Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj NovelR50487 Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 2
Rate this Novel
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 2
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj
سحر کی آنکھ صبح درد کے احساس سے کھلی تھی۔۔
“آہہ۔۔”
اس نے جیسے ہی کروٹ بدلنی چاہی تھی جسم میں چیونٹیاں سی دوڑ گئی۔۔۔
روشن دان سے باہر کا منظر دیکھا جہاں صبح کی روشنی پھیلنے کے قریب تھی لیکن اس کی زندگی کی روشنی کہیں گم ہو گئی تھی ان اندھیروں میں۔۔۔
“لڑکی اٹھ گئی تم ؟ چلو باہر حویلی والوں کے لئے ناشتہ بنانا ہے تم نے۔۔”
رجو داخل ہوئی تھی اس باڑے میں اور جاگتی ہوئی سحر کو دیکھ کر بولی۔۔
“آ۔۔۔آپا م۔۔میری ہمت نہیں ہو رہی۔۔”
ٹوٹے ہوئے الفاظوں میں کہا تھا سحر نے لیکن اس معصوم کے ان الفاظوں سے بھی زرہ ترس نہ آیا تھا اس مالکن کی غلام کو۔۔۔
“او بہن ! نکھرے کہیں اور دکھانا جا کر ہم خود بیگم صاحبہ کی باتوں کے محتاج ہیں۔۔”
کہنے کے ساتھ باہر صحن میں لائی تھی اسے۔۔۔
“چلو اب منہ ہاتھ دھو لو یہاں سے پھر وہ سامنے باورچی خانہ ہے وہاں جا کر پورے حویلی والوں کے لئے ناشتہ اور دوپہر کا کھانا تیار کرو گی۔۔”
ٹھنڈا یخ پانی اس کے زخموں پر لگ کر اس ٹھرٹھرا دینی والی سردی میں مزید اذیت کا باعث بن رہا تھا۔۔
©©©©
“ارے واہہہہہہہہہہ۔۔
عروہ ناشتہ بنا رہی ہے؟؟
میں کہیں سپنہ تو نہیں دیکھ رہا؟”
کیچن میں کھڑی عروہ کو دیکھتے وہ شراتاً گویا ہوا۔۔
“جی نہیں ! جناب عالی یہ سپنہ نہیں حقیقت ہے۔۔”
چائے کو کپوں میں انڈیلا تھا اس نے اور اٹھا کر ٹیبل پر رکھا ۔۔۔۔
اور خود بھی ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھ گئی…
“احمر ، تم کہاں جا رہے ہو “؟؟
بنا ناشتہ کیے ۔۔” بنا اسکو جاتے دیکھ وہ حیرانی سے بولی تھی ….
ڈارلنگ گاؤں جانا ہے ، بابا کی کال آئی تھی۔۔۔۔
“اسکے گال پر پیار کیے بنا اسکی سنے وہ جا چکا تھا جب وہ بے دلی سے بیٹھے ناشتہ کرنے لگی۔۔
®®®
سحر تکلیف میں بھی کیچن میں موجود روٹیاں بنا رہی تھی۔۔
ابھی وہ ناشتہ بنا کر فارغ ہوئی ہی تھی کہ بیگم صاحبہ کا پیغام آیا ، ” دوپہر کا کھانا بھی بنا لے “…
کل پورے دن اور رات کی بھوکی تھی وہ ..
کچھ نہ کھایا تھا نہ پیا۔۔۔
کھالی پیٹ ان ظالموں نے اسے کام پر لگایا تھا خود تو ، اسی کے ہاتھوں کا بنا کھانا کھا کر سیر ہو گئے تھے ، لیکن اس زندہ جان کی بھوک کی پرواہ نہ تھی ۔۔
جسم اسکا درد سے ٹوٹ رہا تھا ، ہمت کم پڑ رہی تھی لیکن پھر بھی وہ وہاں کھڑی روٹیاں بنانے کی کوشش میں تھی۔
” کیا ہوا ، ونی ہمت کم پڑ رہی ہے “۔۔؟؟
فریج سے پانی نکالتے احمر نے ، چولہے کے سامنے کھڑی سحر کو دیکھ طنزیہ کہا ….
کتنی عجیب بات تھی ، شوہر ہو کر وہ اسے ونی کہہ کر پکار رہا تھا۔۔۔
سحر نے اسے جواب دینا گوارا نہ کیا تھا”
وہ اپنے کام میں مصروف رہی تھی ۔۔
“ویسے بہت غلط بات ہے۔۔۔۔
ابھی سے ہمت جواب دے گئی تمہاری ، ابھی تو بہت اذیت سہنی ہے تم نے ۔۔۔”
ٹائل کے ساتھ ٹیک لگائے بہت معویت سے دیکھ رہا تھا اس کے وجود کو .
جس کی آنکھیں سوجی ، چہرے اور جسم پر چوٹ کے نشان تھے ۔۔
بھوک اور پیاس کی شدت اس کے چہرے پر عیاں ہو رہی تھی لیکن وہ ضبط کیے کھڑی تھی۔۔۔
“کتنے خوبصورت ہاتھ ہیں تمہارے ، مگر افسوس انہیں سراہنے والا کوئی نہیں۔۔!!!!”
روٹی بیلتی سحر کے کے ہاتھ کو تھاما تھا ..
