Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 15

Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj

“ا۔۔احمر..

آخر کب تک ، کب تک میں برداشت کروں …؟؟

میں تھک گئی ہوں اس سب سے پلیز یا تو آج مجھے موت دے دیں یا پھر رہائی ۔ میں مزید خود کو اس آگ میں نہیں جلانا چاہتی ۔”

تھکے ہوئے انداز میں کہتی اپنا سر اسکے کاندھے پر ٹکا دیا تھا اس نے جبکہ سحر کی اس حرکت سے چوہدری احمر وہیں منجمد سا ہو گیا ۔

قربت بھی نہیں دل سے اتر بھی نہیں جاتا

وہ شخص کوئی فیصلہ کر بھی نہیں جاتا

وہ اس ستمگر کے کاندھے پر جھکی رو رہی تھی پھر نا جانے اسے کیا سوجھی کے یکدم ہی دور ہوئی تھی اس سے اور پاس رکھا جگ اٹھا کر زمین پر پختہ جو ٹکڑوں کی صورت میں بھکرتا چلا گیا ، اس بکھرے کانچ کا ایک ٹکرا اٹھائے اپنے ہاتھوں پر رکھا جبکہ احمر خاموش تماشائی بنا اس کی ہر ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا ۔

“چ۔۔چوہدری احمر آج یا تو مجھے بخش دو یا پھر م۔۔میں اپنی جان دے دوں گی کیونکہ م۔۔مجھ میں اب بالکل سکت نہیں کہ ان اذیتوں کو سہہ سکوں۔مجھے گھٹن ہوتی ہے تمہاری وحشت ،جنونیت سے ، وحشت سی ہوتی ہے مجھے آپ کے ساتھ یہ حویلی مجھے پھندہ لگتی ہے۔

خدا کا واسطہ مجھے اس دربدری کی زندگی سے راحت بخش دو ۔”

وہ آنسوں بہاتی اپنی کلائی پر کانچ کا دباؤ بڑھاتے ہوئے بول رہی تھی لیکن لمحوں میں ہی وہ کانچ اسکے ہاتھوں سے دور جا گرا وہ بھی لڑکھڑاتی ہوئی وہ بھی بیڈ پر گری ۔

” جاہل عورت پاگل ہو گئی ہو تم” ۔۔ ؟؟

اس کے بالوں کو اپنی آہنی گرفت میں لیا تھا چوہدری احمر نے۔

“نس کاٹنے جا رہی تھی ، تمہیں کچھ ہو جاتا تو “…؟؟؟

وہ بے اختیار یہ لفظ ادا کر بیٹھا تھا ، وہ خود شاکڈ ہو گیا اپنے اس ردعمل پر ۔

اپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں کو سنبھا لوں کیسے

خود کو دنیا کی نگاہوں سے چھپا لوں کیسے

“میں کچھ نہیں جانتی احمر چوہدری بس مجھے اب رہائی دے دیں یہ دیکھ لیں میرے جڑے ہاتھوں کو۔ آپ نے اذیت دینے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی یہاں تک کہ میری نفرت میں اپنی ہی اولاد کا قتل کر ڈالا۔

میں جب جب آپ کو دیکھتی ہوں نفرت سی ہوتی ہے مجھے خود سے بھی اور آپ سے بھی۔ “

وہ ہچکی بھرتے بھیگی پلکیں اور لرزتے ہونٹوں سمیت چوہدری احمر کو دیکھتے بولی اور وہ بےساختہ ہی اس دشمن کے سینے سے لگے پھوٹ پھوٹ کے رونے جو کہ ان تمام تکلیفوں اور اذیتوں کا زمہ دار تھا۔

“آئے ہیٹ یو احمر چوہدری مجھے نفرت ہے آپ سے میں جل رہی ہوں نفرت کی آگ میں۔ بخش دیں مجھے ورنہ جل کر بھسم ہو جائیں گے آپ بھی اسی آگ میں۔

مج۔۔مجھے رہائی دے دیں اس سب سے “

اس کے گلابی لب صرف ایک ہی مالا جپنے میں مصروف تھے اور وہ دشمنِ جاں اپنے اس انداز سے احمر چوہدری کا دل دھڑکا رہی تھی ۔

