Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 16

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj

کچھ مہینوں بعد ۔۔

سحر کی عدت آج پوری ہوئی تھی کہنے کو آج اسکا فیصلہ ہونا تھا یا تو آج اسے رہائی مل جانی تھی یا پھر قید کی زنجیریں نئے سرے سے اس کے پیروں میں باندھی جانی تھیں وہ اسی فیصلے کے انتظار میں تھی اور خدا سے دعا گو تھی کہ اسے رہائی دے دی جائے لیکن اسکی دعاؤں سے زیادہ شدت کسی اور کی دعاؤں میں تھی ۔

وہ سجدہ ریزہ تھی خدا کے آگے کہ ملازمہ کمرے میں داخل ہوئیں اور جو خبر اسے سنائی تھی وہ اسکی آنکھوں میں آنسوں لانے کا باعث بنی۔

اسے لگا اب وہ کبھی یہاں سے آزاد نہیں ہو پائے گی اس کے سپنے ایک بار پھر سے ٹوٹنے والے تھے لیکن اب وہ خود کو قسمت کےحوالے کر چکی تھی ۔

©©©

اتنا تیرا انتظار کیا

دل کو خفا سو بار کیا

تجھ سے وفا میں نے کی اس قدر

وہ خالق کی کائنات کا خوبصورت شاہکار کھلا آسمان

اس آسمان میں موجود پانی سے بھرے بادل جو کہ برکھا کی صورت میں برس رہے تھے اسی بارش کے سہانے موسم کو محسوس کرتی وہ پری جو لان کے وسط میں کھڑی خود کو سیراب کر رہی تھی جب کہ کوئی اور وجود بھی تھا جو اس اپسرا کو دیکھے اپنی نظروں کو سیراب کر رہا تھا۔

فاتح مخمور تپش دیتی نظروں کے ساتھ اس حور نما لڑکی کو دیکھ رہا تھا اسکے لبوں پر ایک مسکراہٹ سی آن ٹھہری۔ اس کے وہم و گمان بھی نہ تھا کہ یہ لڑکی بہت جلد اسکے دل پر سلطنت کرے گی۔ وہ مگن سا اس کو بارش میں بھیگتا دیکھ رہا تھا۔جو آسمان کی جانب دونوں ہاتھ پھیلائے گھوم رہی تھی وہ سست روی سے چلتا پشمینہ تک آیا اور کون کے پاس جھک دھیمی سی سرگوشی کی۔

“You look exactly like the fairy who goes out to Prastan for a walk.Your’s this look is enough to beat this lifeless heart my Jan e Jaan..”

(تم بالکل اس پری کی مانند دیکھ رہی ہو جو کہ سیر کے لئے پرستان کو نکلتی ہے اس برستے ہوئے ساون میں وہ پھول لگ رہی ہو جیسے گلاب پر شبنم ۔تمہارا یہ روپ اس بے جان دل کو دھڑکانے کے لئے کافی ہے مجھے خود میں سمو لو جانِ جاں)

پشمینہ جو آس پاس سے بے پرواہ بارش انجوائے کر رہی تھی فاتح کی یوں سرگوشی کرنے پر وہ اپنی جگہ اسٹیل ہوئی ۔حیرانی و ششدر و پن کے عالم میں مڑنا چاہا لیکن فاتح کی ٹھوس گرفت نے اس کی کوشش کو ناکام بنایا۔

یہ موسم کی بارش ، یہ بارش کا پانی

یہ پانی کی بوندیں تجھے ہی تو ڈھونڈیں۔

ٹرانس کی سی کیفیت میں ان بھیگے ریشم بالوں کو ہٹایا تھا فاتح نے اور اپنے دہکتے ہونٹوں کا لمس پشمینہ کی بے دان گردن پر چھوڑا وہ تڑپ کر مڑی نشیلی آنکھوں پر وہ شایہ فگن جھلملاتی پلکیں رقص کر رہی تھیں اور ان پر موجود بارش کا پانی شبنم کے قطرے معلوم ہو رہے تھے۔