“چ۔۔۔چھوڑ۔۔۔چھوڑیں ۔۔م۔۔میرا ہاتھ۔۔۔۔”
اس کے مضبوط ہاتھوں سے اپنا ہاتھ نکلوانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
“کیوں چھوڑ دوں ؟؟”
سحر کے ہاتھ پر مزید دباؤ بڑھائے بولا ، کہ اسکی سسکی نکلی تھی۔۔
ربا تیری خدائی ! ہائے یاد ہے آئی
دل یہ دیتا دوہائی ہم سے دے تو رہائی
“م۔۔مجھے ر۔۔۔روٹی بنانی ہے۔۔۔”
ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتی وہ اٹک اٹک کر بولی تھی …
“اووووووووووو۔۔۔۔”
کچھ سوچتے اس کے چہرے کو دیکھا تھا جہاں آنسوں بہنے کو بے تاب تھے ۔۔۔
کچھ سمجھنے کا موقع دیے بنا اسکا ہاتھ اس تیز جلتے توے پر رکھا تھا۔۔
پوری حویلی میں تقریباً سحر کی چیخیں گونج رہی تھیں۔۔
ملازمین بھاگ کر وہاں آئے ، کمرے میں بیٹھی سکینہ بیگم بھی کسی لڑکی کی چیخ پر وہاں آئی تھیں ۔۔۔
لیکن وہاں کا منظر دیکھ ان کا پیسچ گیا تھا
جہاں احمر سحر کا ہاتھ ابھی بھی چولہے پر رکھے سفاکیت دکھانے میں مصروف تھا
اسکی چیخیں ، آنسوں کسی کی چیز کی پرواہ نہ تھی۔۔۔
بلکہ الٹا اس کے چہرے پر مسکان تھی۔۔۔
اسکو درد میں دیکھ۔۔۔۔
پہلے ہی وہ درد سے دوہری ہو رہی تھی اس پر مزید اس سنگدل کا ہاتھ جلانا اسکے حواس سلب کر گیا تھا۔۔۔
“ا۔۔احمر چھوڑو اسے۔۔۔۔
پاگل ہو گئے ہو؟؟؟”
اسکے ہاتھوں سے سحر کا ہاتھ نکلوایا تھا جو کہ جلنے پر باعث لال سرخ ہو رہا چمڑی ڈھیلی ہونے کے قریب تھی۔۔
حال کیسے سناواں؟
روگ کیسے نبھاواں؟
ربا قسمت میں رونا کیوں لکھا؟؟
جان بخشی پر وہ پیچھے ہی ڈھے گئی تھی اپنے ہاتھ کو تھام کر۔۔۔
آنسوں تواتر اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے تکلیف کی شدت اتنی تھی کہ چہرا بھی لال اناری ہو رہا تھا۔۔۔
زندگی اس موڑ پر لا بیٹھائے گی اسے کبھی گمان نہ کیا تھا اس نے ۔۔
“بڑی ماں ، آپ اس ونی کی طرف داری کر رہی ہیں ..
جس کے بھائی نے قتل کیا ہے ٫ آپ کے بیٹے کا ؟؟”
سکینہ کا سحر کے لئے اسکو ڈانٹنا کافی ناگوار گزرا ..
“احمر کون سی دنیا میں جی رہے ہو بیٹا ؟؟
قتل اس بچی نے نہیں ،، اسکے بھائی نے کیا ہے ۔۔؟
پھر اس معصوم کو کیوں سزا دے رہے ہو؟”
احمر کی سفاکیت سن کو زرہ نہ بھائی تھی “م
تبھی اسے سمجھاتے اپنا لہجہ نارمل کیے بولی تھیں۔۔
آگے بڑھ اسکے ہاتھوں پر برنول لگانی چاہیے جو کہ احمر چھین گیا تھا۔۔۔
“بڑی ماں آپ کا کچھ نہیں کہہ سکتا مگر میں اس لڑکی کو خوشیاں تو نصیب نہیں ہونے دوں گا۔۔۔”
“احمر یہ کیا بدتمیزی ، برنول واپس کرو۔۔”
“نہیں بڑی ماں۔۔۔
سسکنے دیں اس کو۔۔۔
تڑپنے دیں۔۔
اس کو بھی تو پتہ چلے کہ اپنوں کو کھونا ان کو اذیت میں دیکھنا کیا ہوتا ہے؟؟”
احمر کی آنکھیں غصے کے باعث خون جھلکا رہی تھیں۔۔۔
اس کا بس چلتا تو لمحوں میں ہی سحر کی سانسیں چھین لیتا اسکے پورے خاندان والوں کی جان لے لیتا ۔۔۔۔
“بیٹا اس بچی کو تو بخش دو ، معاف کر دو بھائی کی ہی خاطر۔۔۔۔”
سکینہ بیگم نے سمجھانا چاہا تھا۔۔
“اگر معاف ہی کرنا ہوتا تو ونی کیوں لاتے؟؟”
ایک نظر حقارت سے اس کے کونے میں سسکتے وجود پر ڈالی تھی۔۔۔
اور باہر قدم بڑھا لیے۔۔۔
جب کہ دروازے کے پاس کھڑی نورِ بیگم نے مسکراتے ہوئے اپنے بیٹے کو دیکھا جیسا واقعی بہت بڑا کارنامہ کیا ہے اس نے۔۔۔
®®®
“وقار ! آپ کی شہیر سے باتی ہوئی؟”
میمونہ بیگم نے اپنے شوہر وقار سے پوچھا تھا
“نہیں ہوئی تھی ، ” ۔۔۔۔۔
“اچھا !! کیا کہہ رہا تھا؟؟
کب واپس آئے گا؟؟؟”
انہوں نے بے تابی سے پوچھا۔۔۔
“مہینہ لگ جائے گا “…
کیونکہ اپنے دوست کے ساتھ شہر میں کوئی نیا کاروبار “
شروع کیا ہے اس نے۔۔۔”
“ہہمم خدا کامیابی دے اسے ..