وہ سحر کو خاموش کروانا چاہتا تھا اسے تسلی دینا چاہتا تھا مگر اسکی انا آڑے آئی تھی ماتھے پر بلوں کا جال سجا تھا۔ بہت ہی مشکل سے اپنی دلی کیفیت کو سنبھالتا کھڑا ہوا اور بنا اسکی جانب دیکھے باہر کی جانب بڑھا جبکہ وہ پیچھے بیٹھی صرف سسکتی رہی ۔ پورے کمرے میں صرف و صرف اسکی گھٹی گھٹی سسکیاں ہی گونج رہی تھیں۔

©©©

ہاتھ میں پزل گیم کو آرام ، آرام سے گھوماتے ہوئے وہ کسی گہری سوچ میں محو تھا اسکی گہری نشیلی آنکھیں چھوٹی ہو چکی تھیں جو کہ اس بات کی نشانی تھی کہ وہ بہت ہی خاص پہلو کو سوچ رہا ہے۔

“کیسے ، کیسے بچاؤں تمہیں اس سب عذاب سے پری .؟؟

میں ایسا کیا کروں ، جس سے تم رہائی پا جاؤ “..؟

یہ تمام سوچیں اسکو اپنی زد میں لئے ہوئے تھیں۔

پریشانی کی شدت سے وہ ماتھا مسلنے لگا ، سوچنے کے باعث اس کے ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں نمایاں ہو رہی تھیں۔

کئی مہینوں پہلے کا سحر کا ہنستا مسکراتا چہرا اسکی نظروں کے سامنے گزرا تھا لیکن جیسے ہی اسکی موجودہ حالت شہیر کے ذہن میں آئی اسے نفرت سی ہونے لگی اس حویلی سے۔

©©©

فاتح اور پشمینہ کو گھر آئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا لیکن ان کے درمیان زیادہ بات نہ ہو پاتی کیونکہ صبح سویرے اٹھ وہ واپس چلے جایا کرتا اور رات دیر سے واپس آتا ، کام کے دباؤ کے باعث پشمینہ کو وقت دے پانا نا ممکن سا لگ رہا تھا ورنہ اس نے سوچا تھا کہ اسے کہیں باہر آوٹنگ پر لے جائے تاکہ دونوں کے مائنڈ کچھ ریلیکس سے ہو جائیں۔ اپنی اسی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کی نیت سے آج آفس کا کام جلدی نپٹا کر وہ گھر آیا تو وہ اپسرا اسے ہمیشہ کی طرح سوچوں میں گم ہی ملی۔

البتہ سامنے ٹی وی شو چل رہا تھا لیکن اس کا دھیان ٹی-وی کی جانب نہ تھا ۔ وہ خیالوں میں کھوئی اسے کوئی حسن کی مورتی ہی معلوم ہوئی جسے کسی مصور نے حقیقت کی شکل دے دی ہو ۔ وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے بہت ہی معویت سے اسکا معائینہ کر رہا تھا پھر دھیمے قدموں سے چلتا اس تک آیا۔

“کیا بات ہے کن خیالوں میں کھوئی ہے یہ سنگِ مرمر کی مورت “..؟

فاتح نے بہت ہی آہستگی سے سرگوشی نما آواز میں کہا تھا کہ وہ صوفے سے اچھل کر کھڑی ہوئی ۔

“استغفار فاتح ! آپ نے مجھے ڈرا ہی دیا “۔

سینے پر ہاتھ رکھے وہ گہرے گہرے سانس لیتی اپنی بے بحال ہوتی دھڑکنوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرنے لگی۔

“او تو میری مسسز ڈرتی بھی ہیں ۔۔”..؟؟

وہیں صوفے پر ڈھہتے ہوئے وہ نظریں ترچھی کیے بولا جس پر وہ صرف خاموش ہی رہی ۔

”تم اتنی خاموش، خاموش کیوں رہتی ہو “..؟؟

“کچھ نہیں ، بس ایسے ہی زیادہ بولنے کی عادت نہیں ۔”

بہت ہی سرسری سا اسکا جواب دیا گیا۔

“اووو ! آئے سی “۔ بھنونے اچکائے وہ “اوو کو کافی لمبا کھینچتے بولا۔

©©©

“اسرار جتنی بھی اچھی فصلیں ہیں ان میں سے آدھی حویلی کے گودام میں پہنچا دو باقی باہر کے ملک بھیجوانی ہے کافی اچھے دام مل رہے ہیں “

