Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 3

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj

” احمر..

وہ لڑکی تمہارے کمرے میں کیا کر رہی تھی”…؟؟

نورے بیگم غصے سے برہم ہوتی بولی تھیں…

انہیں سحر کا احمر کے کمرے رہنا سخت نا گوار گزر رہا تھا…

“ماں…

آپ کا بیٹا ہوں… ‘ پھر بھی نہیں سمجھیں میری سائکی کو…

بڑی ماں کی خواہش ہے..

سحر میری بیوی کی حیثیت سے میرے پاس رہے”….

“تیری بڑی ماں کا تو دماغ ہی جل گیا ہے”….

وہ سکینہ کو سوچتے نخوت سے بولی تھیں…

“بڑی ماں کی یہ خواہش میں نے پوری تو کر لی ہے مگر دیکھنے کی حد تک…

کیونکہ بیوی کی حیثیت تو کبھی مر کر بھی نہ دوں..

اپنے بھائی کے قاتل خاندان کی لڑکی کو…

میں اپنے بھائی کا خون نہ بھلاؤں گا…

جو اذیت جو تکلیف دور رہ کر نہیں دے سکتا وہ …

اسے اپنے سامنے پا کر دوں گا…

زندگی انجیرن کر دوں گا…

اسی دنیا میں دوزخ نصیب ہو گی اسے”..

اپنی موچھوں کو تاؤ دیتے ازلی غرور و تیش میں کہا تھا..

اس بات سے انجان وقت بدلتے لمحے لگتے ہیں…

جو جہنم وہ اسکو نصیب کرنا چا رہا ہے ، ہو سکتا ہے وہ پلٹا کھائے اور … وہ خود ہی اس سازش کی زد میں آ جائے..

نورے بیگم نے اپنے بیٹے کی عقل کو داد دی تھی “

جیسے واقعی کوئی اس نے مہان سوچ بتائی ہو…

“جا شاباش میرا پت”….

انہوں نے تھپکی دی تھی اس کی کمر پر..

“چل اب اس لڑکی کو میرے پاس بھیج ..

بہت پیر درد کر رہے ہیں…

“تھوڑا دبا لوں اس سے”…..

انہوں نے بے چاری شکل بنا کر احمر سے کہا تھا…

“جی میں ابھی بھیجتا ہوں”…

وہ سر اثبات میں ہلائے ..

جا چکا تھا….

©©©

“شہیر..

جلدی سے تیار ہو ..

ہمیں کشمیر جانا ہے”…

ایک ہاتھ سے بال بناتے جبکہ دوسرے سے فون کان پہ لگائے …

مصروف سے انداذ میں شہیر سے کہا.

“کیا…؟؟؟

کشمیر…

مگر ابھی کچھ دن پہلے ہی تو وہاں سے آئے تھے”….

“ہاں ‘ پہلے گھومنے گئے تھے ، مگر اب کسی کام سے جا رہے ہیں”…

سامنے لگے فل سائز مرر میں اپنا جائزہ لیا تھا فاتح نے….

“کیسا کام…

میرا رشتہ دیکھنے جانا ہے…

بلکہ یوں کہہ لو …لڑکی کے باپ کو منانے جانا ہے….

کچھ دیر میں پہنچ رہا ہوں…

جلدی تیار ہو جاؤ”.

کہتے بنا اس کی سنے وہ..

فون کال کاٹ چکا تھا….

جبکہ شہیر اپنا سر تھامے بیٹھ گیا..

یہ فاتح شرجیل.. اس کی سمجھ سے باہر تھا..

کچھ ہی دیر میں فاتح اس کے گھر میں موجود تھا ..

پھر دونوں وہاں سے اپنی منزل کی جانب ہو لیے…

®®®™

کھلا لاؤنچ..

لاونچ کے وسط میں رکھا چکور کانچ کا ٹیبل….

اس کانچ کے ٹیبل کے گرد رکھے فوم کے صوفے…

جن پر بیٹھے تھے منصور صاحب اور ان کے سامنے بیٹھے تھے “فاتح اور شہیر…

“بیٹا…

“اس سب تکلف کی وجہ جان سکتا ہوں”…

ٹیبل پر رکھے مٹھائی کے ڈبے…

ڈرائے فوٹ وغیرہ کو دیکھے کہا تھا انہوں نے…

“کیونکہ جہاں تک مجھے یاد ہے ہم ایک دوسرے کو نہیں جانتے”…

“جی بالکل .

انکل آپ نے ٹھیک پہچانا ہے …

“آج سے پہلے ہم انجان تھے ایک دوسرے کے لئے ، مگر اب نہیں ،…

کیونکہ یہاں جس مقصد سے میں آیا ہوں…

وہ ہمیں ایک رشتے داری میں باندھنے والا ہے”…

“کیا مطلب”..؟؟

منصور صاحب ؛ نا سمجھی سے بولے..

“میں آپ کی بیٹی سے شادی کرنے کا خواہشمند ہوں..

اس کو اپنی زندگی میں بطورِ شریکِ حیات شامل کرنا چاہتا ہوں”..

فاتح کی بات پر منصور صاحب نے بہت باریک بینی سے اس کا جائزہ لیا تھا..

بلیک کوٹ پینٹ میں ، بال نفاست سے جیل سے سیٹ کیے گئے تھے،،

آنکھوں میں پہنے وہ مخصوص پروفیشنل گلاسس .

جو اسکی وجاہت کو مزید نکھارتے تھے،،۔۔

اسکا حلیہ کسی اچھے خاندان سے ہونے کا پتہ دیتا تھا….

“بیٹا اگر میں عرض کروں تو..

میری دو بیٹیاں ہیں..

آپ کس بیٹی کا رشتہ لینے آئے ہیں..

زرہ روشنی ڈالیے”….

وہ مہذب انداز میں بولے تھے…

دوسری بیٹی کا تو نہیں معلوم ، مگر میں پشمینہ کے لئے آیا ہوں…

اپنے کوٹ کو ٹھیک کیے ان سے مخاطب ہوا…

“منصور صاحب نے کچھ سوچ اثبات میں سر ہلایا تھا..