کافی عرصہ ہو گیا اسے کو دیکھے”….
وہ اداسی سے بولی تھیں ….
“پریشان نہ ہو میمونہ …
وہ جلد ہی واپس آ جائے گا “….؟
اپنے بازوں کے حلقے میں لیتا پیار سے سمجھایا تھا اپنی شریکِ حیات کو ۔۔۔
انہوں نے بھی سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا تھا۔۔۔
چھ مہینے ہونے کو آئے تھے شہیر کو گئے ….
شہر میں حاصل تو وہ تعلیم کرنے گیا تھا..
مگر وہاں کی رونقیں دیکھ اسکا واپس آنے کا دل نہ کیا تھا۔۔۔۔
بلکہ وہیں اپنے دوست کے ساتھ ایک بزنس شروع کیا تھا …..
اب دیکھا یہ تھا !!!
کیا شہیر بھی ثابت ہو گا٫٫
احمر اور چوہدری وقاص کی مانند ۔۔۔۔
یا بدلوائے گی اس کی سوچ یہاں کا ماحول؟؟
®®®
“رجو۔۔۔
روٹیاں بناؤ تم “…
سکینہ بیگم نے رجو کو روٹیاں بنانے کا کہا تھا ، اور خود تھوڑا سا آٹا لیے اسکے ہاتھوں کے گرد لپیٹا تھا۔۔۔
کیونکہ برنول تو وہ لے جا چکا تھا ، اب صرف یہی ایک طریقہ تھا جس سے جلن کو روکا جا سکتا تھا۔۔۔
“پانی پیو گڑیا۔۔۔”
ہچکیوں کی صورت میں روتی سحر کے سر پر پیار کیا تھا ان نے …
“ن۔۔نہیں۔۔”
اسی پوزیشن میں بیٹھے ، نفی میں سر ہلایا۔۔
اس کو تکلیف میں یوں روتا دیکھ آرام سے کھڑا کیا تھا اور اپنے کمرے میں لے گئی تھیں وہاں سے ایک سوٹ نکال کر دیا اور زبردستی کہہ کر بدلوایا۔
کیونکہ اس کے سابقہ سوٹ کی حالت کافی خستہ ہوچکی تھی …
یہ لو چندہ کھانا کھاؤ ۔۔۔”
وہ جانتی تھی اس نے کھانا نہیں کھایا کیونکہ اسکی حالت بتا رہی تھی ۔۔
ان کی بات سن ، سحر کی آنکھوں میں آنسوں بہنے لگے تھے ..
آنسوں کو بنا صاف کیے بمشکل الٹے ہاتھ سے چمچ تھام کر چاولوں کا لقمہ لینا چاہا ، جسے بیچ میں ہی سکینہ نے تھام ، اپنے ہاتھوں سے کھلایا تھا۔۔
“الٹے ہاتھ سے کھانا کھانا بری بات ہوتی ہے بیٹا….
دراصل ! غلطی میری تھی ، یہ جانتے ہوئے کہ تمہارا ہاتھ زخمی ہے
تمہیں کھانے کا کہہ دیا ۔۔۔۔۔”
“ب۔۔۔بس آنٹی۔۔۔۔”
تین چار لقمے کھانے کے بعد اس نے کہا ، درد مزید بڑھتا جا رہا تھا …
تکلیف اتنی تھی کہ دماغ بھی ٹیسیں مارنا شروع ہو چکا تھا ….
“یہ لو دوائی لو ، اس سے تکلیف میں کمی بھی آئے گی
اور نیند بھی۔۔”
مسکراتے ہوئے دوائی اس کی جانب بڑھائی تھی جسے خاموشی سے کھا لیا تھا اس نے۔۔۔
کیونکہ یہ بات وہ خود بھی جانتی تھی اس چیز کی اس کو اشد ضرورت ہے۔۔۔۔
“آ۔۔آنٹی آپ اتنا ترس کی۔۔کیوں کھا رہی ہیں مجھ پر ؟
کیا سب کی طرح آپ مجھ سے اپنے بیٹے کے قتل کا بدلہ نہیں لیں گی۔۔۔”
سکینہ بیگم کی اتنی چاہت اور رحمدلی پر اس نے حیرانی سے پوچھا تھا
پوری حویلی میں وہ واحد شخصیت تھی جس نے اس سے پیار سے بات کی …..
اسکی مجبوری کا فائدہ نہ اٹھایا ۔۔۔۔
یا ایک بار بھی ونی کہہ کر اس کی عزت کا پامال نہ کیا۔۔۔۔۔
سحر کی بات سن کر وہ تلخ سا ہنسی تھیں ..
“چندہ بیٹا کھونے کا دکھ تو مجھے ہے …
پر اس چیز کا بدلہ میں کسی بے گناہ سے کیوں لوں۔۔۔
میں سوچتی ہوں خدا کی چیز تھی وہ ، اس نے دی اس نے لی اس کا نام مبارک ہو ..
ہم بشر کون ہوتے ہیں؟؟
اس خالق کے معملات میں بولنے والے ..