چوہدری وقاص چارپائی پر اکڑو بیٹھے تھے ان پروانہ ایک سائڈ کاندھے پر ڈالا گیا تھا جبکہ پاؤں میں مقید پشاوری چپل کو وہ مسلسل جھلا رہے تھے۔

اسرار چوہدری وقاص کا خاص ملازم تھا فصلوں کا تمام تر حساب کتاب وہی کیا کرتا سال میں کتنا نفع ہوا ، کیا کتنا نقصان ان سب کی خبر وہ ان تک پہنچاتا۔

“سردار مگر گاؤں والوں کا کیا ہو گا “..؟؟

اور اگر اس حیرا پھیری کی خبر چھوٹے صاحب جی کو ہوئی تو وہ ہمیں قتل ہی کر دیں گے۔

“اوئے تو فکر ہی نہ کر آج تک جب کسی کو خبر نہ ہو سکی تو اب خاک ہو گی”

اپنی بات کے آخر میں چوہدری وقاص کا جاندار قہقہ گونجا تھا۔

©©©

“مسٹر احمر کہاں مصروف تھے اتنے دن کہ اپنی من چاہی بیوی کو ہی بھول بیٹھے “۔

آنکھیں ترچھی جبکہ ، لبوں کو انوکھے انداز سے جنبش دئیے وہ ایک ادا سے بولی تھی کہ احمر کی نظریں اس کے پر رونق چہرے پر چھا سی گئی تھیں ۔وہ اس کی آنکھوں میں موجود آئی عجیب سے چمک کو نہ دیکھ سکا۔

“کہیں نہیں جان بس بتایا تھا نا کہ گاؤں میں کچھ کام ہے “

عمارہ کے نازک وجود کو کھینچ اپنی بانہوں میں بیٹھایا تھا ۔

“سچی ..؟؟

مجھ سے بھی ذیادہ ضروری تھا وہ کام .؟؟؟”

اب کے عمارہ کے لہجے میں صاف طنز تھا جسے احمر نے بھی نوٹ کر لیا تھا۔

“کیا مطلب جان “..

خود کو نارمل کیے وہ ہنسنے کی ناکام کوشش کیے بولا ، دماغ سحر کے رویے کی وجہ سے پہلے الجھا ہوا تھا اوپر سے عمارہ کی پہیلیاں اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔

“مطلب صاف ہے ، مسٹر احمر چوہدری جب گاؤں میں خوبصورت بیوی رکھی ہو تو کس کا دل چاہے گا شہر آنے کو “

وہ دانت کچکچائے ، آنکھوں میں امڈ انے والے آنسوں کو پرے دھکیلے بولی جب کہ یہاں اس کے جملوں نے احمر چوہدری کے چودہ طبق روشن کئے تھے۔

“عمارہ ۔۔۔؟؟؟”

وہ بے یقینی کی سی کیفیت میں گویا ہوا ۔

“مت پکاریں مجھے ! کیا سمجھا تھا کہ مجھے کبھی پتہ نہیں چلے گا آپ کی شادی کا ؟؟”

نہ چاہتے ہوئے بھی آنسوں اسکی آنکھوں سے بہہ نکلے تھے جب کہ اس کی آنکھوں میں آنسوں دیکھ احمر تڑپ اٹھا۔

“شادی کی ہے آپ نے ..؟؟

رائیٹ .؟؟

پھر تو آپ اس کے پاس بھی گئے ہونگے”..؟؟

احمر کے وجود کو حقارت بھری نظروں سے دیکھا تھا عمارہ نے ،،

وہ اٹھ چکی تھی وہاں سے جب کہ احمر وہ خالی جگہ دیکھتا رہ گیا ۔

اس نے عمارہ کے ہاتھوں کو تھامنا چاہا تھا لیکن وہ جھٹکے سے چھڑا چکی تھی کراہیت کا احساس کیے۔

“مسٹر احمر چوہدری ہمیشہ یاد رکھیئے گا دوہری کشتی کے مسافر کبھی کامیاب نہیں ہوا کرتے اسلئے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیجئے گا کہ آپ کو کس کے ساتھ رہنا ہے۔۔

اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو اس لڑکی کو طلاق دے دیں ورنہ مجھے اپنے نام ، اپنے احساس ، اپنے جذبات سے بری کریں۔”

آنکھوں کو بند کئے وہ روانی سے بولی تھی جبکہ عمارہ کی بات سن احمر کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا اسے لگا اس نے کچھ غلط سنا ہے۔

“عمارہ یہ کیا بول رہی ہو ..