©©©

” پشمینہ…

تمہارا رشتہ آیا ہے”…!!!

پشمینہ کے ہاتھ سے کتاب چھین کر بیڈ پر رکھی تھی ۔۔۔

خوشی سے چہکتے ہوئے ، اسے کھڑا کیا تھا..

جبکہ وہ , شاکڈ سی مشل کو دیکھ رہی تھی..

“یہ کیا کہہ کر رہی ہو..؟؟

پاگل تو نہیں ہو گئی”…

وہ منہ بسورے بولی تھی اور کتاب کو واپس اٹھائے پڑھنے لگی تھی…

“نہیں پیاری بہن..

میں سچ کہہ رہی ہوں…

اگر یقین نہیں آتا تو خود دیکھ لو “…

اس کو اٹھاتے ہوئے کھڑی کے پاس لائی وہ ..

جہاں سے لانچ کا منظر صاف نظر آ رہا تھا…

“میں نے شادی ن۔۔نہیں کرنی”…

آنکھوں میں آنسوں بہنا شروع گئے تھے پشمینہ کے….

“پر ہم تو کروائیں گے تمہاری شادی…

سوچو کتنا مزہ آئے گا..

جب تم یہاں سے چلی جاو گی…

میں سکون سے سو کر اٹھوں گی..

اکیلے اس گھر اور کمرے میں راج کروں گی”……

پشمینہ کو روتے دیکھ وہ مزید چڑانے لگی تھی..

“جاو بدتمیز ! میں تم سے اب بات بھی نہیں کروں گی …

پتہ نہیں کیسی جڑواں بہن ہو میری ، جسے زرا بھی خیال نہیں ہے میرا۔۔۔”

ہاتھ میں موجود کتاب ہی اٹھا کر مارنے لگی تھی اسے..

©©©

احمر کمرے میں آیا تھا ..

تو سحر اسکو کمرے کی صفائی کرتی دیکھائی دی…

“سنو لڑکی…

جاؤ ماں کے کمرے میں ان کے پاؤں دباؤ”….

بیڈ پر بیٹھتے وہ ٹھوس لہجے میں بولا تھا..

اپنی سوجن زدہ آنکھوں سے سحر نے اسکی جانب دیکھا تھا…

“ایسے کیا دیکھ رہی ہو..؟؟؟

سنا نہیں تم نے”…

“ج۔۔جی !!!”

وہ جھاڑو اور پونچا ایک طرف رکھتی نورے کے کمرے میں جا چکی تھی”….

جبکہ پھیلے ہوئے کمرے کو نخوت سے دیکھا تھا ، احمر نے اور خود بھی حویلی سے چلا گیا۔۔۔

©©©

“انکل کیا میں آپ کا جواب ہاں سمجھو”..؟؟؟

منصور صاحب کو خاموش دیکھ ,فاتح نے پوچھا تھا…

انکل کوئی جلدی نہیں ہے ، آپ آرام سے سوچ سکتے ہیں…

منصور صاحب کی بے چینی کو جانچتے ، شہیر نے کہا تھا ….

“بیٹا میں آپ کو کل تک جواب دیتا ہوں۔۔۔

بیٹی کا باپ ہوں …

اتنا بڑا فیصلہ جذباتی ہو کر نہیں کر سکتا”…

“یہ نمبر ہے ، اپنا جواب آپ کل تک بتا دیجیے گا…

ہم انتظار کریں گے”…

فاتح نے اپنا کارڈ نکال ان کی جانب بڑھایا تھا جسے وہ تھام چکے تھے…

“انکل آپ سے مثبت جواب کا خواہشمند ہوں…

یقین رکھیے گا…

کبھی کوئی دکھ آپ کی بیٹی کا مقدر نہیں بننے دوں گا”….

یہ آخری بات تھی جو ان سے مصافحہ کرتے ہوئے فاتح نے کہی تھی…

©©©

“لڑکی ہاتھوں میں زور نہیں ہے کیا…؟؟؟؟

تھوڑا زور سے دباؤ”…

نورے بیگم ! نخوت سے بولی تھیں…

ان کی بات سن سحر نے ایک نظر اپنے زخم زدہ ہاتھ پر ڈالی تھی.

جس سے کوئی بھی کام کرنا ناممکن تھا ،

اسلئے پیچھلے ایک گھنٹے سے وہ ایک ہی ہاتھ کا استعمال کرتے ان کے پیر کی مالش کر رہی تھی..

اب تو وہ ہاتھ بھی دھکنے لگا تھا..

لیکن؛

انہیں رحم نہیں آ رہا تھا اس پر،،،

بس وہ کسی بھی طرح اس کو تکلیف دینا چاہتی تھیں…

وہ اپنی سوچوں میں محو ان کو دبا بھی رہی تھی ..

کہ بے خیالی میں ہاتھ لگنے سے پاس پڑی تیل کی کٹوری زمین بوس ہوئی ..

زیتون کا تیل پورا پھیل چکا تھا اس ٹائلوں کے بنے فرش پر…

“بے غیرت لڑکی۔۔۔۔۔

کلموہی یہ کیا کیا ہے”؟؟؟

وہ غصے میں بپھرتی اس کو تھپڑ رسید کر گئی تھیں….

“کام چور لڑکی …

سارے فرش کا ستیاناس کر دیا ہے”….

حقارت سے اس کے وجود کو دیکھتی وہ مسلسل اس پر برس رہی تھیں۔۔۔

“چل جلدی یہ فرش صاف کر …

اور چائے بنا کر لا میرے لئے….

سر میں درد بڑھا کر رکھ دیا ہے…

بدذات نہ ہو تو”….

اس کو مار مار کر ، تھک کر بیڈ پر بیٹھ گئی تھیں وہ ، لیکن منہ سے آگ برسانے سے باز نہ آئی تھیں….

