Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 32

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj

ابھی کچھ دیر پہلے ہی شہیر پنچایت سے ہو کر آیا تھا جہاں پر پھر ایک معصوم کلی کو ونی جیسی گھناؤنی رسم کی بھینٹ چڑھانے کا سوچا جا رہا تھا لیکن یہ خبر جیسے ہی سحر کے کانوں تک پہنچی تھی وہ تب سے تھوڑا گھبرائی ہوئی تھی۔ وہ شہیر کو مناتے ہوئے اس کی سفارش کر رہی تھی کہ بچی کو ونی ہونے سے بچا لیا جائے۔

“شہیر اس بچی کو ونی ہونے سے بچا لیں۔

و۔۔وہ تو اتنی معصوم سی ہے کیسے برداشت کر پائے گی اتنے ستم؟

ش۔۔شہیر آپ نے وعدہ کیا تھا نا مجھ سے کہ کبھی کسی کو ونی نہیں ہونے دیں گے بلکہ یہ رسم ہی ختم کر دیں گے تو پھر آج کیوں وہ لوگ ونی کا مطالبہ کر رہے تھے ؟”

شہیر کا سر ان تمام تر کاروائیوں کی وجہ سے پہلے ہی شدید درد کر رہا تھا لیکن پھر اپنی متاع حیات کا خوف و حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ اپنا درد بھول سحر کے درد کو سمیٹتے اسے حوصلہ دینے لگا۔

“پیاری بیوی ! بالکل پر سکون ہو جائیں ، مجھے اپنا دیا گیا وعدہ بہت اچھے سے یاد ہے میں اسی چیز کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔

یہ بات آپ بھی جانتی ہیں کہ میں شروع سے ہی ان تمام چیزوں سے نفرت کرتا آیا ہوں مجھے یہ غیر اخلاقی رسمیں ، جو انسانیت سے گری ہوئی معلوم ہوتی ہیں خلاف ہوں ان سب کے۔ اسلئے اب آپ آرام کریں کیونکہ اس کا فیصلہ سب کے سامنے ہونا تھا کہ ، بچی ونی کی جاتی ہے یا پھر مقتول کا سر قلم اور یہ فیصلہ ہم دونوں مل کر پنچایت میں کریں گے اور مجھے امید ہے سب بہتر ہو گا۔

اب آپ آرام کریں۔”

محبت اور پیار بھرے لہجے میں اسے سمجھایا تھا کہ سحر کسی ٹرانس کی سی کیفیت میں شہیر کی باتوں میں کھوتی چلی گئی۔

اس کے من کو شہیر کے الفاظ سن کر اسے راحت سی پہنچی تھی۔

کچھ ہی دیر میں نیند کی وادیوں نے اسے اپنے پنچوں میں جکڑ لیا اور وہ ہر چیز سے بے پرواہ سی ہوتی سو چکی تھی جب کہ شہیر اپنی آنکھوں میں محبت کا ایک انوکھا جہاں سمیٹے اس دلربا کو دیکھ رہا تھا جس کو اپنا بنانے کی کتنی ہی دعائیں وہ کیا کرتا تھا۔

°°°°°°

صبح تقریباً سات بجے کے قریب پشمینہ کی آنکھ کھلی تو معمول سے ہٹ کر کچھ تبدیل پایا آس پاس نظریں دوڑائیں تو نہ ہی فاتح کو پایا تھا اور نا ہی نعمان کو۔ واشروم کی جانب دیکھا جس کی لائٹس بند تھیں۔اب کے پریشانی لاحق ہوئی تھی اسے کہ وہ بے چینی کے سے عالم میں کھڑی ہوتی بنا پاؤں میں چپل پہنے باہر کی جانب چل دی تھی لیکن اچانک ہی اس کے قدم تھمے تھے جب سامنے والے کمرے سے فاتح کے گانا گنگنانے کی آوازیں اس کے کانوں سے ٹکرائیں۔

“ٹھنڈے ٹھنڈے پانی سے ببلو نہائے گا

ٹھنڈے ٹھنڈے پانی سے ببلو نہائے گا “

وہ حیرانی کے عالم میں کمرے کے اندر داخل ہوئی تھی جہاں سامنے ہی فاتح گھر کے عام ٹروزار اور بنیان زیب تن کیے کاندھے پر تولیہ ٹنگائے کسی دیسی باپوں کی طرح نعمان کو چھوٹے سے ٹپ میں بیٹھائے گانا گنگناتے ہوئے نہلا رہا تھا۔ جب کہ نعمان ہاتھ پاؤں چلاتے اسے تنگ کرنے میں اپنا حصہ ڈال رہا تھا لیکن نعمان نے اچانک ہی تیز آواز میں رونا شروع کیا تھا جیسے ہی فاتح نے پانی سے بھرا مگ اس کے سر پر انڈیلا تھا پشمینہ لمحوں میں دوڑتی ہوئی وہاں پہنچی تھی کیونکہ اب فاتح سے اس کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔

جو کہ اس کے چہرے پر موجود تاثرات سے نمایاں ہو رہا تھا۔

“افف ! فاتح ایسے کون نہلاتا ہے دو ماہ کے بچے کو ؟”

اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھے وہ افسوس کرتے بولی ساتھ ہی فاتح کو وہاں سے اٹھنے کا اشارہ کیا تھا جو کہ اب بھی اپنے دونوں سے نعمان کو تھامے پنجوں کے بل بیٹھا تھا۔

“ارے مسسز ! اچھا ہوا تم آگئیں یہ دیکھو کب سے رو رہا ہے۔

لگتا اس کو میرا نہلانا پسند نہیں آ رہا۔”

فاتح منہ بنائے بولا ساتھ ہی نعمان کو پشمینہ کے ہاتھوں میں تھمایا جو کہ اب بھی رونے میں مصروف تھا۔

“جب اتنے ہی ظالمانہ طریقے سے نہلائیں گے بچے کو ، تو وہ روئے گا ہی نا۔”

عجلت میں کہتی وہ نعمان کو ٹپ میں واپس بیٹھا چکی تھی ساتھ ہی مگ میں پانی بھر دائیں جانب رکھا جس میں سے ہلکا ہلکا پانی ہاتھ میں لیتی نعمان پر ڈال رہی تھی۔

“یہ بات یاد رکھیے گا ، کہ کبھی بھی بچے پر فوراً سے مگ بھر پانی نہیں ڈالتے ورنہ وہ گھبرا جاتے اور اپنا سانس اوپر لے جاتے ہیں۔

اسلئے آرام آرام سے پانی لے کر انہیں نہلایا جاتا ہے۔”

نعمان کو نہلانے کے ساتھ ساتھ وہ فاتح سے باتیں کرتے ہوئے اسے گائیڈ کر رہی تھی جب کہ وہ سائیڈ پر کھڑا محویت سے اس کے ہر ایک عمل کو دیکھ رہا تھا اس کے چہرے پر ایک مسرور سی مسکان نے احاطہ کیا تھا۔

°°°°°°

اس وقت بھری پنچائیت میں ، شہیر چوہدری تمام جلال سمیت اس جگہ پر بیٹھا تھا جہاں کبھی چوہدری وقاص ہوا کرتے تھے۔

جب کہ چوہدری وقاص و چوہدری وقار سامنے لگائی گئی چارپائیوں پر براجمان تھے شہیر کے فیصلے کو سننے کے لئے کہ ناجانے وہ کیا فیصلہ کرتا ہے اس مسلئے کو لے کر کیوں کہ جہاں تک انہیں لگ رہا تھا وہ اس کیس کے خلاف ہی جائے گا اور ان قریب ان کا یہ شک یقین میں بدلنے والا تھا۔

شہیر چوہدری کے ساتھ آج اس کی بیوی بھی موجود تھی۔

آج کسی کی ہمت نہ ہوئی تھی کہ سحر کے وہاں موجود ہونے پر اعتراض ظاہر کر سکے۔

“سردار ، آپ بتائیں پھر کیا فیصلہ ہے آپ کا ؟”

وہاں موجود ایک بزرگ کی آواز گونجی تھی جو کہ شہیر سے سوال گو تھے موجودہ مسئلے پر۔

“فیصلہ تو یہ ہے کہ ہم کسی کو ونی نہیں ہونے دیں گے بلکہ جس نے قتل کیا ہے اسے تمام ثبوتوں کے ساتھ پوری پوری سزا دلوائیں گے۔”

شہیر چوہدری کی اس بات سے پنچائیت میں ایک ہلچل سی مچ گئی تھی مقتول کے گھر والے سخت بھرم ہوئے تھے کہ یہ کیسا اصول ہے۔

“اے ! شہیر چوہدری یہ نا انصافی نہیں چلے گی، خود تو اپنے بھائی کے نام کی ونی لے لی تھی اور جب ہماری باری آئی ہے تو تم لوگوں کا انداز ہی بدل گیا۔ہمیں نہیں پتہ ہمیں ونی چاہیے۔۔”

مقتول کا بھائی تمام لحاظ بلائے طاق رکھے چیختے ہوئے شور مچائے بولا تھا کہ شہیر چوہدری نے نخوت ذدہ تاثرات سجائے اس کی جانب دیکھا۔

“یہ کوئی کھیل نہیں جس میں باریاں ، دیکھی جائیں۔

یہ حقیقی زندگی ہے ، اس لئے بہتر ہو گا کہ تم پنچائیت کے اس فیصلے کی پاسداری کرو باقی تمہیں ، تمہارے بھائی کے خون کا بدلہ اس کے مجرم کو سلاکھوں کے پیچھے دیکھ مل جائے گا۔”