تمہارا اور اس لڑکی کا کوئی مقابلہ نہیں۔

وہ ونی میں لائی گئی ہے جبکہ تم تو اس دل کی ملکہ ہو ۔”

“سیریسلی احمر ونی ..؟؟

کون سے زمانے میں جی رہے ہو ؟؟

اور کیا کہا تم نے .. اس کا اور میرا مقابلہ نہیں ۔۔

واقعی”..؟؟؟

اس کی گردن پر موجود خروش کی جانب وہ اشارے کیے بولی جبکہ وہ غصے میں لب بھینچ گیا تھا۔

“عم۔۔۔”

” چلو جاؤ احمر میں تب تک تمہیں اپنا چہرا نہیں دیکھاؤں گی جب تک تم اس لڑکی کو طلاق نہیں دیے دیتے۔”

رخ موڑے ہی بیگانگی سے کہا تھا عمارہ نے جب کہ غصے سے مٹھیاں بھینچے جا چکا تھا لیکن جاتے جاتے ٹیبل کو ٹھوکر مارنا نہ بھولا۔

عمارہ نے شدید کرب و نفرت کے عالم میں اس کی پشت کو دیکھا تھا۔

©©©

ایک لینڈ کروزر گاڑی اپنی شان کے ساتھ شہیر کے مہنگے ترین ریسورنٹ کے سامنے رکی تھی۔ گاڑی کے رکتے ہی اندر بیٹھی لڑکی نے حیران کن نظروں سے ریسٹورنٹ کی جانب دیکھا جو کہ بہت ہی خوبصورت طرز پر بنایا گیا تھا۔

“چلیں ” فاتح نے پشمینہ کا ہاتھ محبت سے اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے کہا اور اندر کی جانب بڑھائے وہ دونوں ہی مکمل لگ رہے تھے ۔آس پاس کے لوگ رشک بھری نظروں سے دونوں کی جوڑی کو دیکھ سراہا رہے تھے ۔پشمینہ سب کی نظروں کو محسوس کرتی کنفیوژ سی ہوئی تھی اس کی چال کی لڑکھڑاہٹ پر فاتح نے اسکو کمر سے تھام اپنے ساتھ لگایا جس وہ مزید سبکی محسوس کرنے لگی۔

“فا۔۔فاتح چھوڑیں سب دیکھ رہیں۔ “

وہ نظریں جھکائے بولی۔

“بیگم اگر میں نے چھوڑا نا تو تم گر جاؤ گی “

شرارت سے وہ اس کے کان کے پاس جھک کر بولا تھا اور کارنر پر موجود ایک ٹیبل پر لا بیٹھایا تھا اسے۔

“کیا ہوا خاموش کیوں ہو گئی بیگم”..؟؟

فاتح نے اسے محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی کھانا آرڈر کیا تھا جس میں پشمینہ کی پسندیدہ ڈش “فرائڈ رائس ” بھی تھے ۔

“فاتح ہم باہر ہیں ، کچھ خیال کر لیں “

آس پاس کے لوگوں کی نظریں خود پر محسوس کیے اس نے احتجاج کیا ۔

“چھوڑو جان ! تم ریلیکس ہو کر کھانا کھاؤ “

چمچ سے نوالہ بنا کر اس کے سامنے کئے تھا جسے لب کچلتے کھا گئی.