اگر سچ پوچھو تو کہنے کو میں نے اپنا خون ، اپنا اکلوتا بیٹا ، اپنے جگر کا ٹکڑا کھویا ہے۔۔۔
مگر سوچتی ہوں اچھا ہوا ، وہ خدا کے پاس واپس چلا گیا
کم از کم ! اپنے باپ اور بھائی کی مانند سفاک دل ہونے سے تو بچ گیا۔۔۔”
“کتنی اچھی سوچ ہے آپکی
کاش یہاں گاؤں کے ہر اراکین کی سوچ آپ کی مانند ہوتی …
تو “ونی ” ، “خون بہا ” جیسی رسمیں موجود نہ ہوتیں۔۔۔
کسی معصوم کی زندگی برباد نہ ہوتی۔۔۔
کسی کے خوابوں کا آشیانہ جل کر راکھ نہ ہوتا ۔۔۔۔۔”
گلے میں بندھے آنسوں ، جس کے باعث اسکی آواز بھاری ہو رہی تھی۔۔۔
وہ حسرت سے بولی تھی۔۔۔
“یہ سب ہمارے بس میں نہیں
اللہ ہی ہدایت دے سکتا ہے ان کو …..”
اس کو ساتھ لیے احمر کے کمرے آئی تھیں۔۔۔
“اس حویلی میں تم احمر سے نکاح کروا کر لائی گئی ہو۔۔”
بس انہوں نے بہو کی جگہ ونی کا لفظ لگا دیا۔۔۔۔
وہ افسوس سے بولی تھیں۔۔۔
“آج سے تم اس روم میں رہو گی۔۔
یہاں رہنا حق ہے تمہارا …
کوشش کروں گی اس حویلی میں تمہیں تمہارا رتبہ دلوا کر رہوں۔۔۔۔
اب تم آرام کرو یہاں ۔۔۔۔۔”
سر کو پیار سے سہلاتے کہا تھا ان نے
کچھ دوائی کا اثر اور کچھ پیار کا وہ جلد ہی نیند کی وادیوں میں کھو گئی ۔۔۔
اسکو سوتا دیکھ سکینہ بیگم بھی لائیٹس اوف کیے جا چکی تھیں۔۔۔
®®®®
دامنِ کوہ ۔۔۔۔۔
اسلام آباد کی مشہور کی جگہ۔۔۔۔
ہلکی ہلکی برستی بوندا باندی میں وہاں موجود کالج کی لڑکیاں کافی انجوائے کر رہی تھی۔۔
کوئی اپنی سیلفیاں لینے میں مصروف تھا اور کوئی وہاں موجود مقامات کی ….
دراصل۔۔۔دامن کوہ (Daman-e-Koh) سلسلہ کوہ مارگلہ کے وسط میں واقع اسلام آباد کو دیکھنے کے لیے ایک نقطہ ہے۔
یہ سطح سمندر سے تقریبا 2400 فٹ اور اسلام آباد شہر سے تقریبا 500 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ دارالحکومت کے رہائشیوں کے ساتھ ساتھ زائرین کے لیے ایک مقبول تفریحی مقام ہے
چھٹی کے دن موسم سہانا ہوتو اسلام آباد کے علاوہ دیگر علاقوں کے شہری بھی موسم کی اٹھکیلیاں دیکھنے دامن کوہ چلے آتے ہیں۔ شہرکا سارا حسن یہاں آنے والوں کے قدموں میں سمٹ آتا ہے۔
ٹھنڈی نشیلی ہوا کے ساتھ رقص کرتے رنگ برنگے پھول یہاں آنے والے سیاحوں کا استقبال کررہے ہیں۔
جادو وہ جو سرچڑھ کربولے اور حسن وہ جس کی تعریف کیے بنا رہا نہ جائے۔
دلفریب موسم میں جہاں بچوں نے جہاں پانی کے بلبلے اڑائے وہیں منچلوں نے حسین نظاروں کو سیلفی میں قید کرلیا۔
بارش کے خوبصورت موسم میب برستی بوندا باندی نے تو پورے شہر کو دھو کر صاف شفاف کر دیا ہے لیکن دھلے دھلے موسم کا جو نظارہ دامن کوہ سے ہوتا ہے وہ کہیں اور سے ممکن نہیں۔۔۔۔۔
“پشمینہ کتنی خوبصورت جگہ ہے “..!!!
“ہمم ‘خوبصورت تو ہے مگر کشمیر سے ذیادہ نہیں…..
اپنے کشمیر کی تو بات ہی الگ ہے”…..
پشمینہ کی بات سے مشل نے بھی اتفاق کیا تھا۔۔۔
“..یار !! تم رکو میں بس میں اپنا لنچ بیگ بھول آئی ..
“لے کر آتی ہوں
یہیں رہنا۔۔۔”
کہتے وہ ادھر ادھر کی پرواہ کیے بنا اپنی دھن مین بھاگتے جا رہی تھی ۔۔۔
کہ : سامنے سے آتے فاتح سے ٹکرائی تھی …
“آوچ۔۔۔!!۔”
ہاتھ میں موجود اسکا فون زمین بوس ہوا تھا…..
“”مسٹر بلائیند
‘دیکھ کر نہیں چل سکتے ،
جب نظر آ رہا ہے کہ ایک خوبصورت لڑکی آ رہی ہے …
تو بندا سائڈ ہو جاتا ہے…..
مگر نہیں ہمارے معاشرے کے لڑکوں کو بس بہانا چاہیے ہے لڑکیوں سے ٹکرانے کا….