“مگر ہماری یہ روایت برسوں سے چلتی آرہی ہے کسی میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ اسے بدل سکے۔”

مقتول کے والد نے بھی اپنا حصہ ڈالا تھا کہ شہیر نے ان کی آنکھوں میں اپنی گہری آنکھیں گاڑئیں ” میں شہیر چوہدری ہوں کبھی ہمت نہیں ہاری جو کہتا ہوں وہ کر کے دکھاتا ہوں چونکہ اب میں کہہ چکا ہوں کہ یہ بچی کیا ، یہاں گاؤں کی کوئی لڑکی ونی نہیں ہو گی تو مطلب نہیں ہو گی بہتر ہے آپ سب یہ بات ذہن نشین کر لیں۔”

“چوہدری شہیر دیکھنا میں ونی لے کر دیکھاؤں گا ویسے بھی میں نے کوئی جائیداد نہیں مانگی صرف ایک بچی ہی ونی میں مانگی ہے اور اس میں کچھ غلط نہیں۔۔۔”

مقتول کا بھائی بھرم لہجے میں بولا تھا۔

“کیا عورت پیدا ہی قربانی دینے کو ہوئی ہے ؟

کیا اس کی ذات ، اس کا وجود اتنا ہی بے مول ہے کہ وہ اپنے باپ ، بھائیوں کے خون کی بھینٹ چڑھائی جائے؟

بتائیے ؟؟

کیا اللہ نے اسی لئے پیدا کیا ہے عورت ذات کو کہ وہ آپ کے گناہوں کا کفارہ ادا کرے ؟”

بھری پنچائیت کے سامنے وہ غم و غصے میں چلائی تھی۔

سحر کے دماغ کی رگیں پھٹنے کے قریب تر تھیں جب وہاں ونی ، چاہیے کا شور اٹھنے لگا تھا۔وہ غصے سے سیخ پا ہوتی تیش کے عالم میں چلائی تھی کہ اچانک ہی سکوت سا چھا گیا۔

ایک نظر شہیر نے بھی اپنی سحر کو دیکھا جو کہ اس وقت کوئی جھانسی کی رانی معلوم ہو رہی تھی۔

لیکن اگر اس چیز کا حقیقی پہلو دیکھا جائے تو وہ بالکل ٹھیک تھی اپنی جگہ وہ محسوس کر سکتی تھی ہر اس درد کو جو کہ ونی پر گزرتی ہے۔ بھلا وہ کیسے کسی معصوم بچی کو جو کہ مستقبل کا معمار ہے اسے ونی ہونے دے سکتی تھی۔

“سردارنی صاحبہ معذرت ، لیکن ہمیں ونی کرنی ہے ۔

کیونکہ ہم زبان دے چکے ہیں۔ یہ روایت ہے ہماری اس سے نا آج تک کوئی بچا ہے اور نہ آئندہ کوئی بچ سکے گا۔

وہاں موجود ایک شخص اکڑو بیٹھے بولے تھے کہ ان کی بات سن سحر کے لبوں پر طنزیہ مسکان در آئی۔

” مطلب جو کہ بے وقوفی برسوں سے چلی آرہی ہے اسے مزید قائم رکھنا چاہتے ہیں آپ بقول اپنی زبان کے ، کہ آپ وعدہ کر چکے ہیں تو بہتر ہے آپ اپنی زات کو ونی کر دیں”

اور یہاں سانپ سونگھا تھا سب کو سحر کے اس دو ٹوک جواب پر جب کہ وہ شخص اپنی بے عزتی پر لب بھینچ گیا۔

“بی بی صاحبہ ، میں نے کوئی گناہ نہیں کیا جو می۔۔۔۔

گناہ ہی کر رہے ہیں آپ سب ، ایک بے گناہ کو اس جہنم میں ڈال “

ایسی رسموں کی پاسداری کر کیوں خود بھی گناہ گار ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی کرتے ہیں۔”

اس شخص کی بات بیچ میں کاٹتے وہ اپنی بات کہہ گئی تھی۔

اسے شدید غصہ آرہا تھا ان لوگوں پر جن کے دل پھتر کے تھے۔

ان میں بالکل احساس نام کی چیز نہ تھی۔

“بس آج جو فیصلہ ہونا تھا ہو گیا امید ہے کسی کو میری بات اور فیصلے سے کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔اب آپ بھی جا سکتے ہیں۔”

اپنے مخصوص لب و لہجے میں کہتا چوہدری شہیر ہاتھوں میں تھامے گلاسس چہرے پر پہنتے ہوئے بولا اور سحر کا ہاتھ تھام وہاں سے نکلتا چلا گیا۔