Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj NovelR250487 Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 17
Rate this Novel
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein Episode 17
Woh Rahate Jaan Hai Iss Darbadari Mein by Sara Arooj
نورے بیگم انگاروں پر لوٹ رہی تھیں جب سے یہ خبر ان تک پہنچی کہ سحر کا نکاح کسی ملازم سے نہیں بلکہ شہیر سے ہو رہا ہے۔انہوں نے کتنی مرتبہ کوشش کی یہاں تک کہ چوہدری وقاص کو اکسایا بھی لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے منع کر دیا کہ ملازمین سارے شادی شدہ ہیں۔
“بیگم صاحبہ تم نے کہا تھا کہ اس چھوکری کا نکاح آپ مجھ سے کروائیں گی مگر اسے تو بڑے صاحب نے اپنے نکاح میں لے لیا۔”
وہ شخص جو حویلی کا ملازم تھا نورے بیگم سے مخاطب ہوا ۔
“میں کیا کروں کتنی ہی بار تو کوشش کی ہے پتا نہیں اس دن اس نے سائیں کو کیا بولا کہ اس دن کے بعد تیرے صاحب مانتے ہی نہیں انہیں لگتا ہے شہیر اس نکاح کے بعد چپ رہے گا اور شہر چلے جائے گا جب کہ یہ بات ان کے دماغ میں نہیں آ رہی کہ شہیر تو ویسے ہی اس کرم جلی کا دیوانہ بنا پھر رہا ہے”۔
وہ نخوت سے شہیر اور سحر کے بارے میں سوچتے ہوئے بولیں کیونکہ انہیں یقین تھا کہ شہیر سحر کو ہاتھ بھی نہیں لگانے دے گا وہ تو شادی سے پہلے اتنا لڑتا تھا شادی کے بعد کیا کرے گا۔
©©©
پورا شہر کالی گھٹا کی ضد میں آیا ہوا تھا تیز ہواؤں کے ساتھ کھڑکی کے پردوں نے تیز ہلچل پیدا کی ہوئی تھی پورے کمرے میں گہرا اندھیرا تھا جب کہ احمر گیلری میں کھڑا انجانی سی سوچ میں مبتلا تھا دل کی کیفیت عجیب سی ہو رہی تھی وہ سحر کو طلاق تو دے آیا تھا لیکن احمر کے اسی عمل باعث پچھلے دو ہفتوں سے اسکی نیند الجھ کر رہ گئی بے شک ظاہری طور پر وہ عمارہ کی قربت میں خوش تھا وہ اس سے محبت کا دعویدار بھی تھا لیکن سحر کو دی جانے والی طلاق کے بعد اس کے دل کی کیفیت انجانی سی ہو رہی تھی۔
“احمر ریلیکس ! تم کچھ زیادہ ہی سوچ رہے ہو وہ لڑکی ونی ہے اس کا تمہارا کوئی رشتہ نہیں ، کوئی جوڑ نہیں وہ بس ملازموں کی سی حیثیت رکھتی ہے ۔۔۔ لیکن جو بھی تھا مجھے طلاق نہیں دینی چاہیے تھی آخر کو چوہدری احمر کی عزت تھی وہ”۔۔
ضمیر نے لمحوں کے لئے جھنجھوڑا تھا لیکن جلد ہی دماغ غالب آیا۔
“تم نے جو کیا ٹھیک کیا اگر تم اسے طلاق نہ دیتے تو عمارہ کو کھو دیتے آخر کو وہ تمہاری محبت و کل کائنات ہے “
کمفرٹر میں لیٹی عمارہ کے وجود پر ایک نظر ڈالے کہا تھا مگر حقیقتاً
خود کو پر سکون کرنے کے لئے دلاسہ دیا لیکن ناکارہ ۔۔