اوف میں بھی کتنی پاگل ہوں۔۔۔”کس شخص کو سنا رہی ہوں…
جس نے آنکھوں میں موٹے موٹے چشمے پہن رکھے ہیں….
“جب آپ لوگ فیشن کے لئے آنکھوں میں یہ اندھوں والے چشمے لگا کر گھومیں گے تو کچھ خاک دیکھائی دے گا”……
بنا فاتح کو بولنے کا موقع دیے وہ بولتی جا رہی تھی ۔۔
جبکہ فاتح حیرانی سے اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
جو ایک ہی سانس میں اپنی بات کہہ رہی تھی۔۔۔۔
“ہیلو مسٹر سن رہے ہو!!!”
اسکو یوں ہی مسلسل خود کو تکتا پا کر وہ جھنجھلا کر بولی ..
جبکہ مقابل کچھ سن ہی کہاں رہا تھا ،، وہ تو کھو سا گیا تھا “”…
“ان خوبصورت مناظر میں موجود اس پری پیکر کو دیکھ ……
“پشمینہ!!!!
کہاں رہ گئی ہو تمہاری بہن ڈھونڈ رہی ہے “….
اسکی دوست نے آواز دیتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔
جبکہ وہ اسکو ابھی بھی یوں ہی اسی پوزیشن میں کھڑا مسکراتے دیکھ وہ تپی تھی…
“ڈفر۔۔۔”
جاتے جاتے اسے ڈفر کہنا نہ بھولی تھی…
“ہہم؛!! پشمینہ
نائس نیم….”
اسکا نام لبوں پر یوں بڑبڑائے وہ مسکرایا تھا۔۔۔۔
رات گئے احمر تھکا ہارا سا جیسے کمرے داخل ہوا تھا،
معمول کے مطابق کمرا پورا اندھیرے میں نہایا ہوا تھا….
ہاتھ بڑھا کر سوئچ اون کیا تھا۔۔۔ کچھ ہی لمحوں میں اندھیروں میں ڈوبا کمرا بلب کی روشنیوں سے جگمگانے لگا تھا..
احمر نے اپنا کوٹ اتار کر صوفے پر پھینکنے کے سے انداز میں رکھا تھا…
اور باتھ روم جانے کے لئے پلٹا ہی تھا کہ اس کے بڑھتے قدم ساکت ہوئے تھے…
رگیں تن سی گئی تھیں ، ماتھوں پر ان گنت بلوں کا اضافہ ہوا تھا..
جب اپنے بستر پر ، سکون سی لیٹی سحر پر گئی تھی…..
وہ لمحوں میں فاصلہ طے کرتا اس تک پہنچا تھا …
اور جھنجھوڑ کر اٹھایا تھا اسے۔۔۔
سحر جو نیند کی دوائی کے زیرِ اثر پر سکون سی لیٹی تھی ،،، یوں جنھبجوڑ کر اٹھائے جانے پر اس نے مندی مندی آنکھیں کھولی تھیں…
لیکن اس کا سانس وہیں اٹک چکا تھا جب خون آشام آنکھوں سے احمر کو خود کی جانب گھورتے پایا تھا…..
“تمہاری ہمت کیسی ہوئی ، میرے روم میں آ کر میرے بستر پر لیٹنے کی”…..
کھینچ کر بستر سے اتارا تھا اور اپنے سامنے لا کھڑا کیا تھا اسے…
“میں کچھ پوچھ رہا ہوں؟؟؟
کس کی اجازت سے تم آئی ہو اس روم میں”…؟؟؟؟
اسکے بازوں کو دبوچے وہ غرانے کے سے انداذ میں بولا تھا جبکہ وہ آنکھیں بھینچے کھڑی تھی…
جسم اسکا درد سے رکھ رہا تھا ….
بے شک دوائی لی تھی مگر زخموں میں درد اب بھی باکی تھی….
“بولو !!! کیا پھر گونگی ہو”…؟؟؟
سحر کے جبڑوں کو غصے کی شدت سے دبوچا تھا”..
کہ اس کی آنکھوں سے گرم سیال بہنے لگا تھا۔۔۔۔
“آپ۔۔۔آپ کی ما۔۔ماما نے ک۔۔کہا کہ م۔۔میں ی۔۔یہاں رہوں گی”..
چہرا اس کی آہنی گرفت میں ہونے کے باوجود وہ بمشکل اٹک اٹک کر بولی تھی۔
“پر کس خوشی میں؟؟؟”
بھنونے اچکائے وہ بے زاری سے بولا…
“ک۔۔۔۔کیونکہ۔آ۔۔۔آپ کے نکاح میں ہوں میں”…..
بہتے اشک سمیت اس نے رکتی دھڑکنوں کے ساتھ کہا تھا۔
نجانے وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟؟؟
اتنا تو وہ جان چکی تھی ، کہ رحم لفظ احمر کی لغت میں موجود نہیں”…..
“ہاہاہاہاہاہا!!!!
ماں نے ایسا کہا”…؟؟؟؟
اسکا چھت پھاڑ قہقہہ گونجا تھا..
سحر کی نظریں جھک گئی تھیں اسکی ہنسی پر….
“تم نے اپنا آپ دیکھا ہے ، شیشے میں؟؟
مطلب “ونی ” آئی لڑکی میری بیوی کی حیثیت سے یہاں رہے گی؟؟
جوک اوف دا ڈے”
کیا نہ تھا اس کے لہجے میں…
حقارت , توہین ، بے عزتی۔۔۔۔
“تمہاری اوقات نہیں ، میری بیوی کہلانے کی..