وہ بنا پلکیں جھپکائے اس کو پری کا چہرا دیکھ رہا تھا یا یہ کہنا بہتر ہے کہ اس کے نقش اپنے دل کی دیواروں پر اتار رہا تھا جب وہ کنفیوژ سی پلکیں جھکائے کھڑی اس کی نظریں خود پر محسوس کیے بارش کے اس سرد موسم میں بھی وہ گھبراہٹ کے مارے گرم ہو چکی تھی پلکوں کا لرزنا اس کی گھبراہٹ و کنفیوژن کو ظاہر کر رہا تھا۔

“مینہ ! کیا ضرورت تھی اتنی رات میں یوں برستے ساون میں بھیگنے کی ، دیکھ لو تمہارا یہ روپ فاتح شرجیل کو بہکانے کا باعث بنا ہے”

فاتح خاموشی سے اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکائے بولا اس کے لہجے میں خمار ہی خمار تھا آواز بوجھل سی ہوئی تھی جب کہ پشمینہ نے ہلکی سی نظریں اٹھائے اس کو بے بسی کے عالم میں دیکھا۔

بارش کے اس خوبصورت موسم میں وہ دونوں ہی بھیگ رہے تھے ساتھ ہی ایک دوسرے کی دھڑکنوں کے شور کو سنتے محسوس کر رہے تھے۔

“فات۔۔فاتح مجھے اندر جانا ہے “

اسکی خمار آلود نظروں سے بچنے کا ایک یہی طریقہ نظر آیا تب ہی روانگی سے بولی جب کہ فاتح کی نظریں اسکے حسین چہرے کا طواف کر نے میں محو تھیں اس کے دل کے ایک کونے میں دھڑکنوں نے شور برپا کیا ایک خواہش سی جاگی تھی جس پر لبیک کہتا وہ پشمینہ کے تھوڑا مزید قریب ہوا لیکن پشمینہ ان آنکھوں کا پیغام پہلے ہی پڑھ چکی تھی تب ہی فوراً وہ اپنا چہرا موڑ گئی۔

“اوکے !” اگلے ہی پل وہ فاتح کی بانہوں کے گھیرے میں موجود تھی وہ اسے لئے اندر کی جانب بڑھا تھا۔

©©©

روم میں آکر فریش ہونے کے بعد پشمینہ تو ہیٹر چلائے سو چکی تھی جب کہ فاتح اب بھی جاگتے ہوئے اس کے خوبصورت نقش کو اپنی آنکھوں کے ذریعے دل میں اتار رہا تھا۔اس کا دل چاہا رہا تھا کہ اس دلربا کو جگائے خود کی پناہوں میں سمو لے اسکے خوبصورت نقش کو روح تک محسوس کرے لیکن پھر اسکی نیند کی پرواہ کیے پیچھا ہٹا ۔

لیکن کب تک ! دل تھا کے باغی ہو رہا تھا ۔

وہ بہت ہی نرمی سے اسکے مرمری سے وجود کو اپنے قریب کر گیا تھا اسکی خوشبو و احساس کو اپنے اندر محسوس کرنے لگا۔

وہ ہلکا سا کسمسائی تھی جب فاتح کا لمس شدت اختیار کرنے لگا وہ جھٹ سے آنکھیں کھول گئی تھی۔

سنہری آنکھیں حیرت کی زیادتی سے ذیادہ بڑی ہو چکی تھی مقابل کو خود پر محسوس کیے اس کے لب سیل سے گئے جسم کا سارا خون اسکے چہرے پر آئے گلال بکھیر رہا تھا فاتح پر شوق نظروں سے اسکے روشن و سرخ چہرے کو ترچھی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

“ف۔۔۔فاتح”….!!