وہ سرد آہ بھرتا بستر پر آیا تھا اور آنکھیں موندے لیٹنے کی کوشش کرنے لگا لیکن نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور رہی ۔۔
©©©
سحر چوہدری وقاص کے لئے چائے بنانے کچن میں آئی جہاں نورے بیگم پہلے سے ہی موجود تھیں اسے دیکھ ان کا بے تکہ غصہ پھر سے ابھرنے لگا تب ہی وہیں کھڑی کھڑی اپنی زبان کے جوہر دکھانے لگیں۔
“بہت خوش ہو رہی ہو گی نا تم گھر کے ایک بیٹے کے بعد دوسرے بیٹے کے نکاح میں چلی گئی اور بیٹا بھی وہ جو تمہارا عاشق ہے ۔۔
ویسے افسوس ہوا تمہارا وہ عاشق تمہیں اکیلے چھوڑ گیا شہر اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمہاری اوقات وہی ہے جو پہلے تھی ۔
اچھا یہ تو بتاؤ کیسا لگ رہا ایک ہی گھر کے دو مردوں سے نکاح کر کے “..؟؟
نورے بیگم ذہر خند لہجے میں بول رہی تھیں ان کے جملے سحر کے دماغ میں ہتھوڑوں کی مانند بج رہے تھے لیکن وہ خاموش رہی اس وقت ، وہ ان کے سوالات کو نظر انداز کرنے کی کوشش کر رہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی اگر وہ بولے گی تو نورے بیگم نے مزید بھڑک جانا ہے اسلئے اس قسم کا کوئی رسک وہ اپنے سر نہیں لانا چاہتی تھی۔
“جانتی ہو ، بے شک تمہارا نکاح” ۔۔
بیچ میں دو پل کے لئے رکی تھیں وہ۔
” میرا مطلب ہے دوسرا نکاح شہیر کے ساتھ ہی ہوا ہے لیکن حیثیت اب بھی تمہاری وہی دو کوڑے کی ہی ہے اگر آسان زبان میں کہوں تو اب بھی تم ونی ہو خون بہا میں آئی ہوئی لڑکی “۔
بہت ہی حقارت بھری نظروں سے سحر کے وجود کو دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔
“آپ مجھ سے اتنی نفرت کیوں کرتی ہیں میں نے کیا بگاڑا آپ کا ، اگر حقیقتاً دیکھا جائے تو آپ کی ذات کو تو کوئی تکلیف ہی نہیں پہنچی مجھ سے جس بات کا بدلہ آپ مجھ سے لیتی آرہی ہیں “۔
سحر نے نہایت افسوس سے کہا تھا لیکن سنجیدگی نا چاہتے ہوئے بھی اس کے چہرے پر چھائی رہی۔
“ارے کرم جلی تیرے منہ میں تو زبان بھی ہے ضرورت سے ذیادہ نہیں چل رہی لگتا ہے کاٹنی پڑے گی ۔” اسکے جبڑوں کو اپنی گرفت میں لئے وہ بھنونے اچکائے بولیں۔
“آنٹی زیادہ نہیں کہوں گی بس اتنا کہنا چاہوں گی اتنا کریں جتنا بعد میں آپ برداشت کر سکیں”
نہایت سنجیدگی سے کہتی آرام سے اپنا چہرا ان کے ہاتھوں سے نکالتے ہوئے وہ چوہدری وقاص کے پاس چل دی۔
“کم ذات کہیں کی مجھے باتیں سنائے گی لگتا ہے کچھ زیادہ ہی پر نکل آئے ہیں اس حسینہ کے کاٹنے پڑیں گے”
سحر کے جانے کے بعد وہ پیچھے سورج کی مانند کھولتی رہ گئیں ۔
©©©
رات کو تقریباً گیارہ بجے کا وقت تھا شہیر کام سے فارغ ہو کر گھر میں داخل ہوا آج اس کے چہرے پر کرختگی کی جگہ مسکراہٹ نمایاں تھیں وہ لڑکا دل سے مسکرا رہا تھا مسکراتا بھی کیوں نا اس کی پری جو اسے مل چکی تھی لیکن اس کی مسکراہٹ سمٹی جب وہی معمول کی طرح سحر کو کیچن میں کام کرتے پایا ۔