وہ آنسوں کو پیتی ، فرش صاف کرنے لگی …

پھر باورچی خانے میں ہو لی تھی چائے بنانے کے لئے …

وہاں باورچی خانے میں آ کر اس کے صبر کا دامن ٹوٹا تھا…

کب سے روکے گئے آنسوں بہہ نکلے تھے..

جنہیں وہ بے دردی سے رگڑ گئی تھی…

زندگی یوں جینا پڑے گی ۔۔

بن کے آنسوں دل پہ گرے گی ۔۔۔

“سحر….سحر”..!!!!

سحر کو غصے سے پکارتے ہوئے احمر کچن میں داخل ہوا تھا۔۔۔

“کیا کہہ کر گیا تھا”…؟؟؟

اسکے ہاتھ میں موجود پتی کے ڈبے کو چھین غصے سے ٹائل پر پٹچا تھا…

اور اسکو کھینچنے کے سے انداز میں کمرے میں لایا تھا…

“کیا ہے یہ سب”…؟؟؟

پھیلے ہوئے کمرے کی جانب بھنونے اچکائے اشارہ کیا تھا…

“میں نے کہا بھی تھا ‘ پندرہ منٹ میں مجھے یہ کمرا صاف کمرا صاف چاہیے ہے..؟؟؟

اور تم نے ابھی تک کمرا صاف نہیں کیا…؟؟

پورا کمرا پھیلا ہوا ہے”….

گند سے سخت نفرت ہے مجھے”….

اس کو خاموش دیکھ وہ دبے دبے لہجے میں غرایا تھا..

“صرف دس منٹ ہیں تمہارے پاس ، پورا کمرا چمکتا ہوا ملے مجھے”…

سہارا دل کا بنا جو

وہ دل کو توڑے چلا ہے

غصے سے کہے وہ اپنے کپڑے لئے فریش ہونے چلا گیا جبکہ پیچھے اپنی ذلت بھری زندگی پر خون کے گھونٹ بھرتی کام کرنے لگی تھی…

درد کی ہے انتہاہ ہے لیکن

مجھے بھی خدا پہ یقین ہے

کہ دیر اندھیر نہیں ہے

احمر تولیے سے اپنے بالوں کو خشک کرتا باہر نکلا ،،

“اسکی نظر سحر پر گئی تھی جو کہ ابھی بھی ایک ہاتھ سے کام کر رہی تھی ۔۔

احمر نے سر جھٹکا تھا اسے دیکھ…اور موبائل کی بجتی گھنٹی کی جانب متوجہ ہوا جہاں عروہ کا نام جگمگا رہا تھا..

“ہیلو ! عروہ ڈارلنگ کیسی ہو”…؟؟

فون لئے وہ ٹیرس پر آ گیا تھا….

“میں ٹھیک ہوں …تم بتاؤ..؟؟

گاؤں میں ہی مصروف ہو گئے ہو…!!!

شہر کب آو گے….؟؟؟؟”

دوسری جانب عروہ بے چینی سے بولی تھی…

“فکر نہ کرو عرو ..

ابھی حاضر ہی ہونے والا تھا..

کہ آپ محترمہ کی کال آ گئی”….

وہ اس کی بے چینی محسوس کیے ہنسا تھا….

“اوکے جلدی پہنچو ….”میں ویٹ پر رہی ہوں”…

“جی ڈارلنگ ۔۔۔۔ آپ تیار ہو کر بیٹھیں ہم ابھی پہنچتے ہیں”..

ہنستے ہوئے کہتا وہ فون رکھ چکا تھا..

فون کٹ ہونے کے ساتھ اسکی وہ مسکراہٹ بھی سمٹی تھی ..!!!

جب سحر پر نظریں گئی تھیں جو ماربل کے فرش پر پونچا لگا رہی تھی ،،، زخمی ہاتھ پر پانی لگنے کے باعث جلن مزید بڑھ گئی تھی ،،،

کام کے دوران خروچ لگنے کے باعث زخم میں سے ہلکا ہلکا خون رسنا شروع ہو گیا تھا….

جسے وہ نظر انداز کر رہی تھی ، بس خاموش آنسوں بنائے ضبط کی دیوی بنی ہوئی تھی….

“سحر…

تمہیں صفائی کرنے کا کہا تھا…

گند کرنے کا نہیں”…؟؟؟

خون کی ننی بوندوں کو فرش پر گرتا دیکھ وہ نخوت سے بولا تھا….

“جاؤ ، جا کر پہلے اپنا یہ گندا ہاتھ صاف کرو…

ورنہ ایسے ہی کرتی رہی تو میری چیزیں خراب ہو جائیں گی”….

سنگدلی سے کہتا وہ بے رحمی کے تمام درجوں کو پیچھے چھوڑ گیا تھا….

“ایسا کیا کھڑی کھڑی شکل دیکھ رہی ہو…

جاؤ یہاں سے ورنہ یہ ہاتھ ہی کاٹ ڈالوں گا”…..

سفاکیت سے کہتا سامنے کھڑی لڑکی کو دکھوں میں مبتلا کر گیا تھا وہ جس کی زندگی میں شائد ہی کوئی خوشی باقی ہو….

سحر نے اس سفاک دل شخص کو دیکھا جو سینے میں شائد دل نہیں پتھر رکھتا تھا…..

اس کو کمرے کی صفائی دیکھ رہی تھی ….

“اسکا جلا ہوا ، زخموں سے بھرا خون جھلکتا ہاتھ نہیں…

جو کہ اسی بے رحم کی بدولت نصیب ہوا تھا اسے……

“ادھر کہاں جا رہی ہو”….

واشروم کی جانب بڑتی سحر کی چٹیا پکڑ کر گھومایا تھا…

جس کے باعث اس کے قدم ڈگمگائے تھے….

“نیچے جا کر اسٹور کا واشروم یوز کرو ….

“ورنہ میرے صاف ستھرے واش بیسن کا ہی ستیاناس مار دوں گی”…..