جانتی ہو , اپنی حیثیت؟؟؟”
کہنے کے ساتھ اسکے جلے ہوئے ہاتھ کو ہاتھ سے کھینچے زور دیا تھا.
کہ بے ساختہ اس کے لبوں سے سسکی برآمد ہوئی تھی…
بنا اسکے درد ، آہوں کی پرواہ کیے کھینچتے ہوئے ، تہہ خانے میں لایا تھا.
جہاں کافی عرصے سے کوئی نہ گیا تھا
اس چیز کا پتہ وہاں لگے جالے دے رہے تھے۔۔
جہاں مکڑیوں نے وہاں اپنے جالے بنائے ہوئے تھے۔۔۔
“تمہاری اوقات یہاں رہنے کی ہے۔۔۔”
لا کر پٹخا تھا اسے اس سخت زمین پر کہ وہ اوندھے منہ زمین پر گری تھی….
“م۔۔میری غلطی کیا؟؟؟
میں نے تو نہیں کیا قتل….
کیوں میری زندگی کے پیچھے پڑ گئے ہیں”….؟؟
درد کی انتہاہ کو پہنچتی وہ اذیت سے چور روتے ہوئے بولی..
اسکی بات سن ‘ احمر کی آنکھوں میں غصہ جھلکا تھا…
کہ وہ لڑکی کس طرح ‘ اس سے زبان درازی کر رہی ہے…
لیکن وہ تو ٹھیک تھی اپنی جگہ۔۔۔
اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی کی وجہ معلوم کر رہی تھی…
اسکے بکھرے بالوں کو کھینچے ، بنا سوچے سمجھے غصے سے دیوار سے لگایا تھا…
سر میں ایک ٹیس کی لہر دوڑی تھی..
اسکا سر چکرا سا گیا تھا”…..
“آئندہ زبان نہ چلانا ، خاص کر میرے ساتھ”…
انگلی اٹھائے اسے وارن کیے وہ وہاں سے دروازا لاک کیے جا چکا تھا…
جبکہ وہ وہیں بیٹھی پوری رات سسکتی رہی تھی ،،
تکلیف اذیت درد نے سونے نہ دیا تھا اسے…..
لمحوں میں اجڑے گی میری دنیا
لمحے بیچارے کہاں جانتے تھے
ارمان بھی میرے دیتے ہیں یہ دہائی
اب تو میرے خدا عرض ہے سن لے
®®®®
تو مولا رنگ دے رنگ دے
یہ کھالی دامن بھر دے
چھپالے آنسوں جو میرے تو وہ بارش کر دے۔۔۔
“مت مارو , مجھے”….
پلیز ، رحم کرو”…….
پورے کمرے میں اس لڑکی کی وحشت ناک چیخیں گونج رہی تھیں۔۔۔
وہ منتیں کر رہی تھی ان جلادوں سے ، رحم کی بھیک مانگ رہی تھی ، کہ نہ ماریں اسے….
گھپ اندھیرا ہونے کے باعث وہ لڑکی کا چہرا نہیں دیکھ پا رہا تھا..
البتہ اسکی آہیں ، سسکیاں ، شہیر کے کانوں میں گونج رہی تھیں،،
وہ بیچین سا ہوا تھا، ۔
آواز کی سمت جیسے ہی قدم بڑھائے تھے اس نے ،
کسی اندیھکے وجود نے تھام لیا تھا اسے….
وہ بڑھنا چاہتا تھا وہاں ، اس لڑکی کے پاس جانا چاہتا تھا…
مگر ، مجبور تھا…..
آہہہ۔۔۔۔۔
گھبراہٹ کے مارے ، نیند سے بیدار ہوا تھا…
ایک نظر سامنے وال کلاک پر ڈالی جو رات کے تین بجا رہی…
پھر کھڑکی سے باہر برستی بارش کو دیکھا ،،،
جو اپنا زور پکڑے ہوئے تھی…
پھر قدم بڑھاتے ہوئے کھڑکی کے سامنے آیا تھا جہاں سے ہوا کے تیز جھونکے کے ساتھ پانی کی کچھ بوندیں اس کے چہرے پر آئی تھیں…
ایک گہرا سانس بھرا تھا اس نے…
کون تھی وہ لڑکی..؟
جس کی آہیں ، چیخیں یہاں موجود شہیر کو بیچیں کر گئے تھے…
یہ سپنا اسکو عجیب کیفیت میں مبتلہ کر گیا …
شہیر کو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کا کوئی اپنا بہت اذیت میں ہے..
کیا شہیر جان پائے گا کون ہے وہ لڑکی؟؟؟
®®®®®
“احمر تمہاری بیوی کہاں ہے”؟؟
سکینہ بیگم سحر کو دیکھنے کمرے میں آئیں تھی ٫ لیکن اسے وہاں نہ پا کر اسٹڈی میں بیٹھے احمر سے پوچھا تھا۔۔
“کون سی بیوی “؟؟
وہ انجان بنتے ہوئے بولا تھا۔۔۔
“احمر میں مزاق نہیں کر رہی “.۔۔
“میں بھی سیریس ہوں ، جہاں تک مجھے یاد ہے ، میری تو ابھی تک شادی نہیں ہوں”…
وہ ہنوز اہنے کام میں مصروف رہا تھا ….
“کہیں آپ ، اس ونی کی بات تو نہیں کر رہیں…
جو میرے بھائی اور آپ کے بیٹے کے قتل کے عوض لائی گئی ہے”..