“سحر اتنی رات کو آپ یہاں کیا کر رہی ہیں “..؟؟
دونوں ہاتھ سینے پر باندھے وہ استہفامیہ لہجے میں گویا ہوا اسکی آنکھوں میں سنجیدگی تھی سامنے کھڑی اس لڑکی سے وہ سوال کر رہا تھا جو کہ اس کا سوال سن نظریں جھکا گئی تھی ۔
“وہ ۔۔میں “…
سحر واقعی کنفیوژ ہو رہی تھی اسکی نظروں سے یا پھر اسکے چہرے پر موجود سنجیدگی سے اسلئے جملا مکمل کرنا دوبھر ہوا ۔
“فوراً چھوڑ دیں اسے آپ یہ سب نہیں کریں گی “
ایک نیا حکم صادر کیا گیا لارڈ صاحب کی جانب سے۔
“تو پھر کون کرے گا “۔؟
نورے بیگم جو یہ دیکھنے کے لئے آئی تھیں کہ اس نے ختم کیا کہ نہیں وہاں کھڑے شہیر کی بات سن طنزیہ لہجے میں بولیں جبکہ ان کی بات کو سن شہیر نے آنکھیں گھومائیں۔
“گھر میں ملازمین موجود ہیں بہتر ہو گا کہ ان سے کروائیں “
سنجیدہ لہجہ اپنایا گیا۔
“مگر یہ سب کام اس لڑکی کے زمہ ہیں”
اب کے وہ تھوڑے غصے تھوڑے احتجاجاً گویا ہوئیں۔
“اگر اتنا ہی شوق ہے تو یہ کام آپ خود سر انجام دے دیں ہاتھ تو ماشاءاللہ سے سلامت ہی ہیں آپ کے “
دو ٹوک انداز میں کہتے وہ نورے بیگم کا منہ بند کروا گیا ساتھ ہی سحر کا ہاتھ پورے استحقاق سے تھامے اپنے کمرے میں لایا جبکہ پیچھے کھڑی نورے بیگم سچ میں جھلستی رہ گئیں۔
کمرا کافی بڑا تھا اور کافی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا نیلے اور سفید رنگ کے امتیاز کی چیزیں موجود تھیں تقریباً ہر چیز ہی ان دو رنگوں پر مشتمل تھی جو اس بات کی گواہ تھی کی یہ رنگ شہیر چوہدری کے پسندیدہ رنگوں میں سے ایک ہے کمرا کافی بڑا اور کشادہ تھا کمرے کے وسط میں جہازی سائز بیڈ موجود تھا جس کے سائڈ پر دو ٹیبل رکھے گئے تھے بیڈ کے سامنے ہی صوفے جبکہ بائیں جانب ڈریسنگ ٹیبل تھا جس پر پرفیومز کی کافی ساری کلیکشن دکھائی دی ۔کمرے کے دائیں جانب ایک خوبصورت گیلری موجود تھی جس میں مخلتف پودے خوبصورتی کے لئے لگائے گئے تھے بے شک کمرے کی ہر چیز کافی نفاست سے رکھی گئی تھیں سحر نے سامنے موجود دیوار دیکھی وہ خالی تھی جبکہ احمر کے کمرے میں اس کی کافی ساری تصاویریں لگی تھیں۔
“کھانا کھایا آپ نے ؟”
اسے لئے صوفے پر بیٹھا تھا وہ جب کہ وہ تھوڑا جھجک رہی تھی شائد اس کے رویے یا پھر اسکی عنایت پر۔
“جی ۔۔”
نظریں جھکائے ہی جواب دیا ۔۔
“گڈ کیا کھایا؟”
وہ شائد اس کو ریلیکس کرنے کے لئے سوال کر رہا تھا ۔
“پ۔پلاؤ۔”
سابقہ ہی پوزیشن میں بس یک لفظی جواب شہیر کے کانوں سے ٹکرایا۔
“واٹ۔۔؟؟”
وہ حیرت کے عالم میں دبا سے چلایا۔