باہر دروازے کی سمت دھکا دیا تھا اسے ۔۔۔

وہ اپنے قدم سنبھال چکی تھی ورنہ دھکیلے جانے پر اس کا ماتھا دروازے کے کونے سے ٹکرا سکتا تھا…

جاتے جاتے وہ اس نیچ انسان کو دیکھنا نہ بھولی تھی ..

جو ایک ایک کر کے بے رحمی کی تمام حدوں کو پار کر رہا تھا…..

©©©

دل کو تری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہے

اور تجھ سے بچھڑ جانے کا ڈر بھی نہیں جاتا

ان خوبصورت وادیوں کے بیچ سے ان کی گاڑی گزر رہی تھی …

جہاں آسمان میں موجود پرندے خوشی سے اس وادی ، سر سبز نہروں کے پاس چہچہارہے تھے…

اپنی زبان میں وہ اس قادر مالک کی تعریف کر رہے تھے….

جس نے ان خوبصورت مناظر کو ، اس خوبصورت کائنات کو تخلیق کیا ہے”..

“فاتح

گاڑی روک “..

ان آبشاروں کے پاس آکر گاڑی رکوائی تھی….

“کیا ہوا”…

فاتح نے جھٹکے سے بریک لگائی تھی…

شہیر بنا اس کی بات کا جواب دیے بھاگتے ہوئے جا رہا تھا….

جبکہ اس کو یوں بھاگتا دیکھا ، فاتح بھی اسکے پیچھے گیا تھا..

“حور”۔۔۔

شہیر ہانپتا ہوا اس لڑکی تک پہنچا تھا..!!!

جو اپنے گرد ڈوپٹہ پھیلائے اس بہتے پانی کو محسوس کر رہی تھی..

اپنے پیچھے کسی مرد کی آواز محسوس کیے وہ پلٹی تھی …..

اور نا سمجھی سے شہیر اور فاتح کو دیکھا تھا اس لڑکی نے…

جبکہ حور کی جگہ کسی اور لڑکی کو دیکھ ، اپنے قدم پیچھے کی جانب لینا شروع ہوا تھا …

اور وہیں ، پانی میں بیٹھتا اپنا سر تھام گیا ..!!!

وہ آبشار کا بہتا صاف و شفاف پانی اس کے وجود کو پوری طرح بھیگو گیا تھا”….

حال ِ دل ہوا ایسا درد کی لہر جیسا

جس کا نہ علاج کوئی درد یہ زہر جیسا

“ح۔۔۔حور کب ملو گی تم “…..؟؟؟؟

اپنے سر کو تھامے نوچنے لگا تھا….

اس لڑکی کی ایک جھلک نے کس طرح اس شخص کو اپنا دیوانہ بنا لیا تھا،

وہ مضبوط توانہ شخص بکھر کر رہ گیا تھا…….

©©©

“اے لڑکی..

ادھر آؤ”……

راہداری میں سے گزرتی سحر نورے بیگم کی آواز پر پلٹی تھی….

“چائے کا کہا تھا نا تجھے…

پھر یوں کہاں مٹکتی پھر رہی ہے”….

“و۔۔۔وہ م۔۔۔میں……”

چٹاخ…..

“کلموہی … ایک نمبر کی کام چور ہے ….

کوئی بھی کام ڈھنگ سے کرنا آتا ہے یا نہیں…

پیر دبانے کا کہا وہ ٹھیک سے دبانا نہیں آتا …

بلکہ کمرے میں پورا تیل ہی انڈیل آئی کہ کہیں دوبارا نہ دبانا پڑے”….

“ن۔۔نہیں”…..

“خاموش…..،اس کے جبڑوں کو اپنی گرفت میں لیا تھا….

سحر کو ان کے ناخن اپنے چہرے پر دھنستے محسوس ہوئے..

آنکھوں میں مزید پانی جھلملانے لگا تھا…..

” چائے کا کہا تو نواب زادی کچن میں پتی کا ڈبہ ضائع کیے خود غائب ہو گئیں…

تمہارے باپ کا مال نہیں ہے یہاں ….

جس کو یوں ضائع کر رہی ہو….

میرے بیٹے کے کمرے میں رہنے کیا لگ گئیں خود کو مالکن سمجھنے لگی ہو”…؟؟؟

اسکے چہرے پر مزید گرفت مضبوط بنائی تھی کہ اس کی آنکھوں سے آنسوں لڑیوں کی صورت میں بہنے لگے تھے…

“یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا چاہے تو اس کے کمرے میں رہ لے لیکن زندگی تیری تب بھی نوکروں سے بدترین ہی ہو گی”….

“م۔۔۔معاف۔۔۔ک۔۔کر دیں۔۔۔۔”

خود کر ضبط کیے وہ اٹکتے ہوئے بولی تھی….

“نا۔نا۔۔ ونی صاحبہ اگر ایسے ہی ہم معاف کرنے لگے تو ، لوگ تو ہمیں لوٹ ہی لیں گے…..

نورے کی نظروں میں پہلی غلطی آخری غلطی ہوتی ہے ،۔ کیونکہ نورے ایسی سزا دیتی ہے کہ بندا دوبارہ غلطی کرنے غلطی ہی نہیں کرتا”…..

شاطر ہنسی ہنستے اسے پیچھے اسٹور میں لائی تھیں اور دھکیلا تھا اسکے وجود کو اس اسٹور روم میں جہاں اس حویلی کا پرانا اور رسیدہ سامان پڑا تھا…..

روشنی کے نام پر یہاں صرف ایک بہت پرانا دیا روشن تھا ..

جس کی روشنی بھی نا ہونے کے برابر تھی…

“اب خالی پیٹ یہاں سڑے گی تو تیری عقل ٹھکانے آئے گی”…..

“ن۔۔۔نہیں۔۔۔۔م۔۔مجھے ی۔۔یہاں بند نہ کریں ، یہاں اندھیرا ہے پلیز م۔۔مجھے ڈر لگتا ہے اندھیرے سے”….

باہر جاتے نورے کے قدموں کو تھام لیا تھا….