ان کو خود کو گھورتا پا کر وہ نارمل انداز میں بولا تھا…
“بیٹا ، بیوی ہے وہ ، چاہے نکاح جن حالات میں ہوا ہو ،،۔۔
لیکن تم نے ، خدا کو حاضر ناظر جان کر اسکو اپنے نکاح میں لیا ہے ..
پھر کیوں ، ان پست سوچوں کی نظر کر رہے ہو ، اس رشتے کو…
کچھ تو پڑھے لکھے ہونے کا ثبوت دو”….
“بڑی ماں..
گستاخی معاف ؛ مگر میں ایک ونی کو اپنی بیوی قبول نہیں کروں گا”…
“ویسے تو ہم اس لائق نہیں ، ” اسلئے اللہ نے بیٹی جیسی رحمت سے نہیں نوازا..
لیکن پھر بھی “…
“بیٹا : سوچو “اگر ہمارے خاندان سے کوئی لڑکی ونی کر دی جائے “..؟؟
“ماں ہم نے کسی کے باپ ، بھائی یا بیٹے کا قتل نہیں کیا …
اور زبان کاٹ ڈالوں گا اسکی جس نے ہماری عزت کو ونی کہنے کا بولنا تو دور سوچا بھی “…
“بیٹا یہ قتل ہی ہے… جو تم سب کر رہے ہو
قتل ہے انسانیت کا قتل۔….
اور رہی بات زبان کاٹنے کی تو سب سے پہلے اپنی زبان کاٹو.
جو اپنی ہی بیوی کو ونی کہہ, کہہ کر پکار رہے ہو بار بار”
اپنی بات سے وہ احمر کو چپ لگا گئی تھیں..
“دیکھو بیٹا..
میں نے تمہیں ہمیشہ ارتضیٰ کی طرح پیار کیا ہے
بے شک ! تمہاری سگی ماں، نورے ہے ،،
مگر میں نے بھی ماں کی مانند ہی پیار کیا ہے تمہیں..
اگر تم مجھے اپنی زندگی میں ، ایک ماں کا درجہ دیتے ہو …
تو اس بچی کو بیوی کی حیثیت سے قبول کر لو۔۔۔
وہی عزت دو ،، ..
جو ایک بیوی کو ملنی چاہیے”…
ایک آس سے کہے وہ جا چکی تھیں،،.
کہ احمر ان کی بات مان لے گا…
لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھیں اپنی ان باتوں سے وہ سحر کے لئے مشکلیں کھڑی کر گئی ہیں..
انہوں نے بے شک اس کی اصلاح کی تھی ..
لیکن دوسری جانب وہ اپنی ماں نورے سے بھی تربیت حاصل کرتا تھا…
جو کہ اس کو مزید بھڑکاتی تھیں۔
ان کے جانے کے بعد چہرے پر غصہ اور مکرو بھری مسکان آئی تھی.
“دیکھنا سحر ..
تمہاری زندگی کو جہنم نہ بنا دیا تو میرا نام احمر چوہدری نہیں۔۔”
®®®®
“کیا ہوا ۔۔شہیر تو اتنا اداس کیوں ہے”؟؟
فاتح نے گم سم سے شہیر کو دیکھتے کہا ، جس کے سامنے رکھی کافی ٹھنڈی یخ ہو چکی تھی..
لیکن , وہ خیالوں کی دنیا سے لوٹا نہ تھا…
“کچھ ،نہیں فاتح بس عجیب سے گھبراہٹ سی ہے ،، پتہ نہیں کیوں؟؟
دل میں ایک بے چینی سی ہے….
کل رات میں نے ایک سپنا دیکھا ….
جس میں ایک لڑکی رو رہی تھی ، چیخ رہی تھی کسی ویرانے میں…
اور اس لڑکی کی وہی چیخیں …
مجھے بھی بے چین کیے ہوئے تھیں۔۔۔
رات سے وہی سپنا ، سر پر سوار ہے میرے”….
بہت بے چینی کی سی کیفیت میں بولا تھا جسے فاتح نے بھی محسوس کیا تھا…
“کم ان شہیر جسٹ ریلیکس!!
کام کا برڈن زیادہ ہونے کی وجہ سے تمہاری نیند پوری نہیں ہو لا رہی…
اسلئے تمہیں برے خواب آ رہے ہیں…
اور جیسا تم سوچ رہے ہو
ایسا کچھ بھی نہیں….
ان سپنوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا”…
اس کو پر سکون کرنے کے لئے کہا تھا فاتح نے….
“فاتح !!
یہ سپنا بہت عجیب نہیں…
جس میں اس لڑکی کے لئے کچھ الگ سا محسوس کر رہا ہوں…
مطلب مجھے اسکا درد خود کا درد معلوم ہو رہا ہے.
اس کے آنسوں ، بے شک خواب میں ہی صحیح لیکن شہیر چوہدری کو تکلیف دے رہے ہیں”….
“یہ سب تمہارے دماغ کی سوچ ہے اور کچھ نہیں…
ایک کہانی ہے ،جس کی بنیاد تم خود رکھ رہے ہو”….
“او کم آن فاتح ؛میں کوئی بچہ نہیں جو سپنوں میں کہانیاں بنا کر بیٹھ جاؤں گا”..
غصے سے وہ آفس سے ہی نکل گیا تھا.