“فاتح ایک سوال پوچھوں “..؟؟؟

اس کے وجیہہ چہرے پر نظریں جمائے کہا تھا اس نے۔

“کہو جو کہنا ہے تمہیں اجازت لینے کی ضرورت نہیں”

اپنی وجاہت کے ساتھ مسکرایا تھا وہ۔

“کیا آپ سچ میں مجھ سے محبت کرتے ہیں.؟؟”

وہ اس کی گھائل کر دینے والی آنکھوں میں مسلسل دیکھ رہی تھی اس کو انتظار تھا اس کے جواب کا ۔ وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ کیا کہتا ہے۔

“کیوں کوئی شک “..؟؟

وہ آئیبرو اچکائے پوری طرح سے اسکی جانب متوجہ ہوا تھا۔

“ہمم شک ہی تو ہے “

دھیمی آواز میں منمنائی تھی۔

“پشمینہ پلیز ! میں آج کے دن کو خوبصورت بنانا چاہتا ہوں پلیز اس قسم کے سوالات نہ کرو اگر چاہتی ہو کہ میں تمہارے ساتھ وقت نہ بتاؤں تو مجھے ایسے ہی بتا دو ہم واپس چلے جاتے ہیں مگر پلیز میرا موڈ اوف مت کرو ورنہ انجانے میں ہی صحیح اس کا خمیازہ تمہیں ہی بھگتنا پڑے گا۔”

سنجیدگی سے کہتا وہ آخر میں شوخ ہوا۔

جب کہ اس کی سرد مہری اور شوخ پن کو محسوس کیے وہ بھی خاموش ہو گئی۔

©©©

وہ خوبصورت گاؤں جو رات کی سیاہی میں ڈوبا ہوا تھا۔

اس گاؤں میں موجود وہ حویلی جس کی چھت پر ہلکے بلب کی روشنی موجود تھی جو اس رقبے کو ذیادہ نہ صحیح تھوڑا بہت ہی روشن کر رہی تھی باقی کی روشنی آسمان میں موجود اس خالق ِ حقیقی کا شہکار وہ مہتاب ہی کا عکس تھا۔

رات کے اس پہر نورے بیگم کے حکم کے مطابق وہ چھت پر کھڑی کپڑے اتار رہی تھی کہ پاس بنے اسٹور سے کوئی وجود بہت ہی محتاط قدموں سے آیا اور سحر کو بنا کچھ سمجھنے کا موقع دیے دیوار سے پن کیا۔

آہہہ ک۔۔و”… اس اچانک ہوئی آفت پر وہ پوری جی جان سے گھبرا گئی تھی اس سے پہلے کے وہ چیختی مقابل نے اس کے لبوں پر اپنا مضبوط ہاتھ رکھا۔

“خاموش! چلانا مت ۔۔۔”

مقابل شیر کی آواز میں دھاڑا تھا۔ سحر کے قدم لرزے تھے ۔

“اتنا ڈرتی کیوں ہو۔ عورت ہو تم اپنا مقام کیوں نہیں سمجھتی۔”

“ک۔۔کون ہو تم …؟؟

خدا کا واسطہ پیچھے ہو جاؤ اگر کسی نے دیکھ لیا تو قیامت آ جائے گی۔”

مقابل کھڑے شخص کی بات کو نظر انداز کیا تھا۔

اس کے سامنے وہ ہاتھ جوڑے منتیں کر رہی تھی جب کہ مقابل کھڑا شخص جس کا چہرا ماسک اور بلیک کیپ سے کوور تھا وہ افسوس کرتا رہ گیا اس لڑکی کی حالت پر لیکن اچانک ہی اس شخص کی نظر نیچے کی جانب گئی تھی جہاں احمر چوہدری رنج و غصے کی زیادتی سے اوپر ہی دیکھ رہا تھا۔سحر کی نظروں نے جب اس نقاب پوش کے تعاقب میں دیکھا تو وہ جیسے سانس لینا بھول گئی۔

©©©

“کہاں گیا تمہارا وہ عاشق “.؟؟؟

احمر شیر کی مانند دھاڑتے ہوئے اوپر آیا جہاں سحر اب بھی سن سی کیفیت میں دیوار کے ساتھ ہی لگی کھڑی تھی اسکی سمجھ سے باہر تھا وہ شخص تو جا چکا تھا لیکن سحر کے لئے مصیبت کھڑی کر گیا۔سحر کی خاموشی احمر کے غصے کو مزید ہوا دینے کا باعث بنی وہ اسے بری طرح کھینچتے ہوئے نیچے لایا تھا۔ جب کہ سحر اب اپنی صفائی کے لئے کچھ کہہ بھی نہیں رہی تھی وہ خاموش تھی احمر چیختا جا رہا تھا تمام حویلی والے جمع ہو گئے تھے ملازمین ، نوکر ، گھر کے اراکین سب ہی تماشا دیکھ رہے تھے لیکن وہ ناجانے کیا کیا کہہ رہا تھا وہ اس کی ذات ، اسکے کردار کو مگر اس نے کان نہیں دھرے لیکن جیسے ہی ان کانوں سے اس ستمگر کے وہ جملے سنائی دی وہ اپنی جگہ ساکت ہوئی بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔

مطلب ؛ اتنی جلدی رہائی ۔۔۔

وہ تو اپنے آپ کو عمر بھر کی قیدی سمجھ بیٹھی تھی۔

“میں احمر وقاص اپنے پورے ہوش و حواس میں سحر اسلم کو طلاق دیتا ہو ۔”

“احمر “

چوہدری وقاص کی گرجدار آواز گونجی تھی لیکن شائد آج ان کی دھاڑ بھی اس پر اثر نہ کر پائی ۔

“طلاق دیتا ہوں “

“طلاق دیتا ہوں “

اس کے ان آخری جملوں کے ساتھ ہی وہاں ہال میں ایک سناٹا سا چھا گیا لیکن اچانک ہی سب چونک گئے جب اس ہو کے عالم زدہ ماحول میں سحر کا قہقہہ گونجا ۔

“م۔۔میں آزاد ہو گ۔۔گئی ، میں آزاد ہو گئی ۔ اب میں چلی جاؤں گی “

وہ ہنس رہی تھی پاگلوں کی مانند ساتھ چہرے پر آنسوں کا ریلا پھسلتا ہوا اس کے چہرے کو بھگو رہا تھا ۔

وہ باہر کی جانب دوڑ رہی تھی بال اسکے کمر پر بکھرے ہوئے تھے جبکہ ڈوپٹہ ہاتھوں میں موجود تھا وہ بے ترتیب سے حلیے میں ہی باہر کی جانب بھاگی لیکن بیچ راستے میں ہی نورے بیگم نے اسے اچک لیا۔

“کہاں جا رہی ہے..؟؟

تو احمر کے نکاح سے آزاد ہوئی ہے ، اس حویلی سے نہیں ۔

چل اندر واپس۔”

وہ کھینچتے ہوئے اسے اندر لا رہی تھیں جبکہ وہ مسلسل مزاحمت کرتی خود کو چھڑوانے کی تگ و دو کر رہی تھی۔زبان پر بس ایک ہی جملا تھا ۔

“میں آزاد ہو گئی مجھے جانے دو خدا کا واسطہ ہے “

وہ درد و تکلیف کے عالم میں بول رہی تھی لیکن انہیں کوئی پرواہ نہ تھی ۔

©©©

ایک کہاوت تھی ” بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ “۔

ویسے اگر دیکھا جائے تو یہ کہاوت آپ پر خوب ججتی ہے بھابھی سائیں ۔

میمونہ بیگم سینے پر دونوں ہاتھ باندھے سامنے کھڑی نورے بیگم سے مخاطب ہوئی ان کے لہجے میں طنز و غصہ صاحب پر واضح تھا۔

٫”کیا مطلب ہوا بھلا تمہاری اس بات کا “..؟؟

“آپ اس کہاوت کو بھرپور طریقے سے نبھا رہی ہیں ۔”

“کہنا کیا چاہتی ہو “..؟؟

اب کے وہ چلائی تھیں۔

“بھابھی سائیں میں یہ کہنا یہ چاہتی ہوں کہ بیٹا میری بہن کا کوچ کر گیا ہے مگر تکلیف کا اظہار آپ کر رہی ہیں جبکہ حقیقتاً آپ کے رویے اور چہرے سے یہ زرہ بھی نہیں لگ رہا ہے اس بات کا آپ کو غم یا افسوس ہے اسلئے اپنے فضول کے دکھاوے دیکھانا بند کریں اور اس بچی پر اپنا زور نہ چلائیں۔ اگر اس کا خاندان گنہگار ہے بھی تو وہ باجی اور بھائی سائیں کا ہے آپ محترمہ کا نہیں۔ اسلئے بہتر ہو گا آپ کی ذات کے لئے کہ دور رہیں۔”

نورے بیگم کو بنا کچھ کہنے کا موقع دیا میمونہ بیگم کہتی وہاں سے تن فن کرتی چل دیں۔جب کہ وہ پیچھے سورج کی مانند کھولتی رہ گئی۔