“م۔۔میں اب کوئی غلطی نہیں کروں گی۔۔۔”

وہ روتی بلکتی ان سے اپیل کر رہی تھی کہ اندھیرے میں بند نہ کریں…

اس کمرے کے منظر کو ہی دیکھ اسے خوف محسوس ہورہا تھا….

جبکہ نورے بے رحمی سے اس کے وجود کو جھٹکتی جا چکی تھیں…

آہہہ۔۔۔!!!!

اس بند کمرے میں اس کی درد سے بھری چیخ گونجی تھی…

وہ گھٹنوں میں سر دیے آنسوں بہانے لگی تھی.؛!!

تیری دنیا میرے ربا کیوں مجھے ہی راس نہیں

دل ٹوٹا کوئی جوڑے رہی کوئی آس نہیں

زخم پہلے مٹے نہ آ کے اور دیتے ہیں

مانو جن کو سہارا وہی چھوڑ دیتے ہیں۔۔

©©©

“ہیپی برتھ ڈے عروہ ڈارلنگ”…..

پورے ریسورٹ میں اس کی آواز گونجی تھی….

عروہ اور احمر نے جیسے ہی کینڈلز بوجھائی تھیں…

اوپر لگے غبارے میں سے بہت سی گلیٹر ان دونوں کے اوپر گری تھی….

عروہ نے چاکلیٹ کیک کا پیس احمر کو کھلایا تھا….

احمر نے بھی عروہ کو کیک کھلانے کے ساتھ ایک خوبصورت سی نفیس رنگ اس کے ہاتھوں کی زینت بنائی تھی…

عروہ کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا تھا….

“ڈارلنگ ، ایسے کیا دیکھ رہی ہو…

ابھی تو ایک اور سرپرائز باقی ہے”…

کمر سے تھامے اسکو اپنے قریب کیے گال پر جھک پیار کیا تھا…

“کیسا سرپرائز”….؟؟؟

اپنے کھلے بالوں کو کان کے پیچھے اڑستے بولی تھی….

اسکی ایکسائٹمنٹ کو نوٹ کیے ، باہر لایا تھا جہاں ریڈ کلر کی ایک خوبصورت گاڑی کھڑی تھی….

“یہ تحفہ میری جان کو میری جان کی طرف سے”….

گاڑی کی چابی اسکے ہاتھوں میں تھمائی تھی احمر نے…..

جبکہ گاڑی کو دیکھ وہ معصوم بچوں کی مانند خوش ہوئی تھی…

.

“تھینک یو سو مچ ….احمر۔۔۔۔”

خوشی میں احمر کے گلے کا ہار بنی تھی وہ…

“آج ہم تمہاری اس گاڑی میں گھومنے جائیں گے ، ۔۔۔بتاؤ کہاں جانا چاہو گی”….؟؟؟

گاڑی کو اسٹارٹ کیے وہ عروہ کو محبت سے دیکھتے بولا تھا…

“آج میں تمہارا گاؤں گھومنا چاہوں گی…

اس حویلی کو دیکھنا چاہتی ہوں جہاں ہم اپنا آشیانہ بسائیں گے..

تمہاری فیملی ، تمہارے پیرنٹس سے ملنا چاہتی ہوں”….

وہ اپنے خیالوں میں مگن بولتی تو جا رہی تھی لیکن احمر کے تاثرات کا جائزہ نہ لے سکی …

جس کے ماتھے پر شکن نمایاں ہونا شروع ہو گئی تھیں….

“ہم گاؤں نہیں جاہیں گے….

میرا مطلب ، کہ ابھی نہیں جائیں گے پھر کبھی میں تمہیں لے جاؤں گا..

“آج کا دن میں صرف تمہارے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں”….

اپنے غصے کو بمشکل قابو کیے اس کے بالوں کی لٹ کو اپنے ہاتھوں میں لپیٹا تھا….

“احمر”۔۔۔

“نو عروہ”…

“ڈونٹ ڈیبیٹ”..

“س۔۔سحر آپی “….

“حویلی کے کھلے باغیچے میں کھڑی وہ پودوں کو پائپ کے ذریعے پانی دے رہی تھی ساتھ ہی اپنی کسی گہری سوچ میں مگن تھی “…

“لیکن اپنے عقب سے آتی شناسا سی آواز پر وہ تڑپ کر مڑی تھی “..

“جہاں زیشان کا چھوٹا بھائی ” ارمان ” کھڑا اسکی جانب ہی دیکھ رہا تھا”…

“ایک تڑپ سی اسکی آواز میں موجود تھی”…..

“ا۔۔ارمان”…

“میرے بھائی”…

“وہ تڑپ کر کہتی پائپ وہیں پھینکے دوڑ کر گلے لگی تھی اسکے”..

“مجھے معاف کر دیں آپی۔۔۔۔”!!!

“یہ سب میری وجہ سے”….

“اسکی حالت دیکھ وہ ندامت کے مارے کچھ بول بھی نہیں پا رہا تھا”…

“لی۔۔لیکن ،”اب میں آ گیا ہوں نا ان شاءاللہ آپ کو اس عذاب سے ضرور نکالوں گا”….

“وہ اٹل لہجے میں کہتا خاموش ہوا تھا ساتھ ہی “احمر ” کو چیخ کر پکارنے لگا تھا”….

“ن۔۔نہیں”.. ارمان انہیں مت پکارو ، ۔۔

“وہ۔۔وہ مار دیں گے تمہیں،”..

“م۔۔میں جس حال میں ہوں رہنے دو م۔۔مگر چلے جاؤ یہاں سے”…

“آ۔۔آپی م۔۔میں آپ کو اس حال میں نہیں رہنے دوں گا”…!!!!!

“وہ تڑپ ہی تو گیا تھا ،”کیسے وہ اپنی آپی کو اس حالات مین دیکھ سکتا تھا جس نے بچپن سے لے کر آج تک اسے ایک ماں کی طرح پیار کیا ،”….

“وہ کیسے خود غرض بن سکتا تھا٫…

“تمہیں اللہ کا واسطہ ہے”…

“وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑے بولی تھی”….

