیا تا کہ اس کا علاج بہترین طریقے سے کیا جا سکے اس دوران شہیر کسی سایہ کی مانند اس کے ساتھ رہا کرتا ، سحر کی ہر چیز کا خیال دل و جان سے رکھتا کہ پاس موجود ڈاکٹرز و نرس بھی مسکرا دیا کرتے تھے اس کی فکر پر کہ کس طرح وہ اپنی بیوی کا خیال رکھتا ہے۔

فاتح و پشمینہ سحر کی عیادت کے لئے آنا چاہتے تھے لیکن شہیر انہیں یہ کہتے ہوئے صاف انکار کر گیا کہ پشمینہ کی طبعیت خود ٹھیک نہیں اسلئے بہتر ہے کہ ، وہ اسے گھر پر ہی رکھے ۔

کچھ ہی ہفتوں میں ، شہیر چوہدری ، سحر کو ہسپتال سے چھٹی کروائے گھر لے کر آچکا تھا سب سے پہلے نور بیگم اور سکینہ بیگم نے سحر کا صدقہ اتار غریبوں میں بانٹا تھا۔ عمارہ بھی محبت اور خوش اسلوبی کے ساتھ ملی تھی کہ سحر سب کی اپنائیت حاصل کر نم آنکھوں سے مسکرا دی۔

سب نیچے ہال میں موجود تھے ، شہیر اپنی متاعِ حیات کو خود سے لگائے بیٹھا تھا کہ سب گھر والے اس کی حرکات پر مسکرائے بغیر نہ رہ سکے سکینہ بیگم نے تو پہلی فرصت میں دونوں کی نظر اتاری تھی۔

احمر چوہدری حویلی کی اوپری سیڑھیوں کے پاس کھڑا بس لب سیے سب کو دیکھ رہا تھا آج وہ سحر سے زیادہ شہیر کی حرکات و سکنات کو نوٹ کر رہا تھا کہ کیسے وہ اپنی بیوی کی ہر ایک چھوٹی سی چھوٹی چیز کا خیال رکھ رہا ہے کہ اس کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

اور وہ “

اس نے کیا کیا تھا ؟

سحر کے غم ، اس کی تکالیف ، اسکے دکھوں کو سمیٹنے کے بجائے

اس کو دکھ دینے کی وجہ بنا۔

کبھی اس کی روح ، اس کے جذبات تو کبھی اس کا وجود۔

کیا شوہر ایسے ہوا کرتے ہیں ؟

یا شہیر جیسے ؟

وہ تو شوہر سے زیادہ انتقام ، کے رشتے کو نبھاتا آیا ہے۔

“شوہر تو وہ ہوتا ہے جو بیوی کو ہر بری نظر سے بچا کر رکھے کوئی مشکل و پریشانی اس تک آنے نہ دے ۔ شوہر تو وہ ہوتا ہے جو بیوی کو اپنے پن کا احساس دلائے ۔ یہ وہ رشتہ ہے جو خدائی قادر کی جانب سے بنایا گیا ہوتا ہے جب سب ساتھ چھوڑ جایا کرتے ہیں تب میاں بیوی ہی ایک دوسرے کا آخری سہارا ہوتے ہیں”۔

“میرے اندر انتقام کی آگ ہے ایک جنون ہے جس میں تمہیں جلا کر بھسم کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں “

ماضی میں کہے اپنے ہی الفاظ چوہدری احمر کے کانوں کے گرد گونجے تھے وہ جو اس کو انتقام کی آگ میں جلائے رکھ کرنا چاہتا تھا آج خود اسی آگ میں جل رہا تھا۔

©©©

ویران صحرا میں جہاں سورج اپنی تپش کا احساس دلائے ہوئے پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا اور وہیں وہ پورے ویرانے میں تن تنہا بے مقصد گھوم رہی تھی۔

سورج کی گرمی وقت سے ساتھ بڑھتی چلی جا رہی تھی کہ اس تپش زدہ جگہ پر خاتون کا مزید چلنا محال تھا پیروں میں چپل نہ ہونے کے باعث اس کے پاؤں وہاں کی تپش سے جلنے شروع ہو چکے تھے کہ وہ آس پاس پر کوئی سہارا ڈھونڈنے کی کوشش کرنے لگی لیکن ناکارہ !