“آپ نے پلاؤ کھایا سیریسلی جہاں تک مجھے یاد ہے آج کے مینیو میں کوفتے بنائے گئے ہیں اور پلاؤ جو تھا وہ کل رات کے کھانے میں تھا”
ماتھے پر بلوں کا جال سجائے کہا تھا ۔
“سیریسلی سحر ، آپ اپنے لئے لڑنا کب سیکھیں گی یہ مطلب کی دنیا ہے یہاں کوئی کسی کا نہیں ہوتا اپنے لئے خود لڑنا پڑتا ہے ۔اپنے لئے اسٹینڈ لیں اپنے حق کے لئے لڑیں ورنہ لوگ جینا مشکل کر دیتے ہیں آپ تو ایک عورت ذات ہیں جو کہ مضبوط ترین ہوتی ہے خدا کے لئے اپنا مقام پہچانے خود کو سزا نہ دیں جب تک چپ رہیں گی نا تو یہ سب آپ کی خاموشی کا ناجائز فائدہ اٹھائیں گے۔التجا ہے آپ سے پہلے کی طرح ہنستی مسکراتی ہو جائیں۔”
روانی سے کہتے وہ آخر میں تھکے ہوئے لہجے میں گویا ہوا جب کہ اس کی بات سن کر پتہ نہیں کیوں سحر کا دل بھر آیا وہ رو پڑی تھی پھوٹ پھوٹ کر جب کہ سحر کو یوں روتے دیکھ شہیر کو واقعی دکھ ہوا تھا اس کا دل کٹ رہا تھا اپنی چاہت کو یوں روتے دیکھ وہ خاموشی سے اس کا سر اپنے کندھے پر ٹکا گیا۔
،”میرا وعدہ ہے پری تمہاری آنکھوں کے سب آنسوں پونچھ دوں گا اس کے بعد تمہارے تمام درد خود میں سمیٹوں گا پھر کوئی درد ، کوئی دکھ ، کوئی پریشانی تمہارے قریب نہیں بھٹکے گی۔”
دل میں کہا تھا اس نے ساتھ ہی خاموشی سے لب اسکے بالوں پر رکھے لمس اتنا نرم تھا کہ وہ محسوس نہ کر پائی۔
©©©
اتوار کا دن تھا صبح کے گیارہ بج رہے تھے احمر چوہدری آج پورے ایک مہینے بعد گاؤں تشریف لایا تھا سب سے پہلے اس نے زمینوں کا چکر لگایا اس کے بعد وہ حویلی آیا جہاں ایک خبر اس کے حواس سلب کرنے کے لئے موجود تھی ۔
وہ حویلی میں داخل ہوا ملازمہ کو چائے بنانے کا حکم دیتا اوپر کمرے کی طرف چل دیا لیکن احمر کے اوپر کی جانب بڑتے قدم تھمے تھے جب سحر کو شہیر کے کمرے سے نکلتے دیکھا آنکھوں میں عجیب وحشت
سی اتری اس کو شہیر کے کمرے کی دہلیز پر دیکھ۔
سحر چند لمحوں کے لئے اسکو دیکھ کر اپنی جگہ منجمد ہوئی لیکن پھر نفرت سے اپنا منہ پھیرا تھا اس نے اور سائڈ سے نکل کر جانے لگی مگر احمر نے بیچ میں ہی حائل ہو کر سحر کا راستہ روکا ۔
“کیا بات ہے تم تو بدکرداری کے سارے راستے پار کرتی جا رہی ہو ۔ کہاں سے لیتی ہو اتنی ٹریننگ کہیں گاؤں میں پارٹ ٹائم یہی کام تو نہیں کرتی تھیں “
اندر کا زہر وہ لفظوں کی صورت میں سامنے کھڑی لڑکی پر انڈیل رہا تھا وہ جو خاموش تھی احمر کی یہ بات سن نفرت بھری نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا۔
“ہاہاہا ! نفرت ہو رہی ہے مجھ سے .؟؟؟”
وہ قہقہہ لگا گیا
“ویسے بہت زیادہ ہی گری ہوئی ہو تم لڑکیاں بھری جوانی میں طلاق لینے پر روتی گرتی پڑتی ہیں کچھ تو غیرت سے مر ہی جاتی ہیں لیکن تم ہو کہ عیاشیاں کرتی پھر رہی ہو۔”