“احمر جو کافی سے دور کھڑے ان دونوں بہن بھائی کے ڈرامے دیکھ کر رہا تھا”…

“غصے سے بھپرا آگے بڑھ ،کھینچ کر علیحدہ کیا تھا”…

“سحر جو اس آفات کے لئے تیار نہ تھی دور جا گری تھی “…

“جبکہ ارمان کے قدم ڈگمگائے تھے”…

“تیری ہمت کیسے ہوئی یہاں حویلی میں قدم رکھنے کی”…؟؟؟

“اسکے کالر دبوچے احمر غرا کر بولا تھا”…

“میں اپنی بہن کو لینے آیا ہوں”…

“ارمان “..اٹل لہجے میں بولا تھا”….

“ہاہاہاہا “…تم اپنی بہن کو لینے آئے ہو”…؟؟؟؟؟؟

“وہ بہن جو تمہاری جان بخشی کے عوض میرے نام ونی کی گئی ہے”…..

“حقارت بھری نظر “سحر ” کے وجود پر ڈالی تھی”….

“مجھ سے غلطی ہوئی میں مانتا ہوں ،” مگر میرے کیے کی سزا آپی کو مت دو،”…

“یہ پیسے پکڑو اور قصہ ختم “…..

“بیگ میں بھرے پیسے احمر کے قدموں میں پھینکے تھے٫”..

“ارمان کی اس حرکت پر شولا بار نظروں سے دیکھا تھا اسے”…

“پھر ایکدم ہی مسکراتا سائڈ پر ڈری سہمی کھڑی سحر کو چوٹیا سے تھام ارمان کے سامنے کھڑا کیا “….

“ہم چوہدریوں کا خون اتنا بے مول نہیں ،جس کی قیمت لگا دی جائے”….؟؟؟؟؟

“تو بہت پیار کرتا ہے نا ، اپنی اس بہن سے”…؟؟؟

“تو دیکھ ،” کیسے کیسے تڑپاؤں گا تیری اس بہن کو”…..

“تیرا کفارا یہ ادا کرے گی”….

“غرا کر ایک ایک لفظ کہا گیا تھا”…

“چوہدری چھوڑ دے آ۔۔آپی کو”….

“آنکھیں بھینچے کھڑی سحر کو دیکھ ،”ارمان نے احمر سے کہا تھا”…

آہہہہ ..”

“کیوں چھوڑ دوں ،” ۔۔۔؟؟؟؟

“کیوں چھوڑ دوں ،” ۔۔۔؟؟؟؟

“چھوڑنے کے لئے ونی کر لایا تھا میں”…؟؟؟؟

“کونے پر بنے پلر پر کھینچ کر سحر کا سر دے مارا تھا کہ وہ کرہا کر راہ گئی “…

“بول ،” چھوڑوں اسے”…؟؟؟

“ایک ، ” دو”…. لگاتار اس کا غصہ وہ سحر پر نکال رہا تھا”…

“ماتھے سے خون نکلنے لگا تھا ، “…

” دونوں بھائی بہن کی چیخیں گونج رہی تھیں حویلی سے”…

“ایک کی چیخیں بیچ میں معدوم ہو گئی تھیں”….

“وہ درد کو سہتی بے ہوش ہو گئی تھی”….

“تو چلا جا یہاں سے ،” ورنہ تیری بہن مر جائے گی آج “….

“احمر اس لمحہ کوئی پاگل معلوم ہو رہا تھا جس کے سر پر کوئی خون سوار ہو”…

“چ۔۔۔چوہدری “…چھوڑ دو آپی کو۔۔”م۔۔میں ج۔۔جارہا ہوں”…

“آنسوں کو صاف کیے وہ وہاں سے بھاگتے ہوئے گیا تھا”….

“اسکے جاتے ہی ،”احمر نے سحر کو جھٹکے سے چھوڑا تھا”…

“جس کا سر سے خون بہہ کر اس کے کپڑوں اور چہرے کو بھیگو رہا تھا”….

“دنیا کے رنگوں میں کھو کے جبھی پیچھے گناہ کے کوئی بھاگتا ہے،

ہر سو ویرانے اُس کے لئے ہو تو ڈور جب اے خدا کھینچتا ہے ،

“احمر”.. خود گہری سانسیں بھرنے لگا تھا”…

“اس سب کے نتیجے میں اسکا سانس بھی بری طرح پھول چکا تھا”…

“رشید”…..!!!

ملازم کو آواز دیے وہاں موجود جگہ صاف کرنے کا کہا تھا ،”.۔۔

“اور خود سحر کو نا چاہتے ہوئے بھی بازوں میں بھرے کمرے میں لایا تھا “…

“اس وقت پوری حویلی میں ان دونوں اور ملازمین کے علاوہ کوئی نہیں تھا “….

” سارے گھر والے پاس ہی کسی گاؤں میں کسی کام کے تحت گئے تھے”….

“اور واپسی پر کوئی اس سے اس بارے میں سوال کرے “…

“ایسا وہ نہیں چاہتا تھا”….

“اسکو صوفے پر لٹائے ملازمہ کو بلا کر اسکے سر کی پٹی کروائی تھی”….

“اور خود کپڑے تھامے واشروم میں فریش ہونے چل دیا “….

تیرے محتاج سارے مجھے سمجھ یہ آئی

اب تو میرے خدا عرض ہے”…..

©©©

“پشمینہ منصور آپ کا نکاح “شرجیل فاتح ” کے ساتھ “پچاس لاکھ حق مہر کے عوض طے پایا جاتا ہے ،”۔۔۔

“کیا آپ کو قبول ہے,”….؟؟؟؟؟؟

“قبول ہے”…..!!!!

“یہی لفظ تین بار دہرا کر وہ اپنے تمام تر حقوق کسی اجنبی کے نام کرچکی تھی جسے وہ جانتی تک نہ تھی”….