چہرے سے معلوم پڑ رہا تھا کہ وہ کافی وقت سے سفر کر رہی ہیں بھوک سے زیادہ بڑھتی پیاس نے ان کا حال کسی بے بس لاچار کی مانند کر دیا تھا۔ پسینہ ٹپک ٹپک کر ، ان کے چہرے کو بھگوئے ہوئے تھا کہ اچانک اس ویرانے میں شور سا اٹھنے لگا کسی بچے کی کراہنے کی آوازیں آنے لگیں وہ خاتوں ہواس باختہ سی ہوئی تھیں۔

“ماں ! مت مارو مجھے ماں !

م۔۔مت مارو۔

میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے۔

نہیں ! مجھے نہیں مرنا۔”

بے چینی کے سے عالم میں ، نظریں چاروں اطراف گھمائیں لیکن پھر بھی آوازوں کے سوا کسی کو نا پایا تھا کہ یکدم ہی وہ آوازیں قہقہوں میں تبدیل ہونا شروع ہوئیں تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا ویرانا خون سے بھری وادی کی شکل اختیار کر گیا جو کہ ان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے گیا تھا خوف کے باعث وہ کانوں پر ہاتھ رکھے چیختے ہوئے وہیں بیٹھتی چلی گئی۔

“آہہہہ۔۔۔

آہہہ۔۔۔

خ۔۔خون ب۔۔بچاؤ !

پ۔۔پانی پ۔۔پانی “

نورے بیگم نیند سے چلاتے ہوئے اٹھ بیٹھی تھی کہ پہلو میں بیٹھے چوہدری وقاص نے حیران کن نگاہوں سے اپنی بیوی کی جانب دیکھا تھا جو کہ پسینے سے تر چہرے سمیت لبوں پر خون ، خون کی گردان لگائے چلانے میں مصروف تھی۔

میرا دل ہے پوچھتا کیوں ہے منزل لاپتہ

میں نا جانوں کیا مجھ سے ہوئی ہے خطا

“و۔۔وق۔۔وقاص ا۔۔ارتضی آ۔۔آگیا و۔۔وا۔۔واپس

و۔۔وہ و۔۔۔وہ۔۔واپس۔۔”

“نورے ! ہوش میں آؤ “

بھول جاؤ ، ارتضیٰ کو وہ اب کبھی واپس نہیں آ سکتا۔”

“ن۔۔نہیں س۔۔سائیں م۔۔میں نے خود دیک۔۔دیکھا و۔۔وہ “

نورے بیگم آنسوں بہائے چوہدری وقاص کو ٹوٹے لفظوں میں بتانے کی کوشش کرنے لگی تھیں کہ وہ انہیں بازووں کے گھیرے میں لئے خاموش کروا گئے۔

“میں جانتا ہوں ، نورے بیگم کہ ارتضیٰ کو آپ نے اپنے بیٹوں کی طرح ہی محبت دی ہے اس کی موت کا سب سے زیادہ غم و تکلیف آپ کی ہی زات کو ہوا ہے ورنہ جو اس کی سگی ماں ہے وہ تو اس سے سوتیلوں والا رویہ رکھے ہوئے ہے۔ اس کے نام کی ونی کو اپنی بیٹی بنائے بیٹھی ہے “

چوہدری وقاص نخوت سے سوچتے ہوئے بولے تھے۔ ” لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اب وہ ہم میں نہیں رہا۔اسلئے اب اس چیز کو قبول کر لیں اور خود کو تکلیف نہ دیں۔”

چوہدری وقاص یہ تمام جملے اپنی دوسری بیگم سے گھمبیرتاً ادا کر رہے تھے کہ ان کے لئے چائی لاتی سکینہ بیگم کی آنکھوں میں نمی واضح ہونا شروع ہوئی تھی اپنے شوہر کے دل توڑتے لفظوں کو سن۔

آنسوں کو پی وہ دروازا کھٹکھٹا کر خاموشی سے اندر آئی تھیں۔

“سائیں ! گستاخی معاف لیکن جوان بیٹے کو کھونے کی تڑپ و تکلیف کیا ہوتی ہے یہ ایک ماں سے بہتر کوئی بھی نہیں جان سکتا یہاں تک باپ بھی نہیں۔

بے شک باپ کی محبت ایک طرف لیکن ، ماں کی محبت ، اور پیار صرف وہی جانتی ہے کیونکہ نو مہینے اسے اپنی کوکھ میں رکھتی ہے وہ بچے کے ہر احساس ، جذبات ، تکلیف ماں کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔

حقیقت ہے چاہے تلخ ہی صحیح ” میں نے تو بیٹے کے ساتھ ساتھ اپنا شوہر بھی کھویا ہے “

سادہ لفظوں میں بہت گہری بات کہتیں ایک شکوہ کناں نظر دونوں پر ڈال آنسوں کو روکتے وہ وہاں سے نکلتی چلی گئی تھیں۔

اپنے کمرے میں آ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھیں۔

زندگی نے بھی کیا کھیلا ان کے ساتھ؟

پہلے شوہر چھینا گیا پھر بیٹا ۔

جس نے بھی رلایا تھا اس کو رلاتی

ایسی قسمت کب تھی کہ دھوکہ نا کھاتی

جو بھی مجھ پر گزری کیسے میں بتاتی

©©©

گردش ہے کوئی کیا جان کہاں لے جائے

جانا تو ہو گا تقدیر جہاں لے جائے

میمونہ بیگم لان سے ہوتی سکینہ بیگم کے کمرے کے پاس سے گزر رہی تھیں کہ اندر سے آتی سسکیوں کی آواز نے انہیں مجبور کر دیا تھا رکنے پر ۔

کچھ سوچتے وہ دروازا دکھیل اندر داخل ہوئی تھیں جہاں ان کی جان سے پیاری بہن بیڈ پر بیٹھی ارتضیٰ کی تصویر کو سینے سے لگائے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں۔

“آ۔۔آپی ج۔۔جان “

تیز قدم بھرتی وہ ان تک آئی تھیں اور ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ پکارا تھا انہیں کہ وہ میمونہ بیگم کی آواز سن آنکھیں صاف کرتی پلٹی تھیں۔

“ی۔۔یاد آ رہی ہے ؟”

اپنی بہن کا چہرا محبت سے ہاتھوں کے پیالے میں بھرا تھا۔

“مومی

س۔۔سائیں ک۔۔کہتے ہیں ک۔۔کہ م۔۔م۔۔میں اپنے بیٹے سے پ۔۔پیار ن۔۔نہیں کرتی ۔ تم خود بتاؤ ایسا بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ میں اپنے لختِ جگر ، اپنی جان کے ٹکڑے سے پیار نہ کروں۔

بھلا کوئی ماں ایسا کر سکتی ہے ؟

و۔۔وہ کہ۔۔کہتے ہیں کہ م۔۔میں س۔۔سحر سے ارتضیٰ کے خون کا بدلہ نہیں لیتی بھلا تم بتاؤ ایسا کیسے ممکن کہ بے گناہ کو سزا دی جائے۔

وقاص سائیں کو نظر کیوں نہیں آتا کہ وہ ع۔۔عورت دھوکہ اور فریب ہے و۔۔وہ ق۔۔قاتل ہے ہ۔۔ہمارے بچے کی۔

م۔۔میں بد نصیب ہوں مومی میری قسمت میں ہی سکون نہیں۔”

خون کے آنسوں روتے وہ اپنے دل کا حال بیان کر رہی تھیں ، ان کے لہجے میں تڑپ بے بسی نمایاں تھی کہ میمونہ بیگم کی آنکھیں بھی بھیگ چکی تھیں اپنی بہن کو یوں تکلیف میں دیکھ ۔

“آپی حوصلہ رکھیں۔

بے شک اللہ انصاف کرنے والا ہے۔”

ان کے آنسوں پونچھتے میمونہ بیگم ، لب کچلتی بولی تھیں۔

کھائی ہے ایسی حالات کی ٹھوکر میں نے

سینے سے جیسے وہ کھینچ کے جاں لے جائے

©©©

کالے رنگ کے بہترین سوٹ بوٹ میں ملبوس وہ ساحرانہ پرسنیلٹی رکھنے والا شخص ، آفس کے کانفرنس روم میں بیٹھے اپنے کلائنٹ کے ساتھ بہت ہی خاص موضوع پر میٹنگ کر رہا تھا کہ اچانک ہی روم میں فون کی رنگ بجی تھی جس نے فاتح کے ساتھ ساتھ وہاں موجود ہر شخص کو متوجہ کیا تھا۔

وہ ان سب سے ایکسیوز کرتا سائیڈ پر آیا تھا فون کال سننے کے لئے ، نجانے دوسری جانب سے کیا کہا گیا کہ وہ بنا کسی کی پرواہ کیے فوراً ہی دوڑتا ہوا باہر پارکنگ میں پہنچا تھا اور گاڑی میں بیٹھ تیز رفتاری سے ہسپتال میں پہنچا جہاں ڈاکٹر نے اسے زندگی سے بھرپور خوش خبری سے آگاہ کیا۔