“احمر میرا نکاح آپ سے کوئی محبت میں نہیں ہوا جو مجھے طلاق کا افسوس ہو ، میں خوش ہوں آپ کی دی گئی طلاق پر دراصل وہ طلاق نامہ نہیں ایک طرح سے میرا آزادی نامہ تھا یا پھر یہ کہہ لیں پاگل خانے سے نکلنے کا ایگریمنٹ”۔
وہ دل جلا دینے والی مسکراہٹ لبوں پر سجائے بولی کچھ لمحوں کے لئے اس کے اندر پرانی سحر کی جھلک نمایاں ہوئی وہ اپنے لفظوں سے احمر چوہدری کو بہت کچھ باور کروا گئی تھی۔ احمر چوہدری شاک میں تھا اس کی بات سن لیکن اس ٹرانس سے نکلتے وہ ہوش کی دنیا میں لوٹا
“بدزبان ! “
کہتے اس نے مارنے کے لئے اپنا ہاتھ اٹھایا م لیکن اس کا وہ بڑتا ہاتھ شہیر بیچ میں ہی تھام گیا ۔۔
“مسٹر چوہدری احمر اب یہ تمہاری بیوی نہیں رہی جس پر جب دل چاہے تم ہاتھ اٹھا لو اور کوئی کچھ بھی نہیں کہے گا اپنی اِس غلط فہمی کو دور کر لو کیونکہ سحر اب شہیر چوہدری کی بیوی ہے اور یہ میں بالکل برداشت نہیں کروں گا کہ کوئی اس پر ہاتھ اٹھائے اسلئے بہتر ہو گا تمہارے لئے کہ اپنے ان ہاتھوں کو قابو میں رکھو ورنہ کاٹ کر کتوں کے آگے ڈال دوں گا”.
درشتگی سے کہتا وہ احمر کا ہاتھ برے طریقے سے جھٹک گیا تھا وہ جو ایک جھٹکے سے نہیں سنبھلا تھا اب سحر اور شہیر کی شادی کا سن دوسرا جھٹکا لگا تھا اسے ۔ وہ بے یقینی کے عالم میں آس پاس موجود سب گھر والوں کو دیکھ رہا تھا اور آخری نظر سحر پر جسے شہیر نے بازوں کے حلقے میں لیا ہوا تھا اس کی یہ حرکت تمام گھر والوں کو یہ باور کروا گئی تھی کہ وہ اسکی پناہوں میں محفوط ہے ۔
“تمام حویلی والے یہ بات کان کھول کر سن لیں سحر اب سے شہیر کی بیوی ہے اس لئے آپ سب نے انہیں وہی مقام دینا ہے جو کہ ایک چوہدری کی بیوی کو دیا جاتا ہے ۔”
حویلی میں موجود سب افراد کے سامنے اس نے سحر کے ماتھے پر اپنے لب رکھے تھے یہ بوسہ عقیدت بھرا لمس تھا وہ اپنی آنکھیں بند کر گئی تھی آنسوں اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے گزرے سال میں آج اسے پہلی بار عزت دی گئی تھی۔شہیر اس کو ساتھ لئے واپس کمرے میں چل دیا۔جب کہ سکینہ بیگم ، میمونہ بیگم کے چہرے پر مسکان در آئی لیکن نورے بیگم غصے سے کھولتی رہ گئیں وہ جل رہی تھیں اور آخر میں اس ہی آگ میں جل کر راکھ ہو جانا تھا ان نے جب کہ احمر کا حال بھی مختلف نہیں تھا وہ بھی غصے سے سیڑھیاں عبور کرتا اپنے کمرے میں آیا پورا کمرا اس نے تہس نہس کر دیا تھا وہ چیخ رہا تھا پاگلوں کی مانند ۔
اسے غصہ کس بات پر آ رہا تھا ؟
شہیر کا سحر کے کو عزت دینے پر ؟
شہیر اور سحر کے نکاح پر ؟
یا وجہ کچھ اور تھی ؟
باتوں کو تیری ہم بھلا نہ سکے
ہو کے جدا ہم نا جدا ہو سکے