اس کی گرم دہکتی سانیسں نیند میں اپنی گردن اور چہرے پر محسوس کیے وہ گھبراتے ہوئے بولی تھی ۔

“ہنہہ”….

اس نے ہنکار بھرنے پر اکتفا کیا۔۔

“ی۔۔۔یہ س۔۔سب ک۔۔کیا کر رہے ہیں “….؟؟؟؟

وہ اپنا سانس بحال کرتی بمشکل بولی تھی….

اس کے سوال پر اپنی بوجھل آنکھیں اٹھائے فاتح نے اسکی جانب دیکھا تھا جس کی آنکھوں میں گھبراہٹ صاف نظر آ رہی تھی…

“بچی نہیں ہو تم جسے بتایا جائے”۔

آئبرو اچکائے کہتے اس کے ریشم بالوں کو کیچر سے آزاد کیا جو کہ بکھر کر اس کے چہرے پر پھیل گئے تھے۔

اسکی پناہوں میں موجود وہ آنکھیں بھینچ گئی تھی.

“م۔۔مت کریں “….

بھاری آواز کے ساتھ کہتی وہ اپنی آنکھوں کو بند کر گئی تھی کیونکہ آنکھوں میں جمع شدہ نمکین پانی جلن کا باعث بن رہا تھا..

“کیوں”…..؟؟؟؟

“ک۔کیونکہ میں ایسا ن۔۔نہیں چاہتی”…..

کہتی وہ اپنا رخ بدل گئی تھی لیکن مقابل نے کھنچ اس کو واپس سابقہ پوزیشن میں کیا ..

“پشمینہ غلط فہمی کی بنا پر ہی صحیح لیکن اب خوش قسمتی سے تم میری بیوی ہو….

اپنی ضرورت کے لئے میں تمہارے پاس ہی آؤں گا…..

میں ہمارے رشتے کو ایک نام دینے جا رہا ہوں اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہا ہوں …

لیکن تم ہو کہ تمہارے تیور ہی نہیں مل رہے “…

وہ تقریباً اکتائے ہوئے لہجے میں بولا تھا لیکن اس کا یہی لہجہ تیر کی مانند پشمینہ کے دل پر لگا تھا “…

“میاں بیوی کے بیچ فز۔فزیکل ری۔۔ریل۔۔ریلیشن سے سب کچھ ٹھیک ن۔۔نہیں ہو جاتا فاتح سب سے ذیادہ ضروری دل میں رشتے کی اہمیت ہو۔۔ہونا ہے اور آپ۔۔۔ آپ کے دل میں میری کو۔۔۔کوئی اہمیت ہی نہیں ہے”۔

وہ اپنی درد بھری آنکھیں اسکی آنکھوں میں گاڑے بولی تھی ۔

“کس نے کہا محبت نہیں ہے .؟؟؟

آئے لو یو جان ۔۔۔”

ان سنہری آنکھوں میں دیکھتے رسانیت سے کہا اور ساتھ ہی اپنے لبوں سے وہ آنسوں چن گیا۔

“فا۔۔۔فاتح پلیز نو!”

“مینہ ! شش۔۔۔ میں کچھ نہیں جانتا ، بس اتنا جانتا ہوں کہ تم میری بیوی ہو ، اب اس رشتے تلے میں گھٹ گھٹ کر نہیں جینا چاہتا تھا سو خاموشی سے مجھے محسوس کرو ڈونٹ کرائے”۔

کہتے وہ اسے مکمل طور پر خاموش کروا گیا تھا ۔

©©©

“سحر اسلم آپ کا نکاح شہیر وقار کے ساتھ سکہ رائج الوقت دو لاکھ حق مہر طے پایا ہے کیا آپ کو قبول ہے ؟”

مولوی کے الفاظ جیسے ہی سحر کے کانوں سے ٹکرائے اس کی ہیچکی سی بند گئی تھی وہ بے یقینی کی سی کیفیت میں پاس کھڑی میمونہ بیگم کو دیکھنے لگی جنہوں نے نظریں چرائیں تھی اس سے۔