جبکہ پیچھے بیٹھا فاتح اسے دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔
®®®®™
سحر اس بنجر کمرے میں بیٹھی سسک رہی تھی
یا یہ کہنا ذیادہ بہتر ہو گا اپنی قسمت پر ماتم کناں تھی ،
کہاں وہ اپنے خوابوں کو پورا کرنے والی آج یہاں ان ظالموں کے بیچ کسی اور کے کیے کی سزا بھگت رہی تھی۔
اپنے اطراف میں اس نے ایک نظر دوڑائی تھی جہاں وہ رات سے بند تھی۔۔
“اے لڑکی چل تجھے صاحب نے بلایا ہے”۔۔۔
تبھی ایک عمر رسیدہ عورت چلاتے ہوئے اس کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔
“م۔۔۔میں ن۔۔نہیں جاونگی۔۔۔”
وہ پیچھے کی جانب کھسک کر دیوار سے جا لگی تھی کہ اس عورت نے بالوں سے کھینچ کر کھڑا کیا تھا اسکو۔۔۔کہ وہ درد کی انتہاہ پر سسک ہی تو اٹھی تھی۔۔
“ونی ہو کر آئی ہو بیا کر نہیں لائی گئی۔۔۔جو یوں نکھرے دکھا رہی ہو۔۔۔
صاحب کو پتہ لگ گیا نا تو ماریں گے بھی نہیں اور زندہ بھی نہیں رہنے دیں گے۔۔۔
چل اب!!۔۔۔”
وہ کھینچتے ہوئے اسے وہاں سے لے جا چکی تھی جبکہ وہ روتے ہوئے مزاحمت کرنے کی کوشش میں تھی۔
“یہ لیں صاحب جی۔۔۔۔”
اس کے قدموں میں لا کر بے دردی سے پٹخا تھا اس معصوم کو لا کر۔۔۔
اس نے ترچھی آنکھوں سے اپنے پاؤں میں پڑی اس لڑکی کو دیکھا تھا اور اس عورت کو باہر جانے کا حکم جاری کیا تھا۔۔
“تم کون ہو میری”؟؟
چہرے پر بکھرے اس کو بالوں کو بہت آرام۔سے کانوں کے پیچھے اڑستے پوچھا..
جبکہ چہرے پر حرکت کرتے اس کے ہاتھوں کو محسوس کیے ،سحر کا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا..
جسے احمر باخوبی محسوس کر سکتا تھا.
“تم بیوی ہو میری
ایسا بڑی ماں کہتی ہیں”..
شہادت کی انگلی سے چہرے کو اوپر کی جانب اٹھایا تھا ، جب کہ سحر نے خاموش رہنے میں عافیت جانی تھی ۔۔۔
بولتی بھی کیا وہ
کچھ تھا ہی نہیں کہنے کو..
“یقیناً جانتی تو ہو گی اس حویلی میں تمہاری حیثیت کیا ہے؟
کل ،رات کے بعد تم پر مزید واضح ہو گیا ہو گا؟؟؟
کہ بیوی کے طور تم بالکل قبول نہیں مجھے”….
بے ترتیب سے کھلے اسکے بالوں کو اس شخص نے اپنی آہنی گرفت میں لیا تھا کہ درد کی ایک ٹیس اسکو اپنے رگ و پے میں سرایت کرتی محسوس ہوئی آنکھیں پوری رات رونے کی گواہ تھیں۔۔لیکن پھر بھی وہ ظالم بنا ترس کھائے اسکو تکلیف پہنچانے میں مصروف تھا۔۔۔
“نکاح کے وقت تو بہت ذیادہ چل رہی تھی یہ زبان اب کہاں گئی”؟
چہرے کو اپنے سخت ہاتھوں سے دبوچے غرا کر کہا تھا اس نے۔۔۔جبکہ وہ صرف خاموشی سے آنسوں بہانے کا شغل فرما رہی تھی۔
۔
زبان چلانے کی غلطی وہ کر نہیں سکتی تھی کیونکہ اس کی سزا وہ کل اچھے سے بھگت چکی تھی جس کا درد وہ ابھی بھی اپنے وجود میں محسوس کر رہی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔تم کچھ بھی نہیں کر سکتی کیونکہ تمہاری کوئی حیثیت نہیں ہے ، تم نے دنیا میں آکر ہی غلطی کی ہے کیونکہ تمہارے گھر والوں کو بھی تمہاری کوئی ضرورت نہیں۔۔”
قہقہہ لگاتے وہ اس کو جھٹکے سے چھوڑ گیا تھا کہ دوبارا وہ زمین بوس ہوئی تھی ریڑھ کی ہڈی میں ایک سنسناہٹ سی دوڑی تھی۔۔
“تم لڑکیوں کی اس گاؤں میں کوئی حیثیت نہیں تم لوگ پیدا ہی یہاں اپنے باپ بھائی کے گناہوں کی بھینٹ چڑنے کو ہوتی ہو۔۔۔
ہر ہر لمحہ تڑپو گی تم ، پچھتاو گی خود کے پیدا ہونے پر۔۔۔
دعا مانگو کی موت کی مگر یہاں کے مکین وہ نصیب نہیں ہونے دیں گے البتہ مرنے بھی نہیں دیں گے۔۔ہر لمحہ تم پر قیامت برپا کرے گا وہ درد بلکہ اس سے ذیادہ تم محسوس کرو گی جو کہ میرے بھائی نے محسوس کیا۔۔۔”
سپاٹ لہجے میں کہتا اس کو گھسیٹتے ہوئے وہاں سے باہر لایا تھا۔۔۔