“ایک ڈر سا تھا ناجانے وہ شخص کیسا ہو گا”…؟؟؟

“جب یہ الفاظ ” باہر بیٹھے فاتح سے پوچھے گئے”…

“تو اس کو یہ الفاظ کا زخیرہ کسی ٹھنڈی پھوار کی کی مانند اپنے کانوں میں پڑتے محسوس ہوئے ،”…

“مطلب قسمت کس قدر مہربان تھی کتنی ہی جلدی اس کی پہلی نظر کی محبت سے ملا رہی تھی اسے “…

“وہ بھی ایک پکے محرم کے رشتے میں”….

“اس نے اللّٰہ کا شکرا ادا کرتے “قبول ہے”…کہتے نکاح کے کاغذات پر دستخط کیے تھے”….

“پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا”….

“ہر طرف مبارک ہو کا شور گونجا تھا”….

“شہیر نے بھی اپنے جگری یار کو گلے لگائے مبارک باد تھی”…

©©©

“مینہ “

“لاؤ تمہارا میک اپ ٹھیک کر دوں”….

“ن۔۔نہیں میں ایسے ہی ٹھیک ہوں”….

“پشمینہ منمناتے ہوئے بولی”…

“کیا پاگل ہو گئی ہو”…

“بیٹھو ادھر خاموشی سے”..

“ڈریسنگ کے سامنے زبردستی بیٹھایا تھا اسے”…

“مشل”…تم نے انہیں دیکھا ہے کیا”..؟؟؟

“مطلب ، وہ کیسے دیکھتے ہیں”..؟؟؟

“مشل کے چہرے کو دیکھ وہ بہت معصومیت سے بولی کہ بے ساختہ مشل کا قہقہ گونجا تھا”….

ہاہاہاہا”….

“میری دلہن بہنا”…بس آدھا گھنٹا صبر کر لو پھر رخصتی ہونے والی ہے”…

“گھر جا کر آرام سے دیکھ لے لینا”….

“آنکھ ونک کیے وہ شرارتاً بولی تھی ، ” کہ وہ شرما کر سر جھکا گئی”…

اوئے ہوئے”….

“ابھی تو رخصتی بھی نہیں ہوئی اور بھائی کے رنگ پہلے ہی جھلکنے لگے چہرے پر”…

ناٹ بیڈ”….

“اسکے جھکے سر کو دیکھ مزید تنگ کیا تھا”..

©©©

“مشل “…

“تمہاری بہن کی شادی ہے “…

“اسکے پاس ہونے کے بجائے تم یہاں بیٹھی کھانا کھا رہی ہو”…؟؟؟

“مشل کی دوست خضرا اس کو بریانی کھاتے دیکھ سر پیٹ گئی تھی”….

“جو لیڈیز کارنر پر مزے سے کھانا تناول فرما رہی تھی”..

“او ہو”…”ابھی مینا کا میک اپ کر کے آئی ہوں”…

“بھوک لگ رہی تھی تو سوچا کچھ کھا لوں”….

“کولڈرنک کا ٹھنڈا ٹھنڈا سپ خود میں انڈیلا تھا”…

“اف! “مشل انسان بن جاو “۔۔

“رخصتی کا وقت ہو گیا ہے اب لے آو مینا کو”…

“وہ اس کے ہاتھ سے پلیٹ سائڈ پر رکھ بولی تھی “…

“اچھا میری دادی ماں چلو”..

“مشل بھی اب تنگ آ کر کھڑی ہو چکی تھی اور کمرے کی جانب ہو لی “…

“تھوڑی ہی دیر میں وہ پشمینہ ” ان دونوں کے ہمراہ وہاں لائی گئی “..

“مینو”…”تو جا رہی ہے”…

“اب میں تنگ کس کو کروں گی”…؟؟؟

“معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کر بولی تھی”…

“کہ دونوں بہنے روتے روتے ہنس پڑی تھیں”…

تو بہت یاد آئے گی مینا”….

“مشل نے بھینچ کر اسے خود کے گلے لگایا تھا”…

“لیڈیز کارنر پر سب سے ملنے کے بعد منصور صاحب اس کو قرآن کے سائے تلے باہر لے کر گے تھے اور لے جا کر گاڑی میں بیٹھایا تھا”…

“جبکہ سائڈ پر کھڑی مشل کی آنکھوں میں اب آنسوں بہنا شروع ہو گئے تھے”…

“بے شک جو بھی تھا وہ اسے تنگ کرتی تھی”…

“تپاتی تھی “..

“لیکن پیار بھی حد سے زیادہ کرتی تھی”…

©©©

“نیم تاریک کمرے میں ہر طرف گلاب اور موتیے کے پھولوں کی مہک چھائی ہوئی تھی”۔۔۔

“پشمینہ دلہن کے لال عروسی جوڑے میں سجی اپنے شوہر کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ جو نجانے کہاں رہ گیا تھا۔۔۔شائد وہ بھول چکا تھا کہ کوئی بے تابی سے اس کا انتظار کر رہا ہے”۔۔۔

“اس کی دھڑکنوں نے تیز رفتار پکڑی تھی جیسے ہی کوئی روم میں داخل ہوا تھا ۔۔بھاری بوٹوں کی آواز اس کو اپنے کانوں میں پڑتی سنائی دی’۔۔۔۔

“مقابل نے اپنا کوٹ اتار کر سائد پر رکھا اور اس دلہن بنی لڑکی کے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔اور پشمینہ کا کانپتا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے ڈائمنڈ کی خوبصورت رنگ اس کے ہاتھوں کی زینت بنائی”۔۔

“تم میری پہلی نظر کی محبت، میری دیوانگی، میرا جنوں، میرا خمار ہو۔۔آنچ دیتے لہجے کے ساتھ کہتا اس کے ہاتھ کو اپنے لبوں سے لگایا تھا”۔۔۔