“ق۔۔ق۔ب۔۔۔قب۔۔قبول ہے “۔

دل کی مانند اس کے لفظ بھی ٹوٹ رہے تھے بہت ہی مشکلوں سے اس نے یہ دو بول ادا کیے اپنا سب کچھ مقابل کے نام کر دیا۔

سحر کو آج اپنا وجود کسی کچرے کے ڈھیر کی مانند لگ رہا تھا جسے ایک جگہ سے اٹھا کر کہیں دوسری جگہ پھینک دیا جاتا ہے بالکل ویسا ہی تو ہوا تھا اس کے ساتھ ایک بھائی کے بعد وہ دوسرے بھائی کے نکاح میں جا رہی تھی صرف اس نام نہاد بدلے و دقیانوسی رسم “خون بہا ” کے نام۔

دوسری جانب یہی جملے شہیر کے کانوں میں یہ جملے راحت بخش گئے تھے وہ اپنی پری کو حاصل کر چکا تھا وہ دلی طور پر آج بے حد خوش تھا لیکن چہرے پر پھر بھی سنجیدگی تھی لیکن آنکھوں میں چمک اور یہی چمک اسکی ماں نے دیکھنے کے ساتھ محسوس بھی کی ۔

وہ ماں تھیں کیسے نہ جان پاتی اپنے بیٹے کے حالِ دل کو۔۔۔

©©©©

فاتح صبح آفس جانے کے لئے نیچے آیا تو پشمینہ معمول کے مطابق کچن میں ناشتہ تیار کر رہی تھی وہ اپنی مغرور چال چلتا وجاہت کے ساتھ آکر ڈائٹنگ ٹیبل پر براجمان ہوا۔ساتھ ہی ایک نظر اپنی چھوٹی سی بیوی پر جمائیں جو لبوں پر چپ کا قفل لگائے کام کر رہی تھی ۔

وہ جیسے ہی ٹیبل پر کافی رکھنے آئی تھی فاتح نے اس کی نرم کلائی کو اپنے ہاتھوں کی گرفت میں تھاما تھا اور آئیبرو اچکائے اس کی جانب دیکھا جیسے خاموشی کی وجہ جاننی چاہی ہو۔

“چھوڑیں میں کام کر رہی ہوں۔”

پشمینہ نے نظریں گھوماتے کہا جیسے فاتح کا دیکھنا اسے پسند نہ آیا ہو۔

“مسسز ویسے سویٹ ہو تم اس بات کا اندازہ مجھے تھا لیکن بہت ذیادہ سویٹ ہو اس بات کا اندازہ مجھے کچھ گھنٹوں پہلے ہوا۔”

وہ آنکھ ونک کیے بولا تھا جب کہ اسکی بات کی گہرائی کو سمجھتے وہ نظریں چرا گئی۔

“جاناں ! تم میری ہو تمہیں حاصل کیا اپنایا ہے اس بات کا فاتح شرجیل کو بالکل افسوس نہیں بلکہ مجھے غرور ہے خود پر اور پیار ہے تم سے۔”

“مسٹر فاتح شرجیل زور زبردستی کی بنیاد پر رشتے نہیں بنائے جاتے بلکہ بگاڑے جاتے ہیں کیونکہ جو زور زبردستی بنائے جائیں وہ رشتے نہیں رشتے نہیں سرسری تعلقات ہوتے ہیں”۔

فاتح پشمینہ کی بات سن کر بس مسکرا دیا تھا اس کے چہرے پر سکون تھا صرف سکون وہ لمحے میں جھکا تھا اسے ماتھے پر وہاں اپنے لب پوری عقیدت سے ضبط کیے تھے پھر محبت سے اسکا گال سہلاتا باہر کی جانب چل دیا۔