“جب کہ اس کو اپنی دھڑکنوں کا شور صاف سنائی دیے رہا تھا”۔۔۔۔

فاتح نے جیسے ہی اس کا گھونگھٹ اٹھایا تھا اس کے پیروں تلے زمین کھینچی تھی۔۔۔۔۔۔

۔۔۔پ۔۔۔پشم۔۔۔پشمینہ ک۔۔کہاں ہے؟؟؟؟

“پشمینہ کی جگہ کسی اور کو اپنی دلہن کے روپ میں دیکھے اس کا دم گھٹنے لگا تھا”۔۔۔

“وہ جو آنکھیں بند کیے تعریف کی منتظر تھی اس کے جانب سے عجیب سا ردِ عمل دیکھ حیرت میں آئی تھی”۔۔

ک۔۔کیا مطلب۔۔۔۔م۔۔میں ہی پشمینہ ہوں۔۔۔وہ آنکھوں میں حیرت سموئے مقابل کو جواب دیتے بولی جب کہ دل شدت سے کچھ غلط ہونے کا سندیشہ دے رہا تھا”۔۔۔

تم پشمینہ نہیں ہو سکتی۔۔۔اس کے دائیں گال پہ گہرا چاند کا نشان ہے۔۔۔۔وہ غصے میں کہتا بیڈ سے کھڑا ہو چکا تھا۔۔۔

جب کہ فاتح کی آخری بات پہ وہ جان چکی تھی کہ وہ کس کی بات کر رہا ہے۔۔۔۔۔

“وہ پشمینہ نہیں۔۔۔۔ میری ۔۔۔میری بہن مشل ہے”۔۔

وہ درد سے کہتی وہیں بیڈ پہ ڈھہ سی گئی تھی۔۔یہ بات اس کے لئے کتنی ازیت ناک تھی کہ اس کا شوہر اس کی جڑواں بہن سے محبت کرتا ہے۔۔۔آنسوں اس کی آنکھوں سے بہنے کو بے تاب تھے۔۔۔۔

“شادی کی پہلی رات ہی اس پر یہ اشکار کر دیا گیا کہ وہ غلط فہمی کی بنا اسکے رشتے میں لائی گئی”…

“دھوکہ دیا ہے سب نے مجھے “۔۔۔۔۔

دھوکہ۔۔۔!!!!!!!

“وہ چیختے ہوئے اپنا غصہ کمرے کی چیزوں پر اتار رہا تھا”۔۔۔۔

“کچھ ہی دیر میں وہ خوبصورت کمرا کسی اجڑے ہوئے کباڑ سے کم نہیں لگ رہا ہے۔”۔۔۔۔۔۔

“”جہاں کچھ لمحے میں پہلے پھول بھی خوشی سے مہک رہے تھے “…

وہاں اب کسی کے آنسوں اور ریزہ ریزہ ہوئے جذبات تھے”..

“جب کہ پشمینہ بیٹھی اپنی اجڑی قسمت پہ ماتم کناں تھی”۔۔۔۔

اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا

لیکن شہر کی خاموشی بھی دھیان میں رکھنا

میرے جھوٹ کو کھولو بھی اور تولو بھی تم

لیکن اپنے سچ کو بھی میزان میں رکھنا

کل تاریخ یقیناً خود کو دہرائے گی

آج کے اک اک منظر کو پہچان میں رکھنا

©©©

“پیار کی راہوں پہ انجانے میں ہی میرے یہ ناداں قدم چل پڑے تھے

لمحوں میں اجڑے گی میری دنیا ،لمحے بچارے کہاں جانتے تھے”…

“وہ سنسان سڑک پر چلتا اس وقت اپنی اسی دلہے کی شیروانی میں موجود تھا”….

“قسمت نے بھی کیسا مزاق کیا تھا اسکے ساتھ “…

“پیار ایک بہن سے اور نکاح ایک بہن سے”…

“وہ سوچتا تلخ سا ہنسا تھا”…

“شائد اسکی قسمت ہی ایسی تھی ہر موڑ پر اس سے کھیل جاتی تھی”…

“اب تو اسے اپنی یہ زندگی بھی مزاق لگنے لگی تھی”….

“بزم میں یاروں کی شمشیر لہو میں تر ہے

رزم میں لیکن تلوار کو میان میں رکھنا

آج تو اے دل ترک تعلق پر تم خوش ہو

کل کے پچھتاوے کو بھی امکان میں رکھنا

اس دریا سے آگے ایک سمندر بھی ہے

اور وہ بے ساحل ہے یہ بھی دھیان میں رکھنا

اس موسم میں گل دانوں کی رسم کہاں ہے

لوگو اب پھولوں کو آتش دان میں رکھنا”

“فاتح چلتے چلتے ایک پارک میں آ رکا تھا “….

“وہاں کی خاموشی ، “

“وہ تنہائی “…

“وہ ویرانی”….

“سب اپنی زندگی کا حصہ معلوم ہو رہی تھی”….

“وہ پوری رات جو اسے اپنی بیوی کے پاس گزارنی چاہیے تھی “…

“اس ویران پارک میں جاگ کر گزاری تھی”…..

“جبکہ دوسری جانب سجی سنوری “پشمینہ”….

“اپنے ساتھ ہوئے اتنے بڑے مزاق کو سوچ کر ہی شاک تھی”….

“کتنی خوبصورت لگ رہی ہو”…

“ایسا لگ رہا ہے اپسرا ہے کوئی”…

“دیکھا بھائی نے تو فلیٹ ہی ہو جانا ہے”….

“مشل کے الفاظوں کو سوچتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی”…

“کیا یہ سلوک ہوتا ہے پہلی رات دلہن کے ساتھ”…

یا”…

“شائد وہ کوئی انوکھی دلہن تھی جس کو پہلی ہی رات رونمائی کے تحفے میں “دھوکہ ” اور “نفرت” ملے تھے”…..

“وہ ان بکھرے پھولوں اور ٹوٹے کانچ پر سے چلتی ہوئی ڈریسنگ کے سامنے آ کھڑی ہوئی”…

“اور خود پر ایک نظر ڈالی تھی وہ کافی حسین لگ رہی تھی ” اس لال عروسہ جوڑے پر زیوارات پہنے کتنی دلنشین معلوم ہو رہی تھی”…

“کہ کوئی بھی دل ہار بیٹھتا اس پری وش پر”….